07.09.2010, 12:22pm , منگل (GMT+1)
 
پاکستان کے علاوہ اکثر مسلم ممالک اور مغربی ممالک میں مقیم مسلمانوں نے شب قدر میں عظمت اسلام کے لیئے دعائیں کیں ; محمد عامر پر تاحیات پابندی نہیں لگنی چاہیے۔لوگارٹ ; لکی مروت میں خودکش حملہ آور نے بارود سے بھری گاڑی سٹی پولیس اسٹیشن سے ٹکرادی ; کوئٹہ میں یوم القدس کے جلوس میں جاں بحق ہونے والے افراد کو کوئٹہ کے مختلف قبرستانوں میں سپرد خاک کردیا گیا۔ ; دادو کے سپریو بند میں شگاف پڑنے کے بعد پانی کا ریلا جوہی شہر میں داخل ہوگیا میہڑ ڈوبنے کا خطرہ بھی برقرار
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
آئس لینڈ آتش فشاں، یورپ کیلئے پی آئی اے کی 32پروازیں منسوخ۔ فضائی کرفیو میں اتوار دوپہر ایک بجے یو کے ٹائم تک اضافہ
افغانستان میں مزید امریکی فوجی بھیجنے کا اعلان کردیا گیا
دس فیصد پولنگ سٹیشنوں پر دوبارہ گنتی کا حکم
افغان انتخابات میں مشکوک ووٹ منسوخ کرنے کا عمل شروع
صدارتی انتخابات میں صدر حامد کرزئی کی جیت کا اعلان کردیا گیا
 
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا
 

بیماری الاؤنس کے دعویداروں کی اکثریت کام کے لیے ”فٹ “نکلی
30.07.2010, 01:28am , جمہ (GMT+1)

عالمی اخبار لندن بیورو
بیماری کے لیئے بینیفٹ کیلئے اپلائی کرنے والے تین چوتھائی دعوے دار کام کے حوالے سے ”فٹ“ پائے گئے یا انہوں نے دعوے ترک کردیئے۔

یہ انکشاف سرکاری اعداد و شمار میں کیا گیا۔ اکتوبر 2008ء اور نومبر 2009ء کے درمیان 686500 درخواستوں کا جائزہ لیا گیا جس میں سامنے آیا کہ 39 فیصد درخواست گزار کام کرنے کے قابل تھے، 37 فیصد نے اپنے دعوے کو جائزے کا کام مکمل ہونے سے قبل ختم کردیا جبکہ مزید 14 فیصد افراد نے مستقبل کی ایمپلائمنٹ کی غرض سے خود کو کام سے متعلق ایکٹیوٹی گروپ میں شامل کرلیا۔

 ایمپلائمنٹ اینڈ سپورٹ الاؤنس (ای ایس اے) حاصل کرنے والے صرف 6 فیصد دعویداروں کو نوکری کرنے کے قابل نہ ہونے یا بیماری کے باعث کام سے متعلق سکیمز سے مستثنیٰ قرار دیدیا گیا۔

ڈپارٹمنٹ فار ورک اینڈ پنشنز نے کہا کہ اکتوبر سے اس نے کلیمز حاصل کرنے والے لوگوں کی ری ٹیسٹنگ کا منصوبہ تیار کیا ہے جس میں یہ چیک کیا جائے گا کہ آیا وہ کام کیلئے فٹ ہیں۔ منسٹر فار ایمپلائمنٹ کرس کریلنگ نے کہا کہ ان بینیفٹس کیلئے اپلائی کرنے والوں کی اکثریت کام کیلئے فٹ پائی گئی یا پھر انہوں نے اپلائی کرنے کے بعد اپنے دعوے روک دیئے۔

انہوں نے کہا کہ یہ افراد پرانے سسٹم کے تحت بینیفٹ حاصل کررہے ہیں اس صورتحال سے اندازہ ہوتا ہے کہ فوری اصلاحات کی کتنی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلئے ہم نے اِن کپیسٹی بینیفٹس حاصل کرنے کے دعویداروں کا اکتوبر سے دوبارہ جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس جائزے میں ان کی کام کرنے کی صلاحیت کا پتہ لگایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کام پر واپس آنے کیلئے لوگوں کی مدد کی جائے گی اور یہ توقع کی جاتی ہے کہ اہل ہونے کے بعد وہ کام تلاش کریں گے۔

 ورک کیپبلٹی ایسسمنٹ (ڈبلیو سی اے) اکتوبر 2008ء میں ای ایس اے کے ساتھ متعارف کرائی گئی تھی جس نے اِن کپیسٹی الاؤنس سکیم کی جگہ لی۔      


:دیگر مضامین
(29.07.2010) امیگرنٹس پارٹنرز کے لئے انگلش ٹیسٹ کا آغاز نومبر سے
(28.07.2010) افغانستان میں عام شہریوں کی ہلاکتیں، برطانوی فوج پر سوالات
(28.07.2010) ٹوٹنگ میں67 سالہ شخص کے دو قاتلوں کو قید کی سزا
(27.07.2010) بھارت نے میزائل شکن نظام کا تجربہ کیاہے
(26.07.2010) برطانیہ بھارت کو مزید 57 ہاک جیٹ تربیتی طیارے فروخت کرے گا
(25.07.2010) میکسیکو میں اجتماعی قبر سے لاشیں برآمد ہونے کا سلسلہ جاری
(25.07.2010) برطانیہ:25 فیصد بچے پاکستانی،بھارتی خاندانوں میں پیدا ہوتے ہیں
(24.07.2010) امریکہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کوفوری رہا کرے،برطانوی ڈاکٹرز
(23.07.2010) عراق پرحملہ غیرقانونی تھا، برطانوی نائب وزیراعظم
(22.07.2010) افغانستان میں برطانوی فوج کا جنگی کردار 2015ء تک ہے
(22.07.2010) سعیدہ وارثی پاک برطانیہ تعلقات کے درمیان مضبوط پُل۔فردوس عاشق اعوان
(21.07.2010) دہشتگردی کیخلاف منصوبہ مسلمانوں میں شکوک پیدا کررہاہےِ
(20.07.2010) برطانیہ:دوتہائی عوام نے مکمل حجاب پرپابندی کی حمایت کردی
(19.07.2010) ارجنٹینا میں شدید سردی،43 افراد ہلاک ہو گئے
(19.07.2010) برطانیہ کے وزیر امیگریشن نے حجاب پر پابندی کو مسترد کر دیا



 
تمام خبریں  
اردو کالم   
عالمی خبریں   
تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا    
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
رپورٹس /ملٹی میڈیا   
شوبز /سائینس   
کھیلوں کی خبریں   
انتخاب و اعلانات   
رمضان اسپیشل   
اردو/انگریزی ادب   
News Views   
Pak/India/Gulf   
International   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں