|
بیماری الاؤنس کے دعویداروں کی اکثریت کام کے لیے ”فٹ “نکلی
30.07.2010, 01:28am , جمہ (GMT+1)
عالمی اخبار لندن بیورو
بیماری کے لیئے بینیفٹ کیلئے اپلائی کرنے والے تین چوتھائی دعوے دار کام کے حوالے سے ”فٹ“ پائے گئے یا انہوں نے دعوے ترک کردیئے۔
یہ انکشاف سرکاری اعداد و شمار میں کیا گیا۔ اکتوبر 2008ء اور نومبر 2009ء کے درمیان 686500 درخواستوں کا جائزہ لیا گیا جس میں سامنے آیا کہ 39 فیصد درخواست گزار کام کرنے کے قابل تھے، 37 فیصد نے اپنے دعوے کو جائزے کا کام مکمل ہونے سے قبل ختم کردیا جبکہ مزید 14 فیصد افراد نے مستقبل کی ایمپلائمنٹ کی غرض سے خود کو کام سے متعلق ایکٹیوٹی گروپ میں شامل کرلیا۔
ایمپلائمنٹ اینڈ سپورٹ الاؤنس (ای ایس اے) حاصل کرنے والے صرف 6 فیصد دعویداروں کو نوکری کرنے کے قابل نہ ہونے یا بیماری کے باعث کام سے متعلق سکیمز سے مستثنیٰ قرار دیدیا گیا۔
ڈپارٹمنٹ فار ورک اینڈ پنشنز نے کہا کہ اکتوبر سے اس نے کلیمز حاصل کرنے والے لوگوں کی ری ٹیسٹنگ کا منصوبہ تیار کیا ہے جس میں یہ چیک کیا جائے گا کہ آیا وہ کام کیلئے فٹ ہیں۔ منسٹر فار ایمپلائمنٹ کرس کریلنگ نے کہا کہ ان بینیفٹس کیلئے اپلائی کرنے والوں کی اکثریت کام کیلئے فٹ پائی گئی یا پھر انہوں نے اپلائی کرنے کے بعد اپنے دعوے روک دیئے۔
انہوں نے کہا کہ یہ افراد پرانے سسٹم کے تحت بینیفٹ حاصل کررہے ہیں اس صورتحال سے اندازہ ہوتا ہے کہ فوری اصلاحات کی کتنی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلئے ہم نے اِن کپیسٹی بینیفٹس حاصل کرنے کے دعویداروں کا اکتوبر سے دوبارہ جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس جائزے میں ان کی کام کرنے کی صلاحیت کا پتہ لگایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کام پر واپس آنے کیلئے لوگوں کی مدد کی جائے گی اور یہ توقع کی جاتی ہے کہ اہل ہونے کے بعد وہ کام تلاش کریں گے۔
ورک کیپبلٹی ایسسمنٹ (ڈبلیو سی اے) اکتوبر 2008ء میں ای ایس اے کے ساتھ متعارف کرائی گئی تھی جس نے اِن کپیسٹی الاؤنس سکیم کی جگہ لی۔
|