|
برطانوی وزیر اعظم کیمرون پاکستان کے خلاف اپنے بیان پر ڈٹ گئے
31.07.2010, 01:13am , ہفتہ (GMT+1)
عالمی اخبار لندن بیورو
برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون بنگلور میں پاکستان کے خلاف اپنے بیان پر ڈٹ گئے ہیں انھوں نے کہا کہ یہ میرا فرض ہے کہ جو میں سمجھتا ہوں اس کا اظہار کروں برطانوی عوام مجھ سے یہ توقع نہیں رکھتے کہ میں دنیا میں جہاں کہیں بھی جاؤں وہاں ایسی باتیں کروں جو لوگ سننا پسند کرتے ہوں ،صاف صاف بات کرنا ضروری ہے
انھوں نے اس خیال کورد کردیا کہ ان کے اس بیان سے پاکستان کے ساتھ برطانیہ کے تعلقات کونقصان پہنچے گا، دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کے ریکارڈ کے بارے میں اپنے بیان پر پاکستان کی برہمی کے باوجود انھوں نے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ برطانوی عوام ٹیکس دہندگان یہ چاہتے ہیں کہ میں دنیا میں جہاں کہیں جاؤں ایسی بات کروں جو وہاں کے لوگ سننا پسند کرتے ہوں
انھوں نے اس بات کی تردید کی کہ ان کے اس بیان سے ان کے دورہ بھارت کے نتائج متاثر ہوں گے اور دعویٰ کیا کہ برطانیہ کے پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور اس کے صدر اگلے ہفتے برطانیہ کا دورہ کریں گے انھوں نے کہا کہ میرے خیال میں ان معاملات پر صاف صاف بات کرنا ضروری ہے ،میں نے ہمیشہ ایسا ہی کیا ہے اور آئندہ بھی ایسا ہی کروں گا۔
ادھر برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر نے وزیراعظم کیمرون کی جانب سے پاکستان پر الزام تراشی پر تنقید کی ہے ،ڈیوڈ کیمرون نے جمعرات کو ریڈیو پر اپنی تقریر میں اپنی سابقہ باتیں نہیں دہرائیں لیکن اس بات پر زور دیا کہ میں نے حکومت پاکستان نہیں بلکہ پاکستان میں موجودان لوگوں کے بارے میں بات کی تھی جو دہشت گردی کے ذمہ دار ہیں۔
ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ ان کے تبصرے کی وجہ سے شائع ہونے والی شہہ سرخیوں کے وہ ذمہ دار نہیں ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہ بات واضح ہے کہ پاکستان میں ایسے دہشت گروپوں کی موجودگی ناقابل قبول ہے جو نہ صرف پاکستان کیلئے بلکہ دیگر ممالک بشمول برطانوی عوام خواہ وہ پاکستان میں ہوں یاوہاں سے واپس آچکے ہوں کیلئے بھی خطرہ ہیں۔ حکومت پاکستان کیلئے مناسب یہی ہے کہ وہ ان گروپوں کے خلاف کارروائی کرے، ہمیں اس بات کی ضرورت ہے کہ وہ مزید کارروائی کریں اور ہم مزید کارروائی کیلئے ان کی مدد کریں گے۔
اس سوال کے جواب میں کہ کیا پاکستان کے ساتھ تعلقات خراب کرنے پر وہ معذرت کریں گے انھوں نے کہا کہ مجھے یہ بات قبول نہیں کہ اس سے تعلقات کونقصان پہنچاہے پاکستان کے ساتھ ہمارے بہت اچھے تعلقات ہیں،مجھے شہہ سرخیوں سے کوئی سروکار نہیں میں نتائج چاہتا ہوں۔
تارکین وطن پر پابندیوں کے بارے میں بھارت میں پائی جانے والی تشویش کے جواب میں انھوں نے کہا کہ عوام وسیع تر کنٹرول چاہتے ہیں جن لوگوں نے ہمیں ووٹ دیئے ہیں وہ تارکین پر کنٹرول چاہتے ہیں اور ہم یہی کچھ کررہے ہیں۔
|