………………………….
عہدِ کذب و شر میں اک کردار ہے
صاحبانِ درد کا اظہار ہے
…..
لکھنے والے اس کے سب اہلِ ہُنر
اہلِ علم و فکر کا شہکار ہے
……
قارئیں اس کے سبھی حق آشنا
سامنے ہر جبر کے دیوار ہے
……
بس یہی ہے ایک سادہ سا ھدف
صاف ہر اک ظلم سے انکار ہے
…..
قافلہ حق آشنا لوگوں کا یہ
مصلحت سے ہر کوئی بیزار ہے
…..
مرحلہ سچ بولنے کا آئے تو
یہ قلم سچ پوچھیئے تلوار ہے
…..
ہر خبر میزان میں تولی ہوئی
کالموں میں گرمئی گفتار ہے
……
چھوڑ کر وہ جا چکے اس بزم کو
جنکا مقصدعلم کا بیوپار ہے
…..
اک سہارا رحمتِ پروردگار
ہر سہارا دوسرا بیکار ہے
….
قافلے میں ہم فقیروں کے سنو
ساتھ ہے جو صاحبِ ایثار ہے
…..
آپ ہی کی ہے عطا کردہ سند
عالمی اخبار اک معیار ہے
……
کھا کے صفدر دوستوں سے بھی فریب
ہاں ضمیرِسر کشاں بیدار ہے