31.07.2010, 06:28am , ہفتہ (GMT)
 
بارشیں اور سیلاب ' پاک فوج نے امدادی سرگرمیاں تیز کر دیں۔خیبر پختونخوا میں بارشوں کا 50 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا،400 سے زائد ہلاکتیں ; طیارے کے حادثے میں انسانی جانوں کے ضیاع پر دنیا بھر سےاور اندرون ملک تعزیت کا سلسلہ جاری ہے ; بلوچستان میں252افراد ہلاک، ایک لاکھ سے زائد صوبہ چھوڑ چکے ; پاکستان نے ‘وِکی لیکس افشا کو غلط، گمراہ کُن اور زمینی حقائق کے منافی قرار دیا ہے۔ ; امریکہ اور جنوبی کوریا کی مشترکہ بحری مشقوں کا آغاز ہو گیا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اردو/انگریزی ادب » شاعری » صفدر ھمٰدانی-لندن
 

اے ارض وطن شرمندہ ہیں! صفدر ھمدانی
01.12.2009, 12:22am , منگل (GMT)

صفدر ہمدانی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم پاک وطن کی گلیوں سے بازاروں سے شرمندہ ہیں
رونے والی ماؤں سے غمخواروں سے شرمندہ ہیں
خون کے چھینٹے جن پر ان دیواروں سے شرمندہ ہیں
اے ارض وطن سچ پوچھ ترے معماروں سے شرمندہ ہیں
شرمندہ ہیں اپنے وطن کی بیٹیوں،بہنوں ماؤں سے
شرمندہ ہیں شہروں،گلیوں،بازاروں سے گاؤں سے
شرمندہ ہم ہرے بھرے اشجار سے انکی چھاؤں سے
شرمندہ ہم روح سے اپنی،جسم سے،سر سے پاؤں سے
شرمندہ ہم آس،امید سے خون بھری آشاؤں سے
اے ارض وطن شرمندہ ہیں ہم تیرے گلوں سے گلشن سے
شرمندہ ہیں سرو و سمن سے کوہساروں کے دامن سے
شرمندہ ہیں گھر سے گھر کی چھت سے گھر کے آنگن سے
اے پاک وطن شرمندہ ہیں ہم بادل،بارش ساون سے
اے ارض وطن شرمندہ ہیں
اے پاک وطن شرمندہ ہیں
شرمندہ ہم خوشبو سے ہیں شرمندہ ہم پھول سے ہیں
مندر و مسجد سے شرمندہ ،شرمندہ اسکول سے ہیں
شرمندہ مٹی سے تیری سڑکوں کی اس دھول سے ہیں
لعنت تیرے ہر قاتل پر شرمندہ مقتول سے ہیں
یہ خود کش کس مٹی سے نکلے
کس بستی سے آئے ہیں
کس نے انکی فصل اگائی
کون انہیں یاں لائے ہیں
کون خدا کے بندوں کے ان قاتلوں کا رکھوالا ہے
کون ان خون رنگے ہاتھوں پہ بیعت کرنے والا ہے
کس نے میرے گھر آنگن میں ربا خون اچھالا ہے
 کس نے ان سانپوں کو سائیں دودھ پلا کے پالا ہے
یہ کیسے ظالم قاتل ہیں
جو خود کو کلمہ گو کہتے ہیں،کلمہ گو کو مارتے ہیں
دن میں سو سو بار یہ اپنے سامنے خود ہی ہارتے ہیں
کس ظالم نے ہنستے بستے شہر مرے برباد کیئے
کس نے ہر اک شہر کے اجڑے قبرستاں آباد کیئے
کس نے پھول سے چہرے خون کے غازے سے ناشاد کیئے
کس نے یہ انسان کے دشمن خود کش سب آزاد کیئے
کس نے اپنی آگ ہمارے گھر میں آن لگائی ہے
کس نے خون کے دیئے جلا کر اپنی شام سجائی ہے
کس نے میرے دروازے پر موت کی شکل بنائی ہے
کس نے گل رخ بچوں کے دامن کو آگ دکھائی ہے
کس نے یہ بارود کی بارش دن دیوے برسائی ہے
کملی والے مدد کو آؤ حسن حسین دہائی ہے
اے ارض وطن شرمندہ ہیں
اے پاک وطن شرمندہ ہیں
شرمندہ ہیں ان سے جن کے گھر میں ماتم داری ہیں
شرمندہ ہیں ان سے جن کی گلیوں میں بیزاری ہے
شرمندہ ہر شخص سے جس نے جان کی بازی ہاری ہے
شرمندہ اس باپ سے جس نے اپنے کڑیل بیٹے کی
قبر میں لاش اتاری ہے
شرمندہ اس ماں سے جس کی آنکھوں سے خوں جاری ہے
شرمندہ بیٹے سے جس پر سانس بھی لینا بھاری ہے
شرمندہ اس بہن سے جسکی قسمت میں غمخواری ہے
شرمندہ اس بیٹی سے جو باپ سے کٹ کر زندہ ہے
شرمندہ اس قوم سے جو فرقوں میں بٹ کر زندہ ہے
شرمندہ ملت سے جو مرکز سے ہٹ کر زندہ ہے
شرمندہ ہیں پاک وطن ہم آنے والی نسلوں سے
شرمندہ ہیں کھیتوں سے کھلیانوں سےاور فصلوں سے
اے ارض وطن اب مجھ جیسے سب دیوانے
یہ سوچنے پر مجبور ہوئے
اس پاک وطن کے معماروں نے
جب خواب اک سچا دیکھا تھا
پھر ان ظالم جابر حاکموں نے
اس خواب کو کیوں تعبیر نہ دی
کیوں مفلس آج بھی مفلس ہے
کیوں اہلِ ہُنر غربت میں ہیں
کیوں صاحبِ عزت گُم سُم ہیں
کیوں دین فروش سکون میں ہیں
کیوں عالم پہ تنگ دستی ہے
کیونکر ہے جاہل تخت تشیں
کیوں راہنما سب ڈاکو ہیں
کیوں نفس کا مارا منصف ہے
کیوں عدل سے عاری عدالت ہے
کیوں قتل کے حق میں وکالت ہے
قرآن ہے کیوں پھر نیزے پر
دربار میں پھر سادات ہیں کیوں
اک بار میں پھر یہ پوچھتا ہوں
کس نے میرے دروازے پر موت کی شکل بنائی ہے
کس نے گل رخ بچوں کے دامن کو آگ دکھائی ہے
کس نے یہ بارود کی بارش دن دیوے برسائی ہے
کملی والے مدد کو آؤ حسن حسین دہائی ہے
اے ارض وطن شرمندہ ہیں
اے پاک وطن شرمندہ ہیں
ہم بیٹے بیٹیاں تیرے تجھ سے باندھ کے ہاتھ یہ پوچھتے ہیں
کس نے تیرے چاندی جیسے جسم پہ زخم لگائے ہیں
کس نے تیرے چاند ستارے مٹی میں دفنائے ہیں
کس نے تیرے معصوموں پرخود کُش تیر چلائے ہیں
کس نے آگ میں نفرت کی ترے روشن شہر جلائے ہیں
کس نے تیری عزت غیرت بیچ کے ظلم کمائے ہیں
کس نے تیرے پانی میں نفرت کا زہر ملایا ہے
کس نے تیری گلیوں میں بارود کا مینہہ برسایا ہے
کس نے تیری دھرتی کے سینے میں درد اگایا ہے
اے ارض وطن ہم مجرم ہیں
ہم تیری حفاظت کر نہ سکے
زندہ تو رہے ترے نام پہ ہم،ترے نام پہ لیکن مر نہ سکے
اے ارض وطن شرمندہ ہیں!
ہم پاک وطن کی گلیوں سے بازاروں سے شرمندہ ہیں


:دیگر مضامین
(01.11.2009) عالمی اخبار اک معیار ہے از صفدر ہمدانی
(23.09.2009) وطن کے سب غریبوں کے لیئے یہ عید وحشت ہے . صفدر ہمدانی
(11.09.2009) یہ سلسلۂ عشقِ ولایت ہے علی سے
(14.08.2009) میں کیا کرؤں کہ قَلَم کی قَسَم اٹھائی تھی‘‘
(17.06.2009) اندھی رفاقتوں کا ثمر کیا ملا مجھے
(10.06.2009) ہمارے دنیا بھر کے مسئلے ہیں
(19.05.2009) عمرِ وارفتہ نے دکھلائے وہ منظر مجھکو
(09.05.2009) وسوسوں میں الجھ مت کسی کی طرح
(02.05.2009) غم کی گہرائی میں خوش رہتا ہوں
(25.04.2009) خواب جزیرے سوچو کیوں
(07.04.2009) مت اس طرح سے یہ جمہوریت ذلیل کرؤ
(05.03.2009) نعت فخرِ رسولاں
(02.03.2009) با خبر ہے تو
(26.02.2009) عدالت بِک گئی اک بار پھر زردار کے ہاتھوں
(06.12.2008) وہ اتنا خود سے کیسے آشنا ہے



 
تمام خبریں  
اردو کالم   
عالمی خبریں   
تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا    
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
رپورٹس /ملٹی میڈیا   
شوبز /سائینس   
کھیلوں کی خبریں   
انتخاب و اعلانات   
انٹرویوز،شخصیات   
اردو/انگریزی ادب   
شاعری  »
زرقا مفتی-لاہور   »
نگہت نسیم-سڈنی   »
صدف مرزا ۔ ڈنمارک   »
سائرہ بتول   »
صفدر ھمٰدانی-لندن   »
ماہ پارہ صفدر۔ لندن   »
ارشاد عرشی ملک   »
لیاقت علی عاصم   »
انورظہیر۔برلن   »
عامر عباس   »
زہرہ علوی   »
شعیب تنویر   »
عائشہ انمول   »
خاور چوہدری   »
سہیل ثاقب   »
رامش جان   »
ڈاکٹر ہدایت اللہ   »
اسحاق ساجد ۔۔ جرمنی   »
ناہید ورک   »
نوید صادق   »
فریدہ لاکھانی ۔ سڈنی   »
ارمان نجمی   »
شفیق مراد   »
ضیاء بلوچ   »
ڈاکٹر پنہاں   »
فوزیہ مغل   »
طاہر عدیم   »
حمیرا راحت   »
شمس جیلانی۔کینڈا   »
روبینہ فیصل کینیڈا   »
ضمیر طالب   »
سیمیں برلاس   »
سید اقبال حیدر ۔ جرمنی   »
نیہا زیدی   »
سلیمان جاذب   »
منظور قاضی ۔ جرمنی   »
ڈاکٹر سہیل ملک   »
فرخندہ رضوی   »
اقبال نوید   »
ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی   »
رفیق اظہر   »
منظور ثاقب   »
شاہین رضوی   »
انور زاہدی   »
خرم شہزاد خرم   »
محمد علی خان   »
محمد احمد   »
اعجاز شاہین   »
شوکت علی ناز دوحہ قطر   »
عاطف توقیر   »
نثری تخلیقات  »
بچوں کا ادب  »
کتابوں پر تبصرے  »
یاد رفتگان  »
حمد،نعت،سلام،مرثیہ  »
ادبی تقریبات کی رپورٹ  »
مٹی کا سفر،اجرا،تبصرے  »
News Views   
Pak/India/Gulf   
International   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں