یہاں بھی ہو وہاں بھی ہو
تمہی منزل نشاں بھی ہو
عجب سی اک حقیقت ہے
یقین بھی تم گماں بھی ہو
مری آنکھوں سے دیکھو تو
معمر بھی جواں بھی ہو
یقینِ جاں سے کہتا ہوں
ہو منظر بھی سماں بھی ہو
مرا دل خود سے کہتا ہے
نماز ہو تم اذاں بھی ہو
مجھے صفدر یوں لگتا ہے
وہاں میں ، تم جہاں بھی ہو