ہر اک طرف ابر آتشیں ہے
فلک سے لیکر زمیں کے سینے کی ہڈیوں تک
لہو کے پودے اگے ہوئے ہیں
تمام پتھر سیاہ کرنوں کا نور پہنے چمک رہے ہیں
کہ آئیوں کی چمکتی کرنوں سے ریزہ ریزہ نہ ہو سکیں تو
وجود خود کو یقیں دلائیں وہ زندگی کا
یہ کتنی صدیوں کا واقعہ ہے
کہ کربلا کی زمیں پہ شبیر کا خوں بہا تھا
یہ کتنی صدیوں کا واقعہ ہے
کہ دشت غربت میں آل احمد کا امتحاں تھا
سلگتی مٹی کے سرخ سینے پہ خیمہ زن ایک کارواں تھا
وہ کارواں تھا کہ جس کا رہبر
حسین ابن علی ہوا ہے
حسین ابن علی کہ جس نے
نحیف مردہ ضعیف مٹی کو زندگی کا پیام بخشا
حسین ابن علی کہ جس نے محبتوں کے خدا کو اذن کلام بخشا
حسین ابن علی محبت کی انتہا ہے
حسین ابن علی جو تصویر کربلا ہے
حسین ابن علی جو نفرت کے معبدوں کو تباہ کر کے امر ہوا ہے
یہ کتنی صدیوں کا واقعہ ہے
کہ کربلا کے سلگتے ذروں نے اپنی آنکھوں سے خود ہی دیکھا
کہ باپ بیٹے کے سینہء نیم جاں سے برچھی نکالتا ہے
مگر وہ نہر فرات جس نے لہو پیا تھا
ابھی رواں ہے
حسین ابن علی کہاں ہے؟
کہ ہر طرف ابرِ آتشیں ہے
فلک سے لیکر زمیں کے سینے کی ہڈیوں تک
لہو کے پودے اگے ہوئے ہیں
میں اپنے دوزخ کی آگ میں اب بھی جل رہاہوں
میں اپنی حدت کی روشنی میں پگھل رہا ہوں
حسین ابن علی کہاں ہے کہ جسم کی نرم دیوار گر رہی ہے
سمندروں کے نحیف سینوں پہ سبز کائی اگی ہوئی ہے
زمیں کے آنسو نکل رہے ہیں
شکستہ چہروں کی زرد آنکھیں لہو کے احرام باندھ کر منتظر ہیں
فلک کے ہاتھوں کی انگلیاں بھی الجھ رہی ہیں
تمام کوہسار گر رہے ہیں
زمین کروٹ بدل رہی ہے
میں اپنے ہی کارواں سے بچھڑا تو آج تنہا کھڑا ہوا ہوں
میں اپنے ہاتھوں پہ سرد لمحوں کی لاش رکھ کے
سلگتی مٹی کے سرخ سینے پہ خیمہ زن ہوں
میں بے کفن
حسین دشت بلا کے ذرے پکارتے ہیں
حسین بالی سکینہ تپتی زمیں پہ بیٹھی
جلے ہوئے خیمہ گاہ پہ آنسو بہا رہی ہے
حسین اصغر کا خالی جھولا پکارتا ہے
حسین بیمار کربلا کی چمکتی آنکھوں میں ایک تاریخ خیمہ زن ہے
حسین میرے سلگتے ہاتھوں کو سرد لمحوں کا رنگ دے دو
حسین میری زمیں کو آنکھوں کا نور دے دو
''حسین آؤ کہ اب شہادت کا لفظ معنی بدل رہا ہے
حیسن آؤ کہ وقت انساں کو اپنے ہاتھوں مسل رہا ہے
حسین آؤ کہ اب تو آنکھوں کی بینائی پانی میں ڈھل گئی ہے
حسین آؤ کہ آج کے آدمی کی ہیئت بدل گئی ہے
حسین میرے نحیف سانسوں کو پھر ضرورت ہے انبیا کی
قسم خدا کی
حسین آؤ کہ آج دنیا کو پھر ضرورت ہے کربلا کی۔