نعت فخرِ رسولاں
اُن کے دربارمیں مقبول ہے لکھنا میرا
آسمانوں پہ ملائک میں ہے چرچا میرا
٭
کسقدر کرب میں تھااُن کی محبت کے بغیر
یاد ہے اب بھی مجھے دھوپ میں جلنا میرا
٭
میرے ہونٹوں پہ کھلے اسمِ محمد کے گلاب
نعت کے نور سے روشن ہوا چہرہ میرا
٭
دولتِ دنیا مری نظروں میں اب جچتی نہیں
بھر گیا اُن کی عنایات سے کاسہ میرا
٭
ایک جنت تھی رواں میرے بدن کے اندر
مَس ہوا روضے کے سائے سے جو سایہ میرا
٭
گنُبدِ سبز کے سائے میں کھڑا تھا تنہا
کس بلندی پہ تھا اُس لمحے ستارہ میرا
٭
سامنے تھا مری آنکھوں کے نبی کا روضہ
اور خوشبو سے معطر تھا سراپا میرا
٭
شہرِ محبوبِ خُدا تھا مری آنکھوں میں بسا
آبِ زم زم کی طرح سرد تھا لحجہ میرا
٭
کیسا اعزاز ملا اُن کی غلامی کا مجھے
چھین سکتی نہیں اعزاز یہ دنیا میرا
٭
خوشبوئیں بانٹتا پھرتا ہوں زمانے بھر میں
گُلشنِ آلِ محمد سے ہے رشتہ میرا
٭
دولتِ عشقِ محمد پہ ہوں نازاں صفدر
مدحتِ شاہِ مدینہ ہے وظیفہ میرا