غم کی گہرائی میں خوش رہتا ہوں
میں کہ تنہائی میں خوش رہتا ہوں
منتخب کرتا ہوں دشمن اپنے
اپنی رسوائی میں خوش رہتا ہوں
دیکھتا ہوں میں گریبان تلک
حدِ بینائی میں خوش رہتا ہوں
جو شناسائی،شناسائی نہ ہو
اس شناسائی میں خوش رہتا ہوں
کوئی خواہش نہیں ایوانوں کی
گھر کی انگنائی میں خوش رہتا ہوں
شہر سے خوف ہے صفدر مجھکو
بزمِ صحرائی میں خوش رہتا ہوں