
غزل
وسوسوں میں الجھ مت کسی کی طرح
سانس رک جائے گا بے بسی کی طرح
کیا خبر کس طرح جاگزیں ہو گئیں
گھر میں تاریکیاں روشنی کی طرح
زندگی کی طرح وہ جدا ہو گیا
ساتھ تھا جو مرے زندگی کی طرح
رہ رہے ہیں وہ دونوں ہی عقرب صفت
ایک چھت کے تلے اجنبی کی طرح
کج ادائی کا اسکی سبب کیا کہوں
تنگ نظر وہ بھی ہے ہر کسی کی طرح
ساتھ اسکے گزارا ہر اک،ایک پل
دل میں مدفون ہے خامشی کی طرح
کیا خبر تھی مجھے کرنا پڑ جائے گا
ہجرتوں کاسفر بے بسی کی طرح
کاٹناہے ہمیں فیصلہ ہو گیا
دوستی کا سفر دشمنی کی طرح
دشتِ دل میں ہواؤں کی مانند چل
آنگنوں میں اتر چاندنی کی طرح
خود ہی صفدر وہ حرفِ غلط بن گیا
مجھ میں تھا جو مری شاعری کی طرح