عمرِ وارفتہ نے دکھلائے وہ منظر مجھکو
جانے لے جائے کہاں اب یہ مقدر مجھکو
۔۔۔۔۔
تم ہی بتلاؤ انہیں کیسی ہے رنجش مجھ سے
گھورتے رہتے ہیں کیونکر مہ و اختر مجھکو
۔۔۔۔
میں نے جس روز سمندر پہ پکارا تھا وہ نام
ڈھونڈتا پھرتا ہے اُس دن سے سمندر مجھکو
۔۔۔۔
جس پری وش کے لیئے لکھتا ہوں ہر روز غزل
اُس نے بھی بھول کے لکھا نہیں شاعر مجھکو
۔۔۔۔۔۔
ایک صحرا ہے یا خاموشی کا اک جنگل ہے
روز دیتا ہے صدائیں میرا اندر مجھکو
۔۔۔۔۔۔
ایک مدت ہوئی بچھڑا ہے وہ خود اپنے سے
ڈھونڈھ کر لا دو خدارا میرا صفدر مجھکو