مت اس طرح سے یہ جمہوریت ذلیل کرؤ!
مرے وطن میں قلم کی قَسَم اٹھاتا ہوںکہ جب تلک مری سانسوں کا آنا جانا ہےقلم رہے گا یہ شمشیر بن کےگردن پرترے ہر ایک ستم آشنا عدو کے لیئےترے عدو کو نہیں ہے
مرے قلم کے شکوہ کا ابھی بھی اندازہ
بکھیر دوں گا بساطِ ستم کا شیرازہ
ترے عدو کو بھگتنا پڑے گا خمیازہ
یہ کیا کہ ہر کوئی اک مردہ خور گدھ کی طرح
ترے وجود پہ نظریں جمائے بیٹھا ہے
یہ کیا کہ تیرے وجودِ حیات کو ظالم
نگاہِ بد سے نشانہ بنائے بیٹھا ہے
سروں پہ کوہِ ملامت اُٹھائے بیٹھا ہے
ترے عدو کو خبر ہی نہیں ہے کہ تاریخہر ایک عہد میں اپنا سبق سکھاتی ہے ہر ایک آمرِ مطلق کا سر اڑاتی ہےترے عدو کو یہ ادراک ہی نہیں ہے کہ وہ
کسی بھی شکل میں آئے
وہ چھُپ نہیں سکتا
ترے عدو کو خبر ہی نہیں کہ اسکا وجودقبا سجائے ہوئے ہے بدن پہ اپنے مگریہ زرنگار قبا سر تا پا ملامت ہےیہ سر پہ رکھی جو دستار ہے ندامت ہےفصیل شہر کے باہر کھڑی قیامت ہےکسے یہ زعم کہ جمہوریت کے پردے میںوہ اپنی ساری سیاہ کاریاں حلال کرےغریب کے لیئے اک سانس بھی وبال کرےپھر ایک بار یہ دھرتی مری عذاب میں ہے
پھر عدل اہلِ ہوس کے لکھے نصاب میں ہے
وفا کا درس بھی زردار کی کتاب میں ہے
وہ فکرِ شمرِ لعیں عرصئہ شباب میں ہے
پھر حاکموں نے لگایا ہے مصر کا بازارپھر اقتدار کا نشہ ہے تخت کا ہے خمارپھر ایک مجمعء اہلِ ہوس ہے اور دربارپھر اہلِ حکمت و دانش کی جہل ہے سردارغریبِ شہر کا مختار پھر ہوا زردارمنافقت کی ہوا ہے سنو چمن میں مرےاُتر گیا ہے جوں خنجر کوئی بدن میں مرےپھر آمروں نے اٹھایا ہے سر وطن میں مرےمگر یہ کیا ہے کہ اس بار یہ حصارِ ستم
بنا رہے ہیں وہی سب
جنہیں ہے دعویٰء جمہوریت زمانے سے
جنہیں ہے فخر کہ اعزاز یہ شہادت کا
انہیں کے گھر کے لیئے جسطرح وراثت ہے
انہیں کے واسطے لکھی گئی قیادت ہے
میں کیا کرؤں کہ قَلَم کی قَسَم اٹھائی تھی
تو اس قَسَم کی مجھے اب بھی لاج رکھنی ہے
تو پھر سنو کہ نہ غاصب کو اب وکیل کرؤخود اپنے سر کو بچانے کی بھی سبیل کرؤتم اقتدار کی خواہش مگر قلیل کرؤجو کرنا چاہو تو پھر بیعتِ عدیل کرؤمت اس طرح سے یہ جمہوریت ذلیل کرؤ