|
|
![]() |
|
|
ہمارے دنیا بھر کے مسئلے ہیں 10.06.2009, 01:17am , بدھ (GMT1) ہمارے دنیا بھر کے مسئلے ہیں سمندر کو بھنور کے مسئلے ہیں ۔۔۔۔۔ کوئی صورت نہیں ملتی کسی سے یہی آئینہ گر کے مسئلے ہیں ۔۔۔ اِنہی سے ذات ہے تقسیم میری یہ جو دیوار و در کے مسئلے ہیں ۔۔۔ شعور و فکر،احساسِ محبت یہی اہلِ نظر کے مسئلے ہیں؟ ۔۔۔۔۔ تمہیں تو فکر اپنے حال کی ہے مجھے اگلے سفر کے مسئلے ہیں ۔۔۔۔۔ کوئی تو ہو جو میری بات سمجھے یہی مجھ در بدر کے مسئلے ہیں ۔۔۔۔ مرا ہر مسئلہ بس فکر کا ہے جو باقی ہیں وہ زر کے مسئلے ہیں ۔۔۔۔ سکوں میں ہے بہت جو بے خبر ہے وگرنہ سب خبر کے مسئلے ہیں ۔۔۔۔۔ سیاست بن گئے محراب و منبر ادھر بھی اب اُدھر کے مسئلے ہیں ۔۔۔۔۔ کروڑوں لوگ جو سوتے ہیں بھوکے یہ سب تقسیمِ زر کے مسئلے ہیں ۔۔۔۔۔ مجھے موجود لمحے کا تردد تمہیں شام و سحر کے مسئلے ہیں ۔۔۔۔۔۔ بہت ہے فکر اسکو میرے گھر کی کچھ اس کے اپنے گھر کے مسئلے ہیں ۔۔۔۔۔ اُسے دستار کی ہے فکر صفدر مجھے در پیش سر کے مسئلے ہیں |
||
This Article is printed from www.aalmiakhbar.com