اندھی رفاقتوں کا ثمر کیا ملا مجھے
کرنا پڑا ہے اپنے سے صفدر گلہ مجھے
۔۔۔
اب روز میری ذات کو کرتا ہے منقسم
کرتا نہں تھا وہ جو کبھی بھی خفا مجھے
۔۔۔۔
پل بھر میں تن سے سانس کا رشتہ ہو منقطع
ہونٹوں سے ایسا زہرِ محبت پلا مجھے
۔۔۔۔
اس جرمِ آشنائی کی ملتی ہے کیا سزا
کرتا ہے کس طرح سے معاف اب خدا مجھے
۔۔۔۔۔۔۔۔
تو نے کنارِ جھیل پہ جو گنگنایا تھا
تنہائیوں کا گیت وہی پھر سنا مجھے
۔۔۔۔۔۔۔
کرنا نہیں ہے اب کوئی ایثار کا سفر
کرنی نہیں ہے جینے کی اب التجا مجھے
۔۔۔۔
صفدر بہار میں بھی رہوں گا خزاؤں میں
راس آ گئی ہے دوست تری بد دعا مجھے