بھیگتا رہا شب بھر چاہتوں کی بارش میں
مات کھائی ہے ہم نے جیتنے کی خواہش میں
جسکے بعد ہر رُخ سے ہر قدم اندھیرا ہو
کتنی دیر لگتی ہے ایسی ایک لرزش میں
یہ یقین ہے میرا ڈوب کر میں ابھروں گا
جتنا چاہو ڈالو اب جیسی آزمائش میں
صندلی بدن اسکا پیراہن سے عاری ہے
اسکو لطف آتا ہے جسم کی نمائش میں
حد سے بڑھ کے عزت بھی ڈھونگ لگنے لگتی ہے
نفرتوں کی دنیا ہے اسقدر ستائش میں
تم سے کیا گلہ صفدر تم سے کیا شکایت اب
تم بھی اب جو شامل ہو دوستوں کی سازش میں