جنابِ شمس جیلانی کا فرمایا حقیقت ہے
وطن کے سب غریبوں کے لیئے یہ عید وحشت ہے
بنا چینی اور آٹے کے جہاں رمضان گزرا ہو
وہاں پر سانس لینا بھی اگر سچ کہہ دوں ذلت ہے
جہاں آٹے کی خاطر عورتیں جاں سے گزر جائیں
وہاں پر کیا تراویح،کیسی تسبیح کیا عبادت ہے
قسم قصرِ صدارت میں ہر اک احساس مردہ ہے
یہی وہ بےحسی ہے جو زمانے بھر کی لعنت ہے
وہ جن کے ووٹ سے قائم حکومت ہے انہی کے گھر
بروزِ عید بھی فاقہ ہے تنگ دستی کی صورت ہے
میں اپنے آپ سے یہ پوچھتا رہتا ہوں ہر لمحے
نہ جس کی آنکھ میں ہو شرم وہ کیسی حکومت ہے
قیامت آئے گی ہر روز یہ سنتے ہیں مُلاں سے
ہمارے واسطے تو لمحئہ حاضر قیامت ہے
یہ ایونِ صدارت کے مکیں اس عید کے دن پر
اگر جھانکیں گریباں میں ندامت ہی ندامت ہے
ہمارے ملک کو ان حاکموں نے کیا بنا ڈالا
زراعت جس کی شے رگ ہے وہاں آٹے کی قلت ہے
کہیں فرقہ پرستی ہے کہیں مسلک کہیں ذاتیں
خدایا تو ہی بتلا دے یہ کس طرح کی ملت ہے
یہاں حج ایک فیشن ہے نمازیں بس دکھاوا ہیں
یہاں مسجد بھی بزنس ہے یہاں دیں بھی سیاست ہے
جو اہلِ علم ہیں وہ خوفِ عزت سے گھروں میں بند
یہاں منبر پہ جاہل ہے مضحکہ خیز صورت ہے
ہماری قسمتوں کے وہ جو مالک بن کے بیٹھے ہیں
ہیں انکے تن نجس اور من خباثت ہی خباثت ہے
عوام اس ملک کے کس عدل کی خواہش میں زندہ ہیں
یہاں انصاف کی خاطر ترستی خود عدالت ہے
ہم عرفِ عام میں حاکم جنہیں کہتے ہیں اب صفدر
یہ وہ ناسور ہیں جن کا خدا مغرب کی طاقت ہے