03.09.2014, 12:40am , بدھ (GMT+1)
 
تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے نوازشریف جسمانی طور پر وزیراعظم ہیں اخلاقی طور پر نہیں ۔ ہجوم نہیں چند لوگ ہی انقلاب لاتے ہیں ; متحدہ قومی موومنٹ اور پاکستان پیپلز پارٹی نے ملک میں جاری سیاسی بحران کا بوجھ حکومت پر ڈالتے ہوئے ’کچھ قربانی‘ دینے کا مشورہ دیا ہے۔ ; شامی فوج کی الرقہ میں داعش کے ٹھکانوں پر بمباری ۔ ان فضائی حملوں میں داعش کے 16 جنگجو ہلاک ہو گئے جبکہ 40 زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں ; بھارت میں انتہائی سخت سیکیورٹی میں اڑسٹھویں یوم آزادی کی تقریب، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ خون بہانے سے کچھ نہیں ملے گا۔ ; ریڈیو پاکستان نے لاہور کے تاریخی ریڈیو اسٹیشن کا ایک اہم اسٹوڈیو اولیں ناشر اعلان قیام پاکستان مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے نام سے موسوم کر دیا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
انتخاب و اعلانات
 

بے مثال و باکمال شخصیت مولانا ابولکلام آزاد۔از۔خوشتر رحمٰن خاں
10.12.2013, 10:22am , منگل (GMT+1)

خوشتر رحمٰن خاں
‪                                            ‬ہندوستان کی جنگ آزادی میں ہزاروں علمائے دین کی قربانی ناقابل فراموش ہونے کے ساتھ ہی ہندوستان کی سرزمین پر وہ قرض ہے جس کی ادائیگی ممکن نہیں ہو سکتی۔ مجاہد آزادی کے پروانوں میں کچھ ایسے نام بھی شامل ہیں جن کاکائی ثانی نہیں ہی۔ آزادی کے متوالوں میں چندرشیکھر آزاد، بھگت سنگھ اور بسمل جیسے ہزاروں رہنما جان کی بازی لگا کر ہنستے ہنستے پھانسی پر جھول گئے لیکن وہ ظلم و زیادتی کے آگے گھٹنے ٹیکنے کو راضی نہیں ہوئی۔ علامہ فضل حق خیرآبادی، موہن داس کرم چندر گاندھی، پنڈت موتی لعل نہرو، سردار ولبھ بھائی پٹیل، خان عبد الغفار خان وغیرہ نے سچائی اور امن پسندی کے ساتھ جس دیانت داری کا ثبوت پیش کر انگریزی حکومت کی چولیں ہلائیںاس کی مثال بھی دنیا کی تاریخ میں کہیں نہیں ملتی۔ مہاتما گاندھی کی ٹولی میں شامل ایسا ہی ایک اور نام ہے جس کا کارنامہ ہندوستان کی آزادی کی تاریخ میں جلی حروف میں شامل ہی۔ یہ شخص نہ صرف ایک اول درجہ کا مجاہد آزادی رہا بلکہ اپنی تحریر و تقریر کا ایسا سپہ سالار ہے جس کی چوٹ سے برٹش حکومت کمزور ہونے کے ساتھ ہی زوال پزیر ہوئی۔ اس مجاہد آزادی کی تقاریرو تحاریر نے ہندوستان میںجو انقلاب برپا کیا اس کی بدولت عوام میں حب الوطنی کا جذبہ اسقدر سر چڑھ کر بولاکہ مہاتما گاندھی کے سواتنترتا سنگرام کی راہیں آسان ہوتی چلی گئیں۔
‪                                                ‬جی ہاں یہ ذکر ہے آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم مولانا ابو اکلام آزاد کے کارناموں کا۔ مولانا کی ولادت ‪06‬ ستمبر ‪1979‬ میں سعودی عرب کے شہر مکہ میں ہوئی۔ آپ کے والد مولوی خیرالدین ہندوستان کے مایہ ناز صوفی بزرگ تھے جو کہ ‪1808‬ میں انگریزی حکومت کی زیادتیوں سے تنگ آ کر سعودی عرب چلے گئے تھی۔ یہاں مولوی خیر الدین کا نکاہ مسماتا عالیہ سے ہوااوریہیں‪ ‬مولانا ابو اکلام آزاد کی ولادت ہوئی۔ ‪1898‬ میں مولوی خیر الدین نے ہندوستان واپسی آ گئے اور شہر کلکتہ میں سکونت اختیار کر لی۔ شہر کلکتہ میں ہی مولانا ابواکلام آزاد کے والدین نے زندگی کی آخری سانس لی۔‪ ‬
                                                 ‬مولانا ابواکلام آزاد کا پہلا مضمون ‪1900‬ میں لکھنؤ سے نکلنے والے ایک رسالے میں غلام مہی الدین آزاد کے نام سے شائع ہوا۔ اس مضمون کے بعد مولانانے  پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور ان کے قلم کی نوک تلوار کی مانند تیزتر ہوتی چلی گئی۔ صرف تین سال کے تحریری سفر میں مولانا نے اپنا لوہا منواتے ہوئے‪15 ‬ برس کی عمر میں لسان صدق نامی رسالے کی ادارت کا ذمہ سنبھال لیا۔یہ وہ دور تھا جب ہندوستان میں آزادی کے ہزاروں متوالے انگریزی حکومت کے خلاف جنگ میں سرگرم تھی۔  مولانا ابواکلامآزاد نے یہاں بھی اپنی قابلیت کا لوہا منوایاقلم کی طاقت سے جلد ہی مہاتما گاندھی کے قریبی لوگوں میں شمار کئے جانے لگی۔ مولانا ابواکلام آزاد نے اپنے قلم کی نوک کو تلوار کی مانند تیز رکھنے کا عزم کر لیا اور انگریزی حکومت کے خلاف جنگ میں شامل رہنا زندگی کا مقصد بنا لیا۔ مولانا ابواکلام آزاد اس کارہائے نمایاں میں اسقدر مقبول ہوئے کہ پورا ہندوستان ان کی تحریر کا غلام ہو گیا۔ ہندوستان بھر میں پھیلے اخبارات و رسائل میں مولانا ابواکلا م آزاداس طرح چھائے کہ انگریزی حکومت مولانا کے نام سے ہی لرزاں ہونے لگی۔  ‪1906‬ میں جب مولانا ابواکلا م آ زاد کی عمر محض ‪27‬ برس تھی اردو ادب اور صحافت کے ذریعہ وہ انگریزی حکومت کے خلاف آسمان ہندوستان کا ستارہ بن چکے تھی۔ مولانا میں اب تک حکومت کے خلاف ایسا جنون ہاوی ہو چکا تھاجو انگریزی حکومت کی نینداڑا اور ہوش فاختہ کرنے کے لئے کافی تھا۔ انہوں نے تھریک چلاکر برٹش حکومت کی ظلم و زیادتی کے خلاف مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر لاکر حکومت کو شرمسار کرنے کی جدو جہد شروع کر دی۔ اس کام میں مولانا ابواکلام آزاد کو جمال الدین افغانی، مفتی محمد ابدہوکے علاوہ محمد رشید رضا سے فیض حاصل ہوا۔ اسی دوران مولانا ابواکلام آزاد سر سید احمد خاں اور علامہ شبلی نعمانی کے قریب آئے لیکن سر سید احمد خان کے  راستے پر مولانا ابواکلام آزاد زیادہ دور چل نہ سکے البتہ علامہ شبلی نعمانی کی اس نظم نے ان پر اثر ضرور کیا ۔
حکومت پر زوال آیا تو پھر نام و نشاں کب تک
چراغ کاستکائے محفل سے اٹھے گا دھواں کب تک
یہ مانا قصہ غم سے تمھارا دل بہلتا ہی
سنائیں تم کو اپنے دل کی درد داستاں کب تک
سمجھکر یہ کہ دھندھلے سے نشان رفتگاں ہم ہیں
مٹاؤ گے ہمارا اس طرح نام و نشاں کب تک
‪     ‬مولانا ابواکلام آزادنے جنگ آزادی میں صحافت کو اپنا ذریعہ جنگ بنا لیا اور الہلال و البلاغ کے ذریعہ حکومت کی جڑیں ہلانی شروع کر دیں۔ ان دونوں اخبارات سے ہندوستان کے مسلمانوں کے خیالات میں زبردست تبدیلی واقع ہوئی اورر دیکھتے ہی دیکھتے ہندوستانی مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد مولانا ابواکلام آزاد کی مرید ہو کر انگریزی حکومت کے خلاف جنگ آزادی میں شامل ہو گئی۔ ملک کے پہلے وزیر زعظم پنڈت جوااہر لعل نہرو نے اپنی کتاب‪ DISCOVERY OF INDIA  ‬میں لکھا ہی۔
‪                                                "‬اپنی تحریر کی بدولت مولانا ابواکلام آزاد شہرت یقینی طور پر دوسرے ہندوستانی مسلمانوں سے کہیں زیادہ تھی۔ مولانا ابواکلام آزاد نے ہندوستانی مسلمانوں کے سامنے اپنے  ہفت روزہ الہلال میں ایک نئے انداز میں خیالات پیش کئی۔ مولاناکے خیالات اور انہیں پیش کرنے کا انداز ہی جداگانہ نہ تھابلکہ جملوں کی بناوٹ بھی ایسی تھی جن میں غضب کا جوش پایا جاتا تھا۔ فارسی کے اثرات کی وجہ سے کچھ مشکلات ضرور ہوتی تھی ۔ مسلمانوں میںکچھ دقیہ نوسی افراد کو مولانا ابواکلام آزادکا یہ روپ پسند نہیں آیا اور مولانا   ابواکلام آزاد کو ان کی مخالفت کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ ان سب کے باوجود مولانا ابواکلام آزاد کی شخصیت کا مقابلہ کرنا آسان نہیں تھا اور مولانا ابواکلام آزاد نے اپنے خیالات سے آخرکار ایسے حالات پیدا کئے جن سیان کی مخالفت کر رہے دقیہ نوسی مسلمانوں کی جڑیں کھوکھلی ہو گئیں۔‪ "‬
‪                                                    ‬جنگ آزادی کے دوران ایک وقت ایسا بھی آیا جب مولانا ابواکلام آزاد کو‪1916‬ سے‪ 1919‬تک رانچی میں نظربند رہنا پرا۔ لیکن نظر بندی سے آزاد ہونے کے بعد ان کے خیالات اور زیادہ تیکھے اور جوشیلے ہو چکے تھی۔ ‪1920‬ سے ‪1923‬ کے درمیان جب ان کی عمر صرف ‪32‬ سے ‪35‬ سال کے درمیان تھی مولانا ابواکلام آزاد نے خلافت تحریک کے رہنما کی حیثیت سے اپنی بے جوڑ تقاریر کی بدولت شہرت کے آسمان پر بلندی کا جھنڈا گاڑنے میں کامیاب ہو کر جلوہ افروزہوئی۔ انہوںنے مہاتما گاندھی کے ساتھ مل کر سول نافرمانی اور ستیہ گرہ تحریک کے لئے عوام کو بیدار کیا۔ ‪1920‬ میں رانچی سے نظر بندی کے بعد رہا ہو کر وہ دہلی آ گئی۔ یہاں ان کی پہلی ملاقات حکیم اجمل خاں کے مکان پر موہن داس کرم چندر گاندھی سے ہوئی جہاں دو گھنٹے سے بھی زیادہ وقت تک وہ مہاتما گاندھی کے ساتھ تبادلہ خیال میں مشغول رہی۔  حکیم اجمل خاں کے مکان پر ہوئی اس ملاقات نے ایک بار پھر مولانا ابواکلام آزاد کی سیاسی زندگی کو نئی کروٹ دی اس وقت مولانا واحد ایسے شخص تھے جنہوں نے مہاتما گاندھی کے ساتھ ملکر انگریزی حکومت کو ناکوں چنے چبانے پر مجبور کرنے کا کام کیا اور ہر مورچہ پر نڈرتا کے ساتھ اپنا حکومت کو ٹکر دیتے رہے جبکہ قومی رہنما لالالاجپت رائی، سی آر داس اور موتی لال نہرو کافی دنوںبعد مہاتما گاندھی کے قریبی لوگوں میں شمار ہوئی۔
‪                                                 1920 ‬سے ‪1921‬ کے درمیان موہن داس کرم چندر گاندھی اور مولانانے ایک ساتھ ملک کا دورہ کرکے عوام کو بیدار کرنے کا کام کیا اور‪1920‬ میں ہی مولانا ابواکلام آزاد نے ایک اور کارنامہ انجام دیا۔ مولانا کے اس کارنامیں سے ملک میں انقلاب برپا ہو گیا۔ مولانا ابواکلام آزاد نے ‪12‬ دسمبر ‪1920‬ کو کلکتہ کی جمع مسجد کے اہاتے میں ایک مدرسہ کی نیوں رکھنے کے لئے مہاتما گاندھی کو دعوت دی۔ یہا ں مدرسہ کی نیو رکھنے کے بعد ایک عوامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مہاتما گاندھی نے اپنے صدارتی خطبہ میں کہا کہ "اس مدرسہ سے سچے مسلمان اور سچھ ہندوستانی تربیت حاصل کر کے باہر آئیں گے جو غلامی کی زندگی کو بوجھ سمجھیں گے اور ملک کی سلامتی کے لئے اپنی جان قربان کریں گی۔
‪                                                ‬موہن داس کرم چندر گاندھی خود بھی مولانا ابوالکلام آزاد کی طرح ہندو مسلم اتحادکے زبردست حامی تھی۔ ‪25‬ اگست ‪1925‬ کو آگرہ میں خلافت تحریک کے ایک جلسہ عام کو خطاب کرتے ہوئے مولانا ابواکلام آزاد نے اپنے خطبہ میں کہا تھا کہ "اگر ہندوستانی مسلمان اپنے بہترین شرعئی اور اسلامی فرائض کو حتمی شکل دینا چاہتے ہیں تو انہیں ایک ہندوستانی کی حیثیت سے یہ کام انجام دینا چاہئی۔یہ بھی ایک سچی حیثیت ہے ۔ مگر سب سے پہلے حیثیت یہ ہے کہ بحثیت مسلمان ہونے کے مسلمان کا فرض ہے کہ وہ اپنے ہندو بھائیوں کے ساتھ ہو جائیں۔ میرا یقین ہے کہ ہندوستان میں ہندوستان کے مسلمان اپنے بہترین فرائض کو تب تک آخری شکل نہیں دے سکتے جب تک اسلامی اصولوں کے مطابق ہندوستان کے ہندوؤں سے پوری ایمانداری اور دیانت داری کے ساتھ اتحاد نہ پیدا کر لیں۔‪ "‬
‪                                                ‬مولانا ابواکلام آزاد کی پوری زندگی پر نظر ڈالتے ہی معلوم ہو جاتا ہے کہ ان کی زندگی کا ہر ساتواں دن جیل میں گزرا۔ انگریزی حکومت کے خلاف عوام کو لام بند کرنے اور صحافت کے ذریعہ حکومت کی بربریت کا اظہار انکی بارہا گرفتاری کی وجہ بنا ان پر ظلم دھائے گئے اور مقدمات کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک مقدمہ کی کارؤائی کے دوران عدالت میں جس طرح مولانا نے اپنے خیالات بیان کئے وہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ مولانا ملک اور عوام کے تئیں اپنے فرائض کو بخوبی نبھانا خوب جانتے تھی۔ ان کے ان خیالات اور بیانات سے اس وقت کی انگریزی حکومت کے پیر لڑکھڑا گئے تھی۔مولانا ابواکلام آزاد نے عدالت میں کہا تھا کہ " عدالت کی ناانصافیوں کی فہرست بہت لمبی ہی۔ تاریخ آ ج تک عدالتی ناانصافیوں کے ماتم کو بھول نہیں پائی ہی۔ ہم اس میں پیغمبر حضرت عیسیٰ مسیح جیسے پاک انسان کو دیکھتے ہیں۔ جو اپنے دور کی ایک اجنبی عدالت میں چوروں کے ساتھ کھڑے کئے گئی۔ ہم کو اس میں سقراط نظر آتا ہے جسے صرف اس لئے زہر کا پیالہ پینا پرا کہ وہ اپنے ملک کا سچا انسان تھا۔ ہم کو اسمیں فلورنس کے گیلیو کا نام بھی ملتا ہی، جو اپنی معلومات اور ثبوت کو جھٹلا نہ سکا اور ان کا عدالت کے سامنے مظاہرہ ایک جرم ثابت ہوا۔ میںنے  پیغمبر حضرت عیسیٰ مسیح کو انسان کہا کیونکہ میرے خیال میں وہ ایک صوفی بزرگ تھے جو نیکی اور محبت کا آسمانی پیگام لے کر دنیا میں آئے تھی۔ لیکن کروڑوں انسانوں کی عقیدت کے اعتبار سے وہ اس سے کہیں زیادہ مرتبہ رکھتے ہیں۔ مولانا ابواکلام آزاد نے آگے کہا کہ یہ ملزمان کے لئے بنایا گیا کٹگھرا ہی۔ یہ کیسی عجیب اور اہمیت کی جگہ ہے جہاں سب سے اچھے اور سب سے برے دونوں طر ح کے انسان کھڑے کئے جاتے ہیں۔ اتنی بڑی ہستی کے لئے بھی یہ جگہ واجب ہی۔ " مولانا نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ " میں اقرار کرتا ہوں کہ میں نہ صرف انہیں دو مرتبہ بلکہ گزشتہ دو برس سے بے شمار تقریروں میں یہ اور اسی مطلب کے لئے اس سے کہیں زیادہ اور سخت الفاظ دوہرائے ہیں۔ ایسا کہنا اور کرنا میرے لئے فخر کی بات ہے جسے میں اپنا فرض مانتا ہوں۔ میں اپنے اس فرض سے اس ڈر میں منہ نہیں موڑ سکتا کہ وہ ضابطہ ‪24‬ (ایک) کا جرم قرار دیا جائیگا۔ میں اب بھی ایسا ہی کرنا چاہتا ہوں اور جب تک بول ساکتا ہوں ایسا ہی کہتا رہوں گا، جب تک لکھ ساکتا ہوں ایسا ہی لکھتا رہوں گا، اور اگر میں ایسا نہ کر سکوں تو اپنے خدا اور اس کے بندوں کے آگے اپنے کو ایک مجرم مانوں گا۔‪ "‬
‏‪u                                              ‬اس طرح یہ ثابت ہے کہ مولانا ابولکلام آزاد ایک ایسے بے مثال و باکمال مجاہد آزادی حب الوطنی کا جذبہ رکھنے والی شخصیت کے مالک تھے جس کی دنیا کی تاریخ میں کہیںکوئی مثال نہیں ہی۔ مولانا ابولکلام آزاد اپنے وطن کی سلامتی کو یقینی بنانے کے ساتھ ہی اسلامی آئینہ میں اپنی قابلیت اور ذہانت کے بل بوتے پوری ایمنداری و شرافت کے ساتھمرد مجاہد کی طرح بخوبی جینا جانتے تھی۔ وہ غلام ہندوستان کو آزاد کرانے کے لئے عوام میں جوش پیدا کرنے اور انہیں عوامی تحریک کا حصہ بنانے انہیں بیدار کرنے کے لئے اپنی زندگی کو وقف کر چکے تھی۔ مولانا ابولکلام آزاد نے جنگ آزادی کے دوران ملک کے عوام کے دلو دماغ میں ایک ایسا جوالہ مکھی تیار کر دیا تھا جو مذہبی نا اتفاقی کو دور کرکے کاندھے سے کاندھا ملاکر انگریزی حکومت کی چولیں ہلا رہا تھا۔ انکی تقاریر اور تحاریر آزادی کے متوالوں کے لئے میل کا پتھر چابت ہوتی تھیں۔ مگر افسوس کہ آزادی کے بعد ہندوستان میں جو تعصب کا درخت تیار کیا گیامولانا ابولکلام آزاد کی قربانیاں اس کے سائے سے بچ نہ سکیں۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ریاستی اور مرکزی حکومت میں شامل وزراء اکثر ایسے افراد بن جاتے ہیں جنہیں  مولانا ابولکلام آزاد کی آزادی کی کہانی تو دور ان کا نام تک یاد نہیں ہوتا۔ آج جب چھوٹے چھوٹے تہوار یا ادنیٰ لوگوں کی کارکردگی پراسکولوں میں طلبہ سے پروگرام کرائے جاتے ہیںبڑے جشن منائے جاتے ہیں سرکاری تعطیل کر کے ان کی یاد منائی جاتی ہی۔ سرکاری دفاتر میں سیمینار ہوتے ہیں مقابلہ جاتی پروگرام، بیت بازی اور نمائش وغیرہ کرکے یادیں تازہ کی جاتی ہیں لیکن مولانا ابولکلام آزاد کی قربانیوں سے بے پرواہ حکومتیں اور عوام ان کا نام لینے میں بھی گریز کرتے ہیں۔
‪---------------------------------------------------------------------------------------------‬
‏‪
مضمون نگار بیسک ایجوکیشن بورڈ آف اتر پردیش کے جونئیرہائی اسکول میں اردو زبان کی درس و تدریس کا کام انجام دے رہے ہیں ضلع سیتاپور میں انہیں ماہر تعلیم تصور کیا جاتا ہے


:دیگر مضامین
(09.12.2013) پانچ دسمبر ملکہ موسیقی روشن آرا بیگم کی31ویں برسی منائی گئی
(08.12.2013) نیلسن منڈیلا نے نسلی تعصب کی مخالفت میں 27 برس جیل میں گزارے تھے
(07.12.2013) کراچی میں جاری نواں بین الاقوامی کتب میلہ ۔ رپورٹ ۔ محمداحمد ترازی کراچی
(05.12.2013) پانچ دسمبر ۔شاعر انقلاب جوش ملیح آبادی کی 113 ویں سالگرہ ہے
(04.12.2013)  جمعیۃ علماء رامپور کی میٹنگ کاشانۂ وفاء الرحمن جامعی میں
(02.12.2013) شاعری دِلوں کو جوڑتی اور آپسی رشتے مضبوط کرتی ہے : مست حفیظ رحمانی
(01.12.2013) سلام یا حسین (ع) کہنے والی قوم بے ضمیروں کو سلام کیوں کرے
(30.11.2013) پاک فوج کے نئے سربراہ جنرل راحیل شریف کی زندگی پر ایک نظر
(28.11.2013)  برطانیہ کے سر فرینک والٹر میسروی پاک فوج کے پہلے سربراہ تھے
(27.11.2013) رثائی شعری حلقے کے ممتاز شاعر رضا قیصر زیدی کی رِحلت
(26.11.2013) الجزائری خاتون سیاستدان ساتویں مرتبہ سیاسی جماعت کی سربراہ منتخب
(24.11.2013) امریکی تاریخ میں سب سے زیادہ ووٹ لینے والے ملک کے چار صدور
(23.11.2013) ذیابیطس کے مریضوں کے لیئے اہم معلومات۔ پہلی قسط۔از۔ڈاکٹر وجیہ الحسن بخاری
(21.11.2013) دنیا بھر میں ٹیلی ویژن کا عالمی دن 21 نومبر کو منایا جا رہا ہے
(20.11.2013) راولپنڈی سانحہ۔ حکومت پنجاب اس سازش میں شریک ہے؟ سید علی رضا نقوی
(19.11.2013) ضروری ہے کہ اسوقت جوش نہیں ، ہوش سے کام لیجئے ۔از۔۔ سبط علی
(19.11.2013) مکہ مکرمہ میں غسل کعبہ کی روح پرور تقریب، اہم شخصیات کی شرکت
(18.11.2013) کربلا رسوم و روایات کا نام نہیں بقائے انسانیت اور استحکام دین کا نام ہے
(15.11.2013) ڈاکٹر نیاز حسین ھمدانی کی دعوت فکر حسینی کا ایک باب
(12.11.2013) تاریخ بکے ھوۓ مورخین سے بھری پڑی ھے۔۔۔عطیہ زیدی



 
تمام خبریں  
تازہ ترین   
عالمی خبریں   
اردو کالم/ مضامین/تجزیات   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا    
پاکستان/ بھارت   
کھیلوں کی خبریں   
.رپورٹس /ملٹی میڈیا   
انتخاب و اعلانات   
مناف گیلری  »
اردو،انگریزی،پنجابی ادب   
انٹرویوز،شخصیات   
شوبز /سائینس/ عجائبات   
International   
Pak/India/Gulf   
News Views,Sports,Reports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں