|
حضرت فاطمہ زہراء پچیسویں قسط از شمس جیلانی
31.07.2010, 01:19am , ہفتہ (GMT+1)
شمس جیلانی
السیدہ (٢٥) ہم گزشتہ مرتبہ حضرت سیدہ سلام اللہ علیہا کے ارشاد ات پیش کرتے ہو ئے نمبر ارشاد نبر٥ تک پہو نچے تھے اب آگے بڑھتے ہیں۔ (٦)جب اللہ سبحانہ تعالیٰ نے یہ دیکھا کہ تمام اقوام بہت سے فرقوں میں بٹ گئیں ہیں اور باہمی اختلافات کی وجہ سے وہ خندق ِ آتش کے کنارے پہونچ چکی ہیں اور بت پرستی جیسے قبیح فعل میں مبتلا ہیں،نیز یہ کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کو اس کی تمام نشانیوں کے با وجود سب جھٹلا رہے ہیں۔ تو اللہ سبحانہ تعالیٰ نے میرے والد ِ محترم (ص) کو بطور نبی (ص) مبعوث فر مایا۔ اور انہوں (ص) نے اپنی( خداد صلاحیت کی بناپر ) رہنما ئی فرمائی اور تاریکی کو اجالے سے بدل دیا اوردلوں اور آنکھوں کو جلا دی تاکہ وہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کا ادراک کر سکیں ۔ (٧) میرے والدِ محترم(ص) اپنی رہبرانہ صلاحیتوں کے ساتھ اٹھ کھڑے ہو ئے اور لوگوں کو توہم پرستی اور گمراہی کی دلدل سے نکال کر اندھیرے سے اجالے میں لاکر ایک مضبوط دین پر قائم کردیا۔ (٨) تم پر اللہ کے بندے ہو نے کی بنا پر یہ فرض عائد ہو تا ہے کہ میرے والد (ص) نے جو تمہیں نہی عن المنکر کا سبق دیا ہے جو تمہارے پاس امانت ہے ا س پر قائم رہ کر اوروں تک مناسب اور موزوں طریقہ سے دین پہنچا واور اس کے دین کا پر چار کرو۔ (٩) اے اللہ کے بندو! یادرکھو صرف اللہ ہی ہادی ِ حقیقی ہے ( ہدایت صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے) جس نے تم میں ایک نبی (ص)مبعوث فرما یا جس نے دین تم تک پہنچادیااور اس نے اب یہ ذمہ داری تمہیں سونپی ہے۔ تمہارے در میان جیتی جاگتی کتاب ِ اللہ قر آن کی شکل میں موجود ہے جس میں سے ہدایت کی کر نیں چھن چھن کر آرہی ہیںاور تمام راز ِ حیات ظاہر کر رہی ہیں جو کہ بنی نوع ِ انسانی کی دنیوی اور ابدی حیات اور بھلا ئی کے لیئے ہیں ۔وہ اندھیروں سے روشنی کی طرف لے جا نے والی ہے اور تمہیں (اسی کتاب میں ) اللہ سبحانہ تعالیٰ نے دوسروں کے لیئے اپنا سفیر بنا یا ہے۔ (١٠ )کتاب اللہ، ماننے والوں کو اللہ کی خوشنودی کی طرف لے جاتی ہے غور سے وہ ہدایات پڑھو تاکہ تم فلا ح پاسکو جس میں تواتر کے ساتھ اللہ کی وحدانیت کے ثبو ت اور شہا دتیں موجود ہیں اور تمہارے لیئے اس کی (عملی) تفسیر اسوہ رسول (ص) کی شکل میں موجود ہے۔جس میں تمام سوالوں اوربحثوں کا جواب بھی موجود ہے اور وہ الوہی اصول بھی ہیں جو تمہیں گمرا ہی سے بچا کر سراط ِ مستقیم کی طرف رہبری کرتے ہیں۔ (١١) اللہ نے تمہارے لیئے وحدانیت کو لازم کر دیا ہے تاکہ تم شرک اور الحاد بچ سکو (١٢) اور تمہیں انا اور غرور سے دور رہنے کی راہ بھی دکھا دی ہے۔ (١٣ )اور زکات اس لیئے تم پر فرض کی کہ تاکہ تمہاری روح کوپاکیز گی عطا کرے اور تمہارے رزق میں پاکی اورافزائش ہو۔ (١٤ )اور روزے اس لیئے فرض کیئے کہ تم اللہ سے مخلص رہو اوردین کو مضبوطی سے پکڑے رہو(کیونکہ اس پر کوئی گواہ نہیں ہو تا یہ اللہ اور بندے کے در میان راز ہےکے اس نے روزے کی تمام شرا ئط پوری کیں یا نہیں اور وہ صرف اللہ کی محبت میں اس کی خوشنودی کے لیئے روزےرکھتا اسی لیئے اللہ نے فر مایا کہ روزہ میرے لیئے ہے اور میں اس کا اجر دونگا) (١٥)اور اللہ نے حج اس لیئے فرض کیا اس میں تمام ارکان ِ دین یکجا ہیں جو دین کی تقویت کا با عث ہیں ۔ (١٦) اور تمہیں عدل کا اس لیئے حکم دیا کہ تم آپس میں بھا ئی بن کر رہواور تم میں اخوت قائم ہو۔ (١٧)اور میرے والد نے ( بحکم خدا ئے تعالیٰ)اپنی عترت کو تم پر نگہباں بنا یا تاکہ تم ان کی اطا عت کرکے رہنما ئی حاصل کرتے رہو۔(اس میں خم غدیر کے قیام اور اس حدیث کی طرف اشارہ ہے کہ جس میں حضورعلیہ صلواةو السلام نے ۔ فرمایا کہ میں تم میں کتاب ِ اللہ اور اپنی عترت تم پر نگراں بنا کرچھوڑے جا رہا ہو جو اس وقت تک تمہاری رہنما ئی اور نگہبانی کرتی رہے گی تاوقتیکہ وہ مجھ سے حوضِ کوثر پر نہ آملیں) (١٨) اللہ نے سلام کی سر بلندی کے لیئے جہاد تم پر فرض کیا ہے تاکہ منافقین اور کفار کا تدارک ہو سکے۔ (١٩)اور اللہ نے صبر کو تمہارے لیئے استقامت کے حصول اور ثواب کا ذریعہ بنا یا۔ (٢٠) اور اللہ سبحانہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو( بلا تفریق مذہب اور ملت) بھلا ئی کا حکم اور برا ئی سے منع فرمایا ہے۔ (اس میں اس آیت کی طرف اشا رہ ہے کہ دیکھو تمہیں کسی قوم کی دشمنی عدل سے نہ روکدے (٢١)اللہ نے والدین پر احسان کو اپنے غضب سے بچنے کے لیئے ڈھال قرار دیا ہے ( یاد رہے کہ قر آن نے جہا ں اپنے حقوق کا قر آن میں ذکر کیا ہےوہیں فورا ً والدین کے ساتھ سلوک کا حکم بھی دیا ہے ) (٢٢) اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اپنے اہل ِ خاندان اور رشتہ داروں سے سلوک کا اس لیئے حکم دیا ہے کہ تمہاری زندگی میں اضافہ کرے ۔ (٢٣) اور اللہ سبحانہ تعالیٰ نے قتل،ِ ناحق پرخون بہا سے خونریزی کو روک دیا ہے (٢٤) اللہ نے اپنے اوپر عفو اور در گزر کو لازم کر لیا ہے اور وہ عفو در گزر پسند فر ما تا ہے۔اس آیت کی طرف اشا رہ ہے جو شیطان نے کہا تھا کہ میں تیرے بندوں کو ہر طرح بہکا ونگا اور اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فر مایا تھا ۔ میں بھی جو شخص مرتے دم تک توبہ کر لے گا اسے معاف کر دونگا۔ (٢٥) اللہ نے یہ حکم دیکر کہ پورا تولو اور وزن میں ہیر پھیر نہ کرو۔ تول میں بے ایمانی کے امکان کو ختم کر دیا۔ (٢٦)اللہ نے شراب کو حرام قرار دیا اس لیئے کہ وہ برا ئیوں کی ماں ہے تاکہ تم برا ئیوں سے دور رہو۔ (٢٧)اللہ نے زنا کی کسی پر تہمت لگانے کو حرام قرار دیا تاکہ لوگ اس کے غضب سے بچ سکیں ۔ (٢٨) اللہ نے چوری سے اس لیئے روکا (اس پر حد جاری فر ما ئی ) کہ معاشرے سے یہ برائی دائمی طور پرختم ہو جائے۔ (٢٩) اللہ نے شرک کو سختی سے منع فرمایا تاکہ لوگ موحد بن کر خلوص کے ساتھ صرف اس کی عبادت کریں۔ (٣٠) اس نے تم ہی میں سے ایک نبی (ص)بھیجا اس لیئے کہ وہ تمہاری پریشانی دور کرے اور تم کو بھکاری سے معزز بنا دے۔ (وہ) وہ بہت رحم کرنے والا اور بخشنے والا ہے۔ اگر تم غور کرو تو تم اس نتیجہ پر پہونچ سکتے ہو کہ وہ تم میں سے کسی خاتون کاباپ نہیں سوائے میرے، اور نہ ان کا عمزاد (حضرت علی کرم اللہ وجہ ) میرے علاوہ تمہاری خواتین میں کسی کے شوہر ہیں ( یہ فضیلت صرف اللہ نے مجھے ہی عطا فرما ئی ہےکہ اللہ کےنبی (ص) میرے والدِ محترم ہیں۔ اور اللہ کے ولی میرے شوہر ہیں)اور مجھے ایک کا قرب اور دوسرے کو ساتھی بناکرر فاقت عطا فر ما ئی) انہوں (ص) نے تمام زندگی وحدانیت کو قائم رکھنے میں صرف کی اور وہ یکسر اللہ کے ہو رہے اور شرک سے نہ صرف منہ پھیر لیا بلکہ اس وقت تک برسرِ پیکار رہے جب تک کے موت نے نہ آلیا۔ انہوں نے دین کی تبلیغ دلا ئل اورانتہائی حکمت کی ساتھ کی اور انہوں نے یہ جدو جہد اس وقت تک جاری رکھی جب تک کہ انہوں نے شیطان کو اونٹ کی کو ہان سے بھگا نہیں دیا اور تمام کفارکو (عرب سے) شکست دیکر پسا نہیں کر دیااور تمام بتوں کو منہدم کر دیا۔ اور فضا میں مشرکانہ نعروں کے بجا ئے اللہ اکبر کی صدا ئیں نہ گونجنے لگیں ۔ (باقی آئندہ)
|