19.06.2013, 02:53pm , بدھ (GMT+1)
 
پاکستان نے متعدد مرتبہ افغان جنگ کے جلد از جلد خاتمے کی اہمیت واضح کی ; پاکستانی لڑکی رواں ہفتے ایک ایکسچینج پروگرام کے تحت امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی جا رہی ہیں۔ ; رواں سال مارچ میں پاکستان اور ایران کے صدور نے طویل عرصے سے تعطل کے شکار اس گیس پائپ لائن منصوبے کا افتتاح کیا۔ ; ملازمین نے مظاہرے شروع کردیے ہیں اور آج سے ملک بھرمیں کلرکوں نے ہڑتال کی کال ; سپریم کورٹ کی جانب سے چیئرمین نیب کی تقرری کالعدم قرار دیئے جانے کے بعد فصیح بخاری نے نیب ہیڈ کوارٹرز میں افسران و عملے سے الوداعی ملاقات کی
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اردو،انگریزی،پنجابی ادب » نثری تخلیقات
 

نزاع از سرور غزالی
25.11.2009, 01:26am , بدھ (GMT+1)

سرور غزالی، برلن جرمنی
 

روزِ محشر، عذابِ برزخ، قبر میں سوالاتِ منکر نکیر وغیرہ جیسے تمام حالتوں کا تو اس نے سن رکھا تھا جس میںعالمِ نزاع سے گذر کر روح قفسِ عنصری تک پرواز کر نے کے بعد مختلف مدارج طے کر تی ہے۔ لیکن وہ جس حالت میں تھی اسے تو ان میں سے کسی میں بھی شمار نہ کیا جا سکتا تھا۔
نہ ہی شمشان گھاٹ کا الاﺅ، روح کا چکر یا پھر روح کا بھوت کی شکل میں بھٹکنا جیسے کسی عمل میں وہ خود کو پا رہی تھی۔
ماں اس کی عیسائی اور باپ ہندو تھا اور وہ خود مسلمان ہو گئی تھی کیونکہ اس کی پہلی محبت اسے ایک مسلمان کے قریب لے آئی تھی۔
اسپتال کے ” کمرہئِ انتہائی نگہداشت“ میں زیر ِعلاج اسکا تمام رابطہ ٹوٹ چکا تھا۔ نہ صرف تینوں مذاہب سے بلکہ دوست احباب سبھی ساتھ چھوڑ گئے تھے۔ کبھی کبھار کوئی ملنے آگیا تو ٹھیک ورنہ دن اوررات ایک جیسے گذررہے تھے۔ اسپتال کا چھوٹا سا کمرہ، مشینوں سے گھری۔۔۔وہ۔۔
مشینیں۔۔۔جن کے تار۔۔۔۔اس کے جسم اور مشینوں کے درمیان جڑے ہوئے تھے۔ ہر ایک مشین ایک اعضاءکو سہارا دے رہی تھی۔
  ایک مشین اس کی سانسیں درست رکھنے کی ذ مہ دار تھی۔ دوسری سرخ مشین جس سے نکلتے تار اس کے جسم سے جڑے تھے اس کے دورانِ خون کو متوازن رکھنے کاکام کر رہی تھی۔ کئی سوئیاں اس کے جسم میں پیوست تھیں، جنکے سرے پر لگیں نلکیاں ایک مشین سے جڑی تھیں ، یہ مشین اس کے گردے کا بدل تھی، چونکہ اس کے گردے ناکارہ ہوچکے تھے۔ الغرض اس کے جسم کا کوئی عضو بھی درست کام نہ کر رہا تھا۔ اور ہر ایک عضو کے لیے ایک مشین لگا دی گئی تھی۔
اس کمرے میں رکھی ساری مشینیں اور ان سے نکلتے تار،
ان کے جلتے بجھتے باریک باریک بلب، اسکرین پر دوڑتی لکیریں، ٹپ ٹپ گرتے اور جسم کی اتھاہ گہرائی میں غائب ہو جا نے والے قطرے ۔ ۔۔
بظاہر اسے زندہ ۔۔۔لیکن درحقیقت زندہ درگو کئے ہوئے تھے۔
 اس کی آنکھیں کھلیں ہوتیں، مگر بے نور۔۔۔وہ صرف ٹک ٹک دیکھ سکتی اور سن سکتی تھی۔ مگر احساسات۔۔۔عجیب پھیکے پھیکے سے تھے۔ گہرے کنوے میں اتری ہوئی آواز جسطرح اپنی ترواہٹ کھو چکی ہوتی ہو۔
اسے لگتا کہ اسکا جسم ایک گہرا کنواں ہے۔ جس میں سارے جذبات ، محسوسات اتر جاتے ہوں اور اسے صرف ہلکی سی ارتعاش ہی محسوس ہو تی ہو۔ اپنی اس کیفیت کو وہ کوئی نام دینے سے قاصر تھی۔
 اسے ان تمام تاروں۔۔۔نلکیوں اور مشینوں سے سخت نفرت تھی۔ اسے محسوس ہوتا تھا کہ یہ کسی پہرے دار کی طرحا س کی روح کی پہراداری کر رہے ہیں کہ کہیں اس کی روح جسم کی قید سے نکل کر آزاد نہ ہو جائے۔
 اس کا دل چاہتا کہ ان سارے تاروں کو کھینچ کر جسم سے الگ کر دے مگر اس کے ہاتھ اس کا ساتھ نہ دیتے۔
ایک دن اس کے پیر پر ایک مکھی جانے کہاں سے آکر رینگنے لگی۔۔۔پہلے تو وہ بہت خوش ہوئی۔۔مکھی کے رینگنے کو محسوس کر کے۔۔۔
مگر جلد ہی اس کی خوشی کافور ہوگئی۔۔وہ پیر یا ہاتھ ہلا کر مکھی کو اڑانے کی طاقت نہیں رکھتی تھی۔ اس کے دل میں ایک خواہش اٹھی ۔۔۔
کاش وہ اٹھ کر یا صرف سر اٹھا کر ہی دیکھ سکتی کہ کس طرح مکھی اس کے پیر پر گھوم رہی ہے۔ لیکن اس کی یہ خواہش بھی دل کی گہرائی میں ہی دم تو ڑ گئی۔۔۔
دل بھی خود سے چلنے سے معذور تھا۔ ایک مشین خون کے دورانیہ کو بحال کیے ہوئے تھی۔ شائید اسی لیے دل میں اٹھنے والی خواہشیں بھی بس دور سے آتی صدا کی مانند تھیں۔
اس کی سوچیں بھی اس کی سانسوں کی طرح الجھی الجھی تھیں۔
اس کی طبیعت سنبھلتی اور بگڑتی رہتی تھی۔ کبھی تو اسے پتہ ہوتا کہ یہ اسپتال ہے۔۔ اسکا کمرہ ہے جہاں وہ تقریباََ ایک سال سے زیرِ علاج تھی۔ ۔ ۔۔۔
پھر اس کی طبیعت ایسی بگڑتی کہ اسے کسی بات کا بھی احساس نہ رہتا۔
 کبھی اسے لگتا جیسے وہ ایک طویل خواب دیکھ رہی، بھیانک نہیں مگر کوئی خوشگوار بھی نہیں۔ عجیب کجروی سی پھیلی ہوئی تھی۔ وہ نیندسے اٹھنا چاہتی مگر خواب کی کیفیت میں خود کو بے بس پاتی۔ جاگنے کی ہر کوشش ناکام ہو جاتی اور وہ چاہتی کے خواب کا سلسلہ ٹوٹ جائے۔۔۔مگر ایسا نہ ہوتا۔
اس کا شوہر ببچارہ رات دن اس کی تیمارداری، گھر اور بچوں کی دیکھ بھال میں ہی لگارہا تھا۔ شوہر سے بیوی کی حالت دیکھی نہ جاتی تھی۔
 ایک دن وہ ڈاکٹر سے الجھ پڑا ” کیوں میری بیوی کو اس اذیت میں مبتلا رکھتے ہو۔ آزاد کیوں نہیں کر دیتے اسے۔
ایک بلبل کی طرح قفس میں بند کر رکھاہے ، تم لوگوں نے“۔ وہ بولتا رہا۔
ڈاکٹر نے نہایت دھیمے لہجے میں جواب دیا :

 
” اگر میں آپ کی بات درست سمجھ پایا ہوں تو آپ چاہتے ہیں کہ ہم آپ کی بیوی کو مشین کے ذریعہ زندہ نہ رکھیں۔“
 ” ہاں اور نہیں تو کیا۔۔وہ جھلا ّ کر بولا۔ اگر آپ لوگ اسے صحت نہیں دے سکتے ہیں تو پھر اس کواس اذیت سے آزاد کر دیں۔
الگ کر دیں یہ ساری مشینیں اور ان کے تار اس کے جسم سے۔۔اگر اس کی زندگی ہوئی تو وہ جاگ اٹھے گی ۔۔۔ورنہ نہیں۔۔اس کی آواز بھرا گئی۔
” مسٹر راج ، ڈاکٹر بدستور دھیمے لہجے میں بولا۔ دیکھیں یہاں قانونی پیچیدگیاں ہیں۔۔۔۔
۔۔۔جب تک مریض از خود یہ لکھ کر نہ دے کہ وہ مشینوں کے سہارے زندہ نہیں رہنا چاہتا ہے تب تک ہم ڈاکٹر اس کے جسم سے مشین علیحدہ نہیں کر سکتے۔
 آپ جانتے ہیں کہ آپ کی بیوی ٹھیک ٹھاک ، چلتی پھرتی ہسپتال میں داخل ہوئی تھی۔ پہلے آپریشن کے بعد تیزی سے صحتیاب ہو رہی تھی۔
پھر ایک پیچیدگی کے بعد اسے ایک مشین کا سہارا لینا پڑا۔۔۔ پھر دوسری۔۔اور یہ سلسہ چلتے چلتے نوبت یہاں تک پہنچ گئی۔۔
کہ اب وہ نہ ان مشینوں سے نہ چھٹکا را پاسکتی نہ ہی ہم اسے آزاد کر سکتے ہیں۔۔۔ایسا کر نا قانوناََ جرم ہے“۔۔۔۔۔
راج سوچ رہا تھا کہ یہ مشینوں کا انسانوں سے انتیقام ہی تو ہے۔ کہ وہ انسانوں کو موت و زیست کے درمیان لا کھڑا کر دیتی ہے۔

                           ززز 


:دیگر مضامین
(12.10.2009) شکایت تحریر : سرور غزالی۔ برلن جرمنی
(09.09.2009) لذت ۔۔۔۔۔۔۔۔ افسانچہ۔سرور غزالی ۔ برلن جرمنی



 
تمام خبریں  
تازہ ترین   
عالمی خبریں   
اردو کالم/ مضامین   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا    
پاکستان/ بھارت   
کھیلوں کی خبریں   
.رپورٹس /ملٹی میڈیا   
انتخاب و اعلانات   
اردو،انگریزی،پنجابی ادب   
شاعری  »
نثری تخلیقات  »
انور ظہیر رہبر   »
رخسانہ ناز   »
زرقا مفتی ۔ پاکستان   »
سرور غزالی   »
ڈاکٹر بلند اقبال   »
آصف احمد بھٹی   »
خورشید عالم آرا   »
ابو طارق حجازی   »
نگہت نسیم   »
کتابوں پر تبصرے  »
یاد رفتگان  »
حمد،نعت،سلام،مرثیہ  »
مٹی کا سفر،اجرا،تبصرے  »
نگہت نسیم۔دو نئی کتابیں  »
انٹرویوز،شخصیات   
شوبز /سائینس/ عجائبات   
International   
Pak/India/Gulf   
News Views,Sports,Reports   
 
  انور ظہیر رہبر   
  مزید ++
  رخسانہ ناز   
  مزید ++
  زرقا مفتی ۔ پاکستان   
  مزید ++
  سرور غزالی   
  مزید ++
  ڈاکٹر بلند اقبال   
  مزید ++
  آصف احمد بھٹی   
  مزید ++
  خورشید عالم آرا   
  مزید ++
  ابو طارق حجازی   
  مزید ++
  نگہت نسیم   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں