میرے آنچل کے پلو میں بندھا
ہوا ہے
اسکی یاد کا بھیگا پل
پلکوں پر دن رات مچلتا رہتا ہے
نینوں
کے رستے سے بہتا وہ کاجل
جو میں نے اس کے آنے پر
آنکھوں میں کس شان کے ساتھ لگایا تھا
میری مُٹھی میں وہ لمحہ بند ہے اب تک
جب اس سے ہاتھ ملایا تھا
اور
پھر واپس جاکر جانے والے پردیسی نے
دو لفظ کا خط بھی لکھا نہیں
لگتا
ہے مجھکو سوچا نہیں
اب اس قُرب سے فرقت تک کے لمحوں میں
گاہے گاہے
پل
دو پل جو یاد اس کی آ جاتی ہے
صورت کُملا جاتی ہے
اور.پھر ماضی کے ان اندھے،گونگے،بہرے لمحوں کا
اک
دفتر سا کھل جاتا ہے
اور سارا کاجل آنکھوں میں گھُل جاتا ہے
جیون
کی اس دیمک ماری کتاب کو جب
ہو لے ہولے ورق ورق جو الٹتی ہوں
تو ذہن الجھ سا جاتا ہے
قُرب کے بیتے لمحے سوچ کے
دل سجناں گھبراتا ہے
جیون کی اس دیمک ماری
کتاب کا ہر اک باب الگ
الگ ہیں اسکی تعبیریں اور خواب الگ
بے چینی
ہے دل کی الگ
اور آنکھیں ہیں بے تاب الگ
سوت کی اَٹی کے قصے سے قصہ ء
کمخواب الگ
سوچتی ہوں ہر باب کتاب کا بند کرؤں اور سو جاؤں
اسکی نہیں ہو سکتی میں
تو
اپنے غم کی ہو جاؤں
ہر اک باب کتاب کا مجھ سے میرا جیون مانگتا ہے
لیکن
میں نے اس جیون کے سارے جاگتے لمحوں کو
سجنا زندہ رکھنا ہے
پھر کیوں
نہ ہر اک باب کتاب کا آگ میں ڈال ہی دوں
ماضی سے کیوں حال کے لمحے الجھ گئے ہیں
اور میرے آنچل کے پلو میں بندھا
ہوا ہے
اسکی یاد کا بھیگا پل
اب بھی سچ ہے مہک رہا ہے