31.10.2014, 11:28am , جمہ (GMT+1)
 
داعش نے مغربی عراق میں مخالف قبیلے البونمر کے سردار حاتم الکعود کو اغوا کے بعد قتل کر دیا ۔ الانبار میں قبیلے کے سردار کا قتل نہیں ہوا ; مصر میں صدر عبدالفتاح السیسی نے ایک صدارتی فرمان جاری کیا ہے جس کے تحت ریاستی اداروں پر حملوں میں ملوث مشتبہ شہریوں کا فوجی ٹرائل ہو گا۔ ; لندن میں کشمیریوں کے حق میں ہونے والی ملین مارچ گو نواز گو ، گو زرداری گو اور گو بلاول گو کے نعروں سے گونج اٹھی۔ بلاول کو اسٹیج چھوڑنا پڑا ; مصرنےصحرائےسینامیں تین ماہ کےلیےایمرجنسی نافذکردی گئی ہے ۔فوجی چیک پوسٹ پر ایک کار بم دھماکےکے نتیجے میں تینتس فوجی مارے گئے ; کلکتہ ائیر پورٹ انتظامیہ کو خفیہ افراد کی جانب سے حملے کی دھمکی ملنے کے بعد بھارت کے چار بین الاقوامی ائیرپورٹس پر سیکیورٹی سخت کردی گئی 
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
ریڈیو پاکستان نے لاہور کے تاریخی ریڈیو اسٹیشن کا ایک اہم اسٹوڈیو اولیں ناشر اعلان قیام پاکستان مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے نام سے موسوم کر دیا
یکم نومبر دو ہزار بارہ عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ ہے۔آن لائن اردو اخبارات میں عالمی اخبار سنجیدہ صحافت کا معیار بن چکا ہے
برلین کے شہر کے وسط میں پانی سے چلنے والی گھڑی
عالمی اخبار نے آپ کے لیئے موسم کا حال پیش کیا ہے
 
.رپورٹس /ملٹی میڈیا
 

روز عاشور ، میدان کربلا اور نماز ۔ از : عبدالمناف ۔ برلین
17.12.2010, 10:04am , جمہ (GMT+1)

عبدالمناف۔ برلین

کسی بھی چیز کی پہچان اس کی ضد کو پہچان لینے کے بعد آسان ہوجاتی ہے‘ اگر سردی دیکھی ہی نہ ہو تو گرمی کی صحیح پہچان ممکن نہیں وغیرہ‘ اس کائنات کی تخلیق کا مقصد اللہ پاک نے اپنے کلام مجید میں مثلاً یوںبیان فرمایا ہے : اللہ الذی خلق سبع سمٰوٰت ومن الارض مثلھن ط یتنزل الامر بینھن لتعلموا ان اللہ علی کل شیء قدیر و ان اللہ قد احاط بکل شیء علما( الطلاق ۱۲) یعنی : اللہ ہی تو ہے جس نے سات آسمان پیدا کیے اور اُنہی کی مانند زمین بھی خلق فرمائی۔ ان میں خدا کا حکم نازل ہوتا رہتا ہے تاکہ تم جان لو کہ خدا ہر چیز پر قادر ہے اور بے شک خدا اپنے علم سے ہر چیز پر حاوی ہے۔ اور ایک حدیثِ قدسی ہے کہ کنت کنزا مخفیا فاحببت ان اعرف فخلقت الخلق لکی اعرف یعنی ۔ : میں ایک چھپا ہوا خزانہ تھا میں نے چاہا کہ پہچانا جاؤں ‘ اس آیت مبارکہ اور اس حدیثِ قدسی سے واضح ہو جاتا ہے کہ کائنات کی تخلیق کا مقصد اللہ پاک کے نزدیک یہی ہے کہ لوگ اُس صاحبِ عزت و جلال کو اُس کی قدرت کو جان لیں اُس کی ذات پاک کو پہچان لیں اس کی معرفت حاصل کرلیں‘ لہٰذا حصولِ معرفتِ الٰہی ہر انسان کا فرضِ اولین ہوا ۔ طوالت کے خدشہ کی بنا پر بات صرف اشارتاً ہی پیش کی جارہی ہے‘ عرض ہے کہ یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ خدا پاک کی ذات تو کیا ہم انسانوں کی عقل اُس کی مخلوق ہی کے احاطہ سے قاصر ہے‘ ہم اس کی نعمتوںکے شمار تک سے عاجز ہیںپھر بھی اُس ذات پاک کی معرفت ناگزیر ہے جس کی خاطر اُس نے اپنے لاریب کلام میں اپنی صفات بیان فرمائی ہیں‘ مطلب یہ ہوا کہ بات معرفتِ کُلّی (جو ناممکن ہے)کی نہیں بلکہ جُزوی معرفت کی بات ہے‘ اُسی قدر جتناخود اُس نے اور اُس کے ہادیان ؑبتایا ہے اور جتنا محدودعقلِ انسانی کا مظروف ہوسکتا ہے۔

ہمارے لیے اللہ ذوالجلال والاکرام کی نسبت‘ اس کے نمائندگان علیہم السلام کی معرفت قدرے آسان ہے‘ ان ذوات کی شناخت اصل مقصد کی جانب ایک زینہ کی حیثیت رکھتا ہے‘ خدا پاک ہی نے ان حضرات کو اپنے اور ہمارے درمیان ایک واسطہ اور وسیلہ بنایا ہے ‘ اسی لیے سیرت النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور سوانح ائمہ معصومین علیہم السلام سے واقفیت ہمارے لیے ناگزیر ہے‘ اور ساتھ ہی شیطان‘ جو خدائے رحمان کی ضد ہے ، اور اس کے چیلوں کی بھی پہچان لازم ہے ۔ جناب رسالت مآب کی حالاتِ زندگی سے شناسائی کے ساتھ مشرکینِ مکّہ کے کم از کم اُن خاص افراد کی شناخت بھی ضروری ہے جنہوں نے آپ ؐ کی مخالفت میں پیش پیش تھے اور جنہوں نے آپ کو اور آپ ؐکے مشن کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا‘ اسی طرح جب بھی ہم کربلا کی بات کریں گے، امام حسین علیہ السلام کی معرفت کا باب کھولیں گے تو ہمیں یزید ، شمر ، ابنِ زیاد اور ملعونین کے باقی ٹولے کی بات بھی کرنی پڑے گی تاکہ حصولِ معرفتِ امام علیہ السلام سہل ہو۔
اللہ پاک اپنے کلام میں نمرود، شداد، فرعون اور سب سے بڑھ کر شیطان کے بارے میں اسی لیے ہم کو بتاتا ہے تاکہ ہم اس کے مقابلہ میں خدائے کریم کی عظمتوں کو کسی حد تک پہچان سکیںاور شیطان مردود کو، اُس کے چیلوں کو ، اس کے کردار کو اور خاص طور پر اس کے ہتھکنڈوں کو سمجھ لیں تاکہ اس سے اپنا دفاع کر سکیں ‘ خود کو اور اپنے گھروالوں کو اس سے بچا سکیں۔

شیطان مردود کی چالوں کی ایک مثال یہ بیان فرمائی : انما یرید الشیطٰن ان یوقع بینکم العداوۃ و البغضآ ء فی الخمر والمیسر و یصد کم عن ذکر اللہ و عن الصلٰوۃ ج فہل انتم منتہون یعنی : شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ تمہارے درمیان عداوت بغض اور دشمنی ڈلوائے شراب اور جوئے سے اور خدا کی یاد سے اور نماز سے تمہیں روک دے ، تو کیا تم اس سے رُک جاؤ گے(المائدہ ۹۱)۔ اس آیت مبارکہ سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ عداوت ‘ بغض ‘ شراب اور جوأ وغیرہ شیطانی چیزیں ہیں اور ذکرِ خدا او ر نماز رحمانی احکام کی تعمیل کا نام ہے۔ اس طرح کی بہت سی آیات قران پاک میں موجود ہیں‘ مگر اس مردود کے جس ہتھکنڈے کی طرف آپ کو متوجہ کرنا مقصد ہے اس کی بابت مندرجہ ذیل آیات میں خبردار فرمایا گیا ہے ، مثلاً : النسأ۱۱۹، الانعام ۴۳، الانفال۴۸، التوبہ ۳۷، الحجر۳۹، النحل ۶۳، النمل۲۴، محمد ؐ ۱۴ وغیرہ وغیرہ‘ ان تمام آیات میں شیطان کے شاید سب سے بڑے ہتھیار کی نشاندہی فرمائی گئی ہے اور وہ یہ کہ وہ ملعون انسانوں کو اُن کے اعمال بھلے کر کے دِکھاتا ہے‘ اعمال کو زینت دے کر دِکھاتا ہے۔

مثلاً جب بھی کوئی انسان کوئی اچھا کام کرتا ہے کوئی نیکی کرتا ہے تو فوراً شیطان اس کے دل میں اس بات کا وسوسہ ڈالتا ہے کہ یہ کام تو بہت ہی اچھا کیا (میں نے) یا میں تو بہت اچھا انسان ہوں وغیرہ‘ یعنی وہ اچھا عمل شیطان نے مزید اچھا کرکے زینت دے کر اس کے سامنے بار بار پیش کرتا ہے جس کے نتیجہ میں وہ انسان خود ستائشی اور خود پرستی کا شکار ہونے لگتا ہے ۔ اس غلط فکر کے چند اثرات جہاں مثلاً احساسِ برتری ‘ دوسروں کو کم تر سمجھنا اور احسان جتانا وغیرہ ہو سکتے ہیں وہاں سب سے بڑا اور حتمی نقصان یہ ہے کہ انسان اپنے اعمال کو کافی سمجھ لیتا ہے ‘ یہ سوچ نیکیوں کی انجام دہی میں مخل ہوجاتی ہے‘ انسان اچھائی اور نیکیوں سے دور ہونا شروع ہوجاتا ہے اور واجبات کی بجاآوری سے باز آجاتا ہے اور یہی شیطان کا ہدف ہے۔

اسی لیے کہا جاتا ہے( اور اس بات کو ان دلائل کے بعد سمجھنا بہت آسان ہے) کہ ’’ ہر وہ بات ‘ ہر وہ خیال‘ ہر وہ کتاب‘ ہر وہ دلیل‘ ہر وہ نکتہ‘ ہر وہ نقطۂ نظر‘ ہر وہ مکتبۂ فکر‘ ہر وہ شخص‘ ہر وہ قوم‘ ہر وہ مسلک‘ ہر وہ مذہب وغیرہ وغیرہ وغیرہ جو حصولِ معرفتِ پروردگار سے‘ حق کی پہچان کی کوششوں سے‘ انبیا اور ائمہ علیہم السلام کی معرفت سے‘ صراط مستقیم پر گامزن ہونے کی خواہش سے‘ سفینۃ النجات کے ادراک کی کاوشوں سے‘ جنت کی لالچ سے ‘ جہنم کے خوف سے ‘ حلال کی سعی سے‘ حرام سے اجتناب سے‘ اپنی اصلاح سے‘ یادِ خدا سے‘ ذکرِ خدا سے‘ دُعا سے‘ نماز سے‘ روزہ سے‘ زکوٰۃ، خمس ‘ حج، جہاد ، امربالمعروف و نہی عن المنکر، تبّرا و تولیٰ سے وغیرہ وغیرہ یعنی عقل و شعور کے استعمال سے روکے اور بُرائی کی جانب مائل کرے وہ یقینی طور پر بغیر کسی شک و شبہ کے صرف اور صرف منجانبِ شیطان ہی ہے۔‘‘

اب ہمارے لیے اپنا احتساب کرنا آسان ہو گا ۔ کتنے بہانے، کتنے حیلے، کتنے دلائل اور کتنی ایسی باتیں وغیرہ ہم کو اس سلسلہ میں سُنائی جاتی ہیں اور کتنے خود ہمارے ہی ذہن کی مخترعات ہوتی ہیں‘ جو ہمارے لیے واجبات اور فرائض کی انجام دہی میں کوتاہی کا باعث بنتی ہیں ‘ مگر شیطان اپنے کام میں کبھی کوتاہی نہیں کرتا وہ اپنے کام کو مکمل کرنے کی حتی الوسع کوششیں کرتا ہے یہ جاننے کے باوجود کہ اس کی مبازرت خالقِ کائنات کو ہے(یقیناً معرفتِ الٰہی بھی رکھتا ہے) یعنی ایک یقینی شکست اورحتمی ناکامی کے پیشِ نظر ہونے کے باوجود عمل پیہم کا یہ عالم ہے کہ یہ نامُراد انبیاعلیہم السلام تک کو ورغلانے کی کوششوں سے باز نہیں رہتا ۔

 اور ایک ہم ہیں کہ نہ معرفت رکھتے ہیں اور ہی اس کے حصول کی خواہش اور کوشش ہے‘ وقت ہی کہاں مِلتا ہے کہ انسان دینی کُتب وغیرہ پڑھے وغیرہ‘ اگر ہمیں رب العالمین کی ذرا سی بھی معرفت ہوتی تو کم از کم نماز جیسی عبادت جس کی قران پاک میں سب سے زیادہ تاکید کی گئی ہے کے بارے میں کسی کو کچھ کہنے سُننے کی ضرورت ہی نہ رہتی ، قران مجید میں اللہ سبحانہ کا فیصلہ ہے کہ : ان الذین یستکبرون عن عبادتی سید خلون جہنم دٰخرین یعنی : جو لوگ ہماری عبادت سے اکڑتے ہیں وہ عنقریب ہی ذلیل و خوار ہو کر یقیناً جہنم واصل ہوں گے(المؤمن ۶۰) یعنی عام عبادات سے روگردانی کی وجہ تکبربیان فرمائی ہے اور اس کی یقینی سزا جہنم میں عنقریب داخلہ ہے تو نماز جیسے بنیادی ترین عبادت میں کوتاہی کا انجام کیا ہو گا ؟ ایک عالمِ دین نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ ایک سجدے سے انکار پر صدیوں کا عبادت گزار شیطان ملعون بن گیا تو جن کے ذمہ بے شمار قضا سجدوں کاحساب ہے اُن کو فکر کرنی چاہیے۔ جس عبادت کے بارے میں پیغمبرِ اکرمؐ کے بے شمار احادیث میں سے ایک یہی کافی ہے کہ نماز مؤمن اور کافر کے مابین حدِ فاضل ہے اور امام علی ؑ کا جنگِ صفین میں باطل سے جہاد کی بنیادی وجہ نماز ہی کو بیان فرمانے کے علاوہ اپنی شہادت تک نماز کو ہمارے لیے باعثِ اتباع واضح کرنا ہی بہت کافی ہے ‘ اور کربلا ؟؟؟

شیعہ سُنی میں سے آج کون ہے جو اس انتہا کے ظلم و ستم کی تفاصیل سے واقف نہیں ایک ہزار چار سو سال بیت چکے یہ روداد بیان کی جا رہی ہے دُھرائی اور سُنائی جا رہی ہے‘ غیر مسلم تک حق و باطل کے اس بھیانک معرکے کو سُن چکے ہیں ‘ بچہ بچہ جانتا ہے کہ امام پاک ؑ کا مقصد کیا تھا ، آپ کی شہادت کس مقصد لیے اور کیسے واقع ہوئی ؟ صرف عاشور ہی کے واقعات پر غور کریں تو دیکھیں گے کہ شبِ عاشور حسین اور اصحابِ حسین کاعبادت میں بسر کرنا اور خاص اس کے لیے ایک روز کی مہلت لینا ہے‘ روزِ عاشورکا آغاز شبیۂ رسول شہزادہ علی اکبر کی آذان سے ہے، نمازِ ظہرین کے اہتمامات دیکھیں ‘ اصحابِ حسین ؑ کا اشقیا کے تیروں کو اپنے جسموں پر روک کر امام کی نماز میں خلل نہ پڑنے دینا دیکھیں‘ اور آخر میں شہادت سے چند لمحات پہلے تک سجدئہ شکر کو قضا نہ ہونے دینا دیکھیں‘ اپنی بہن اُم المصائب ؑ کو امام کی اس وصیت پر اگر ہم سوچ بچار کر لیں کہ ’’ بہن نمازِ تہجد میں مجھے نہ بھولنا‘‘ پھر ان تمام واقعات کے بعد امامِ چہارم بیمارِ کربلاں کی حیاتِ مبارک کو دیکھیں اور سیّد الساجدین اور زین العابدین جیسے القاب کی وجہ تسمیہ ہی پر غور کر لیں ہم ذرا بھی اِن نکات پر فکر کریں تو یہ بات بآسانی سمجھ سکتے ہیں کہ ’’نماز دین کا ستون ہے ‘‘ (حدیثِ نبویؐ)۔ انبیا اور ائمہ دین کو بچاتے رہے اور ابلیس ملعون کا مقصد دین کی تباہی اور نابودی ہے جس کے لیے ضروری سمجھتا ہے کہ یہ ستون گِرا دیا جائے۔ افسوس ہے کہ شیطان جادئہِ حق کے راہیوں کو ورغلانے میں کامیاب ہو رہا ہے ، نماز سے روکتا جا رہا ہے، اس کا کام ہی صراط مستقیم پر گامزن انسانوں کو بہکانا ہے ‘

قران مجید میں اس کے اللہ تعالیٰ سے کیے وعدہ کا ذکرہے مثلاً قال فبعزتک لا غوینہم اجمعین ٭الا عبادک منھم المخلصینیعنی : (شیطان نے کہا کہ ائے میرے رب)تیری عزت کی قسم [معرفت رکھتا ہے] ضرور میں ان سب کو گمراہ کروں گا سوائے ان کے جو ان میں سے تیرے خالص عبادت گزارہیں(صٓ ۸۳،۸۲)۔ مطلب یہ ہوا کہ مخلصین ‘ خالص عبادت گزار بندے ہی گمراہی سے محفوظ رہ سکتے ہیں ۔

شیطان کے سر پر سینگ نہیں‘ اُس کی دُم نہیں ‘ اس کی شکل لال اور اس کی لمبی سی زبان نہیں ‘ اس طرح تو ہر ایک اُس سے ہشیار ہو جائے گا ، وہ تو انتہائی کائیاں ہے اور بہت معتبر ، بے قصور اور بھولی سی شکل میں ہمارے سامنے آتا ہے ‘ اور ہمیں نیک اعمال سے روکنے کے لیے‘ جہنم کی جانب دھکیلنے کے لیے انبیا اور ائمہ علیہم السلام کی باتیں کرتا ہے ‘ اگر یزید اور معاویہ کی بات کرے گا تو لوگ چوکنے ہو جائیں گے ، یہ مردود آیاتِ قرانی کی غلط تفاسیر ، جھوٹی احادیثِ نبوی ؐ اور ائمہِ معصومین علیہم السلام سے منسوب غلط روایات کو ذریعہ بناتا ہے ‘ ہمارا فرض ہے کہ اچھے بُرے کی تمیز ، حق اور باطل میں فرق‘ غلط اور درست کی شناخت میں بہت محتاط ہو جائیں ‘ ہم انسان اشرف المخلوقات تب ہی کہلوائیں گے اگر اس خطرناک ترین دشمن کے مقابلہ میں اللہ پاک کی طرف سے مِلے واحد ہتھیار یعنی عقل کا استعمال برابر رکھیں‘ ہدایت جیسی مِلی عظیم نعمت کی قدر کریںاور کفرانِ نعمت سے باز رہیںاور دعاؤں کا سہارا لیںجو ہمیں ائمہ معصومین نے تعلیم فرمائی ہیں ۔

آخر میں چند نکات کی طرف توجہ مبذول کرنی ہے

٭محبت کا دعویٰ، عملی ثبوت کا محتاج ہوتا ہے‘ مثلاً ہم اگر اپنی اولاد سے جب تک وہ سلوک نہیں کریں گے جووالدین کے فرائض میں شامل ہے اور ان کی محبت کا ثبوت ہوتا ہے تو سگا بیٹا بھی ہماری محبت کے دعوئے کو رد کردے گا ‘ اللہ ، رسولِ ؐخدا اور اہلِ بیت ؑ سے محبت کا دعویٰ اُن کی اطاعت اور اتباع کے بغیر بلا شبہ جھوٹا ہی ہے‘ اللہ پاک نے اعلان فرمایا قل اطیعوا اللہ و الرسولج فان تولوا فان اللہ لا یحب الکافرین یعنی : ائے میرے حبیب آپ فرما دیجیے کہ اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو ، پھر اگر یہ لوگ اس سے سرتابی کریں تو (سمجھ لیں کہ ) خدا کافروں کو ہر گز دوست نہیں رکھتا(اٰل عمران ۳۲)۔

٭معصومین علیہم السلام کی شفاعت سے مُراد یہ ہے کہ اگر ہمارا عقیدہ درست ہے تو روزِ محشر اعمال کی کمی بیشی (جو سوائے معصومینؑ کے ہر ایک کو درپیش ہوگی) ان ہستیوں کی سفارش سے دور کر دی جائیں گی ۔ یہ سوچ قطعاً غلط ہے ‘ خام خیالی ہے کہ ہم اس زندگی میںدانستہ مرتکبِ گناہان رہیں‘ واجبات کو بھول جائیں اور صرف مثلاً روزِعاشور کے ماتم کی وجہ سے شفاعت کے مستحق قرار پائیں گے( اس سلسلہ میں احادیثِ معصومین بھی پیش کی جاتی ہیں مثلاً جس نے غمِ حسین ؑمیں ایک آنسو بھی بہایا اس پر دوزخ حرام ہے وغیرہ‘ ہر بات مشروط ہوتی ہے ‘ شرائط کو ختم کرکے بات بیان کرنی مطالب کو بگاڑنے کے سوا کچھ نہیں‘ اور ایسی احادیث سے حرام کی حلت یا واجبات کی عدم اہمیت ہرگز ثابت نہیں ہوتی )۔

اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ محمد ؐ و آلِ ؑ محمد کے صدقے میں ہمیں اور ہماری اولادوں کو شرِ شیطان سے محفوظ فرمائے ، ہم سب کوقران پڑھنے اُسے سمجھنے اس کے مطابق زندگی گزارنے اور محمد ؐ و آلِ ؑ محمد کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفق عطا فرمائے ۔ ۔ ۔ آمین۔


:دیگر مضامین
(15.12.2010) لندن میں سید عشرت حسین کے گھر پر مرثیہ نو تصنیف کی مجلس عزا
(03.12.2010) علی لکھیں تو اترتا ہے نور لفظوں میں ۔ مصوری ۔ سید مصباح جیلانی
(01.12.2010) ایسی کمال کی اختراعات و ایجادات صرف پاکستان کا حصہ ہیں
(30.11.2010) دنیائے موسیق کی دو لافانی آوازیں۔لتا اور محمد رفیع
(28.11.2010) میں کب سے اس کنارے کھڑے تمہاری منتظر ہوں
(18.11.2010) چوہدری رحمت علی کاایک سوبارہواں یوم پیدائش
(17.11.2010) عید الضحیٰ اور فلسفۂ قربانی ۔از؛ محمداعظم عظیم اعظم
(16.11.2010) دنیا بھر میں مسلمان خواب خلیل کی یاد میں عید قربان منا رہے ہیں
(15.11.2010) حجاج آج وقوف عرفات کے دوران خطبہ حج سنیں گے
(14.11.2010) یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے ۔از؛ ڈاکٹرغلام نبی فلاحی
(11.11.2010) ترک رہنما مصطفی کمال اتاترک کی 72 ویں برسی
(09.11.2010) مفکر پاکستان اور فلسفی شاعرعلامہ ڈاکٹر محمد اقبال کا یوم پیدائش۔۹ نومبر۔
(03.11.2010) عالمی اخبار . دوسری سالگرہ پر پیغامات تہنیت .از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی
(31.10.2010) اپنے ساتھیوں کے شکریے جو لوح دل پر لکھے میں نے ! از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(30.10.2010) عالمی اخبار کے اجرا پر پہلا اداریہ اور انٹرویو ۔از؛نگہت نسیم
(30.10.2010) عالمی اخبار کے بلاگ نگار اور ان کی کاوشوں کی تفصیل ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(29.10.2010) کتنے ملکوں کے لوگ عالمی اخبار کا مطالعہ کرتے ہیں۔از؛ڈاکٹر نگہت نسیم
(27.10.2010) ایک جہاز جو کار بھی ہے اور ایک کار جو جہاز بھی ہے
(25.10.2010) معروف ادیب،شاعر ،محقق اشفاق حسین سے پروفیسر پروازی کی گفتگو
(22.10.2010) عالمی اخبار کے لیئے منفرد لہجے کے شاعر سجاد حیدر کی ریکارڈ کروائی غزلیں



 
تمام خبریں  
تازہ ترین   
عالمی خبریں   
اردو کالم/ مضامین/تجزیات   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا    
پاکستان/ بھارت   
کھیلوں کی خبریں   
.رپورٹس /ملٹی میڈیا   
بیاد سید عاشور کاظمی  »
محرم الحرام اسپیشل   
اردو،انگریزی،پنجابی ادب   
انٹرویوز،شخصیات   
شوبز /سائینس/ عجائبات   
International   
Pak/India/Gulf   
News Views,Sports,Reports   
 
  بیاد سید عاشور کاظمی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں