07.09.2010, 11:32am , منگل (GMT+1)
 
پاکستان کے علاوہ اکثر مسلم ممالک اور مغربی ممالک میں مقیم مسلمانوں نے شب قدر میں عظمت اسلام کے لیئے دعائیں کیں ; محمد عامر پر تاحیات پابندی نہیں لگنی چاہیے۔لوگارٹ ; لکی مروت میں خودکش حملہ آور نے بارود سے بھری گاڑی سٹی پولیس اسٹیشن سے ٹکرادی ; کوئٹہ میں یوم القدس کے جلوس میں جاں بحق ہونے والے افراد کو کوئٹہ کے مختلف قبرستانوں میں سپرد خاک کردیا گیا۔ ; دادو کے سپریو بند میں شگاف پڑنے کے بعد پانی کا ریلا جوہی شہر میں داخل ہوگیا میہڑ ڈوبنے کا خطرہ بھی برقرار
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
برلین کے شہر کے وسط میں پانی سے چلنے والی گھڑی
غدیر خم کے موقع پر پیغمبر اسلام (ص) کا خطبہ
عالمی اخبار نے آپ کے لیئے موسم کا حال پیش کیا ہے
امریکی سینیٹر ایڈورڈ کینیڈی کی نہایت باوقار آخری رسومات
Michael Jackson Memorial Live on Aalmi Akhbar تصاویر اور وڈیوز۔مائیکل جیکسن کا سفر آخرت۔
 
رپورٹس /ملٹی میڈیا
 

سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضا۔ سفر نامہ۔ چوتھی قسط
28.07.2010, 04:07pm , بدھ (GMT+1)

قمر رضا اسلام آباد
تیسری قسط کا اختتام

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک لمحے کو میں رکا اور نظر بھر کے جو دیکھا تو دل نے خوشی کے آنسوؤں کی اک جھڑی اسی ایک لحے کے اندر اندر جاری کی اور ہم دونوں ایک دوسرے کو خوشی اور حیرت کی ملی جلی کیفیت سے دیکھنے لگے۔ ہم نے دیکھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیا دیکھا؟ اسکو فی الحال اٹھا رکھتے ہیں اور پہلے چلتے ہیں خیابان عدا لتخواہ اور اس سے متصل شاہراہوں پر جو ہمیں بحثیتِ سیاح دعوتِ نظارہ دے رہی تھیں۔ کہنے کو تو ایران کی سڑکیں پاکستان کی سڑکوں کی مانند اس طرح کشادہ نہیں ہیں لیکن کہیں پر بھی ٹریفک جام، بدنظمی،لڑائی،ٹکراﺅیا پیدل چلنے والوں کے لیے کسی قسم کی دِقت زیر ِ مشاہدہ نہیں آئی۔

خیابانِ عدا لتخواہ کے کناروں پر چھوٹی چھوٹی مگر خوبصور ت دکانیں ہمیں اپنی جانب مائل کرنے لگیں۔ گو کہ دکانوں کا حجم انتہائی مختصر تھا مگر مالکان نے کمالِ مہارت سے سامان کو ایسے مترتب کیا تھا کہ تنگی کا احساس بالکل بھی نہیں ہورہا تھا۔ اور مجال ہے جو دکان کا سامان اپنی متعین کردہ حدود سے تجاوز کرے اور پیدل چلنے والوں کی راہ میں حائل ہو۔ ہم فٹ پاتھ پر ٹہلتے رہے اور دکانوں میں سجی ہوئی چیزوں کا مشاہدہ کرتے رہے۔ ایک چیز اور جس نے ہماری توجہ اپنی جانب کھینچی، وہ وہاں کے نوجوان جوڑے تھے جو ایک دوسرے کے ہاتھ تھامے مشغولِ آمد و رفت تھے ۔ ایسے مناظرتو ہم نے انگریزی فلموں میں دیکھےتھے، مگر یہاں صورت کچھ یوں مختلف تھی کہ لڑکیاں مکمل محجوب تھیں۔

 دوسرے یہ کہ تقریباً سب ہی نوعمر تھے۔ یہ اپنے معاشرے کے موازنے میں ایک واضح اور نمایاں فرق تھا ۔ بعد میں معلومات حاصل کرنے پر معلوم ہوا کہ یہاں کی ایک نسل تو انقلاب اور جنگ کی نذر ہو چکی ہے۔ اب یہ نوجوان نسل ہے جسکے کاندھوں پر اپنے ملک کی بقا اورپوری دنیا کی مخالفت کا بار ہے۔ مگر عجیب لوگ ہیں! فکر نہ پریشانی، خوف نہ ملال۔ اور ہو بھی کیوں؟ کہ نوجوانوں کو حکومت کی مکمل حمایت حاصل ہے اور جہاں وہ انہیں ہر میدان میں آگے لے جانے میں کوشاں ہے، وہیں انہیں شادی کرنے کے لیئے بھی ترغیب دیتی ہے۔ اور ساتھ ہی روزگار کے مواقع اور گھر بسانے کے لیئے موزوں قرضے بھی۔ شادی سے پہلے فریقین کا طبی معائنہ اور ماہرِ نفسیات سے رجوع کرنا قانون کا حصہ ہے۔

 ہمارے لیے یہ ایک حیران کن منظر تھا کیونکہ اپنے وطن میں اگر کوئی جوڑا اس طرح کرے تو یا تو وطن کے سجیلے جوانوں کے آوازے نہیں چھوڑتے یا وطن کے فرض شناس پولیس والے کہیں نہ کہیں سے برآمد ہوکر نکاح نامہ طلب کرنے لگتے ہیں۔

دوسرے یہ بات یوں بھی عجیب محسوس ہوئ کیونکہ اپنے ملک میں یہ وقت عموماً کھانے اور ٹی وی کے لئے مختص ہوتا ہے مگر ان دو کاموں کی یہاں کچھ خاص وقعت نظر نہیں آئ ۔ ہمارے ھندوستانی و پاکستانی طرزِ معاشرت میں باورچی خانہ محور کی حیثیت رکھتا ہے اور اس محور سے متصل ایک خاتون ہے جسکی زندگی کا واحد مقصد اپنے پکوانوں کو لذیذ سے لذیذ تر بنانے کے لئے ہر منزل سے گزر جانا ہے اور اس چکر میں وہ خود گھن چکر ہو جاتی ہے۔ اس پر طرفہ تماشا یہ کہ اہلِخانہ کا نہ شکم سیر ہوتا ہے اور نہ ہی زبان کا چسکا پورا ہوتا ہے۔ برعکس اسکے، ایرانی معاشرے میں باورچی خانہ تو ہے مگر وہ جان کا مسئلہ نہیں ہے۔ وہ بالکل بے مزہ کھانا ایسے کھاتے ہیں جیسے ہم مرغِ مسلم یا پلاؤ بریانی۔ عموماً وہ لوگ چلتے چلتے کسی بھی تندور سے کشتی نما نان اٹھا لیتے ہیں جو کہ ایک وقت کے کھانے کی حیثیت رکھتا ہے۔ اکثر تندور سرکاری ہیں جہاں روٹی بلا معاوضہ ملتی ہے۔ الغرض وہاں کھانا، مسئلہ نہیں ہے۔

 اتنے سارے بلکہ تقریباً سبھی جوڑوں کو  یوں ہاتھ تھامے چلتے پھرتے دیکھ کرہم نے بھی ہمت پکڑی اورایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر چہل قدمی کرنے کا پہلا تجربہ کیا جو کہ انتہائی خوشگوار تھا۔

اسی طرح ہم ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے  تہران کی اپنی پہلی سرد رات میں سڑک پر اِدھر اُدھر پھرتے رہے اور بالآخر اسی پارک جاپہنچے جہاں شام گزاری تھی مگر یہ پارک رات کی تاریکی میں بھی کلی طور پر روشن تھا اور ڈھیروں خوبصورت رنگ برنگے فوارے اس کے حسن میں مزید اضافہ کررہے تھے۔ تھوڑی دیر پارک میں گزارنے کے بعد ہم واپس اپنی قیام گاہ کی جانب چل پڑے کہ اب سفر کے اگلے مرحلے کا آغاز ہونے میں تھوڑی ہی دیر رہ گئی تھی۔

کمرے میں پہنچ کر اپنا سامان سمیٹا اورا ستقبالیہ پر آکر بیٹھ گئے ۔فرودگاہ جانے کےلئے ٹیکسی پہلے ہی سے تیارکھڑی تھی ۔ڈرائیور نے سامان گاڑی میں رکھا اور ہم عملے سے خدا حافظ کر کے باہر نکلے ۔ایک دفعہ پھر دروازے کی بالائی جانب نگاہیں اٹھائیں ،مسکرائے اور گاڑی میں بیٹھ کر فرودگاہ کی جانب چل پڑے۔

ائر پورٹ ہم قبل از وقت ہی پہنچ گئے تھے۔ مہرآباد ائر پورٹ کہنے کو تو وہاں کا ڈومیسٹک ائر پورٹ تھا، مگر کسی بھی طور دنیا کے کسی بھی جدید ترین بین الاقوامی ائر پورٹ سے کم نہ تھا۔ ہم لاوئنج میں بیٹھے اعلانات کو توجہ سے سننے میں مشغول تھے کہ کب ہماری پرواز سے متعلق اعلان ہو اور ہم جہاز کی جانب چلیں۔ اب مزید انتظار ہو نہیں پا رہا تھا۔ سو ہم نے بے چینی کے عالم میں چہل قدمی شروع کر دی اور اڑان کے وقت کی تصدیق کرنے انفرمیشن کاوئنٹر پہنچے۔ زائرہ نے وہاں پر موجود ایک افسر لڑکی سے گفتگو شروع کی جبکہ میں ارد گرد کا جائزہ لینے لگا۔

 اچانک میری نظر افسر کی پشت کی جانب دیوار پر پڑی تو میں ایک لمحے کوٹھٹک گیا۔ اب کی بار میں نے زائرہ کا بازو ہلا کر اسکی توجہ وہاں مائل کی جہاں میں دیکھ رہا تھا تو وہ خود بھی متوقف ہو گئ اور اس نے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ ہم دونوں واپس بینچ پر آکر بیٹھ گئے اور اللہ تعالی کا شکر ادا اور اپنی قسمت پر رشک کرنے لگے۔ اسی دوران ہمارے لئے اعلان ہوا اور ہم ایسے جہاز کی جانب لپکے جیسے کوئی بچہ پہلی بار جہاز کی سواری کرنے جا رہا ہواور خوشی سے پھولا نہ سما رہا ہو۔

لاہور سے تہران والے جہاز کے برعکس یہ والا جہاز مسافروں سے کچھا کھچ بھرا ہوا تھا اور مزید مسافر بھی آئے چلے جارہے تھے ۔ میں اور زائرہ اپنی متعین کردہ نشستوں پر بیٹھ کر اُڑان کا انتظار کرنے لگے۔ اب ذرا تھکن اور نیند کے آثار نمایاں ہورہے تھے۔ میرے ساتھ والی نشست ہنوز خالی تھی ۔تھوڑی دیر بعد ایک باوقار صاحب تشریف لائے اور مجھ سے اس نشست پر بیٹھنے کی اجازت چاہی۔۔۔ میں بھلا کون تھا اجازت دےنے والا! بہرحال میں نے اشارے سے انہیں بیٹھنے کو کہا۔

معلوم ہوا کہ وہ نشست انہیں کی تھی مگر اخلاق کے تقاضوں کو مد ِ نظر رکھتے ہوئے انہوں نے پہلے سے موجود افراد سے اجازت طلب کرنا اپنا فرض سمجھا ۔ کیا کہوں کہ ہم تو یہاں کے ستائے ہوئے لوگ تھے جہاں آپکو اپنی ہی نشست تک سے اٹھوا دیا جاتا ہے (یہ مبالغہ آرائی نہیں) ۔۔۔ پیٹی کسنے کے بعد ان صاحب نے خاموش بیٹھنا مناسب نہ سمجھااور مجھ سے  انگریزی میں گویا ہوئے ۔ اب میں بھی مکمل طور پر ان کی جانب متوجہ ہوا اور سلام کرنے کے بعد ان سے گفتگو کا آغاز کیا۔ معلوم ہوا کہ وہ صاحب(جن کا نام پروفیسر عباس ہے) تہران یونیورسٹی کے”روابطِ بین الملل" کے پروفیسرہیں اور سابقاًمانچسٹر یونیورسٹی میں بھی اسی شعبے کے پروفیسر رہ چکے تھے۔ تہران کے ہی رہنے والے تھے اور آجکی پرواز سے خود بھی مشہد زیارات کے لئے تشریف لے جارہے تھے ۔ یہ ایران میں کسی ایرانی سے پہلی مرتبہ انگریزی میں گفتگو کا پہلا تجربہ تھا جس نے بہت متاثر کیا۔

 وہ جہاندیدہ شخصیت مختلف موضوعات پرکمال کی گفتگو کرتی رہی۔ یہ بات مزید باعث حیرت تھی کہ وہ ایرانی صاحب مجھ سے زیادہ میرے وطن کے متعلق باخبر تھے۔

انہی دنوں جمہوری اسلامی ایران کچھ نئی پابندیوں کا شکار ہوا تھا اور ساتھ ہی اس دنیا کے خود ساختہ ٹھیکیدار کی جانب سے پے در پے حملوں کی دھمکیاں بھی مل رہی تھیں۔ میں خود ان تمام معالات کو انتہائی دلچسپی سے مطالعہ کر تا تھا اور حالات کی سنگینی کے بارے میں متجسس بھی تھا ۔ یوں میں ایک اور لحاظ سے خوش قسمت ٹھہرا کہ اس عالم میں مجھےاس میدان کا ماہر بھی میسر آ گیا تھا ۔ چنانچہ میں نے ان سے اس بابت دریافت کیا اور پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے اپنی تشویش سے آگاہ بھی کیا ۔ پروفیسر عباس صاحب مسکرائے اور میرا حوصلہ بڑھانے کے انداز میں گویا ہوئے کہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ، کیونکہ ہم خود پریشان نہیں ۔ ان پابندیوں کو ہم خدا کی رحمت سمجھتے ہیں کہ جس شعبہ پر پابندی لگے، ہمیں اسکو سیکھ کر اس میں خود کفیل ہونے کا موقع ملتا ہے ۔ اور جہاں تک رہی بات حملوں کی تو یہ ایک چوہا ہے جو اچھلتا رہتا ہے ۔ اس سے زیادہ اسکی اوقات نہیں۔ اتنے کٹھن حالات میں اس قوم کا اس درجہ اطمینان دیکھ کر میں خود بھی مطمئن تو ہوا مگر حیرت کے ساتھ ....

پچاس منٹ کی مسافت اسی طرح باتوں باتوں میں گزرگئی اورسر زمینِ مشہد پر اترنے کا اعلان ہوا۔ اعلان میں جو بات قابل ِ ذکر تھی ، وہ خواتین کا اسلامی اصولوں کے مطابق مکمل محجوب ہونے کی درخواست تھی ۔ جیسے ہی ہم جہاز کے خارجی دروازے پر آئے ،ٹھنڈی ہوا کے تُندو تیز جھونکوں نے استقبال کیا ۔ سیڑھیاں اُتر کے سب سے پہلا کام ہم نے جو کیا وہ اپنے دستی بیگ سے جیکٹس نکال کر پہننے کا تھا کہ ایک ہی جھونکے نے آنکھیں کھول دی تھیں۔ پروفیسر صاحب ہم سے الوداعی ملاقات کرکے آگے چل پڑے اور ہم بھی قطار میں لگ کر باہر کی جانب روانہ ہوئے۔ جب بس نے ہمیں دالان کی جانب اتارا تو ایک اور نئے اور انوکھے تجربے کا سامنا ہوا۔ وہ یہ کہ ایک ہجوم تھا جو بس سے اُترنے والے مسافروں پر پل پڑ رہا تھا۔یہ منظر دیکھ کر ہم پریشان سے ہوگئے کہ بوقتِ روانگی ہوائی اڈے پر کمال کا نظم و ضبط تھا اور بمشکل گھنٹے بھر میں یہ کیا ہوگیا! موقع کو غنیمت جانتے ہوئے میں نے کونے میں کھڑے ہوئے پروفیسر صاحب سے اس بابت دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ چونکہ آج شب ِ جمعہ ہے اورآخر ہفتہ بھی ہے اس لئے تمام ایران سے زائرین زیارت کےلئے مشہد تشریف لاتے ہیں۔ صرف آج کی رات عام لوگوں کے لیے لاﺅنج کھول دیا جاتا ہے تاکہ وہ زائرین کو وصول کرسکیں۔

 وہ لوگ بڑھ بڑھ کر آنے والے مُسافروں کو گلے لگا رہے تھے چُوم رہے تھے اور ان کا سامان اٹھانے میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کررہے تھے ۔ یہ سب اس لئے تھا کیونکہ زائرین مہمانِ امام (ع) کا درجہ رکھتے ہیں اور مشہد کے رہنے والے ان زائرین کی خدمت کو اپنے لے باعثِ نجات گردانتے ہیں ۔ ہم تو صرف اظہارِ حیرت ہی کر سکے۔ عوام کے اس اژدھام میں سے اپنا راستے بناتے ہوئے ہم بڑی مشکلوں سے باہر نکلے اور ٹیکسی کرکے اپنی اگلی منزل ، زائر سرائے آل ِ عمران کی جانب چل پڑے۔

مشہدِ مقدس کی سر زمینِ تقدس مآب پر یہ ابتدائی لمحات ایک عجیب سُرورومستی میں ڈوبے ہوئے تھے ۔ دن بھر کی تھکان،نیند کا غلبہ،مشہد پہنچنے کی خوشی او ر گھرسے دورر پہلی رات گھر کی یاد......

بقولِ شاعر

یہ سرد رات ، یہ آوارگی ، یہ نیند کا بوجھ
ہم اپنے شہر میں ہوتے ، تو گھر گئے ہوتے  

(جبکہ اصلاً آج ہی تو اپنے شہر میں تھے)

 ان سب احساسات نے طبیعت کو یکسر خاموش کردیا تھااور ہم دونوں علٰیحدہ علٰیحدہ اپنی اپنی سوچوں میں گم کھڑکی سے باہر دیکھتے جارہے تھے ۔ اور ٹیکسی تیر کی طرح تیزی سے خالی سڑک پر دوڑی چلی جارہی تھی۔ اچانک زائرہ , اس سفر کی میری رھبرنے خاموشی کو توڑا اور گویا ہوئی کہ چند لمحوں میں روضہ مبارک امام (ع) آپکی نظروں کے سامنے ہوگا ۔ سوچ لیں کیا مانگنا ہے کہ روضہء مبارک پر پہلی نظر پڑتے ہی جو مانگا جائے مولا(ع) ضرورعنایت فرماتے ہیں ۔ میرے دل کی دھڑکن بڑھنے لگی اور مجھ پر ایک عجیب کپکپی کی سی کیفیت طاری ہوگئی ۔ سردی میں مزید سردی کا احساس بڑھنے لگا۔ اس سے قبل کہ میں کچھ کہتا، ٹیکسی نے ایک موڑ مڑا اور میری نظروں کے سامنے وہ منظر تھا جو آج بھی میرے قلب وزہن پر نقش ہے اور انشاءاللہ تا دمِ حیاتِ ظاہری اور حیاتِ اصل میں بھی نقش رہے گا۔ ایک لمحے کےلئے جیسےکائنات کا نظام رک گیا ہو.....میری روح مشلُول ہوگئی ہو..... ۔ میری نظروں کے سامنے وہ منظر تھا جس کےلئے پوری زندگی انتظار کیا تھا اوروہ اس طرح سے آن ِ واحد میں۔حاصل ہوگیا؟
 
مجھے اپنی آنکھوں کے مشاہدے کا یقین نہ ہوا اگرچہ اس وقت عین الیقین کی منزل پر فائز تھا ۔ میں پلک جھپکے بغیر تکتا بلکہ منظر میں جذب ہوتا چلا جا رہا تھا

کیفیت بالکل اس سیاح کی سی تھی جسے اسکا گائیڈ باتوں مں لگا کر کسی خوبصورت گوشے میں لے جائے اور اچانک سے اسے اس منظر کی جانب نگاہ اٹھانے کو کہے جو اس جگہ کا حسین ترین منظر ہو اور اب تک اسکی نظروں سے دانستہ پوشیدہ رکھا گیا ہو اور سیاح وہ منظر دیکھ کر مبہوت رہ جائے ۔ لیکن یہاں پر میں دنیا کا خوش قسمت ترین سیاح تھا کہ میری نظروں کے سامنے کسی جگہ کا نہیں ، بکہ اس کائنات کا حسین ترین منظر تھا۔

اس منظر کا جاہ و جلال مجھ سے برداشت نہ ہو سکا اور کاسہ ہائے چشم لبریز ہوگئےاورخاموشی کے ساتھ آنسوﺅں کی ایک ایک جھڑی نوکِ مژگاں سے روانہ ہوئی اور رُخساروں سے ہوتی ہوئی دامن میں فنا ہوگئی ۔

(محترم قاریئین! یہ سطور لکھتے ہوئے میں زمان و مکان کی فصیلیں توڑ کر روحانی طور پر اسی منظر میں مجذوب ہوں اور قلم سے لکھی گئ ان سطور کو آنکھوں کاپانی مسلسل گھول رہا ہے۔ “جاری ہے”۔

:دیگر مضامین
(28.07.2010) شب قدر کے بعد شب برات متبرک ترین رات ہے
(25.07.2010)  اٹھارہویں بین الاقوامی ایڈز کانفرنس ویانا میں ختم ہو گئی
(20.07.2010) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضا۔ سفر نامہ۔ تیسری قسط
(20.07.2010) سڈنی کے امام حسین سینٹر میں ''یومِ حسین'' پر شیخ ادریس الحسن
(18.07.2010) ولادت علمدار حسینی حضرت عباس،مولانا مرزا اطہر کا خطاب
(17.07.2010)  ولادتِ نواسہ رسول امام حسین علیہ السلام دنیا بھر کے مسلمانوں کو مبارک
(15.07.2010) مراکیوال سیالکوٹ میں اجتماعی شادیوں کی خصوصی رپورٹ
(14.07.2010) سویڈن میں مڈ سمر فیسٹویل یا وسط موسم گرما کا مقبول تہوار
(10.07.2010) سویڈن کے مشاعرے میں سامعین سے صفدر ھمدانی کی گفتگو سے اقتباس
(09.07.2010) ڈاکٹر نگہت نسیم کی ڈرانے دھمکانے'' کے موضوع پرایس بی ایس ریڈیو سے گفتگو
(06.07.2010) امام جعفر صادق علیہ السلام کی نیاز المعروف کونڈوں کی نیاز
(05.07.2010) ناتالی سیال سویڈن کی سیاست میں حصہ لینے والے نوجوان پاکستانی
(03.07.2010) ٹورنٹو میں مقیم قلم کار فاطمہ جبین کی عالمی اخبار کے لیئے منتخب کہانی
(01.07.2010) ایمسٹرڈیم میں محفلِ میلاد بسلسلہ ولادتِ امیر المومنین علی علیہ السلام
(30.06.2010) دریائے نیکر کے کنارے’’ جائے اقبال‘‘ پر محفلِ مشاعرہ



 
تمام خبریں  
اردو کالم   
عالمی خبریں   
تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا    
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
رپورٹس /ملٹی میڈیا   
بیاد سید عاشور کاظمی  »
شوبز /سائینس   
کھیلوں کی خبریں   
انتخاب و اعلانات   
رمضان اسپیشل   
اردو/انگریزی ادب   
News Views   
Pak/India/Gulf   
International   
 
  بیاد سید عاشور کاظمی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں