اسلام آباد میں طیارے کے حادثے میں جاں بحق ہونے والے مسافروں میں سے کسی کو وہم و گمان بھی نہیں تھا کہ کراچی سے اسلام آباد تک کا سفر ان کی زندگی کا آخری سفر ہوگا۔
وقت گرزنے کے ساتھ ساتھ جہاز کے ملبے سے ایک سے ایک اندوہناک کہانی نکل رہی ہے اور کئی طرح کے سوالات اٹھ رہے ہیں
غلام عباس اہلِ خانہ کے ہمراہ بیٹی کو رخصت کرنے کراچی گئےتھے۔ اسلام آباد سے عالمی اخبار کے نامہ نگار قمر رضا نے ایسے ہی ایک خاندان پر ٹوٹنے والے عذاب کا ذکر کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اسلام آباد میں رونما ہونے والے اندوہ ناک فضائی حادثے نے جہاں 152 خاندانوں میں با لخصوص اور پورے ملک میں بالعموم صفِ ماتم بچھا دی، وہیں ان گنت سوالات پسماندگان کے ذہنوں میں چھوڑ دئے۔
اپنی نوعیت کا یہ انوکھا سانحہ اس وقت پیش آیا جب ملک کے گوشے گوشے میں لوگ شبِ برات کی مقدس گھڑیوں کو الوداع کہہ کرہزار ہا امیدوں اور دعاؤں کے ساتھ اپنے نئے سال کے سورج کو خوش آمدید کہنے میں مصروف تھے۔ کسے خبر تھی کہ رات بھر مانگی گئی زندگی کی دعائیں یوں قبول ہوں گی کہ صبح ہوتے ہی اس فانی زندگی کی بساط لپیٹ دی جائیگی اور لافانی زندگی کا سفر شروع ہو جائیگا۔جاں بحق ہو جانے والوں کو بد قسمت، یا سفر نہ کرنے والوں کو خوش قسمت کہنے کا کوئی حق ہمیں حاصل نہیں ، کہ خداوندِ حیی و قیوم کی مرضی و مصلحت اس محدود دماغ کی طاقت سے باہر ہے۔ وہی جانے کہ بچ جانے والا خوش قسمت رہا کہ چل بسنے والا بد قسمت۔ یا معاملہ بالکل بر عکس! ایک ایک مسافر اپنے پیچھے کئی کئی کہانیاں چھوڑ گیا جو پسمانگان کے اپنے سفرِ آخرت پر عازم ہونے تک انکے ذہنوں میں تازہ رہیں گی۔ خود اس شہر کے باسی لمبے عرصے تک اس پہیلی کی الجھنوں سے اپنے آپ کو نہیں نکال پائیں گے۔ مارگلہ کی پہاڑیاں، جو اس شہر کا زیور اور اسکی پہچان تھیں، اب دیکھنے والوں کو ناگن کی مانند ڈستی نظر آرہی ہیں۔اور اسکے ڈسے ہوئے زخم کب اور کیسے مندمل ہوں گے، یہ خدا ہی جانے۔
جہاں کوچ کر جانے والوں کا اک سیل ہے، وہیں ان عازمینِ سفرِ آخرت میں اسلام آباد کی ایک معروف شخصیت جناب غلام عباس صاحب بھی ہیں جو اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ اپنی بیٹی کو رخصت کرنے کراچی گئے ہوئے تھے۔ بیٹی مائیوں بیٹھی تھی۔ دلہن کی سہیلیاں اور خاندان والے مہندی سجانے میں مصروف تھے۔ غلام عباس صاحب شادی کی مصروفیات میں سے چند گھنٹوں کا وقت نکال کر کچھ دفتری امور کو نمٹانے کے لیئے اسلام آباد جا رہے تھے اور شام ہی کی پرواز سے واپس کراچی آنے کا ارادہ تھا۔ اور اگلے دن اپنی بڑی صاحبزادی کو قرآن کے سائے میں اسکے اپنے گھر رخصت کرنا مقصود تھا۔ مگر قدرت کوبیٹی کا قرآن کے زیرِ سایہ نہیں، باپ کا زیرِ کفن رخصت ہونا منظور تھا۔ اسلام آباد کی فضائی حدود میں آنا تو قسمت میں تھا مگر سرزمین کو چھونااسکی مرضی نہ تھی۔ کارزارِ ہستی کے یہ تہ در تہ حجابات میں لپٹے ہوئے راز وہی جانے۔

جناب غلام عباس صاحب، دراصل غلامِ ابوالفضل العباس (ع) تھے جوہمہ وقت خدمتِ دین ومومنین میں سرگرداں رہتے تھے۔ پیشے کے اعتبار سے آرکیٹیکٹ تھے اور اسلام آباد کے سب سے بڑے اثناعشری مرکز ، الصادق کمپلیکس کے روحِ رواں تھے۔ایک پر خلوص عزادار جسکی بدولت راولپنڈی اسلام آبادکے مومنین کو دنیا بھر کے عظیم اور ممتاز علمائے کرام کے مواعظِ حسنہ سے فیضیاب ہونے کا موقع ملتا تھا، اب خود اپنے آقاوئں کے حضور پیش ہو گیا اور اپنے پیچھے صرف یادوں کا سلسلہ چھوڑ گیا۔ مرحوم نے فقط۵۰ برس کی عمر میں داعیءاجل کو لبیک کہا اور پسماندگان میں ایک بیوہ، ایک بیٹا اور دو بیٹیاں ربِ ذوالجلال کے سہارے چھوڑے ہیں۔ خدا کے حضور دعا ہے کہ وہ مرحوم کو جوارِ معصومین میں جگہ عطا فرمائے ، پسماندگان کو حسنِ صبر سے دامن گیر فرمائے اور اس عظیم دکھ کو کربلا کے درد سے ہم آہنگ کر کے صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔
عالمی اخبار کی تمام انتظامیہ جنا ب غلام عباس صاحب کے پسماندگان کے غم میں برابر کی شریک ہے اور ان سے فرداً رفرداً دلی تعزیت کرتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کراچی ایئرپورٹ پر ایئر بلو کی پرواز سے اسلام آباد روانگی سے قبل بیشتر مسافر انتہائی خوش و خرم تھے سوا ئے ان چند ایک کے جو اپنے عزیزوں کے جنازوں میں شرکت کے لئے جا رہے تھے۔
بدقسمت طیارے کے ان مسافروں میں گلشن اقبال کا وہ نو بیاتہا جوڑا نمایاں تھا جس کی صرف چاروز قبل 23 جولائی کو شادی ہوئی تھی اور جو ہنی مون منانے کے لئے اسلام آباد جا رہا تھا محمد اویس خان اور ان کی نئی نویلی دولہن روبینہ خاں نے روانگی سے چند گھنٹے قبل ہی رات دو بجے اپنے والدین اور دیگر رشتہ داروں سے الوداعی ملاقات کی تھی۔
ان کے علاو ہ یوتھ پارلیمنٹ کے چھ ارکان بھی روانگی کے وقت انتہائی خوش نظر آ رہے تھے ان میں یوتھ پارلیمنٹ کے وزیراعظم حسن جاوید خان وزیر اطلاعات سید رباب زہرہ نقوی اور اسپورٹس منسٹر پریم چند کے علاوہ ارسلان احمد ‘بلال جامی اور اویس میمن عتیق شامل ہیں۔
بدھ کی صبح ارسلان احمد کو ان کے والد اور والدہ ایئرپورٹ چھوڑنے آئے تھے اور اس الوداعی ملاقات میں ان کے ذہن کے کسی گوشے میں بھی یہ بات نہیں تھی کہ چند گھنٹے کے اندر ان کا لخت جگر انہیں داغ مفارقت دے جا ئیں گے کچھ ایسی ہی کیفیت تین بہنوں کے اکلوتے بھائی پریم چند کو کراچی ایئرپورٹ پر رخصت کر نے والوں کی ہے۔جن کی آنکھو سے سانحے کے بعد سے مسلسل آنسوﺅں کی جھڑی لگی ہوئی ہے
اسلام آباد میں مارگلہ کی پہاڑیوں سے ٹکرا کر تباہ ہونے والے جہاز ایئربس اے تھری ٹو ون کہلاتا ہے۔ ایئربس نامی کمپنی کا تیار کردہ یہ کمرشل مسافر طیارہ اے تھری ٹو زیرو فیملی سے تعلق رکھتا ہے۔ دنیا میں ایئربس تھری ٹو ون ماڈل کے طیارے نے پہلی پرواز گیارہ مارچ انیس سو تیرانوے کو کی۔ اس جہاز میں زیادہ سے زیادہ دو سو بیس مسافروں کے بیٹھنے کی گنجائش ہوتی ہے اور یہ جہاز اپنی فیملی کا سب سے بڑا جہاز تصور کیا جاتا ہے۔اس فیملی کے دنیا میں اب تک چار ہزار تین سو چھبیس طیارے تیار کئے جاچکے ہیں۔
کمپنی نے تھری ٹو زیرو میں نمایاں تبدیلیاں کرکے اے تھری ٹو ون ماڈل تیار کیا۔ ماڈل تھری ٹو ون جہاز آج بھی تیار کیے جارہے ہیں، رواں سال اب تک اس ماڈل کے اکتیس جہاز فروخت ہوچکے ہیں ایئر بس اے تھری ٹو ون فیملی کے دنیا بھر میں اب تک سولہ حادثات ہوچکے ہیں، جن میں چھ سو سینتیس افراد جاں بحق ہوئے
فضائی حادثے میں پائلٹ سمیت عملے کے تمام ارکان جاں بحق ہوگئےکراچی سے اسلام آباد آنے والی نجی ایئر لائن ایئر بلیو کے مارگلہ کی پہاڑیوں سے ٹکرانے کے نتیجے میں جہاز میں سوار کیپٹن سمیت تمام عملہ جاں بحق ہوگیا ایئر بلیو کے ذرائع کے مطابق ای ڈی 202جہاز کو کیپٹن پرویز اقبال چوہدری چلا رہے تھے جبکہ اس طیارے میں ایئر لائن کے کل چھ لوگ موجود تھے جوتمام کے تمام اس واقعہ میں جاں بحق ہوگئے جبکہ جاں بحق ہونے والوں میں جہاز کے فرسٹ آفیسر مجتدین ، ایئر ہوسٹس حنا عثمان ، ام حبیبہ اور جویریہ فراز شامل ہیں ۔
طیارے میں نوبیاہتا جوڑے سمیت 12 خوش قسمت افراد سوار نہ ہو سکےنجی فضائی کمپنی کے اسلام آباد میں تباہ ہونے والے طیارے میں ایکنوبیاہتا جوڑے سمیت 12 خوش قسمت افرادٹکٹ کنفرم ہونے کے باوجود سوار نہ ہو سکے ۔ ایئر پورٹ ذرائع کے مطابق ترکی سے کراچی کے راستے اسلام آباد آنے و الے طیارے میں ٹکٹ کنفرم ہونے کے باوجود 12افراد سفر نہ کر سکے جن میں ایک نو بیاہتا جوڑا بھی شامل ہے بتایا گیا ہے کہ حال ہی میں شادی کے بندھن میں منسلک ہونے والے راشد اور نداشمیم تاخیر سے ائیر پورٹ پر پہنچنے کی وجہ سے بد قسمت پرواز میں سوار نہ ہو سکے جبکہ دیگر خوش قسمت افراد بھی تاخیر سے ائیر پورٹ آمد یا دیگر وجوہا ت کے باعث طیارے میں سوار نہ ہوسکے۔
طیارے کے بدقسمت فرسٹ آفیسر کی یہ دوسری پرواز تھیکراچی سے اسلام آباد آنے والی نجی فضائی کمپنی'' ائیربلیو'' کے تباہ ہونے والے بدقسمت طیارے میں 146 مسافروں کے ساتھ عملہ کے چھ ارکان تھےـ جہاز کو 65 سالہ کپتان پرویز اقبال چوہدری اڑا رہے تھے جبکہ ان کے ساتھ مجتدین چغتائی فسٹ آفیسر تھے بدقسمت مجتدین چغتائی حال ہی میں ائیربلیو میں بطور پائلٹ بھرتی ہوئے تھے اور یہ ان کی بطور فٹ آفیسر دوسری ہی پرواز تھیـ کپتان اور فسٹ آفیسر کے علاوہ بدقسمت جہاز میں چار فضائی میزبان تھیں جن میں جویریہ فراز' ام حبیبہ' صنا عثمان اور ناہید بھٹی شامل تھیں ۔
طیارہ کا ملبہ مارگلہ کی پہاڑیوں میں جگہ جگہ بکھر گیاکراچی سے اسلام آباد آنے والا نجی فضائی کمپنی کے طیارہ کا ملبہ مارگلہ کی پہاڑیوں میں جگہ جگہ بکھر گیا جس کی وجہ سے امدادی ٹیموں کو انتہائی مشکل کا سامنا کرنا پڑاـ''ائیربلیو''کا طیارہ جس وقت مارگلہ کی پہاڑیوں سے ٹکرا کر تباہ ہوا اس وقت مارگلہ کی پہاڑیوں پر شدید بارش ہو رہی تھی اور سخت دھند چھائی ہوئی تھی جس کی وجہ سے امدادی ٹیموں کا اس جگہ تک پہنچنا مشکل نظر آ رہا تھا تاہم سی ڈی اے' ریسکیو 15 سمیت دیگر امدادی اداروں کے جوان اپنی جان پر کھیل کر انتہائی دشوار گزار جگہ تک پہنچےـ طیارہ کا ملبہ جگہ جگہ بکھر گیا اور اس میں آگ لگ گئی تاہم بارش کی وجہ سے طیارے کے ملبے کو لگی ہوئی آگ جلد بجھ گئ۔
فضائی حادثے کے بعد بے نظیر انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر رقت آمیز مناظرنجی ایئر لائن کے طیارے کے مارگلہ کی پہاڑیوں سے ٹکرائے جانے کے بعد بے نظیر انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر رقت آمیز مناظر دیکھنے کو ملے اور جہاز میں سوار مسافروں کے عزیز اوقارب و لواحقین غم سے نڈھال ہوتے رہے ۔ تفصیلات کے مطابق کراچی سے اسلام آباد آنے والی نجی ایئر لائن ایئر بلیو کے مسافروں کو لینے کیلئے کے عزیز واقارب بے نظیر انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر موجودتھے تاہم ایک گھنٹے کی تاخیر کے بعد جب انہیں معلوم ہوا کہ ان کے عزیزوں کا طیارہ مارگلہ کی پہاڑیوں سے ٹکرا گیا ہے تو ایئرپورٹ پر رقت آمیز مناظر دیکھنے میں نظر آئے اور لواحقین اپنے عزیزوں کے حوالے سے ایئرپورٹ کے مختلف دفاتروں سے اپنے عزیزوں کی خیریت دریافت کرتے رہے تاہم انہیں اس حوالے سے کوئی بھی اطلاع نہیں دی گئی تھی ۔
ابتدائی تحقیقات جاری ہیں جلد تفصیلات سے آگاہ کردینگے ، شاہد خاقان عباسینجی ایئر لائن ایئر بلیو کے چیئرمین شاہد خاقان عباسی نے ایئر بلیو طیارے کے مارگلہ کی پہاڑیوں سے ٹکرانے کے واقعہ پر انتہائی افسوس کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس واقعہ کی ابتدائی طور پر تحقیقات کی جارہی ہیں انہوں نے کہا کہ ایئر بلیو کا طیارہ مارگلہ کی پہاڑیوں سے ٹکرانے کا واقعہ انتہائی افسوس ناک ہے تاہم ابھی انہیں اس واقعہ کی زیادہ معلومات حاصل نہیں ہوئیں اور اس بات کا جائزہ لیا جارہا ہے کہ حادثہ کس وجہ سے پیش آیا ان کا کہنا تھا کہ وہ تمام معلومات اکھٹی کرنے کے بعد جلد اس کی تفصیلات سے میڈیا کو آگاہ کرینگے ۔