03.11.2026, 12:25am , منگل (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
ریڈیو پاکستان نے لاہور کے تاریخی ریڈیو اسٹیشن کا ایک اہم اسٹوڈیو اولیں ناشر اعلان قیام پاکستان مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے نام سے موسوم کر دیا
یکم نومبر دو ہزار بارہ عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ ہے۔آن لائن اردو اخبارات میں عالمی اخبار سنجیدہ صحافت کا معیار بن چکا ہے
 
رپورٹس/ملٹی میڈیا
 

لاہور میں عزاداری کی تاریخ(3)
01.01.2010, 01:05am , جمہ (GMT+1)

صفدر ھمدانی ۔لندن

             لاہور میں عزاداری کی تاریخ۔۔ 3

عباس نامور کا عَلَم لے جائیں گے۔۔۔۔ہم چاند میں حسین کا غم لے کے جائیں گے

عالمی سطح پرعزاداری کی تاریخ کے موضوع کی وسعت کا اندازہ اس ایک بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک برصغیر میں عزاداری کی تاریخ لکھنا میرے اپنے خیال میں ایک تنہا انسان کا کام نہیں اور اس کے لیئے محققین کی ایک جماعت کی ضرورت ہے۔ ایسے میں مرحوم شاہد نقوی کی تحقیقی کتاب‘‘عزاداری‘‘ کو دیکھ کر یہ یقین اور بھی پختہ ہوتا ہے کہ خالق لوح قلم ایسے کام اپنے چنیدہ لوگوں سے لیتا ہے۔

میں نے پچھلی قسط میں بھی یہ عرض کیا تھا کہ میں نے یہ مضمون دراصل لاہور کی عزاداری کی اجمالی تاریخ کے طور پرشروع کیا تھا لیکن نفس مضمون میں اس طرح محو ہوا کہ موضوع وسیع تر ہوتا چلا گیا لیکن اب طوالت سے بچتے ہوئے شعوری طور پر اس مضمون کو اس تیسری قسط میں ختم کر رہا ہوں اور گزشتہ قسط کے اختتام پر یہ عرض کر چکا ہوں کہ ‘‘اگلی یعنی تیسری قسط میں مضمون کو ختم کرنے کی کوشش کرؤں گا اور برصغیر کر چند اہم شہروں کے ساتھ ساتھ لاہور کی عزاداری کا ذکر ہو گا جو دراصل اس تحریر کا محرک ہے‘‘۔

بات چونکہ لاہورتک ابھی پہنچی ہی نہیں ہے اور ایسے میں پاکستان کے کچھ دیگر اہم شہروں کا تذکرہ بھی نہیں ہو پایا اس لیئے پاکستان کے کچھ علاقوں کا نہایت اختصار سے ذکر اور پھر اسی قدر اختصار سے ذکر بھارت میں عزاداری کا اور آخر میں لاہور کی عزاداری۔

برسبیل تذکرہ اتنا عرض کرتا چلوں کہ گزشتہ قسط میں تعزیہ داری کی جو بات کی تھی تو وہ بھی کوئی مکمل بات نہیں کیونکہ ابھی تو اس میں مجھے پنجاب،سندھ،سرحد، بلوچستان،شمالی علاقہ جات کے علاوہ بھارت میں اودھ،بیجاپور،گولکنڈہ اور بہار کے علاوہ بنگال میں تعزیہ داری کی بات کرنے کے علاوہ ان غیرمعمولی تعزیوں کا ذکر کرنا تھا جن میں موم کے تعزیے، صندل کی لکڑی کے تعزیے،جو اور چاول کے تعزیے،مور کے پروں کے تعزیے،سنگ مر مر،کاغذ،ابرق،کپڑے اور پھلوں سے تیار کیئے جانے والے تعزیے شامل ہیں۔

بشرط زندگی اگر اس موضوع پر بالتفصیل لکھنے کی مہلت اور توفیق ملی تو اس رُخ سے بھی تحقیق کو سامنے لایا جائے گا۔اس کے ساتھ سوز،نوحہ،مرثیہ اور ماتم بھی چونکہ عزاداری کا ہی حصہ ہیں اس لیئے ان موضوعات پر بھی تحقیقی کام باقی ہے۔

اگر برصغیر میں عزاداری کی بنیاد کا ذکر چند فقروں میں کیا جائے تو کہا جائےگا کہ عرب اور ایران کے بعد دنیا میں برصغیر ہی عزاداری کا سب سے بڑا مرکز رہا اور یہاں اس کا آغاز دکنی ریاستوں گولکنڈہ اور بیجاپور سے ہوا اور اسمیں شاہان اودھ کے علاوہ بنگال کے نوابوں کا کبھی  اہم کردار رہا جبکہ پنجاب میں عزاداری کے فروغ میں یہاں کے سادات کا بڑا عمل دخل ہے۔

سندھ کے علاقے میں یہ تاریخ نہایت قدیم ہے اور کہا جاتا ہے کہ مولا علی کے عہد خلافت میں سندھ کا ایک حکمران شنسب مسلمان ہو گیا تھا اور مولا علی نے اسے اسکی سلطنت کے ساتھ بحال رکھا اور اب یہ شنسب پہلا شخص تھا جس کا پورا خاندان موالیان علی میں سے تھا اور بنو امیہ کے عہد میں بھی یہاں محبت اہلبیت روشن تھی۔

اسی طرح سندھ کی عزاداری کی تاریخ میں فاتح سندھ حارث بن مرہ العہدی کے نام کے علاوہ ایک ایسی سندھی خاتون کا بھی نام آتا ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ علی ابن الحسین امام زین العابدین کے حبالہ نکاح میں تھیں اور جنکے بطن سے زید شہید پیدا ہوئے تھے۔

اسی طرح عزاداری کے فروغ میں برصغیر کے درویشوں اور صوفیوں کا بھی بہت بڑا کردار ہے جو اپنے طور پر ایک الگ موضوع ہے۔اسی طرح برصغیر میں مغلیہ عہد میں بھی عزاداری کو وسعت ملی۔1832میں لکھنؤ کے ایک رئیس حسن علی کی انگریز بیوی مسز میر حسن علی کی ایک تاب شائع ہوئی جسمیں انہوں نے اسوقت کے محرم اور عزاداری کا ذکر کیا ہے۔

جسٹس مرتضیٰ حسین کا ایک مضمون 1996میں نیا دور لکھنؤ میں شائع ہوا تھا جس میں انہوں نے تحقیق کے ساتھ یہ بتایا تھا کہ یہاں پر عزاداری ایودہیا کی اس متنازعے مسجد سے شروع ہوئی تھی جو پچھلے چند برس میں خوب خبروں میں رہی ہے اور اسی کے چبوترے پر تعزیہ بنا کر رکھا جاتاتھا جو فیض آباد میں عزاداری کی ابتدا تھی جسکے بعد 1764میں نواب صفدر جنگ کی اہلیہ نے امام خانہ اور مسجد تعمیر کروائی۔فیض آباد کا دوسرا تاریخی عزا خانہ نواب شجاع الدولہ کی اہلیہ کا ہے جسے امام باڑہ بہو بیگم کہتے ہیں۔اسی طرح جواہر علی خان، نواب سرفراز الدولہ اور حسن رضا خان کے عزا خانے بھی تاریخی ہیں۔

عزاداری کا اہم ترین مرکز اودھ تھا جہاں حکمران اور عوام دونوں عزاداری کے فروغ کی کڑیاں ہیں اور خاص طور پر اودھ کے حکمرانوں کا کردار ناقابل فراموش ہے۔اس ضمن میں واجد علی شاہ اور آصف الدولہ کے نام قابل ذکر ہیں۔لکھنؤ کے معروف عزا خانوں میں امام باڑہ آصفیہ، امامباڑہ حسین آباد، امامباڑہ شاہ نجف، امام باڑہ جنت نشین و سبطین آباد، امام باڑہ قاسم علی خان، امام باڑہ زین العابدین خان، امام باڑہ راجہ جھاؤ لال، امامباڑہ ملکہ زمانیہ،  امامباڑہ ولایتی محل،  امامباڑہ مغل صاحب،  امامباڑہ آغا باقر خان، حسینہ تقی صاحب،  امامباڑہ میر باقر سوداگر،  امامباڑہ ناظم صاحب،  امامباڑہ افضل محل،  امامباڑہ ملکہ آفاق اور اسی طرح کوئی چالیس عزا خانے تاریخی ہیں جن میں سے متعدد آج بھی محرم کے ایام میں سوز،نوحے،مرثیے اور ماتم کی صداؤں سے گونجتے ہیں۔

جنوبی ہند میں دکن، حیدر آباد، گولکنڈہ، بیجاپور اور مشرقی ہند میں بنگال، کلکتہ، بہار، پٹنہ، عظیم آباد اور پھر گوالیار۔محمود آباد، جاورہ اور پٹیالہ کی ریاستیں بھی عزاداری کا مرکز رہی ہیں۔ محمود آباد میں راجہ صاحب محمود آباد کے خاندان نے اسمیں قابل ذکر کردار ادا کیا ہے۔

1947میں پاکستان کی تقسیم سے قبل تک عزاداری کا یہ اثاثہ مشترک تھا لیکن آزادی کےبعد عزاداری کے بڑے مراکز میں کراچی، حیدر آباد، لاہور، ملتان، راولپنڈی، جھنگ، فیصل آباد، بہاولپور، میانوالی، بھکر، سرگودھا اور سرحد میں پشاور، ہنگو، مردان۔ ڈیرہ اسماعیل خان، پارہ چنار اور شمالی علاقہ جات میں گلگت، سکردو اور لداخ کے علاوہ متعدد دیگر چھوٹے بڑے شہر شامل ہیں۔

میں نے سندھ کے حوالے حضرت علی عہد خلافت کا ذکر کیا تھا تا ہم 1954میں ماکلی کے قدیم قبرستان سے 133ہجری کے کچھ سکے کھدائی میں ملے تھے جن پر خانوادہ رسالت کے امام جعفر صادق کا نام کندہ تھا۔ ملتان میں عزاداری کی تاریخ 512ہجری تک جاتی ہے جن غزنوی عہد میں سید جمال بہرام شاہ ملتان آئے جو شاہ گردیز کے نام سے موسوم ہوئے اور آج بھی شاہ گردیز کی عزاداری تاریخی اور منفرد ہے۔

مجھے محرم 2007میں ملتان میں عشرہ محرم میں مرثیہ نو تصنیف پڑھنے کا اعزاز ملا جہاں شاہ گردیز کے تاریخی امام باڑے میں بھی مرثیہ پڑھا اور اس کے علاوہ حویلی مرید اور چند دیگر اہم مقامات کے علاوہ مظفر گڑھ میں مرثیہ پڑھنے کا موقع ملا۔

یہیں میری ملاقات ایک اہل علم شخصیت شاکر حسین شاکر سے ہوئی جو ایک اچھے شاعر،ادیب اور براڈکاسٹر ہونے کے علاوہ ایک مستند محقق بھی ہیں اور درجن بھر سے زیادہ کتابوں کے مصنف۔ انہوں نے اپنی چند کتابیں از راہ محبت مجھے عنایت کیں جن میں اسے ایک کتاب ‘‘حضرت شاہ یوسف گردیز و حضرت شاہ شمس سبزواری‘‘ کے نام سے ہے اور جس میں بڑی مدلل اور محققانہ انداز میں حضرت شاہ یوسف گردیز اورحضرت شاہ شمس سبزواری کی سوانح کے ساتھ شاہ شمس سبزواری اور شاہ شمس تبریزی کے درمیان فرق کو بھی واضع کیا ہے۔ اسی کتاب میں شاہ گردیز کے حوالے بہت سا مواد موجود ہے جو تحقیق کرنے والوں کے لیئے ایک نادر تحفہ ہے۔


شاکر حسین شاکر نے ملتان کے محرم کے بارے میں کتاب شروع کر رکھی تھی اور ان دنوں جب میں وہاں تھا تو یہ طبع ہونے والی تھی۔ابھی تک مجھے یہ علم نہیں کہ یہ کتاب شائع ہو چکی یا نہیں۔مجھے یہ یقین ہے کہ ملتان کی عزاداری کی تاریخ پر یہ مستند کتاب ہو گی۔

راولپنڈی میں عزاداری کے ڈانڈے کوئی پانچ سو سال قبل سید کسراں نامی گاؤں سے ملتے ہیں جس کے بعد تیلی محلے،شاہ چن چراغ، ڈھوک رتہ امرال اور متعدد دیگر عزاخانوں کے بعد اسلام آباد میں کراچی سے دارالحکومت منتقل ہونے کے ساتھ ہی عزاداری کی بنیاد پڑگئی اور آج محرم میں پچاس سے زائد مقامات پر مجالس ہوتی اور جلوس نکلتےہیں۔

یہاں کے معروف عزا خانوں میں کرنل مقبول، بوہڑ بازار، مدرسہ فاطمیہ، مبارک بانو، لڈن شاہ، زین العابدین، سید محمد آغا رضوی، بیت الکاظم، ساگری، خیام اہلبیت، قصر سجاد، قصر موصومہ قم، مریڑ چوک، جعفریہ مسلم ٹاؤن، علی مسجد سیٹلائٹ ٹاؤن، قصر ابوطالب، قصر علمدار، موہن پورہ، بارگاہ زینب، ناصر العزا، چٹی ہٹیاں، ابو محمد اور قصر الحسین کے علاوہ متعدد دیگر عزا خانے شامل ہیں۔

اسی طرح پاکستان کے چاروں صوبوں کے متعدد چھوٹے بڑے شہروں میں مجموعی طور پر ہزاروں  کی تعداد میں نئے پرانے عزا خانے ہیں جہاں کربلا والوں کی یاد منائی جاتی ہے لیکن پاکستان کے لکھنؤ ملتان اور کراچی کے ساتھ لاہور کی عزاداری تاریخی اورقدیمی ہے۔

خود لاہور کی اپنی تاریخ بھی ایک قدیمی تاریخ ہے اور تحقیقی کتب کے مطابق لاہور کے بارے میں سب سے پہلے چین کے باشندے سوزو زینگ نے لکھا جو ہندوستان جاتے ھوئے لاہور سے 630 عیسوی میں گزرا ۔

عمومی طور پر تو یہ ہی کہا جاتا ہے لیکن اس کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے کہ رام چندر جی کے بیٹے "لوہو" نے یہ بستی آباد کی تھی۔ قدیم ہندو "پرانوں" میں لاھور کا نام "لوہ پور" یعنی لوہ کا شہر ملتا ہے۔ راجپوت دستاویزات میں اسے "لوہ کوٹ" یعنی لوہ کا قلعہ کے نام سے پکارا گیا ہے۔ نویں صدی عیسوی کے مشہور سیاح "الادریسی" نے اسے "لہاور" کے نام سے موسوم کیا ہے۔ یہ قدیم حوالہ جات اس بات کے غماز ہیں کہ اوا‏ئل تاریخ سے ہی یہ شہر اہمیت کا حامل تھا۔ "فتح البلادن" میں درج سنہ 664 عیسوی کے واقعات میں لاھور کا ذکر ملتا ہے جس سے اس کا اہم ہونا ثابت ہوتا ہے۔

نہ جانے یہ تاثر کس بنا پر قائم ہوا ہے کہ لاہور میں عزاداری کا بانی خاندان نوابان تھا حالانکہ تاریخ کی کتب میں یہاں پر عزاداری کے واضع اور مستند شاہد حضرت داتا گنج بخش اور بیبیاں پاکدامناں  کے علاوہ شاہ حسین زنجانی اور حضرت میاں میر کے عہد میں بھی ملتے ہیں اور پھر ملا احمد ٹھٹھوی اور قاضی نوراللہ شوستری  کے عہد میں بھی عزاداری پورے اہتمام سے تھی۔

تاریخ کی بھول بھلیوں میں گم ہونے کی بجائے اگر ماضی قریب میں دیکھیں تو لاہور میں پرانے شہر میں اندرون موچی دروازے کا علاقہ اہمیت کا حامل ہے جہاں کا محلہ شیعاں دنیا بھر میں عزاداری کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔

موچی دروازے ہی  کی نثار حویلی  بھی تاریخی اہمیت کی حامل ہے جہاں قزلباش خاندان نے اٹھارہ سو کے اوائل میں محرم کی مجالس کرنا شروع کیں اور اب ماڈل ٹاؤن کے جامعہ المنتظر اور اس سے آگے راۓ ونڈ روڈ تک پھیلی نئی آبادیوں میں قائم عزا خانوں میں سینکڑوں کی تعداد میں علم اور ماتمی جلوس نکالے جارہے ہیں۔

نواب خاندان میں نواب مظفر علی قزلباش کو مقبولیت ملی کیونکہ وہ پنجاب کے چیف منسٹر بھی رہے۔ اس خاندان کی اہم شخصیت نواب رضا خان تھے جن کے اجداد میں سر نوازش علی خان 1839میں نواب آف لاہور قرار پائے اور انکا انتقال 1890میں ہوا اور عزاداری کا کام انکے چھوٹے بھائی نواب ناصر علی ذمے آیا جو 1898میں انتقال کر گئے جسکے بعد یہ انتظام نواب فتح علل کے ذمے تھا اور یہیں سے لاہور میں عزاداری کا عروج شروع ہوتا ہے۔

آج بھی لاہور میں نثار حویلی کا جلوس وقت کے اعتبارسے طویل ترین جلوس ہے جو چوبیس گھنٹے سے زیادہ دیر تک جاری رہنے کے بعد بھاٹی دروازے میں گامے شاہ پر ختم ہوتا ہے۔

میرے والد مرحوم مصطفیٰ علی ھمدانی نے ریڈیو پاکستان کے لیئے تیار کیئے جانے والے دستاویزی پروگرام میں بتایا تھا کہ گامے شاہ اور مائی گاماں دراصل دونوں مجذوب تھے جو عاشور کے دن سر پر گتے کا تعزیہ رکھ کر کرشن نگر سے داتا دربار تک آتے تھے جہاں اسوقت دریائے روای بہتا تھا اور یہاں تعزیہ ٹھنڈا کر دیتے تھے۔ جب بابا گامے کا انتقال ہوا تو اسے داتا دربار کے عقب میں دفن کیا گیا اور اسکا نام گامے شاہ پڑ گیا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں نواب ناصر علی خان کے علاوہ اردو ادب کے ایک شہنشاہ مولانا محمد حسین آزاد کا بھی مزار موجود ہے۔

لاہور کا دوسرا بڑا تاریخی مرکز وسن پورہ میں ہے جہاں عزداری کی بنیاد مولاناسید علی الحائری کے والد شمس العلما مولانا ابوالقاسم نے ڈالی تھی اور انہیں کے گھر میں بعد ازاں پہلا جامعہ المنتظر کھلا تھا جو بعد میں ماڈل ٹاؤن منتقل ہو گیا۔

میرا خیال تھا کہ نہایت مختصر طور پر لاہور کی عزاداری تاریخ کو لکھ کر اسی کالم میں بات مکمل کر دوں گا لیکن انصاف کا تقاضہ یہ ہے کہ کم از کم ایک کالم اور لکھا جائے جس میں لاہور ہی کی بات ہو،یہاں مختلف زبانوں کی مجالس کے علاوہ معروف علما،خطبا اور ذاکرین کا بھی ذکر کیا جائے کہ جن کے نام نئی نسل تو کیا خود اب ہماری نسل بھی نہیں جانتی۔

کیسے کیسے نابغہ روزگار علما اور زاکرین تھے جو کسی مفاد اور تمنا کے بغیر ذکر امام کرتے تھے۔ خطابت اور ذاکری میں کمرشل ازم نہیں آیا تھا اور سب سے بڑی بات یہ کہ شیعہ سُنی کا کوئی فرق معلوم نہیں تھا۔ سب مسلمان کیا نلکہ غیر مسلم بھی کربلا والوں کا غم مل کر منایا کرتے تھے۔

یہ سارا ذکر اگلے کالم تک اٹھائے رکھتا ہوں۔(جاری)

:دیگر مضامین
(30.12.2009) لاہور میں عزاداری کی تاریخ(2)
(28.12.2009) لاہور میں عزاداری کی تاریخ(1)
(16.12.2009) مولوی جلال الدین بلخی،وفات 17 دسمبر
(15.12.2009) پاکستانی فلم لال طوفان کا ایک مقبول پنجابی نغمہ
(11.12.2009) سوئس منی لانڈرنگ کیس کے شواہد کی منتقلی کی وڈیو
(11.12.2009) فیصل آباد: 35 ہزارشمعیں روشن کرکےعالمی ریکارڈ قائم کردیا گیا
(10.12.2009)  ڈنمارک میں ماحولیاتی تبدیلی پر عالمی کانفرنس
(09.12.2009) ماحولیات سے متعلق کانفرنس میں اختلافات ۔از؛گوہر نذیر گیلانی
(08.12.2009) برلین کے شہر کے وسط میں پانی سے چلنے والی گھڑی
(07.12.2009)  کوپن ہیگن میں ماحولیاتی کانفرنس جاری ہے۔از؛ ندیم گِل
(07.12.2009) معروف شاعر،ادیب مترجم اور محقق باقر نقوی کی نئی کتاب
(06.12.2009) عید غدیر آپ سب کو مبارک ہو
(06.12.2009) ایک تھی بابری مسجد ۔از؛ سید حسین افسر ۔لکھنو
(05.12.2009) عظمتِ آبائے رسول
(04.12.2009) بابری مسجد کی مسماری کی سترویں برسی کے موقع پر ماحول گرم
(02.12.2009) این آراو کیخلاف درخواستیں، سپریم کورٹ کا لارجر بینچ تشکیل پاگیا
(02.12.2009) قیام امن کیلئے مزید 30 ہزار فوجی افغانستان جائیں گے
(01.12.2009)  یکم دسمبر ایڈز کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے
(01.12.2009) عید پر بڑی تعداد میں لوگ موہنجو دڑو کے آثار قدیمہ پر گئے
(30.11.2009) اے ارض وطن سچ پوچھ ترے معماروں سے شرمندہ ہیں



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
بیاد سید عاشور کاظمی  »
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  بیاد سید عاشور کاظمی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں