27.10.2026, 11:30pm , منگل (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔
امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
 
عالمی خبریں
 

بغداد میں دو بم دھماکوں میں ہلاکتوں کی تعداد 167 تک پہنچ گئی ہے اور حکومت نے ملک میں تین روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا ہے۔
05.07.2016, 01:03am , منگل (GMT+1)


بغداد میں اتوار کی صبح ہونے والے دو بم دھماکوں میں ہلاکتوں کی تعداد 167 تک پہنچ گئی ہے اور حکومت نے ملک میں تین روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا ہے۔

ان بم دھماکوں میں 186 افراد زخمی بھی ہوئے، زخمیوں میں سے بعض کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے جس سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

عراق کے وزیر اعظم حیدر العابدی کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں تین روزہ قومی سوگ کا اعلان کرتے ہوئے کہا گیا کہ وزیر اعظم لوگوں کے جذبات سے آگاہ ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے بھی بغداد میں ہونے والے بم دھماکوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ اُنھوں نے ایک بیان میں عراقی عوام سے اپیل کی کہ وہ خوف پھیلانے اور ملک کے اتحاد کو کمزور کرنے کی کوششوں کو مسترد کر دیں۔

اتوار کو علی الصبح دو مختلف مقامات پر بم دھماکے ہوئے تھے جن میں سے ایک دھماکا کرادہ نامی علاقے میں ایک مصروف بازار میں ہوا جہاں لوگوں کی ایک بڑی تعداد بازار میں خریداری میں مصروف تھی، زیادہ تر ہلاکتیں بھی اسی علاقے میں ہوئیں۔ جب کہ دوسرا دھماکا شعب نامی علاقے میں ہوا۔

شدت پسند تنظیم داعش نے بازار میں کیے گئے خود کش بم حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

امریکی کی نیشنل سکیورٹی کونسل کے ترجمان ترجمان نیڈ پرائس نے اتوار کو کہا کہ امریکہ داعش کو تباہ کرنے کے لیے عراق کے ساتھ اپنی مشترکہ کوششوں کے لیے پرعزم ہے۔

داعش کے جنگجوؤں نے دو سال قبل شمالی اور مغربی عراق کے وسیع علاقے پر قبضہ کر لیا تھا۔ عراق فورسز نے حال ہی میں ملک کے اہم شہر فلوجہ میں داعش کو پسپا کر کے وہاں کا کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔
...................
بغداد کے شیعہ اکثریتی آبادی والے دو مختلف علاقوں میں دہشت گرد تنظیم داعش کی طرف سے کیے گئے بم دھماکوں میں کم از کم 125 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ یہ حملے ہفتے اور اتوار کی درمیانی رات کو دیر گئے کیے گئے۔

بغداد سے موصولہ نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق ان دو بڑے بم دھماکوں میں سے بہت ہلاکت خیز دھماکا ایک کار بم حملہ تھا، جو شہر کے الکرادہ نامی علاقے میں کیا گیا، جو بغداد کے وسط میں ایک بہت مصروف کاروباری علاقہ ہے۔
اس حملے میں عراقی حکام کے مطابق کم از کم 125 افراد ہلاک اور 160 سے زائد زخمی ہوئے۔ عراقی پولیس اور مختلف ہسپتالوں کے ذرائع کے مطابق اس حملے میں زیادہ تر ان خاندانوں اور نوجوانوں کو نشانہ بنایا گیا، جن کا رمضان کے عین آخری دنوں میں عید کی خریداری کے لیے اس وقت بازاروں میں بہت ہجوم تھا۔

شام اور عراق کے کئی علاقوں پر قابض عسکریت پسند تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش نے اپنے ایک آن لائن بیان میں الکرادہ میں اس کار بم حملے کی ذمے داری قبول کر لی ہے۔ اس بیان میں اس گروہ نے، جو خود کو ایک سنی تنظیم قرار دیتا ہے اور اپنے دہشت گردانہ حملوں کے اپنے ہی طور پر اسلامی حوالے سے جائز ہونے کے ناقابل فہم دعوے بھی کرتا ہے، واضح طور پر کہا کہ الکرادہ میں یہ طاقت ور کار بم حملہ کرنے کا ’مقصد دانستہ طور پر شیعہ‘ مسلمانوں کو نشانہ بنانا تھا۔ نیوز ایجنسی اے پی نے لکھا ہے کہ اس بم حملے سے متعلق داعش کے اعترافی بیان کی غیر جانبدار ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
بغداد سے آمدہ دیگر رپورٹوں کے مطابق ان دونوں بم دھماکوں، خاص کر الکرادہ میں ہونے والے تباہ کن دھماکے کے بعد امدادی کارکن اور آگ بجھانے والے عملے کے افراد اتوار کی صبح طلوع آفتاب تک ابھی آگ بجھانے اور جلی ہوئی عمارتوں سے ہلاک شدگان کی لاشیں نکالنے میں مصروف تھے۔

عینی شاہدین کے بقول مرنے والوں میں بہت سے بچے بھی شامل ہیں اور دھماکے کے کئی گھنٹے بعد تک بھی ایمبولینسیں حملے کی جگہ سے زخمیوں اور ہلاک شدگان کو ہسپتالوں میں منتقل کر رہی تھیں۔ مقامی باشندوں کے مطابق الکرادہ کی ایک پرہجوم مارکیٹ میں اس دھماکے کے بعد قریب ہی واقع ملبوسات اور موبائل فونز کی متعدد دکانوں کو آگ لگ گئی تھی۔
بغداد میں کیا جانےو الا دوسرا بم حملہ دیسی ساخت کے ایک ایسے بم کا دھماکا تھا، جو شہر کے الشعب نامی مشرقی حصے میں کیا گیا۔ یہ علاقہ بھی زیادہ تر شیعہ آبادی والا علاقہ ہے۔ اس دھماکے میں پانچ افراد ہلاک اور 16 زخمی ہوئے۔ باقاعدہ طور پر ابھی تک کسی نے اس دھماکے کی ذمے داری قبول نہیں کی تاہم متعدد عراقی سکیورٹی اہلکاروں نے بتایا کہ اس حملے میں بھی تقریباﹰ یقینی طور پر داعش کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔
عراقی دارالحکومت میں الکرادہ کے انتہائی تباہ کن بم حملے کے چند گھنٹے بعد ملکی وزیر اعظم حیدر العبادی نے صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے ذاتی طور پر اس علاقے کا دورہ بھی کیا۔ العبادی کے اس دورے کی بعد میں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح وہاں موجود مشتعل افراد نے حیدر العبادی کے خلاف نعرے بازی کی۔
.....................
انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اقوام متحدہ کے امدادی کام میں مدد دینے کے لیے، امریکہ نے  دو کروڑ ڈالر کا عطیہ دینے کا اعلان کیا۔ یہ رقم عراق کے شہر فلوجہ میں لڑائی کے نتیجے میں بھاگ نکلنے والے ہزاروں مہاجرین کی اعانت کے لیے استعمال کی جائے گی۔

عراقی افواج نے گذشتہ ہفتے فلوجہ سے داعش کا قبضہ خالی کرایا، جس نے علاقے کو دو سال تک زیرِ تسلط رکھا ہوا تھا۔ تاہم، اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق، فلوجہ کے تقریباً 85000 مکین دارالحکومت بغداد کے مغربی شہر سے بے دخل ہوئے ہیں، جنھیں فوری امداد درکار ہے۔

اقوام متحدہ کے مرکزی ہنگامی امدادی فنڈ نے پیر کے روز امدادی کام کے لیے ایک کروڑ 75 لاکھ ڈالر کی رقم جاری کی ہے۔

امریکہ نے کہا ہے کہ اُس کی جانب سے دی گئی امداد انسانی بنیاد کے اعانت کے اُس پیکیج کا حصہ ہے جس کا اعلان سال کے اواخر میں کیا جائے گا، جب کہ اُس نے اس بات کی طرف توجہ دلائی ہے کہ لڑائی سے بچنے کے لیے 2014ء سے اب تک عراق کے اندر بے دخل ہونے والے افراد کی کُل تعاد 33 لاکھ سے زیادہ ہے۔

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین نے ہجرت کرنے والوں کے انتظامات اور رابطے کے مرکز کا اعلان کیا ہے، جب کہ فلوجہ سے بھاگ نکلنے والوں کی حفاظت کے لیے اقدام کیے جائیں گے، تاکہ فوری نوعیت کی ضروریات فراہم کی جا سکیں۔ امریکہ نے دیگر ملکوں پر زور دیا ہے کہ وہ مہاجرین کی امداد کے لیے مزید رقم فراہم کرنے کی اقوام متحدہ کی کال پر دھیان دیں۔
.................
سیریئن آبزرویٹری برائے شام کے مطابق دہشت گرد تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ نے شمالی قصبے مَنبِج کے قریب امریکی حمایت یافتہ باغیوں پر اچانک حملہ کر کے اُن سے کم از کم دو دیہات کو چھین لیا ہے۔ آبزرویٹری کے مطابق جہادیوں نے دونوں دیہات کے رہائشیوں کو ہلاک بھی کر دیا ہے۔ 

ہلاکتوں کی تعداد کا تعین نہیں کیا جا سکا ہے۔ اِس کارروائی میں بارود سے لدی ایک کار کے ذریعے خود کش حملہ بھی کیا گیا۔ حالیہ ہفتوں کے دوران سیریئن ڈیموکریٹک فورسز نے اِن دیہات پر قبضہ کیا تھا۔ امریکی عسکری اتحاد کے جنگی طیاروں نے آج پیر کے روز ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے جہادیوں پر فضائی حملے بھی کیے لیکن وہ اُن کی پیش قدمی کو روک نہیں سکے۔

دوسری طرف شام میں ترکی کے حملہ سے جس میں تئیس جہادی ہلاک ہوگئے ہیں‌۔ انقرہ حکومت کے مطابق ترک فورسز نے شمالی شام میں فضائی حملے اور سرحد پار شیلنگ کرتے ہوئے تئیس جہادیوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ ترک فوج نے آج بتایا کہ گزشتہ روز شام میں داعش کے جہادیوں کے مجموعی طور پر 33 اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان کے مطابق یہ جنگجو ترکی میں حملہ کرنا چاہتے تھے ، اس لیے ان کے خلاف عسکری کارروائی کی گئی۔
---------------------------------
عراق کے شہر فلوجہ کو داعش کے قبضے سے واگزار کروانے کے لیے عراقی فورسز کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن ایسے میں مقامی آبادی بھوک، تھکن اور اضطراب کا شکار ہے۔

گزشتہ تین دنوں میں 30 ہزار افراد نے فلوجہ سے نقل مکانی کی ہے جس سے اب تک نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد 60 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

شدید گرم موسم میں اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہونے والے افراد کی اکثریت پناہ گزین کیمپوں میں کھلے آسمان تلے زندگی گزار رہے ہیں جب کہ بعض نے گوداموں اور مساجد کو اپنا مسکن بنا لیا ہے۔

یہاں ہزاروں افراد کو ہنگامی طور پر خوراک اور پینے کا پانی فراہم کرنے والی نارویجیئن رفیوجی کونسل کا کہنا ہے کہ کیمپوں میں مزید نئے خاندانوں کے آنے کے بعد صورتحال مشکل ہو چلی ہے۔ کونسل کے عہدیدار نصر مفلاحی نے ایک بیان میں کہا کہ "ہم عراقی حکومت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اس انسانی بحران کی ذمہ داری سنبھالے جو کہ ہمارے سامنے پیدا ہوتا جا رہا ہے۔۔۔ہم اس صورت میں امداد فراہم نہیں کر سکتے جب ہمیں یہ پتا نہ ہو کہ کون کہاں ہے اور اسے کس چیز کی ضرورت ہے۔"

عراق کے وزیراعظم حیدر العبادی نے اعلان کیا ہے کہ عراقی فورسز شہر کا قبضہ دوبارہ حاصل کرنے کی لڑائی میں کامیاب ہو رہی ہیں۔

شدت پسند گروپ داعش دو سال سے اس شہر پر قابض رہا ہے۔ ایسی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ بعض عسکریت پسندوں نے اپنے بیوی بچوں کو بھی پناہ گزینوں کے ساتھ شہر سے باہر بھیج دیا ہے۔

عراق میں جاری جنگی صورتحال کے باعث ایک اندازے کے مطابق 34 لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔
.......................
شامی فوج داعش کے مضبوط گڑھ رقا میں داخل ہو گئی ہے۔ جھڑپوں میں چھبیس جنگجواور نو فوجی اہلکار مارے گئے جبکہ شام کے مختلف شہروں میں باغیوں کے حملے میں دو سو ستر سے زائد شہری ہلاک ہو ئے۔ 

شام کے سرکاری میڈیا کے مطابق روسی فضائیہ کی مدد سے شامی فوجی داعش کے مضبوط گڑھ صوبہ رقا میں داخل ہو گئی ہے ۔ جہاں جھڑپوں کے دوران چھبیس جنگجو ہلاک اور نو فوجی جاں بحق ہو گئے ہیں ۔

دوسری جانب شام میں مخالف فریقوں کے مصالحتی مرکز کے مطابق ملک کے مختلف شہروں میں باغیوں کے حملے میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران دو سو ستر سے زائد شہری ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے۔
..............
عراقی فوج نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ اس نے شدید لڑائی کے بعد فلوجہ شہر کا نواحی علاقہ اسلامک اسٹیٹ کے عسکریت پسندوں کے قبضے سے چھڑا لیا ہے۔

 حکومتی فورسز نے امریکی قیادت میں بین الاقوامی اتحادی طیاروں کی معاونت سے ساقلاویا کا علاقہ اپنے قبضے میں لے لیا۔ فوجی بیان کے مطابق ہفتے کے روز اس علاقے میں 27 جہادیوں کو ہلاک کیا گیا، جب کہ علاقے میں ایک مرتبہ پھر عراقی پرچم لہرا دیا گیا۔ 

فوجی بیان میں کہا گیا ہے کہ اس علاقے پر قبضے کے دوران کوئی فوجی ہلاک نہیں ہوا ہے۔ دارالحکومت بغداد سے 50 کلومیٹر مغرب میں واقع فلوجہ شہر پر گزشتہ دو برس سے عسکریت پسندوں نے قبضہ کر رکھا ہے اور اب عراقی فوج اس علاقے کو واپس حاصل کرنے کے لیے عسکری آپریشن میں مصروف ہے۔
...............
امریکا کی قیادت میں اتحاد کے طیاروں نے حلب کے شمال میں داعش کے جنگجوؤں کے خلاف لڑنے والے باغیوں کے لیے اسلحہ اور گولہ بارود گرایا ہے تاکہ داعش کو قصبے ماریا میں داخل ہونے سے روکا جاسکے۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق کے سربراہ رامی عبدالرحمان نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ''اتحادی طیاروں نے گذشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران ماریا میں موجود باغیوں کے لیے اسلحہ ، ہلکے ہتھیار اور ٹینک شکن ہتھیار گرائے ہیں''۔

انھوں نے بتایا ہے کہ امریکا کی قیادت میں اتحادیوں نے پہلی مرتبہ کردوں کے علاوہ شامی باغیوں میں اسلحہ گرایا ہے۔تاہم امریکا کے ایک دفاعی عہدے دار نے اس کی تردید کی ہے۔

داعش کے جنگجوؤں نے گذشتہ ماہ صوبہ حلب میں یلغار کرتے ہوئے شامی باغیوں کے زیرقبضہ علاقے چھین لیے تھے اور ماریا اور سرحدی شہر اعزاز کے درمیان مرکزی شاہراہ کو منقطع کردیا تھا۔داعش کی یلغار کے بعد ہزاروں شامی بے گھر ہو کر شام کے سرحدی علاقے کی جانب جانے پر مجبور ہوگئے تھے۔

اقوام متحدہ نے ماریا اور شیخ عیسیٰ کے نواح میں لڑائی کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے قریباً آٹھ ہزار افراد کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے۔بیان کے مطابق ماریا اور اعزاز کے درمیان شاہراہ بند ہوجانے سے ہزاروں افراد جنگ زدہ علاقوں میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔
..................
امریکی محکمہٴ خارجہ نے دہشت گردی کے معاملے پر سالانہ رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی دہشت گردی کے خطرہ کے حوالے سے اب مرکزیت کا عنصر بکھرتا دکھائی دے رہا ہے، ایسے میں جب داعش جیسا شدت پسند گروپ کئی خطوں میں جڑیں پکڑ رہا ہے، جن میں جنوب مشرقی ایشیا، روس کا شمالی قفقاز کا علاقہ اور افریقہ بھی شامل ہے۔

محکمہٴ خارجہ نے کہا ہے کہ القاعدہ، بوکو حرام اور الشباب عدم استحکام پھیلانے کی طرز کے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں، جب کہ گذشتہ سال عالمی طور پر داعش سخت خطرے کا باعث بنا رہا، جب کہ شام اور عراق میں شدت پسند گروپ ’’انتہائی طاقت ور ہے‘‘۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اِن دو ملکوں میں 2015ء کے دوسری شش ماہی کے دوران داعش کی عسکری طاقت میں کمی واقع ہوئی، جس دہشت گرد گروپ کے لڑاکوں نے دوسرے ملکوں میں حملوں کا بازار گرم کر رکھا ہے، جن میں فرانس اور ترکی شامل ہیں۔

داعش نے لیبیا میں بھی خاصے علاقے پر تسلط جما لیا ہے، اور افغانستان، پاکستان اور نائجیریا میں اپنی شاخیں قائم کی ہیں۔

محکمہٴ خارجہ کی سالانہ رپورٹ کی فہرست میں تقریباً 60 ملک شامل ہیں جہاں دہشت گرد گروپوں کی موجودگی بتائی گئی ہے؛ جب کہ فہرست میں متعدد ملکوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے، جو انسداد انتہاپسندی کی عالمی لڑائی میں سست روی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

کلیدی حقائق نامہ:

بوکو حرام: اس کا تعلق داعش سے ہے؛ جس نے’ شاڈ لیک بیسن‘ کے خطے میں ہزاروں افراد قتل کیے، جب کہ لاکھوں لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔

القاعدہ: اس کی مرکزی قیادت کمزور پڑ چکی ہے، لیکن گروپ اب بھی خطرے کا باعث ہے؛ اس سے متاثرہ گروہوں کا نیٹ ورک جزیرہٴ نما عربستان، مغرب اور بھارتی برصغیر میں موجود ہے۔

الشباب: شدت پسند گروپ نے صومالیہ میں مہلک حملے کیے؛ صومالی حکومت کی پیش رفت کو الٹنے اور ’اے ایم آئی ایس او ایم‘ (افریکن یونین مشن اِن صومالیہ) کے ’’سیاسی عزم‘‘ کو کمزور کرنے کے لیے اپنےحربے جاری رکھے ییں۔

بدتر ریاستی عناصر:

ایران: دہشت گردی کی سرپرستی میں ’’نمایاں‘‘ نام رکھتا ہے؛ جن کے لیے کہا جاتا ہے کہ وہ حزب اللہ کا حامی ہے، جب کہ غزہ میں فلسطینی دہشت گرد گروپوں اور عراق اور مشرق وسطیٰ میں انتہا پسندوں کی سرپرستی کر رہا ہے۔

سوڈان: دہشت گردی کے سرپرست ملک کا درجہ برقرار رکھا ہے، جس کے بارے میں امریکہ کو تشویش لاحق ہے کہ وہ فتح، فلسطین اسلامی جہاد، حماس اور حزب اللہ کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں۔

شام: اسد حکومت نے دہشت گرد گروپوں کی سیاسی حمایت کی فراہمی جاری رکھی، جو علاقائی استحکام پر اثرانداز ہور ہے ہیں؛ جب کہ اُس نے حزب اللہ کو اسلحہ اور سیاسی حمایت کی فراہمی جاری رکھی۔

پیش رفت:

محکمہٴ خارجہ نے کہا ہے کہ 45 ممالک ایسے ہیں جہاں غیر ملکی لڑاکوں کے ساتھ نبردآزما ہونے کے لیے قوانین منظور کیے گئے یا پھر اُن میں بہتری لائی گئی۔

پینتیس ملک ایسے ہیں جنھوں نے غیر ملکی لڑاکوں کو گرفتار کیا۔

بارہ ملکوں نے گذشتہ سال کم از کم ایک لڑاکے کے خلاف ’’کامیابی کے ساتھ قانونی چارہ جوئی کی‘‘۔
.....................
داعش کے زیر تسلط فلوجہ شہر میں لڑائی سنگین صورت اختیار کرتی جا رہی ہے، سولین آبادی کی ہلاکتیں بڑھتی جا رہی ہیں۔

ناروے کی کونسل برائے مہاجرین سے تعلق رکھنے والے، ژاں اجلینڈ نے بتایا ہے کہ ’’فلوجہ میں انسانی جانیں ضائع ہونے کاسلسلہ بڑھتا جا رہا ہے۔ گولیوں کے تبادلے کے دوران متعدد خاندان زد میں آتے جارہے ہیں، جس سے جان بچانا ممکن نہیں رہا‘‘۔

شہر کا قبضہ واپس لینے کے لیے عراقی افواج نے بڑی سطح کی کارروائی کی ہے۔

اقوام متحدہ کے مہاجرین کے ادارے کو رپورٹیں موصول ہوئی ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ بھاری دہانے والے ہتھیاروں کی گولہ باری کے نتیجے میں سولین آبادی کا جانی نقصان بڑھتا جا رہا ہے، یا پھر ملبے تلے آکر وہ اپنے ہی گھروں میں ہلاک ہو رہے ہیں۔

عالمی ادارے کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) کے ترجمان، ولیم اسپنڈلر نے بتایا ہے کہ ’’یہ رپورٹیں بھی ملی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ اہل خانہ کے سینکڑوں افراد کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے‘‘۔

گذشتہ ہفتے سے لڑائی سے بچنے کے لیے 625 خاندان نکلنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

عراقی افواج مرد حضرات کو علیحدہ کھڑا کرتے ہیں، تاکہ اُن کی جانچ پڑتال ممکن ہو اس تشویش کی بنا پر بھاگ نکلنے والے کہیں دشمنوں کے ساتھی تو نہیں، چونکہ وہ دو سال تک داعش کے زیر تسلط علاقے میں رہتے رہے ہیں۔

اسپنڈلر کے الفاظ میں، ’’اندازاً 500 مردوں اور 12 برس کی عمر سے بڑے لڑکوں کو سکیورٹی کی جانچ پڑتال سے گزرنا پڑتا ہے، جس مرحلے میں پانچ سے سات دِن لگ سگتے ہیں‘‘۔

’وائس آف امریکہ‘ نے ایک مہاجر سے گفتگو کی ہے، جس نے اپنا نام ایاد بتایا۔ اُنھوں نے پڑتال کے عمل کے بارے میں بتایا۔

اُن کے بقول، ’’اُنھوں نے مجھ سے، حشد الشعبی اور عراقی فوج سے متعلق انٹرویو کیا‘‘۔ اُن کا اشارہ شیعہ ملیشیائوں کے جتھے سے تھا جو عراقی فوج کے ہمراہ لڑ رہی ہیں۔

ایاد نے مترجم کی معرفت ٹیلی فون انٹرویو میں بتایا کہ ’’اُنھوں نے کہا کہ اگر تمہارا نام ہمارے ڈیٹابیس میں پایا گیا تو ہم تمہیں گولی مار دیں گے۔ اگر تم بے گناہ نکلے تو تم ہمارے ساتھ امن میں رہ سکتے ہو‘‘۔

داعش کے لڑاکوں کے خلاف صف آرائی میں حشد الشعبی نے اہم کردار ادا کیا ہے، اور اِن ایران نواز میلشیائوں کے بارے میں کچھ لوگ کہتے ہیں کہ وہ عراقی فوج سے بہتر تربیت یافتہ ہیں۔

تاہم، داعش کے خلاف لڑائی میں ٹھوس شیعہ موجودگی کے باعث دوسرے لوگ ناخوش ہیں، جن کے مضبوط ٹھکانے سنی اکثریت والے علاقوں میں ہیں۔ اس صورت حال کے نتیجے میں ملک میں پہلے سے موجود مسلک کی بنیاد پر تقسیم مزید بگڑ سکتی ہے۔

بغداد کے متعدد سنی کہتے ہیں کہ وہ شیعہ میلشیائوں کے خوف میں مبتلہ ہیں، جب کہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے ماضی میں اِن ملیشیائوں کے ہاتھوں حقوق کی خلاف ورزیاں درج کی ہیں۔

قانون ساز اور قومی سلامتی کے ایک سابق مشیر، موافق الربیع نے داعش کے خلاف لڑائی میں حشد کے کردار کا دفاع کیا ہے۔

ربیع نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ ’’میرے خیال میں حشد الشعبی کو ہمارے مقبوضہ علاقوں کی آزادی میں اہم کردار دینا چاہیئے تھا، جو وہ ادا کر رہے ہیں۔‘‘

دولت اسلامیہ کے لیے داعش کا لفظ استعمال کرتے ہوئے، ربیع نے کہا کہ ’’داعش کے خلاف حشد الشعبی گوریلہ قسم کی لڑائی لڑ رہی ہے، جو روایتی انداز نہیں ہے جیسا کہ عراقی فوج نے اختیار کر رکھا ہے‘‘۔
......................
عراقی فورسز نے فلوجہ کی بازیابی کے لیے جاری فوجی آپریشن کے دوران اب شہر میں داخل ہونے کے بعد جہادیوں پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ 

شہر کے ایک بڑے پولیس اسٹیشن پر عراقی کمانڈوز نے قبضہ کرنے کا بھی بتایا ہے۔ آپریشن کی کمان جہادیوں کی جانب سے اچانک خودکش حملوں پر بھی نگاہ رکھے ہوئے ہے۔ بغداد کے قریب ہی واقع اس اہم شہر پر سن 2014 سے انتہا پسند تنظیم داعش کے جنگجوؤں نے قبضہ کر رکھا ہے۔

 شہر کے جنوبی نواحی علاقے میں بھاری شیلنگ اور دو طرفہ فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ عراقی فورسز نے ایرانی شیعہ ملیشیا کے ساتھ مل کر تئیس مئی کو اس شہر کو بازیاب کرانے کا آپریشن شروع کیا تھا۔
.......................
عراق میں دہشت گردی کے ہولناک واقعات کے جلو میں دارالحکومت بغداد میں بدنظمی کا ایک تازہ واقعہ سامنے آیا ہے۔ عراقی وزیراعظم حیدر العبادی کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ روز بلوائیوں کے ایک گروپ نے دفتر پر چڑھائی کی کوشش کی ہے جس کے بعد دارالحکومت میں کرفیو لگا دیا گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ ک مطابق عراقی حکومت کے زیرانتظام میڈیا وار سیل کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ تخریب کار عناصر کے ایک گروپ نے دستی ہتھیاروں اور چاقوؤں کے ذریعے گرین زون میں سیکیورٹی پر مامور اہلکاروں پرحملے کے بعد وزیر اعظم کے دفتر پر بھی چڑھائی کی ہے جس کے بعد حکومت نے دارالحکومت میں غیرمعینہ مدت کے لیے کرفیو لگا دیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ شرپسند عناصر کی جانب سے کیے گئےحملے میں متعدد حکومتی اور سیکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے ہیں اورانہیں علاج کے لیے بغداد کے اسپتالوں میں منتقل کردیا گیا ہے۔ زخمیوں میں سےبعض کی حالت تشویشناک بیان کی جاتی ہے۔

درایں اثناء بغداد آپریشنل کمانڈ کی جانب سے دارالحکومت میں قانون نافذ کرنے والے تمام اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ بغداد میں داخل ہونے والی تمام گاڑیوں کی باریک بینی سے چیکنگ کریں۔ ایسی کسی گاڑی کو جس میں مسلح افراد سوار ہوں، دارالحکومت میں داخل ہونے سے سختی سے روکا جائے۔

خیال رہے کہ بغداد میں سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کی تازہ ہدایات ایک ایسے وقت میں جاری کی گئی ہیں جب اخبارات نے یہ خبر دی تھی کہ سرکردہ شیعہ رہ نما مقتدیٰ الصدر کے ماتحت السلام عسکری گروپ کے عناصر کو ان اسپتالوں کے قریب دیکھا گیا ہے جہاں زخمی مظاہرین کو منتقل کیا گیا ہے۔ مقتدیٰ الصدر کے حامی مسلح عناصر کی جانب گرین زون کے قریب اہم مقامات تک رسائی کا مقصد مظاہرین کی گرفتاری کی کوششوں کو ناکام بنانا ہے۔

ادھرعراقی حکومت نے بغداد میں غیرمعینہ مدت کے لیے کرفیو لگانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب مبینہ طور پر مقتدیٰ الصدر کےحامیوں نے جمعہ کے روز گرین زون میں گھس کر وزیراعظم حیدر العبادی کےدفتر پر چڑھائی کردی تھی۔

خیال رہے کہ عراقی حکومت گذشتہ کئی ماہ سے مقتدیٰ الصدر اور بعض دوسرے گروپوں کی جانب سے احتجاجی مظاہروں کا سامنا کررہی ہے۔ الصدر گروپ کے حامی متعدد مرتبہ گرین زون میں اہم اور حساس مقامات پر چڑھائی کرتے رہے ہیں۔ حال ہی میں حکومت سے سیاسی اصلاحات کا مطالبہ کرنے والے ہزاروں مظاہرین وسطی بغداد میں گرین زون میں داخل ہوئے تو پولیس نے ان پر طاقت کا اندھا دھند استعمال کرتے ہوئے انہیں گرین زون سے باہر نکال دیا تھا۔

عراق کے سرکاری ٹی وی نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ فوج نے گرین زون کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ فوج کی آمد کے باوجود مقتدیٰ الصدر کے حامیوں کا احتجاج بدستور جاری ہے۔ گذشتہ روز بھی ہزاروں افراد نے حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ان پر لاٹھی چارج کیا، آنسوگیس کی شیلنگ کے ساتھ ان پر صوتی بم بھی پھینکے۔ آنسوگیس کی شیلنگ سے متعدد افراد دم گٹھنے سے متاثر ہوئے ہیں۔۔

مقتدیٰ الصدر نے حکومتی فورسز کی جانب سے مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کی سخت مذمت کرتے اپنے حامیوں کے گرین زون میں داخلے کی حمایت کی ہے۔
.....................
عراقی سکيورٹی فورسز نے دارالحکومت کے ’گرين زون‘ پر دھاوا بولنے والے سينکڑوں مظاہرين کو منتشر کرنے کے ليے ہوائی فائر کيے اور آنسو گيس استعمال کی۔ نيوز ايجنسی ايسوسی ايٹڈ پريس کے موقع پر موجود ايک فوٹو گرافر کے مطابق جائے وقوعہ پر چند مظاہرين  زخمی ہوئے جبکہ ايک کے سر ميں بھی گولی لگی۔

 يہ مظاہرين وزير اعظم کے دفتر اور پاريمان کی عمارت ميں داخلے کی کوشش کر رہے تھے۔ جمعے کے روز رونما ہونے والے يہ تازہ پر تشدد واقعات، دو ہفتے قبل اسی طرز کے واقعات کے بعد پہلی مرتبہ رونما ہوا۔ شيعہ احتجاجی مظاہرين نے اس سے قبل اپريل کے شروع ميں پہلی مرتبہ گرين زون پر دھاوا بولنے کی کوشش کی تھی

بغداد کے بین الاقوامی زون میں حکومت مخالف مظاہرے بھڑک اٹھے ہیں، جہاں عراقی حکومت کے دفاتر کے علاوہ زیادہ تر غیر ملکی سفارت خانے واقع ہیں۔

’وائس آف امریکہ‘ کی نمائندہ، شیرون بین نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ایسے میں احتجاج کرنے والے اس سخت سکیورٹی والے علاقے کے اندر داخل ہوئے، جسے ’گرین زون‘ کہا جاتا ہے وہاں سے گولیاں چلنے اور دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

بغداد میں امریکی سفارت خانے کے ہنگامی ڈیسک سے وابستہ ایک اہل کار نے بتایا ہے کہ وہ اس بات کی تصدیق نہیں کر سکتے آیا مظاہرین زون کے اندر موجود تھے یا یہ کہ وہ سفارت خانے کے احاطے کے قریب تھے۔

ایسے میں جب وہ بات کر رہے تھے، ’وائس آف امریکہ‘ کو چیخ و پکار کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ اُنھوں نے بتایا کہ ’’ہمیں یہاں ایک صورت حال درپیش ہے، میں مزید کچھ نہیں کہہ پاؤں گا‘‘، جس کے بعد اُنھوں نے فون جھٹک دیا۔

اطلاعات ملی تھیں کہ مظاہرین وزیر اعظم حیدر العبادی کے دفتر کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

احتجاج کرنے والے مطالبہ کرتے رہے تھے کہ ملک کو چلانے کے لیے ٹیکنوکریٹس پر مشتمل ایک نئی کابینہ تشکیل دی جائے۔ اُن کی قیادت شیعہ رہنما، مقتدیٰ الصدر کرتے ہیں۔
................
شامی فوج نے ملک کے بعض وسطی شہروں اور قصبوں پر بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں سات بچوں سمیت اکیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی رصد گاہ برائے انسانی حقوق نے جمعہ کو ایک بیان میں بتایا ہے کہ شامی فوج نے وسطی قصبے الحولہ اور اس کے نواح میں واقع دیہات پر بیرول بم برسائے ہیں۔اس بمباری سے چار بچوں سمیت چودہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

شامی فوج پر ماضی میں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے شہری علاقوں پر بیرل بموں سے حملوں کے الزامات عاید کیے جاتے رہے ہیں۔ان کی بمباری سے شہریوں کو بلا امتیاز نشانہ بنایا جاتا ہے اور ان سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوتی ہے۔انسانی حقوق کی تنظیمیں ماضی میں شامی فوج کو ان بیرل بموں کی وجہ سے متعدد مرتبہ تنقید کا نشانہ بنا چکی ہیں۔

رصدگاہ کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے بتایا ہے کہ محصور وسطی قصبے رستن پر شامی فوج نے فضائی حملہ کیا ہے جس سے تین بچوں سمیت سات شہری مارے گئے ہیں۔ رستن صوبہ حمص میں واقع ہے اور اس صوبے میں یہی قصبہ باغیوں کے زیر قبضہ رہ گیا ہے۔شامی فوج نے سنہ 2012ء سے اس کا محاصرہ کررکھا ہے اور ماضی میں بھی اس پر فضائی حملے کیے جاچکے ہیں۔

بدھ کے روز اس قصبے میں شامی فوج کی بمباری سے ایک ہی خاندان کے تیرہ افراد مارے گئے تھے۔ان میں آٹھ بچے شامل تھے۔واضح رہے کہ شامی رصدگاہ ملک میں 2011ء کے وسط سے جاری لڑائی کے بعد سے تشدد کے واقعات میں مرنے والوں اور زخمیوں سے متعلق اعداد وشمار جاری کررہی ہے۔

شام میں امریکا کی قیادت میں اتحاد کے فضائی حملوں اور روس کی فوجی مداخلت کے بعد سے رصدگاہ کا کام بڑھ گیا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس کا نیٹ ورک اب پروازوں کے انداز،طیاروں کی قسم اور استعمال کیے گئے اور بموں اور بارود سے حملہ آور فریق کا اندازہ لگاتا ہے کہ یہ کس ملک نے کیا ہے۔
..................
رطبہ کے گردونواح سے داعش کا کنٹرول ختم ہونے کے بعد انبار صوبے میں شدت پسندوں کا قبضہ صرف القائم تک محدود ہو جائے گا
عراق کی سکیورٹی فورسز نے مغربی صوبہ انبار کے علاقے الرطبہ کا قبضہ حاصل کرنے کے لیے کارروائی شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یہ علاقہ شام اور اردن کی سرحد سے ملحقہ شدت پسند گروپ داعش کے زیر تسلط علاقوں سے ملحق ہے۔

امریکی محکمہ دفاع کے ایک ترجمان پیٹر کک نے پیر کو صحافیوں کو بتایا کہ "اگر عراقی فورسز الرطبہ کا کنٹرول دوبارہ حاصل کر لیتی ہیں تو یہ داعش کے خلاف لڑائی میں ایک اہم پیش رفت ہوگی۔"

رواں سال کے اوائل میں داعش نے مشرقی شام اور عراق کے سرحدی علاقوں کا کنٹرول کھو دیا تھا۔

رطبہ کے گردونواح سے داعش کا کنٹرول ختم ہونے کے بعد انبار صوبے میں شدت پسندوں کا قبضہ صرف القائم تک محدود ہو جائے گا جو کہ شام اور عراق کے درمیان ان کے علاقوں کا ایک اہم مرکز ثابت ہو سکتا ہے۔

ترجمان کک نے بتایا کہ داعش شام میں اپنے زیرقبضہ علاقوں میں سے 45 فیصد کا قبضہ کھو چکا ہے جب کہ شام میں اسے 16 سے 20 فیصد علاقہ چھوڑنا پڑا ہے۔

عراق میں داعش کے خلاف مقامی سکیورٹی فورسز، ملیشیا اور امریکہ کی زیر قیادت اتحادی افواج کی فضائی کارروائیوں کی بدولت متعدد علاقے شدت پسندوں سے واگزار کروائے جا چکے ہیں۔ گزشتہ سال رمادی اور تکریت کا قبضہ داعش سے چھڑوایا گیا تھا۔

عراق اور شام میں داعش کی پرتشدد کارروائیوں میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ ایک بڑی آبادی کی صحت اور بنیادی ضروریات تک رسائی محدود مسدود ہو کر رہ گئی ہے۔

2014 کے وسط میں اس شدت پسند گروپ نے عراق اور شام کے وسیع علاقوں پر قبضہ کر کے یہاں نام نہاد خلافت کا اعلان کیا تھا۔
....................
شام کے مشرقی شہر دیر الزور میں شدت پسند گروپ داعش نے ایک اسپتال پر حملہ کیا جسے سے سرکاری سکیورٹی فورسز کے کم ازکم 20 اہلکار مارے گئے۔

شام کی صورتحال پر نظر رکھنے والی غیر سرکاری تنظیم سریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق اس لڑائی میں داعش کے چھ جنگجو بھی مارے گئے۔

عسکریت پسندوں نے عراق کی سرحد کے قریب واقع دیر الزور کے ایک حصے پر قبضہ بھی کر رکھا ہے جس سے یہ شہر سرکاری فورسز اور داعش کے درمیان بٹا ہوا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق دیر الزور میں اب بھی دو لاکھ افراد مقیم ہیں۔ تاحال یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ ہفتے کو ہونے والی اس لڑائی میں عام شہریوں کا بھی جانی نقصان ہوا یا نہیں۔

دریں اثناء شمال مشرقی شام میں ایک کار بم دھماکے یں دو افراد جان سے گئے جب کہ پانچ زخمی ہوگئے۔

آبزرویٹری کے مطابق یہ دھماکا کرد اکثریتی علاقے القامشلی میں ہوا۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی نے مرنے والوں کی تعداد پانچ بتائی ہے۔

شام میں 2011ء میں خانہ جنگی شروع ہوئی تھی اور اس بدامنی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شدت پسند گروپ داعش نے 2014ء میں اس ملک کے ایک وسیع رقبے پر قبضہ کر لیا تھا۔

امریکہ کی زیر قیادت اتحادی ممالک نے عراق اور شام میں داعش کے خلاف کارروائیاں شروع کیں جن میں حکام کے مطابق اس شدت پسند گروپ کو قابل ذکر نقصان پہنچایا جا چکا ہے۔

.........................
اگرچہ ان کے اغوا اور رہائی کی تفصیلات واضح نہیں مگر سپین کے وزیراعظم مارینو رجوئے نے ’’اتحادی اور دوست ممالک‘‘ خصوصاً ترکی اور قطر کا ان کے رہائی میں مدد کے لیے شکریہ ادا کیا۔
اتوار کو سپین کے دارالحکومت میڈرڈ کے قریب ایک فضائی اڈے پر جب تین ہسپانوی صحافی 10 ماہ تک شام میں یرغمال رہنے کے بعد وطن واپس پہنچے تو وہاں جذباتی مناظر دیکھے گئے۔

ہوزے مانوئیل لوپیز، انتونیو پامپلیگا اور اینگل ساستری جب وزارت دفاع کے طیارے سے باہر نکلے تو ان کا استقبال ان کے جذبات سے مغلوب مگر پُرمُسرت اہل خانہ نے کیا۔

اگرچہ ان کے اغوا اور رہائی کی تفصیلات واضح نہیں مگر سپین کے وزیراعظم مارینو رجوئے نے ’’اتحادی اور دوست ممالک‘‘ خصوصاً ترکی اور قطر کا ان کے رہائی میں مدد کے لیے شکریہ ادا کیا۔

مسلح افراد نے ان تینوں کو اس وقت اغوا کیا تھا جب وہ گزشتہ جولائی حلب میں لڑائی پر خبریں دینے کے لیے ترکی سے سرحد پار کر کے شمالی شام میں داخل ہوئے تھے۔

صحافیوں نے سپین کے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ قید کے دوران ان سے اچھا سلوک کیا گیا مگر کہا کہ انتونیو پامپلیگا کو زیادہ وقت ان کے دیگر دو ساتھیوں سے علیحدہ رکھا گیا۔

ان میں سے کسی کو یقینی طور پر معلوم نہیں کہ وہ کہاں اور کس کی تحویل میں رہے۔

یہ تینوں صحافی تجربہ کار جنگی نامہ نگار تھے اور ماضی میں شام سے رپورٹنگ کر چکے تھے۔

میڈیا کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم ’رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز‘ کے مطابق شام دنیا میں صحافیوں کے لیے خطرناک ترین ملک ہے۔

گزشتہ پانچ سال کے دوران شام میں متعدد مغربی صحافیوں کو مختلف باغی گروہوں اور خود شامی حکومت کی طرف سے اغوا کیا جا چکا ہے۔
.................
شام کے شمالی شہر حلب میں جاری جنگ بندی میں بہتر گھنٹے کی توسیع کے بعد بے گھر خاندانوں نے لوٹنا شروع کردیا ہے اور تعلیمی ادارے بھی دو ہفتے تک بند رہنے کے بعد دوبارہ کھل گئے ہیں۔

حلب میں گذشتہ پندرھواڑے کے دوران شامی باغیوں اور اسدی فوج کے درمیان لڑائی اور فضائی حملوں میں تین سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔جمعرات کو فریقین کے درمیان عارضی فائربندی ہوئی تھی۔اس کے تحت شامی فوج نے شہر میں باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں پر فضائی حملے روک دیے تھے اور باغیوں نے بھی فوج کے زیر قبضہ علاقوں پر گولہ باری بندی کردی تھی۔

باغیوں کے زیر قبضہ حلب کے مشرقی حصوں میں اسکول دوبارہ کھل گئے ہیں اور طلبہ نے جماعتوں میں آنا شروع کردیا ہے۔ایک طالب علم نے بتایا ہے کہ شہر میں شدید بمباری کی جارہی تھی جس کے بعد ہمارے خوف زدہ والدین نے ہمیں اسکول بھیجنا چھوڑ دیا تھا۔

حلب کے مغربی علاقے میں اتوار کو باغی گروپوں کی جانب سے گولہ باری کی اطلاعات ملی ہیں مگر ان سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔روسی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ شہر میں صورت حال کو خراب ہونے سے بچانے کے لیے جنگ بندی میں بہتر گھنٹے کی توسیع کردی گئی ہے۔جنگ بندی کی پہلی اڑتالیس گھنٹے کی مدت ختم ہونے سے قبل ہی یہ اعلان کیا گیا ہے۔

وزارت دفاع نے اتوار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ سات مئی کی شب بارہ بجے سے صوبہ اللذاقیہ اور حلب شہر میں جنگ بندی کی توسیع کی گئی ہے۔مبصرین نے اس فیصلے کے بعد اس امید کا اظہار کیا ہے کہ اس سے تنازعے کے حل کے لیے امن مذاکرات کی بحالی میں مدد ملے گی۔
.....................
شدت پسند تنظیم داعش کی جانب سے قتل و بربریت کا سلسلہ جاری ہے۔ تازہ ترین کارروائی میں دہشت گرد تنظیم نے شام کے شہر البوکمال میں 5 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ یہ شہر "ولايت الفرات" کے نام سے معروف علاقے میں پایا جاتا ہے جس میں عراق کا سرحدی شہر القائم اور اس کے نواحی علاقے بھی شامل ہیں۔

داعش کی گزشتہ وڈیو ٹیپس کے منظرناموں کی طرح اس بار بھی پانچ مرد نارنجی رنگ کے کپڑوں میں ملبوس نظر آرہے ہیں جن کو تنظیم کے ارکان نے ذبح کرنے کے بعد ان کے سر کاٹ دیے۔

انسانی حقوق کی شامی رصدگاہ کے مطابق یہ پانچوں افراد عراقی شہری تھے جن کو موت کے گھاٹ اتارنے کے لیے "ولايت الفرات" کے شامی جانب لایا گیا۔ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ مقتول افراد کا تعلق عراقی قصبے القائم سے ہے۔
یاد رہے کہ داعش نے 2 مئی کو بھی البوکمال شہر سے تعلق رکھنے والے 3 شامی نوجوانوں کو قتل کر دیا تھا۔ ان پر شامی سرکاری فوج کے منحرف افسران اور اہل کاروں کی فورس "جیش ِ حُر" کے ساتھ تعاون کا الزام عائد کیا گیا۔
............................
سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے آج جمعے کے روز بتایا ہے کہ باغی گروپوں نے شدید لڑائی کے بعد حلب سے جنوب کی جانب واقع دفاعی اعتبار سے ایک اہم گاؤں حکومتی افواج سے چھین لیا ہے۔ 

بتایا گیا ہے کہ اس لڑائی کے دوران تہتّر افراد ہلاک ہو گئے۔ ان باغی گروپوں نے، جن میں القاعدہ سے قریبی وابستگی رکھنے والا النصرۃ فرنٹ بھی شامل ہے، خان طومان نامی گاؤں پر قبضے کے لیے حکومتی افواج کے خلاف لڑائی کا آغاز  کل جمعرات کے روز کیا تھا۔ یہ گاؤں دمشق اور حلب کو ملانے والی شاہراہ پر واقع ہونے کے باعث بھی اہمیت کا حامل ہے۔
.....................
شام میں باغیوں کے کنٹرول والےشمالی علاقے میں ایک پناہ گزیں کیمپ پر ہونے والے فضائی حملے میں درجنوں لوگ ہلاک ہو گئے ہیں۔ سوشل میڈیا پردیکھے جانے والی تصاویر میں  ادلب صوبے میں ترکی سرحد کے قریب قائم کمونہ کیمپ میں خیمے تباہ ہو چکے ہیں۔

بعض اطلاعات کے مطابق یہ حملہ شامی یا روسی جنگی طیاروں نے کیا ہے لیکن ابھی اس کی تصدیق نہیں ہوئی۔ یہ حملہ جنگ بندی کی توسیع کے محض ایک دن بعد کیا گیا ہے۔
شامی فوج اور غیر جہادی گروہوں نے روس اور امریکی دباؤ کے بعد حلب شہر کے ارد گرد عارضی جنگی بندی پر اتفاق کیا ہے۔

کمونہ کیمپ شام میں خانہ جنگی کے باعث بے گھر ہونے والوں کے لیے قائم کیا گیا ہے جو سرمدا سے چار کلو میٹر دور جبکہ ترکی کی سرحد سے دس کلو میٹر دور ہے۔

اس وقت ان علاقوں میں 48 گھنٹوں کی جنگ بندی جاری ہے جو جمعرات کی صبح شروع ہوئی۔ قومی سطح پر کی گئی اس جنگ بندی میں دولتِ اسلامیہ ، القاعدہ اور النصرہ فرنٹ کے گروہ شامل نہیں ہیں۔
اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ بندی کا یہ معاہدہ ناکام ہوتا ہے تو یہ تباہ کن ہوگا جس سے مزید چار لاکھ افراد بے گھر ہو گر ترکی کی سرحد کا رخ کر سکتے ہیں۔

......................
امریکا کے وزیر خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ شام کے صدر بشار الاسد کو حلب اور دوسرے شہروں میں امریکا اور روس کی جانب سے متفقہ طور پر جنگ بندی کے اعلان کو تسلیم کرنا پڑے گا۔ اگر جنگ بندی کی خلاف ورزی کی گئی تو اس کے سنگین نتائج سامنے آئیں گے جس کی ذمہ داری اسد رجیم پرعاید ہوگی۔

واشنگٹن میں محکمہ خارجہ کے ہیڈ کواٹرمیں صحافیوں سےبات کرتے ہوئے جان کیری نے کہا کہ ’اگر بشار الاسد کی جانب سے شام میں جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیاں کی جاتی رہیں تواس کے سنگین نتائج واضح ہوں گے۔ جنگ بندی ختم ہوجائے گی اور ملک ایک بار پھر جنگ کی لپیٹ میں آجائے گا‘۔

جنیوا میں امن مذاکرات سے واپسی پرگفت و گو کرتے ہوئے جان کیری کا کہنا تھا کہ میں سمجھتا کہ روس شام میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا حامی ہے یا بشار الاسد جنگ بندی کی خلاف روزی کرکے کوئی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کے سنگین نتائج سامنے آئیں تاہم انہوں نے یہ وضاحت نہیں کی کہ آیا سنگین نتائج کس نوعیت کے ہوسکتے ہیں۔ البتہ ان کا کہنا تھا کہ ان خطرناک نتائج پر روس اور امریکا کے درمیان بات چیت ہوچکی ہے اور یہ دونوں ملک ہی مل کر شام کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت تمام ملکوں کی پوری کوشش شام میں جنگ بندی کا عملی نفاذ ہے۔ ہم سب حلب کا تحفظ چاہتے ہیں۔ واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان حلب میں نئی جنگ بندی پر تفصیلی بات چیت اور اتفاق ہوچکا ہے۔ اب بشار الاسد کو بھی اس سے اتفاق کرنا ہوگا۔

جان کیری کا کہنا تھا کہ امریکا اور روس کی مذاکراتی ٹیموں نے پچھلے 48 گھنٹوں میں جو کچھ بھی صلاح مشورہ کیا ہے۔ اسے ہم عملی شکل میں نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ ہماری کوشش شام میں ہرطرح کی لڑائی کا خاتمہ ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکا اور روس دونوں حلب میں مکمل جنگ بندی پر متفق ہیں، تاہم بعض ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ حلب میں جنگ بندی سے متعلق روس کا موقف امریکا سے مختلف رہا ہے۔

قبل ازیں روسی وزیرخارجہ سیرگی لافروف نے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسٹیفن دی میستورا سے ملاقات کے دوران امید ظاہر کی کہ حلب میں جنگ بندی کے اعلان پر تمام فریقین عمل درآمد یقینی بنائیں گے۔ انہوں نے حلب میں جنگ بندی پر عمل درآمد سے متعلق یہ بیا اس وقت دیا جب منگل کو شامی فوج کی بمباری میں مزید 19 شہریوں کی ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔
.....................
خلیج تعاون کونسل نے شام کے شہر حلب کے اسپتالوں اور شہری آبادی پر سرکاری فوج کی وحشیانہ بمباری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے انسانی جرم قرار دیا ہے۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق خلیج تعاون کونسل کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر عبدالطیف بن راشد الزیانی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ حلب میں شامی فوج نے اسپتال اور شہری آبادی پر وحشیانہ بمباری کی ہے وہ سنگین انسانی اور جنگی جرم ہے۔ اسدی فوج نے اسپتالوں اور عام آبادی پر بمباری کے ذریعے سیکڑوں افراد کو ہلاک اور زخمی کرتے ہوئے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ انسانیت سے مکمل طور پر عاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ خلیج تعاون کونسل حلب میں شامی فوج کی بمباری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔ انہوں نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ حلب میں شامی فوج کی جارحیت کا نوٹس لینے کے لیے بشارالاسد اور ان کی فوج کے خلاف فوری کارروائی شروع کرے۔

ڈاکٹر الزیانی نے کہا کہ خلیج تعاون کونسل شامی عوام کے ساتھ ہے اور سرکاری فوج کی وحشیانہ کارروائیوں کے خلاف ہر فورم پر آواز بلند کرتی رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ شام میں جاری انقلاب کی تحریک جلد ثمر آور ثابت ہو گی۔
..................
شام کے سرحدی شہر حلب پر سرکاری فوج کی وحشیانہ بمباری میں بڑی تعداد میں شہریوں کی ہلاکتوں کے بعد امریکا اور روس نے جنگ بندی کی کوششیں دوبارہ تیز کردی ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان جاش ایرنسٹ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ "ہم جنگ بندی کے احیاء کے لیے پُرامید ہیں۔ حلب میں لڑائی روکنے اور فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرنےکا پابند بنانے کے لیے ہرممکن اقدامات کر رہے ہیں تاکہ مزید کشت وخون سے بچا جاسکے۔"

خیال رہے کی امریکا اور روس کی جانب سے حلب میں جنگ بندی کی تازہ مساعی ایک ایسے وقت میں کی گئی ہیں جب حالیہ ایک ہفتے میں اسدی فوج کی وحشیانہ بمباری سے دو سو سے زاید افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔

ادھر روسی خبر رساں اداروں نے شامی اپوزیشن رہنما قدری جمیل کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ "روس اور امریکا نے شام میں جنگ بندی کو دوبارہ فعال بنانے سے اتفاق کیا ہے۔ جلد ہی جنگ بندی کا دائرہ حلب، دمشق اور اللاذقیہ تک پھیلایا جائے گا۔ قدری جمیل کا کہنا تھا کہ وسط شب سے جنگ بندی کا اطلاق ہوسکتا ہے۔"

درایں اثناء روسی حکومت کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کا ملک شام کے بحران کے حل کے سلسلے میں امریکا کے ساتھ رابطے میں ہے۔ روسی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ شام میں ’خاموش نظام‘ ہرقسم کے اسلحہ کے استعمال اور عسکری کارروائیوں کی ممانعت کرتا ہے۔

شام میں جنگ بندی کی نگرانی کرنے والے روسی مرکز کے عہدیدار جنرل سیرگی کور الینکوف نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ حلب میں تازہ بمباری کے بعد جنگ بندی کی مساعی تباہ سے دوچار ہوسکتی ہیں۔
شامی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ دمشق اور اللاذقیہ میں جنگ بندی 30 اپریل کی شب کو نافذ ہوگئی ہے تاہم غیر جانب دار ذرائع سے جنگ بندی کی تصدیق نہیں ہوسکی۔
سرکاری فوج کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ مشرقی الغوطہ اوردمشق میں عارضی جنگ بندی 24 گھنٹے جب کہ شمالی اللاذقیہ میں 72 گھنٹے کے لیے جنگ بندی کی گئی ہے۔
....................
شام میں فروری میں نافذ ہونے والی جنگ بندی کی بڑھتی ہوئی خلاف ورزیوں کے تناظر میں روس اور امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ ساحلی صوبے لاذقیہ اور دمشق کے نواحی علاقے مشرقی غوطہ میں مقامی جنگ بندیاں نافذ کرنے کی کوشش کریں گے۔

شامی حکومت کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ جنگ بندی ہفتے کو مقامی وقت کے مطابق ایک بجے دوپہر شروع ہو گی اور دمشق اور مشرقی غوطہ میں 24 گھنٹے تک جاری رہے گی۔ بیان میں کہا گیا کہ لاذقیہ صوبے میں بھی اسی طرح کی جنگ بندی 72 گھنٹے تک نافذ رہنے کی توقع ہے۔

گزشتہ ہفتے حلب میں حکومت اور باغی فورسز کے درمیان جنگ میں 230 شہریوں کی ہلاکت کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ پانچ سال قبل خانہ جنگی شروع ہونے سے پہلے حلب آبادی کے لحاظ سے شام کا سب سے بڑا شہر تھا۔

مرنے والوں میں کم از کم 50 افراد ایسے تھے جو رات کو بمباری کا نشانہ بننے والے ایک اسپتال میں موجود تھے۔

امریکی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ وزیر خارجہ جان کیری اور ان کے روسی ہم منصب سرگئی لاوروف نے جمعے کو اس منصوبے کی تفصیلات پر بات چیت کی۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ تازہ جنگ بندی پر کچھ عرصے سے بات چیت جاری تھی۔

حکام کا کہنا تھا کہ امریکہ، روس اور سیریئن سپورٹ گروپ میں شامل 17 دیگر ممالک جنگ بندی کو مؤثر بنانے کے لیے شامی حکومت یا باغیوں پر اپنا اثرورسوخ استعمال کریں گے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر نے کہا کہ لاذقیہ اور مشرقی غوطہ میں جنگ بندی تمام فریقین کے عزم کا امتحان ہو گا۔

حلب میں باغی سرکاری قبضے والے علاقوں کو مسلسل راکٹوں اور گولہ بارود سے نشانہ بنا رہے ہیں۔ سرکاری میڈیا کے مطابق ایک مسجد پر بمباری سے 15 افراد ہلاک اور 30 زخمی ہو گئے۔

شامی حکومت بھی مسلسل بمباری کر رہی ہے۔ شہری دفاع کے حکام کا کہنا ہے کہ حکومت کی فضائی کارروائیوں میں ایک طبی علاج گاہ کو نشانہ بنایا گیا جس میں متعدد افراد زخمی ہوئے جبکہ حلب میں بدھ کی رات ایسی ہی کارروائیوں میں ایک اسپتال تباہ ہو گیا جس میں عملے کے چھ ارکان سمیت 50 افراد ہلاک ہو گئے۔
...................
شام کے شہری دفاع سے متعلق اہل کاروں کے مطابق،  دوسرے روز بھی شام کے سب سے بڑے شہر، حلب پر فضائی حملے جاری رہے، جہاں ایک روز قبل اسپتال پر بم برسائے گئے جس کے نتیجے میں عمارت تباہ ہوگئی۔

گذشتہ پانچ برس سے اِس اسپتال میں دائمی امراض اور دانتوں کی بیماریوں کا علاج کیا جاتا تھا، اب وہ بُری طرح مسمار ہوچکی ہے۔ زخمی ہونے والوں میں ایک نرس شامل ہے۔

سرکاری ذرائع ابلاغ میں چھپنے والی خبروں کے مطابق، باغیوں نے باب الفراج کے مضافات میں حلب کی مسجد پر گولہ باری کی ہے، جس کے نتیجے میں کم از کم 15 افراد ہلاک، جب کہ 30 زخمی ہوئے۔

شہر کے ایک مکین نے ’اے ایف پی‘ خبر رساں ادارے کو بتایا کہ ’’لڑاکا جہازوں کے حملے رات بھر جاری رہے، اور ہم ایک لمحے کو سو نہیں سکے۔ ہمارے پاؤں تلے زمین لرز رہی ہے‘‘۔

تشدد کی مزید کارروائیوں کے خوف سے باغیوں کے کنٹرول والے مضافات کی مساجد میں جمعے کی نماز ادا نہیں کی گئی۔

گذشتہ ہفتہ، جب سے تشدد کے یہ واقعات چھڑے ہیں، حلب میں جمعرات کا روز خونریز ترین تھا، جب، ’سیریئن آبزرویٹری فور ہیومن رائٹس‘ کے مطابق، 54 افراد ہلاک ہوئے۔ کم از کم 200 شہری اُس وقت ہلاک ہوئے جب اس ہفتے باغیوں نے سرکاری کنٹرول والے حلب کے مضافات پر راکیٹ اور توپ خانے سے گولے باری کی، جب کہ باغییوں کے علاقے پر حکومت نے فضائی حملے جاری رکھے۔

اقوام متحدہ کے حقوقِ انسانی سے متعلق ادارے کے سربراہ، زید رعد الحسین نے جمعے کو ایک بیان جاری کیا جس میں گذشتہ ہفتے شام میں بھڑک اٹھنے والی تشدد کی کارروائیوں میں ’’شہری زندگی کی حرمت کی پرواہ کیے بغیر ہلاکتیں ہوئیں، جن میں تنازعے میں ملوث تمام فریق کی جانیں شامل ہیں‘‘۔

حلب شام کا سب سے بڑا شہر ہے۔ حکومت شام اور باغیوں نے اس شہر کے مختلف علاقوں کا کنٹرول سنبھال رکھا ہے، جب کہ متعدد گروپ نے، جن میں القاعدہ اور داعش شامل ہیں، ملحقہ صوبے کے حصوں پر تسلط جمایا ہوا ہے۔

شام اور مخالفین نے جمعے کے روز جنگ بندی پر رضامندی کا اظہار کیا تھا جس کا مقصد امن مذاکرات کے لیے راہ ہموار کرنا تھا۔ اسلامی شدت پسند امن معاہدے کا حصہ نہیں ہیں، اور اُن کے خلاف حکومتی کارروائی جاری ہے
...................................

شام میں حزبِ اختلاف کے مرکزی اتحاد نے اقوامِ متحدہ سے امن مذاکرات معطل کرنے کا مطالبہ کیا ہے جب کہ باغیوں نے جنگ بندی کے باوجود صدر بشار الاسد کی حامی فوج کے خلاف نئے حملے کیے ہیں۔

جنیوا میں اقوامِ متحدہ کی میزبانی میں جاری مذاکرات میں شریک شامی حزبِ اختلاف کے وفد کے تین ارکان نے پیر کو شام کے لیے اقوامِ متحدہ کے خصوصی ایلچی اسٹیفن ڈی مستورا سے ملاقات کی اور انہیں حزبِ اختلاف کے فیصلے سے آگاہ کیا۔

وفد کے ایک رکن محمد الابعود نے خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کو بتایا ہے کہ انہوں نے عالمی ادارے کے ایلچی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حالات سازگار ہونے تک مذاکرات ملتوی کردیں۔

ملاقات کے بعدشامی حزبِ اختلاف کے اتحاد 'اعلیٰ مذاکراتی کمیٹی' کی جانب سے جاری ایک بیان میں مذاکرات ملتوی کرنے کے مطالبے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ حزبِ اختلاف اپنے اس موقف پر قائم ہے کہ شام میں مستقبل کے کسی بھی نظمِ حکومت میں صدر بشار الاسد کی کوئی جگہ نہیں بنتی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ مذاکرات میں وقفے سے فریقین کو حزبِ اختلاف کے اس بنیادی مطالبے پر مزید غور کا وقت مل سکے گا۔

بیان میں حزبِ اختلاف کےا تحاد نے واضح کیا ہے کہ مذاکرات کے التوا کے مطالبے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ حزبِ اختلاف مذاکرات کا بائیکاٹ کر رہی ہے۔

مذاکراتی عمل میں شریک ایک غیرملکی سفارت کار نے خبر رساں اداروں کو بتایا ہے کہ شامی حزبِ اختلاف کی خواہش ہے کہ اقوامِ متحدہ شامی حکومت اور اس کے مظالم کی کھل کر مذمت کرے۔

سفارت کار کے مطابق شامی حزبِ اختلاف کی خواہش ہے کہ ڈی مستورا اپنا وزن حزبِ اختلاف کے پلڑے میں ڈالیں اور مذاکرات سے متعلق شامی حکومت کے رویے پر کھلم کھلا تنقید کرکے اس پر دباؤ بڑھائیں۔

جنیوا مذاکرات میں شریک شامی حزبِ اختلاف کی اعلیٰ مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ ریاض حجاب پہلے ہی واضح کرچکے ہیں کہ اگر شامی حکومت اور اس کے اتحادیوں نے باغیوں کے زیرِ انتظام علاقوں کا محاصرہ اور شہری آبادیوں پر بمباری کا سلسلہ جاری رکھا تو مذاکرات آگے نہیں بڑھیں گے۔

امریکہ اور روس کی کوششوں کے نتیجے میں شام میں 27 فروری کو نافذ ہونے والی جنگ بندی کا مقصد شامی حکومت اور اس کے خلاف برسرِ پیکار باغیوں اور حزبِ اختلاف کی جماعتوں کو مذاکرات کی میز پر لانا تھا تاکہ شام میں پانچ برسوں سے جاری خانہ جنگی کا سیاسی حل تلاش کیا جاسکے۔

اقوامِ متحدہ کی میزبانی میں ہونے والے مذاکرات کا ہدف فریقین کو شام میں عبوری حکومت کے قیام پر متفق کرنا ہے جو اقتدار سنبھالنے کے کچھ عرصے بعد ملک میں آزادانہ انتخابات منعقد کرکے اقتدار منتخب نمائندوں کو سونپ سکے۔

لیکن روس اور ایران کی حمایتِ یافتہ شامی حکومت کا موقف ہے کہ حزبِ اختلاف کے ساتھ صدر بشارالاسد کے مستقبل پر کوئی بات چیت نہیں ہوگی اور وہ مستقبل میں طے پانے والے کسی بھی نظمِ حکومت میں بدستور ملک کے سربراہ  رہیں گے۔

تنازع کے دونوں فریقین جنگ بندی کے بعد سے مسلسل ایک دوسرے پر اس کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں اور شام کے دوسرے بڑے شہر حلب کے نزدیک جاری لڑائی میں رواں ماہ تیزی آنے کے بعد سے ان الزامات اورکشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے۔

دریں اثنا شامی باغیوں نے پیر کو شام کے صوبے لتاکیہ میں سرکاری فوج پر بڑا حملہ کیا ہے جب کہ شمالی صوبے حما میں بھی باغی دستوں کی پیش قدمی کی اطلاعات ہیں۔

پیر کو باغیوں کی جانب سے جاری ایک بیان میں مذکرات میں شریک حزبِ اختلاف کے وفد پر زور دیا گیا ہے کہ وہ بات چیت کے دوران شامی حکومت اور ڈی مستورا کی جانب سے پیش کیے جانے والے شام کے بحران کے "ادھورے حل" کے خلاف سخت موقف اپنائیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ عالمی برادری نے شام میں محاصرے کا شکار علاقوں میں امداد پہنچانے، رہائشی علاقوں پر بمباری رکوانے اور قیدیوں کی رہائی کے جو وعدے کیے تھے وہ بھی پورے نہیں ہوئے ہیں۔

بیان کے مطابق شام کے لیے اقوامِ متحدہ کے خصوصی ایلچی ڈی مستورا کے جانبدارانہ اقدامات اور شامی حکومت اور اس کے اتحادیوں کے لیے ان کی ہمدردی  پر باغی گروہوں کو گہری تشویش ہے اور وہ عالمی ایلچی کے ایسے تمام اقدامات کو مسترد کرتے ہیں۔

...................................
عالمی ادارہ صحت نے حکومتِ شام سے زیر محاصرہ اور دور افتادہ علاقوں میں جان بچانے والی ادویات اور جراحی کے آلات پہنچانے کی اجازت دینے کی اپیل کی ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ شامی حکام کئی برسوں سے امدادی قافلوں سے عمل ِ جراحی کے آلات اور ادویات کی رسد چھین لیتے ہیں۔ تاہم، عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ چونکہ برسوں سے یہ تنازعہ جاری ہے، ایسے میں یہ غلط روایت اب غفلت میں بدلتی جارہی ہے جو کہ انسانی جان کے لیے خطرناک ہے، ایسے میں جب بیمار افراد نحیف تر اور عارضوں میں مبتلہ لوگ شدید بیمار پڑتے جا رہے ہیں۔

ادارے نے توجہ دلائی ہے کہ گذشتہ سال نو واقعات ہوئے جب حمص، حلب اور دمشق کے دیہات سے گزرنے والےامدادی سامان کے قافلوں سے طبی رسد ہٹائی گئی، جو لڑائی میں پھنسے ہوئے لوگوں کی امداد کے لیے فراہم کی جا رہی تھی۔ نتیجتا ً، 100000سے زائد افراد تک ضروری طبی امداد بروقت نہیں پہنچ پائی۔

عالمی ادارہ صحت کی ترجمان خاتون، فاضلہ شعیب نے کہا ہے کہ حالیہ دِنوں کے دوران بھی 'اینٹی بایوٹکس' اور دائمی امراض سے متعلق ادویات ہٹا لی گئیں، جو مدیہ، زبادانی، کفریہ، ادلب اور حمص کے زیر محاصرہ شہروں کے لیے تھیں۔

 اُنھوں نے بتایا کہ یہ رسد، جسے اس سے قبل قبول کیا جاتا رہا ہے، اب اِسے منظور کردہ ادویات کی فہرست سے خارج کر دیا گیا ہے۔

فاضلہ شعیب کے بقول، ''یہ پریشان کُن امر ہے، چونکہ، جیسا کہ آپ کو پتا ہے، متعدد افراد، سینکڑوں لوگوں کو اینٹی بایوٹکس اور دائمی امراض کی ادویات  باقاعدگی سے درکار ہوتی ہیں، جن کے بغیر اُن کے جان کو خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ کئی لوگوں کو ذیابیطس، سرطان، ہائپر ٹینشن ہوتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ کوئی دمے کی بیماری میں مبتلہ ہو اور اگر دوائی بروقت نہ پہنچ سکی تو ایسے مریضوں کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے''۔

اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی، استفان ڈی مستورا نے کہا ہے کہ اپنے حالیہ دورہ دمشق میں اُنھوں نے شامی حکام سے اِسی طرح کی تشویش ظاہر کی۔ اُنھوں نے بتایا کہ اُنھیں اس بات کی یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ زیر محاصرہ علاقوں کو جان بچانے والی ادوہات کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی، جب کہ  سرجیکل آلات اور 'ایٹروپائن' اور 'اینگزائٹی پیلز' کو اجازت نہیں ہوگی۔

مستورا نے کہا کہ ''ہمیں ابھی تک عمل جراحی کے آلات سے متعلق تشویش ہے، جو صرف فوجی استعمال نہیں کرتے، بلکہ  اِنھیں مثال کے طور پر بچوں کو ضرورت پڑ سکتی ہے، جو واقعات میں زخمی ہوتے ہیں، اُنھیں درکار ہوسکتے  ہیں''۔

عالمی ادارہ صحت نے مطالبہ کیا ہے کہ زیر محاصرہ علاقوں میں طبی ضروریات کا جائزہ لینے کی اشد ضرورت ہے، جس کی وقفے وقفے سے اجازت دی جانی چاہیئے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ایسے مشن لوگوں کی صحت کی ضروریات معلوم کرنے میں مدد دیں گے، تاکہ ضروری طبی امداد بروقت پہنچائی جاتی رہے۔

.............................
دمشق کے مشرقی علاقے میں قائم ایک سیمینٹ فیکٹری پر داعش کے حملے کے بعد اس علاقے سے قریب دو سو پچاس شامی باشندوں کی گمشدگی کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ 

خیال کیا جا رہا ہے کہ سینکڑوں کی تعداد میں شامی باشندوں کو آئی ایس کے انتہاپسند باغیوں نے اغوا کر لیا ہے۔ قدیم ثقافتی شہر پالمیرا پر سے اپنے قبضے کے خاتمے کے بعد سے داعش کے جہادیوں نے مشرقی دمشق میں ایک بڑی کارروائی کا آغاز کر رکھا ہے۔ 

داعش کی طرف سے دمشق پر یہ تازہ ترین حملہ آئندہ ہفتے جینیوا میں امن مذاکرات کے انعقاد سے چند روز پہلے ہوا ہے۔

................................
برسلز میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کے دو ہفتے بعد، امریکی صدر براک اوباما اور نیٹو کے سکریٹری جنرل ژان اسٹولٹن برگ نے اس المناک معاملے پر گفت و شنید کی اور داعش کے شدت پسند گروپ کے خلاف لڑائی پر دھیان مرتکز رکھنے کی اہمیت کا اعادہ کیا۔

صدر اوباما کے بقول، ’’کوئی شک نہیں کہ دنیا ایک اہم موڑ سے گزر رہی ہے۔ عالمی سلامتی کے نظام کے حوالے سے یورپ کئی مشکل مراحل سے دوچار اور نبردآزما ہوا ہے‘‘۔ 

اُنھوں نے یہ بات اُس وقت کہی جب پیر کے روز اوول آفس میں نیٹو کے سکریٹری جنرل اُن کے ساتھ  موجود تھے۔

اسٹولٹن برگ کے ساتھ بات چیت کے بعد اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے، امریکی صدر نے داعش سے نبردآزما ہونے کے حوالے سے نیٹو کی کوششوں کو سراہا، خاص طور پر عراق اور اردن میں مقامی افواج کو تربیت اور اعانت فراہم کرنے کے کام کی نشاندہی کی۔ 
اسٹولٹن برگ نے خطے میں دیگر ممالک کے لیے نیٹو کی حمایت کا اعادہ کیا، تاکہ دولت اسلامیہ کے خلاف کوششیں جاری رہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ ’’نیٹو میں ہمارا ایجنڈا مقامی استعداد بڑھانے کے طریقہٴ کار پر مرکوز ہے‘‘۔

دونوں رہنماؤں نے افغانستان پر گفتگو کی، جس دوران اوباما نے اس جنوبی ایشیائی ملک میں استحکام لانے کے حوالے سے نیٹو کو ایک غیر معمولی پارٹنر قرار دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امریکی دارالحکومت میں منعقدہ جوہری سمٹ کے دوسرے اور آخری روز شرکاء نے دہشت گرد تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ پر بھی تبادلہٴ خیال کیا۔ امریکی 
صدر باراک اوباما نے دنیا بھر سے گئے ہوئے پچاس سے زیادہ عالمی رہنماؤں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ’اسلامک اسٹیٹ‘ جیسے گروپوں کے جنونی لوگوں کو جوہری یا ’ڈرٹی بم‘ کی دسترس میں آنے سے روکنے کے لیے مزید عالمگیر تعاون درکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایس کی جانب سے بیلجیم کے ایک ایٹمی بجلی گھر سے متعلق معلومات تک رسائی کی کوششوں سے ایٹمی مواد میں دہشت گردوں کی دلچسپی واضح ہوتی ہے۔ چینی وزارتِ خارجہ کے مطابق اس سمٹ کے پہلے روز چین اور  امریکا کے درمیان سائبر سکیورٹی کے معاملے میں زیادہ باہمی تعاون اور ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کی پاسداری جاری رکھنے پر اتفاق ہو گیا تھا۔ پہلے روز شمالی کوریا کے ایٹمی پروگرام پر بھی تبادلہٴ خیال کیا گیا۔ اس کانفرنس کے موقع پر باراک اوباما نے ترک ہم منصب رجب طیب ایردوآن کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکا کی مکمل حمایت اور تعاون کا یقین دلایا۔
-------------------------------------------
صدر براک اوباما کی سربراہی میں جمعرات کو واشنگٹن میں جوہری سلامتی کے موضوع پر بین الاقوامی کانفرنس کا آغاز ہوگیا ہے جس میں 50 سے زائد ملکوں کے سربراہان اور اعلیٰ نمائندے شریک ہیں۔

کانفرنس ایک ایک ایسے وقت ہو رہی ہے جب ٹنوں کے حساب سے خام جوہری مواد اب بھی اتنا محفوظ نہیں اور ممکنہ طور پر اس کے دہشت گردوں کے ہاتھ لگنے کا خطرہ موجود ہے۔

جمعرات کو سربراہی اجلاس کی افتتاحی نشست سے خطاب کرتے ہوئے صدر اوباما نے کہا کہ شمالی کوریا کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کی مسلسل تیاری کے باعث دنیا مسلسل خطرے سے دوچار ہے جب کہ جوہری ہتھیار داعش کے ہتھے چڑھنے کا خدشہ بھی موجود ہے۔

اجلاس کے باضابطہ آغاز سے قبل صدر اوباما نے وہائٹ ہاؤس میں جنوبی کوریا کی صدر پارک گیون ہئی اور جاپانی وزیرِاعظم شینزو ایبے سے ملاقات کی جس میں تینوں رہنماؤں نے شمالی کوریا کے حالیہ جوہری تجربے اور میزائل تجربات سے پیدا ہونے والی صورتِ حال پر تبادلہ خیال کیا۔

اس سہ فریقی ملاقات کے بعد صدر اوباما نے چین کے صدر ژی جن پنگ سے بھی ملاقات کی جس میں ہونے والی گفتگو میں بھی شمالی کوریا کا معاملہ سرِ فہرست رہا۔

خیال رہے کہ چین شمالی کوریا کا سب سے بڑا اتحادی ہے لیکن حالیہ عرصے کے دوران چینی حکومت بھی شمالی کوریا کی ہٹ دھرمی اور میزائل تجربات پر ناگواری ظاہر کرتی رہی ہے۔

وائٹ ہاوس کا کہنا ہے کہ دہشت گرد گروپوں کی طرف سے جوہری حملے کے امکانات کا اندازہ لگانا ناممکن ہے لیکن دنیا بھر میں فوجی اور سول جوہری پروگراموں سے منسلک تقریباً دو ہزار میٹرک ٹن انتہائی افژودہ یورینیئم اور پلوٹونیئم موجود ہے۔

امریکہ کی قومی سلامتی کے نائب مشیر بین روہڈز کا کہنا ہے کہ "ہمیں معلوم ہے کہ دہشت گرد تنظیموں کی خواہش ہے کہ اس خام مواد تک رسائی ہو اور وہ ایک جوہری ہتھیار کی خواہش رکھتی ہیں۔" ان کے بقول بین الاقوامی جوہری سلامتی میں تعاون کو دگنا کرنے کی ضرورت ہے۔

اس کانفرنس میں پہلی بار ایک خاص سیشن شامل کیا گیا ہے جس میں اس بارے میں تبادلہ خیال کیا جائے گا کہ کس طرح اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ داعش جیسے گروپوں کے ہاتھ جوہری مواد نہ لگے۔

دو روزہ کانفرنس میں شریک وفود جوہری خطرات اور ان سے بچنے کے طریقوں پر بات چیت کریں گے۔

:دیگر مضامین
(04.07.2016) اماراتی شہری بیرون ملک ’روایتی لباس پہننے سے اجتناب کریں‘
(04.07.2016) جدہ میں امریکی قونصل خانے کے قریب خودکش بمبار ہلاک
(04.07.2016) غزہ پٹی کے لیے ترک امدادی سامان اسرائیلی بندرگاہ پہنچ گیا
(03.07.2016) عراق کے دارالحکومت میں 2 دھماکے، 23 افراد ہلاک
(03.07.2016) بنگلہ دیش کی حکومت نے کہا ہے کہ ڈھاکا میں ریستوران ’ہولی آرٹیزن بیکری‘ پر حملے کے دوران یرغمال بنائے گئے افراد میں سے 22 مارے گئے۔
(03.07.2016) مسجد الحرام میں بھگدڑ کے نتیجے میں 18 معتمرین زخمی
(02.07.2016) ورلڈ ٹریڈ سینٹر حملہ: ’سعودی عرب نفرت پھیلانے کا مجرم‘
(02.07.2016) آسٹریا کی اعلیٰ ترین عدالت نے مئی کے صدارتی انتخابات کے نتائج منسوخ کر دیے
(01.07.2016) استنبول دھماکے:’حملہ آوروں کا تعلق 3ممالک سے بتایا گیا ہے
(01.07.2016) افغانستان: خودکش بم دھماکوں میں درجنوں ہلاک و زخمی
(01.07.2016) امریکی افواج میں خواجہ سراؤں کی بھرتی پرعائد پابندی ختم
(01.07.2016) جرمنی کے نائب چانسلر زیگمار گابریل نے کہا ہے کہ برطانیہ کسی اور وقت یورپی یونین کی رکنیت حاصل کر سکے گا۔ 
(01.07.2016) لندن کے سابق میئر بورس جانسن وزارت عظمیٰ کی دوڑ سےدستربردار 
(30.06.2016) سعودیہ میں  اپنے ملک کے شہریوں پر جبر کرنے اور یمن میں عام شہریوں کی ہلاکت پر، سعودی عرب کی انسانی حقوق کونسل کی رکنیت معطل کریں۔
(30.06.2016) استنبول حملے کا 'ذمہ دار' داعش ہے، امریکہ و ترکی کا الزام
(30.06.2016) برطانیہ کے بعد اور ممالک بھی یورپی یونین سے جان چھڑالیں گے، نائجل
(29.06.2016) بان کی مون کا اسرائیل پر’’دو ریاستی حل‘‘ پر زور
(29.06.2016) جرمی کوربین۔ لیبر پارٹی کے 172 ممبر پارلیمنٹ نے ان کے خلاف ووٹ دیا
(28.06.2016) یمن میں افطار کے وقت خود کش دھماکے کے نتیجے میں 42 افراد ہلاک
(28.06.2016) بریگزٹ ریفرنڈم کے بعد پولش اور مسلم شہریوں پر برطانیہ میں نسل پرستانہ حملے



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں