14.12.2018, 10:51am , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
ریڈیو پاکستان نے لاہور کے تاریخی ریڈیو اسٹیشن کا ایک اہم اسٹوڈیو اولیں ناشر اعلان قیام پاکستان مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے نام سے موسوم کر دیا
یکم نومبر دو ہزار بارہ عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ ہے۔آن لائن اردو اخبارات میں عالمی اخبار سنجیدہ صحافت کا معیار بن چکا ہے
 
رپورٹس/ملٹی میڈیا
 

اولیں ناشرِ اعلانِ قیام پاکستان۔ مصطفیٰ علی ھمدانی کی برسی
22.04.2015, 08:05am , بدھ (GMT+1)

صفدر ھمدانی لندن

اولیں ناشرِ اعلانِ قیام پاکستان۔ مصطفیٰ علی ھمدانی  پاکستان میں نشریات کی تاریخ کا اولیں باب ہیں جنہیں خود اس قومی ادارے اور ہر عہد کی حکومت نے فراموش رکھا۔ چند سال قبل جب جناب اشفاق گوندل ریڈیو کے سربراہ تھے تو انہوں نے ریڈیو کے سالانہ ایوارڈ فنکشن میں پہلی بار مرحوم کی آواز میں قیام پاکستان کے اعلان کو ایوارڈ کی تقریب کا حصہ بنایا تھا

لاہور ریڈیو جہاں مرحوم ھمدانی صاحب نے ساری عمر گزاری وہاں بھی کسی عہد کے اسٹیشن ڈائریکٹر کو یہ توفیق نہ ہوئی کہ وہ انکی تصویر وہاں لگواتا یا کوئی اسٹوڈیو انکے نام پر یادگار کے طور پر کرتا

موجودہ سے پہلے اسٹیشن ڈائریکٹر سید رضا کاظمی نے اپنے کمرے میں اولیں ناشرِ اعلانِ قیام پاکستان۔ مصطفیٰ علی ھمدانی کی تصویر آویزاں کی  اور ریڈیو کی سابقہ سربراہ محترمہ ثمینہ پرویز نے یہ وعدہ پورا کیا کہ مرحوم کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیئے لاہور ریڈیو کا ایک اسٹوڈیو انکے نام سے موسوم کیا 



اکیس اپریل 1980میں جب مصطفیٰ علی ھمدانی کا انتقال ہوا تو پاکستان بھر کے علاوہ خاص طور پر لاہور کے لگ بھگ ہر اخبار نے جلی طور پر انکے انتقال کی خبر کے ساتھ انکے اس اعلان کا بھی ذکر کیا جو انہوں نے تیرہ اور چودہ اگست سن سنتالیس کی رات کو لاہور ریڈیو سے کیا تھا اور جسے حسب عادت متنازعے بنا دیا گیا۔ تنازعہ اس بات پر اچھالا گیا کہ یہ اعلان چودہ اور پندرہ اگست نتالیس کی درمیانی رات کو ہوا تھا اور پہلا اعلان مصطفیٰ علی ھمدانی نے نہیں ظہور آذر نے کیا تھا

 پاکستان ٹیلی ویژن کے معروف پروگرام‘‘نیلام گھر‘‘ میں بھی طارق عزیز بارہا یہ سوال پوچھ چکے ہیں کہ پاکستان بننے کاپہلا اعلان کس نے کیا اور اسکے الفاظ کیا تھے اور اسکا جواب ہمیشہ‘‘مصطفیٰ علی ھمدانی‘‘ ہی درست تسلیم کیا گیا ہے۔
میں نے اپنے کسی گزشتہ کالم میں مصطفیٰ علی ھمدانی کے سرکاری طور پر ریکارڈ ہونے والے سنٹرل پروڈکشن لاہور کے طویل انٹرویو‘‘تاریخ نشریات‘‘ کا ذکر کیا تھا اور اسی ضمن میں اس پروگرام کے پروڈیوسر جناب ناصر قریشی کا بھی حوالہ دیا تھا۔
جناب ناصر قریشی  کی اپنی غیر مطبوعہ کتاب‘‘یادوں کے پھول‘‘ سے ایک اقتباس

مصطفی علی ہمدانی
‘‘لاہور ریڈیو کے معروف اناؤنسر مصطفی علی ہمدانی ۔۔یہ وہی تاریخی شخصیت ہیں جنہوں نے 13 اور 14اگست 1947ء کی درمیانی رات آزاد وطن کی فضاؤں میں پہلی بار یہ اعلان کیا ’’یہ پاکستان براڈ کاسٹنگ سروس ہے۔‘‘
یہ ایک تاریخی اعلان تھا یہ اس تاریخ کا سرنامہ تھا جس کے لیے سینکڑوں سال سے مسلمانان برعظیم کو شاں تھے اور آخرکار آزادی اور قیام پاکستان کا سہراقائداعظم محمد علی جناح کے سر پر بندھا۔
ایک زمانہ تھا کہ ریڈیو نشریات میں زبان و سیان صحتِ لفظی ‘ لب و لہجہ اور موزونیت شعر کا خاص خیال رکھا جاتا تھا‘ نظم و نثر میں اعراب اور تحریر کی نوک پلک پر بطور خاص توجہ دی جاتی تھی۔ تب کہیں جا کے مصرعہ تر کی صورت پیدا ہوتی تھی۔ بات یہ تھی کہ چھوٹوں میں کام سیکھنے کی لگن تھی اور بڑوں میں سکھانے کی۔ ماضی قریب میں تو اتنے بڑے یکجا ہو گئے تھے کہ ریڈیو پاکستان لاہور میں پڑھے لکھے لوگوں کی کہکشاں روشن تھی اور پھر اس کہکشاں کے ستارے ماند پڑنے لگے اور پھر کچھ بجھ بھی گئے۔بجھے ہوئے دیؤں کے دھوئیں کی لکیریں اب تک علم و فن کے سپاہیوں کی ڈھارس بندھاتی ہیں۔ صوفی صاحب‘ ناصر کاظمی بذلِ حق کہیں کس کو یاد کریں۔ مصطفی علی ہمدانی اگرچہ ریڈیو پر نہیں تھے مگر شہر میں تو تھے اور غنیمت تھا۔ ان کا دم کہ باقی تھا۔
عربی فارسی اردو یہ زبانیں ان کی جولانگا تھیں فن نشرکاری اس پر مستزاد۔ وہ جس زبان میں بات کرتے اہل زبان ہونے کا یقین ہوتا اس لئے کہ انہیں اپنے علم پر‘ اپنے فن پر‘ اپنی ذات پر اور اپنے کلام پر پختہ یقین تھا۔ ہمدانی صاحب ایک مدرسہ تھے کہ یوں سمجھئے کہ میں جب بھی سکی لسانی الجھن میں مبتلا ہوتا سیدھا اخلاق احمد دہلوی کے درعلم پر دستک دیتا اللہ انہیں قائم و دائم رکھے کہ ماند پڑ گئے ہیں۔ صوفی صاحب کے حضصر حاضر ہوتا‘ ناصر کاظمی سے مشورہ کرتا یا پھر ہمدانی صاحب کو آداب عرض کرتا۔ ہمدانی صاحب اردو کے لفظ کی تاریخ بتاتے‘ ماخذ سے اگاہ کرتے لہجہ بتاتے اور تلفظ کی صحت فرماتے اور یوں ایک لفظ کے توسط سے وہ زبانوں کے جہانوں سے قلب و ذہن روشن کر ددیتے۔
ہمدانی صاحب کی خوش ذوقی‘ خوش گفتاری‘ خوش الحانی اور خوش اخلاقی ہی ہمارا سرمایہ ہے سورج کا کام ہی روشنی بانٹنا ہے۔ ہمدانی صاحب بھی آفتاب عالمتاب تھے کہ زندگی بھر علم و فن کی روشنی بانٹتے رہے۔ اب یہ ہمارا کام ہے کہ ان کرنوں کو حرزجان بنائے رکھیں۔‘‘
برادرم ناصر قریشی نے اسی کتاب ‘‘یادوں کے پھول‘‘ کے ایک اور باب میں لکھا ہے‘‘1938ء کی بات ہے کہ ہمدانی صاحب نے کسی تقریر کے سلسلے میں ریڈیو لاہور پر نظرکرم کی اسٹیشن ڈائریکٹر نے ان کی آواز سن کر ماہرانہ مگر عاجزانہ انداز میں عرض کیا ’’جناب آپ کی آواز تو بنی ہی ریڈیو کے لیے ہے ‘‘ چنانچہ اگلے سال موصوف ریڈیو میں بطور اناؤنسر رکھ لئے گئے تقدیر کو تو بہت کچھ منظور تھا چند سال بعد آزادی کی بہار آئی چنانچہ قیام پاکستان کے وقت پہلا اعلان انہی کے حصے میں آیا یعنی ’’یہ ریڈیو پاکستان براڈکاسٹنگ سروس لاہور ہے۔‘‘ نہ صرف یہ اعلان بلکہ مصطفی علی ہمدانی تاریخ بن گئے۔ آپ عربی ‘اردو‘فارسی پر یکساں عبور رکھتے تھے۔ اور آواز تو اللہ کی دین تھی۔''
صرف یہ ہی ایک اقتباس نہیں پاکستان کے کتنے ہی اخباروں،جرائد،تاریخ کی کتابوں،ریڈیو کے پروگراموں اور ٹی کے متعدد انٹرویوز اور پروگراموں میں اس بات کا ذکر صراحت سے موجود ہے کہ لاہور ریڈیو سے پاکستان کی آزادی کا پہلا اعلان اردو میں ہوا تھا اور وہ مصطفیٰ علی ھمدانی نے ہی کیا تھا۔
میں اب بھی اس پر مُصر ہوں کہ اس تمام عرصے میں کسی بھی ذرائع ابلاغ نے جناب ظہور آذر کا ذکر کیوں نہیں کیا۔ اور پھر اس امر کی کسی بڑی سطح پر تحقیقات ہونی چاہیئے کہ یہ پاکستان کی آزادی کی تاریخ کے حوالے سے پندرہ اگست کا شوشہ کس نے چھوڑا اور اسے آگے بڑھانے والے لوگ کون تھے اور کون ہیں جب اب بھی اسی حلقے کی لکیر کو پیٹ رہے ہیں۔
جہاں تک دعویٰ کرنے والوں کا تعلق ہے تو اس دنیا میں جہاں لوگ نبی،رسول حتیٰ کہ خدا ہونے کا دعویٰ کر دیتے ہیں وہاں اس ایک اعلان کی کیا حیثیت ہے؟
میرے پاس ایسے درجن بھر دعویٰ کرنے والے کے قصے کہانیاں ہیں لیکن ان میں سے دو دعوے اپنے قارئین کے سامنے لانا چاہتا ہوں تا کہ یہ ظاہر ہو سکے کہ دعویٰ کرنے والوں کی باقاعدہ ایک نسل ہے۔
اب سے کوئی دس سال پہلے پشاور میں چودہ اگست کے سلسلے میں ایک تقریب ہوئی جس کی مختصر روداد روزنامہ مشرق کے ایک کالم‘‘دریچے‘‘میں لکھی ہوئی ہے اور یہ تراشہ میرے پاس محفوظ ہے۔ اسی کالم میں ذکر ہے کہ پروفیسر خاطر غزنوی پشاور یونیورسٹی سے قبل آل انڈیا ریڈیو اور ریڈیو پاکستان سے منسلک رہے اوراسی تقریب میں انہوں نےیہ عجیب وغریب انکشاف کیا کہ بھارت کے شاعر اور ادیب جگن ناتھ آزاد نے بی بی سی کے ایک پروگرام میں دعویٰ کیا کہ تیرہ اور چودہ اگست1947کی درمیانی رات کو پاکستان کا پہلا قومی نغمہ جو نشر ہوا وہ انکا(جگن ناتھ آزاد) کا تھا۔ یہ دعویٰ سراسر غلط ہے کیونکہ اس رات پشاور ریڈیو سے احمد ندیم قاسمی کے دو نغمے نشر ہوئے تھے جبکہ لاہور سے کوئی نغمہ نہیں چلا تھا بلکہ کلام اقبال قوالی کے انداز میں نشر ہوا تھا۔ لاہور سے پاکستان کے قیام کا پہلا اعلان مصطفی علی ھمدانی نے کیا تھا۔

گیارہ مئی 1980کو لاہور نوائے وقت کی اشاعت میں ریڈیو کے ایک نہایت سینئر فرد سید اسلام شاہ کا ایک مضمون ھمدانی صاحب کی یاد میں شائع ہوا ہے جس میں انہوں نےاس پہلے اعلان کا ذکر کیا ہے اور پھر اسی مضمون کو اپنی کتاب‘‘ریڈیو پاکستان کے صداکار‘‘ مطبوعہ1993میں بھی شائع کیا ہے بلکہ اس کتاب کی ابتدا ہی مرحوم مصطفٰی علی ھمدانی کے بارے میں لکھے باب سے ہوتی ہے۔
اسلام شاہ صاحب نے اس کتاب کا انتساب معروف قانو دان اور جج سید نسیم حسن شاہ کے نام کیا ہے جو خود بھی میرے والد کے قدر دان اور مدح خوان تھے اور انہوں نے ستر کے عشرے میں شائع ہونے والی اپنی ایک کتاب کا انتساب مصطفٰی علی ھمدانی کے نام کیا تھا۔
الحمد اللہ وہ لاہور میں حیات ہیں اور متعدد تقاریب میں وہ لاہور ریڈیو سے اپنی وابستگی۔ھمدانی صاحب سے کسب فیض اور آزادی کی رات کی نشریات کا تذکرہ کر چکے ہیں۔
تاریخی حقائق کو ‘‘آن ریکارڈ‘‘ رکھنے کے حوالے سے مرحوم مصطفیٰ علی ھمدانی کے اس واحد ٹی وی انٹرویو کا بھی ذکر کرتا چلوں جو 1976یا1977میں اسوقت لاہور ٹی وی کے حالات حاضرہ کے پروڈیوسر اشرف عظیم نے کیا تھا۔
اشرف عظیم ہمارے ادبی قبیلے کے دوستوں میں بھی شامل ہیں۔ ساٹھ کے عشرے کے اواخر میں جب میں ایف سی کالج میں گریجویشن کر رہا تھا تو اسوقت اشرف عظیم گورنمنٹ کالج لاہور میں تھے۔ اس زمانے میں انٹر کالجیٹ مشاعروں میں ایف سی کالج سے میرے علاوہ،راجہ اعجاز اللہ اور یوسف نیئر شریک ہوتے تھے جبکہ اصل مقابلہ ہمارا گورنمنٹ کالج سے ہوتا تھا جہاں سے اشرف عظیم کے علاوہ مرحوم ناصر کاظمی کے دونوں بیٹے باصر کاظمی اور حسن سلطان کاظمی،مرحوم پروفیسر جیلانی کامران کے بیٹے زاہد کامران،منظر صہبائی اور ملتان سے یارِ مرحوم محسن نقوی اور اب معروف ڈرامہ نگار اصغر ندیم سید شامل ہوا کرتے تھے۔

یہ کیا کہ میں اپنا ذکر لے بیٹھا۔ دراصل یہ ذکر بھی اشرف عظیم کی وجہ سے شروع ہوا تھا۔ بات ہو رہی تھے 1976یا1977کی جن اشرف عظیم لاہور ٹی وی پر حالات حاضرہ کے پروڈیوسر تھے۔ اشرف سے قبل اسوقت کی ایک اور پروڈیوسر شمع حامد بھی تھیں جو کئی دن تک ہمارے غریب خانے پر آتی رہیں لیکن والد مرحوم کسی صورت بھی انہیں انٹرویو دینے کو تیار نہ ہوتے تھے اور اسکی وجہ انکا تمام عمر نام و نمود اور نمائش سے دور رہنا تھا۔
شمع حامد جب اس معاملے میں کامیاب نہ ہو سکیں تو یہ کام اشرف عظیم کے سپرد ہوا اور انہوں نے اس ضمن میں مجھ سے رابطہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ میں والد مرحوم کو راضی کرؤں۔ 
میں ان دنوں ریڈیو لاہور پر پروڈیوسر تھا۔ میں نے والد محترم مصطفیٰ علی ھمٰدانی سے اس ضمن میں بات کی تو انہوں نے مجھے بھی یہی دلیل دی کہ یہ ایک قومی فریضہ تھا اور یہ میری قسمت تھی کہ اُس رات میری ڈیوٹی تھی ورنہ یہ اعزاز کسی اور کو بھی مل سکتا تھا۔
میں نے عرض کی کہ ‘‘ آغا جان یہ سب کچھ درست ہے لیکن میری درخواست صرف اتنی ہے یہ سب کچھ بتانا آپکی اس لیئے ذمیداری ہے کہ یہ ایک قومی امانت ہے۔ پاکستان کے عوام کو اس بات کا علم ہونا چاہیے کہ تیرہ اور چودی اگست انیس سو سنتالیس کی درمیانی رات کو لاہور ریڈیو سے ہونے والی نشریات کیا تھیں اور درست الفاظ کیا تھے؟ اور یوں بھی یہ آپ پر فرض عائد ہوتا ہے کہ اس قومی امانت کو قوم تک پہنچا دیں ورنہ یہ دنیا تو مفاد پرستوں سے بھری پڑی ہے اور اور زندگی کا کیا بھروسہ‘‘۔
میری اس تقریر کو سُن کو وہ چند لمحے تو خاموش رہے اور پھرکہنے لگے‘‘ ٹھیک ہے میں انٹرویو دوں گا لیکن اس شرط پر کہ تم میرے ساتھ ٹی وی چلوگے‘‘۔
میں نے فوری حامی بھر لی لیکن مجھے آج تک یہ بات سمجھ میں نہیں آ سکی کہ انہوں نے یہ شرط کیوں عائد کی۔
یہاں یہ بھی متعدد قارئین کو بتاتا چلوں کہ مصطفیٰ علی ھمٰدانی نے لاہور ٹی وی کی نشریات شروع ہونے کے کچھ عرصے بعد کافی عرصے تک لاہور ٹی وی سے خبریں بھی پڑھی تھیں اور یہ خبریں تین لوگ پڑھتے تھے۔ انکے ساتھ سہیل ظفر اور ابصار عبدالعلی ہوا کرتے تھے۔ الحمد اللہ سہیل ظفر اور ابصار عبدالعلی لاہور میں حیات ہیں۔
ابصار عبدالعلی کا ذکر آیا تو یہ بھی بتاتا چلوں کہ ٹی وی کا یہ انٹرویو بھی ابصار صاحب نے کیا تھا۔
بات ہو رہی تھی اشرف عظیم کی اور ٹی وی کے اس پہلے،آخری اور واحد انٹرویو کی۔
 اس پروگرام کا نام ‘‘زندہ گواہی ‘‘تھا اور جہاں تک مجھے یاد ہے یہ تیس منٹ دورانیے کا پروگرام تھا جس میں والد مرحوم مصطفیٰ علی ھمٰدانی نے آزادی کی اس رات کی ساری کہانی اور نشریات کی تفصیل بتانے کے علاوہ یہ بھی بتایا تھا کہ تیرہ اگست انیس سو سنتالیس کی رات کو لاہور آل انڈیا ریڈیو کی نشریات کا آخری اعلان بھی انہوں نے ہی کیا تھا اور انکے الفاظ میں‘‘پھر اس اعلان کے ساتھ ہی میں نے آل انڈیا ریڈیو کو پاکستان کی سرزمین پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے دفن کر دیا‘‘۔ مجھے انکے اس انٹرویو کا یہ فقرہ بھی آج تک یاد ہے کہ‘‘ میں شاید واحد آدمی ہوں جس نے تیرہ اور چودہ اگست انیس سو سنتالیس کی درمیانی رات کو بارہ بجے اپنی آنکھوں سے غلامی کو جاتے اور آزادی کو آتے دیکھا تھا۔
یہ انٹرویو اسی برس چودہ اگست کو نشر ہوا تھا اور شاید اسکے بعد بھی ایک مرتبہ نشر ہوا تھا لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اس ‘‘زندہ گواہی‘‘ کو محفوظ نہیں کیاگیا۔ اسکی وجہ کیا تھی شاید میں اس ضمن میں کوئی جواب دینے کا اہل نہیں اور اسکی وضاحت یا تو خود برادرم اشرف عظیم کر سکتے ہیں یا پی ٹی وی۔
اب اس مقام پر بھی میں یہ سوچتا ہوں کہ کیا وجہ تھی کہ پی ٹی وی کے ارباب بست و کشاد نے ایسے انٹرویو کے لیئے مصطفیٰ علی ھمٰدانی کا ہی انتخاب کیوں کیا؟ جبکہ ظہور آذر صاحب اسوقت بھی حکومت پاکستان میں بہت بڑے عہدے پر تھے۔ ذرائع ابلاغ سے وابستگی کے ناطے میں یہ بھی جانتا ہوں کہ ایسے انٹریوز کے لیئے شخصیات کا انتخاب فقط پرڈیوسر کا کام نہیں ہوتا بلکہ اس میں ہیڈ کوارٹر اور اکثر اوقات وزارت اطلاعات بھی شام ہوتی ہے۔

21اپریل 1980مصطفیٰ علی ھمٰدانی کا یوم وفات ہے اور آج بھی اگر محققین حضرات 21,22,23اپریل 1980کے لاہور کے تمام اخبارات کو پرانی فائلوں میں دیکھ سکیں تو انہیں اس بات کی تصدیق ہر اخبار کی خبر اور مختلف احباب کے لکھے مضامین سے بھی ہو جائے گی۔ 22اپریل 1980کی رات لاہور ریڈیو نے مرحوم ھمٰدانی صاحب کے بارے میں جو تعزیتی پروگرام نشر کیا اسکے راوی مرحوم عزیز الرحمٰن تھے اور انہوں نے بھی آزادی کی اُس رات کا ذکر کرتے ہوئے کہیں بھی ظہور آذر کا نام نہیں لیا بلکہ یہی کہا کہ پہلا اعلان مصطفیٰ علی ھمٰدانی نے کیا تھا۔
میں اسوقت اپنے نہایت عزیزدوست اور ساتھی مرحوم عتیق اللہ شیخ کا ذکر کرنا چاہونگا جنہوں نے لاہور ریڈیو کا ستر کے عشرے کے وسط کا ایک مکمل پروگرام‘‘ تیس منٹ میرے ساتھ‘‘ میں آزادی کی اس رات کی نشریات کا بھی ذکر خود مرحوم مصطفیٰ علی ھمدانی کی آواز میں کیا ہے۔

خود ریڈیو پاکستان نے یا پھر حکومت پاکستان اور وزارت اطلاعات نے ان تمام چیزوں کا کوئی ریکارڈ نہیں رکھا جسکی وجہ سے جس کا جو جی چاہتا ہے کسی تحقیق کے بغیر لکھ دیتا ہے اور دوسرے ایک بہت بڑا ظلم 1965میں اسوقت ہوا جب لاہور ریڈیو سر فضل حسین کی گورنر ہاؤس کے عقب والی کوٹھی سے منتقل ہو کر ایبٹ روڈ پر اپنی نئی اور موجودہ عمارت میں آنا تھا کہ اس سے قبل لاہو ریڈیو کے متعین ہونے والے نئے اسٹیشن ڈائریکٹر اور ڈرامے کے مقبول پروڈیوسر شمس الدین بٹ نے ایک کمرے میں پڑے تمام پرانے ریکارڈ کو کوڑا کرکٹ قرار دیکر آگ لگوا دی اور اسی ریکارڈ میں لاہور ریڈیو کی پہلی رات کی نشریات کی وہ لاگ بُک بھی تھی جس میں مرحوم مصطفیٰ علی ھمدانی نے اپنے ہاتھوں سے یہ ساری تفصیل لکھی تھی۔
اس ریکارڈ کے ضائع ہونے کا واقعہ امریکہ میں مقیم براڈکاسٹر ابوالحسن نغمی صاحب نے خود مجھے سنایا اور یہ بھی بتایا کہ بٹ صاحب کو یہ بتایا گیا تھا کہ اس میں نہایت اہم ریکارڈ موجود ہے لیکن انہوں نے سب کی سُنی ان سنی کر دی۔
تا ہم ذوالفقار علی بھٹو کے زمانے میں جب حنیف خان وزیر اطلاعات تھے تو مصطفیٰ علی ھمدانی نے انہیں بذات خود پہلی رات کی ان نشریات کی تفصیل لکھ کر بھیجی تھی لیکن عجب ستم ظریفی ہے کہ اسوقت بھی کسی نے اس تفصیل کو محفوظ نہ کیا جس کی وجہ سے آج یہ عالم ہے کہ ہر کوئی اپنا تانپورہ اور اپنی بانسری بجا رہا ہے۔

جو قومیں اپنی تاریخ کو محفوظ نہیں رکھتیں انکی تمام تاریخ اسی طرح مخمسے اور تضادات کا شکار  اور انکی آنے والی نسلیں راہ گم کردہ کی صورت حقائق سے ناآشنا رہتی ہیں۔
کاش کسی کان،کسی ذہن اور کسی فکر تک فقیرِ شہر کی یہ آواز پہنچ سکے؟



:دیگر مضامین
(20.04.2015) فقیر راہ نشیں.غلام صابر صاحب سے صدف مرزا کی ایک ملاقات 
(17.04.2015) ایک ملاقات شاعرہ عذرا نازؔ سے ۔ فرخندہ رضوی (ریڈنگ ) انگلینڈ
(10.04.2015) صرف نمائش کے زمانوں میں نہیں ہوں۔ محترمہ  پروین شاہ 
(03.04.2015) ایسٹر کی کرسمس سے زیادہ اہمیت ۔ یہ تہوار مسیحی عقیدے کے گرد گھومتا ہے
(02.04.2015) ڈینش خواتین کی حق رائے دہی اور عمومی حقوق حاصل کرنے کی سعئی۔ صدف مرزا 
(28.03.2015) ڈنمارک کے عاشق اقبال غلام صابر نوے برس کی عمر میں بھی فعال اور متحرک
(26.03.2015) پاکستانی سفارتخانہ کوپن ہیگن ۔ یومِ پاکستان کی تقریب کی تصویری جھلکیاں
(24.03.2015) پاکستانی سفارتخانہ کوپن ہیگن ڈنمارک میں یومِ پاکستان کی تقریب
(17.03.2015) مسلم امہ فلسطینیوں کو فوجی امداد فراہم کرے۔۔۔۔۔۔۔۔۔حماس کے خالد مشعل
(16.03.2015) پاکستان ویمن فورم کویت کے تحت عالمی یوم نسواں کی تقریب
(14.03.2015) لٹریچر اینڈ کلچر انٹرنیشنل  ڈنمارک کے زیرِ اہتمام یوم النساء کا انعقاد 
(06.03.2015) پاکستان میں سینٹ کے انتخابات  اور اس سے قبل سیاسی ہلچل
(04.03.2015) خیبر پختونخوا کے 145 مدارس 'انتہائی حساس' قرار دے دیئے گئے
(28.02.2015) پاکستان میں ڈینش سفیر سے عالمی اخبار کی بیورو چیف سکینڈے نیویا صدف مرزا کی گفتگو
(26.02.2015) معروف شاعرہ اور محقق صدف مرزا سکینڈے نیویا کے لیئے عالمی اخبارکی بیورو چیف مقرر
(24.02.2015) عدالت میں شرافت کا ایک باب ختم، رانا بھگوان داس انتقال کر گئے
(23.02.2015) کویت میں مقیم شاعر،کالم نگار اور افسانہ نگار شاہین حیدر رضوی سے طارق اقبال کی گفتگو
(16.02.2015) فیض احمد فیض کی سالگرہ 13فروری تھی۔ وہ 1911 میں سیالکوٹ میں پیدا ہوئے
(11.02.2015) قوم کی ترقی میں "‌عورت کا مقام "‌ ۔۔۔ از"‌ ڈاکٹر نگہت نسیم 
(11.02.2015) جشن آمد رسول کے سلسلے میں سٹاک ہولم میں محفل نعت



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
بیاد سید عاشور کاظمی  »
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  بیاد سید عاشور کاظمی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں