14.12.2018, 12:05pm , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
ریڈیو پاکستان نے لاہور کے تاریخی ریڈیو اسٹیشن کا ایک اہم اسٹوڈیو اولیں ناشر اعلان قیام پاکستان مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے نام سے موسوم کر دیا
یکم نومبر دو ہزار بارہ عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ ہے۔آن لائن اردو اخبارات میں عالمی اخبار سنجیدہ صحافت کا معیار بن چکا ہے
 
رپورٹس/ملٹی میڈیا
 

دبِستانِ دِہلی کے نُمائِندہ اور صاحِبِ طرز سوزخوان، آفتابِ سوزخوانی، سیّد آفتاب علی کاظمی
29.06.2014, 04:05am , اتوار (GMT+1)

سیّد علی اصغر کاظمی
پُرانی دِہلی کے علاقے قرول باغ چِتلی قبر (نِزدجامع مسجِد) کی ایک رِہائِشی عِمارت " حویلی کلّوُ خواص " میں میر حیدر علی (اِبنِ میر قنبر علی) کے صاحبزادے میر مُنوّر علی اور اُن کے اِہل و عیال قیام پذیر تھے۔ یہ حویلی آج بھی آباد ہے تاہم اِمتِدادِ زمانہ اور حویلی کے موجوُدہ مکینوں کی لاپروائی نے اِس کو کافی نُقصان پہنچایا ہے۔ میر مُنوّر علی سے اِس خاندان میں ذاکری کا آغاز ہوا۔

بعدہُ اُن کے صاحبزادے سیّد رضی حُسین نے جو ایران مُنتقل ہو گئے تھے اپنے والِد کی طرح ذِکرِ حُسینؑ سے وابستگی اِختیار کی اور اُردوُ کے ساتھ فارسی میں بھی ذاکری کر کے مقامی آبادی اور حُکمرانوں سے خوُب داد حاصِل کی۔ میر مُنوّر علی کے پوتے اور سیّد ظفریاب علی کاظمی کے صاحبزادے سیّد آفتاب علی کاظمی کی وِلادت دِہلی میں ۹ مارچ سن ۱۹۱۵ء کو ہوئی۔

اِنھوں نے کم عُمری سے ہی فنِ سوزخوانی کے ذریعے ذِکرِ حُسینؑ کو اپنا شِعار بنایا۔ اِبتداء میں آل اِنڈیا ریڈیو سے کلامِ اقبال بھی پیش کیا تاہم بعد میں اپنے آپ کو صِرف اور صِرف سوزخوانی ہی کے لیئے وقف کردِیا۔ اپنی عملی زندگی کا آغاز سِوِل ڈیفنس کے شعبے میں مُلازمت سے کیا۔ سوزخوانی اور اِس کا فروغ اُن کے لیئے اِک مِشن کی حیثیّت رکھتا تھا۔ اِس مِشن کی تکمیل میں اِبتَدا سے ہی اُن کا ساتھ دینے والوں میں برادران میں سے سیّد مظاہِر علی کاظمی، سیّد مُختار حُسین زیدی، سیّد علی اظہر کاظمی، اور سیّد نایاب علی کاظمی ہمہ وقت اُن کے ساتھ رہے۔ بعدُہُ اُن کے بازوؤں میں سیّد فائِق حُسین رِضوی، سیّد مُظفّر حُسین رضوی، سیّد جعفر حُسین رِضوی، سیّد برکت علی کاظمی، اور سیّد رضا حُسین جعفری، اور صاحبزادگان میں سیّد علی مسعوُد کاظمی، سیّد علی اصغر کاظمی، سیّد علی نعمان کاظمی، اور بھتیجے سیّد مظہر علی کاظمی بھی شامل رہے۔ مظہر علی بہت خوُش گلوُ اور باصلاحیّت واقع ہوئے تھے اور اپنےبھائی علی اصغر کے ہمراہ مجالس اور ریڈیو پروگراموں میں شریک رہتے تھے۔ وقت نے اُن کے ساتھ وفا نہ کی اور علالت کے باعث کم عمری میں ہی اس دارِ فانی سے رُخصت ہو گئے۔

جناب آفتاب کاظمی کے شاگِردوں میں اُن کے بھائی مظاہِر کاظمی اور سیّد فائق حُسین رِضوی (موجوُدہ صدر انجُمنِ سوزخوانان، کراچی) نے نُمایاں مقام حاصِل کیا۔ جناب مظاہِر کاظمی کے صاحبزادگان مُرتضیٰ کاظمی اور جعفر کاظمی کا شمار آج کراچی کے مصروُف سوزخوانوں میں ہوتا ہے جبکہ جناب آفتاب کاظمی کے چھوٹے صاحبزادے سیّد علی نعمان کاظمی شمالی امریکہ میں سوزخوانی کے سلسلے کو جاری و ساری رکھّا ہؤا ہے اور والِد کے جانشین ہونے کا حق نِبھا رہے ہیں۔ سوزخوانی اِک ایسا صوتی فن ہے جس کا غالِب حِصّہ رثائی یعنی حزنیہ منظوم کلام پر مُشتمِل ہوتا ہے جِس کو مجالسِ عزاء میں خوش نوائی (لَحْن ) سے پیش کیا جاتا ہے اور یہ شہدائے کربلا کو پُرسہ دینے کا ایک قدیمی اور موثّرانداز ہے

۔ نامورہندوستانی موسیقار اُستاد بڑے غُلام علی خان صاحِب سے یہ قول منسوُب ہے کہ سوزخوانی ہماری گائیکی سے زیادہ مُشکِل فن ہے۔ سوزخوان کی خوبی یہ ہے کہ اُس کی ادائیگی کلام کے مفہوُم کو سامعین پر واضح کرنے میں معاوِن ہو اور اُس کی خوش الحانی راگ راگنی کا اثر نُمایاں نہ ہوتے ہوئے بھی سامعین کے دِلوں پر براہِ راست اثر انداز ہو رہی ہو۔ فضائِلِ اہلبیت بھی اِس ذریعے سے بیان ہوتے ہیں اور اُن کی ادائیگی کی کیفیت قدرے مُختلف ہوتی ہے۔ سوزخوانی کی تمام بُنیادی اصناف یعنی رُباعی و قطعہ، سلام، اور مرثیہ میں سے، جو فضائِل یا مصائِبِ اِہلبیتؑ پر مُشتمِل ہوتے ہیں، ہر صِنف کا رنگ اور ادائیگی کا انداز مختلف ہوتا ہے۔ مصائِبِ اِہلبیتؑ کو پیش کرتے ہوئے غم و اندوہ کی کیفیّت نُمایاں ہوتی ہے اور فضائِل اور رَجَز کے بیان کو پُر جوش انداز میں پیش کرنا ہوتا ہے تاکہ سامعین اُن تمام کیفیّات کو اُس ہی شدّت کے ساتھ محسوُس کر سکیں جِس طرح کہ شاعِر نے بیان کیا ہو۔ سیّد آفتاب علی کاظمی نے سوزخوانی کو موثّر اور پُر کشش انداز میں پیش کرنے کے لئے ضروری تربیّت باقاعِدگی سے حاصِل کی اور قدیم روایتی بندشوں کو بہترین انداز میں پیش کرنے کے ساتھ ساتھ نت نئی دل گُداز اور دل کش بندشیں بھی وضع کیں اور فن پر گرفت کے باعِث سوزخوانی کے شعبے میں ایک ایسا مُنفرِد مقام حاصِل کیا جِس کی نظیر آج کے دور تک سامنے نہیں آئی۔

فنِ سوزخوانی پر عبوُر کے علاوہ بہترین انتظامی صلاحیّتوں کے بھی مالِک تھے جِس کا اِظہار اُن کے دورِ صدارت میں انجُمنِ سوزخوانان کے تحت قائم کیئے جانے مُختلف پروگراموں اور جناب نسیمؔ امروہوی کے مراثی کے مجموعے چشمۂِ غم کی اِشاعت سے ہوتا ہے۔ سیّد آفتاب علی کاظمی نے سوزخوانی کی ہر صِنف کی ادائیگی اُس کی ضروُرت کے عین مُطابِق کر کے خوُب داد حاصِل کی۔ اُن کی آواز میں جس قدر درد پنہاں تھا اُس ہی قدر گھن گرچ بھی موجوُد تھی۔ اِن کی ادائیگی میں کلام کی مُناسبت سے توانائی اور سوز وگُداز دونوں کیفیّات یکساں طور پر نُمایاں نظر آتی تھیں۔ بندِش کی ضروُرت کےمُطابِق کھرج کے ساتھ بُلند ترین سُر بھی بہت سہل انداز میں استعمال کیاکرتے تھے۔ کلام کے بہترین اِنتِخاب ،الفاظ کی صحّت و واضح ادائیگی، اور مضموُن و بندِش کی مُطابقت اُن کی سوزخوانی کے خُصوُصی پہلوُ ہیں۔ روایتی بندشوں کو خوُبصوُرتی اور رچاؤ کے ساتھ پیش کرنے کے علاوہ اپنے طور پر بھی بے شُمار بندشیں وضع کیں جِن میں سے بیشتر نے صاحِبِ ذوق سامعین میں بے حد مقبوُلیت حاصِل کی۔ وجہ چاہے کُچھ بھی رہی ہو لیکن اِک دِلچسپ اور غور طلب بات یہ ہے کہ ہماری معلوُمات کے مُطابِق اِن کی وضع کردہ منفرد بندشوں کو اِن کے بازوؤں کے علاوہ کسی اور سوزخواں نے کبھی نہیں پڑھا۔

میرانیسؔ، مِرزا دبیرؔ، موُنِسؔ، تعشّق، میر خلیقؔ اور دیگرقدیم شعرائے کرام کے علاوہ جناب سیّد سِبطِ حسن انجُمؔ، جناب صفیؔ لکھنوی، جناب مُنوّر عبّاس شہابؔ (ایڈووکیٹ)، جناب مُجاہِد لکھنوی، نفیسؔ فتحپوُری، جناب عِزّتؔ لکھنوی، جناب ضوؔ کلیمی، جناب سیّد زوّار حُسین قیسؔ دہلوی، اور اُستاد قمرؔ جلالوی کا کلام اُن کے بستے میں نُمایاں اہمیّت کا حامِل رہا۔ جناب آفتاب کاظمی باقاعدگی سے تو شاعری نہیں کرتے تھے تاہم اُن کے تحریر کردہ چند ایک سلام اور قطعات موجوُد ہیں۔ اں میں سے ایک قطعہ پیشِ خِدمَت ہے جس میں اپنے اجداد کے اسماءِ گرامی بہت خوُبی کے ساتھ سمو دیئے گئے ہیں۔ یہ سارے نام صفدر و حیدر، علیؑ کے ہیں جلوےکہاں کہاں نہ مُنوّر، علیؑ کے ہیں ہیں مَدحِ شِہہؑ میں اِس طرح مصروُف آفتابؔ بس یوُں سمجھیئے جس طرح قنبرؓ، علیؑ کے ہیں آپ کے پڑھے ہوئے کُچھ مُنفرِد اور مقبوُل سوزو سلام کی فِہرست درج ذیل ہے۔

 سوز و قطعات آدم کو یہ تُحفہ یہ ہدایہ نہ مِلا (درباری)۔ کیا مرتبہ سُلطانِ حِجازی کا ہے (مالکونس)۔ محبوُب کی اُلفت سے کنارہ نہ کیا (پوُروی)۔ نبیؐ کا قلب، جِگر فاتَحِ حُنینؑ کا ہے (کلاوتی)۔ توُ اپنے ایک جام پہ نازاں ہے ساقیا (ایمن)۔ کِہتی تھی بانو اصغر جانی (دیس)۔ کبھی ملالِ شَہہِ بِحر و بر نہیں جاتا (شیو رنجنی)۔ لہوُ سے لال جو رن میں علیؑ کا لعل ہؤا (مدھوونتی)۔ اعداء کے تصرّف میں تو آیا پانی (جھنجھوٹی)۔ ہو ذِکرِ شِہہ تو فضا دردناک کر پِہلے (میاں کی ٹوڈی)۔ جب سراسیمہ وطن سے شَہہِ ابرار چلے (للِت)۔ کوئی انیس کوئی آشنا نہیں رکھتے مُجرئی شاہ کا ہوُں، خُلد میں ہے گھر میرا بیٹھا ہے مُشکِلات کے رستے میں ہار کے ہے جِس طرح کہ ساقیِٔ کوثرؑ کی بات اور شاہوں کا تذکِرہ ہے نہ لشکر کی بات ہے مُجرئی کھُلتا رہا میخانہ میخانے کے بعد حُسینؑ عالَمِ ہستی جگا کے سوئے ہیں (خمسہ)۔ مجلسوں سے کُچھ مَلَک شیشوں میں بھر کر لے گئے بیکسی کا شِہہؑ کی چرچا رِہ گیا مُجرائی کیا غضب ہے کسی کو حَیا نہ تھی کربلا کا جنگل ہے، رات ہے، اندھیرا ہے نہ بنی ایسی داستاں کوئی، نہ لُٹا ایسا کارواں کوئی قیامِ پاکِستان کے بعد اپنے والدین اور اہل و عیال کے ساتھ ہجرت کر کے کراچی میں رِہائِش اِختیار کی۔

اِبتداء میں سینٹرل آرڈیننس ڈپو اور پھرسوئیٹزلینڈ کی ایک فرم والکرٹ برادرز کی پاکستانی شاخ میں مُلازمت اِختیار کی۔ بعدُہُ کارکُن ایجینسیز کے نام سے کلیئرنگ فارورڈنگ کا کام شروع کیا جس کا دفتر رائٹرز چیمبرز، ڈنولی روڈ، کراچی میں واقع تھا۔ عُمرِ عزیز کے مُختلِف مرحلوں میں نشیب و فراز بھی آئے تاہم جناب آفتاب کاظمی صاحِب نے کبھی بھی سوزخوانوں کی روایتی وضع داری کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ درایں اثناء فن کو مزید جِلا بخشنے کے لیئےاپنے وقت کے مشہوُر سارنگی نواز ُستاد حامِد علی خان سے مزید تربیّت حاصِل کی۔ ناگفتہ بہ حالات اور دیگر وُجوُہات کی بِناء پر نوزائیدہ مملکت میں سوزخوانی روُبہ زوّال تھی اور مجالسِ عزاء میں اِس کا رواج کم سے کم تر ہوتا جا رہا تھا۔ چُنانچہ ۱۹۴۹ میں خطیبِ عالمِ اِسلام، علّامہ رشید تُرابی کی خواہش پر اور اُن ہی کے زیرِ سرپرستی، دِہلی کے معروُف سوزخوان جناب آغا مقصوُد مِرزا اور اُستاد معشوُق علی خان حیدری (الوری) کے ہمراہ سوزخوانی کی ترویج و فروغ کے لیئے انجمنِ سوزخوانان کراچی کی بُنیاد رکھی۔ آغا مقصوُد مِرزا انجمن کے پہلے صدر اور سیّد آفتاب علی کاظمی پہلے جنرل سیکریٹری مُنتخِب ہوئے۔

یہ دونوں حضرات دبستانِ دِہلی کے نُمائِندہ تسلیم کیئے جاتے ہیں۔ بعد میں جناب عظیمُ المُحسن اور ۱۹۵۶ میں جناب آباد مُحَمّد نقوی بھی سیّد آفتاب علی کاظمی اور اُستاد معشوُق علیخاں صاحِب کی دعوت پر انجُمن سے وابستہ ہو گئے۔ یہاں یہ امر قابلِ ذِکر ہے کہ اُس دور کے اساتید سوزخوانان کی اکثریت تا حیات اس انجُمن سے وابستہ رہی۔ خطیبِ عالمِ اِسلام علّامہ رشید تُرابی اعلیٰ اللہ مقامہ نے ۱۹۵۷ میں ایک سالانہ مجلِسِ سوزخوانی ۱۹ صفر کو اپنی سرپرستی میں قائِم فرمائی اور اِس مجلِس کا کُل اِہتمام و اِنتِظام انجُمنِ سوزخوانان کراچی کے سُپُردکر دیا۔ چُنانچہ پہلی مجلِسِ سوزخوانی ۱۹ صفر ۱۹۵۷ءکو مرکزی اِمامبارگاہ لیاقت آباد میں مُنعَقِد ہوئی۔ ۱۹۵۸ سے یہ مجلِس ہر سال ۱۹ صفر ہی کو ایک عرصۂِ دراز تک حُسینیہ ایرانیان میں مُنعَقِد ہوتی رہی۔ کُچھ عَرصہ تک ایسا بھی ہؤا کہ صُبح کے اوقات میں حُسینیہ ایرانیان میں اور شام کے اوقات میں مرکزی اِمامبارگاہ میں بھی ہوتی رہی مگر کُچھ عرصہ کے بعد شام کی مجلِس موقوُف کر دی گئی۔

البتّہ یہ مجلِسِ سوزخوانی ۱۹ صفر کو ایک عرصۂِ دراز تک حُسینیہ ایرانیان میں مُنعَقِد ہوتی رہی تاہم کُچھ وجوہ کی کی بناء پر غالِباً ۱۹۷۳ سے عزاخانۂِ زِہراؑ نِزد خُراسان میں پابندی کے ساتھ جاری و ساری ہے۔ علاوہ ازایں جشنِ وِلادتِ سیّدۃُالنِّساءِالعالمین، بی بی فاطمۃُالزّہرا کی بُنیاد بھی جناب آفتاب کاظمی صاحِب کے دورِ صدارت میں ہی ڈالی گئی۔ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ مملکتِ پاکستان میں روایتی سوزخوانی کی بقاء اس انجُمن ہی کی بدولت مُمکِن ہوئی۔ انجُمن کے تِحت ہفتے وار تربیّتی نشستوں کا سلسلہ بھی ایک عرصے تلک جاری رہا۔ ۱۹۶۰ اور ۱۹۶۵ عیسوی کے درمیان یہ نشستیں سیّد آفتاب علی کاظمی کی رہائِش گاہ واقع بلاک ۶ پی ای سی ایچ سوسائٹی میں ہر اتوار کو باقاعدگی سے مُنعقِد ہوتی رہیں۔ دیگر مواقع پر یہ نشستیں امامبارگاہ شاہِ کربلا رِضویہ ٹرسٹ اور جناب رضی حُسین خاں صاحِب کی قیام گاہ بمقام علی بستی گولیمار میں بھی مُنعقِد ہوتی رہیں۔

موصوُف نے اپنے تمام تر وسائل اور توانائیاں سوزخوانی کے فروغ اور ترویج کے لیئے وقف کر رکھی تھیں اور انجمن کی جانب سے مجالسِ عزاء میں سوزخوانی کے لیئے رضاکارانہ طور پرسوزخوان حضرات کی خدمات فراہم کرتے رہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اُن کی تمام تر جدّوجہد کا مقصد کبھی بھی مالی منفعت اور اپنی ذات کو نُمایاں کرنا نہیں رہا بلکہ یہ سب کُچھ فقط ذِکرِ حُسینؑ کے فروغ کے لیئے تھا۔ سوزخوانی کے لیئے اُن کے خلوُص اور عملی خِد مات کے چشم دید گواہوں میں سے ایک جناب حکیم عِرفان صاحِب (معیاری دواخانہ ۔ لیاقت آباد) بہ فضلِ خُدا آج بھی حیات ہیں۔ ریڈیو پاکستان کراچی، اور پاکستان ٹیلیویژن پر ماہِ محرّم میں سوزخوانی کے پروگراموں کا آغاز بھی آپ ہی کی کوششوں سے ہؤا۔ جناب نسیمؔ امروہوی کے مرثیوں کا پہلا مجموُعہ آپ ہی کے دورِ صدارت میں انجمن کے پلیٹ فارم سے شائع کیا گیا۔ سیّد آفتاب علی کاظمی صاحِب نے اپنے فن کو نئی نسل تک مُنتقل کرنے میں کبھی بُخل سے کام نہیں لیا اور سوزخوانی کا شوق رکھنے والے کسی بھی فرد کی کبھی حوصلہ شکنی نہیں کی۔

 اِن کی ہمشیرہ حیدری بیگم معہ اپنی صاحبزادیوں کے ہمراہ باقاعِدہ سوزخوانی کیا کرتی تھیں۔ بعدُہُ خاتوُن سوزخوان صابرہ کاظمی اور انور کاظمی نے بھی اِن سے کماحقہُ اِستفادہ کیا اور حد درجہ مقبوُلیّت حاصِل کی۔ اِک باپ کے طور پر اُن کا کردار اُس دور کے مزاج کے مطابق مثالی تھا۔ خاموش شفقت کے ساتھ رُعب و دبدبہ اُن کی شخصیّت کا حِصّہ تھا اور خاندان میں سب ہی نہ صِرف اُن کا اِحترام کرتے بلکہ اہم معاملات میں رَہنُمائی بھی حاصِل کیا کرتے تھے۔ عملی زندگی میں حاصِل کردہ تمام تر کامیابیوں اور معاصِرین میں ایک نُمایاں حیثیّت رکھنے کے باوجوُد کبھی اُن کو خوُد اپنی مدح سرائی کرتے ہوئے نہیں سُنا گیا۔ عصرِ حاضِر کے مقبوُل اور نُمایاں سوزخوان شہید سیّد سبطِ جعفر زیدی صاحِب نے اپنی کِتاب "بستہ" میں سیّد آفتاب علی کاظمی صاحِب کی سوزخوانی پر اظہارِ رائے کیا ہے اور اُن سے اِستفادہ نہ کرسکنے پر تاسُّف کے ساتھ حکوُمتِ وقت سے یہ مُطالِبہ بھی کیا تھا کہ فنِ سوزخوانی کے صاحِبِ طرز و نامور اِساتِذہ آغا مقصوُد مِرزا، سیّد آفتاب علی کاظممی، عظیمُ المُحسِن، اُستاد معشوُق علی خاں حیدری، اُستاد اِشتیاق علی خاں حیدری، اُستاد واحِد حُسین خاں، اختر وصی علی اور مُحترمہ کجّن بیگم کی سوزخوانی کو فن کی کسوٹی پر جانچنے پرکھنے کے بعد صدارتی تمغۂِ حُسنِ کارکردگی (بعد از رِحلت) تفویض کیا جائے۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ ہر اچھی بات کی طرح اُن کا یہ مُطالبہ بھی صدا بہ صحرا ثابِت ہؤا۔ علاوہ از ایں ۲۰۰۸ء میں راقِم کو اپنا طبع شُدہ مُجلّہ جناب سِبطِ جعفر صاحِب نے اپنے تحریر کردہ جِس نوٹ کے ساتھ عنایت کیا اُس میں سیّد آفتاب علی کاظمی کا تذکِرہ ''اِس صدی کے عظیم سوزخوان اور اچھے اِنسان'' کی حیثیّت سے کیا ہے۔ سیّد آفتاب علی کاظمی کے صاحبزادے علی اصغر اور علی نعمان جو والد کے ساتھ سوزخوانی میں زیادہ سرگرم تھے، حُصوُلِ عِلم اور معاش کے سلسلے میں زیادہ تر مُلک سے باہر رہے جس کی وجہ سے یہ تاثّر عام ہؤا کہ اِن کے گھرانے میں سوزخوانی کا سلسلہ قطع ہو گیا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اُن کے چھوٹے صاحبزادے، سیّد علی نعمان کاظمی شمالی امریکہ میں ایک طویل عرصے سے اِک مُکمّل اور متحرّک سوزخوان کے طور ہمہ وقت مصروُفِ کار ہیں جبکہ منجھلے صاحبزادے سیّد علی اصغر کاظمی اگرچہ کُچھ ذاتی مسائِل کے باعِث باقاعدہ سوزخوان کے طور پر سرگرم نہیں ہیں تاہم ۲۰۰۸ میں انھوں نے ویڈیو شیئرنگ ویب سائٹ 'یوٹیوب' پر ایک چینل مرتّب کیا جس پر آفتاب کاظمی صاحِب کی آواز میں سوزخوانی کے نادِر نمونوں کے علاوہ اُن کے صاحبزادگان کی آوازوں میں اُن کی وہ بندشیں بھی پیش کی ہیں جو خود اُن کے والدِ بُزُرگوار کی آواز میں محفوظ نہیں کی جا سکی تھیں۔

علاوہ از ایں کُچھ نئی بندشیں بھی اس چینل پر سُنی جا سکتی ہیں۔ اس چینل کے قیام کا مقصد نہ صرف نوجوان نسل کو جناب آفتاب کاظمی صاحِب کی سوزخوانی سے متعارف کروانا بلکہ دیگر اساتذہ اور دورِ حاضِر کے دیگر سوزخوان و سلام خوان حضرات کی کاوشوں کا ابلاغ بھی ہے۔ اس چینل کا ربط درجِ ذیل ہے۔

لنک پر کلک کیجئے
 

https://www.youtube.com/user/citymar

یو ٹیوب چینل 'سوزخوانی'۔  اُنّیس سو سڑسٹھ عیسوی میں علالت کے باعث گلا بھی مُتاثّر ہؤا اور بعدُہُ عارضۂِ قلب اور ذیابطیس کے باعث سوزخوانی موقُوف ہو گئی تاہم اس وقت کو اپنی بیاضوں کو بذاتِ خود خوُشخط قلم بند کرنے میں استعمال کیا۔ مولاؑ کی عطا اور اپنی لگن کے باعِث ۱۹۷۹ میں ایک مرتبہ پھر سوزخوانی کا آغاز کیا اور اس ہی سال پاکستان ٹیلیویژن پر ایّامِ عزاء میں اپنا آخری ٹیلیویژن پروگرام پیش کیا جس کی ویڈیو ریکارڈنگ اُن کی زندگی پر تیّار کی گئی دستاویزی فلم حیاتِ آفتاب میں دیکھی جا سکتی ہے۔

 اِس دستاویزی فلم کی تیّاری میں جناب سیّد شاہِد حُسین رِضوی اور عصرِ حاضِر کے خوُبصوُرت و سیرت سوزخوان جناب اظہر نقوی کا خصوُصی عملی تعاوُن حاصِل رہا اور اس کا براہِ راست ربط درجِ ذیل ہے۔

حیاتِ آفتاب حِصّہ اوّل

لنک پر کلک کیجئے

 
http://youtu.be/6AH0nESeUA0

حیاتِ آفتاب حِصّہ دُوَم

لنک پر کلک کیجئے
 

http://youtu.be/OduKLvwbmrU

 موصوُف کی ۳۳ویں برسی کےموقع پر اُن کی نِسبت سے جناب شاہِد نقوی کا کہا ہؤا قطعہ 'اجل نے چُن لیا جو پھوُل جانِ گُلشن تھا'، راقِم کی آواز میں پیش کیا گیا ہے جس کی آڈیو اور ویڈیو درج ذیل روابط پر دیکھی اور سُنی جاسکتی ہے۔

لنک پر کلک کیجئے

 http://dai.ly/x206ys2 http://youtu.be/emP23iaFHDw https://soundcloud.com/syed-ali-asghar-kazmi/ajal-nay-chun-liya-jo-phool

 چودہ برس کی طویل علالت کے بعد ۲۹ جوُن ۱۹۸۱ء کو داعیِٔ اجل کو لبّیک کہا۔ قارئین سے درخواست ہے کہ ذاکرِ اہلِبیتؑ سیّد آفتاب علی کاظمی، دیگر مرحوُم سوزخوانانِ گرامی، جُملہ مومنین و مومنات اور شُہدائے مِلّتِ جعفریہ کے ایصالِ ثواب اور بُلندیِٔ درجات کے لیئے سورۂِ فاتِحہ اور سورۂِ اِخلاص کی تلاوت فرماکر اس کا ثواب مرحوُمین کی ارواح کو بخش دیں۔ پروردگار ہم سب کو سیّد آفتاب علی کاظمی کی طرح اِہلِبیتِؑ اطہار کی بے لوث خِدمَت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

طالِبِ دُعا: سیّد علی اصغر کاظمی فرزند سیّد آفتاب علی کاظمی کراچی

:دیگر مضامین
(27.06.2014) رمضان المبارک کا ایک ایک لمحہ اللہ کی رحمت ہے
(25.06.2014) شدید کمزور نظر والوں کے لیے اسمارٹ چشمے بنانے میں کامیابی
(23.06.2014)  جون 22 نامور کمپیئر، دانش ور اور ادیب عبید اللہ بیگ کی دوسری برسی ہے ۔
(22.06.2014) مادام تساؤ میں وکٹوریا اور بیکہم کے نئے مومی مجسمے لگیں گے
(16.06.2014) عدل و انصاف کی قدروں کو سماج میں صحیح مقام دلانا ہو گا :تنظیم علی کانگریس
(15.06.2014) دور حاضرکی عبادت گاہوں کے سربراہان وقائدین کا کردار47ویں قسط ۔سید اکمل حسین
(12.06.2014) عارف نقوی اور خالد علوی کی کتابوں کی برلن میں رسمِ اجرا
(12.06.2014) جرمنی کے دارالحکومت برلن میں جشنِ کرشن چندر، خواجہ احمد عباس اور احسان دانش
(11.06.2014)  سید عاشور کاظمی مرحوم ۔معروف شاعر، محقق، نثرنگار ، نقاد، مرثیہ نگار، کی چوتھی برسی
(08.06.2014) فن لینڈ کا ایک نہایت قدیم چرچ تومیو کرکو جو دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے
(30.05.2014) استقبال رمضان المبارک کے سلسلے میں مکہ مکرمہ میں غسل کعبہ کی روح پرور تقریب
(29.05.2014) روزنامہ اردو نیوز کی 20ویں سالگرہ ،پاکستان بزنس کمیونٹی کی تقریب
(28.05.2014) دور حاضرکی عبادت گاہوں کے سربراہان وقائدین کا کردار46ویں قسط ۔سید اکمل حسین
(26.05.2014) میرا جی کی برسی اور جنم دن آتا اور خاموشی سے گزر جاتا ہے
(18.05.2014) لندن کی ایک عبادت گاہ میں ہونے والے جشن تکلیف نے عوام کو حیرت زدہ کر دیا
(16.05.2014) دو مرتے جوان بچوں کے علاج کا بندوبست نہیں ہو سکتا
(14.05.2014) سفیر خدا، نفس رسول ، حضرت علی کرم اللہ وجہہ۔از نگہت نسیم
(12.05.2014) مئی ١١ ۔۔۔ عالمی مدرز ڈے: پیاری ماں سلامت رہو
(10.05.2014) میرا پیمبر عظیم تر ہے ۔ ثنا خوان مصطفیٰ مظفر وارثی کا نذرانہ عقیدت
(30.04.2014) دور حاضرکی عبادت گاہوں کے سربراہان وقائدین کا کردار44ویں قسط ۔سید اکمل حسین



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
بیاد سید عاشور کاظمی  »
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  بیاد سید عاشور کاظمی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں