ترقی کا سفر اور ہم

وطن عزیز میں نئےانتخابات کی آمد آمد ہے۔ سیاسی جماعتیں اپنی عظیم کار گزاریوں کا ڈھول پیٹنے میں مصروف ہیں۔ ہم عوام یہ دعوے سن سن کر حیران ہیں۔پاکستان میں اتنی ترقی ہو چکی ہے مگر اس کے شہر لاہور میں بسنے والوں تک اس ترقی کے ثمرات نہیں پہنچے۔ یا پھر یہ کہ تجربہ کار حکومت عوامی ترجیہات سے یکسر بے خبر ہے ۔پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں بہت سی نئی سڑکیں اور پل تعمیر کئے گئے ہیں میٹرو بس چلائی گئی ہے اور اب نارنجی ریل گاڑی بھی چلنے کو ہے۔ بڑی بڑی سڑکیں صاف ستھری ہیں نکھرا نکھرا سبزہ ہے۔ شہر کے لوگ خوشحال ہیں کیونکہ سڑکوں پر چمچماتی گاڑیوں کا سیلِ رواں ہے ۔بڑے بڑے تجارتی مراکز ہیں ۔ ہر بڑے تجارتی برانڈ کے دو چار یا دس شو روم شہر کے مختلف علاقوں میں ملیں گے ۔ کسی مارکیٹ کے فٹ پاتھ پر انسان کم موٹر سائیکل زیادہ نظر آتے ہیں۔
ترقی نظر آتی ہے
مگر کیا یہی حقیقی ترقی ہے
میں سمجھتی تھی کہ پہلے کسی ملک کے سو فیصد باشندوں کو صحت اور تعلیم کی سہولت میسر ہو ہر نوجوان کوباعزت روزگار ملے پھر سڑکوں، پلوں ۔بسوں اور ریل گاڑیوں پر سرمایہ کاری کی جائے۔ مگر یہاں ترجیہات اُلٹ ہیں۔
چلئے پہلے صحت پر بات کر لیتے ہیں
لاہور میں بہت سے سرکاری نیم سرکاری اور نجی ہسپتال موجود ہیں۔ میرے گھرسے چند قدم پر ایک مہنگا نجی ہسپتال ہے جس کی ایمر جنسی میں کسی مریض کو دو گھنٹے رکھنے کا بل ہزاروں میں واجب الادا ہوتا ہے۔ میری نازک اندام بھانجی کراچی سے آئی تھی ۔ اس کا گھٹنا مڑ گیا سخت تکلیف میں تھی سوچا دور جانے کی بجائے قریبی ہسپتال لے چلتے ہیں ۔ ہسپتال میں ایک ایکسرے ہوا ایک جونیئر ڈاکٹر نے ہاتھ سے ہی جوڑ بٹھا کر حفاظتی پٹی کر دی اور انتظامیہ نے مبلغ بتیس ہزار کا بل تھما دیا۔ کیا خوب ترقی ہوئی ہے صحت کے میدان میں۔
ایک دو ماہ بعد مجھے موسمی بخار نے آلیا۔ پہلے تو بخار کی گولی کھا لی مگر اس کا پارہ اور چڑھتا گیا تو سوچا ہسپتال کی سیر کر آتے ہیں۔ مفتی صاحب نے کہا قریبی ہسپتال چلتے ہیں مگر میں نے انکار کر دیا کہ بخار کے علاج پر دس بیس ہزار خرچ کرنا کہاں کی دانشمندی ہے۔سوہم شیخ زید ہسپتال کی ایمرجنسی میں جا پہنچے۔ ایک ایک بستر پر چار چار مریض خواتین کو دیکھ کر چکرا گئی۔ مفتی صاحب سے کہا واپس چلتے ہیں مگر وہ کہنے لگے اب یہیں مزہ چکھو۔
ایک حواس باختہ نرس نے مجھے سامنے والے بیڈ پر بیٹھنے کو کہا۔ اس بیڈ کی چادر گیلی تھی میں نے وہاں بیٹھنے سے انکار کر دیا۔ تو دوسرے بیڈ کے کونے پر بٹھا دیا گیا۔ کیونکہ ایک خاتون پہلے ہی وہاں لیٹی ہوئی تھیں اور دو مزید بیٹھی ہوئی تھیں۔ خدا خدا کر کے ڈاکٹر صاحب متوجہ ہوئے اور ایک انجکشن اور کچھ ادویات منگوانے کا حکم صادر کیا۔ احمد میرا بیٹا لپک کر دوائیں لے آیا۔
پھر ایک نرس نے ہاتھ پر برینولا لگایا اور ایک موٹی سرنج میں دوا بھری ۔ میں نے کہا آپ پہلے تھوڑی مقدار میں دوا لگائیں کہیں غلط اثر نہ ہو جائے کہنے لگی پہلے آدھی دوا لگاؤں گی دوا لگتے ہی چراغوں میں روشنی نہ رہی ۔
مجھے کسی خاتون کی آواز سنائی دی آپ کو کیا ہوا آپ کو کیا ہوا آنکھ کھلی تو خود کو فرش پر گرا ہوا پایا۔ نہ مفتی صاحب قریب اور نہ ہی اپنی اولاد۔ خیر کسی خاتون نے مجھے سہارا دے کر اٹھایا
اس کے بعد میں نے خوب شور مچایا کہ مجھے غلط انجکشن لگا دیا ہے نرس کو بلا کر برینولا نکلوا دیا اور مفتی صاحب سے گھر واپس چلنے کو کہا۔مفتی صاحب اللہ کے بندے ہیں سو انہوں نے ایمرجنسی سے باہر لا کر گاڑی میں بٹھا دیا اور خود ہسپتال کی مسجد میں نماز عشاء ادا کرنے چلے گئے۔ واپسی کا سفر ڈانٹ اور پسینے میں بھیگتے ہوئے کٹا
جاری ہے

گلاب جیسا ہونا ۔۔۔ مقصد حیات ہے ۔۔!

ایک دفعہ معروف مصور پکاسو سے کوئی شخص بہت دورسے ملنے آیا ۔ پکاسو اس وقت کوئی تصویر پینٹ‌کرنے میں مصروف تھے ۔ ان صاحب نے مناسب نا سمجھا کہ ان کے تخیل میں مخل ہوں۔ اور پکاسو دو گھنٹے تک بے خبر پینٹنگ کرتے رہے ۔ جب اپنے کام سے فارغ ہوئے تو ان صاحب کی طرف متوجہ ہوئے ۔
ان صاحب نے بے اختیار پکاسو سے پوچھا “‌ آپ کی پینٹنگ کرتے رہنے کا مقصد کیا ہے ۔۔؟‌ “‌ ۔
پکاسو ہنس پڑے اور کہا “‌ میں سمجھ رہا تھا کہ تمہیں اب تک پتہ چل گیا ہو گا کہ تمہارا یوں پینٹنگ دیکھتے رہنے کا مقصد کیا ہے ۔۔؟‌ “‌
اس کے بعد پکاسو نے ایک بہت ہی خوبصورت بات کہی ۔۔
“کیا کسی نے آج تک گلاب سے پوچھا کہ تم ہواؤں ، بارشوں اور تپش میں کیوں جھومتے رہتے ہو “‌
گلاب اس لیئے جھومتا ہے کہ وہ ہرحال میں خوش ہے اور ہر پل اپنی خوشی میں مگن ہے ۔ ۔۔ میں بھی پینٹنگ کر کے خوش ہوتا ہوں اور اپنی خوشی میں مگن رہتا ہوں ۔
کیا کسی صحت مند انسان نے ڈاکٹر سے پوچھا کہ میں صحت مند کیوں ہوں ۔۔؟
صرف بیمار پوچھتے ہیں کہ میں بیمار کیوں ہوں ؟

خوش رہنا۔۔ خوشی کو محسوس کرنا ۔۔ مگن رہنا ۔۔۔۔۔۔ فطرتی ہے ۔

گلاب جیسا ہونا ۔۔۔ مقصد حیات ہے ۔۔!

ڈاکٹر نگہت نسیم

ایک اہم سوال، جواب دیں

تاریخ تو اس ضمن میں خاموش ہے لیکن کیا کوئی تحقیق سے بتا سکتا ہے کہ کہیں ماہ صیام کے روزوں کے ساتھ بیسن ، پکوڑوں، چنا چاٹ اور ایسی ہی چیزوں کا بھی واجبات کے زمرے میں ذکر آیا ہے؟

ماہ صیام کی مبارک ساعتیں نیکیوں کا موسم بہار ہیں

ماہ صیام کی مبارک ساعتیں نیکیوں کا موسم بہار ہیں

معزز قاریئن دنیا کے کئی ملکوں میں روزوں ترتیب الگ الگ ہو گی ۔ میری عاجزانہ سی کوشش ہے کہ رمضان المبارک کے دنوں میں ہر روز ایک نئی دعا کا خزانہ آپ سب سے بانٹوں ۔ اس دعا کے ساتھ اللہ پاک ھم سب کی ادنی ترین نیکی کو اپنی رحمتوں کے صدقے قبول فرمائے اور ہماری کہی ہو ئی کوئی بات اور لکھی ہوئی کوئی تحریر باعث نجات اور خیر وبرکت ہو جائے ۔۔آمین

ماہ رمضان المبارک کا آغاز در حقیقت مسلمانوں کے لئے موسم بہاراں کی آمد ہے۔ جس پر ہم سب ایک دوسرے کو جتنی بھی مبارکباد پیش کریں کم ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم انسان ہر وقت کسی نا کسی پریشانی میں الجھے ہی رہتے ہیں جو ہمیں ذکر الہی سے غافل اور راہ اللہ سے دور کر دیتے ہیں۔ کبھی ہماری خواہشیں اور جذبات ہمیں پستی و تنزلی کی جانب لے جاتے ہیں۔

ماہ رمضان کی آمد پر ہم جیسے انسانوں کو ایک موقع ملتا ہے کہ اپنی روح اور باطن کوجو فطری اور قدرتی طور پر پاکبازی کی جانب مائل رہتی ہے ، اسے مزید بلندیوں کی سمت لے جایئں ، قرب الہی حاصل کریں اور اخلاق حسنہ سے خود کو سنوار لیں ۔ اس لیئے رمضان المبارک کو خود سازی اور نفس کی تعمیر نو کا مہینہ بھی کہتے ہیں۔ بھلا اللہ پاک سے مانوس اور اس کے قریب ہونے کے لئے اس سے خوبصورت مہینہ اور کونسا ہو سکتا ہے ۔ اس لیئے ماہ رمضان نیکیوں کا موسم بہار ہے۔

اہل اسلام کو ماہ صیام کا چاند ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مبارک

اے ارض و سما نوید ہو
نیا چاند
سارے جہانوں‌ میں‌ روشن ہو گیا
آمد ماہ صیام
سب کو مبارک ۔۔ خیر سلامت
نیکیوں برکتوں کا موسم بہارآگیا
اے عالمین کے رب
میری روح کو یوں اجال دے
جیسے یہ چاند
گردشوں‌ میں روشن ہو گیا

الہی آمین

ڈاکٹر نگہت نسیم

دعائے امام زین العابدین (سجاد ) علیہ السلام، استقبال رمضان المبارک

دعا مانگنا سعادت کی بات ہے ۔ لیکن ایسی عا مانگنا جسے اللہ کے محبوب بندوں نے خود مانگا ہو تو اس کی تاثیر پشتینی ہو جاتی ہے ۔ ایسی ہی دعائیں ، وظائف کا رتبہ بھی پا جاتی ہیں ۔ ایسی ہی ایک دعا جوسید الساجدین امام زین العابدین (سجاد ) علیہ السلام استقبال رمضان میں پڑھا کرتے تھے ۔ ان کی عاشقانہ عبادات دیکھ کر جب اُن کے رفقاء کہتے ” آپ اپنے جد بزرگوار مولا علی علیہ السلام سے کہیں زیادہ عبادت گذار ہیں تو آپ فرماتے
“‌میں نے ان کے ایک دن کے اعمال پر نظر کی تو مجھ پر واضح ہوگیا کہ میں سال بھر میں بھی ان کے ایک روز کے اعمال کی برابری نہیں کرسکتا۔”
( امام سجاد علیہ السلام جمال نیایشگران ص ،62 از: اعلام الوريٰ ص255)

سبحان اللہ ۔۔ سوچئے ہمارے پیارے نبی آخر سرکار تمام عالم ، شافی کل مکان رسول خدا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عبادات کا کیا عالم ہوگا جن کے لئے خود خداوند متعال نے قرآن کریم میں فرمایا کہ ا”‌ عبادات میں اپنے آپ کو اس قدر تھکا نہیں دیں ۔”‌(ایضاً ص،63 از: دلائل الامامۃ ص ۔84 )

میں اپنے پاک رب کا کیسے شکر ادا کروں کہ اس نے مجھے پہلی رمضان کی پہلی سحر یہ اعزاز عطا فرمایا کہ امام سید الساجدین کے لب مبارک سے ادا کی ہوئی دعا کو منظوم کروں تا کہ ہم سب رمضان المبارک کی ایک ایک ساعت کا اجر پا سکیں‌ ۔

دعائے امام زین العابدین (سجاد ) علیہ السلام، استقبال رمضان المبارک ۔۔۔ ڈاکٹر نگہت نسیم

اعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
اے میرے معبود !
اے میرے مالک !
اے میرے پاک رب
رحمت فرما محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور ان کی آل پاک پر
ہمیں ہدایت عطا کر
کہ
ماہ رمضان کے فضل و شرف اور عظمت کو پہچانیں
اس کی عزت اور حرمت کو ہر ماہ سے بلند جانیں
جن چیزوں سے تو نے منع کیا ہے اسے منع جانیں

اے میرے پاک رب
ہمارے اعضاء کو نافرمانیوں سے روک دے یارب
ہمیں غَلَط گوئی اور غلط کاموں سے ٹوک دے یارب
ہمیں ان کاموں میں الجھا دے جو تری رضا ہو یارب
ہماری سماعتوں کو نصیب اجر کا ازن دے کر یارب
ہماری بے محابہ نگاہ کو پردہ و حیاداری دے یارب
ہمارے دست رسا کو امر ممنوع سے ہٹا دے یارب
ہمارے شکم پرستی کو پاکیزہ بھوک عطا کر یارب
ہماری فِکْرِ اِسْتِدْلالی کو باریاب رسائی دے یارب

اے میرے پاک رب
رحمت فرما محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور ان کی آل پاک پر
ہمیں با نصیب کر اور آگہی کے دروازے کھول دے یارب
ہمیں نماز ہائے پنجگانہ کی پابندی اور سعادت نصیب کر یارب
ہمیں واجبات انسانی دل سے ادا کرنے کی توفیق عطا کر یارب
ہمیں پابندی حدود میں رہ کر آداب عشق سیکھا دے کر یارب

اے میرے پاک رب
ہمیں ان کے مرتبے پر فائز فرما ۔۔۔
جو نمازوں میں سب سے آگے تھے
واجبات کی نشاندہی کرنے والے تھے
رکوع و سجود میں سب سے ا فضل تھے
برکتوں کو جاری و سارے کرنے والے تھے
کامل ، پاکیزگی اور خشوع میں نمایاں تھے
یعنی وہ تیرے محبوب خاص اور عبد خاص تھے

اے میرے پاک رب
ہمیں اس ماہ رمضان مبارک میں توفیق دے
کہ
ہم اوروں سے نیکی اور احسان کریں
عزیزوں سے صلہ رحمی اور بخشش کریں
ہمسایوں کی خبر گیری اور درگزر کریں
اپنے اموال کو مظلوموں سے پاک صاف کریں
زکوات دے کر انہیں پاکیزہ اور طیب بنا لیں

اے میرے پاک رب
رحمت فرما محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور ان کی ال پاک پر
جس طرح
چاند گھٹتا بڑھتا ہے ایسے ہی ہمارے گناہ محو کر
جیسے
سورج دن ختم ہونے پر ڈوب جاتا ہے
ویسے ہی
ہمارے گناہوں کا وبال ہم سے دور کر
اور
توں اپنی رحمت سے
ہم سب کو ماہ رمضان المبارک میں
ساری خطاوں سے سے پاک کر
اور ہمیں گناہوں سے بری کر

اے میرے پاک رب
رحمت فرما محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور ان کی ال پاک پر
اس ماہ رمضان المبارک میں
اگر ہم حق سے مُنہ موڑیں توہمیں سیدھے سچے راستے پر لگا دینا
کجروی اختیار کریں تو ہماری اصلاح و دُرستگی فرما دینا
شیطان ہمارے گرد احاطہ کرے تو اسکے پنجے سے چُھڑا دینا

اے میرے پاک رب
اس ماہ مبارک میں
ہمارا دامن ہماری عبادتوں سے بھر دے
ان لمحات کو ہماری اطاعتوں سے سجا دے
ہر شب کو ہماری شب بیدار اور دن کو روزہ داربنا دے
تیرے حضور اشکباری کریں اور تو ہماری تطہیر کر دے
اور ہماری عجز و الحاح تیرے روبرو ہمیں زلت سے بچا دے

اے میرے پاک رب ۔۔
اے دعاؤں کو قبول کرنے والے مہربان رب
یہ سب تیرے ازن کے بغیر ناممکن ہے
ہماری مدد فرما ۔۔۔۔۔۔ ہماری مدد فرما
آمین ثمہ آمین
الہی آمین

چاند اور چڑیا

چاند اور چڑیا ۔۔۔۔

میرے محبوب
تم کتنے دلکش اور سب سے جداسے ہو
جانے کیسے مشکل سے مشکل دن کو
تم صرف دن سمجھ کر گزار جاتے ہو
خوش رہتے ہو ۔۔۔۔ کیسے بھلا ۔۔؟‌
میرے محبوب
تمہاری حسین مسکرا ہٹ‌ کتنی تہہ دارہے
اور۔۔۔ تمہاری آواز جیسے نوید زندگی ہے
تم نے کل ہی تو کہا تھا ۔۔۔۔۔۔
“سنو۔۔!‌
جب چاند اپنے پورے جوبن پر چمکتا ہے
تو ۔۔ شہر کے تمام کتے بھونکنے لگتے ہیں
یہ دنیا ہے پگلی ۔۔۔
اور ۔۔ تم ایک چڑیا۔۔ ایسی خوبصورت “‌
میرے محبوب
تمہاری ایک بات میں ایک ہزار رمزیں ہیں‌
پر ۔۔۔ میں سوچ رہی ہوں
کبھی چاند اور چڑیا بھی بیچ سفر سے لوٹے ہیں
کتوں‌ کے ڈر سے ۔۔۔ بھلا سفر کب رکتے ہیں

ڈاکٹر نگہت نسیم

افسانہ ؛ بیل فلاور

افسانہ ؛ بیل فلاور
تحریر ؛ ڈاکٹر نگہت نسیم

یکم جنوری 1986
آج میں بہت اداس ہوں ، گزرتے وقت کا کوئی لمحہ بھی ایسا مجھے یاد نہیں آ رہا جس میں کچھ الگ ہوا ہو ۔۔ کبھی کبھی سوچتی ہوں سال کا پہلا لمحہ ہو یا آخری کچھ بھی تو نہیں بدلتا سوائے کلینڈر کے ۔ ۔۔ یہ روزانہ کی ترتیب والی زندگی سے وحشت ہونے لگی ہے ۔ کبھی تو کچھ ایسا ہوا کرے جو نا ہوا ہو کبھی !

——————————-
5 جنوری 1986
آج کئی دنوں بعد ڈائری لکھنے بیٹھی ہوں ۔ پر سوچ رہی ہوں کیا لکھوں ۔۔؟‌ کیسے لکھوں ۔۔؟‌ دل پر کیا قیامت گزرگئی ۔ بی بی جی کو بیٹھے بٹھائے جانے کیا ہوا ، باتیں کرتے کرتے ایکدم سے گر گئی اور خاموش ہو گئی ۔۔ اف میرے خدا ہسپتال میں ان کا داخلہ اور ان کی بے بسی ۔۔ اتنی تکلیف دہ اور مایوس سے دن اور رات ۔ بی بی جی یوسف اور مجھ پر جان چھڑکتی ہیں ، اگر انہیں کچھ ہو گیا تو ۔۔؟ اف مجھ سے اس سے آگے کچھ نہیں سوچا جا رہا ۔۔!

ہمارے گھر کا سنگھار ہماری بی بی جی تھیں ، ساری محبتیں انہیں کی برکتوں سے تھیں ۔ امی جی کہتی ہیں کہ جب وہ بیاہ کر آئی تھیں تو انہوں نے دہلیز کے کناروں پر شگون کا تیل ڈالتے ہوئے ان کا ماتھا چوم کر کہا تھا “ تم میری بہو نہیں ، بیٹی ہو “ ۔ اس دن کے بعد سے کوئی دن ایسا نہ تھا جب انہوں نے ماں بن کر اپنی بیٹی کوچاہا نا ہو ۔ ان کی محبت جو دیکھتا حیران رہ جاتا ۔ امی جی آج کتنی بےقراری سے بی بی جی کے ہاتھ اپنی آنکھوں کو لگا رہی تھیں تو کبھی انہیں چوم رہی تھیں ۔۔ ابا جی سے دیکھا نا گیا تو انہیں زبردستی یوسف کے ساتھ گھر بھیج دیا ۔ یوسف مجھ سے دو برس ہی تو چھوٹا تھا کیسی زمیداری سے ابا جی کے ساتھ ہسپتال کے لمبے لمبے برآمدوں میں بھاگتے بھاگتے آج اچانک بڑا ہو گیا تھا۔
بی بی جی کہا کرتی ہیں “ محبت ایثار ہے ، چاہے کسی سے ہو “ ۔۔۔۔۔۔
میرے آنسو دعا بن کر ایک تواتر سے بہہ رہے ہیں ۔۔۔ “ اللہ میری بی بی جی کو اچھا کر دے “ ۔۔
—————————————————-
12 جنوری 1986
بی بی جی کو ہسپتال داخل ہوئے آج پورا ایک ہفتہ ہو چکا ہے پر ان کی بیماری میں رتی بھر سدھار کی صورت دیکھائی نہیں دے رہی ۔ جانے کیوں میری چھٹی حس وہ بات کہہ رہی ہے جو میں سوچنا نہیں چاہتی ۔ ڈاکٹروں کو نہیں چاہیئے کہ ہر بات کھول کھول کر بتا دیا کریں ۔۔ سچ ، امیدوں کے سفر کو تھکا جو دیتا ہے ۔ پر سچ نہ کھلے تو انسان حقیقت کو ماننے میں خود تھک بھی سکتا ہے ۔۔ کچھ بھی ہو ، کیسے بھی ہو کچھ رشتے سب کے پاس ایسے ضرور ہوتے ہیں جن کی جدائی کو دل مانتا ہی نہیں ہے ۔۔ گھر کے بزرگ چپ ہو جائیں تو زندگی کتنی ویران سی لگتی ہے ۔۔ لگتا ہے جیسے گھر سے برکتیں اٹھ گئی ہوں ۔
ہائے ۔۔ کیا ہمارے گھر سے بھی برکتیں اٹھنے والی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟

——————————————
20 جنوری 1986
15 جنوری کا دن کتنا تاریک طلوع ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
گھر سے برکتیں اٹھ گئیں ۔۔
محبتیں ہجرت کر گئیں ۔۔۔
ہمارے گھر کا سب سے بڑا اور اہم ستون گر گیا ۔۔۔۔۔
ہائے ۔۔۔۔۔۔۔۔ میری بی بی جی سپرد خاک ہو گئیں
کوئی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کوئی تو بولے ۔۔۔۔ پناہوں میں بے گھری کیسی لگتی ہے ؟

———————————————-
27 فروری 1986
بی بی جی کا چہلم بھی ہو گیا ۔۔۔ کاروبار زندگی پھر سے ویسے ہی ہوگئے جیسے پہلے ان کے زمانے میں ہوا کرتے تھے ۔۔ ہاں ابا جی کی مسکراہٹ بی بی جی کے جانے کے بعد مسکرا نہ سکی ۔۔ بی بی جی تو ان کی ماں تھیں پر وہ ہم سب کی سب سے اچھی اور بڑی ماں تھیں ۔ امی جی لحاف دھوپ میں ڈالتے ہوئے کئی بارچپکے چپکے اپنے کاسنی دوپٹے سے آنسو پونچھ چکی تھیں ۔۔ یہ کام کئی برسوں سے وہ بی بی جی کے ساتھ مل کر کیا کرتی تھیں ۔۔

مجھے یاد آیا ابا جی کے خالہ زاد بھائی انکل حمید جو سدا سے اسلام آباد میں آباد تھے ، سردیوں پر جان دیا کرتے تھے ۔ پچھلی گرمیوں کی چھٹیوں میں ہم سب ان سے ملنے گئے تھے ۔ بیزار سی صورت بنائے بار بار کہہ رہے تھے “ جانے خدا کو گرمیوں سے اتنا عشق کیوں ہے “ ۔۔ اور آنٹی سلمی انہیں اللہ میاں کی خفگی سے ڈرانے کے لیئے ہر بار کہتیں “ توبہ کریں جی “ اور انکل حمید جھلاتے ہوئے ان کے پاس سے اٹھ جاتے ، دن میں کئی کئی بار نہاتے اور رات کو ہم سب کو آئیس کریم ضرور کھلاتے ۔ یوسف جسے امی جی لاکھ سمجھا کر ساتھ لائی تھیں ان کی ہاں میں ہاں ضرور ملاتا “ انکل جی گرمی کے موسم کو “جہنم کی پریکٹس “ کہتے ہیں ۔۔ امی جی کے بعد جب میں بھی اسے گھورتی تووہ دبی آواز میں کہتا “ کیا ہے آپا “ اورادب میں کچھ دیر چپ رہتا ۔۔۔۔ پھر وہی انکل حمید کی باتوں پر اس کی من مانیاں ہو تیں ۔
شاید موسموں کی اسی بے ادبی سے بچنے کے لیئے امی جی کو بھی بی بی جی کی طرح سارے موسم ہی اچھے لگتے تھے ۔ اس قدر شوق اور لگن سے اس کی پذیرائی کرتیں کہ موسم کبھی کبھی ٹھہر ہی جایا کرتے تھے ۔۔۔۔

مجھے بھی بی بی جی ، امی جی کی طرح بے ادب اور گستاخ ہونا اچھا نہیں لگتا ۔۔۔۔۔۔ انسان اور موسم مہمان ہی تو ہوتے ہیں ۔
———————————————————————
30 مارچ 1986
آج کل ہر طرف پھول ہی پھول بکھرے ہوئے ہیں ۔ مجھے پیلے گلاب ہمیشہ سے بہت اچھے لگتے ہیں ۔آج رضوان نے کتنی آسانی سے کہہ دیا تھا کہ” پیلے گلاب نفرت کی نشانی ہوتے ہیں “‌ ۔۔۔ توبہ میری آواز احتجاجا کیا اونچی ہوئی کہ امی جی نے مجھے ڈانٹ دیا ۔۔“ اچھا نہیں لگتا بیٹی “ ۔ ارے کیا اچھا نہیں لگتا ۔۔ اب اگر وہ ابا جی کے جگری دوست انکل خالد کا اکلوتا ہے ۔۔۔ ہوسٹل میں رہتا ہے۔۔ مجھ سے بڑا ہے تو ہوا کرے ۔۔ پر امی جی کو تو ہر اس کے آنے جانے سے لے کر کھانے پینے تک کی فکر رہتی تھی ۔۔ اور یوں وہ کچھ زیادہ ہی گھر پر نظرآتا تھا اور پھر یوسف کے ساتھ مل کر صرف شرارتیں ہوتیں ، جسے امی جی رونق سے تعبیر کرتی تھیں ۔۔ ارے یاد آیا دو دن بعد رانی کی سالگرہ ہے اور مجھے اس کے لیئے تحفہ بھی لینا ہے ۔۔
رانی، زندگی کے حبس بھرے دنوں میں روزن بن جانے والی دوست تھی ۔۔ رانی ایک خوشگوار جھونکے کی طرح تھی ۔۔ جس سے مل کر ہر پل یاد گار ہوجاتا تھا ۔۔۔۔۔۔
مجھے اس سے یہ بھی پوچھنا ہے کیا رنگوں اور پھولوں کو نفرت کرنا آتی ہے ۔۔۔۔۔۔ مجھے شاید رضوان کی بات اچھی نہیں لگی کہ پیلے گلاب نفرت کی نشانی ہوتی ہے ۔

———————————————–
٤ اپریل ١٩٨٦
میرے خدا ۔۔۔۔ آج حد ہو گئی ۔۔ رانی کی سالگرہ سے واپسی پر رضوان ہی مجھے لینے آیا ہوا تھا ۔۔۔ اف وہ کتنا بولتا ہے ۔۔ کہہ رہا تھا “ تم آج اچھی لگ رہی ہوں لیکن موڈ سے ڈریکولا “ ۔۔۔ میرے چپ رہنے پر اسے مزید موقع مل گیا تھا ۔۔ کہہ رہا تھا ۔۔ “ زندگی اتنی حسین ہے اسے خوشی خوشی گزارنا سیکھو لڑکی ۔۔ مشکل بننے سے زندگی بدصورت ہو جاتی ہے “ ۔۔ گھر آچکا تھا ۔۔ میں گاڑی سے اتر ہی رہی تھی کہ اس نے دروازہ تھام لیا ۔۔ بڑی رازداری سے کہہ رہا تھا “ سنو لڑکی مجھے تمہارے ساتھ اپنی باقی کی ساری زندگی گزارنی ہے “ ۔۔ میں نے حیرانگی سے اسے دیکھا ، اف اس کی آنکھوں کی بولیاں مجھے برف کر رہی تھیں ۔۔ بڑی مشکل سے اپنے کمرے تک پہنچی ۔۔۔۔۔۔۔ “ جواب ادھار ہے جی “ ۔۔ اور اب
میں سوچ رہی ہوں کیا جواب ہو اس بات کا ۔۔۔۔ ؟
میں مشکل لڑکی نہیں ہوں رضوان ۔۔۔ بات یہ ہے کہ تم مجھے سمجھنا ہی نہیں چاہتے ۔۔ شاید تم بھی عام انسانوں کی طرح عورت کے ماتھے کے پیچھے چھوٹا سا سر دیکھنا چاہتے ہو ۔ ایک ایسا روبوٹ چاہتے ہو جس کا معاشی ، جسمانی ، جذباتی کنٹرول تمہارے ہاتھ میں ہو ۔
لیکن سنو ۔۔ رضوان ۔۔ میں کوئی بیل بوٹا نہیں ہوں جسے جب چاہا جڑ سے اکھاڑا اور جہاں چاہا لگا دیا ۔۔ پھر اپنے گرد لپیٹ لیا ۔۔۔۔۔ میں لڑکی ہوں ۔۔جس کے ماتھے کے پیچھے دماغ ہے جو اپنی ایک سوچ رکھتی ہے ، اس کے چہرے پر دو آنکھیں ہیں جو سارے موسموں کی رازدار ہیں ۔۔۔ اس کے پاس دل ہے جو پھولوں کے دکھ سے بھی واقف ہے ۔۔ اس کے پاس زبان بھی ہے جو خوشیاں بانٹنا جانتی ہے ۔ پھر اس لڑکی کے پاس تعلیم بھی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کے پچھلے پہر دکھ سے سوچ رہی ہوں کیا پڑھی لکھی لڑکیاں “ مشکل “ ہوتی ہیں ۔۔۔۔ ؟
کیا ان کا حق نہیں ہوتا کہ ان سے پوچھا جائے کہ تمہیں کس کے ساتھ عمر گزارنی ہے ۔۔؟
————————————-
٣٠ اپریل ١٩٨٦
اپریل کے باقی سارے صفحے خالی پڑے تھے ۔۔۔۔۔ میری زندگی کے خالی صفحوں کی طرح ۔۔ میں ابھی تک حیران ہوں کہ امی جی اور ابا جی نے مجھ سے پوچھے بغیر رضوان کے ساتھ میرا ساتھ طے کر دیا ۔۔۔۔ میں کچھ بھی تو نا کہہ سکی ۔۔۔۔ گم صم بیٹھی ہوں ۔۔ خود سے باتیں کر رہی ہوں ۔۔ کیا میں رضوان کو پسند کرنے لگی ہوں ۔۔ شاید تعلقات ہی انسیت بن جاتے ہیں پھر محبت میں ڈھل جاتے ہیں ۔۔
کہیں ایسا تو نہیں میرا اپنے رشتوں پر مان ٹوٹ رہا ہے ۔۔۔۔۔
کم از کم امی جی کو مجھ سے بات تو کرنی چاہیئے تھا ۔۔۔۔۔۔ میرا دم گھٹنے لگا ہے شاید ۔۔۔
———————————————
٦ مئی ١٩٨٦
خدا خدا کر کے پانچ مئی آئی تھی ۔۔ بائیولوجی میں ماسٹر کرنے کا خواب پورا ہونے والا تھا ۔۔ امتحانات بھی ختم ہو چکے تھے ۔۔۔ یونیورسٹی میں جاب بھی مل گئی تھی ۔ خدایا میں کتنی خوش تھی کہ جیسا میں چاہتی تھی ویسا ہی ہو رہا تھا ۔۔ پر آج جب گھر واپس آئی تو رضوان ڈرائینگ روم میں ہی بیٹھا ہوا تھا ۔ میں کھانا لے کر وہیں آ گئی تھی ۔۔ اس نے بغیر کسی تمہید کے کتنے سکون سے کہہ دیا تھا مجھے جاب کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔ اور یہ بھی کہ شادی کے بعد کونسی نوکری کرنی ہے ۔۔۔ پھر یہ بھی کہ مزید پڑھنے کی کیا ضرورت ہے ۔۔ لیکن میں پی ایچ ڈی کرنا چاہتی ہوں اور ۔۔ اس سے پہلے کہ میں اپنی بات مکمل کرتی وہ اپنا فیصلہ سنا کر یوسف کے کمرے میں جا چکا تھا ۔۔ میں سوچ رہی ہوں
نوکری کیا کسی معاشی کمی کے بغیر نہیں کی جا سکتی ۔۔

ہائے کہیں ایسا تو نہیں کہ تم بھی عام مردوں کی طرح پڑھی لکھی ، سمجھدار لڑکیوں سے خائف ہو گئے اور اپنی بادشاہت اور حکمرانی جاتی ہوئی لگ رہی ہے ۔۔۔
کاش ایسا نہ ہوا ہوتا ۔۔۔ میری آنکھیں ڈبڈبا گئیں ہیں رضوان ۔۔۔۔ میں سوچتی تھی تم ایسے نہیں ہو سکتے ۔۔
تم مجھے کبھی بھی اپنے معاشی پروں میں چھپا کر سارے موسموں سے آزاد نہیں کرو گے ۔۔مجھے جذباتی آسودگی سے کبھی محروم نہیں کرو گے ۔۔ پر ایسا کچھ نہیں ہوا ، تم نے بھی نہیں سمجھا عورت بہت مظبوط ہونے کے باوجود بہت کمزور بھی ہوتی ہے ۔ آج بھی اسے وہی گھونسلے اچھے لگتے ہیں جسے اس کے مرد نے تنکا تنکا جمع کر کے بنائے ہوتے ہیں۔
کہیں ایسا تو نہیں رضوان تم نے مجھے چیلنج کی طرح قبول کیا ہے اور ایک دن اپنی جیت کا جھنڈا لہرا کر اپنے تابع کر لینا چاہتے ہو ۔۔ پر سنو شرطوں پر صرف ہار جیت ہوتی ہے رشتے نہیں بنتے ۔۔
لڑکیاں بیلوں جیسی نازک ہوتی ہیں ۔۔ انہیں ان کی زمین سے جدا کرو گے تو وہ مر جائیں گی ۔۔ جانے کیوں آج یہ سب لکھتے ہوئے مجھے کیوں ڈر لگ رہا ہے کہ میں تم سے بدگمان ہو رہی ہوں ۔۔۔۔ تمہارا روشن چہرہ گم ہو رہا ہے ۔۔۔۔۔۔ کاش ایسا نہ ہوا ہوتا ۔۔!
———————————————————-
١٣ مئی ١٩٨٦
آج رضوان کو مجھ سے خفا ہوئے ایک ہفتہ ہو چکا ہے ۔۔ سوچتی ہوں اگر یہ تمہاری عزت کا مسلہ نا ہوتا تو یہ اتنا سادہ تھا کہ باہمی بات چیت سے سلجھ سکتا تھا لیکن تم نے تو رفاقت کی شرط ہی یہی رکھ دی تھی ۔۔۔
جانے مجھے کیوں لگ رہا ہے جیسے میری ڈگریاں جدائیاں خرید لائی ہے ۔

————————————————–
یکم جون ١٩٨٦
یکم جون مجھے ہمیشہ اپنی دوست فوزیہ کی جدائی کی یاد دلا جاتا ہے ۔۔ وہ چار برس پہلے جو امریکہ جو گئی تو سب ہی کچھ بھول گئی ۔۔ سوچ رہی ہوں کہیں اسے بھی کسی رضوان سے واسطہ نہ پڑ گیا ہو جس کی ہمیں اس وقت سمجھ ہی نا آئی ہو۔ میرے دل کا جو کونا اس دن ٹوٹا تھا وہ آج تک جڑ نہیں پایا تھا ۔ مجھے کیوں لگ رہا ہے اگر تم نے اپنی ضد نا چھوڑی تو میرے دل کا ایک اور کونا ایسے ٹوٹے گا جو کبھی نہیں جڑ پائے گا۔

————————————————
٤ جولائی ١٩٨٦
آجکل گھر اور باہر کی مصروفتیں بڑھتی ہی جا رہی ہیں ۔۔ یوسف کہہ رہا تھا کہ میں اپنی صحت کا خیال نہیں رکھ پا رہی ہوں سو مجھے نوکری چھوڑ دینی چاہیئے ۔ میں نے جب حیرانگی سے اسے دیکھا تو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہہ رہا تھا “ جو وقت جاب کو دیتی ہیں وہ گھر کو دیجئے آپا “ ۔۔ارے ۔۔ میں میرا ملک میرا گھر ہی تو ہے ، میں اسے سنوارنا چاہتی ہوں ، خود کفیل بنانے میں اپنا حصہ ڈالنا چاہتی ہوں ۔۔ یوسف اس میں برائی کیا ہے ۔۔؟
برائی ۔۔ ؟ آپ نہیں سمجھیں گی آپا ۔۔۔۔۔ یوسف جا چکا تھا اور میں کتنی ہی دیر تک ہلتے ہوئے پردے کو دیکھتی رہی جہاں آوازوں کے چہرے اگ رہے تھے ۔۔ میری طرف بڑھ رہے تھے ۔۔ یوسف کیا تم بھی ۔۔؟ میں شاید بے یقینی کے عالم میں تھی ۔۔۔۔ یا شاید ساکت ہو گئی تھی ۔۔۔۔۔
کیا اس شہر میں صرف رضوان اور یوسف بستے ہیں ۔۔ جو عورت کے شعور سے خوفزدہ ہو کر اپنی آنکھیں کھولنے کی بجائے اسی کی آنکھیں بند کر دینا چاتے ہیں ۔

———————————————
دو اگست ١٩٨٦
آج بڑے دنوں بعد انکل حمید کی بیٹی جویریہ کا خط آیا تھا ۔۔ بہت دنوں بعد دل کا موسم کچھ خوشگوار سا تھا ۔۔ انکل حمید کے گھر میں لگی ہوئی بیل فلاور کی بیل کو بہت یاد کیا ۔۔ کتنی حسین بیل تھی ، بہار میں جب گھنٹی کے شکل کے ہلکے گہرے نارنجی پھول کھلتے تو کتنئ حسین لگتی ، ایسے جیسے نئی نویلی دلہن کا ہار سنگھار ہو ۔۔ ہوا کی ہلکی سی سرگوشی پر ایسے بل کھاتی پھر کتنے ہی پھول زمین پر گرجاتے تھے ۔۔ انکل حمید کو پھولوں کا گرنا بلکل اچھا نہیں لگتا تھا ۔ ان کے خیال میں یہ بکھیڑے بڑھانے والی بیل ہے اسے گھر میں ہونا ہی نہیں چاہیئے ۔ پھر آئے دن کبھی اس کا سوکھ جانا ۔۔ کبھی ہرا بھرا ہو جانا انہیں آنکھ مچولی لگتا تھا اور وہ اس کھیل سے بھی تنگ رہتے تھے ۔۔۔ جویریہ نے لکھا تھا “ابو جی نے بیل فلاور کی ساری بیلوں کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا ہے اور اب ہم سب اس بے رونقی کو ختم کرنے کی تدبیریں کر رہے ہیں ۔

ہائے ۔۔ مجھے کیوں ایسا لگ رہا ہے جیسے بیل فلاور کی بیل “ میں “ ہوں اور انکل حمید کی طرح سب میرے ہلکے گہرے نارجی پھولوں کی بہار کو بکھیڑا سمجھ کر جڑ سے اکھاڑ پھینکنا چاہتے ہیں ۔۔
————————————-
٢٠ اگست ١٩٨٦

اس بار اگست کے آخر میں رمضان آ گیا تھا ۔۔ ہر طرف گرمی اور بس گرمی ۔۔ مجھے بی بی جی بہت یاد آرہی ہیں ۔ کتنے اہتمام سے وہ سحر سے شام تک کا وقت بتاتی تھیں ۔یوں لگ رہا ہے جیسے ان کے جانے کے بعد سورج نے ہنسنا اور چاند نے مسکرانا چھوڑ دیا ہو ۔ سارا میل سنگ جیسے ختم سا ہوتا جا رہا تھا ۔۔ واقعی ہمارے گھر سے برکتیں اٹھ رہی تھیں ۔ وہ کہا کرتی تھیں “ میری بیٹی پڑھ لکھ کر بہادر بنے گی“ ۔ میری آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں ۔۔ ہائے میری بی بی جی ۔۔ وہ جان ہی نا پائیں کہ پڑھی لکھی بیٹی اور بہادری میں کوئی قدر مشترک نہیں رہی ۔
بی بی جی سنیے ۔۔ ابا جی نے بھی انکل حمید کی طرح روز کی بک بک سے تنگ آ کر مجھے بیل فلاور کی بیل کی طرح جڑ سے اکھاڑ پھینکا ہے ۔ کاش آپ میرے ساتھ ہوتیں تو ہم کچھ بیلوں کو بچا لیتے ۔۔ مجھے لگ رہا ہے کہ اب وقت قریب آ گیا ہے جب مجھے ڈگریوں کا کفن پہنے اپنی قبر میں خود ہی دفن ہونا ہوگا پر یہ نہیں جانتی کہ روز روز مرنا ہوگا یا صرف ایکبار مروں گی ۔۔
میں کس سے پوچھوں بی بی جی ۔۔ کیا شعور اور آگہی کچی عمروں سے اس کی بے نیازی اور فطری معصومیت چھین لیتی ہے ۔۔۔ کیا تعلیم عیار اور چالاک بنا سکتی ہے ۔۔ یہ کیوں نہیں سوچ سکتے کہ یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ ہم نے جلد منزل پالی ہو یا ہم جلد مکمل ہو گئے ہوں ۔۔شاید اس تکمیل کی جدوجہد نے ہماری اوسط عمر کو بھی گھٹا دی ہے جبھی تو رضوان مجھے بوڑھی روح کہہ کر مخاطب کرتا تھا ۔۔

اف مجھے رضوان نے اپنی زہریلی باتوں کا زہر دے کر نیلا کر دیا ہے ۔۔۔۔
———————————————————
٥ ستمبر ١٩٨٦
ابا جی کی سالگرہ میں رضوان کو شدید بارش میں بھی آنا ہی پڑا ۔۔ ہائے کتنے دنوں بعد اسے دیکھا تھا ۔۔ وہ شاکی نظروں سے مجھے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔ مجھے یوں لگا جیسے کہہ رہا ہو “ میں مرد ہوں ۔ عورت کی برتری برداشت نہیں کر پاؤں گا ۔۔ میری مٹی میں بدگمانی اور شک شامل ہوا ہے ۔۔ مان جاؤ ۔۔ پلیز ۔۔ ورنہ میرے اندر کا آدمی مجھ سے بغاوت کر جائے گا ۔ ۔۔ نہیں رضوان اگر تمہارے اندر کے مرد نے ہجرت نا کی تو میرا وطن خوشحال نا ہو سکے گا ۔ میری زمین بنجر رہ جائے گی ۔۔ کوئی بیل فلاور کی بیل کو اپنے گھر نہیں بسنے دے گا ۔۔ کسی کو تو ہارنا ہی ہے ۔۔
تم نے سنا نہیں تھا مسز کاشف آج کتنے بےدردی سے کہہ رہی تھیں “ جب سے یہ عورت گھر سے نکلی ہے، نا برکت رہی گھر میں اور نا رونق ۔۔ دیکھ لیجئے ہمیں بھی مغرب کی طرح اپنے سکھ اور بچوں کی قربانی دینی ہو گی ۔۔ پر کسی نے ان سے نہیں پوچھا کہ گھر تو مل کر بنائے جاتے ہیں ۔ ان کے دکھ سکھ سانجھے ہوتے پھر صرف قصوروار عورت ہی کیوں ؟

امی جی بتا رہی تھیں تمہارے گھر والے امریکہ سے ہمیشہ کے لیئے واپس آرہے ہیں اور وہ اس رشتے کا باقائدہ اعلان چاہتے ہیں ۔ مگر پتہ نہیں کیوں رضوان فیصلے کا اعلان بار زیست لگ رہا ہے ۔۔ انکار یا اقرار ۔۔
——————————————
٢٥ ستمبر ١٩٨٦
رضوان نے گھر والوں کے آنے سے پہلے ہی ابا جی کی مدد سے گلشن اقبال میں نیا گھر لے لیا تھا اور اسے بڑی محنت سجا سنوار بھی لیا تھا جس کی یوسف نے بہت تعریف کی تھی ۔ آج یونیورسٹی سے واپسی پر رضوان کو گھر پا کر کچھ خوشگوار سی حیرت ہوئی ۔۔ اور مجھ سے ہی مخاطب تھا ۔۔ “ پھر تم نے کیا سوچا ہے “ ۔۔ میں پہلے تو چونکی پھر جانے کہاں سے اتنی ہمت آ گئی اور کہہ دیا “ وہی جوپہلے سوچا تھا “ ۔۔“ سنو تم اس کو اپنی ضد بنا رہی ہو“ ۔۔ رضوان کی ترش آواز پر میرے حلق تک کرواہٹ اتر آئی تھی ۔۔ تمہیں یاد ہے رضوان تم نے کہا تھا “ پڑھی لکھی لڑکیاں گھریلو نہیں ہوتیں ، نوکری انہیں بدتمیز اور گستاخ بنا دیتی ہے ، اور بلا وجہ کی خود اعتمادی انہیں مغرور کر جاتی ہے ، اس لیئے وہ کبھی اچھی بیوی اور دوست نہیں بن سکتیں “ ۔۔۔۔۔۔ میرے لہجے میں کاٹ جانے کہاں سے آگئی تھی جس نے تمہاری آواز کو نگل لیا تھا ۔۔
لیکن وہ باتیں تمہارے لیئے نہیں تھیں ۔۔ تم نے آہستگی سے کہا اور خاموشی اٹھ کر چلے گئے تھے ۔۔
رضوان مسلہ یہ ہے کہ تمہیں مجھ پر اعتبار ہی نہیں ہے ۔۔ جہاں اعتبار نا رہے وہاں سے دوستی ، محبت کی دیواریں نہیں اٹھائی جا سکتیں ۔
بیل فلاور کی جڑیں کاٹ دو گے تو پھول کیسے برسیں گے ۔۔ سوچو تو ۔۔ نوکری اور تعلیم میری انا کا مسلہ نہیں ہے رضوان ۔۔ میرا مسلہ تمہارا دوغلا پن ہے ۔ ایک طرف تم کہتے ہو “ حیا “ چادر اور چاردیواری کی محتاج نہیں ہے بلکہ حیادار زہن و دل کی محتاج ہے ۔ اور جب اپنی باری آئی تو نوکری “ بے حیائی “ سکھاتی ہے اور “ زیادہ تعلیم “ گستاخ بنا دیتی ہے ۔ سنو ۔۔۔۔۔۔ میں تمہاری مشرقی بیوی کے معیار پر پورا نہیں اترتی ۔۔ تو ۔۔ مزید بات کیا ہو ۔۔
کاش تم ایسا نہ کہتے۔۔ ۔ایسا نا سوچتے ۔۔
خدا کے لئے مجھے سولہ سو سال پرانی عورت نا بناؤ ۔۔ مجھے زمین میں زندہ مت گاڑو ۔۔ مجھ سے میرے ہونے کا یقین مت چھینو ورنہ مجھے عورت کے اعتبار ، اس کی حیا ۔۔ اور اس کے وقار کے لیئے تمہیں چھوڑ کر ایک ایسے شخص کا انتظار کرنا پڑے گا جو میری سوچ کے پروں کے ساتھ اپنی پرواز کریں ۔۔ مجھ سے نظریاتی مفاہمت کرے ۔۔ مجھے وہ عزت دے جس کی میں حقدار ہوں ۔۔

————————————————
٢٠ نومبر ١٩٨٦
اور آج میں نے سب کی مخالفت کے باوجود کینیڈا میں “ بیل فلاور ریسرچ “ کے لیئے اپلائی کر دیا ۔۔ امی جی نے حتمی رائے دیدی ہے کہ وہ مجھے کبھی اکیلا نہیں جانے دیں گے ۔۔ اور میں فارم بھرتے ہوئے ہنس پڑی ہوں ۔۔ ہم پڑھی لڑکیاں واقعی ایک عذاب ہی تو ہیں ۔۔ کبھی اسے ہم پلہ ساتھی نہیں ملتا تو کبھی ہم مزاج ۔۔ اف انسانی چیل کوؤں میں گھری ایک تنہا عورت خود کو بچانے کے لیئے خود کو سو ٹکڑوں میں بانٹ رہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
آہ ۔۔ میری محبت نے آج دم توڑ دیا ۔۔۔۔
میرے انکار کی آہ بکا میلوں میل پھیل چکی تھی ۔۔۔ مگر نہیں جانتی رضوان میرا دل کیوں بیٹھے جا رہا ہے ۔ جس حؤصلے سے میں تمہیں چھوڑ آئی ہوں اتنی ہی شدت سے رونا بھی چاہتی ہوں ۔۔ محبتوں نے کب دلیلیں مانی ہیں ۔۔ اس کے رواج تو صدیوں سے ایک سے ہی ہیں نا ۔۔ میرے دل ایک اور کونا ایسا ٹوٹ گیا ہے جو اب کبھی نہیں جڑ پائے گا ۔۔

————————————————————-
٣ دسمبر ١٩٨٦
آج انکل حمید کا خط ملا ۔۔ پڑھ کر حیران ہی تو رہ گئی ۔۔ انہوں نے لکھا تھا “ تم بہت یاد آتی ہو ۔۔ تمہارے ساتھ ہنگامے جو چلے آتے ہیں ۔ اب تو گارڈینا کی باڑ بھی قد میں تم سے زیادہ ہو گئی ہے ۔ موتیا گلاب بھی تمہیں بہت یاد کرتے ہیں ۔۔۔۔ پر انکل جی وہ بیل فلاور کی بیل آپ نے کیوں جڑ سے اکھاڑ پھینکی تھی ۔۔ پر اب سوچ رہی ہوں کہ اچھا ہی کیا تھا بھلا روز روز کی دیکھ بھال سے بھی جو جو مایوس کرے اس کو صحن سے تو کیا دل سے ہی نکال دینا چاہیئے ۔۔
آپ نے بھی اچھا ہی کیا تھا اور رضوان نے بھی اچھا ہی کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔
کاش ۔۔ ہم درختوں ، پودوں ، پھولوں ، بیلوں کی حفاظت کر پاتے ۔۔۔۔۔ ہماری دنیا کتنی مہکی اور خوش رنگ ہوتی ۔۔۔۔۔۔
کاش ۔۔۔۔ عورت بھی اس دنیا کا خوش رنگ حصہ ہوتی ۔۔۔
———————————————————
پندرہ دسمبر ١٩٨٦
آج مجھے کینیڈا کے لیئے روانہ ہونا ہے ۔۔ امی جی کئی دنوں سے بس روئے جا رہی ہیں ۔ اور کئی بار کہہ چکی ہیں اولاد آزمائیش ہی تو ہے “ ۔۔سچ کہا امی جی ۔۔ پر میرے لیئے بھی تو یہ فیصلہ آسان نا تھا ۔۔ میں بھی تو دو دھاری تلوار پر چلی ہوں ۔۔ خدا کی قسم ہمت ہارتی جا ری ہوں پر مجھے پھر بھی جانا ہے ۔۔ مجھے ان لوگوں سے ملنا ہے جو بیل فلاور کو اپنے گھروں کی رونق بناتے ہیں ۔۔ یوسف نے کتنی محبت سے کہا تھا “ آپا سارے اچھے لوگ جدا کیوں ہو جاتے ہیں “ ۔۔ میں اسے بتا نا سکی ناقدری کا دوسرا نام جدائی ہی تو ہے ۔۔ میں اپنے بھائی یوسف کوگلے سے لگائے خود کو تسلی دے رہی تھی کہ میں وہاں جا کر اپنے لوگوں کومجبور کرونگی کہ واپس اپنے ملک چلیں ۔۔اپنے گھر بار کو بچا لیں ۔۔ مجھ جیسی لڑکیاں جو تعلیم کی عمر قید کاٹ رہی ہیں ان کی سزا کی تخفیف کے لئے کشادہ زہنوں کو لوٹنا ہو گا ۔۔۔

انکل حمید کو بیل فلاور کی بیلیں لگانی ہوں گی ۔۔۔ مجھے یقین ہے میرے دل کے جو کونے جھڑ گئے تھے وہ پھر سے جڑ جائیں گے ۔۔

——————————————————-
٢٧ دسمبر ١٩٨٦ بروز ہفتہ
ارے آپ کے پاس آپا کی ڈائری ۔۔۔۔۔ یوسف نے حیرانگی سے رضوان کو دیکھا جس کے سامنے ہلکے براؤن کی ڈائری کا آخری ورق کھلا ہوا تھا
یوسف مجھے کیوں نہیں بتایا اس کے جانے کا ۔۔ رضوان کی آواز جیسے کہیں ڈوب رہی تھی
آپا نے منع کر دیا تھا ۔۔ وہ لاپرواہی سے بولا
اچھا کیا تھا اس نے ۔۔ رضوان کی بات یوسف کی سمجھ میں شاید نہیں آئی تھی جبھی اس نے کوئی جواب نہیں دیا
چلیں اب ۔۔ مجھے آپا کی ڈائری انہیں پوسٹ بھی کرنی ہے جب سے کینڈا گئی ہیں ہر بار تاکید کرتی ہیں ۔ ایک طویل خاموشی کے بعد یوسف نے سے کہا ۔۔۔ رضوان اب بھی خاموش ہی تھا اور خاموشی سے گاڑی میں آ کر بیٹھ گیا ۔۔ کچھ دیر کے بعد وہ دھیرے سےمسکرا دیا ۔۔۔ اور یوسف کو آواز دیتے ہوئے کہا ۔۔ “ جلدی کرو یار ۔۔ تم کو پوسٹ آفس ڈراپ کرنے کے بعد مجھے بیل فلاور کی بیلیں بھی خریدنی ہیں ۔۔۔ یوسف جلدی سے گاڑی میں آ کر بیٹھ گیا ۔۔ اور ایک دفعہ پھر پوچھا ۔“ آپ کو آخری یہ ڈائری ملی کہاں سے “ ۔۔۔ رضوان نے دکھ سے کہا
“ ملی تو لیکن ملی بڑی دیر سے “ ۔۔۔۔۔۔۔۔

———————————————————

غار ثور کے بارے میں

غار حرا
غار حرا مکہ مکرمہ کے قریب واقع پہاڑ جبل نور میں واقع ایک غارہے جو ٹیلس کیو ہے یعنی یہ غار پہاڑ کی چوٹی پر نہیں بلکہ اس تک پہنچنے کے لیے ساٹھ ستر میٹر نیچے مغرب کی سمت جانا پڑتا ہے۔ نشیب میں اتر کر راستہ پھر بلندی کی طرف جاتا ہے جہاں غار حرا واقع ہے۔ غار پہاڑ کے اندر نہیں بلکہ اس کے پہلو میں تقریباً خیمے کی شکل میں اور ذرا باہر کو ہٹ کر ہے۔ کم و بیش نصف میٹر موٹے اور پونے دو میٹر تک چوڑے اور تین چار میٹر لمبے چٹانی تختے پہاڑ کے ساتھ اس طرح ٹکے ہوئے ہیں کہ متساوی الساقین مثلث جیسے منہ والا غار بن گیا ہے جس کا ہر ضلع اڑھائی میٹر لمبا اور قاعدہ تقریباً ایک میٹر ہے۔ غار کی لمبائی سوا دو میٹر ہے اور اس کی اونچائی آگے کو بتدریج کم ہوتی گئی ہے۔ غار کا رخ ایسا ہے کہ سارے دن میں سورج اندر نہیں جھانک سکتا۔

حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جب چالیس سال کے ہوئے تو آپ چند روز کی خوراک ساتھ لے کر جبل نور پر آتے اور اس غار میں غور و فکر اور عبادت فرماتے تھے۔ 610ء میں فرشتہ جبرائیل علیہ السلام پہلی وحی لے کر تشریف لائے۔ اس وقت سورہ العلق کی پہلی آیات نازل ہوئیں ۔ اس وقت حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی عمر تقریباًً چالیس سال تھی۔

خدا سے کلام

خدا سے کلام ۔۔۔۔

اے خدا
میں نے سنا ہے ۔۔
کرہ ارض پر ایک ایسا ملک بھی ہے
جس کی زمین
معصوم لہو سے گل رنگ رہتی ہے
جہاں ہر طرف خاک ہی اڑتی ہے
سنا ہے ۔۔۔
موت جب بھی وہاں کوئی واردات نئی کرتی ہے
بوکھلائی ہوئی رات اکثر دن چڑھے ہی آجاتی ہے
سنا ہے ۔۔
کچھ پرندے
خشک پیڑوں کی شاخوں سے لپٹےمرے پڑے ہیں
کچھ اب بھی پھولوں کے ملبے تلے کراہ رہے ہیں
اے خدا ۔۔!
میدان جنگ کی وسعت جتنی بڑھتی جا رہی ہے
تیری تخلیق کی قیمت اتنی گھٹتی جا رہی ہے
میں نے تو یہ بھی سنا ہے
پر ۔۔۔ کیا ۔۔ یہ سچ ہے
اب ۔۔۔
کوئی حیات تازہ
شام و کشمیر کے دکھوں کو نہیں سمجھے گی
عمر کے اس اختصار پر استغاثہ نہیں کرے گی

ڈاکٹر نگہت نسیم

بانو قدسیہ  4/2/2017 کو ہم سے جدا ہو گئیں

عظیم راہیٹر، ڈرامہ نگار بانو قدسیہ  دس دن لاہور کے ہوسپیٹل میں بیمار رہنے کے بعد 4/2/2017 کو ہم سے جدا ہو گئیں اور آج دوپہر کو لاہور کے قبرستان میں ان کو سپرد خاک کر دیا گیا ۔بانو قدسیہ ہمارے لیے عظیم سرمایہ تھیں بہت اچھی انسان تھیں ۔

بانو آپا ہم کبھی آپ کو نہیں بھولیں گئے آپ ہماری تاریغ کا حصہ ہیں آپ کی اردو ادب اور پنچابی ادب میں خدمات ہمیشہ زندہ رہیں گئ۔اللہ پاک آپ کی معفرت کرے اور آپ کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے آمین

ڈاکٹر نگہت نسیم کے ابا جی آج ہوسپیٹل سے گھر چلے گئے

الحمداللہ ۔۔۔ عالمی اخبار کی نائب مدیرہ اور ہماری پیاری بہن ،دوست ڈاکٹر نگہت نسیم کے ابا جی آج ہوسپیٹل سے گھر چلے گئے ہیں جو کافی دن سے لاہور کے شیخ زاہد ہوسپیٹل میں زیر علاج تھے ۔بہت سن کر دل خوش ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔  نگہت آپی اور سب اہل خانہ کو ابا جی کی صحت یابی کی بہت بہت مبارک ہو دُعا ہے اللہ پاک ابا جی کو صحت یابی کے ساتھ لمبی عمر عطا کرے آمین۔۔۔۔۔۔۔  دُعا گو ۔۔۔ نوشی عقیل17352098_1866610050246608_8317499745691740271_n

سڈنی میں درجہ حرارت 45 سنٹی ڈگری ریکارڈ کیا گیا

سڈنی میں آج شدید گرمی

آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں آج بے حد گرمی ہے درجہ حرارت 45 سنٹی ڈگری ریکارڈ کیا گیا وھاں کے  انسان توانسان پرن دے ،جانور سب پریشان ہیں اور اپنے رب سے گرمی کم کرنے کے منتظر ہیں اور اپنے رب سے اُمید کرتےہیں کہ جلد ہی رب  کریم ٹھنڈی ہواوُں کا رخ ان کی طرف کرے گا اور بارش کے ٹھنڈے مہکتے قطرے گرمی سے تپتی زمین پر برسائے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہماری بہت پیاری بہن ،دوست عالمی اخبار کی نائب مدیرہ  ڈاکٹر نگہت نسیم بھی سڈنی میں گرمی  سے پریشان ہیں آئیں سب مل کر دعا کرتے ہیں کہ رب کریم جلد کرمی کا زور کم کرے اپنا رحم کرے اپنا کرم  کرے آمین۔۔۔۔۔۔۔  پریشان زدہ لوگوں کی پریشانی دورکرے ۔۔آمین

نوشی عقیل

بانو قدسیہ کی وفات۔ داستان سرائے کے داستان گو گئے

عظیم راہیٹر بانو قدسیہ لاہور کے ہوسپیٹل میں دس دن بیمار رہنے کے بعد 4/2/2017 کو ہم سے جدا ہو گئیں اور آج دوپہر کو لاہور کے قبرستان میں ان کو سپرد خاک کر دیا گیا بانو قدسیہ آج اپنے اشفاق احمد سے جا ملیں ۔بہت اچھی انسان اور راہیٹر تھیں۔ بانو آپا ہم آپ کو کبھی نہیں بھولیں گئے آپ ہماری تاریغ کا حصہ ہیں آپ کی اردو ادب اور پنجابی ادب میں خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔۔۔اللہ پاک آپ کی مغفرت کرے اور آپ کو جنت الفردوس میں جگہ دے آمین

ابو جہل زندہ ھے ؟

ابوجہل زندہ ہے؟ سیدہ رافیعہ گیلانی

اب علم و حکمت کا کیا کام
کیونکہ ملک میں تو اسلام ھے
بس تم انسانیت کا قتل عام کرو
بلا تامل مساجد کو ویران کرو
بلا خوف رشوت و سود کا کاروبار کرو
پیار کرنا ہے تو بد عنوانی سے پیار کرو
کیونکہ ملک میں تو اسلام ھے
سنو۔ جس جس سے دل راضی نھیں تیرا
اس کو پھر کیوں ھے زندہ چھوڑا
سچے عاشق رسول بھی تم ھو
شریعت کے حقدار بھی تم ھو
سچ تو یہ کہ اسلام کے ٹھیکیدار بھی تم ھو
کیوںکہ ملک میں تو اسلام ھے
اللہ کے احکام کو، رسول ص کے فرمان کو
بے فکر ہو کر بھلا دو
بلا خوف انسانیت کی بھر پور تزلیل کرو
اور بحث مباحثے طویل کرو
جو اچھا نہ لگے اسے کافر قرار دے دو
جسکی عبات گاہ چاہو اُسے اگ لگا دو
کیونکہ ملک میں تو اسلام ھے

بلاگ ممبرز متحرک ہو جائیں ۔۔ اب کام کا وقت آ گیا

عالمی اخبار کے بلاگ دوستوں کو نوید ہو کافی آرام ہو چکا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب کام کا وقت آ گیا ۔۔۔۔
خوشی کی بات یہ ہے کہ دو ماہ سے زیادہ عرصے کے بعد عالمی اخبار کی نئی ویب سائٹ‌ منظر مشہود پر آ گئی ہے ۔ویب سائٹ‌کی تیاری اور اسے آن لائن ہونے تک کی تمام روداد میں جلد ہی تفصیلی لکھونگی ۔ لیکن اس وقت آپ تمام دوستوں سے درخواست کرنی ہے کہ پہلے کی طرح ایک بار پھر عالمی اخبار کے بلاگ کو فعال بنایا جائے ، اور ہم سب اپنی فکری اور علمی گفتگو سے ایک دوسرے کے علم میں اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ سوچ بچار کی نئی راہیں‌کھولیں‌۔

اب ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ ہم اپنے مزید دوسرے احباب کو بھی بلاگ پر مدعو کریں اور اپنی سوچ اور فکر کی روشنی تقسیم کریں ۔عالمی اخبار کے ادارتی ادارے نے نوشی عقیل کو بلاد کی ماڈریٹر کے طور پر زمیداری دی ہے ۔ مجھے یقین ہے کہ وہ اپنی نئی زمیداری کو خوش اسلوبی سے سر انجام دے گی ۔۔۔ انشاللہ ۔۔

دعاگو
ڈاکٹر نگہت نسیم

ممتاز شاعر صہبا اختر 30 ستمبر 1931ء کو جموں میں پیدا ہوئے۔

sehba-akhtar
اردو کے ممتاز شاعر صہبا اختر کا اصل نام اختر علی رحمت تھا اور وہ 30 ستمبر 1931ء کو جموں میں پیدا ہوئے۔
ان کے والد منشی رحمت علی، آغا حشر کاشمیری کے ہم عصر تھے اور اپنے زمانے کے ممتاز ڈرامہ نگاروں میں شمار ہوتے تھے۔

صہبا اختر نے بریلی سے میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے بعد علی گڑھ یونیورسٹی میں داخلہ لیا مگر اسی دوران پاکستان کا قیام عمل میں آگیا اور انہیں اپنے اہل خانہ کے ہمراہ پاکستان آنا پڑا۔ پاکستان آنے کے بعد صہبا اختر نے بہت نامساعد حالات میں زندگی بسر کی پھر انہوں نے محکمہ خوراک میں ملازمت اختیار کی اور اسی ادارے سے ریٹائر ہوئے۔

صہبا اختر کو شعر و سخن کا ذوق زمانہ طالب علمی سے ہی تھا۔ وہ ایک زود گو شاعر تھے۔ انہوں نے نظم، قطعہ، گیت ، ملی نغمے، دوہے اور غزل ہر صنف سخن میں طبع آزمائی کی۔ ان کے مجموعہ ہائے کلام میں سرکشیدہ، اقرا، سمندر اور مشعل کے نام شامل ہیں۔ حکومت پاکستان نے انہیں ان کی وفات کے بعد صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔
٭19 فروری 1996ء کو صہبا اختر کراچی میں وفات پاگئے اور گلشن اقبال کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔
ان کا ایک شعر ملاحظہ ہو:

یہ کون دل کے اندھیروں سے شام ہوتے ہی
چراغ لے کے گزرتا دکھائی دیتا ہے

عالمی اخبار جلد ہی نئے انداز اور نئے جدید روپ میں

small_150ver
آن لائن صحافت کی دنیا کا ایک بے لاگ اور صحافت کے غیر تجارتی اصولوں کی بنیاد پر لگ بھگ نو سال سے جاری ۔۔۔ عالمی اخبار۔۔۔ اگلے چند ہی روز بعد ایک نئے انداز اور نئے جدید روپ میں اپنے قارئین کی خدمت میں پیش کیا جائے گا

عالمی اخبار کی نئی ویب سائٹ کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اول تو یہ خط نستعلیق میں ہو گی اور دوسرے اسے ٹیکنالوجی کے جدید ترین تقاضوں سے ہم اہنگ کیا گیا ہے۔

عالمی خبروں کے علاوہ پاکستان، علاقائی، براعظمی، تازہ ترین، سائینس، صحت، ادب، دین، کھیل، ملتی میڈیا اور متعدد دیگر اہم شعبوں کے علاوہ ایک حصہ انگریزی خبروں اور رپورٹس کے لیئے مختص ہے

اس نئی ویب سائٹ کی تیاری میں دو ماہ سے زیادہ کا عرصہ لگا ہے اور اسے تیار کرنے میں انٹر نیٹ سیکیورٹی اور ویب ڈیزائننگ میں مہارت رکھنے والےسلمان مرچنٹ اور مارکیٹنگ اور ویب سلوشنز کے ندیم زیدی کا بے لوث تعاون اور ہر قدم پر انکے مفید مشورے بھی شامل رہے ہیں

ادارہ عالمی اخبار جناب سلمان مرچنٹ اور ندیم زیدی کا ممنون ہے اور عالمی اخبار کے ادارتی بورڈ نے ان دونوں کرم فرما

ندیم زیدی اور سلمان مرچنٹ
حضرات کو ٹیکنالوجی اور ویب ڈیزائننگ کے شعبوں کے سربراہ کے طور پر عالمی اخبار کے ادارتی بورڈ میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے جسکا باقاعدہ اعلان بھی جلد ہی کر دیاجائے گا

پاکستان میں ویب ڈیزائننگ اور ڈیٹا بیس کے نام پر جو عطائی لوگ کام کر رہے ہیں اس نئے سفر میں انکے ہونے والے تجربات بھی ایک الگ داستان ہے جسے مناسب وقت پر تفصیل سے بیان کریں گے۔ یہ نام نہاد ادارے بیرونی ممالک کے لوگوں کو جتنا مالی، ذہنی اور وقت کا نقصان پہنچا سکتے ہیں پہنچاتے ہیں۔

عالمی اخبار کی نئی ویب سائٹ میں بلاگ کے شعبے کو ایک بار پھر سے فعال بنایا جا رہا ہے

ہمارے لاکھوں قارئین اس بات کے شاہد ہیں کہ ہم گزشتہ کئی برس سے کسی مالی منفعت یا تجارتی اغراض کے بغیر ایک پیسے کے اشتہار کے بنا عالمی اخبار کو چلاتے آ رہے ہیں اور ہمارے تمام ساتھیوں کی انتھک محنت اور غیر مفاداتی رویے کی وجہ سے آج عالمی اخبار کو آن لائن اردو اخبارات کی دنیا میں ایک اہم مقام حاصل ہے

ہمیں یقین ہے کہ قارئین کو عالمی اخبار کی نئی صورت اور جدید انداز پسندآئے گا اور ہم آپکی آراء کے منتظر رہیں گے

نعت

نعت

مری شان کعبہ، مری جاں مدینہ
وہاں پر مرا دل، وہاں پر سفینہ

خدا کا کرم ہے یہ درسِ محمد
سکھا ہمیں زندگی کا قرینہ

مزہ پھر بھی آیا ہے جنت کا مجھکو
جُھلستی ہوئ دھوپ شہرِ مدینہ

کروڑوں دُرود و سلام اُن کے اوپر
جنہوں نے سکھایا مجھے مر کے جینا

گنہ گار تھا ، ہے یہ ظرفِ محمد
بلایا ظفر کو بھی شہرِ مدینہ

TOP 100 PERSONALITIES OF THE WORLD

TOP 100 PERSONALITIES OF THE WORLD

by Michael H. Hart

A Ranking of the Most Influential Persons in History

1. Muhammad (P.B.U.H)
2. Isaac Newton
3. Jesus Christ
4. Buddha
5. Confucius
6. St.Paul
7. Ts’ai Lun
8. Johann Gutenberg
9. Christoper Columbus
10. Albert Einetein
11. Louis Pasteur
12. Galileo Galilei
13. Aristotle
14. Euclid
15. Moses
16. Charles Darwin
17. Shih Huang Ti
18. Augustus Caesar
19. Nicolaus Copernicus
20. Antoine Laurent Lavoisier
21. Constantine the Great
22. James Watt
23. Michael Faraday
24. James Clerk Maxwell
25. Martin Luther
26. George Washington
27. Karl Marx
28. Orville and Wilbur Wright
29. Genghis Kahn
30. Adam Smith
31. Edward de Vere
32. John Dalton
33. Alexander the Great
34. Napoleon Bonaparte
35. Thomas Edison
36. Antony van Leeuwenhoek
37. William T.G. Morton
38. Guglielmo Marconi
39. Adolf Hitler
40. Plato
41. Oliver Cromwell
42. Alexander Graham Bell
43. Alexander Fleming
44. John Locke
45. Ludwig van Beethoven
46. Werner Heisenberg
47. Louis Daguerre
48. Simon Bolivar
49. Rene Descartes
50. Michelangelo
51. Pope Urban II
52. ‘Umar ibn al-Khattab’
53. Asoka
54. St. Augustine
55. William Harvey
56. Ernest Rutherford
57. John Calvin
58. Gregor Mendel
59. Max Planck
60. Joseph Lister
61. Nikolaus August Otto
62. Francisco Pizarro
63. Hernando Cortes
64. Thomas Jefferson
65. Queen Isabella I
66. Joseph Stalin
67. Julius Caesar
68. William the Conqueror
69. Sigmund Freud
70. Edward Jenner
71. Wilhelm Conrad Roentgen
72. Johann Sebastian Bach
73. Lao Tzu 74. Voltaire
75. Johannes Kepler
76. Enrico Fermi
77. Leonhard Euler
78. Jean-Jacques Rousseau
79. Nicoli Machiavelli
80. Thomas Malthus
81. John F. Kennedy
82. Gregory Pincus
83. Mani
84. Lenin
85. Sui Wen Ti
86. Vasco da Gama
87. Cyrus the Great
88. Peter the Great
89. Mao Zedong
90. Francis Bacon
91. Henry Ford
92. Mencius
93. Zoroaster
94. Queen Elizabeth I
95. Mikhail Gorbachev
96. Menes
97. Charlemagne
98. Homer
99. Justinian I
100. Mahavira