pikorra

ایک اہم سوال، جواب دیں

تاریخ تو اس ضمن میں خاموش ہے لیکن کیا کوئی تحقیق سے بتا سکتا ہے کہ کہیں ماہ صیام کے روزوں کے ساتھ بیسن ، پکوڑوں، چنا چاٹ اور ایسی ہی چیزوں کا بھی واجبات کے زمرے میں ذکر آیا ہے؟

8 thoughts on “ایک اہم سوال، جواب دیں”

  1. “پکوڑوں کی فضیلت”

    پکوڑوں کی فضیلت کے بارے میں عرض ہے کہ یہ پکوڑے افطاری کا دوسرا اہم رکن ہے۔
    پکوڑے اکیلے فرض نہیں ہوئے تھے اسکے ساتھ سموسے اور کچوڑیاں بھی برابر مانی جاتی ہیں- اگر کسی مجبوری کے تحت پکوڑے نہ مل سکیں تو آپ سموسے اور کچوڑی سے کمی پوری کر سکتے ہیں اور لذت افطاری میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔

    یہاں یہ جاننا ضروری ہے کہ گھر کے بنے ہوئے پکوڑے افضل ہیں اور ثواب بھی زیادہ ہے۔

    رمضان کے روزے تمام مسلمانوں پر فرض ہوئے ہیں لیکن پکوڑے برصغیر خصوصاً پاکستانی لوگوں کے حصے میں آئے ہیں۔

    ضرورت ایجاد کی ماں ہے مگر پکوڑوں کا شجرہ نسب تا حال معلوم نہیں ہوسکا مگر انکو بنانے کے کام میں زیادہ تر ماؤں کو ہی دیکھا گیا ہے۔

    پکوڑے مختلف شکلوں کے بنائے جاتے ہیں سب سے مشہور شکل کوئی شکل نہیں ہےگول چکور لمبے نیز ہر قسم کے پکوڑے یکساں مقبول و مشہور ہیں
    پکوڑوں کو مختلف چٹنیوں کے ساتھ کھانا ثابت ہے لیکن عصر جدید میں کیچپ وغیرہ کا استعمال بھی سامنے آیا ہے۔

    اب تک پکوڑوں کی سب سے زیادہ قسمیں شیف ذاکر اور زبیدہ آپا نے ایجاد کی ہیں

    ۔ ابھی تک پکوڑوں کو کسی بھی محاورے کے طور پر استعمال نہیں کیا گیا مگر بعض افراد کی ناک کو پکوڑے سے تشبیح دی جاتی ہے جو کہ اسلامی اور اخلاقی طور پر درست نہیں ہے۔

    یہاں یہ بھی مفروضہ غلط ہے کہ سکندراعظم یہاں پکوڑے کھانے آیا تھا۔ اس بارے میں ابھی تک کوئی سند موجود نہیں ہے۔

  2. بہت مزیدار پوسث ھے مگر سوال بہت مشکل ھے مجھے پکوژے کی تاریخ سے ذیادہ اس کی آشتہا انگیز خوشبو پسند ھے

  3. پکوڑے نصف ایمان ہیں اور تین مہینے کا تیل ایک ماہ میں ختم

  4. شاہین جی یہ تو آسان سا کیس ہے۔ آپ پکوڑا خوری کی بجائے اسکی خوشبو سونگھنے سے کام چلا لیں

  5. روزوں کی طرح پکوڑے بھی لوگ بنانا فرض سمجھتے ہیں آلو پکوڑے، پالک ہکوڑے، چکن پکوڑے، پیاز پکوڑے، بینگن پکوڑے ۔ وغیرہ وغیرہ
    موسم سہانا ہو تو تب بھی پکوڑے بنائے جاتے ہیں بارش ہو رہی ہو چائے پکوڑے ہری چٹنی کا بہت مزہ آتا ہے ۔۔

  6. السلام علیکم
    پکوڑوں کا تو معلوم نہیں واجب ہیں یا غیر واجب
    مگر ہمارے گھر کے مفتی صاحب کے مطابق افطار فروٹ چاٹ کے بغیر بے معنی ہے۔ لاہور کے پوش علاقوں میں رمضان کی آمد کے ساتھ ہی تاجروں پر زاید منافع خوری حلال ہو جاتی ہے ۔ کیلے 250 روپے درجن، سیب 300 روپے کلو اور امرود نایاب۔کچن کابجٹ کسی سونامی کی زد میں
    سو ایک بار ہم نے مفتی صاحب سے عہد لیا کہ اس بار رمضان میں افطار سادہ رکھیں گے ۔ کھجور اور ملک شیک کے بعد نماز مغرب اور پھر عشا سے پہلے کھانا۔
    عشا کے بعد فرمانے لگے میں نے اپنی پوری زندگی میں اتنی خراب افطاری نہیں کی۔ سو ہمارے گھر میں اس جملے کے بعد افطار میں فروٹ چاٹ رکھنا فرض ہے۔
    باقی دنیا کا تو معلوم نہیں مگر پاکستانی مسلمان روزہ کشائی پر خود کو صبر کا بھر پور انعام دیتے ہیں۔
    ہم سنتے آئے تھے کہ روزہ جسم کی زکوۃ ہے مگر ہم نے اسے سودی پروگرام بنا لیا ہے۔ سحری کے پراٹھے اور افطاری کے پکوڑے سموسے وزن اور بیماری میں اضافہ ہی کرتے ہیں۔
    روزے کا بنیادی مقصد تزکیہ نفس ہے مگر مرغن اور پر اشتہا افطاریاں نفس کی غلامی پکی کروا دیتی ہیں

  7. “پکوڑوں کی فضیلت”

    پکوڑوں کی فضیلت کے بارے میں عرض ہے کہ یہ پکوڑے افطاری کا دوسرا اہم رکن ہے۔
    پکوڑے اکیلے فرض نہیں ہوئے تھے اسکے ساتھ سموسے اور کچوڑیاں بھی برابر مانی جاتی ہیں- اگر کسی مجبوری کے تحت پکوڑے نہ مل سکیں تو آپ سموسے اور کچوڑی سے کمی پوری کر سکتے ہیں اور لذت افطاری میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔

    یہاں یہ جاننا ضروری ہے کہ گھر کے بنے ہوئے پکوڑے افضل ہیں اور ثواب بھی زیادہ ہے۔

    رمضان کے روزے تمام مسلمانوں پر فرض ہوئے ہیں لیکن پکوڑے برصغیر خصوصاً پاکستانی لوگوں کے حصے میں آئے ہیں۔

    ضرورت ایجاد کی ماں ہے مگر پکوڑوں کا شجرہ نسب تا حال معلوم نہیں ہوسکا مگر انکو بنانے کے کام میں زیادہ تر ماؤں کو ہی دیکھا گیا ہے۔

    پکوڑے مختلف شکلوں کے بنائے جاتے ہیں سب سے مشہور شکل کوئی شکل نہیں ہےگول چکور لمبے نیز ہر قسم کے پکوڑے یکساں مقبول و مشہور ہیں
    پکوڑوں کو مختلف چٹنیوں کے ساتھ کھانا ثابت ہے لیکن عصر جدید میں کیچپ وغیرہ کا استعمال بھی سامنے آیا ہے۔

    اب تک پکوڑوں کی سب سے زیادہ قسمیں شیف ذاکر اور زبیدہ آپا نے ایجاد کی ہیں

    ۔ ابھی تک پکوڑوں کو کسی بھی محاورے کے طور پر استعمال نہیں کیا گیا مگر بعض افراد کی ناک کو پکوڑے سے تشبیح دی جاتی ہے جو کہ اسلامی اور اخلاقی طور پر درست نہیں ہے۔

    یہاں یہ بھی مفروضہ غلط ہے کہ سکندراعظم یہاں پکوڑے کھانے آیا تھا۔ اس بارے میں ابھی تک کوئی سند موجود نہیں ہے

    منقول..

  8. اف اس ماہ رمضان میں ابھی تک میں نے پکوڑے نہیں کھائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی روزوں کا حج نہیں ہوا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *