ترقی کا سفر اور ہم

وطن عزیز میں نئےانتخابات کی آمد آمد ہے۔ سیاسی جماعتیں اپنی عظیم کار گزاریوں کا ڈھول پیٹنے میں مصروف ہیں۔ ہم عوام یہ دعوے سن سن کر حیران ہیں۔پاکستان میں اتنی ترقی ہو چکی ہے مگر اس کے شہر لاہور میں بسنے والوں تک اس ترقی کے ثمرات نہیں پہنچے۔ یا پھر یہ کہ تجربہ کار حکومت عوامی ترجیہات سے یکسر بے خبر ہے ۔پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں بہت سی نئی سڑکیں اور پل تعمیر کئے گئے ہیں میٹرو بس چلائی گئی ہے اور اب نارنجی ریل گاڑی بھی چلنے کو ہے۔ بڑی بڑی سڑکیں صاف ستھری ہیں نکھرا نکھرا سبزہ ہے۔ شہر کے لوگ خوشحال ہیں کیونکہ سڑکوں پر چمچماتی گاڑیوں کا سیلِ رواں ہے ۔بڑے بڑے تجارتی مراکز ہیں ۔ ہر بڑے تجارتی برانڈ کے دو چار یا دس شو روم شہر کے مختلف علاقوں میں ملیں گے ۔ کسی مارکیٹ کے فٹ پاتھ پر انسان کم موٹر سائیکل زیادہ نظر آتے ہیں۔
ترقی نظر آتی ہے
مگر کیا یہی حقیقی ترقی ہے
میں سمجھتی تھی کہ پہلے کسی ملک کے سو فیصد باشندوں کو صحت اور تعلیم کی سہولت میسر ہو ہر نوجوان کوباعزت روزگار ملے پھر سڑکوں، پلوں ۔بسوں اور ریل گاڑیوں پر سرمایہ کاری کی جائے۔ مگر یہاں ترجیہات اُلٹ ہیں۔
چلئے پہلے صحت پر بات کر لیتے ہیں
لاہور میں بہت سے سرکاری نیم سرکاری اور نجی ہسپتال موجود ہیں۔ میرے گھرسے چند قدم پر ایک مہنگا نجی ہسپتال ہے جس کی ایمر جنسی میں کسی مریض کو دو گھنٹے رکھنے کا بل ہزاروں میں واجب الادا ہوتا ہے۔ میری نازک اندام بھانجی کراچی سے آئی تھی ۔ اس کا گھٹنا مڑ گیا سخت تکلیف میں تھی سوچا دور جانے کی بجائے قریبی ہسپتال لے چلتے ہیں ۔ ہسپتال میں ایک ایکسرے ہوا ایک جونیئر ڈاکٹر نے ہاتھ سے ہی جوڑ بٹھا کر حفاظتی پٹی کر دی اور انتظامیہ نے مبلغ بتیس ہزار کا بل تھما دیا۔ کیا خوب ترقی ہوئی ہے صحت کے میدان میں۔
ایک دو ماہ بعد مجھے موسمی بخار نے آلیا۔ پہلے تو بخار کی گولی کھا لی مگر اس کا پارہ اور چڑھتا گیا تو سوچا ہسپتال کی سیر کر آتے ہیں۔ مفتی صاحب نے کہا قریبی ہسپتال چلتے ہیں مگر میں نے انکار کر دیا کہ بخار کے علاج پر دس بیس ہزار خرچ کرنا کہاں کی دانشمندی ہے۔سوہم شیخ زید ہسپتال کی ایمرجنسی میں جا پہنچے۔ ایک ایک بستر پر چار چار مریض خواتین کو دیکھ کر چکرا گئی۔ مفتی صاحب سے کہا واپس چلتے ہیں مگر وہ کہنے لگے اب یہیں مزہ چکھو۔
ایک حواس باختہ نرس نے مجھے سامنے والے بیڈ پر بیٹھنے کو کہا۔ اس بیڈ کی چادر گیلی تھی میں نے وہاں بیٹھنے سے انکار کر دیا۔ تو دوسرے بیڈ کے کونے پر بٹھا دیا گیا۔ کیونکہ ایک خاتون پہلے ہی وہاں لیٹی ہوئی تھیں اور دو مزید بیٹھی ہوئی تھیں۔ خدا خدا کر کے ڈاکٹر صاحب متوجہ ہوئے اور ایک انجکشن اور کچھ ادویات منگوانے کا حکم صادر کیا۔ احمد میرا بیٹا لپک کر دوائیں لے آیا۔
پھر ایک نرس نے ہاتھ پر برینولا لگایا اور ایک موٹی سرنج میں دوا بھری ۔ میں نے کہا آپ پہلے تھوڑی مقدار میں دوا لگائیں کہیں غلط اثر نہ ہو جائے کہنے لگی پہلے آدھی دوا لگاؤں گی دوا لگتے ہی چراغوں میں روشنی نہ رہی ۔
مجھے کسی خاتون کی آواز سنائی دی آپ کو کیا ہوا آپ کو کیا ہوا آنکھ کھلی تو خود کو فرش پر گرا ہوا پایا۔ نہ مفتی صاحب قریب اور نہ ہی اپنی اولاد۔ خیر کسی خاتون نے مجھے سہارا دے کر اٹھایا
اس کے بعد میں نے خوب شور مچایا کہ مجھے غلط انجکشن لگا دیا ہے نرس کو بلا کر برینولا نکلوا دیا اور مفتی صاحب سے گھر واپس چلنے کو کہا۔مفتی صاحب اللہ کے بندے ہیں سو انہوں نے ایمرجنسی سے باہر لا کر گاڑی میں بٹھا دیا اور خود ہسپتال کی مسجد میں نماز عشاء ادا کرنے چلے گئے۔ واپسی کا سفر ڈانٹ اور پسینے میں بھیگتے ہوئے کٹا
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *