
رمضان المبارک کے حوالہ سے جناب عبد المناف کے چند طغرے۔
آپ احباب کی خدمت میں بصد مبارکباد پیش ہیں۔ آپ چاہیں تو اس بلاگ میں اس مہینے کی نسبت سے احادیث، قرآنی آیات اور نعتیں پیش کر سکتے ہیں تا کہ خیر کی تقسیم کا عمل ہم سب انجام دیتے رہیں۔۔
====================


بلدالامین و مصباح کفعمی میں مروی ہے کہ امام زین العابدین (ع)نے اپنے والد گرامی سے اور انہوں نے اپنے والد امیر المومنین (ع)سے اور انہو ں نے حضرت رسول ﷺسے روایت کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ دعا جبرائیل (ع)نے ایک جنگ کے دوران آنحضرت کو پہنچائی اس وقت آپ نے بھاری بھر کم زرہ پہن رکھی تھی ، جسکے بوجھ سے آپ کے جسم کو تکلیف ہو رہی تھی۔ جبرائیل (ع)نے عرض کی کہ یامحمد مصطفٰی آپکا رب آپکو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ یہ بھاری زرہ اتار دیں اور یہ دعا پڑھیں کہ یہ آپ کیلئے اور آپکی امت کیلئے حفظ و امان کی باعث ہے۔پھر اس دعا کے اور فضائل و فوائد بھی بتائے کہ جنکے ذکر کی یہاں گنجائش نہیں ہے۔ چنانچہ اس ضمن میں فرمایا کہ جو شخص اسے کفن پر لکھے تو خدا کی رحمت سے دور ہے کہ اسے جہنم میں جلائے۔ اور جو شخص رمضان المبارک کی پہلی رات، خلوص نیت کے ساتھ یہ دعا پڑھے تو اسکو شب قدر دیکھنا نصیب ہو گی اور خدا وند عالم اسکی خاطر ستر ہزار فرشتے پیدا کرے گا جو تسبیح و تقدیس کریں گے کہ جسکا ثواب اسکو ملے گا۔ اسکی مزید فضیلت بھی بیان ہوئی ہے کہ جو شخص ماہ رمضان میں تین مرتبہ یہ دعا پڑھے تو خدا تعالی اسکے جسم پر جہنم کی آگ حرام کر دیگا، جنت اس کیلئے واجب قرار دے گا اور دو فرشتے اس پر مقرر کر دے گا جو گناہوں سے اسکی حفاظت کریں گے اور وہ زندگی بھر خدا کی امان میں رہے گا۔اور روایت کے آخر میں ہے کہ امام حسین (ع)نے فرمایا : میرے والد گرامی علی ابن ابی طالب # نے مجھے اس دعا کومحفوظ کرنے کی وصیت فرمائی اور ہدایت کی کہ میں اسے انکے کفن پر لکھوں، اپنے اہلبیت کو اس کی تعلیم دوں اور انہیں اسکے پڑھنے کی ترغیب دلاؤں۔ یہ ہزار اسم ہیں کہ انہیں میں اسم اعظم ہے۔مؤلف کہتے ہیں کہ اس روایت سے دوباتیں معلوم ہوتی ہیں ، ایک یہ کہ اس دعا کا کفن پر لکھنا مستحب ہے۔ جیسا کہ علامہ بحرالعلوم (خدا انکی قبر کو معطر فرمائے )نے اپنی کتاب درّہ میں اسکی طرف اشارہ کیا ہے۔
وَسُنَّ أَنْ یَکْتُبَ بِالْاَکْفان ِ شَھادَةُ الاِسْلامِ وَالْاِیْمَانِ
سنت ہے کہ میت کے کفن پر لکھا جائے ، اسلام اور ایمان کی شھادت
وَھَکَذا کِتابَةُ الْقُرْآنِ وَالْجَوْشَنِ الْمَنْعُوتِ بِالْاَمَانِ
اسی طرح قرآن کریم بھی لکھا جائے اور دعا جوشن کو لکھا جائے جو وسیلہِ حفظ و امان ہے
دوسری یہ کہ اس دعا کوآغاز ماہ رمضان میں پڑھنا مستحب ہے، لیکن اس کا شب قدر میں پڑھنے کے بارے میں مذکورہ روایت میں کوئی تذکرہ نہیں ہے ۔ تاہم علامہ مجلسی (علیہ الرحمہ) نے زاد المعاد میں شب قدر کے اعمال میں اسکا ذکر کیا ہے۔اوربعض روایات میں ہے کہ دعا جوشن کبیر کو شب قدر کی تینوں راتوں میں پڑھا جائے اور ہمارے لئے اس مقام پر بزرگوار کا فرمان ہی کافی ہے(اللہ انہیں دار الاسلام میں داخل کرے)۔ خلاصہ یہ کہ اس دعا کی ایک سو فصلیں ہیں اور ہر فصل میں الله تعالیٰ کے دس اسماء ہیں اور ضروری ہے کہ ہر فصل کے آخر میں کہیں:
سُبْحانَکَ یَا لاَإِلہَ إِلاَّأَنْتَ الْغَوْثَ الْغَوْثَ الْغَوْثَ خَلِّصْنا مِنَ النَّارِیَارَبِّ۔
توپاک ہے اے وہ کہ تیرے سو اکوئی معبود نہیں فریاد رسوں کے فریاد رس اے رب ہمیں آگ سے نجات عطا فرما ۔
بلدالامین میں ہے کہ ہر فصل سے پہلے بِسْمِ الله کہیں اور ہر فصل کے بعدکہیں:
سُبْحانَکَ یَا لاَ إِلہَ إِلاَّ أَ نْتَ الْغَوْثَ الْغَوْثَ الْغَوْثَ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِہِ وَخَلِّصْنا مِنَ النَّارِ
تو پاک ہے اے وہ کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں فریاد رسوں کے فریاد رس رحمت فرما محمد وآل (ع) محمد پر اورہمیںآ گ سے نجات دے
یَا رَبِّ، یَا ذَا الْجَلالِ وَالْاِکْرامِ، یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ ۔
اے رب ،اے صاحب جلالت و بزرگی والے، اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔
دعاء جوشن کبیر یہ ہے:
﴿۱﴾اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْئَلُکَ بِاسْمِکَ یَا اللهُ، یَا رَحْمنُ، یَا رَحِیمُ، یَا کَرِیمُ، یَا مُقِیمُ یَا عَظِیمُ یَا
اے معبود میں تجھ سے تیرے نام کے واسطے سے سوال کرتا ہوں اے الله اے بخشنے والے اے مہربان اے کرم کرنے والے اے ٹھہرنے والے
قَدِیمُ یَا عَلِیمُ یَا حَلِیمُ یَا حَکِیمُ سُبْحانَکَ یَا لاَ إِلہَ إِلاَّ أَنْتَ، الْغَوْثَ الْغَوْثَ خَلِّصْنا مِنَ النَّارِ
اے بڑائی والے اے سب سے پہلے اے علم والے اے بردبار اے حکمت والے ۔ تو پاک ہے اے کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں فریاد سن فریاد سن
یَا رَبِّ ﴿۲﴾ یَا سَیِّدَ السَّاداتِ یَا مُجِیبَ الدَّعَواتِ، یَا رَافِعَ الدَّرَجَاتِ یَا وَ لِیَّ الْحَسَناتِ،
ہمیں آگ سے نجات دے اے پروردگار اے سرداروں کے سردار اے دعائیں قبول کرنے والے اے درجات بلند کرنے والے
یَا غَافِرَ الْخَطِیئاتِ، یَا مُعْطِیَ الْمَسْأَلاتِ، یَا قابِلَ التَّوْباتِ، یَا سَامِعَ الْاَصْواتِ، یَا عَالِمَ الْخَفِیِّاتِ،
اے نیکیوں میں مدد دینے والے اے گناہوں کے بخشنے والے اے حاجات پوری کرنے والے اے توبہ قبول کرنے والے اے آوازوں کے
یَا دَافِعَ الْبَلِیِّاتِ ﴿۳﴾ یَا خَیْرَ الْغافِرِینَ، یَا خَیْرَ الْفاتِحِینَ، یَا خَیْرَ النَّاصِرِینَ یَا خَیْرَ الْحَاکِمِینَ یَا
سننے والے اے چھپی چیزوں کے جاننے والے اے بلائیں دور کرنے والے اے بخشنے والوں میں بہتر اے فتح کرنے والوں میں بہتراے مدد
خَیْرَ الرَّازِقِینَ یَا خَیْرَ الْوَارِثِینَ یَا خَیْرَ الْحَامِدِینَ، یَا خَیْرَ الذَّاکِرِینَ یَا خَیْرَ الْمُنْزِلِینَ، یَا خَیْرَ
کرنے والوں میں بہتر اے حاکموں میں بہتر اے رزق دینے والوں میں بہتر اے وارثوں میں بہتر اے تعریف کرنے والوں میں بہتر اے ذکر کرنے
الْمُحْسِنِینَ، ﴿۴﴾ یَا مَنْ لَہُ الْعِزَّةُ وَالْجَمالُ، یَا مَنْ لَہُ الْقُدْرَةُ وَالْکَمالُ، یَا مَنْ لَہُ الْمُلْکُ
والوں میں بہتر اے میزبانوں میں بہتراے احسان کرنے والوں میں بہتر۔ اے وہ جس کیلئے عزت اور جمال ہے اے وہ جس کے لیے قدرت اور کمال
وَالْجَلالُ، یَا مَنْ ھُوَ الْکَبِیرُ الْمُتَعالِ، یَا مُنْشِیَ السَّحابِ الثِّقالِ، یَا مَنْ ھُوَ شَدِیدُ الْمِحالِ،یَا
ہے اے وہ جسکے لیے ملک اور جلال ہے اے وہ جو بڑائی والا بلند تر ہے اے بھرے بادلوں کے پیدا کرنے والے اے وہ جو بہت زیادہ قوت والا ہے اے وہ
مَنْ ھُوَ سَرِیعُ الْحِسابِ، یَا مَنْ ھُوَ شَدِیدُ الْعِقابِ، یَا مَنْ عِنْدَھُ حُسْنُ الثَّوابِ، یَا مَنْ عِنْدَھُ أُمُّ
جو تیز تر حساب کرنے والا ہے اے وہ جوسخت عذاب دینے والا ہے اے وہ جسکے ہاں بہترین ثواب ہے اے وہ جسکے پاس لوح محفوظ ہے۔ اے معبود! تجھ
الْکِتابِ ﴿۵﴾اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ بِاسْمِکَ یَا حَنَّانُ، یَا مَنَّانُ، یَا دَیَّانُ، یَا بُرْہانُ، یَا سُلْطانُ،
سے سوال کرتا ہوں تیرے نام کے واسطے سے اے محبت والے اے احسان کرنیوالے اے بدلہ دینے والے اے دلیل روشن اے صاحب سلطنت اے
یَا رِضْوانُ،یَا غُفْرانُ، یَا سُبْحانُ،یَا مُسْتَعانُ،یَا ذَا الْمَنِّ وَالْبَیانِ﴿۶﴾ یَا مَنْ تَواضَعَ کُلُّ شَیْءٍ
راضی ہونے والے اے بخشنے والے اے پاکیزگی والے اے مدد کرنے والے اے صاحب احسان وبیان۔ اے وہ جس کی عظمت کے آگے سب چیزیں
لِعَظَمَتِہِ، یَا مَنِ اسْتَسْلَمَ کُلُّ شَیْءٍ لِقُدْرَتِہِ، یَا مَنْ ذَلَّ کُلُّ شَیْءٍ لِعِزَّتِہِ، یَا مَنْ خَضَعَ کُلُّ
جھکی ہوئی ہیں اے وہ جسکی قدرت کے سامنے ہر شے سرنگوں ہے اے وہ جسکی بڑائی کے سامنے ہر چیز پست ہے اے وہ جسکے خوف سے ہر چیز
شَیْءٍ لِھَیْبَتِہِ، یَا مَنِ انْقادَ کُلُّ شَیْءٍ مِنْ خَشْیَتِہِ، یَا مَنْ تَشَقَّقَتِ الْجِبالُ مِنْ مَخافَتِہِ، یَا مَنْ قامَتِ
دبی ہوئی ہے اے وہ جسکے ڈر سے ہر چیز فرمانبردار بنی ہوئی اے وہ جسکے خوف سے پہاڑ پھٹ جاتے ہیں اے وہ جسکے
السَّمَاوَاتُ بِأَمْرِھِ یَا مَنِ اسْتَقَرَّتِ الْاَرَضُونَ بِإِذْنِہِ، یَا مَنْ یُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِھِ، یَامَنْ لاَ یَعْتَدِی
حکم سے آسمان کھڑے ہیں اے وہ جسکے اذن سے زمینیں ٹھہری ہوئی ہیں اے وہ کہ کڑکتی بجلی جسکی تسبیح خواں ہے اے
عَلی أَھْلِ مَمْلَکَتِہِ ﴿۷﴾ یَا غافِرَ الْخَطایا یَا کاشِفَ الْبَلایا یَا مُنْتَھَی الرَّجایَا یَا مُجْزِلَ الْعَطایَا،
وہ جو اپنے زیر حکومت لوگوں پر ظلم نہیں کرتا اے گناہوں کے بخشنے والے اے بلائیں دور کرنے والے اے امیدوں کے آخری مقام
یَا واھِبَ الْھَدایَا، یَا رازِقَ الْبَرایا، یَا قَاضِیَ الْمَنایا، یَا سَامِعَ الشَّکَایا،یَا بَاعِثَ الْبَرایا یَا مُطْلِقَ
اے بہت عطاؤں والے اے تحفے عطا کرنے والے اے مخلوق کو رزق دینے والے اے تمنائیں پوری کرنے والے اے شکایتیں سننے والے
الَاُساری ﴿۸﴾ یَا ذَا الْحَمْدِ وَالثَّناءِ، یَا ذَا الْفَخْرِ وَالْبَہاءِ، یَا ذَا الْمَجْدِ وَالسَّناءِ، یَا ذَا الْعَھْدِ
اے مخلوق کو زندہ کرنے والے اے قیدیوں کو آزاد کرنے والے اے تعریف و ثناء کرنے والے اے فخر و خوبی والے اے
وَالْوَفاءِ، یَا ذَا الْعَفْوِ وَالرِّضاءِ، یَا ذَا الْمَنِّ وَالْعَطَاءِ، یَا ذَا الْفَصْلِ وَالْقَضاءِ، یَا ذَا الْعِزِّ وَالْبَقاءِ،
بزرگی و بلندی والے اے عہد اور وفا والے اے معافی دینے والے اور راضی ہونے والے اے عطا و بخشش کرنے والے اے
یَا ذَا الْجُودِ وَالسَّخاءِ، یَا ذَا الاَْلاَءِ وَالنَّعْمَاءِ ﴿۹﴾ اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَ لُکَ بِاسْمِکَ یَا مانِعُ،
فیصلے اور انصاف والے اے عزت اور بقاء والے اے عطاء و سخاوت والے اے رحمتوں اور نعمتوں والیاے معبود! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں
یَا دافِعُ، یَا رافِعُ، یَا صانِعُ، یَا نافِعُ، یَا سامِعُ، یَا جامِعُ، یَا شافِعُ، یَا واسِعُ، یَا مُوسِعُ ﴿۱۰﴾
تیرے نام کے واسطے سے اے روکنے والے اے ہٹانے والے اے بلندکرنے والے اے بنانے والے اے نفع والے اے سننے والے اے جمع کرنے
یَا صانِعَ کُلِّ مَصْنُوعٍ، یَا خالِقَ کُلِّ مَخْلُوقٍ یَا رازِقَ کُلِّ مَرْزُوقٍ یَا مالِکَ کُلِّ مَمْلُوکٍ
والے اے شفاعت کرنے والے اے کشادگی والے اے وسعت دینے والے اے ہر مصنوع کے صانع اے ہر مخلوق کے خالق اے ہررزق پانے والے
یَا کَاشِفَ کُلِّ مَکْرُوبٍ یَا فَارِجَ کُلِّ مَھْمُومٍ، یَا رَاحِمَ کُلِّ مَرْحُومٍ، یَا نَاصِرَ کُلِّ مَخْذُولٍ،
کے رازق اے ہر مملوک کے مالک اے ہر دکھی کا دکھ دور کرنے والے اے ہر پریشان کی پریشانی مٹانے والے اے ہر رحم کیے گئے پر رحم کرنے والے
یَا سَاتِرَ کُلِّ مَعْیُوبٍ، یَا مَلْجَأَ کُلِّ مَطْرُودٍ ﴿۱۱﴾ یَا عُدَّتِی عِنْدَ شِدَّتِی، یَا رَجَائِی عِنْدَ مُصِیبَتِی،
اے ہر بے سہار کے مددگار اے ہربرائی پر پردہ ڈالنے والے اے ہر راندے گئے کی پناہ گاہ ۔اے سختی کے وقت میرے سرمایہ اے مصیبت میں میری
یَا مُؤْ نِسِی عِنْدَ وَحْشَتِی، یَا صَاحِبِی عِنْدَ غُرْبَتِی، یَا وَ لِیِّی عِنْدَ نِعْمَتِی، یَا غِیاثِی عِنْد کُرْبَتِی،
امید گاہ اے وحشت کے وقت میرے ہمدم اے میری تنہائی میں میرے ساتھی اے نعمت میں میری کفالت کرنے والے اے دکھ درد میں میرے مددگار
یَا دَلِیلِی عِنْدَ حَیْرَتِی، یَا غَنائِی عِنْدَ افْتِقارِی، یَا مَلْجَیِی عِنْدَ اضْطِرارِی، یَا مُعِینِی عِنْدَ مَفْزَعِی
اے حیرت کے وقت میرے رہنما اے محتاجی کے وقت میرے سرمایہ اے برقراری کے وقت میری پناہ گاہ اے فریاد کے وقت
﴿۱۲﴾ یَا عَلاَّمَ الْغُیُوبِ یَا غَفَّارَ الذُّنُوبِ یَا سَتَّارَ الْعُیُوبِ یَا کَاشِفَ الْکُرُوبِ یَا مُقَلِّبَ
میرے مددگار ۔ اے ہر غیب کے جاننے والے اے گناہوں کے بخشنے والے اے عیبوں کے چھپانے والے اے مصیبتیں دور کرنے والے
الْقُلُوبِ یَا طَبِیبَ الْقُلُوبِ یَا مُنَوِّرَ الْقُلُوبِ یَا أَنِیسَ الْقُلُوبِ، یَا مُفَرِّجَ الْھُمُومِ، یَا مُنَفِّسَ
اے دلوں کو پلٹنے والے اے دلوں کے معالج اے دلوں کے روشن کرنے والے اے دلوں کے ہمدم اے غموں کی گرہ کھولنے والے
الْغُمُومِ ﴿۱۳﴾ اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَ لُکَ بِاسْمِکَ یَا جَلِیلُ، یَا جَمِیلُ، یَا وَکِیلُ، یَا کَفِیلُ، یَا
اے غموں کو دور کرنے والے۔ اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے نام کے واسطے اے جلال والے اے جمال والے اے کارساز
دَلِیلُ، یَا قَبِیلُ، یَا مُدِیلُ، یَا مُنِیلُ، یَا مُقِیلُ، یَا مُحِیلُ ﴿۱۴﴾ یَا دَلِیلَ الْمُتَحَیِّرِینَ، یَا غِیاثَ
اے سرپرست اے رہنما اے قبول کرنے والے اے رواں کرنے والے اے بخشنے والے اے معاف کرنے والے اے جگہ دینے والے اے سرگردانوں
الْمُسْتَغِیثِینَ، یَا صَرِیخَ الْمُسْتَصْرِخِینَ، یَا جارَ الْمُسْتَجِیرِینَ، یَا أَمانَ الْخَائِفِینَ، یَا عَوْنَ
کے رہنما اے پکارنے والوں کی مدد کرنے والے اے فریادیوں کی فریاد کو پہنچنے والے اے پناہ طلب کرنے والوں کی پناہ
الْمُؤْمِنِینَ، یَا رَاحِمَ الْمَساکِینَ، یَا مَلْجَأَ الْعَاصِینَ، یَا غافِرَ الْمُذْنِبِینَ یَا مُجِیبَ دَعْوَةِ الْمُضْطَرِّینَ
اے ڈرنے والوں کی ڈھارس اے مومنوں کے مددگار اے بے چاروں پر رحم کرنے والے اے گنہگاروں کی پناہ اے خطاکاروں
﴿۱۵﴾ یَا ذَا الْجُودِ وَالْاِحْسانِ یَا ذَا الْفَضْلِ وَالْاِمْتِنانِ یَا ذَا الْاَمْنِ وَالْاَمانِ یَا ذَا الْقُدْسِ
کے بخشنے والے اے بے قراروں کی دعا قبول کرنے والے اے صاحب جود و احسان اے صاحب فضل و منت
وَالسُّبْحانِ یَا ذَا الْحِکْمَةِ وَالْبَیانِ یَا ذَا الرَّحْمَةِ وَالرِّضْوانِ یَا ذَا الْحُجَّةِ وَالْبُرْہانِ یَا ذَا
اے صاحب امن و امان اے طہارت و پاکیزگی والے اے حکمت و بیان والے اے رحمت و رضا والے
الْعَظَمَةِ وَالسُّلْطَانِ یَا ذَا الرَّأْفَةِ وَالْمُسْتَعانِ یَا ذَا الْعَفْوِ وَالْغُفْرانِ ﴿۱۶﴾یَا مَنْ ھُوَ رَبُّ کُلِّ
اے حجت اور روشن دلیل والے اے عظمت و سلطنت والے اے مہربانی کرنے اور مدد دینے والے اے معافی دینے اور بخشنے والے۔
شَیْءٍ یَا مَنْ ھُوَ إِلہُ کُلِّ شَیْءٍ یَا مَنْ ھُوَ خالِقُ کُلِّ شَیْءٍ یَا مَنْ ھُوَ صَانِعُ کُلِّ شَیْءٍ، یَا مَنْ ھُوَ
اے وہ جو ہر چیز کا پروردگار ہے اے وہ جو ہرشے کامعبود ہے اے وہ جو ہر چیز کا خالق ہے اے وہ جو ہرچیز کا
قَبْلَ کُلِّ شَیْءٍ ، یَا مَنْ ھُوَ بَعْدَ کُلِّ شَیْءٍ، یَا مَنْ ھُوَ فَوْقَ کُلِّ شَیْءٍ، یَا مَنْ ھُوَ عَالِمٌ بِکُلِّ شَیْءٍ
بنانے والا ہے اے وہ جو ہر شے سے پہلے تھا اے وہ جو ہر شے کے بعد رہے گا اے وہ جو ہر شے سے بلند ہے
یَا مَنْ ھُوَ قادِرٌ عَلَی کُلِّ شَیْءٍ یَا مَنْ ھُوَ یَبْقی وَیَفْنی کُلُّ شَیْءٍ﴿۱۷﴾اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَ لُکَ
اے وہ جو ہر چیز کاجاننے والا ہے اے وہ جو ہر چیز پر قادر ہے اے وہ جو باقی رہے گا جب ہر چیز فنا ہو جائے گی۔ اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا
بِاسْمِکَ یَا مُوْمِنُ، یَا مُھَیْمِنُ، یَا مُکَوِّنُ، یَا مُلَقِّنُ، یَا مُبَیِّنُ، یَا مُھَوِّنُ، یَا مُمَکِّنُ، یَا مُزَیِّنُ،یَا
ہوں تیرے نام کے واسطے سے اے امن دینے والے اے نگہبان اے کائنات بنانے والے اے تلقین کرنے والے اے ظاہر کرنے والے اے آسان
یَا مُعْلِنُ، یَا مُقَسِّمُ ﴿۱۸﴾ یَا مَنْ ھُوَ فِی مُلْکِہِ مُقِیمٌ،یَا مَنْ ھُوَ فِی سُلْطانِہِ قَدِیمٌ یَا مَنْ ھُو فِی
کرنے والے اے قدرت دینے والے اے زینت دینے والے اے اعلان کرنے والے اے باٹنے والے ۔ اے وہ جو اپنے اقتدار پر میں پائیدار ہے
جَلالِہِ عَظِیمٌ یَا مَنْ ھُوَ عَلَی عِبادِھِ رَحِیمٌ یَا مَنْ ھُوَ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیمٌ یَا مَنْ ھُوَ بِمَنْ عَصاھُ حَلِیمٌ یَا مَنْ
اے وہ جو اپنی سلطنت میں قدیم ہے اے وہ جو اپنی شان میں بلند تر ہے اے وہ جو اپنے بندوں پر مہربان ہے اے وہ جوہر چیز کا جاننے
ھُوَ بِمَنْ رَجاھُ کَرِیمٌ یَا مَنْ ھُوَ فِی صُنْعِہِ حَکِیمٌ، یَا مَنْ ھُوَ فِی حِکْمَتِہِ لَطِیفٌ، یَا مَنْ ھُوَ فِی لُطْفِہِ
والا ہے اے وہ جو نافرمان سے نرمی کرنے والا ہے اے وہ جو امیدوارپر کرم کرنے والا ہے اے وہ جو اپنی صنعت میں حکمت والا ہے اے وہ جو اپنی حکمت
قَدِیمٌ ﴿۱۹﴾ یَا مَنْ لاَ یُرْجی إِلاَّ فَضْلُہُ، یَا مَنْ لاَ یُسْأَلُ إِلاَّ عَفْوُھُ، یَا مَنْ لاَ یُنْظَرُ إِلاَّ بِرُّھُ،یَا مَنْ
میں باریک بین ہے اے وہ جس کا احسان قدیم ہے۔ اے وہ جس سے اس کے فضل کی امید کی جاتی ہے اے وہ جس کی بخشش کاسوال کیا جاتا ہے اے وہ
لاَ یُخافُ إِلاَّ عَدْلُہُ، یَا مَنْ لاَ یَدُومُ إِلاَّ مُلْکُہُ، یَا مَنْ لاَ سُلْطانَ إِلاَّ سُلْطانُہُ، یَا مَنْ وَسِعَتْ کُلَّ شَیْءٍ
جس سے بھلائی کی آس ہے اے وہ جسکے عدل سے خوف آتا ہے اے وہ جسکی حکومت ہمیشہ رہے گی اے وہ جسکی سلطنت کے سوا کوئی سلطنت نہیں اے وہ
رَحْمَتُہُ،یَا مَنْ سَبَقَتْ رَحْمَتُہُ غَضَبَہُ یَا مَنْ أَحاطَ بِکُلِّ شَیْءٍ عِلْمُہُ، یَا مَنْ لَیْسَ أَحَدٌ مِثْلُہُ ﴿۲۰﴾
جسکی رحمت ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے اے وہ جسکی رحمت اسکے غضب سے آگے ہے اے وہ جسکا علم ہر چیز پر حاوی ہے اے وہ کہ جس جیسا کوئی نہیں ہے۔
یَا فارِجَ الْھَمِّ، یَا کَاشِفَ الْغَمِّ، یَا غَافِرَ الذَّنْبِ، یَا قَابِلَ التَّوْبِ، یَا خَالِقَ الْخَلْقِ، یَا صَادِقَ
اے اندیشے ہٹا دینے والے اے غم دور کرنے والے اے گناہ معاف کرنے والے اے توبہ قبول کرنے والے اے مخلوقات کے خالق اے وعدے
الْوَعْدِ یَا مُوفِیَ الْعَھْدِ، یَا عَالِمَ السِّرِّ، یَا فَالِقَ الْحَبِّ، یَا رَازِقَ الْاَنامِ ۔ ﴿۲۱﴾ اَللّٰھُمَّ إِنِّی
میں سچے اے عہد پورا کرنے والے اے راز کے جاننے والے اے دانے کو چیرنے والے اے لوگوں کے رازق۔ اے معبود میں تجھ سے تیرے
أَسْأَ لُکَ بِاسْمِکَ یَا عَلِیُّ یَا وَفِیُّ، یَا غَنِیُّ، یَا مَلِیُّ، یَا حَفِیُّ، یَا رَضِیُّ، یَا زَکِیُّ، یَا بَدِیُّ،
نام کے واسطے سے سوال کرتا ہوں اے بلند اے وفادار اے بے نیاز اے مہربان اے احسان کرے والے اے پسندیدہ اے پاکیزہ اے ابتدا کرنے والے
یَا قَوِیُّ یَا وَ لِیُّ﴿۲۲﴾ یَا مَنْ أَظْھَرَ الْجَمِیلَ یَا مَنْ سَتَرَ الْقَبِیحَ یَا مَنْ لَمْ یُوَاخِذْ بِالْجَرِیرَةِ
اے قوت والے اے حاکم۔ اے وہ جس نے نیکی کو ظاہر کیا اے وہ جس نے بدی کو ڈھانپا اے وہ جس نے جرم پر گرفت نہیں فرمائی
یَا مَنْ لَمْ یَھْتِکِ السِّتْرَ، یَا عَظِیمَ الْعَفْوِ، یَا حَسَنَ التَّجاوُزِ، یَا وَاسِعَ الْمَغْفِرَةِ، یَا بَاسِطَ
اے وہ جس نے پردہ فاش نہیں کیا اے بہت معاف کرنے والے اے بہترین درگزر کرنے والے اے وسیع مغفرت والے اے دونوں ہاتھوں
الْیَدَیْنِ بِالرَّحْمَةِ یَا صَاحِبَ کُلِّ نَجْوی یَا مُنْتَہی کُلِّ شَکْوی ﴿۲۳﴾ یَا ذَا النِّعْمَةِ السَّابِغَةِ
سے رحمت کرنے والے اے ہر سرگوشی کے مالک اے شکایت سننے والے۔ اے کامل نعمت کے مالک
یَا ذَا الرَّحْمَةِ الْواسِعَةِ، یَا ذَا الْمِنَّةِ السَّابِقَةِ، یَا ذَا الْحِکْمَةِ الْبَالِغَةِ، یَا ذَا الْقُدْرَةِ الْکَامِلَةِ،
اے وسیع رحمت والے اے احسان میں پہل کرنے والے اے بھرپور حکمت والے اے کامل قدرت والے
یَا ذَا الْحُجَّةِ الْقَاطِعَةِ یَا ذَا الْکَرامَةِ الظَّاھِرَةِ یَا ذَا الْعِزَّةِ الدَّائِمَةِ، یَا ذَا الْقُوَّةِ الْمَتِینَةِ، یَا ذَا
اے قاطع دلیل والے اے کھلی سخاوت والے اے ہمیشہ کی عزت والے اے مضبوط قوت والے اے سب سے
الْعَظَمَةِ الْمَنِیعَةِ﴿۲۴﴾ یَا بَدِیعَ السَّمَاواتِ یَا جَاعِلَ الظُّلُماتِ یَا رَاحِمَ الْعَبَراتِ یَا مُقِیلَ
زیادہ عظمت والے۔ اے آسمانوں کے بنانے والے اے تاریکیوں کو وجود میں لانے والے اے آنسوؤں پر رحم کرنے والے اے لغزشوں کے
الْعَثَراتِ، یَا سَاتِرَ الْعَوْراتِ، یَا مُحْیِیَ الْاَمْواتِ، یَا مُنْزِلَ الاَْیاتِ، یَا مُضَعِّفَ الْحَسَنَاتِ،
معاف کرنے والے اے عیبوں کے چھپانے والے اے مردوں کو زندہ کرنے والے اے آیات کے نازل کرنے والے اے نیکیوں کو دوچند کرنے والے
یَا مَاحِیَ السَّیِّئاتِ، یَا شَدِیدَ النَّقِماتِ ﴿۲۵﴾ اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ بِاسْمِکَ یَا مُصَوِّرُ،
اے گناہوں کے مٹانے والے اے سخت بدلہ لینے والے۔اے معبود! میں تجھ سے تیرے ہی نام کے واسطے سے سوال کرتا ہوں اے صورت ساز
یَا مُقَدِّرُ یَا مُدَبِّرُ یَا مُطَہِّرُ یَا مُنَوِّرُ یَا مُیَسِّرُ، یَا مُبَشِّرُ، یَا مُنْذِرُ، یَا مُقَدِّمُ، یَا مُوََخِّرُ ﴿۲۶﴾
اے تقدیر بنانے والے اے تدبیر کرنے والے اے پاک کرنے والے اے روشن کرنے والے اے آسان کرنے والے اے بشارت دینے والے اے
یَا رَبَّ الْبَیْتِ الْحَرامِ یَا رَبَّ الشَّھْرِ الْحَرامِ یَا رَبَّ الْبَلَدِ الْحَرامِ، یَا رَبَّ الرُّکْنِ وَالْمَقامِ
سب سے پہلے اے سب سے آخری اے مقدس گھر کے رب اے مقدس مہینے کے رب اے مقدس شہر کے رب اے رکن و مقام کے رب
یَا رَبَّ الْمَشْعَرِ الْحَرامِ یَا رَبَّ الْمَسْجِدِ الْحَرامِ یَا رَبَّ الْحِلِّ وَالْحَرامِ یَا رَبَّ النُّورِ وَالظَّلامِ
اے معشر الحرام کے رب اے مسجد الحرام کے رب اے حلال و حرام کے رب اے روشنی و تاریکی کے رب
یَا رَبَّ التَّحِیَّةِ وَالسَّلامِ یَا رَبَّ الْقُدْرَةِ فِی الْاَنامِ۔ ﴿۲۷﴾ یَا أَحْکَمَ الْحاکِمِینَ، یَا أَعْدَلَ
اے درود و سلام کے رب اے لوگوں میں زیادہ توانائی پیدا کرنے والے۔ اے حاکموں میں بڑے حاکم اے عادلوں میں
الْعادِلِینَ یَا أَصْدَقَ الصَّادِقِینَ یَا أَطْھَرَ الطَّاھِرِینَ یَا أَحْسَنَ الْخالِقِینَ یَا أَسْرَعَ الْحاسِبِینَ
زیادہ عادل اے سچوں میں زیادہ سچے اے پاکوں میں پاک تر اے خالقوں میں بہترین خالق اے حساب کرنے والوں میں زیادہ تیز اے سننے
یَا أَسْمَعَ السَّامِعِینَ، یَا أَبْصَرَ النَّاظِرِینَ، یَا أَشْفَعَ الشَّافِعِینَ، یَا أَکْرَمَ الْاَکْرَمِینَ ۔ ﴿۲۸﴾
والوں میں زیادہ سننے والے اے دیکھنے والوں میں زیادہ دیکھنے والے اے شفاعت کرنے والوں میں بڑے شفیع اے بزرگی والوں میں بڑے بزرگ۔
یَا عِمادَ مَنْ لاَ عِمادَ لَہُ، یَا سَنَدَ مَنْ لاَ سَنَدَ لَہُ، یَا ذُخْرَ مَنْ لاَ ذُخْرَ لَہُ، یَا حِرْزَ مَنْ لاَ حِرْزَ لَہُ،
اے اسکا آسراجسکا کوئی آسرا نہیں اے اسکے سہارے جسکا کوئی سہارا نہیں اے اسکے سرمایہ جسکا کوئی سرمایہ نہیں اے اسکی پناہ جسکی کوئی
یَا غِیاثَ مَنْ لاَ غِیاثَ لَہُ، یَا فَخْرَ مَنْ لاَ فَخْرَ لَہُ، یَا عِزَّ مَنْ لاَ عِزَّ لَہُ، یَا مُعِینَ مَنْ لاَ مُعِینَ لَہُ یَا
پناہ نہیں اے اسکے فریاد رس جسکا کوئی فریاد رس نہیں اے اسکی بڑائی جسکا کوئی فخرنہیں اے اسکی عزت جس کیلئے عزت نہیں اے اسکے مددگار
أَنِیسَ مَنْ لاَ أَنِیسَ لَہُ یَا أَمانَ مَنْ لاَ أَمانَ لَہُ ﴿۲۹﴾ اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ بِاسْمِکَ یَا عَاصِمُ،
جسکا کوئی مددگار نہیں اے اسکے ساتھی جسکا کوئی ساتھی نہیں اے اسکی پناہ جسکی کوئی پناہ نہیں ۔ اے معبود میں تجھ سے تیرے نام کیواسطے سے سوال کرتا ہوں اے
یَا قائِمُ، یَا دائِمُ، یَا راحِمُ، یَا سالِمُ، یَا حاکِمُ، یَا عالِمُ، یَا قاسِمُ، یَا قابِضُ، یَا باسِطُ ۔ ﴿۳۰﴾
پناہ دینے والے اے پائیدار اے ہمیشگی والے اے رحم کرنے والے اے بے عیب اے حکومت کے مالک اے علم والے اے تقسیم کرنے والے اے
یَاعاصِمَ مَنِ اسْتَعْصَمَہُ، یَا راحِمَ مَنِ اسْتَرْحَمَہُ، یَا غافِرَ مَنِ اسْتَغْفَرَھُ، یَا ناصِرَ مَنِ اسْتَنْصَرَھُ،
بند کرنے والے اے کھولنے والے۔ اے اسکے نگہدار جو نگہداری چاہے اے اس پر رحم کرنے والے جو رحم کا طالب ہو اے اسکے بخشنے والے جو طالب ِبخشش
یَاحافِظَ مَنِ اسْتَحْفَظَہُ، یَا مُکْرِمَ مَنِ اسْتَکْرَمَہُ، یَا مُرْشِدَ مَنِ اسْتَرْشَدَھُ یَا صَرِیخَ مَنِ اسْتَصْرَخَہُ
ہو اے اسکی نصرت کرنے والے جو نصرت چاہے اے اسکی حفاظت کرنے والے جو حفاظت چاہے اے اسکو بڑائی دینے والے جو بڑائی طلب کرے
یَا مُعِینَ مَنِ اسْتَعانَہُ یَا مُغِیثَ مَنِ اسْتَغاثَہُ ﴿۳۱﴾یَا عَزِیزاً لاَ یُضامُ، یَا لَطِیفاً لاَ یُرامُ، یَا قَیُّوماً
اے اسکی رہنمائی کرنے والے جو رہنمائی چاہے اے اسکے داد رس جو دادرسی چاہے اے اسکے مددگار جو مددطلب کرے اے اسکے فریاد رس جو فریادکرے۔
لاَ یَنامُ، یَا دائِماً لاَ یَفُوتُ، یَا حَیّاً لاَ یَمُوتُ، یَا مَلِکاً لاَ یَزُولُ یَا باقِیاً لاَ یَفْنی یَا عالِماً لاَ یَجْھَلُ
اے وہ غالب جو ظلم نہیں کرتا اے وہ باریک جو نظر انداز نہیں ہوتا اے وہ نگہبان جو سوتا نہیں اے وہ جاوداں جو مرتا نہیں اے وہ زندہ جسے موت نہیں
یَا صَمَداً لاَ یُطْعَمُ یَا قَوِیّاً لاَ یَضْعُفُ﴿۳۲﴾اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَ لُکَ بِاسْمِکَ یَا أَحَدُ، یَا واحِدُ،
اے وہ بادشاہ جسے زوال نہیں اے وہ باقی جو فانی نہیں اے وہ عالم جس میں جہل نہیں اے وہ بے نیاز جو کھاتا نہیں اے وہ قوی جسے ضعف نہیں۔
یَا شاھِدُ، یَا ماجِدُ، یَا حامِدُ، یَا راشِدُ، یَا باعِثُ یَا وارِثُ یَا ضارُّ یَا نافِعُ ﴿۳۳﴾ یَا أَعْظَمَ مِنْ
اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے نام کے واسطے سے اے یکتا اے یگانہ اے حاضر اے بزرگوار اے تعریف والے اے رہنما
کُلِّ عَظِیمٍ یَا أَکْرَمَ مِنْ کُلِّ کَرِیمٍ یَا أَرْحَمَ مِنْ کُلِّ رَحِیمٍ یَا أَعْلَمَ مِنْ کُلِّ عَلِیمٍ یَا أَحْکَمَ مِنْ
اے اٹھانے والے اے وارث اے خسارہ دینے والے اے نفع دینے والے۔ اے سب بڑوں سے بڑے اے سب بزرگوں سے بزرگ تر
کُلِّ حَکِیمٍ یَا أَقْدَمَ مِنْ کُلِّ قَدِیمٍ یَا أَکْبَرَ مِنْ کُلِّ کَبِیرٍ یَا أَلْطَفَ مِنْ کُلِّ لَطِیفٍ یَا أَجَلَّ مِن کُلِّ
اے سب مہربانوں سے مہربان اے ہر عالم سے بڑے عالم اے ہر حکیم سے بڑے حکیم اے ہر قدیم سے قدیم تر اے ہر بزرگ سے بزرگ تر اے ہر
جَلِیلٍ یَا أَعَزَّ مِنْ کُلِّ عَزِیزٍ﴿۳۴﴾ یَا کَرِیمَ الصَّفْحِ یَا عَظِیمَ الْمَنِّ یَا کَثِیرَ الْخَیْرِ، یَا قَدِیمَ
لطیف سے زیادہ لطیف اے ہر جلال والے سے زیادہ جلال والے اے ہرزبردست سے زیادہ زبردست۔ اے بہتر درگزر کرنے والے اے بڑے احسان
الْفَضْلِ،یَا دائِمَ اللُّطْفِ،یَا لَطِیفَ الصُّنْعِ یَا مُنَفِّسَ الْکَرْبِ یَاکاشِفَ الضُّرِّ،یَا مالِکَ الْمُلْکِ،
والے اے زیادہ خیروالے اے قدیم فضل والے اے ہمیشہ کے لطف والے اے خوبصورت صنعت والے اے سختی دور کرنے والے اے دکھ دور کرنے
یَا قاضِیَ الْحَقِّ ﴿۳۵﴾یَا مَنْ ھُوَ فِی عَھْدِھِ وَفِیٌّ، یَا مَنْ ھُوَ فِی وَفائِہِ قَوِیٌّ، یَا مَنْ ھُوَ فِی قُوَّتِہِ
والے اے ہر ملک کے مالک اے حق کا فیصلہ دینے والے۔اے وہ جو اپنے عہد کو پورا کرنے والا ہے اے وہ جو اپنی وفا میں قوی ہے اے وہ جو اپنی قوت
عَلِیٌّ ، یَا مَنْ ھُوَ فِی عُلُوِّھِ قَرِیبٌ یَا مَنْ ھُوَ فِی قُرْبِہِ لَطِیفٌ یَا مَنْ ھُوَ فِی لُطْفِہِ شَرِیفٌ یَا مَنْ
میں بلند ہے اے وہ جو اپنی بلندی میں قریب ہے اے وہ جو اپنے قرب میں مہربان ہے اے وہ جو اپنے لطف میں کریم ہے اے وہ جو اپنی کرم میں عزت
ھُوَ فِی شَرَفِہِ عَزِیزٌ یَا مَنْ ھُوَ فِی عِزِّھِ عَظِیمٌ یَا مَنْ ھُوَ فِی عَظَمَتِہِ مَجِیدٌ یَا مَنْ ھُوَ فِی مَجْدِھِ
دار ہے اے وہ جو اپنی عزت میں عظیم ہے اے وہ جو اپنی عظمت میں بلند مرتبہ ہے اے وہ جو اپنے مرتبے میں تعریف والا ہے اے معبود! میں تجھ سے سوال
حَمِیدٌ﴿۳۶﴾اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَ لُکَ بِاسْمِکَ یَا کافِی، یَا شافِی، یَا وافِی، یَا مُعافِی، یَاہادِی،
کرتا ہوں تیرے نام کے واسطے سے اے کفایت کرنے والے اے شفادینے والے اے وفاداراے عافیت دینے والے ایہدایت دینے والے اے بلانے
یَا داعِی، یَا قاضِی، یَا راضِی، یَا عالِی، یَا باقِی ﴿۳۷﴾ یَا مَنْ کُلُّ شَیْءٍ خاضِعٌ لَہُ یَا مَنْ کُلُّ
والے اے فیصلے کرنے والے اے خوشنودی والے اے بلندی والے اے باقی رہنے والے۔ اے وہ جسکے آگے ہر چیز جھکی ہوئی ہے اے وہ جسکے آگے ہر
شَیْءٍ خاشِعٌ لَہُ، یَا مَنْ کُلُّ شَیْءٍ کائِنٌ لَہُ، یَا مَنْ کُلُّ شَیْءٍ مَوْجُودٌ بِہِ یَا مَنْ کُلُّ شَیْءٍ مُنِیبٌ
چیز خوف زدہ ہے اے وہ جس سے ہر چیز کو وجود ملا ہے اے وہ جسکے ذریعے ہر چیز موجود ہوئی ہے اے وہ جسکی طرف ہر چیز کی بازگشت ہے اے وہ جس سے
إِلَیْہِ یَا مَنْ کُلُّ شَیْءٍ خائِفٌ مِنْہُ یَا مَنْ کُلُّ شَیْءٍ قائِمٌ بِہِ یَا مَنْ کُلُّ شَیْءٍ صائِرٌ إِلَیْہِ یَا مَنْ کُلُّ شَیْءٍ
ہرچیز ڈرتی ہے اے وہ جسکے ذریعے ہر چیز باقی ہے اے وہ جسکی طرف ہر چیز لوٹتی ہے اے وہ کہ ہر چیز جسکی حمد میں مصروف ہے اے وہ کہ جسکے جلوے کے سوا
یُسَبِّحُ بِحَمْدِھِ یَا مَنْ کُلُّ شَیْءٍ ہالِکٌ إِلاَّ وَجْھَہُ﴿۳۸﴾ یَا مَنْ لاَ مَفَرَّ إِلاَّ إِلَیْہِ یَا مَنْ لاَ مَفْزَعَ
ہر چیز ناپید ہو جائے گی۔ اے وہ جسکے سوا کوئی جائے فرار نہیں ہے اے وہ جسکے سوا کوئی جائے پناہ نہیں اے وہ جسکے سوا کوئی منزلِ مقصود نہیں اے وہ جسکے علاوہ
إِلاَّ إِلَیْہِ یَا مَنْ لاَ مَقْصَدَ إِلاَّ إِلَیْہِ یَا مَنْ لاَ مَنْجَیً مِنْہُ إِلاَّ إِلَیْہِ،یَا مَنْ لاَ یُرْغَبُ إِلاَّ إِلَیْہِ، یَا مَنْ لاَ حَوْلَ
کوئی جائے نجات نہیں اے وہ جسکے بغیر کسی شئی میں رغبت نہیں ہو سکتی اے وہ کہ نہیں ہے طاقت و قوت مگر اسی سے اے وہ جسکے سوا کہیں سے مدد نہیں مل سکتی
وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِہِ،یَا مَنْ لاَ یُسْتَعانُ إِلاَّ بِہِ،یَا مَنْ لاَ یُتَوَکَّلُ إِلاَّ عَلَیْہِ یَا مَنْ لاَ یُرْجی إِلاَّ ھُوَ یَا مَنْ لاَ
اے وہ جسکے سواکسی پر بھروسہ نہیں ہو سکتا اے وہ جسکے سوا کسی سے امید نہیں ہوسکتی اے وہ جسکے سوا کسی کی عبادت نہیں ہو سکتی۔ اے بہترین ذات جس سے ڈرا
یُعْبَدُ إِلاَّ ھُوَ ﴿۳۹﴾ یَا خَیْرَ الْمَرْھُوبِینَ یَا خَیْرَ الْمَرْغُوبِینَ، یَا خَیْرَ الْمَطْلُوبِینَ، یَا خَیْرَ
جائے اے بہترین لبھانے والے اے بہترین طلب کیے جانے والے اے بہترین سوال کیے جانے والے اے بہترین قصد کیے جانے والے اے بہترین
الْمَسْؤُولِینَ،یَا خَیْرَ الْمَقْصُودِینَ یَا خَیْرَ الْمَذْکُورِینَ یَا خَیْرَ الْمَشْکُورِینَ یَا خَیْرَ الْمَحْبُوبِین
ذکر کیے جانے والے اے بہترین شکرکیے جانے والے اے بہترین محبت کیے جانے والے اے بہترین پکارے جانے والے اے بہترین مانوس کیے
یَا خَیْرَالْمَدْعُوِّینَ یَا خَیْرَالْمُسْتَأْنِسِینَ﴿۴۰﴾اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ بِاسْمِکَ یَا غافِرُ یَا ساتِرُ
جانے والے۔ اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے نام سے اے معاف کرنے والے اے چھپانے والے اے قدرت والے اے غلبے والے اے
یَا قادِرُ یَا قاھِرُ یَا فاطِرُ یَا کاسِرُ یَا جابِرُ یَا ذاکِرُ، یَا ناظِرُ، یَا ناصِرُ ﴿۴۱﴾ یَا مَنْ خَلَقَ فَسَوَّی،
پیدا کرنیوالے اے توڑنے والے اے جوڑنے والے اے ذکر کرنیوالے اے دیکھنے والے اے مدد کرنے والے۔ اے وہ جس نے پیدا کیا پھر درست کیا
یَا مَنْ قَدَّرَ فَھَدی، یَا مَنْ یَکْشِفُ الْبَلْوی ، یَا مَنْ یَسْمَعُ النَّجْوی، یَا مَنْ یُنْقِذُ الْغَرْقی،یَا مَنْ یُنْجِی
اے وہ جس نے تقدیر بنائی پھرہدایت دی اے وہ جو بلائیں دور کرتا ہے اے وہ جو سرگوشیاں سنتا ہے اے وہ جو ڈوبنے والوں کو بچاتا ہے اے وہ جو ہلاکتوں
الْھَلْکی یَا مَنْ یَشْفِی الْمَرْضی یَا مَنْ أَضْحَکَ وَأَبْکی، یَا مَنْ أَماتَ وَأَحْیی یَا مَنْ خَلَقَ الزَّوْجَیْنِ
سے نجات دیتا ہے اے وہ جو مریضوں کو شفا دیتا ہے اے وہ جو ہنساتا اور رلاتا ہے اے وہ جو مارتا ہے اور زندہ کرتا ہے
الذَّکَرَ وَالْاُنْثیٰ ﴿۴۲﴾ یَا مَنْ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ سَبِیلُہُ یَا مَنْ فِی الْآفاقِ آیاتُہُ یَا مَنْ فِی الْاَیاتِ
اے وہ جس نے نر اور مادہ جوڑے بنائے اے وہ جس نے خاک و آب میں راستے بنائے اے وہ جس نے فضا میں اپنی نشانیاں بنائیں اے وہ
بُرْہانُہُ،یَا مَنْ فِی الْمَماتِ قُدْرَتُہُ،یَا مَنْ فِی الْقُبُورِعِبْرَتُہُ،یَا مَنْ فِی الْقِیامَةِ مُلْکُہُ، یَا مَنْ فِی الْحِسابِ
جسکی نشانیوں میں قوی دلیل ہے اے وہ کہ موت میں جسکی قدرت ظاہرہے اے وہ جس نے قبروں میں عبرت رکھی ہے اے وہ کہ قیامت میں جسکی بادشاہت
ھَیْبَتُہُ، یَا مَنْ فِی الْمِیزانِ قَضاؤُہُ، یَا مَنْ فِی الْجَنَّةِ ثَوابُہُ یَا مَنْ فِی النَّارِ عِقابُہُ ﴿۴۳﴾یَا مَنْ إِلَیْہِ
ہے اے وہ کہ حساب میں جسکی ہیبت ہے اے وہ کہ میزان عمل میں جسکی منصفی ہے اے وہ کہ جس کیطرف سے ثوابِ جنت ہے اے وہ کہ جسکا عذاب
یَھْرَبُ الْخائِفُونَ، یَا مَنْ إِلَیْہِ یَفْزَعُ الْمُذْنِبُونَ یَا مَنْ إِلَیْہِ یَقْصِدُ الْمُنِیبُونَ یَا مَنْ إِلَیْہِ یَرْغَبُ
دوزخ ہے۔ اے وہ کہ خوف زدہ جسکی طرف بھاگتے ہیں اے وہ کہ گنہگار جسکی پناہ لیتے ہیں اے وہ کہ توبہ کرنے والے جسکا قصد کرتے ہیں اے وہ کہ
الزَّاھِدُونَ یَا مَنْ إِلَیْہِ یَلْجَأُ الْمُتَحَیِّرُونَ یَا مَنْ بِہِ یَسْتَأْنِسُ الْمُرِیدُونَ یَا مَنْ بِہِ یَفْتَخِرُالْمُحِبُّونَ
جسکی طرف پرہیز گار رغبت کرتے ہیں اے وہ کہ پریشان لوگ جسکی پناہ چاہتے ہیں اے وہ کہ ارادہ کرنے والے جس سے مانوس ہیں اے وہ کہ جس پر محبت
یَا مَنْ فِی عَفْوِہِ یَطْمَعُ الْخاطِئُونَ یَا مَنْ إِلَیْہِ یَسْکُنُ الْمُوقِنُونَ یَا مَنْ عَلَیْہِ یَتَوَکَّلُ الْمُتَوَکِّلُونَ ﴿۴۴﴾
کرنے والے فخر کرتے ہیں اے وہ کہ خطاکار جسکے عفو کی خواہش رکھتے ہیں اے وہ جسکے ہاں یقین والے سکون پاتے ہیں اے وہ کہ توکل کرنے والے جس
اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ بِاسْمِکَ یَا حَبِیبُ یَا طَبِیبُ یَا قَرِیبُ یَا رَقِیبُ یَا حَسِیبُ یَا مُھِیبُ یَا مُثِیبُ
پر توکل کرتے ہیں۔ اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے نام کے واسطے سے اے محبوب اے چارہ گر اے نزدیک تر اے نگہدار اے حساب رکھنے
یَا مُجِیبُ یَا خَبِیرُ یَا بَصِیرُ﴿۴۵﴾یَا أَقْرَبَ مِنْ کُلِّ قَرِیبٍ یَا أَحَبَّ مِنْ کُلِّ حَبِیبٍ یَا أَبْصَرَ مِنْ
والے اے ہیبت والے اے ثواب دینے والے اے دعا قبول کرنے والے اے با خبر اے بینا۔ اے ہر قریب سے زیادہ قریب اے ہر محب سے زیادہ
کُلِّ بَصِیرٍ یَا أَخْبَرَ مِنْ کُلِّ خَبِیرٍ یَا أَشْرَفَ مِنْ کُلِّ شَرِیفٍ یَا أَرْفَعَ مِنْ کُلِّ رَفِیعٍ یَا أَقْوی
محبت کرنے والے اے ہر دیکھنے والے سے زیادہ بینا اے ہر باخبر سے زیادہ خبر والے اے ہر بزرگ سے زیادہ بزرگ اے ہر بلند سے زیادہ بلند اے ہر توانا
مِنْ کُلِّ قَوِیٍّ یَا أَغْنی مِنْ کُلِّ غَنِیٍّ یَا أَجْوَدَ مِنْ کُلِّ جَوادٍ یَا أَرْأَفَ مِنْ کُلِّ رَؤُوفٍ ﴿۴۶﴾
سے زیادہ توانا اے ہر باثروت سے زیادہ باثروت اے ہر داتا سے زیادہ دینے والے اے ہر مہربان سے زیادہ مہربان۔
یَا غالِباً غَیْرَ مَغْلُوبٍ یَا صانِعاً غَیْرَ مَصْنُوعٍ یَا خالِقاً غَیْرَ مَخْلُوقٍ یَا مالِکاً غَیْرَ مَمْلُوکٍ
اے وہ غالب جس پر کوئی غالب نہیں اے وہ صانع جسے کسی نے نہیں بنایا اے وہ خالق جو خلق نہیں ہوا اے وہ مالک جسکا کوئی مالک نہیں
یَا قاھِراً غَیْرَ مَقْھُورٍ، یَا رافِعاً غَیْرَ مَرْفُوعٍ، یَا حافِظاً غَیْرَ مَحْفُوظٍ، یَا ناصِراً
اے وہ زبردست جو کسی کے زیر نگیں نہیں اے وہ بلند جسے کسی نے بلند نہیں کیا اے وہ نگہبان جسکا کوئی نگہبان نہیں اے وہ مددگار
غَیْرَ مَنْصُورٍ یَا شاھِداً غَیْرَ غائِبٍ یَا قَرِیباً غَیْرَ بَعِیدٍ ﴿۴۷﴾ یَا نُورَ النُّورِ، یَا مُنَوِّرَ النُّورِ،
جسکا کوئی مددگار نہیں اے وہ حاضر جو کہیں بھی غائب نہیں اے وہ قریب جو کبھی دور نہیں ہوا۔ اے نور کی روشنی اے نور روشن کرنے والے
یَا خالِقَ النُّورِ یَا مُدَبِّرَ النُّورِ، یَا مُقَدِّرَ النُّورِ، یَا نُورَ کُلِّ نُورٍ، یَا نُوراً قَبْلَ کُلِّ نُورٍ، یَا نُوراً
اے نور پیدا کرنے والے اے نور کا بندوبست کرنے والے اے نور کی اندازہ گیری کرنے والے اے نور کی روشنی اے ہر نور سے اولین نور
بَعْدَ کُلِّ نُورٍ یَا نُوراً فَوْقَ کُلِّ نُورٍ یَا نُوراً لَیْسَ کَمِثْلِہِ نُورٌ ﴿۴۸﴾ یَا مَنْ عَطَاؤُہُ شَرِیفٌ
اے ہر نور کے بعد روشن رہنے والے اے ہرنور سے بالاتر نور اے وہ نور جسکی مثل کوئی نور نہیں۔ اے وہ جسکی عطا بلند تر ہے
یَا مَنْ فِعْلُہُ لَطِیفٌ یَا مَنْ لُطْفُہُ مُقِیمٌ یَا مَنْ إِحْسانُہُ قَدِیمٌ یَا مَنْ قَوْلُہُ حَقٌّ یَا مَنْ وَعْدُہُ صِدْقٌ
اے وہ جسکا فعل باریک تر ہے اے وہ جسکا لطف پائندہ ہے اے وہ جسکا احسان قدیم ہے اے وہ جسکا قول حق ہے اے وہ جسکا وعدہ سچا ہے
یَا مَنْ عَفْوُہُ فَضْلٌ، یَا مَنْ عَذابُہُ عَدْلٌ، یَا مَنْ ذِکْرُہُ حُلْوٌ، یَا مَنْ فَضْلُہُ عَمِیمٌ ۔ ﴿۴۹﴾
اے وہ جسکی عفو میں احسان ہے اے وہ جسکے عذاب میں عدل ہے اے وہ جسکا ذکر شیریں ہے اے وہ جسکا احسان عام ہے۔ اے معبودمیں تجھ
اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَ لُکَ بِاسْمِکَ یَا مُسَہِّلُ، یَا مُفَصِّلُ، یَا مُبَدِّلُ، یَا مُذَلِّلُ، یَا مُنَزِّلُ، یَا مُنَوِّلُ، یَا
سے سوال کرتا ہوں تیرے نام کے واسطے سے اے ہموار کرنے والے اے جدا کرنے والے اے تبدیل کرنے والے اے پست کرنیوالے اے
مُفْضِلُ،یَا مُجْزِلُ،یَا مُمْھِلُ،یَا مُجْمِلُ﴿۵۰﴾یَا مَنْ یَری وَلاَ یُری،یَا مَنْ یَخْلُقُ وَلاَ یُخْلَقُ،یَا
اتارنے والے اے عطا کرنے والے اے نعمت دینے والے اے احسان کرنیوالے اے مہلت دینے والے اے نیکوکار۔ اے وہ جو دیکھتا ہے خود نظر نہیں
مَنْ یَھْدِی وَلاَ یُھْدی، یَا مَنْ یُحْیِی وَلاَ یُحْیی، یَا مَنْ یَسْأَلُ وَلاَ یُسْأَلُ، یَا مَنْ یُطْعِمُ وَلاَ یُطْعَمُ،
آتا اے وہ جو خلق کرتا ہے اور خلق نہیں ہوا اے وہ جو ہدایت دیتا ہے اور ہدایت طلب نہیں کرتا اے وہ جو زندہ کرتا ہیاور زندہ نہیں کیا گیا اے وہ جومسئول
یَا مَنْ یُجِیرُ وَلاَ یُجارُ عَلَیْہِ، یَامَنْ یَقْضِی وَلاَ یُقْضی عَلَیْہِ، یَا مَنْ یَحْکُمُ وَلاَ یُحْکَمُ عَلَیْہِ،یَا
ہے اور سائل نہیں اے وہ جو کھلاتا ہے اور کھاتا نہیں اے وہ جو پناہ دیتا ہے اور محتاجِ پناہ نہیں ہے اے وہ جو فیصلے کرتا ہے اور طالبِ فیصلہ نہیں ہے اے
مَنْ لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُولَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَہُ کُفُواً أَحَدٌ۔﴿۵۱﴾ یَا نِعْمَ الْحَسِیبُ، یَا نِعْمَ الطَّبِیبُ،یَا نِعْمَ
وہ جو حکم دیتا ہے اور اس پر کسی کا حکم نہیں اے وہ جسکا کوئی بیٹا نہیں نہ وہ کسی کا بیٹا ہیاور نہ کوئی اسکا ہمسر ہے۔ اے بہترین حساب کرنے والے اے بہترین
الرَّقِیبُ،یَا نِعْمَ الْقَرِیبُ یَا نِعْمَ الْمُجِیبُ، یَا نِعْمَ الْحَبِیبُ، یَا نِعْمَ الْکَفِیلُ، یَا نِعْمَ الْوَکِیلُ، یَا نِعْمَ
چارہ گر اے بہترین نگہبان اے بہترین قریب اے بہترین دعا قبول کرنے والے اے وہ جو بہترین محبوب ہے اے وہ جو بہترین سرپرست ہے اے وہ
الْمَوْلیٰ،یَا نِعْمَ النَّصِیرُ﴿۵۲﴾ یَا سُرُورَ الْعارِفِینَ یَا مُنَی الْمُحِبِّینَ یَا أَنِیسَ الْمُرِیدِینَ، یَا حَبِیبَ
جو بہترین کارساز ہے اے بہترین آقا اے بہترین یاور۔ اے عارفوں کی شادمانی اے حب داروں کی تمنا اے ارادت مندوں کے ہمدم اے توبہ کرنے
التَّوَّابِینَ، یَا رازِقَ الْمُقِلِّینَ، یَا رَجاءَ الْمُذْنِبِینَ، یَا قُرَّ ةَ عَیْنِ الْعابِدِینَ ، یَا مُنَفِّساً عَنِ الْمَکْرُوبِینَ،
والوں کے محبوب اے بے مایہ لوگوں کے رازق اے گناہگاروں کی آس اے عبادت کرنے والوں کی آنکھوں کی ڈھنڈک اے دکھیاروں کے دکھ دور کرنے
یَا مُفَرِّجاً عَنِ الْمَغْمُومِینَ، یَا إِلہَ الْاَوَّلِینَ وَالاَْخِرِینَ﴿۵۳﴾ اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَ لُکَ بِاسْمِکَ یَا رَبَّنا،
والے اے غمزدوں کا غم مٹانے والے اے اولین و آخرین کے معبود۔ اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے ہی نام کے واسطے سے اے ہمارے رب
یَا إِلھَنا،یَاسَیِّدَنا، یَا مَوْلانا، یَا ناصِرَنا، یَا حافِظَنا، یَا دَلِیلَنا، یَا مُعِینَنا، یَا حَبِیبَنا، یَا طَبِیبَنا﴿۵۴﴾
اے ہمارے معبود اے ہمارے سردار اے ہمارے آقا اے ہمارے یاور اے ہمارے محافظ اے ہمارے رہنما اے ہمارے مددگار اے
یَا رَبَّ النَّبِیِّینَ وَ الْاَبْرارِ، یَا رَبَّ الصِّدِّیقِینَ وَالْاَخْیارِ، یَا رَبَّ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، یَا رَبَّ الصِّغارِ
ہمارے محبوب اے ہمارے چارہ گر۔ اے انبیاء و صالحین کے پروردگار اے صدیقوں اورنیک لوگوں کے پروردگار اے
وَالْکِبارِ،یَا رَبَّ الْحُبُوبِ وَالثِّمارِ، یَا رَبَّ الْاَ نْہارِ وَالْاَشْجارِ، یَا رَبَّ الصَّحارِی وَالْقِفارِ، یَا رَبَّ
جنت و دوزخ کے مالک اے چھوٹے بڑے کے رب اے دانہ و ثمرکے پروان چڑھانے والے اے دریاؤں اور درختوں کے مالک اے صحراؤں اور
الْبَرارِی وَالْبِحارِ، یَا رَبَّ اللَّیْلِ وَالنَّہارِ، یَا رَبَّ الْاِعْلانِ وَالْاِسْرارِ﴿۵۵﴾ یَا مَنْ نَفَذَ فِی کُلِّ
بستیوں کے مالک اے صحراؤں اور سمندروں کے مالک اے دن اور رات کے مالک اے کھلی
شَیْءٍ أَمْرُھُ، یَا مَنْ لَحِقَ بِکُلِّ شَیْءٍ عِلْمُہُ، یَا مَنْ بَلَغَتْ إِلی کُلِّ شَیْءٍ قُدْرَتُہُ، یَا مَنْ لاَیُحْصِی
اور چھپی باتوں کے مالک۔ اے وہ جسکا حکم ہر چیز پر نافذ ہے اے وہ جسکا علم ہر چیز پر حاوی ہے اے وہ جسکی قدرت ہر چیز تک پہنچی ہوئی ہے اے وہ جسکی
الْعِبادُ نِعَمَہُ، یَا مَنْ لاَ تَبْلُغُ الْخَلائِقُ شُکْرَہُ، یَا مَنْ لاَتُدْرِکُ الْاَفْہامُ جَلالَہُ، یَا مَنْ لاَ تَنالُ الْاَوْہامُ
نعمتوں کوبندے گن نہیں سکتے اے وہ کہ مخلوقات جسکاشکریہ ادا نہیں کر سکتیں اے وہ کہ جسکی جلالت سمجھ میں نہیں
کُنْھَہُ، یَا مَنِ الْعَظَمَةُ وَالْکِبْرِیَاءُ رِداؤُہُ، یَا مَنْ لاَ یَرُدُّ الْعِبادُ قَضائَہُ، یَا مَنْ لاَ مُلْکَ إِلاَّ مُلْکُہُ،
آسکتی اے وہ کہ جسکی حقیقت کو وہم پا نہیں سکتے اے وہ کہ بزرگی اور بڑائی جسکا لباس ہے اے وہ جسکی قضا کو بندے ٹال نہیں سکتے اے وہ جسکے سوا کسی کی
یَا مَنْ لاَ عَطاءَ إِلاَّ عَطاؤُہُ﴿۵۶﴾ یَا مَنْ لَہُ الْمَثَلُ الْاَعْلی، یَا مَنْ لَہُ الصِّفاتُ الْعُلْیا، یَا مَنْ لَہُ
حکومت نہیں اے وہ جسکی عطا کے سوا کوئی عطا نہیں۔ اے وہ جسکے لئے اعلٰی نمونہ ہے اے وہ جسکے لیے
الاَْخِرةُ وَالْاُولی، یَا مَنْ لَہُ جَنَّةُ الْمَأْوی، یَا مَنْ لَہُ الاَْیاتُ الْکُبْری، یَا مَنْ لَہُ الْاَسْماءُ الْحُسْنی، یَا
بلند صفات ہیں اے وہ دنیا و آخرت جسکی ملکیت ہیں اے وہ جو جنت الماویٰ کا مالک ہے اے وہ جسکی نشانیاں عظیم ہیں اے وہ جسکے نام پسندیدہ ہیں اے
مَنْ لَہُ الْحُکْمُ وَالْقَضاءُ، یَا مَنْ لَہُ الْھَواءُ وَالْفَضاءُ، یَا مَنْ لَہُ الْعَرْشُ وَالثَّری، یَا مَنْ لَہُ السَّمَاوَاتُ
وہ جو حکم و فیصلے کا مالک ہے اے وہ کہ ہوا و فضا جسکی ملک ہیں اے وہ جو عرش وفرش کا مالک ہے اے وہ جو بلند آسمانوں کا مالک ہے۔ اے معبود میں
الْعُلی﴿۵۷﴾اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَ لُکَ بِاسْمِکَ یَا عَفُوُّ، یَا غَفُورُ، یَا صَبُورُ، یَا شَکُورُ، یَا رَؤُوفُ، یَا
تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے نام کے واسطے سے اے معافی دینے والے اے بخشنے والے اے بہت صبر والے اے بہت شکر والے اے مہربان اے
عَطُوفُ، یَا مَسْؤُولُ، یَا وَدُودُ، یَا سُبُّوحُ، یَا قُدُّوسُ ۔ ﴿۵۸﴾ یَا مَنْ فِی السَّماءِ عَظَمَتُہُ، یَا
نرم خو اے مسئول اے محبت والے اے پاک تر اے پاکیزہ۔ اے وہ کہ آسمان میں جسکی بڑائی ہے اے وہ کہ زمین میں
مَنْ فِی الْاَرْضِ آیاتُہُ، یَا مَنْ فِی کُلِّ شَیْءٍ دَلائِلُہُ، یَا مَنْ فِی الْبِحارِ عَجائِبُہُ، یَا مَنْ فِی الْجِبالِ
جسکی نشانیاں ہیں اے وہ ہر چیز میں جسکی دلیلیں ہیں اے وہ کہ سمندروں میں جسکی انوکھی چیزیں ہیں اے وہ پہاڑوں میں جسکے خزانے ہیں اے وہ جس نے
خَزائِنُہُ، یَا مَنْ یَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیدُہُ، یَا مَنْ إِلَیْہِ یَرْجِعُ الْاَمْرُ کُلُّہُ، یَا مَنْ أَظْھَرَ فِی کُلِّ شَیْءٍ
خلق کو ظاہر کیا پھر جاری رکھا اے وہ جسکی طرف ہر امر کی بازگشت ہے اے وہ جسکا لطف
لُطْفَہُ، یَا مَنْ أَحْسَنَ کُلَّ شَیْءٍ خَلْقَہُ، یَا مَنْ تَصَرَّفُ فِی الْخَلائِقِ قُدْرَتُہُ﴿۵۹﴾ یَا حَبِیبَ مَنْ
ہر چیز میں عیاں ہے اے وہ جس نے ہرچیز کو خوبی سے خلق کیا اے وہ جسکی قدرت مخلوقات میں اثراندازی کر رہی ہے۔ اے اسکے ساتھی جسکا کوئی ساتھی نہیں
لاَ حَبِیبَ لَہُ،یَا طَبِیبَ مَنْ لاَ طَبِیبَ لَہُ، یَا مُجِیبَ مَنْ لاَ مُجِیبَ لَہُ، یَا شَفِیقَ مَنْ لاَ شَفِیقَ لَہُ، یَا
اے اسکے چارہ گ
مناف بھائی دعا بمعہ اردو ترجمہ بشکریہ دعازڈاٹ اورگ پیش خدمت ہے۔
اگر یہاں پڑھنے میں مشکل پیش آئے تو یہاں اس لنک پر مطالعہ فر مایا جا سکتا۔ ۔۔۔۔لیکن اس فقیر کو اپنی دعاؤں میں مسلسل یاد رکھئیے گا۔
http://urdu.duas.org/otherduas/dua-e-joshank.htm
————-
مناف بھائی آغا جی نے یہ دعا لگائی ہے لیکن طوالت کے سبب مکمل نہیں لگ سکی۔ میں بھی بھر پور کوشش کی لیکن ایک بار میں نہیں لگ سکتی۔ ، اس لئے بہتر ہے کہ اس لنک سے ہی ملاحظہ کی جائے اور یہاں اسے سنا بھی جا سکتا ہے۔ ۔۔۔۔۔زحمت پر معافی کا طلبگار ہوں۔
دعائے اسم اعظم المعروف بہ دعائے مشلول۔
SOURCE: http://urdu.duas.org/otherduas/duamashool.htm
سورس پرموجود متن کے نسخ خط میں مجھے بعض مقامات پر ہلکی سی تبدیلی کرنا پڑی ہے تا کہ پڑھنے میں آسانی رہے۔ بایں ہمہ اگر کہیں غلطی رہ گئی ہو معافی چاہتا ہوں اور اللہ کریم سے اسکی مغفرت و رحمت کا امیدوار ہوں۔
اس دعا کا ایک اور نام بھی ہے یعنی دعا الشاب الماخوذ بذنبہیہ وہ دعا جو ایک نوجوان نے اپنے گنا ہوں کی سزا میں گرفتار ہونے کے بعد پڑھی۔مہج الد عو ات اور کتابِ کفعمی میں مذکو ر ہے یہ وہ دعا ہے جو امیر المو منین(ع) نے اس نوجوان کو تعلیم فرمائی جو اپنے والدین کی نافرمانی کرنے کے با عث شل ہوگیا تھا جب اس نے یہ دعا پڑھی تو خواب میں دیکھا کہ رسول اللہ نے اپنا د ست شفقت اسکے بدن پر پھیرا اور فرما یا کہ اس اسم اعظم کو حفظ کر لے کہ یقینا تیرا کا م بن جا ئے گا ۔اب جو اسکی آنکھ کھلی تو کیا د یکھتا ہے کہ اسکا نا کا رہ جسم درست ہو گیا ہے وہ دعا یہ ہے :
اَللّٰھُمَّ انِّی اسْا لُکَ بِاسْمِکَ بِسْمِ اللہ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ، یَا ذَا الْجَلالِ وَالاِکْرامِ، یَا حَیُّ یَا
اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے نام کے واسطے سے اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں جو رحمن ورحیم ہے اے صاحب فائدہ دینے والے، اے تدبیر والے،
قَیُّومُ، یَا حَیُّ لاَ اِلہَ اِلاَّ اَ نْتَ، یَا ھُوَ یَا مَنْ لاَ یَعْلَمُ ما ھُوَ وَلاَکَیْفَ ھُوَ وَلاَ ایْنَ ھُوَ وَلاَ حَیْثُ ھُوَ
اے محکم کاروالے، اے مہربان، اے حکمت والے ،اے وجود قدیم، اے عالی شان اے بزرگی والے، اے محبت کرنے والے، اے احسان کرنے والے، اے حسا ب کرنے
الاَّ ھُوَ، یَا ذَا الْمُلْکِ وَالْمَلَکُوتِ، یَا ذَا الْعِزَّت وَالْجَبَرُوتِ یا مَلِکُ یَا قُدُّوسُ یَا سَلامُ یَامُؤْمِنُ
والے، اے جز اجلالت و بزرگی اے زندہ، اے نگہبان، اے زندہ سوائے تیرے کوئی معبود نہیں اے وہ کہ جسے کوئی نہیں جانتا کہ وہ کیا ہے اور کیسا صورت بنانے والے ،اے
یَا مُھَیْمِنُ یَا عَزِیزُ یَا جَبّارُ یَا مُتَکَبِّرُ یَا خالِقُ یَا بارِیُ یَا مُصَوِّرُ، یَا مُفِیدُ یَا مُدَبِّرُ، یَا شَدِیدُ یَا مُبْدِیُ،
ہے ،وہ کہاں ہے ،وہ کیوں کر ہے ہاں وہ خود ہی جانتا ہے۔ اے صاحب ملک و ملکوت اے صاحب عزت و اقتدار، اے بادشاہ،وجود دینے والے، اے اے پاک، اے
یَا مُعِیدُ یَا مُبِیدُ یَا وَدُودُ یَا مَحْمُودُ یَا مَعْبُودُ یَا بَعِیدُ یَا قَرِیبُ یَا مُجِیبُ، یَا رَقِیبُ یَا حَسِیبُ،
سلا متی والے، اے امن دینے وا لے، اے پاسبان، اے عزت والے، اے زبردست ،اے بڑائی والے،اے پیدا کرنے والے، اے اے صاحب ایجاد، اے مرجع
یَا بَدِیعُ یَا رَفِیعُ یَا مَنِیعُ یَا سَمِیعُ، یَا عَلِیمُ یَا حَلِیمُ یَا کَرِیمُ یَا حَکِیمُ یَا قَدِیمُ، یَا عَلِیُّ یَا عَظِیمُ،
خلق، اے ظالم کوختم کرنے والے، اے محبت والے، اے نیک صفات والے، اے معبود سننے والے، اے علم والے، اے حلم اے بعید، اے قریب، اے دعا قبول کرنے والے،
یَا حَنَّانُ یَا مَنَّانُ، یَا دَیَّانُ یَا مُسْتَعانُ یَا جَلِیلُ یَا جَمِیلُ، یَا وَکِیلُ یَا کَفِیلُ، یَا مُقِیلُ یَا مُنِیلُ یَا
اے نگہبان ،اے حساب کرنے والے ،اے ایجاد کرنے والے، اے بلند مرتبہ اے عالی مقام، اے دینے والے، اے مدد کرنے والے، اے جلالت والے، اے صا حب جما ل،
یَا نَبِیلُ یَا دَلِیلُ یَا ہادِی یَا بادِی یَا اوَّلُ یَا آخِرُ، یَا ظاھِرُ یَا باطِنُ، یَا قائِمُ یَا دائِمُ یَا عالِمُ یَا
اے کارساز، اے سرپرست ،اے معاف کرنے والے ،اے پہنچانے والے اے باعظمت ،اے رہنما ،اے رہبر، اے ابتداء کرنے والے ،اے اول، اے آخر، اے ظاہر، اے
حاکِمُ، یَا قاضِی یَا عادِلُ، یَا فاصِلُ یَا واصِلُ، یَا طاھِرُ یَا مُطَہِّرُ، یَا قادِرُ یَا مُقْتَدِرُ، یَا کَبِیرُ
باطن ،اے استوار ،اے ہمیشہ رہنے والے، اے علم والے، اے صاحب حکم، اے منصف ،اے عدل کرنے والے، اے سب سے جدا، اے سب سے ملے ہو ئے، اے پاک
یَا مُتَکَبِّرُ، یَا واحِدُ یَا اَحَدُ یَا صَمَدُ، یَا مَنْ لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُولَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَہُ کُفُواً اَحَدٌ ، وَلَمْ
اے پاک کرنے والے، اے قدرت والے، اے اقتدار والے، اے بزرگ، اے بزرگی والے، اے یگانہ، اے یکتا ،اے بے نیاز، اے وہ جو کسی کا باپ نہیں اور نہ کسی کا
یَکُنْ لَہُ صاحِبَتُ وَلاَ کانَ مَعَہُ وَزِیرٌ وَلاَ اتَّخَذَ مَعَہُ مُشِیراً وَلاَ احْتاجَ الی ظَھِیرٍ وَلاَ کانَ
بیٹا ہے اور جسکا کوئی ہمسر نہیں ہے اور نہ ہی اس کی کوئی زوجہ ہے نہ اس کیلئے کوئی وزیر ہے اور نہ اس نے اپنا کوئی مشیر بنایا ہے نہ وہ کسی مددگار کی حاجت رکھتا ہے اور نہ اسکے ساتھ
مَعَہُ مِنْ الہٍ غَیْرُہُُ لاَ اِلہَ الاَّ انْتَ فَتَعالَیْتَ عَمَّا یَقُولُ الظَّالِمُونَ عُلُوّاً کَبِیراً، یَا عَلِیُّ یَا شامِخُ
کوئی اور معبود ہے سوائے تیرے کوئی معبود نہیں پس تو اس سے بہت زیادہ بلند ہے جو یہ ظالم کہا کرتے ہیں۔اے عالی شان اے بلند مرتبہ والے اے عالی مرتبہ اے کھولنے والے
یَا باذِخُ یَا فَتَّاحُ یَا نَفَّاحُ یَا مُرْتاحُ، یَا مُفَرِّجُ یَا ناصِرُ یَا مُنْتَصِرُ یَا مُدْرِکُ یَا مُھْلِکُ یَا مُنْتَقِمُ
اے بخشنے والے اے ہوا کو چلانے والے اے راحت دینے والے اے مدد کرنے والے اے مدد دینے والے اے پہنچنے والے اے ہلاک کرنے والے اے بدلہ لینے والے اے
یَا باعِثُ یَا وارِثُ، یَا طالِبُ یَا غالِبُ، یَا مَنْ لاَ یَفُوتُہُ ہارِبٌ، یَا تَوَّابُ یَا اوَّابُ یَا وَہَّابُ یَا
اٹھانے والے اے وارث اے طالب اے غالب اے وہ جس سے بھاگنے والا بھاگ نہیں سکتا اے توبہ قبول کرنے والے اے پلٹنے والے اے بہت دینے والے اے اسباب
مُسَبِّبَ الْاَسْبابِ یَا مُفَتِّحَ الْاَ بْوابِ، یَا مَنْ حَیْثُ ما دُعِیَ اجابَ یَا طَھُورُ یَا شَکُورُ یَا عَفُوُّ
مہیاکرنے والے اے دروازوں کے کھولنے والے اے وہ کہ جسے پکارا جا ئے تو وہ دعا قبول کرتا ہے اے بہت پاکیزہ اے بہت شکر کرنے والے اے معاف کرنے والے
یَا غَفُورُ، یَا نُورَ النُّورِ، یَا مُدَبِّرَ الاَمُورِ، یَا لَطِیفُ یَا خَبِیرُ، یَا مُجِیرُ یَا مُنِیرُ، یَا بَصِیرُ یَا ظَھِیرُ
اے بخشنے والے اے نورکے پیدا کرنے والے اے امورکی تدبیرکرنے والے اے مہربان اے خبردار اے پناہ دینے والے اے روشن کرنے والے اے بینا اے مددگار
یَا کَبِیرُ، یَا وِتْرُ یَا فَرْدُ، یَا ابَدُ یَا سَنَدُ یَا صَمَدُ،یَا کافِی یَا شافِی،یَا وافِی یَا مُعافِی،یَا مُحْسِنُ
اے سب سے بڑے اے بزرگ اے یکتا اے تنہا اے ہمیشگی والے اے نگہبا ن اے بے نیاز اے کافی اے شفا د ینے ،اے وفا کرنے ،اے معا ف کرنے ،اوراے احسا ن
یَا مُجْمِلُ، یَا مُنْعِمُ یَا مُفْضِلُ،یَا مُتَکَرِّمُ یَا مُتَفَرِّدُ، یَا مَنْ عَلا فَقَھَرَ، یَا مَنْ مَلَکَ فَقَدَرَ،
کرنے والے اے نیکوکار اے نعمت دینے والے اے بزرگواراے بڑے مرتبے والے اے یگانگی والے اے وہ جو بلندی کیساتھ غالب ہے اے وہ جو مالک ہے پھر قادر ہے
یَا مَنْ بَطَنَ فَخَبَرَ، یَا مَنْ عُبِدَ فَشَکَرَ، یَا مَنْ عُصِیَ فَغَفَرَ، یَا مَنْ لاَ تَحْوِیہِ الْفِکَرُ،
اے وہ جو نہاں ہے اور باخبر ہے اے وہ جو معبود ہے تو بدلہ دیتا ہے اے جو نافرمانی پر بخشتا ہے اے وہ جو فکر میں سما نہیں سکتا اور نگاہ
وَلاَ یُدْرِکُہُ بَصَرٌ، وَلاَ یَخْفی عَلَیْہِ اثَرٌ، یَا رازِقَ الْبَشَرِ، یَا مُقَدِّرَ کُلِّ قَدَرٍ،
اسے دیکھ نہیں پاتی اور کوئی نشان اس سے پوشیدہ نہیں ہے اے انسانوں کو رزق دینے والے اے ہر اندازہ کے مقرر کرنے والے
یَا عالِیَ الْمَکانِ یَا شَدِیدَ الْاَرْکانِ یَا مُبَدِّلَ الزَّمانِ یَا قابِلَ الْقُرْبانِ یَا ذَا الْمَنِّ
اے بلند مرتبہ اے محکم وسائل والے اے زمانے کو بدلنے والے اے قربانی قبول کرنے والے اے صاحب نعمت و احسان
وَالاِحْسانِ یَا ذَا الْعِزَّتِ وَالسُّلْطانِ یَا رَحِیمُ یَا رَحْمنُ یَا مَنْ ھُوَ کُلَّ یَوْمٍ فِی شَانٍ
اے صاحب عزت اور ابدی حکومت والے اے رحیم اے رحمن اے وہ کہ ہر روز جسکی نئی شان ہے اے وہ
یَا مَنْ لاَ یَشْغَلُہُ شَاءنٌ عَنْ شَا ءنٍ، یَا عَظِیمَ الشَّانِ یَا مَنْ ھُوَ بِکُلِّ مَکانٍ، یَا سامِعَ
جسے ایک کام دوسرے کام سے غافل نہیں کرتا اے بڑے مقام والے اے وہ جو ہر جگہ موجود ہے اے آوازوں کے
الْاَصْواتِ یَا مُجِیبَ الدَّعَواتِ یَا مُنْجِحَ الطَّلِباتِ یَا قاضِیَ الْحاجاتِ یَا مُنْزِلَ
سننے والے اے دعا ئیں قبول کرنے والے اے مرادیں برلانے والے اے حاجات پوری کرنے والے اے برکتیں نازل کرنے
الْبَرَکاتِ یَا راحِمَ الْعَبَراتِ یَا مُقِیلَ الْعَثَراتِ یَا کاشِفَ الْکُرُباتِ یَا وَ لِیَّ الْحَسَناتِ
والے اے آنسوؤں پر رحم کھانے والے اے گناہوں کے معاف کرنے والے اے سختیاں دور کرنے والے اے نیکیوں کو پسند کرنے
یَا رافِعَ الدَّرَجاتِ یَا مُؤْتِیَ السُّؤْلاتِ یَا مُحْیِیَ الْاَمْواتِ یَا جامِعَ الشَّتاتِ یَا مُطَّلِعاً
والے اے مرتبے بلند کرنے والے اے مرادیں پوری کرنے والے اے مردوں کو زندہ کرنے والے اے بکھروں کو اکٹھا کرنے والے
عَلَی النِّیَّاتِ، یَا رادَّ ما قَدْ فاتَ یَا مَنْ لاَ تَشْتَبِہُ عَلَیْہِ الْاَصْواتُ، یَا مَنْ لاَ تُضْجِرُہُ
اے نیتوں کی خبر رکھنے والے اے کھوئی ہوئی چیزیں لوٹانے والے اے وہ جس پر آوازیں مشتبہ نہیں ہوتیں اے وہ جسے کثرت سوال سے تنگی نہیں ہوتی اور
الْمَسْاَلاتُ وَلاَ تَغْشاہُ الظُّلُماتُ یَا نُورَ الْاَرْضِ وَالسَّماواتِ یَا سابِغَ النِّعَمِ یَا دافِعَ
تاریکیاں اسے گھیرتی نہیں ہیں اے آسمانوں اور زمین کی روشنی اے نعمتوں کے پورا کرنے والے اے بلائیں ٹالنے والے اے جانداروں کو پیدا کرنے
النِّقَمِ، یَا بارِیٴَ النَّسَمِ، یَا جامِعَ الاَمَمِ، یَا شافِیَ السَّقَمِ یَا خالِقَ النُّورِ وَالظُّلَمِ یَا ذَا الْجُودِ
والے اے امتوں کو جمع کرنے والے اے بیماروں کو شفا دینے والے اے روشنی اور تاریکی کے پیدا کرنے والے اے صاحب جودو کرم اے وہ جس کے
وَالْکَرَمِ یَا مَنْ لاَ یَطَا عَرْشَہُ قَدَمٌ، یَا اجْوَدَ الْاَجْوَدِینَ، یَا اکْرَمَ الْاَکْرَمِینَ، یَا اسْمَعَ السَّامِعِینَ،
عرش پر کسی کا قدم نہیں آیا اے سخیوں میں سے سب سے بڑے سخی اے بزرگی والوں سے زیادد بزرگ اے سننے والوں میں سے زیادہ سننے والے اے دیکھنے
یَا اَبْصَرَ النَّاظِرِینَ،یَا جارَ الْمُسْتَجِیرِینَ، یَا امانَ الْخائِفِینَ، یَا ظَھْرَ اللاَّجِینَ یَا وَ لِیَّ الْمُؤْمِنِینَ
والوں میں سے زیادہ دیکھنے والے اے پناہ گزینوں کی پناہ گاہ اے ڈرے ہوؤں کی جائے امن اے پناہ چاہنے والوں کی جائے پناہ اے مومنوں کے
یَا غِیاثَ الْمُسْتَغِیثِینَ، یَا غایَتُ الطَّالِبِینَ، یَا صاحِبَ کُلِّ غَرِیبٍ، یَا مُؤْنِسَ کُلِّ
سرپرست اے فریادیوں کے فریاد رس اے طلبگاروں کی امید اے ہر سفر کرنے والے کے ساتھی اے ہر اکیلے کے ہم نشیں
وَحِیدٍ، یَا مَلْجَا ءُ َ کُلِّ طَرِیدٍ، یَا مَاویٰ کُلِّ شَرِیدٍ، یَا حافِظَ کُلِّ ضَّالَّتِِ، یَا راحِمَ
اے ہر نکالے گئے کی جائے پناہ اے بے ٹھکانوں کی قرارگاہ اے گمشدہ کے نگہبان اے بڑے بوڑھے پر رحم
الشَّیْخِ الْکَبِیرِ، یَا رازِقَ الطِّفْلِ الصَّغِیرِ، یَا جَابِرَ الْعَظْمِ الْکَسِیرِ، یَا فَاکَّ کُلِّ اسِیرٍ
کرنے والے اے ننھے بچے کو روزی دینے والے اے ٹوٹی ہڈی کو جوڑنے والے اے ہر قیدی کو رہائی دینے والے اے بے چارے
یَا مُغْنِیَ الْبَائِسِ الْفَقِیرِ، یَا عِصْمَتُ الْخائِفِ الْمُسْتَجِیرِ، یَا مَنْ لَہُ التَّدْبِیرُ وَالتَّقْدِیرُ
مفلس کو غنی بنانے والے اے خائف پناہ گزین کی جائے قرار اے تدبیر اور تقدیر کے مالک
یَا مَنِ الْعَسِیرُ عَلَیْہِ سَھْلٌ یَسِیرٌ یَا مَنْ لاَ یَحْتاجُ الی تَفْسِیرٍ یَا مَنْ ھُوَ عَلَی کُلِّ شَیْءٍ
اے وہ جس کے لیے ہر مشکل کام آسان اور ہلکا ہے اے وہ جو تفسیر کا محتاج نہیں اے وہ جو ہر چیز پر قدرت
قدِیرٌ، یَا مَنْ ھُوَ بِکُلِّ شَیْءٍ خَبِیرٌ، یَا مَنْ ھُوَ بِکُلِّ شَیْءٍ بَصِیرٌ، یَا مُرْسِلَ الرِّیاحِ،
رکھتا ہے اے وہ جو ہر چیز سے واقف ہے اے وہ جو ہر چیز کو دیکھتا ہے اے ہواؤں کو چلانے والے
یَا فَالِقَ الْاِصْباحِ یَا بَاعِثَ الْاَرْواحِ، یَا ذَا الْجُودِ وَالسَّماحِ، یَا مَنْ بِیَدِہِ کُلُّ مِفْتاحٍ،
اے صبح کی پو کھولنے والے اے روحوں کو بھیجنے والے اے عطا و سخاوت والے اے وہ جس کے ہاتھ میں ساری کنجیاں ہیں
یَا سَامِعَ کُلِّ صَوْتٍ، یَا سَابِقَ کُلِّ فَوْتٍ، یَا مُحْیِیَ کُلِّ نَفْسٍ بَعْدَ الْمَوْتِ ، یَا عُدَّتِی
اے ہر آواز کے سننے وا لے اے ہر گزرے ہوئے سے پہلے اے ہر نفس کو اس کی موت کے بعد زندہ کرنے والے اے سختیوں میں
فِی شِدَّتِی، یَا حافِظِی فِی غُرْبَتِی، یَا مُؤْنِسِی فِی وَحْدَتِی، یَا وَلِیِّی فِی نِعْمَتِی
میری پناہ اے سفر میں میرے محافظ اے میری تنہائی کے ہمدم اے میری نعمتوں کے مالک
یَا کَھْفِی حِینَ تُعْیِینِی الْمَذٰاھِبُ وَتُسَلِّمُنِی الْاَقارِبُ وَیَخْذُلُنِی کُلُّ صَاحِبٍ یَا عِمَادَ
اے میری پناہ جب مجھ پر راہیں بند ہوجائیں اور رشتہ دار مجھے دور کر دیں اور احباب مجھے چھوڑ جائیں اے اسکے سہارے جسکا
مَنْ لاَ عِمادَ لَہُ یَا سَنَدَ مَنْ لاَ سَنَدَ لَہُ یَا ذُخْرَ مَنْ لاَ ذُخْرَ لَہُ یَا حِرْزَ مَنْ لاَ حِرْزَ لَہُ
کوئی سہارا نہیں اے اسکی سند جسکی کوئی سند نہیں اے اسکے ذخیرے جسکا کوئی ذخیرہ نہیں
یَا کَھْفَ مَنْ لاَ کَھْفَ لَہُ، یَا کَنْزَ مَنْ لاَ کَنْزَ لَہُ، یَا رُکْنَ مَنْ لاَ رُکْنَ لَہُ، یَا غِیاثَ مَنْ لاَ غِیاثَ
اے اسکی پناہ جسکی کوئی پناہ نہیں اے اسکی اما ن جسکی کوئی امان نہیں اے اسکے خزانے جسکا کوئی خز انہ نہیں
لَہُ، یَا جَارَ مَنْ لاَ جَارَ لَہُ، یَا جَارِیَ اللَّصِیقَ یَا رُکْنِیَ الْوَثِیقَ، یَا الھِی بِالتَّحْقِیقِ، یَا رَبَّ الْبَیْتِ
اے اسکے پشت پناہ جسکا کوئی پشت پناہ نہیں اے اسکے فریاد رس جسکا کوئی فریاد رس نہیں اے اسکے ہمسائے جسکا کوئی ہمسایہ نہیں جو نزدیک تر ہے اے
الْعَتِیقِ، یَا شَفِیقُ یا رَفِیقُ، فُکَّنِی مِنْ حَلَقِ الْمَضِیقِ، وَاصْرِفْ عَنِّی کُلَّ ھَمٍّ وَغَمٍّ وَضِیقٍ،وَ
میرا مضبوط ترین سہارہ اے میرے حقیقی معبود اے خانہ کعبہ کے پروردگار اے مہربان اے دوست مجھے تنگ گھیرے سے آزاد کر مجھ سے ہر غم و اندیشہ اور
اکْفِنِی شَرَّ مَا لاَ اطِیقُ، وَاَعِنِّی عَلَی ما اُطِیقُ، یَا رَادَّ یُوسُفَ عَلَی یَعْقُوبَ، یَا کاشِفَ ضُرِّ
تنگی دور فرما دے مجھے اس شر سے بچا جو میری طاقت سے زیادہ ہے اور اس میں مدد دے جو میں سہہ سکتا ہوں اے وہ جس نے یعقوب (ع)کو یوسف(ع) واپس دلایا
ایُّوبَ،یَا غافِرَ ذَ نْبِ داوُدَ، یَا رافِعَ عِیسَی بْنِ مَرْیَمَ وَمُنْجِیَہُ مِنْ ایْدِی الْیَھُودِ، یَا مُجِیبَ
اے ایو ب (ع)کا دکھ دور کرنے والے اے داؤد(ع) کی خطا معاف کرنے والے اے عیسی (ع)بن مریم کو آسمان پر اٹھانے والے۔ اور انہیں یہودیوں کے چنگل سے
نِداءِ یُونُسَ فِی الظُّلُماتِ یَا مُصْطَفِیَ مُوسی بِالْکَلِماتِ، یَا مَنْ غَفَرَ لِاَدَمَ خَطِیئَتَہُ
چھڑانے والے اے تاریکیوں میں یونس(ع) کی فریاد کو پہنچنے والے اے موسیٰ(ع) کو اپنے کلام کیلئے منتخب کرنے والے اے آدم(ع)
وَرَفَعَ ادْرِیسَ مَکَاناً عَلِیّاً بِرَحْمَتِہِ، یَا مَنْ نَجَّی نُوحاً مِنَ الْغَرَقِ، یَا مَنْ اھْلَکَ عاداً
کے ترک اولی کو معاف کرنے والے اور ادریس (ع)کو اپنی رحمت سے بلند مقام پر لے جانے والے اے نوح (ع) کو ڈوبنے سے بچانے
الاْولی وَثَمُودَ فَما اَبْقَی وَقَوْمَ نُوحٍ مِنْ قَبْلُ انَّھُمْ کَانُوا ھُمْ اظْلَمَ وَاطْغَی
والے اے وہ جس نے عاد اولی اور ثمود کوہلا ک کیا پس کسی کو باقی نہ چھوڑا اور ان سے پہلے قوم نوح (ع)کو ہلاک کیا جو بڑے ظالم سرکش اور
وَالْمُؤْتَفِکَت اھْوَی، یَا مَنْ دَمَّرَ عَلی قَوْمِ لُوطٍ، وَدَمْدَمَ عَلی قَوْمِ شُعَیْبٍ، یَا مَنِ
دین میں افترا کرنے والے تھے اے وہ جس نے قوم لوط کی بستیوں کو الٹ دیا اور قوم شعیب پر عذاب بھیجا تھا اے وہ جس
اتَّخَذَ ابْراھِیمَ خَلِیلاً یَا مَنِ اتَّخَذَ مُوسی کَلِیماً وَاتَّخَذَ مُحَمَّداً صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَآلِہِ
نے ابراہیم(ع) کو اپنا خلیل بنایا اے وہ جس نے موسی(ع) کو اپنا کلیم بنایا اور محمد
وَعَلَیْھِمْ اجْمَعِینَ حَبِیباً، یَا مُؤْتِیَ لُقْمانَ الْحِکْمَتُ، وَالْواھِبَ لِسُلَیْمانَ مُلْکاً لاَ یَنْبَغِی لِاِحَدٍ
کو اپنا حبیب قرار دیا کہ خدا کی رحمت ہو ان پر انکی آل (ع) پر اور ان سب ہستیوں پر جنکا ذکر ہو ا ہے اے لقما ن (ع)کو حکمت عطاکرنے والے
مِنْ بَعْدِھِ، یَا مَنْ نَصَرَ ذَا الْقَرْنَیْنِ عَلَی الْمُلُوکِ الْجَبابِرَتِ یَا مَنْ اعْطَی الْخِضْرَ الْحَیاتَ وَرَدَّ
اور سلیما ن (ع)کو ایسی سلطنت د ینے و الے کہ جیسی سلطنت انکے بعد کسی کو نہیں ملی اے وہ جس نے جا بر بادشا ہوں کے خلاف ذوالقرنین
لِیُوشَعَ بْنِ نُونٍ الشَّمْسَ بَعْدَ غُرُوبِہا یَا مَنْ رَبَطَ عَلی قَلْبِ آمِّ مُوسی، وَآحْصَنَ فَرْجَ مَرْیَمَ
(ع)کی مدد فرمائی اے وہ جس نے خضر (ع)کو دا ئمی زندگی دی اور یوشع (ع)بن نون کی خاطر آفتاب کو پلٹایاجب کہ وہ غروب ہو چکا تھا اے وہ جس
ابْنَٹِ عِمْرانَ، یا مَنْ حَصَّنَ یَحْیَی بْنَ زَکَرِیَّا مِنَ الذَّنْبِ وَسَکَّنَ عَنْ مُوسَی الْغَضَبَ یَا مَنْ بَشَّرَ
نے مادر موسی(ع) کے دل کو سکون دیا اور مریم بنت عمران(ع) کو پاکدامنی سے سرفراز فرمایا اے وہ جس نییحییٰ(ع) بن زکریا(ع)کو گناہ سے
زَکَرِیَّا بِیَحْیی یَا مَنْ فَدا آسْماعِیلَ مِنَ الذَّبْحِ بِذِبْحٍ عَظِیمٍ یَا مَنْ قَبِلَ قُرْبانَ ہابِیلَ وَجَعَلَ
محفوظ رکھا اور موسی (ع)سے غضب کو دور فرمایااے وہ جس نے زکریا(ع) کو یحیی(ع) کی بشارت دی اے وہ جس نے اسما عیل(ع) کے ذبح ہونے کو ذبح عظیم میں بدلااے
اللَّعْنَتَ عَلی قابِیلَ، یَا ہازِمَ الْاَحْزابِ لِمُحَمَّدٍ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَآلِہِ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ
وہ جس نے ہا بیل(ع) کی قربانی قبول فرمائی اور قابیل پر لعنت مسلط کر دی اے حضرت محمد ﷺ کی خاطر کفار کے جتھو ں کو شکست دینے والے محمد و آل محمد پر
مُحَمَّدٍ وَعَلی جَمِیعِ الْمُرْسَلِینَ وَمَلائِکَتِکَ الْمُقَرَّبِینَ وَاھْلِ طَاعَتِکَ اجْمَعِینَ وَاسْئَلُکَ
رحمت نازل کر اپنے تمام رسولوں پر اور اپنے مقرب فرشتوں پر اور فرمانبردار بندوں پر رحمت نازل فرما اور میں سوال کرتا ہوں تجھ سے
بِکُلِّ مَسْئلَتِِ سَئَکَ بِہا احَدٌ مِمَّنْ رَضِیتَ عَنْہُ،فَحَتَمْتَ لَہ عَلیٰ الْاِجابَتِ، یَا اللہُ
ہر اس سوال کے واسطے سے جو تیرے ہر اس بندے نے کیا جس سے تو راضی و خوش ہے پھر تو نے اسکی دعا یقینا قبول فرمائی یااللہ
یَا اللہ یَا اللہ،یَا رَحْمنُ یَا رَحْمنُ یَا رَحْمنُ،یا رَحِیمُ یَا رَحِیمُ یَا رَحِیمُ، یَا ذَا
یااللہ یااللہ یارحمن یارحمن یارحمن یارحیم یارحیم یارحیم اے جلالت
الْجَلالِ وَالْاِکْرامِ یَا ذَا الْجَلالِ وَالْاِکْرامِ یَا ذَا الْجَلالِ وَالْاِکْرامِ بِہِ بِہِ بِہِ بِہِ بِہِ بِہِ بِہِ
و بزرگی والے اے جلالت وبزرگی والے اے جلالت و بزرگی والے اسی کا واسطہ اسی کا اسی کا اسی کا اسی کا اسی کا اسی کا
اسْئلُکَ بِکُلِّ اسْمٍ سَمَّیْتَ بِہِ نَفْسَکَ، اَوْ انْزَلْتَہُ فِی شَیْءٍ مِنْ کُتُبِکَ، اوِ اسْتَئثَرْتَ
میں سوال کرتا ہوں تیرے ہر اس نام کے واسطہ سے جس سے تو نے اپنی ذات کو پکارایا اپنے صحیفوں میں سے کسی میں اتارا یا اسے
بِہِ فِی عِلْمِ الْغَیْبِ عِنْدَکَ، وَبِمَعاقِدِ الْعِزِّ مِنْ عَرْشِکَ، وَبِمُنْتَھَی الرَّحْمَتِ مِنْ کِتابِکَ
علم غیب میں اپنے لئے مقرر و خاص کیا ہے ان مقامات بلند کا واسطہ جو تیرے عرش میں ہیں اس انتہائی رحمت کا واسطہ جو تیری کتاب میں
وَبِما لَوْ انَّ ما فِی الْاَرْضِ مِنْ شَجَرتِ اقْلامٌ وَالْبَحْرُ یَمُدُّھُ مِنْ بَعْدِھِ سَبْعتُ ابْحُرٍ ما نَفِدَتْ کَلِماتُ
ہے اور اس آیت کا واسطہ کہ اگر زمین کے تمام درخت قلم اور سمندر روشنائی بن جائیں اسکے بعد سات سمندر اور ہوں تو بھی خدا کے کلمات تمام
اللہ انَّ اللہ عَزِیزٌ حَکِیمٌ، وَاسْئُکَ بِاسْمائِکَ الْحُسْنَی الَّتِی نَعَتَّہٰا فِی کِتابِکَ فَقُلْتَ وَلِلّٰہِ
نہیں ہوں گے بے شک اللہ غا لب ہے حکمت والا اور میں سوال کرتا ہوں تیرے پیارے ناموں کیساتھ جنکی تو نے قرآن میں توصیف کی پس تو نے کہا
الْاَسْماءُ الْحُسْنی فَادْعُوھُ بِہا وَقُلْتَ ادْعُونِی اسْتَجِبْ لَکُمْ، وَقُلْتَ وَاذا سَئَلَکَ عِبادِی
اور اللہ کیلئے ہیں پیارے پیارے نام تو تم اسے انہی سے پکارو اور تو نے کہا مجھے پکارو میں تمہاری دعا قبول کروں گا اور تونے کہا کہ جب میرے بندے مجھے
عَنِّی فَاِّی قَرِیبٌ اُجِیبُ دَعْوَتُ الدَّاعِ اذا دَعَانِ، وَقُلْتَ یا عِبادِیَ الَّذِینَ اسْرَفُوا عَلی انْفُسِھِمْ
پکاریں تو میں ان کے قریب ہی ہوتا ہوں میں دعا کرنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ دعا کرے اور تو نے کہا اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنے
لا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَتِ اللہِ انَّ اللہ یَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِیعاً اِنَّہُ ھُوَ الْغَفُورُ الرَّحِیمُ وَا نَا اسْئَلُکَ یَا
اوپر ظلم کیا ہے کہ تم اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو جانا کہ بے شک اللہ تمام گناہ بخش دے گا یقینا وہ بہت بخشنے والا مہربان ہے اور میں سوال کرتا ہوں تجھ سے
الھِی، وَادْعُوکَ یَا رَبِّ، وَارْجُوکَ یَا سَیِّدِی، وَاطْمَعُ فِی اجابَتِی
اے معبود تجھے پکارتا ہوں اے پروردگار اور تجھ سے امید رکھتا ہوں اے میرے آقامیں دعا کے قبول ہونے کی طمع رکھتا ہوں اے
یَا مَولایَ کَما وَعَدْتَنِی وَقَدْ دَعَوْتُکَ کَما امَرْتَنِی، فَافْعَلْ بِی ما ا نْتَ اھْلُہُ یَا کَرِیمُ،
میرے مولا جیسے تو نے وعدہ کیا اور میں نے تجھے پکارا جیسا کہ تو نے مجھے حکم دیا پس اے کریم ذات تو بھی مجھ سے وہ سلوک کر جسکا تو
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعالَمِینَ، وَصَلَّی اللہ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِہِ اَجْمَعِینَ
اہل ہے اور تعریف بس خدا کیلئے ہے جو عالمین کا رب ہے اور محمد اوراسکی تمام آل محمد پر اللہ رحمت فرمائے۔
اسکے بعد اپنی حاجات طلب کریں کہ انشااللہ پوری ہوگی اور مہج الدعوات میں ہے کہ اس دعا کوباطہارت حالت ہی میں پڑھا جائے۔
میں آغا ہمدانی صاحب قبلہ اور محترم مصباح شاہ صاحب کا بے حد شکرگزار ہوں کہ انہوں نے اتنی محنت سے یہ دُعائیں یہاں لگائیںاور میری مشکل آسان کر دی. مصباح شاہ صاحب Link کا خصوصی شکریہ.
بہن نکہت صاحبہ اگرچہ آغا ہمدانی صاحب نے دُعائے جوشن کبیر یہاں لکھی اور مصباح بھائی نے اس مکمل دعا کے لیے Link دیا ہے، لیکن یہ تحفہ آپ کے لیے ہے میری ہی جانب سے
قارئین گرامی اس رحمتوں اور برکتوں والے مہینے سے فائدہ اٹھائیے اور یہ دونوں دعائیں کم از کم ایک بار ضرور پڑھیے.
اللہ کریم محمد و آلِ محمد علیہم السلام کے صدقے میں ان کو مع اہلِ خانہ کے شاد و آباد رکھے،
ان کی اولاد کو نیک و صالح بنائے،
ان کی عبادات کو قبول فرمائے،
ان کی مشکلات پریشانیاں دورفرمائے،
انہیں سوائے غمِ حسین علیہ السلام کے اور کوئی غم نہ دِکھائے،
ان کے دل کو معرفتِ محمد و آلِ محمد علیہم السلام سے منور فرمائے،
ان کے مرحومین کی مغفرت فرمائے، انہیں حج و زیارات سے مشرف فرمائے
آمین الٰہی آمین ثم آمین
مناف بھائی مجھے آج سمجھ نہیں آرہی کہ میں اپنے رب کا شکریہ کیسے ادا کروں جس نے مجھ گنہگار کو ان دعاؤں کے قابل سمجھا … دعائیں دینا دراصل دعائیں لینا ہے وہ بھی فرشتوں سے جن کی دعائیں مقرب و مقبول ہیں …رب کائنات آپ کو اپنے اہل خانہ کے ساتھ اپنی رحمتوں میں رکھے ..آمین
مصباح بھائی .. جزاک اللہ .. .. اتنی خوبصورت دعا عنایت کرنے کا .. میں اس کوپڑھتی جاتی ہوں اور اپنی قسمت پر ناز کرتی جاتی ہوں کہ مجھے اللہ پاک نے آپ کے وسیلے سے اس دعا کو پڑھنے کی سعادت عطا فرمائی .. اللہ کریم ہماری ان کوششوں کو قبول فرمائے ..آمین
آپا آپ کی دعاؤں کی ہمیشہ کے لئے محتاج رہونگی .. اللہ کریم مجھے آپ کی دعاؤں میں ہمیشہ رکھے ..آمین
یوں تو امی جی ( میری ساس ) جہاں کہیں بھی رہتی تھیں ہم انہیں پابندی سے فون کرتے تھے لیکن گزشتہ دو برسوں سے وہ مستقل پاکستان میں رہائیش پزیر ہیں اور ہم انہیں روزانہ مغرب کی نماز کے بعد پابندی سے فون کرتے ہیں اور ان کی دعائیں لیتے ہیں .. کوئی سات سال پہلے ان کی آنکھوں میں موتیا اتر آیا تھا جس کا آپریشن کامیاب نہ ہو سکا اور ان کی ایک آنکھ کی بینائی ٹھیک نہ ہو سکی اور آہستہ آہستہ اس آنکھ کی روشنی جاتی رہی .. لیکن انہوں نے کبھی کسی سے شکایت نہیں کی .. میں گزشتہ دو دہائیوں سے ان کے ساتھ ہوں میں نے انہیں ایک دن بھی قران پاک پڑھنے کا ناغہ کرتے نہیں دیکھا ..نماز کی پابندی … قرآن پاک ختم کرنا .. ہر ایک کو دعائیں دینا …. ہر کسی کی اتنی خیر خواہ کہ ہم ان کے سامنے کسی کی برائی نہیں کر سکتے .. اباجی یعنی میرے سسر جنہیں میں نے کبھی دیکھا نہیں کیونکہ ان کا انتقال 1984 میں ہو گیا تھا .. ان کے لئے فاتحہ اور قران پڑھنا ان کے روزانہ کا ایسا معمول رہا ہے جیسے ہم روز اپنے کاموں پر جاتے ہیں .. بس یوں کہ امی جی نے اپنی عمر ایک ڈیوٹی کی طرح گزاری ہے …اللہ کریم ان کا بابرکت سایہ ہم پر تاحیات رکھے ..آمین
آج بھی حسب معمول افطار کے بعد ان سے پاکستان بات ہو رہی تھی .. میں نے اچانک پوچھ لیا امی جی آپ کونسے سپارے پر ہیں .. انہوں نے کوئی جواب نہ دیا .. میں نے خوشی خوشی بتایا کہ میں پانچویں پر ہوں کہ جاب اور گھر کے ساتھ ماہ رمضان میں صرف ایک قران پاک ختم کرنے کا خیال ہی مجھے مسرور کر دیتا ہے .. بھلا میں امی جی سے کہاں آگے جا سکتی تھی .. میں نے دوبارہ پوچھا تو ان کی آواز رندھ گئی … کہنے لگی کہ انہیں اب دوسری آنکھ سے بھی بس اتنا ہی دیکھائی دیتا ہے کہ اللہ پاک نے انہیں کسی کا محتاج نہیں کیا …انہوں نے اس ایک جملے میں کسی کا محتاج نہ ہونے پرکئی بار رب کریم کا شکر ادا کیا … اب خاموشی میری طرف سے تھی .. میرے لئے بہت ہی تکلیف دہ خبر تھی جو انہوں نے مجھے اسی لئے نہیں بتائی تھی کہ میں پریشان ہو جاؤنگی … اف اب ان کی دونوں آنکھوں کی روشنی جاتی رہی .. مجھ سے آگے کچھ بھی نہیں سوچا گیا ..
انہوں نے مجھے نصیحت فرماتے ہوئے کہا کہ ” روح اور جسم اللہ ہی کی امانتیں ہیں جو اس نے اپنی مہربان طبعیت کی وجہ سے ہم جیسوں کو عطا کر رکھی ہیں سو بیٹی جب تک آنکھیں ہیں ..ان میں نور ہے.. اللہ کے علم سے اپنے دل اور دماغ کو اتنا روشن کر لو کہ کل اگر مالک اپنی امانت واپس لے لے تو اسی کی مہربانی سے اپنے اندر کی روشنی سے رستہ دیکھتی رہو …. قرآن پاک طاق پر نہیں بیٹی آنکھوں کے رستے دل و دماغ میں سجا ؤ ..اسے اپنے عمل میں سانس کی طرح بسالو … کل کیا ہو بیٹی کوئی نہیں جانتا .. بس جو پل عطا ہو وہی مہلت ہے ….پھر وہ مجھ سے رمضان کے حوالے سے تو کبھی بچوں کے حوالے سے میرے شب و روز کی تفصیل پوچھتی رہی …دعاؤں اور پیار کے خزانے مجھ پر لٹاتی رہیں ..
انہیں یہ انتہائی رنج تھا کہ پہلی بار اس رمضان میں وہ خود قران پاک نہیں پڑھ سکیں گی اور نہ ہی ابا جی کو بخش سکیں گی … بھلا میرے پاس اپنی ماں کے لئے سوائے اس تسلی کے اور کیا تھا کہ وہ فکر نہ کریں میں ابا جی کے لئے قران پاک پڑھونگی .. کیونکہ یہ ہم پر اپنے والدین کا قرض ہے … لیکن … میں سوچ رہی ہوں کہ میں امی جی جیسا اخلاص ..اپنے خدا سے محبت ..یقین اور والہانہ عقیدت کہاں سے لاؤنگی …. آپ سے دعاؤں کی طالب ہوں کہ اللہ پاک اپنی رحمت اور مہربانی سے مجھے اپنی ماں سے کیا وعدہ نبھاہنے کی مہلت اورابا جی کی روحانی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے .. آمین ..ثم آمین
مناف بھائی ..جزاک اللہ .. اس گراں قدر تحفہ پرمیں بہت نازاں ہوں اور آپ سب کی شکر گزار جنہوں نے اسے پڑھنا ممکن بنایا .. انشاللہ اپنے اللہ کریم کی توفیق سے میں اسے ہر ممکن زیادہ سے زیادہ پڑھنے کی کوشش کرونگی .. اور اللہ پاک سے ہمیشہ پڑھتے رہنے کی توفیق بھی مانگتی ہوں .. آمین
نگہت بہن سلام مسنون۔
خدا ہم سب کو قرآن کریم پڑھنے اور سمجھ کر اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے اور ہم سب کو آپس میں نیکیاں تقسیم کرنے کی سعادت عطا فرمائے۔ آمین الحمد للہ رب العالمین۔
چلیں ایک حدیث شریف سنتے چلیں۔
رسول اللہ نے فرمایا کہ رمضان الکریم اگر کوئی شخص ایک آیت بھی تلاوت کرے تو اس کو قرآن مجید کے ختم کا ثواب ملے گا۔
مناف بھائی اس میں شکرئیے کی کیا بات ہے، نیکی کی بنیاد آپ نے رکھی، ہم نے تو ثواب کے لالچ میں آپ کام میں شمولیت کر لی۔ سو شکریہ تو آپ ہی کا ہوا نا۔ خداوند کریم آپ کو یونہی نیکی عام کرنے کی مزید توفیقات عالیہ عنایت فرمائے۔ آمین بجاہ محمد و آلہ الطاہرین۔
محترم مناف بھائی اور نگہت بہن۔ دعائے جوشن کبیر اور دیگر ادعیہ کا زیادہ واضح اور جلی متن اس لنک پر دستیاب ہے، جہاں پڑھنے میں مزید آسانی ہوتی ہے۔ خاص طور جب آپ بچوں کے لئے استفادہ کرنا چاہیں تو یہاں آسانی رہے گی۔
http://www.duas.org/joshkabiralt.htm
صفحہ اول یہاں ہے
http://www.duas.org/index_ar.htm
یہاں آپ کو رمضان المبارک کے صفحے پر دعائے مکارم الاخلاق اور دعائے افتتاح بھی مل جائیں گی جن کی رمضان کریم میں خاص اہمیت ہے۔
بہن نکہت صاحبہ ! یہ Weblink جو مصباح بھائی نے دیا ہے یہ ایک خزانہ سے کم نہیں
ان کا شکریہ ادا نہ کیا جائے تو اور کیا کہا جائے
” روح اور جسم اللہ ہی کی امانتیں ہیں جو اس نے اپنی مہربان طبعیت کی وجہ سے ہم جیسوں کو عطا کر رکھی ہیں سو بیٹی جب تک آنکھیں ہیں ..ان میں نور ہے.. اللہ کے علم سے اپنے دل اور دماغ کو اتنا روشن کر لو کہ کل اگر مالک اپنی امانت واپس لے لے تو اسی کی مہربانی سے اپنے اندر کی روشنی سے رستہ دیکھتی رہو …. قرآن پاک طاق پر نہیں بیٹی آنکھوں کے رستے دل و دماغ میں سجا ؤ ..اسے اپنے عمل میں سانس کی طرح بسالو … کل کیا ہو بیٹی کوئی نہیں جانتا .. بس جو پل عطا ہو وہی مہلت ہے …”
جو خاتون ایسی باتیں اپنی بہو یا بیٹی کو بتائے سکھائے، اس کے ایمان کے کامل ہونے پر کیا شک ہو سکتا ہے ؟
نگہت بہن جی ! آپ کی ساس صاحبہ نے زندگی میں جتنے قران ختم کیے، ان ہی کا اجر اتنا عظیم ہے کہ اب اگر وہ نہیں بھی پڑھ سکتی ہیں تب بھی کوئی کمی کوئی کسر نہیں کیوں کہ
اللہ کریم کے نزدیک معیار کی اہمیت ہے نہ کہ مقدار کی، آپ کی امی جی کا قران پڑھنے کی خواہش رکھنا اور اس خواہش کے پورا نہ ہونے پر غمگین ہونا ہی اللہ تعالٰی کے نردیک مقبول ہے، انشاء اللہ تعالٰی.
“عالمی اخبار” کے تمام قارئین سے درخواست کروں گا کہ اللہ کی اس نیک بندی کی صحت سلامتی طولِ عمر اور دنیا و آخرت کی کامیابیوں اور خوشیوں کے لیے اس مبارک مہینہ میں ضرور دعا کریجیے.
ساتھ ہی اپنی والدہ محترمہ کی صحت کے لیے بھی دعا کا ملتمس ہوں.
اللہ کریم کے نزدیک معیار کی اہمیت ہے نہ کہ مقدار کی.
ماشااللہ برادرم مناف. ہے تو یہی معیار لیکن اہل ایمان اور اہل فکر کے لیئے.
اللہ تعالیٰ ہمیں فکر اور ایمان کی دولت عطا کرے کہ یہ دولت مل جائے تو پھر باقی دولت تو انسان کے پیچھے بھاگتی ہے. مولائے متقیان باب العلم علی ابن ابی طالب نے فرمایا کہ ” تم جتنا پیسے کے پیچھے بھاگو گے پیسہ اتنا ہی تمہارے آگے آگے بھاگے گا”.
السلام علیکم
میں اِس بلاگ سے اب تک محض روشنی حاصل کرتا رہا ہوں ، اب بھی اپنی کم مائیگی کے سبب کچھ نہیں لکھا سکتا ، اللہ آپ سب کو جزائے خیر عطا فرمائے ، اور ہمیں آپ سب سے رہنمائی ۔ آمین ۔
آصف احمد بھٹی
جزاک اللہ مناف بھائی اور بابا جی .. اللہ کریم کل عالم کی ماؤں کو ایمان کی سلامتی ، صحت تندرستی اور دین و دنیا کی کامیابیاں اور خوشیاں عطا کرے .. آمین
بہن نگہت اپنی ساس صاحبہ کو میرا سلام عرض کر دیجئے اورمیری طرف سے حضور(ص) کی یہ حدیث سنا دیجئے کہ “ وہ بڑھا پے میں وہی ثواب عطا فرما تا ہے جس طرح جس نے جوانی میں زندگی گزاری ہو “ اس حدیث کی روشنی میں وہ قر آن پڑھ سکیں یا نہ پڑھ سکیں اور نمازیں سجدہ سہو کے بغیر ادا کر سکیں یا نہ کر سکیں وضو ٹھہرتا ہو یا نہ ٹھہرتا ہو جو کہ بڑھا پے لازمے ہیں ! مگر ثواب اتنا ہی ملے گا جتنا پہلے ملا کر تا تھا انشا اللہ
بہت پیاری بہن اور عزيز دوست سلامت رھو۔ جزاکم اللہ بالخیر و برکات ۔۔۔
تم نے اس خوبصورت روحانی بلاگ میں بھی اپنا انفرادی رنگ برقرار رکھا ھے۔ اللہ پاک تمھاری اتنی نیک متقی فرشتہ سیرت مشفق ساس اور تمھاری بہت نیک دینداروالدین کو، اھل خانہ کو ھمیشہ اپنے حفظ و امان میں رکھے آمین جنھوں نے ساری زندگی ۔۔ عبادت اور قرآن سے محبت کے جو لاکھوں چراغ روشن کیے ھیں وہ انکے ھر روحانی سفر میں مشعل راہ بنگے ۔۔ اور اس کا ثواب انکی آل اولاد کو بھی ملتا رھے گا یہ بلاگ ا قلب و نظر کے لیے اکسیر ھے میرے آنسو حسب معمول رواں تھے۔۔ تمھاری اپنے بڑوں سے محبت واخلاص دیکھہ کر مجھے بہت مسرت ھوئ ۔۔ ۔ میرے دامن میں صرف اور صرف دعا یئں ھیں۔ اللہ پاک آپ سب کو خیر و برکت و عبادت و اطاعت کے اس مبارک میہنے میں ان نیکیوں کا کئ ھزار گنا زائد اجر عطا کرے۔۔ آمین اللہ پاک ھم سب کی عبادتوں کو قبول فرماۓ اور عمل صالح کی توفیق عطا فرماۓ الہی آمین
رمضان میں اوقات عمل اور دیگر مصروفیات کے باعث بلاگ پڑھتی تو ھوں مگر اکثر اوقات شرکت سے قاصر رھتی ھوں ۔۔ تم لوگ بڑے دل کے مالک ھو۔ میری اس تقصیر کو درگذر کردیا کرو،،
ماہ توبہ والغفران
اس میں نازل ھوا قران
سب سے اچھا ھے رمضان
رمضان میں پڑھنے والی تسبیحاب
1) سُبْحـانَ اللهِ بارِئِ النَّسَمِ، سُبْحـانَ اللهِ المُصَوِّرِ، سُبْحـانَ اللهِ خالِقِ الاَزْواجِ كُلِّها، سُبْحـانَ اللهِ جاعِلِ الظُّلُماتِ وَالنُّورِ، سُبْحـانَ اللهِ فالِقِ الْحَبِّ وَالنَّوى، سُبْحـانَ اللهِ خالِقِ كُلِّ شَيء، سُبْحـانَ اللهِ خالِقِ ما يُرى، وَما لا يُرى سُبْحـانَ اللهِ مِدادَ كَلِماتِهِ، سُبْحـانَ اللهِ رَبِّ الْعالَمينَ، سُبْحـانَ اللهِ السَّميعِ الَّذي لَيْسَ شَيءٌ اَسْمَعَ مِنْهُ، يَسْمَعُ مِنْ فَوْقِ عَرْشِهِ ما تَحْتَ سَبْعِ اَرَضينَ، وَيَسْمَعُ ما في ظُلُماتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ، وَيَسْمَعُ الاَنينَ وَالشَّكْوى وَيَسْمَعُ السِّرَّ وَاَخْفى، وَيَسْمَعُ وَساوِسَ الصُّدُورِ (َيَعْلَمُ خائِنَةَ الاَعْيُنِ وَما تُخْفِي الصُّدُورِ) وَلا يُصِمُّ سَمْعَهُ صَوْتٌ (2) سُبْحـانَ اللهِ بارِئِ النَّسَمِ، سُبْحـانَ اللهِ الُمصَوِّرِ، سُبْحـانَ اللهِ خالِقِ الاَزْواجِ كُلِّها، سُبْحـانَ اللهِ جاعِلِ الظُّلُماتِ وَالنُّورِ، سُبْحـانَ اللهِ فالِقِ الْحَبِّ وَالنَّوى، سُبْحـانَ اللهِ خالِقِ كُلِّ شَيء، سُبْحـانَ اللهِ خالِقِ ما يُرى وَما لا يُرى، سُبْحـانَ اللهِ مِدادَ كَلِماتِهِ، سُبْحـانَ اللهِ رَبِّ الْعالَمينَ، سُبْحـانَ اللهِ الْبَصيرِ الَّذي لَيْسَ شَيءٌ اَبْصَرَ مِنْهُ، يُبْصِرُ مِنْ فَوْقِ عَرْشِهِ ما تَحْتَ سَبْعِ اَرَضينَ، وَيُبْصِرُ ما في ظُلُماتِ الْبَرِّ وَالْبَحْر، لا تُدْرِكُهُ الابْصارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الاَبْصارَ وَهُوَ اللَّطيفُ الْخَبيرُ، لا تَغْشَى بَصَرَهُ الظُّلْمَةُ، وَلا يُسْتَتَرُ مِنْهِ بِسِتْر، وَلا يُواري مِنْهُ جِدارٌ، وَلا يَغيبُ عَنْهُ بَرٌّ وَلا بَحْرٌ، وَلا يَكُنُّ مِنْهُ جَبَلٌ ما في اَصْلِهِ، وَلا قَلْبٌ ما فيهِ، وَلا جَنْبٌ ما في قَلْبِهِ، وَلا يَسْتَتِرُ مِنْهُ صَغيرٌ وَلا كَبيرٌ، وَلا يَسْتَخْفي مِنْهُ صَغيرٌ لِصِغَرِهِ، وَلا يَخْفى عَلَيْهِ شَيءٌ فِي الاَرْضِ وَلا فِي السَّماءِ، هُوَ الَّذي يُصَوِّرُكُمْ فِي الاَرْحامِ كَيْفَ يَشاءُ، لا اِلـهَ إلاّ هُوَ الْعَزيزُ الْحَكيمُ (3) سُبْحـانَ اللهِ بارِئِ النَّسَمِ، سُبْحـانَ اللهِ الُمصَوِّرِ، سُبْحـانَ اللهِ خالِقِ الاَزْواجِ كُلِّها، سُبْحـانَ اللهِ جاعِلِ الظُّلُماتِ وَالنُّورِ، سُبْحـانَ اللهِ فالِقِ الْحَبِّ وَالنَّوى، سُبْحـانَ اللهِ خالِقِ كُلِّ شَيء، سُبْحـانَ اللهِ خالِقِ ما يُرى، وَما لا يُرى سُبْحـانَ اللهِ مِدادَ كَلِماتِهِ، سُبْحـانَ اللهِ رَبِّ الْعالَمينَ، سُبْحـانَ اللهِ الَّذي يُنْشِئُ السَّحابَ الثِّقالَ، وَيُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهِ، وَالْمَلائِكَةُ مِنْ خِيفَتِهِ، وَيُرْسِلُ الصَّواعِقَ فَيُصيبُ بِها مَنْ يَشاءُ، وَيُرْسِلُ الرِّياحَ بُشْراً بَيْنَ يَدَي رَحْمَتِهِ، وَيُنَزِّلُ الْماءَ مِنَ السَّماءِ بِكَلِمَتِهِ وَيُنْبِتُ النَّباتَ بِقُدْرَتِهِ، وَيَسْقُطُ الْوَرَقُ بِعِلْمِهِ، سُبْحـانَ اللهِ الَّذي لا يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقالُ ذَرَّة فِي الاَرْضِ وَلا فِي السَّماءِ، وَلا اَصْغَرُ مِنْ ذلِكَ وَلا اَكْبَرُ إلاّ في كِتاب مُبين.
(4) سُبْحـانَ اللهِ بارِئِ النَّسَمِ، سُبْحـانَ اللهِ الُمصَوِّرِ، سُبْحـانَ اللهِ خالِقِ الاَزْواجِ كُلِّها، سُبْحـانَ اللهِ جاعِلِ الظُّلُماتِ وَالنُّورِ، سُبْحـانَ اللهِ فالِقِ الْحَبِّ وَالنَّوى، سُبْحـانَ اللهِ خالِقِ كُلِّ شَيء، سُبْحـانَ اللهِ خالِقِ ما يُرى، وَما لا يُرى سُبْحـانَ اللهِ مِدادَ كَلِماتِهِ، سُبْحـانَ اللهِ رَبِّ الْعالَمينَ، سُبْحـانَ اللهِ الَّذي يَعْلَمُ ما تَحْمِلُ كُلُّ اُنْثى وَما تَغيْضُ الاَرْحامُ وَما تَزْدادُ وَكُلُّ شَيْء عِنْدَهُ بِمِقْدار، عالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهادَةِ الْكَبيْرُ الْمُتَعالِ، سَواءٌ مِنْكُمْ مَنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهِ، وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْف بِاللَّيْلِ وَسارِبٌ بِالنَّهارِ، لَهُ مُعَقِّباتٌ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ يَحْفَظُونَهُ مِنَ اَمْرِ اللهِ، سُبْحانَ اللهِ الَّذي يُميتُ الاَحْياءَ، وَيُحْيِى الْمَوْتى، وَيَعْلَمُ ما تَنْقُصُ الاَرْضُ مِنْهُمْ، وَيُقِرُّ فِي الاَرْحامِ ما يَشاءُ اِلى اَجَل مُسَمّىً (5) سُبْحـانَ اللهِ بارِئِ النَّسَمِ، سُبْحـانَ اللهِ الُمصَوِّرِ، سُبْحـانَ اللهِ خالِقِ الاَزْواجِ كُلِّها، سُبْحـانَ اللهِ جاعِلِ الظُّلُماتِ وَالنُّورِ، سُبْحـانَ اللهِ فالِقِ الْحَبِّ وَالنَّوى، سُبْحـانَ اللهِ خالِقِ كُلِّ شَيء، سُبْحـانَ اللهِ خالِقِ ما يُرى وَما لا يُرى، سُبْحـانَ اللهِ مِدادَ كَلِماتِهِ، سُبْحـانَ اللهِ رَبِّ الْعالَمينَ، سُبْحـانَ اللهِ مالِكِ الْمُلْكِ تُؤْتِى الْمُلْكَ مَنْ تَشاءُ، وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشاءُ، وَتُعِزُّ مَنْ تَشاءُ، وَتُذِلُّ مَنْ تَشاءُ، بِيَدِكَ الْخَيْرُ اِنَّكَ عَلى كُلِّ شَيء قَديرٌ، تُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهارِ، وَتُولِجُ النَّهارَ فِي اللَّيْلِ، تُخْرِجُ الْحَىَّ مِنَ الْمَيِّتِ، وَتُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ، وَتَرْزُقُ مَنْ تَشاءُ بِغَيْرِ حِسابِ (6) سُبْحـانَ اللهِ بارِئِ النَّسَمِ، سُبْحـانَ اللهِ الُمصَوِّرِ، سُبْحـانَ اللهِ خالِقِ الاَزْواجِ كُلِّها، سُبْحـانَ اللهِ جاعِلِ الظُّلُماتِ وَالنُّورِ، سُبْحـانَ اللهِ فالِقِ الْحَبِّ وَالنَّوى، سُبْحـانَ اللهِ خالِقِ كُلِّ شَيء، سُبْحـانَ اللهِ خالِقِ ما يُرى وَما لا يُرى، سُبْحـانَ اللهِ مِدادَ كَلِماتِهِ، سُبْحـانَ اللهِ رَبِّ الْعالَمينَ، سُبْحـانَ اللهِ الَّذي عِنْدَهُ مُفاتِحُ الْغَيْبِ لا يَعْلَمُها إلاّ هُوَ وَيَعْلَمُ ما فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ، وَما تَسْقُطُ مِنْ وَرَقَة إلاَّ يَعْلَمُها، وَلا حَبَّة في ظُلُماتِ الاَرْضِ وَلا رَطْب وَلا يابِس إلاّ في كِتاب مُبين (7) سُبْحـانَ اللهِ بارِئِ النَّسَمِ، سُبْحـانَ اللهِ الُمصَوِّرِ، سُبْحـانَ اللهِ خالِقِ الاَزْواجِ كُلِّها، سُبْحـانَ اللهِ جاعِلِ الظُّلُماتِ وَالنُّورِ، سُبْحـانَ اللهِ فالِقِ الْحَبِّ وَالنَّوى، سُبْحـانَ اللهِ خالِقِ كُلِّ شَيء، سُبْحـانَ اللهِ خالِقِ ما يُرى وَما لا يُرى، سُبْحـانَ اللهِ مِدادَ كَلِماتِهِ، سُبْحـانَ اللهِ رَبِّ الْعالَمينَ، سُبْحـانَ اللهِ الَّذي لا يُحْصي مِدْحَتَهُ الْقائِلُونَ، وَلا يَجْزي بِـآلائِهِ الشّاكِرُونَ الْعابِدُونَ، وَهُوَ كَما قالَ وَفَوْقَ ما نَقُولُ، وَاللهُ سُبْحانَهُ كَما اَثْنى عَلى نَفْسِهِ وَلا يُحيطونَ بِشَيء مِنْ عِلْمِهِ اِلاّ بِما شاءَ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّماواتِ وَالاَرْضَ وَلا يَؤُدُهُ حِفْظُهُما وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظيمُ.
(8) سُبْحـانَ اللهِ بارِئِ النَّسَمِ، سُبْحـانَ اللهِ الُمصَوِّرِ، سُبْحـانَ اللهِ خالِقِ الاَزْواجِ كُلِّها، سُبْحـانَ اللهِ جاعِلِ الظُّلُماتِ وَالنُّورِ، سُبْحـانَ اللهِ فالِقِ الْحَبِّ وَالنَّوى، سُبْحـانَ اللهِ خالِقِ كُلِّ شَيء، سُبْحـانَ اللهِ خالِقِ ما يُرى وَما لا يُرى، سُبْحـانَ اللهِ مِدادَ كَلِماتِهِ، سُبْحـانَ اللهِ رَبِّ الْعالَمينَ، سُبْحـانَ اللهِ الَّذي يَعْلَمُ ما يَلِجُ فِى الاَرْضِ وَما يَخْرُجُ مِنْها وَما يَنْزِلُ مِنَ السَّماءِ وَما يَعْرُجُ فيها، وَلا يَشْغَلُهُ ما يَلِجُ فِى الاَرْضِ وَمايَخْرُجُ مِنْها عَمّا يَنْزِلُ مِنَ السَّماءِ وَما يَعْرُجُ فيها، وَلا يَشْغَلُهُ ما يَنْزِلُ مِنَ السَّماءِ وَما يَعْرُجُ فيها عَمّا يَلِجُ فِى الاَرْضِ وَما يَخْرُجُ مِنْها، وَلا يَشْغَلُهُ عِلْمُ شَىْء عَنْ عِلْمِ شَىْء وَلا يَشْغَلُهُ خَلْقُ شَىْء عَنْ خَلْقِ شَيْء، وَلا حِفْظُ شَيْء، عَنْ حِفْظِ شَيْء وَلا يُساويهِ شَيْءٌ وَلا يَعْدِلُهُ شَيْءٌ لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَهُوَ السَّميعُ الْبَصيرُ (9) سُبْحـانَ اللهِ بارِئِ النَّسَمِ، سُبْحـانَ اللهِ الُمصَوِّرِ، سُبْحـانَ اللهِ خالِقِ الاَزْواجِ كُلِّها، سُبْحـانَ اللهِ جاعِلِ الظُّلُماتِ وَالنُّورِ، سُبْحـانَ اللهِ فالِقِ الْحَبِّ وَالنَّوى، سُبْحـانَ اللهِ خالِقِ كُلِّ شَيء، سُبْحـانَ اللهِ خالِقِ ما يُرى وَما لا يُرى، سُبْحـانَ اللهِ مِدادَ كَلِماتِهِ، سُبْحـانَ اللهِ رَبِّ الْعالَمينَ، سُبْحـانَ اللهِ فاطِرِ السَّماواتِ وَالاَرْضِ، جاعِلِ الْمَلائِكَةِ رُسُلاً اُولي اَجْنِحَة، مَثْنى وَثُلاثَ وَرُباعَ، يَزيدُ فِى الْخَلْقِ ما يَشاءُ اِنَّ اللهَ عَلى كُلِّ شَيْء قَديرٌ، ما يَفْتَحِ اللهُ لِلنّاسِ مِنْ رَحْمَة فَلا مُمْسِكَ لَها، وَما يُمْسِكُ فَلا مُرْسِلَ لَهُ مِنْ بَعْدِهِ وَهُوَ الْعَزيزُ الْحَكيمُ (10) سُبْحـانَ اللهِ بارِىءِ النَّسَمِ، سُبْحـانَ اللهِ الُمصَوِّرِ، سُبْحـانَ اللهِ خالِقِ الاَزْواجِ كُلِّها، سُبْحـانَ اللهِ جاعِلِ الظُّلُماتِ وَالنُّورِ، سُبْحـانَ اللهِ فالِقِ الْحَبِّ وَالنَّوى، سُبْحـانَ اللهِ خالِقِ كُلِّ شَيء، سُبْحـانَ اللهِ خالِقِ ما يُرى وَما لا يُرى، سُبْحـانَ اللهِ مِدادَ كَلِماتِهِ، سُبْحـانَ اللهِ رَبِّ الْعالَمينَ، سُبْحـانَ اللهِ الَّذي يَعْلَمُ ما فِى السَّماواتِ وَما فِى الاَرْضِ، ما يَكُونُ مِنْ نَجْوى ثَلاثَة إلاّ هوَ رابِعُهُمْ، وَلا خَمْسَة اِلاّ هُوَ سادِسُهُمْ، وَلا اَدْنى مِنْ ذلِكَ وَلا اَكْثَرَ إلاّ هُوَ مَعَهُمْ اَيْنَما كانُوا، ثُمَّ يُنَبِّئُهُمْ بِما عَمِلُوا يَوْمَ الْقِيامَةِ اِنَّ اللهَ بِكُلِّ شَيْء عَليمٌ.
محترم شمس جیلانی صاحب !السلام علیکم و رحمۃ اللہ
آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی یہ حدیث شریف جو تحریر فرمائی ہے یہ اس قدر فطری بات ہے کہ بے اختیار دل پکارتا ہے کہ اس حدیث کے صحیح ہونے میں شک نہیں، اللہ کریم عادل ہے، یہ بات ہی اس کی ذاتِ اقدس کے شایانِ شان نہیں کہ مثلاً جو خاتون ساری زندگی زہد و تقویٰ کی تصویر بنی رہی، ضعیفی میں اپنے قدرتی کمزوریوں اور عذرات کی بنا پر ثواب سے محروم کر دی جائے، یعنی اس ضعف کی، جو فطری ہے نہ کہ عمدا، اس زندگی کا لازمہ ہے، خطاوار قرار پائے. اسی لیے تو کہا گیا ہے کہ “اسلام دینِ فطرت ہے”.
اجرکم من اللہ
بھائی مناف شکریہ اللہ جزا دے آمین۔ ہمارے درد کا درماں قر آن اور احادیث میں موجود ہے مگر ہم انہیں چھوڑ کر دنیا کو مسیحا سمجھنے لگے ہیں یہ ہی مسلم امہ کی بد قسمتی کا باعث ہے
خدا کھ شہر سے گزار جو کاروان خیال
رخ شعور پہ لہرا گیا نشان خیال
متاع دل ہوئی +رائش جہان خیال
قلم کی بات بنی ہو کے ہم زبان خیال
نشاط ذہن پہ جدت کے باغ کھلنے لگے
گلاب قدرنہال زباں کو ملبے لگے
خدا کھ شہر کی +راستہ دکانون میں
وہ لعل ہیں جو میسر نہیں خزانواں میں
کہاں ملیں گے یہ دنیا کے کار خانوں میں
سجے ہوئے جو رحمت کے شامیانوں میں
یہاں تکبر شاہی نہ کوئی فرمائے
کوئی رئیس عمل ہوتو سامنے ائے
بھائی اکمل سیّد صاحب ! السلام علیکم
“عالمی اخبار” کے بلاگ پر خوش آمدید
پہلے یہ بتائیے کہ یہ اتنا خوب صورت کلام ہے کس کا ؟
آپ کا ؟
ایک ایک مصرعہ جیسے پھولوں کی لڑی ہو، یقیناً اس نظم کے اور بھی بند ہوں گے، ازراہ کرم پوری نظم عطا فرمائیے،
ٹائیپنگ کے چند سہو ہیں، قارئین کی سہولت کے پیشِ نظر عرض کرنا چاہتا ہوں، مثلاً :
کھ = کے
+رائش = آرائش
+راستہ = آراستہ
ملبے = ملنے
ایک بار پھر درخواست ہے کہ شاعر کا نام ضرور بتائیے، پوری نظم عنایت فرمائیے
اور اب آتے رہا کیجیے . . . انشاء اللہ
عبد المناف صاحب آداب
کلام تو حضرت قیصر بارہوی مرحوم کا ہے چند سطور میں غلطی پر معذرت خواہ ہوں
بردارم عبدالمناف صاحب آداب! اس مرثیے کے 60 بند ہیں انشا اللہ اسی طرح پیش کرتا رہوں گا۔
خدا کے شہر سے گزار جو کاروان خیال
رخ شعور پہ لہرا گیا نشان خیال
متاع دل ہوئی آرائش جہان خیال
قلم کی بات بنی ہو کے ہم زبان خیال
نشاط ذہن پہ جدت کے باغ کھلنے لگے
گلاب قدرنہال زباں کو ملبے لگے
گلاب قدر کی فصل بہار کیا کہنا
نفس نفس میں انوکھا خمار کیا کہنا
دم خمار سریعت سے پیار کیا کہنا
خد پسند سکون و قرار کیا کہنا
عروس کیف جمال بقا دکھانے لگی
حیات اپنی جوانی پہ مسکرانے لگی
ضائے دل سے برسنے لگے ہو پیمانے
نثار کیئجے ہوش خرد کے میخانے
سرور جام مودت زمانہ کیا جانے
اس نشے کی دھنی ہین تمام فرزانے
خودی کا راز اسی بے خودی پیں پایا ہے
یہی نشہ مجھے شہر خدا میں لایا ہے
قدم قدم پہ ہو شہر خدا کی کلوہ گری
جسے سلام کرئے انتہائے دیدہ وری
ہو حکمت عملی ہو کہ حکمت نظری
بہ اعتراف کہے گا یہ عالم بشری
خدا کے شہر کی تنویر جس نظر میں نہیں
اسی کی قدر کسی چشم معتبر میں نہیں
لگی جو فکر کو بازار شہر حق کی ہوا
نظر نظر مین سمایا خلوص کا سودا
پکارنے گلی اشیائے معرفت کی ضیا
یہ نور مل نہیں سکتا مغیر نقد وفا
ثپوت نقد وفا کا بہم کرئے کوئی
کھلی ہوئی ہیں دکانیں خرید لے کوئی
خدا کھ شہر کی آراستہ دکانون میں
وہ لعل ہیں جو میسر نہیں خزانواں میں
کہاں ملیں گے یہ دنیا کے کار خانوں میں
سجے ہوئے جو رحمت کے شامیانوں میں
یہاں تکبر شاہی نہ کوئی فرمائے
کوئی رئیس عمل ہوتو سامنے ائے
یہی وہ شہر ہے جو عارفوں کی منزل ہے
اسی کے سائے میں روحنیت کی محفل ہے
یہی ہو شہر ہے جو مہر و ماہ کا دل ہے
اس کی روشنی ظلمت پہ ضرب قاتل ہے
نجات اہل کرد ہے اسی سفینہے میں
خدا ملے کا اسی حمد کےمدینے میں
اسی مدنیے کے دامن مین آسمان و زمیں
بکھیرتے ہیں تجلی آفتاب تقیں
یہیں سے ملتا ہے انسانیت کے نور مبیں
حجاب طالب و مطاوب اٹھ رہا ہے یہیں
نظر کے سامنے صورت گر ھقیقت ہے
اسی موام پہ معراج آدمیت ہے
Allah bless Muhammad and the family of Muhammad.
O Allah, gladden the people of the graves,
O Allah, enrich every poor person,
O Allah, satisfy every hungry one,
O Allah, clothe every unclothed one,
O Allah, help every debtor pay his debts,
O Allah, relieve every distressed one,
O Allah, return every traveler (to his home),
O Allah release every prisoner,
O Allah, correct every wrong in the affairs of the Muslims,
O Allah, cure every sick one,
O Allah, ease our poverty by Your wealth,
O Allah, change our evil state to a good one through Your excellent state,
O Allah, relieve us of our debts, and help us against poverty, Surely You have power over all things.
http://www.youtube.com/watch?v=TumoM6rOyME
محترم اکمل سیّد صاحب کی انگریزی میں ترجمہ شدہ دُعا کا
اصل متن پیش کرنےکی سعادت حاصل کرنا چاہتا ہوں
شاہ صاحب کی اجازت سے
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
اللہم صل علی محمد و آل محمد
اَللّٰھُمَّ اَدخَل عَلٰی اَھلِ القُبُورِ السُّرُورَ
اَللّٰھُمَّ اَغنِ کُلَّ فَقِیرٍ
اَللّٰھُمَّ اَشبِع کُلَّ جَائِعٍ
اَللّٰھُمَّ اَکسُ کُلَّ عُریَان
اَللّٰھُمَّ اقضِ دَینَ کُلِّ مَدِین
اَللّٰھُمَّ فَرِّج عَن مَکرُوب
اَللّٰھُمَّ رُدَّ کُلَّ غَرِیب
اَللّٰھُمَّ فُکَّ کُلَّ اَسِیر
اَللّٰھُمَّ اَصلِح کُلَّ فَاسِد مِن اُمُورِ المُسلِمِین
اَللّٰھُمَّ اَشفَ کُلَّ مَرِیض
اَللّٰھُمَّ سُدَّ فَقرَنَا بِغِنَاک
اَللّٰھُمَّ غَیِّر سُوءَ حَالِنَا بِحُسنِ حَالِک
اَللّٰھُمَّ اقضِ عَنَّا الدَّینَ
وَاَغنِنَا مِنَ الفَقر
اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیءِ قَدِیر
جناب اکمل سیّد شاہ صاحب ! آپ نے youtube کا لنک دے کر ہم پر بہت احسان فرمایا
ماشاء اللہ آپ کی زیارت کا شرف بھی حاصل ہوا اور آپ کی زبان سے مولا کا ذکر بھی سُنا
اس دوہری عبادت کے حاصل ہوجانے پر آپ کا ممنون ہوں
(حدیث شریف: مؤمن کی زیارت کرنا عبادت ہے)
(حدیث شریف: علی کا ذکر کرنا عبادت ہے)
درخواست ہے کہ قیصر بارہوی علیہ الرحمۃ کا کم از کم یہ کلام مکمل یا جہاں تک ہو سکے عنایت فرمادیجیے
(یقیناً یہ کام قسط وار ہی ہو گا)
اپنی دُعاؤں میں ہمیں بھی یاد رکھیے
عزیز بہن بھائیو !
درخواست ہے کہ یہ صفحہ ویڈیوز کی وجہ سے بھاری ہو رہا ہے اور کچھ ٹیکنکی مسائل پیدا کر رہا ہے اس لئے میں نے رمضان المبارک پر دوسرا بلاگ شروع کیا ہے .. یہ بلاگ بھی کھلا رہے گا اور وہ بھی .. آپ جس پر چاہے لکھیں لیکن اس بلاگ پر مزید ویڈیوز نہ لگائیں .. ووہ دوسرے بلاگ پر لگائی جا سکتی ہیں ..شکریہ
اکمل بھائی
السلام علیکم
“عالمی اخبار” کے بلاگ پر خوش آمدید … بھائی اتنے دن کہاں تھے .. آپ سےتو بہت پرانی یاد اللہ ہے … میں اکثر بابا سے آپ کی بابت پوچھا کرتی تھی …. مجھے آپ پر مان ہے اور رشک ہے بھائی کہ بابا (صفدر ہمدانی) ہمیشہ آپ کے اخلاق اور کام کی تعریف کرتے ہیں ..ماشاللہ … دیر سے آئے بھائی صد شکر کہ آئے تو … یہی ہماری خوش نصیبی ہے .. اللہ کریم آپ کو اپنی پناہوں میں رکھے ..آمین
دعاؤں میں یاد رکھئے گا
نگہت نسیم
Salam o alkum
i can not type in Urdu , any way thanks Naghat Naseem and Abdul Munaf Mohabatoon ka suker guzar hun ye sub ramzan ke barket hay sada salamat rahian aameen!