قابل اجمیری نمبر۔۔۔۔۔A Collection of Qabil Ajmeri..Ishq Insaan Ki Zaroorat Hay.

قابل اجمیری مرحوم اردو ادب کا ایک معروف نام ہیں، جنکے بیسیوں اشعار و غزلیں زبان زد عام ہیں۔ انکے فرزند جناب ظفر قابل نے انکی ایک ای بک ( برقی کتاب) جناب منظور قاضی صاحب کو بھجوائی ہے۔ انکی خواہش پر اس کتاب کے کے دو صفحات قارئین کی نظر ہیں۔ موقع ملا تو انشاء اللہ اس کتاب سے مزید کلام بھی پیش خدمت کیا جائے گا۔

QABIL AJMERI BOOKQABIL AJMERI BOOK.gif022

138 thoughts on “قابل اجمیری نمبر۔۔۔۔۔A Collection of Qabil Ajmeri..Ishq Insaan Ki Zaroorat Hay.”

  1. محمد امین الدین صاحب

    میں آپ کے خیالات سے سو فیصد متفق ہوں ۔ قابل عمر میں احمد فراز سے دو چار برس چھوٹے ہونگے۔ احمد فراز بہت اچھے شاعر تھے اور اُنکے بعد شاعری کے میدان میں جو سُونا پن اور خلاء پیدا ہوا ہے وہ روزِ روشن کی طرح عیاں ہے۔ یہ سوال کہ زندگی اگر قابل کو مہلت دیتی تو وہ کس مقام پر ہوتے ۔ میرا جواب یہ ہے کہ احمد فراز 1970 کے عشرہ میں ابھر کر سامنے آئے تھے جس کے بعد وہ سنورتے چلے گئے۔ لیکن احمد فراز 1970 سے پہلے غیر معروف تھے۔ اسکے بر عکس قابل اجمیری 1950-1951 ہی میں جگر اور سیماب جیسے اساتذہ سے اپنی شاعری کا لوہا منوا چکے تھے۔ اس تناظر کو سامنے رکھتے ہوئے میرا یہ دعویٰٰ ہے کہ زندگی اگر قابل کو مہلت دیتی تو وہ استادالاساتذہ کہلاتے۔ قابل اجمیری میرے سب سے زیادہ پسندیدہ شاعر ہیں۔ اُنکا آہنگ انکا اسلوب اپنا ثانی نہیں رکھتا۔ قابل نے غزل کے ساتھ نظم بھی اُسی پائے کی کہی ہے۔ قابل کی نظم کا ایک نمونہ ملاحظہ ہو جس سے قابل کے منفرد آہنگ ، اسلوب اور شیریں بیانی اور فکر کا پتہ چلتاہے۔ اس عنوان پر دوسرے شعراء نے لاتعداد نظمیں کہی ہیں۔

    اقبال
    وہ دیدہ ور کہ جس نے تجلّی نکھاردی
    ذروں کو آفتابِ درخشاں بناگیا

    وہ چارہ ساز جس نے کئے تجرباتِ نو
    ہر درد کو ضمانتِ درماں بناگیا

    وہ باغباں جو اپنی نسیمِ خیال سے
    شامِ چمن کو صبحِ بہاراں بناگیا

    وہ دلرُبا کہ جس نے بدل دی سرشتِ دل
    تکلیف کو نشاط کا ساماں بنا گیا

    وہ فلسفی جو اپنی خودی کی تلاش میں
    اربابِ دل کو محرمِ یزداں بنا گیا

    وہ مردِ حق پرست مٹاکر جو تفرقے
    اسلامیوں کو صرف مسلماں بناگیا

    اب کارواں کی بانگِ درا پر نظر نہیں
    سب کچھ ہے اس کی قوم مسلماں مگر نہیں

  2. محترم ظفر جعفری صاحب۔

    آپکا قابل پر یہ تبصرہ، در حقیقت مختصر مگر جامع تحقیق کے مترادف ہے۔

    “فراز 1970 کے عشرہ میں ابھر کر سامنے آئے تھے جس کے بعد وہ سنورتے چلے گئے۔ لیکن احمد فراز 1970 سے پہلے غیر معروف تھے۔ اسکے بر عکس قابل اجمیری 1950-1951 ہی میں جگر اور سیماب جیسے اساتذہ سے اپنی شاعری کا لوہا منوا چکے تھے۔ ۔۔۔الخ“

    زبردست اور بہت بر محل۔

  3. تصحیح

    احمد فراز
    پیدئش۔ چنوری 1931

    قابل اجمیری
    پیداش۔ اگست 1931

  4. مصباح صاحب

    آپ نے ہمت افزائ کی ۔ دل خوش ہوگیا۔ اگر آپکو یا کسی اور دوست کو اس بچے کے بارے میں کچھ علم ہے تو ضرور تحریر کریں جسکا شعر ہے

    دل کے پھپولے جل اُٹھے سینے کے داغ سے
    اس گھر کو آگ لگ گئ گھر کے چراغ سے

  5. قابل نے اُنیس بیس برس کے سِن میں جگر اور سیماب سے اساتذہ سے اپنا لوہا منوالیا تھا۔ یہ اعزاز اُردو شاعری کی تاریخ میں مٹھی بھر شعراء کو حاصل ہوا ہے۔

    قابل تری نگاہ کے چرچے ہیں دور دور
    آتا ہے بتکدہ میں مسلماں کبھی کبھی

  6. میں ظفر جعفری صاحب کے قابل اجمیری کے متعلق تمام ارشادات کی تائید کرتا ہوں۔

    صرف ایک بات عرض کرنا چاہتا ہوں کہ قابل کا شعر جو انہوں نےاوپر لکھا ہے وہ “عشق انسان کی ضرورت ہے “ کتا ب میں ( جو اس بلاگ میں موجود ہے ) یوں ہے:

    قابل مری نگاہ کے چرچے ہیں دور دور
    آتا ہے میکدے میں مسلماں کبھی کبھی

    ( ممکن ہے “کلیات قابل“ میں “ مری “ کی بجائے “ تری “ لکھا ہوا ہے ، مگر میرے پاس کلیات۔قابل نہیں ہے اس لیے ظفر اقبال صاحب ہی کہ سکتے ہیں کہ صحیح لفظ مری ہے یا تری ہے )
    ۔۔۔۔۔۔۔
    یوں تو پوری غزل ہی بہت خوب ہے مگر اس غزل کے یہ دو اشعار بھی انتہائی معنی خیز ہیں:
    کیسا شراب خانہ کہاں کا صنم کدہ
    کعبہ میں لُٹ گیا ہے مسلماں کبھی کبھی
    ۔۔۔۔
    ہم بیکسوں کی بزم میں آئےگا اور کون
    آ بیٹھتی ہے گردشِ دوراں کبھی کبھی
    ۔۔۔۔۔۔۔

    فقط
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  7. محترم منظور قاضی صاحب نے فرمایا ہے کہ
    ( ممکن ہے “کلیات قابل“ میں “ مری “ کی بجائے “ تری “ لکھا ہوا ہے ، مگر میرے پاس کلیات۔قابل نہیں ہے اس لیے ظفر اقبال صاحب ہی کہ سکتے ہیں کہ صحیح لفظ مری ہے یا تری ہے )

    کلیات قابل میں بھی لفظ مری استمعال ہوا ہے

  8. اب جبکہ یہ بلاگ ایک یادگار بلاگ کی حیثیت اختیار کر چکا ہے اور انٹرنیٹ پر قابل اجمیری کے بارے میں اس بلاگ سے بہتر حوالہ کوئی نہیں دیا جا سکتا اس موقع پر اپنے دلی جذبات کا اظہار کرتے ہوئے میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آپ حضرات محترم کے گزشتہ بلاگ ہی اس بلاگ کی بنیاد ہیں جو میں ایک سال بعد دیکھ سکا آپ سے متعارف ہوا اور آپ سب کی شفقتوں سے محضوظ ہو رہا ہوں۔ ان پر لکھے ہوئے بڑے بڑے نامور نقادوں اور اہل قلم کے مضامین بھی میں یہاں پیش کر سکتا تھا مگر میں نے یہاں آپ جیسے محبت کرنے والوں ہی کے مضامین پیش کرنے کی کوشش کی ہے
    اب آخر میں بھی ایک ایسا ہی مضمون پیش کر رہا ہوں 14 اگست 2008 کو روزنامہ امت کراچی میں پاکستان کا پہلا جھنڈا بنانے والے ماسٹر الطاف حسین مرحرم (جو قابل اجمیری کے قریبی دوست تھے) پر ایک مضمون شائع ہوا اس مضمون میں بھی قابل اجمیری کا تزکرہ تھا اور انکی اور ماسٹر الطاف کی ایک ساتھ تصویر بھی شائع ہوئی یہ تصویر دیکھ کر ایک کالم نگار نوخیز انور صدیقی نے اپنے مستقیل کالم قلم کہانی میں جو کالم لکھا وہ پیش کر رہا ہوں

  9. قاضی صاحب
    آپکی تصحیح بالکل صحیح ہے ۔ میں نے یہ غزل 35-40 سال قبل دیدہء بیدار میں صفحہ 116 پر پڑھی تھی اور تقریباً پوری غزل مجھے زبانی یاد ہے

  10. فرازِ کلام اور نشیب حیات
    نوخیز انور صدیقی

    ’’آپ اپنا یہ بٹوہ غریب خانے پر بھول آئے تھے سوچا آپ پریشان ہوںگے سو میں اسے یعنی آپ کی امانت لوٹانے چلا آیا‘‘تیس بتیس سالہ مدقوق سے نو جوان نے جو دیکھنے میں اپنی عمرسے ڈیوڑھی زائد عمر کا معلوم ہوتا تھا ہانپتے کانپتے ایک بزرگ کی خدمت میں توشئہ امانت پیش کرتے ہوئے لب کشائی کی ۔بزرگ جو خود بھی سر جھاڑ منہ پھاڑ نظر آتے تھے اپنے جیسے ایک سر کش کو حیرت و استغباب سے دیکھ رہے تھے کہ واللہ کیا ذوق دیانت ہے۔انہوں نے اپنی میخانہ نما سرخ آنکھوں میں درآئے خلوص کے موتی ‘دانتوں تلے ہونٹ حبس بیجا میں رکھ کر اپنی داڑھی میں جذب کئے اور بڑی احتیاط سے گویا ہوئے۔’’میاں اس میں فکر کی کوئی بات نہیں ۔آپ نے نا حق تکلیف کی ۔مجھے یاد آتا یا ضرورت پڑتی تو میں خود اسے لینے آپ کی خدمت میں حاضر ہو جاتا۔آپ نے ناحق تکلیف کی ۔‘‘
    ’’تکلیف کیوں یہ تو میرے لیے بین راحت ہے کہ میں آپ کے کسی کام آئوں۔اصل میں آپ کی طرح میں بھی مسافرہوں کیا پتہ شام تک نقل مکانی کرنا پڑجائے اس لیے آپ کو زیادہ تکلیف ہو سکتی ہے؟میں نے سوچا آپ کو یوں بھی پردیس جانا ہے آپ کو اس کی ضرورت لازمی پڑے گی ‘بس میں چلا آیا۔ ‘‘کم خمیدہ اور بظاہر عمر رسیدہ نوجوان نے بزرگ کی خدمت میں انتہائی ادب و احترام سے جواب عرض کیا۔
    بزرگ کے چہرے سے ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ کسی کرب کو چھپانے کی ناکام کو شش کر رہے ہیں کچھ کہنا چاہتے ہیں لیکن کچھ ایسی حیص بیص ہے کہ کہہ نہیں پارہے۔ادھر مہمان دم واپسی کے لیے مدعائے اجازت ادھرمیزبان کو پر اسرارسی خجالت ۔ آنے والا جانے کے لیے اجازت طلبی کا منتظر اس کی نگاہوں کا مرکز میزبان یا صاحب خانہ اور وہ نگاہیں ان کے دماغ سے دل تک پیوست ہوتی محسوس ہو رہی تھیں اور وہ اس شرف تقرف کو قبول کرنے کے لیے بے چینی کے باوجود تیار نہیں ۔ پھر ذرا سنبھلے مقابل کو بھی بیٹھنے کو کہا اور خود بھی ذرا سے کوچ پر ٹک گئے ۔ گلا کھنکھار کر کچھ کہتے کہتے پھر رہ گئے اور اپنی ایک رباعی دل ہی دل دہرائی
    ہر چند کے تکرار نظر بے ادبی ہے
    پر کیجئے کیا عشق کی فطرت ہی یہی ہے
    بن جاوں نہ بیگانہ انداز محبت
    اتنا نہ قریب آئو مناسب ہی یہی ہے
    قصہ یہ تھا کہ جو بٹوہ لوٹا نے آیا تھا ۔ ہر دلعز یز شاعر تھا جس کے کلام میں فراز کے باوجود زندگی میں نشیب ہی نشیب تھے ۔ وہ مالی طور پر انتہائی تنگدست تھا ۔ کچھ اپنوں کے کرم اور کچھ غیروں کے ستم کے باعث زندگی اس سے دور ہوتی چلی جا رہی تھی ۔ اجمیر میں پیدا ہونے والا اور خواجا غریب نواز کی چوکھٹ پر شیر خواری اور کمسنی کی منازل طے کرنے والا یہ بدحال تنگدست اور فاقہ مست لوگوں سے بہت محبت کر تا تھا اور اس کے چاہنے والے بھی اسے خوب رکھتے تھے لیکن حاسد اور شرپسند تو ہر جگہ ہر کسی کے ہوتے ہیں ۔ فاقہ مستی کے باوجود حاسدین اور شر پسندوں نے یہ دیکھ کر کہ یہ مست تو بڑا شاعر ہو تا جارہا ہے اس کے لیے انڈوں پھلوں اور ترکاریوں کا سامان کیا ۔ مگر یہ چیزیں خود ان جیسے سڑے ہوئے لوگوں کے مما ثل تھے جہاں مشاعرہ ہوتا فاقہ مست کلام پیش کرتا اس پر بارش شروع کرا دی جاتی ۔ اس ’’جہاد ‘‘ میں ایسے بھی محبت بھرے غزال ہیں جنہوں نے کہا کہ
    اس کے غم کو غم ہستی تو میرے دل نہ بنا
    زیست مشکل ہے اسے اور مشکل نہ بنا

    اور ان کا دعویٰ یہ بھی ہے کہ

    میں آئینے کے اندر بھی ہوں اور آئینے کے باہر بھی
    میرے وجود کی وحدت میں یہ دوئی کیسی
    معروف محقق ڈاکٹر ساجد امجد نے 18-17سال قبل ماہنامہ سر گزشت میں یہ احوال درج کیا تھا۔جس میں انڈے پھل ترکاریوں کی بار ش کرانے والے شیخ جوتے والے دو تین شعرائ اور اس ایک آدھ بچہ جمہورا کا ذکر تھا ایک دانشور نے تردیدی ابلاغ کیا تھا مگر جس کم نصیب بلکہ حرماں نصیب شاعر کو تختئہ مشق بنانے والوں کے مرکزی کرداروں میں سے کسی کی تردید سامنے نہیں آئی شاید شاعری میں اسی کو شیوئہ حمایت کہتے ہیں ۔
    بات چلتی کہاں سے ہے اور پہنچتی کہاں ہے۔جن دو کرداروں اور بٹوے کا ذکر ہو رہا تھا۔بٹوے مالک کو شاید آپ نے پہچان لیا ہوگا جو ادبی ذوق کے دلدادہ ہیں وہ بٹوہ واپس پہنچانے والے بیمار اور لاچار کو بھی پہچان گئے ہوں لیکن اسی مضمون کے اختتام تک ہر پڑھنے والا دونوں کو پہچان جائے گا۔اس لئے کے یہ کہانی تو ہے لیکن افسانہ نہیں ہاں افسانئہ حقیقت ضرور ہے
    دل کے افسانے نگاہوں کی زبان تک پہنچے
    بات چلی نکلی ہے اب دیکھے کہاں تک پہنچے
    بٹوہ واپس پہنچانے والا تنگ دست دفاقہ مست قیام پاکستان سے 15برس پہلے اجمیر شریف میں پیدا ہوا تھا ‘پاکستان ہجرت کی اور 16برس سے کم عرصے میں اللہ کو پیارا ہوگیا ۔پاکستان کی محبت اس کا جزو ایمان تھی۔
    اس کے حالات زندگی کا اندازہ آپ نے کیا ہوگا۔رنگ کلام بھی ملاحظہ فرمائیے۔
    تم نہ مانو مگر حقیقت ہے
    عشق انسان کی ضرورت ہے
    اس کی محفل میں بیٹھ کر دیکھو
    زندگی کتنی خوبصورت ہے
    جی رہا ہوںاس اعتماد کے ساتھ
    زندگی کو میری ضرورت ہے
    ……*……*…….
    تضادِ جذبات میں یہ نازک مقام آیا تو کیا کرو گے
    میں رو رہا ہوں تم ہنس رہے ہو میں مسکرایا تو کیا کرو گے
    کچھ اپنے دل پر بھی زخم کھائو میرے لہو کی بہا ر کب تک
    مجھے سہارا بنانے والوں لڑکھڑایا تو کیا کرو گے
    ایسے ہی محبت سے حسین اور دل نشین اشعار اس شاعر کا اثاثہ ہیں۔ اگر زندہ رہتا اور حکومت وقت اس پر ترس کھاتی تو بھی وہ شاید وہ خیرات قبول نہ کرتا جو شاعر اپنا بٹوہ بھول کر آیا تھا وہ بھی مالی طور پر خوشحال نہ تھا اس مددگار نے عینک فروشی کا پیشہ بھی راہ و رسم دنیا میں تحفوں اوربلا معاوضہ فروخیکوں کی نذر کردیا ۔ اس نے دیکھا کہ نوجوان کو پیسے کی زیادہ ضرورت ہے اور وہ خوددار بھی بہت ہے سو اپنا بٹوہ نظر بچا کے وہاں چھوڑ آیا کہ شاید اس طرح غریب کی کوئی ضرورت پوری ہوجائے واقعی اس نے زادرہ بڑی بے جگری کے ساتھ ً ’’بھول کی نذر ‘‘کردیا تھا کہ
    وہ علی سکندر جگر مرادآبادی…. دوسروں کی عزت نفس کا بہت احترام کرتا تھا مگر وہ جو بٹوہ لوٹا نے گیا کسی کا دست نگرنہ بناصرف اس نرس نرگس جس نے کوئٹہ کے ہسپتال میں بیمار کی حد درجہ مدد کی تھی او ر ’’ مسیح‘‘ کی پیروکار ہونے کے باوجودمشرف بہ اسلام ہو کربیمار کے عقد میں آگئی تھی کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس کے ایثار سے متاثر ہو کر اس کے دولہا کوچند دن کی زندگی اور عطا کردی‘ہاں اس خودار شاعر کو دنیا قابل اجمیری کے نام سے جانتی ہے جو 46برس پہلے صرف1 3سال کی عمر میں حیدرآباد سندھ میں خالق حقیقی سے جا ملا۔آج اس کی تصویر ایک اخبار میں دیکھی تو آنسوئوں نے اس کا ذکر کردیا۔

  11. ظفر قابل صاحب نے نوخیز انور صدیقی صاحب کا افسانوی انداز میںلکھا ہوا مضمون شایع کردیا ۔

    نو خیز انور صدیقی صاحب نے یہ مضمون اس طرح لکھا جیسے یہ تمام واقعات ان کی نظروں کے سامنےپیش آئے تھے ۔ ۔

    نوخیز انور صدیقی صاحب نے اس مضمون میں کتنی حقیقت بیانی کی ہے اور کس قدر افسانہ نگاری کی ہے اس کا بھید حضرت جگر مرحوم اور حضرت قابل مرحوم کے ساتھ ساتھ اللہ ہی بہتر جانتا ہے ۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    بہرکیف :

    اگر ظفر قابل صاحب اپنی فنی خوبیوں سے کام لےکر اس بلاگ میں وہ تصویر بھی چسپاں کرد یں جس میں قابل اجمیری اور پاکستان کا پہلا جھنڈا بنانے والے ماسٹر الطاف حسین موجود ہیں ، تو اس بلاگ کی رونق میں کافی اضافہ ہوجائےگا ۔ ۔
    ۔۔۔۔۔۔
    ظفر قابل صاحب کا شکریہ کہ انہوں نےاس بلاگ کو اور اسکے قبل کے بلاگ کو ( جسے میں نے قابل اجمیری کی زندگی اور اس کی شاعری پرلکھا تھا ) سراہا ۔

    فقط:
    دلی دعاوں کےساتھ
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  12. آج ظفر صاحب کی یہ تحریر اور چند تصاویر موصول ہوئیں۔- سو پیش ہیں،
    ———–
    محترم مصباح صاحب
    السالام علیکم
    حسب وعدہ کچھ یادگار تصاویر ارسال ہیں ان کی ریزولیشن زیادہ ہو گئی تھی سوچا تھا کہ کم کر لوں گا مگر آج صبح دل کی تکلیف اچانک بڑھ گئی اور اب سولہ گھنٹوں بعد ہسپتال سے واپسی ہوئی ہے تو جتنا ممکن ہو سکا وہ میں بھیجتا رہوں گا عالمی اخبار کی انطامیہ کا بے حد مشکور ہوں اس بلاگ کو ایک یادگار بلاگ بنانے پر اللہ آپ سب کا حامی و ناصر ہو
    ظفر قابل
    ———————
    دعا کہ ہے خدائے پاک ظفر بھائی کو صحت و سلامتی عطا فرمائے۔ آمین

    ——————–
    – 15 مئی 2010 کو بزم احباب حیدرآباد کی جانب سے قابل اجمیری کو اعتراف فضیلت ایوارڈ دیا گیا جو ظفر صاحب نے وصول کیا انکی تازہ ترین تصویر یہی ہے۔

    http://www.aalmiakhbar.com/blog/wp-content/uploads/2010/06/zafarqabil1-230-x-173.jpg
    ———————
    قابل اجمیری صاحب کی یادگار تصاویر۔
    http://www.aalmiakhbar.com/blog/wp-content/uploads/2010/06/qabilajmeri-mushaira.jpg


    http://www.aalmiakhbar.com/blog/wp-content/uploads/2010/06/qabil-ajmeri-faimly.jpg
    ————
    http://www.aalmiakhbar.com/blog/wp-content/uploads/2010/06/ajmeri.jpg

  13. ظفرقابل بھائی آپ کی صحت کے لئے ایک دم سے بہت تشویش ہو گئی ہے .. آپ کا ..میرا .. ہم سب کا رب بہت ہی کریم اور شفیق ہے .. وہی آپ کا حامی و ناصر رہے ..اور آپ کو صحت کامل عطا فرمائے .. بھائی آپ کچھ دن تو آرام کر لیتے .. یہ بلاگ جب تک مصباح بھائی اور آپ چاہیں گے یونہی آباد رہے گا .. آپ اس کے لئے اتنے فکر مند نہ ہوں اور اپنی صحت کی طرف زیادہ سے زیادہ توجہ کریں .. وہ کہتے ہیں نا کہ جان ہے تو جہان ہے … آپ کے لئے ہم سب دعاگو ہیں کہ اللہ پاک اپنے حبیب اور اپنے حبیب کے پیاروں کے صدقے آپ کو شفا کے ساتھ عمر درازعطا فرمائے .. آمین
    دعا گو
    نگہت نسیم

  14. اللہ عبدالرحیم قابل اجمیری مرحوم اور انکی اہلیہ نرگس قابل مرحومہ کو جنت میں جگہ دے۔ آمین
    اللہ انکے سعادت مند فرزند جناب روشن ضمیر ظفر قابل کے دل کی بیماری دور کرکے انکو طویل اور صحت مند عطا کرے ۔ اور انکو اپنی بیٹی شانزے کی خوشیاںدیکھنا نصیب کرے : آمین
    ۔۔۔۔۔
    ظفر قابل صاحب نے یہ تصاوہر سید مصباحسیں صاحب کے ہاتھوں اس بلاگ میں چسپاں کرکے اس بلاگ میں جان ڈال دی اور تمام پڑھنے والوں کو قابل سے غائبانہ ملنے کا موقع عطا کیا ۔ شکریہ ۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔

    ظفر قابل صاحب ان تصاویر کے ساتھ ساتھ قابل کے اطراف جو حضرات ان تصاویر میں دکھا ئی دے رہے ہیں انکے نام بھی لکھدیں تو بہتر رہے گا۔ ( میرے اندازے کے مطابق ریڈیو پاکستان حیدرآباد کے مشاعرےکی تصویر میں قابل اجمیری کے ساتھ حمایت علی شاعر صاحب بھی موجود ہیں جن کے بارے میں اس بلاگ میں چند ایک اشارے موجود ہیں ۔۔)
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    یہ سب کام ظفر قابل صاحب اپنی مکمل صحت یابی کے بعد کرسکتے ہیں۔ فی الوقت وہ اپنی صحت پر توجہ دیں اور ہم سب کے لیے کوئی کام ہو یا کسی قسم کی بھی خدمت کی ضرورت ہو تو بلا جھجک اس بلاگ میں لکھدیں تاکہ ہم میں سے کوئی اپنی استطاعت اور توقیق کے مطابق انکی خدمت کرسکے۔ اور قابل کے کلام کی اشاعت اور تشہیر کے سلسلے میں انکا ہاتھ بٹاسکے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔
    قابل کا یہ شعر بھی خوب ہے کہ :

    بہار آئے نہ آئے کلی کِھلے نہ کِھلے
    نسیمِ صبح چمن کا طواف کر آئی

    فقط:
    خیر اندیش
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  15. تصحیح : اگر نظر ثانی کرنے والی ہستی میرے اوپر کے تبصرے میں جناب سید مصباح حسین جیلانی صاحب کے نام کی کمپوزنگ میں مجھ سے جو غلطی ہوئی اس کی تصحیح کردے تو مشکور ہونگا۔

  16. قابل اجمیری اور ساحر لدھیانوی نے ایک ہی زمین میں غزلیں کہی ہین ۔ اور یہ دونوں غزلیں پڑھنے کے قابل ہیں :

    پہلے ساحر لدھیانوی کی یہ چھ اشعار پر مشتمل غزل ملاحظہ کیجیئے:

    خود داریوں کے خون کو ارزاں نہ کرسکے
    ہم اپنے جوہروں کو نمایاں نہ کرسکے

    ہو کر خرابِ مئے ترے غم تو بھلا دییے
    لیکن غمِ حیات کا درماں نہ کرسکے

    ٹوٹا طلسمِ عہدِ محبت کچھ اس طرح
    پھر آرزو کی شمع فروزاں نہ کرسکے

    ہر شئے قریب آکے کشش اپنی کھو گئی
    وہ بھی علاجِ شوقِ گریزاں نہ کرسکے

    کس درجہ دل شکن تھے محبت کے حاد ثے
    ہم زندگی میں پھر کوئی ارماں نہ کرسکے

    مایوسیوں نے چھین لیے دل کے ولولے
    وہ بھی نشاطِ روح کا ساماں نہ کرسکے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    نوٹ : حسبِ معمول ساحر لدھیانوی نے اپنی اس غزل میں کوئی مقطع نہیں لکھا ۔ ( ساحر لدھیانوی کی غزلوں کی یہ خصوصیت قابلِ غور ہے کہ ان میں مقطع کے اشعار نہیں ہیں ۔ ۔پتہ نہیں کیوں ساحر لدھیانوی نے اپنا تخلص اپنے کسی شعر میں استعمال نہیں کیا ۔ اس کے مقبابلے میں ساحر صدیقی نے اور قابل اجمیری نے اپنی بہت ساری غزلوں میں مقطع کے اشعار لکھے ہیں )
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اب قابل اجمیری کی اس غزل کےنو اشعار پر مشتمل غزل بھی پڑھیے اور ان اشعار کی لطافت کا لطف لیجئے :

    آسودگی ء شوق کا ساماں نہ کرسکے
    جلوے مری نگاہ پہ احساں نہ کرسکے

    تم نے مسرتوں کے خزانے لُٹا دیے
    لیکن علاجِ تنگی ء داماں نہ کرسکے

    آنکھوں سے ٹوٹتے رہے تارے تمام رات
    لیکن کسی کو زینتِ داماں نہ کرسکے

    شائستہ ء نشاطِ ملامت کہا ں تھےہم
    اچھا ہوا کہ چاک گریباں نہ کرسکے

    اک والہانہ شان سے بڑھتے چلے گئے
    ہم امتیازِ ساحل و طوفاں نہ کرسکے

    ہم جانِ رنگ و بو ہیں گلستاں ہمیں سے ہے
    یہ اور بات خود کو نمایاں نہ کرسکے

    کچھ اس طرح گذر گیا طوفانِ رنگ وبو
    غنچے بہا ر سے کوئی پیماں نہ کرسکے

    ہر صبح جاگتا ہوں نئی آرزو کے ساتھ
    غم مجھ کو زندگی سے گریزاں نہ کرسکے

    قابل فراقِ دوست میں د ل بجھ کے رہ گیا
    جینے کے حوصلےبھی فروزاں نہ کرسکے

    ۔۔۔۔۔۔۔
    میرے اندازے کے مطابق اس زمین میں قابل اجمیری نے اپنی غزل ساحر لدھیانو ی کی غزل سے پہلے لکھی تھی ۔

    اگر میرا یہ اندازہ غلط ہے تو براہ کرم اس کی تصحیح کردیجئے ۔
    فقط:

    علم کا خواہاں
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  17. مجھے نصرت فتح علی مرحوم کی گائی ہوئی قابل اجمیری مرحوم کی اس غزل کے بقییہ اشعار پڑھنے کی خواہش ہے۔ اگر کوئی قاری کلیات اقبال سے اس غزل کو مکمل کردے تو مہربانی ہوگی:

    وہ کب آئیں خدا جانے ، ستارو تم تو سوجاو
    ہوئے ہیں ہم تو دیوانے ، ستارو تم تو سوجاو

    کہاں تک مجھ سے ہمدردی ، کہاں تک میری غمخواری
    ہزاروں غم ہیں انجانے ، ستارو تم تو سو جاو

    ہمیں روئدادِ ہستی رات بھر میں ختم کرنی ہے
    نہ چھیڑو اور افسانے ، ستارو تم تو سوجا و

    ہمارے دیدہ ء بے خواب کو تسکین کیا دوگے
    ہمیں لوٹا ہے دنیا نے ، ستارو تم تو سوجاو

    ۔۔۔۔۔۔۔
    فقط:
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  18. بہن نگہت نسیم، محترم مصباح جیلانی صاحب اور محترم منظور قاضی صاحب آپ سب کا بے حد مشکور ہوں کہ آپ حضرات نے مزاج پرسی کی اور اپنی نیک تمنائوں کا اظہار کیا خدا کا شکر ہے کہ آج کافی حد تک بہتری نظر آ رہی ہے امید ہے کہ کل کراچی روانہ ہو سکوں گا
    آآپکی نے لو ث دعائوں کا طالب
    ظفر قابل

  19. محترم منظور قاضی صاحب نے تصویروں میں موجود دوسرے افراد کے بارے میں پوچھا ہے تو عرض ہے کہ ٹنڈوآدم کے مشاعرے والی تصویر میں دوسرا فرد غالبا اس وقت کے ڈپٹی کمشنر کوئی فرشوری صاحب ہیں اور ریڈیو پاکستان حیدرآباد والے مشاعرے میں ایک تو یقینا محترم حمایت صاحب ہیں دیگر افراد کا مجھے پتہ نہیں چل سکا اسی لئے میں نے کوئی بھی نام لکھنے سے گریز کیا

  20. محترم منظور قاضی صاحب کی نذر مکمل غزل

    وہ کب آئیں خدا جانے ستارو تم تو سو جائو
    ہوئے ہیں ہم تو دیوانے ستارو تم تو سو جائو

    کہاں تک مجھ سے ہمدردی کہاں تک میری غمخواری
    ہزاروں غم ہیں انجانے ستارو تم تو سو جائو

    گزر جائے گی غم کی رات امیدو تو جاگ اٹھو
    سنبھل جائیں گے دیوانے ستارو تم تو سو جائو

    ہمیں روداد ہستی رات بھر میں ختم کرنی ہے
    نہ چھیڑو اور افسانے ستارو تم تو سو جائو

    ہمارے دیدئہ بے خواب کو تسکین کیا دو گے
    ہمیں لوٹا ہے دنیا نے ستارو تم تو سو جائو

    اسے قابل کی چشم نم سے دیرینہ تعلق ہے
    شب غم تم کو کیا جانے ستارو تم تو سو جائو

  21. تڑپتی کوندتی ہر چیز قابل دل نہیں ہوتی
    حرارت کرمک شب تاب سے حاصل نہیں ہوتی

    کچھ ایسا مطمئن ہوں اپنی ناکامیٔ پیہم سے
    کہ جیسے رہروغم کی کوئی منزل نہیں ہوتی

    شکستِ جام پر میخانہ سارا گونج اٹھتا ہے
    مگر حیرت ہے آوازِِ شکستِ دل نہیں ہوتی

    کوئی اس وقت دیکھے کشتۂ ضبط محبت کو
    زبانِ حال بھی جب ترجمانِ دل نہیں ہوتی

    بقید عقل آساں کام بھی آساں نہیں ہوتا
    بہ فیض عشق مشکل بات بھی مشکل نہیں ہوتی

    رخِ پرنور کے قرباں نگاہ مست کے صدقے
    طبیعت شعر و ساغر کی طرف مائل نہیں ہوتی

    ہنسی لب پرچمک آنکھوںمیںاطمینان چہرے پر
    کسی عنوان تصدیق شکستِ دل نہیں ہوتی

  22. یہ غزل خون رگ جان اور کلیات قابل میں شامل ہے مگر آج مکمل غزل پہلی بار عالمی اخبار میں شائع ہو رہی ہے

    آسودہ شوق کا ساماں نہ کر سکے
    جلوے مری نگاہ پہ احساں نہ کر سکے

    ہم خاک اڑاتے پھرتے ہیں بازار مصر میں
    رعنائی خیال کو ارزاں نہ کر سکے

    آیا نہ اس کی شان تغافل میں کوئی فرق
    ہم اعتبار گردش دوراں نہ کر سکے

    تم نے مسرتوں کے خزانے لٹا دیئے
    لیکن علاج تنگئی داماں نہ کر سکے

    آنکھوں سے ٹوٹتے رہے تارے تمام رات
    لیکن کسی کو زینت داماں نہ کر سکے

    شائستہ نشاط ملامت کہاں تھے ہم
    اچھا ہوا کہ چاک گریباں نہ کر سکے

    اک والہانہ شان سے بڑھتے چلے گئے
    ہم امتیاز ساحل و طوفاں نہ کر سکے

    ہم جان رنگ و بو ہیں گلستاں ہمیں سے ہے
    یہ اور بات خود کو نمایاں نہ کر سکے

    کچھ اس طرح گذر گیا طوفان رنگ وبو
    غنچے بہار سے کوئی پیماں نہ کر سکے‘

    ہر صبح جاگتا ہوں نئی آرزو کے ساتھ
    غم مجھ کو زندگی سے گریزاں نہ کر سکے

    یاروں نے دوستی کے تقاضے بدل دیئے
    لیکن میری وفا کو پشیماں نہ کر سکے

    قابل فراق دوست میں دل بجھ کے رہ گیا
    جینے کے حوصلے بھی فروزاں نہ کر سکے

  23. آبرو ہے قرینے والوں کی
    اپنے لب آپ سینے والوں کی

    مرنے والوں کو رو رہا ہے کیا
    بیکسی دیکھ جینے والوں کی

    بڑھ کے ساغر کو توڑ دے کوئی
    روح تشنہ ہے پینے والوں کی

    ہم تو پروردئہ تلاطم ہیں
    مشکلیں ہیں سفینے والوں کی

    دل ہی ٹوٹیں گے جام کے بدلے
    انجمن ہے قرینے والوں کی

    زخم دل بھی ہنسی اڑاتے ہیں
    دامن چاک سینے والوں کی

    ہم بہت یاد آئے ساقی کو
    گفتگو تھی نہ پینے والوں کی

    سہل کر دی ہیں مشکلیں کتنی
    مرنے والوں نے جینے والوں کی

  24. ماشااللہ ظفر قابل صاحب آپ نے اپنے والد مرحوم کی غزلیں شامل کرکے ہم جیسے قابل کے کلام کے شیدائیوں کی عید کردی۔
    قابل اجمیری کا ہر شعر ایک گوہرِ نایاب کی طرح ہے ۔ وہ اپنی کم عمری ہی میں استادوں کی طرح اشعار کہتے تھے ۔
    ۔
    ظفر قابل صاحب سے صرف یہ کہنا ہے کہ اگر ظفر قابل صاحب اپنے والد مرحوم کے ( مندرجہ بالا ) اشعار میں سے کچھ اشعار کی کمپوزنگ پر نظر ثانی کریں تو ان اشعار کے پڑھنے میں آسانی رہےگی ۔
    ۔۔
    اللہ کا شکر ہے کہ ظفر قابل صاحب صحت یاب ہوگئے ہیں۔ ہم سب کی دلی دعائیں ان کے ساتھ ہیں۔
    ۔۔۔۔
    قابل کا یہ شعر بھی خوب ہے کہ:

    بقیدِ عقل آساں کام بھی آساں نہیں ہوتا
    بہ فیضِ عشق مشکل بات بھی مشکل نہیں ہوتی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    فقط:
    خیر اندیش
    منظور قاضی
    جرمنی سے

    نوٹ : ا گر اس بلاگ میں قابل اجمیری مرحوم کے تمام قدرداں افراد اپنےاپنےتبصرے شامل کرتے رہیں تو کافی رونق لگ جائے گی ۔

  25. محترم منظور ضاقی صاحب سے عرض ہے کہ دراصل جو چیزیں میں پیش کر رہا ہوں وہ میرے پاس انپیچ کی فائلوں میں ہے جو میں انپیج سے یونی کود converter سے تبدیل کر رہا ہوں انپیج میں چونکہ زیر زبر پیش وغیرہ کا استعمال ہوا ہوا ہے لہذا یونی کوڈ میں کچھ تبدیلی محسوس ہوتی ہے

  26. ظفر قابل صاحب اگر ،ناسب سمجھیں تو وہ ا ن پیج سافٹ ویر میں لکھے ہوئے اپنے والد مرحوم کے اشعار اور نثری مضامین میرے ای میل کے پتہ پر اور ساتھ ہی ساتھ سید مصباح حسین جیلانی صاحب اور ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ کے ای میل کے پتوں پر بھی بھجوادیں۔

    اگر میرے کمپیوٹر نے ساتھ دیا تو میں ان اشعار کو ( اور اگر کوئی مضمون ہو تو اسکو بھی ) یونی کوڈ میں تبدیل کرکے اس بلاگ میں شایع کردونگا۔ اور اگر میری کمپوزنگ میں کوئی غلطی ہوجائےتو اسکی تصحیح ہم سب کی مدد سے ہوسکتی ہے۔
    ۔۔۔
    فی الوقت ظفر قابل صاحب اپنی صحت کی طرف توجہ دیں اس لیے کہ جان ہےتو جہان ہے قبلہ !!
    ۔۔۔۔۔۔۔
    فقط:
    دعاگو
    منظور قاضی
    جرمنی سے
    manzoorquazi@gmail.com

  27. گذشتہ ماہ کی 17 تاریخ کو گوگل سرچ پر ایک ہندی بلاگ پر اچانک نظر پڑی ایک جوان منیش کمار جو اردو نہیں جانتا اسی غزل یعنی عشق انسان کی ضرورت ہے پر تبصرہ کر رہا ہے لیکن اس سے بھی زیادہ حیرت مجھے اس کی معلومات پر ہوئی اس بلاگ کو میں نے گوگل ٹراسلیشن سے ہندی سے اردو میں منتقل کیا ہے پیش کر رہا ہوں

  28. اسی کا دہائی میرے لئے ہمیشہ نوسٹالجیا زگار رہا ہے. فلم موسیقی کے اس جرمی کال نے غزلوں کو جس طرح مقبول موسیقی کا حصہ بنا دیا وہ اپنے آپ میں ایک منفرد بات تھی. اس دور کی سنی غزلیں جب اچانک ہی زتہن میں صموتا ہیں تو من آج بھی بالکل سے پچیس سال پیچھے چلا جاتا ہے. بہت کچھ تھا اس وقت دل میں محسوس کرنے کے لئے ، پر ساتھ ہی بڑے کم اختیارات تھے من کے جذبات کو الفاظ دینے کے لئے.

    پہلے بھی آپ کو میں اپنی انہی پرانی یادوں کے سہارے راج کمار ریزوی ، راجيںدو مہتا ، نانوا پلوٹا اور ایناز مسانی کی گائ اپنی پسندیدہ غزلوں سے ملیوار رہا ہوں. اسی ترتیب میں آج باری ہے اس دہائی کے مقبول غزل گلوکار پنکج صھاس کی. اس دہائی میں پنکج جی کی مقبولیت کا عالم یہ تھا کہ ان کے گائے گیت اور غزلیں مثال کے طور پر ‘چاندی جیسا رنگ ہے تیرا’ ، ‘اک طرف تیرا گھر اک طرف میکدا..’ ، ‘ئخنئرانی ٹوٹ گئے..’ گلی خککڑوں پر ایسے بجا کرتے تھے جیسے آج کے ہٹ فلمی گیت.

    اتنا ہوتے ہوئے بھی پنکج صھاس میرے پسندیدہ غزل گلوکار کبھی نہیں رہے. پر اس یاپمٹی کا واسطہ مجھے ان کی آواز سے کم پر ان کی طرف سے منتخب شدہ غزلوں سے زیادہ رہا ہے. پنکج صھاس نے غزلوں کے انتخابات سے اپنی ایک ایسی تصویر بنا لی جس سے ان کی گائ ہر غزل میں ‘شراب’ کا ذکر ہونا لازيمی ہو گیا. غزلوں کا دور مندا ہونے پر پنکج نے کچیک فلمی گیتوں میں بھی اپنی آواز دی اور درمیان درمیان میں غزل کے اککی دککی یلبو نکالتے رہے.

    سال 2006 میں غزل گاويقی کے 25 سال پورے ہونے پر انہیں ادمشری سے ایوارڈ بھی دیا گیا تھا. حال فی الحال میں پنکج صھاس اپنی اس پرانی تصویر کو دھونے کی کوشش کر رہے ہیں. 2004 میں انہوں نے میر اتقی ‘میر’ کی غزلوں سے منسلک یلبو نکالا اور آج کل وہ داغ ‘دہلوی’ کی غزلوں سے ربط رکھنے یلبو کو نکالنے کی تیاری میں ہیں.

    خیر لوٹتے ہیں آج کی غزل پر جس کا مکڑا اچانک گزشتہ ہفتے میرے ہوٹھوں پر آ گیا.. قابل اجمیری کی لکھی اس غزل کو یوں تو اقبال بانو نے بھی گایا ہے پر پنکج صھاس کا انداز کہیں زیادہ دلکغ ہے. تو آئیے گوشہناتے تے ہیں پنکج صھاس کے ساتھ اس غزل کو

    تم نا مانو مگر حقیقت ہے
    عشق انسان کی ضرورت ہے

    حسن ہی حسن جلوے ہی جلوے
    صرف احساس کی ضرورت ہے

    اس کی میفل میں بیٹھ کے دیکھو
    زندگی کتنی خوبصورت ہے

    جی رہا ہوں اس اعتماد کے ساتھ
    زندگی کو میری ضرورت ہے

    پر پنکج جی نے قابل اجمیری صاحب کی پوری غزل نہیں گائ ہے. اس کے باقی ا شعار کے روبرو ہونے سے پہلے اس انجان سے شاعر کے بارے میں کچھ باتیں. قابل اجمیری ، محسن بھوپالی ، اختر انصاری اکبرٹبادی اور حمایت علی شاعر کے مکالین تھے. ساٹھ کی دہائی میں قابل کا نام پاکستان کے ادبی جائزہ میں صمرٹ. پر یلق پر یہ ستارہ مزید دنوں تک چمک نہ رہ سکی اور اکتس سال کی کم عمر میں ہی ٹی بی کی بیماری سے متاثرین ہونے کی وجہ سے وہ چل بسے. اپنے وقت کے شاعروں کی آپسی مائدیبصتا اور ان کی بیماری نے انہیں زندگی بھر پریشان رکھا. پھر بھی زندگی کے فی ان کی آسمتھا ختم نہیں ہوئی اور شاید اسی لیے انہوں نے لکھا.

    جی رہا ہوں اس اعتماد کے ساتھ
    زندگی کو میری ضرورت ہے

    کچھ سال پہلے پاکستان میں ان کا ایک اوی مکلن چھپا تھا جس کا نام ان کی اسی مشہور غزل کے نام پر ‘عشق انسان کی ضرورت ہے’ رکھا گیا ہے. تو آئیے ملاحظہ کریں اس غزل کے باقی اشعار

    کچھ تو دل مبتلائے وحشت * ہے
    کچھ تیری یاد بھی قیامت ہے

    میرے محبوب مجھ سے جھوٹ نہ بول
    جھوٹ صورت اے گر صداقت ہے

    اس کے وعدت پہ ناز تھے کیا کیا
    اب درو بام سے ندامت ہے

    راستہ کٹ ہی جائے گا قیبل
    شوق اے منزل اگر سلامت ہے

    11 comments :
    فرٹجت خان on Tue May 11 ، 02:54:00 PM 2010 said…
    بہت خوب…

    رنجنی on Tue May 11 ، 03:41:00 PM 2010 said…
    بالکل آپ سے ہی خیال ہیں میرے پنکج صھاس جی کے بارے میں…
    اتنی خوری سر کے مالک ہونے کے باوجود ان کا گیت موسیقی انتخاب ایسا رہا کہ سنگین / درجے سننے والوں کے دل میں وہ جگہ بنا سکیں…
    لیکن یہ جو شپل آپ نے بھیجی جانے کی ہے ، یہ مجھے بھی بہت پسند ہے…

    قابل اجمیری جی کے بارے میں معلومات بالکل نئی تھی میرے لئے… بڑا اچھا کیا آپ نے اسے پیش کر…

    راج زباٹیقی on Tue May 11 ، 11:42:00 PM 2010 said…
    بہت خوبصورت جی

    Udan Tashtari on Wed May 12 ، 05:27:00 AM 2010 said…
    لطف آیا مہیش جی.. خوبصورت ڈیمو.

    Noopur Shrivastava on Wed May 12 ، 11:37:00 PM 2010 said…
    hmmm.. pankaj udhas ki sari gazalein mujhe bhi koyee khas pasand nahi hain.. sirf kuch ikka dukka hi.. unmein se ye ek hai…. jo mujhe bahot aachi lagti hai.. shukriya sunvanein ke liye…

    مجورر on Thu May 13 ، 01:28:00 AM 2010 said…
    صحیح کہا.. پنکج صاحب اپنی آواز کی وکملیت کے باوجود مجھے بھی خوب نہیں بھا سکے تو اس کی وجہ شزلوں کی نااتشو شرانوشی ہی تھی.. اور ان کی شراب میں ماپرک سے مزید ویکمیپرک لگتی تھی مجھے.. حالانکہ ابھی کچھ مکلنوں میں بہت اچھی شزلیں آئی ہیں ان کی.. خاص طور پر ایک جو لگی ‘دعاؤں کی بھیڑ میں’
    اور قابل صاحب کے بارے میں پتہ ہونا پوسٹ پڑھنے کی کامیابی رہا!!

    نیوپ گوسوامی on Thu May 13 ، 07:21:00 PM 2010 said…
    مہیش جی پنکج صھاس صاحب کا غزل انتخاب اور آواز مجھے کبھی روچکر نہیں لگی… ان کے دور میں مہدی حسن ، غلام علی کی ٹوٹی بولتی تھی.. ان کی غزل گائیکی اور غزل انتخاب کے سامنے پنکج جی میری نظر میں پیچھے رہ جاتے تھے. .. آپ نے قابل اجمیری صاحب کے بارے میں جو معلومات دی ہے وہ نئی ہے ، آپ اس کے لئے اتہی دل سے شکریہ…
    نیوپ

    دلیپ کیٹھیکر on Fri May 14 ، 10:58:00 PM 2010 said…
    میں بھی یہی سوچتا ہوں پنکج اداس کے بارے میں. انہیں اس بات کا تھودا ملا سا تھا کہ ان کی آواز میں مہزدی سہا کی ترلر ، مینڈ اور بکتيں نہیں تھی یا زگجیتجی جیسی سر کنٹرول اور خرپ کی ریازن آواز ، انہوں مجھ سے کبھی اس خوف کا ذکر بھی کیا تھا. شاوف اسی ڈر سے وہ ہمیشہ ہلکے فلک گانے ، نغمے لیتے رہے ، اور اس بات سے خوش ہوتے رہے کہ تقریبا ہر ٹرک میں ان کے گانے بجتے ہیں. ان کی دھن بنانے والوں یز بھی تھودا انہیں گمراہ ہی کیا.

    ویسے یہ گیت کافی تدھا ہوا گیا ہے ہلکی مایدنی کے ساتھ ، جیسا دیواروں سے ملکر رونا..

    Manish Kumar on Sun May 16 ، 11:16:00 PM 2010 said…
    پنکج صاحب کی گاويقی کے بارے میں آپ سب کہ آواز کو پتہ ہونا خوکٹ رہا. جیسا کہ دلیپ جی نے کہا پنکج جی کی اپنی حدود میں رہ کر ہی ہلکی یلکی غزلیں لیتے رہے. پر کبھی مزید کلاکاری دکھلی ہوئے بھی براہ راست براہ راست غزل گا دینا بھی دل کو چھو جاتی ہے. میرے خیال سے اور پپیصی نوپر اور دلیپ جی نے کہا اپنی سینکڑوں غزلوں میں سے کچھ ایسی ضرور رہی ہیں جنہیں عام جن کے ساتھ ساتھ غزل کے جانکار بھی پسند کرتے رہے ہیں.

    امید ہے ان کے نئے یلبمز میں وہ کچھ نیا کرنے کی کوشش کریں گے.

  29. مندرجہ بالل بلاگ کوپیش کرتے ہوئے مجھے اسی کتاب میں شائع اپنا لکھا ہوا نوٹ بھی یاد آ گیا وہ بھی پیش ہے

    عرض مرتب

    برصغیر پاک و ہند میں گزشتہ 42 سال میں قابل صاحب کا کلام دو مجموعوں اور کلیات قابل کی شکل میں متعدد بارشائع ہو چکا ہے۔اِس بار ایک مختصر انتخاب کی صورت میں پیش کیا جا رہا ہے۔دیپاچے یا پیش لفظ کی بجائے محترم ممتاز راشد کا مضمون آخر میں دیا جا رہا ہے کہ یہ مضمون قابل اجمیری کی زندگی کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور اس میں دیگر اہلِ نقد و نظر کے مضامین اور تاثرات کے حوالے بھی موجود ہیں۔

    42 سال قبل جس غزل کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور سرقہ کا بے بنیاد الزام بھی لگایا گیا اتفاق سے وہی غزل عوام و خواص میں مقبولیت حاصل کر گئی اور قابل مرحوم کی پہچان بنی برصغیر کے ممتاز گلوکاروں نے گا کر اسے اردو دنیا کے گوشے گوشے میں پہنچا دیا۔اِس انتخاب کا نام بھی اِسی مقبول غزل کا مصرع ہے۔اِس انتخاب کے نام کے پیشِ نظر غزلوں کا انتخاب کیا گیا ہے لہذا ابھی بہت سی مشہور غزلیں باقی ہیں جو دوسرے انتخاب میں شامل کی جائیں گی۔
    آخر میں میں شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں محترم محسن بھوپالی کا جنہوں نے ہمیشہ رہنمائی فرمائی ساتھ ہی کلام کے انتخاب میں مدد کی اور اِس انتخاب کی اپنی شدید علالت اور پیرانہ سالی کے باوجود نہایت دیدہ ریزی سے پروف ریڈنگ کی۔محترم احمد رئیس کاجن کی قابل مرحوم سے محبت قابلِ رشک ہے۔قابل صاحب سے متعلق ان کی لائبریری میں نہایت گراں قدر مواد اور اکابر کے خطوط موجود ہیں۔علاوہ ازیںبین الاقوامی شہرت یافتہ فنکار محترم معین اختر اور جدید صحافت کے علم بردار محترم الیاس شاکر کا بھی شکر گزار ہوں جن کی تحریک پر اِس انتخاب کی اشاعت ہوئی۔

  30. اگر ظفر قابل صاحب اپنےایک محسن اور قابل اجمیری مرحوم کے مخلص دوست جناب محسن بھوپالی کے متعلق اس بلاگ میں کچھ تحریر فرمائیں تو اس بلاگ کی افادیت اور بڑھ جاے گی ۔

    میں ایک عرصہ پہلے محسن بھوپالی اور حمایت علی شاعر دونوں کو ٹیکسس ( امریکہ ) میں دیکھ چکا ہوں ۔ ان دنوں محسن بھوپالی اپنے گلے کی تکلیف کی وجہ سے اپنا کلام پڑھنے میں دقت محسوس کررہےتھے اس لیے حمایت علی شاعر صاحب ان کے قریب رہکر انکا کلام دہرایا کرتے تھے تاکہ سننے والوں کو محسن بھوپالی کا کلام پوری طرح سننے میں آسانی ہو۔
    ۔۔۔۔

    اگر ظفر قابل صاحب ، محسن بھوپالی کے کچھ اشعار بھی اس بلاگ میں لکھد یں اور انکے اور قابل اجمیری کے درمیان جو دوستانہ تعلقات تھے ان پر بھی روشنی ڈالیں تو اچھا رہےگا ۔

    فقط:
    خیر اندیش
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  31. محترم منظور قاضی صاحب آپ نے درست لکھا ہے امریکہ کے مشاعروں کے بارے میں محسن صاحب کے سفرنامہ امریکہ میں ان باتوں کا ذکر ہے
    محترم محسن بھوپالی کی شخصیت اور شاعری کے بارے میں بات کرنے کے لئے میرے خیال سے ایک الگ بلاگ کی ضرورت ہو گی یہ بلاگ پہلے ہی کافی طوالت اختیار کر چکا ہے
    آپ کے حکم کی تعمیل کر رہا ہوں ماسٹر الطاف حسین کے ساتھ تصویر ارسال خدمت ہے

  32. جناب محترم قاضی صاحب کے حسب حکم ظفر صاحب کی ارسال کردہ مرحوم و مغفور قابل اجمیری صاحب کی یاد گار تصویر۔

    http://www.aalmiakhbar.com/blog/wp-content/uploads/2010/06/11.jpg
    ——————–
    http://www.aalmiakhbar.com/blog/wp-content/uploads/2010/06/Picture-022.jpg

  33. ہم عظیم شاعر اور عظیم انسان جناب قابل اجمیری کو اردو ادب کے لئے بلند خدمات پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ اس بلاگ میں انکی نجی زندگی، مسائل اور محترمہ نرگس قابل اجمیری کی سے متعلق یادوں کو اچھے لفظوں سے دہرایا گیا ہے اور ابھی تو تھا مرے پہلو میں سانس لیتا وہ۔۔۔۔ کے مصداق انکی یادیں ہمارے دلوں پر اپنے نقوش چھوڑ گئی ہیں۔
    اس بلاگ میں ہم نے بہت کم انکی ہمہ جہت شاعری کے محاسن، محرکات، زاویہ جات اور اسلوب پر بات کی، لیکن سچ یہی ہے کہ انکی شاعری کی رفعت اور اوج تخیل ہم لوگوں کے تجزیات و تنقیدات سے بہت پرے کی بات ہیں۔ انکی شاعری جہاں ذاتی محسوسات اور حسد گزیدہ روح کی ترجمان تھی وہیں وہ عظمت رفتہ کی تجدید کرتے بھی نظر آتے ہیں اور شمع امید کو روز فردا کے لئے روغن جاں سے فروزاں بھی رکھتے ہیں۔ انہوں اردو ادب کے لئے نئی راہیں بھی کھولیں اور بلندی ء کردار کی تمثیل بھی چھوڑی۔ جب کہا کہ جی رہاں ہوں اس یقین کے ساتھ کہ زندگی کو مری ضرورت ہے۔۔۔۔تو خود کو ہمیشہ کے لئے امر کردیا ان محفلوں میں جہاں زندگی ملتی ہے۔ زندگی چلتے پھرتے جسموں کا نام نہیں بلکہ اقدار کی سلامتی، علم و ہنر کی فراوانی اور دلوں میں گھر کرتے رشتوں کا نام ہے۔ آج وہ ہمارے مابین نہیں ہیں اور کم و بیش نصف صدی سے نہیں ہیں، لیکن انکی اقدار، اور ان سے محبت کے رشتے یوں باقی ہیں جیسے کہ ابھی تو سر راہ ملاقات ہوئی تھی۔ ان سے ملنے کی خواہش دلوں میں یوں پیدا ہو جاتی ہے جیسے کہ وہ اس دار فانی سے ملک بقاء کی طرف گئے ہی نہ ہوں۔ اردو ادب میں جب بھی کہیں غزل پر بات چھڑے گی تو قابل کا نام ضرور آئے گا۔ کسی فرد کا کسی زبان پر نقش چھوڑ جانا اسکے علمی و ادبی مقام کی دلیل ہوتی ہے۔ یہی قابل کاحوالہ ہے اور یہی اسکی زندگی کا اعتبار ہے۔ قابل اجمیری زندگی کو آج بھی آپ کی ضروت ہے اور آج بھی آپ زندہ ہی تو ہیں۔
    دعا ہے کہ خداوند متعال انکو اور انکی رفیقہ حیات اور محسنہ نرگس قابل اجمیری کے درجات بلند تر فرمائے اور انکے فرزند جناب ظفر قابل کو صحت و سلامتی کے ساتھ باپ کے نقوش ہائے علم و ادب کو مزید جاوادانی بخشنے کا موقع عنایت فرمائے۔
    اس بلاگ کو آج میں سب کے صد ہا صد تشکرات کے ساتھ کل سے بند کرنے کا اعلان کر رہا ہوں اور سبھی دوستوں سے درخواست ہے کہ جب بھی کبھی یہ بلاگ دیکھیں، کم از کم ایک مرتبہ قابل اور انکی اہلیہ کے لئے سورہ فاتحہ تلاوت فرما دیں۔ بھائی ظفر قابل صاحب اور دیگر احباب سے درخواست ہے کہ اپنے اختتامی کلمات کل شام تک عنایت کر دیں تا کہ بعد میں فدوی اس کو بند کر سکے۔
    اگر کوئی دوست بعد میں اس بلاگ کے اند کوئی ایسا اضافہ کرنا چاہیں جو سب کے لئے مزید معلومات کا سبب بن سکے تو فدوی کو مندرجہ ذیل پتے پر ای میل کردیں۔
    hussainmisbah@gmail.com
    نا چیز

  34. میں جناب سید مصباح حسین جیلانی صاحب (ترجمانِ عالمی اخبار سے ) درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس لافانی بلا گ کو اس لافانی شاعر قابل اجمیری مرحوم کےلیے ایک دعائے جاریہ کی طرح کھلا رکھیں اس لیے کہ جیسا کہ انہوں نےخود کہا ہے کہ :

    “ آج وہ ہمارے مابین نہیں ہیں اور کم و بیش نصف صدی سے نہیں ہیں، لیکن انکی اقدار، اور ان سے محبت کے رشتے یوں باقی ہیں جیسے کہ ابھی تو سر راہ ملاقات ہوئی تھی۔ ان سے ملنے کی خواہش دلوں میں یوں پیدا ہو جاتی ہے جیسے کہ وہ اس دار فانی سے ملک بقاء کی طرف گئے ہی نہ ہوں۔ “
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    قابل اجمیری پر یہ بلاگ تو بقول سید مصباح حسین جیلانی ابھی تشنہ ہے اس لیے کہ :

    “ اس بلاگ میں ہم نے بہت کم انکی ہمہ جہت شاعری کے محاسن، محرکات، زاویہ جات اور اسلوب پر بات کی، “

    اس حقیقت کو تسلیم کرنے کا تقاضہ ہے کہ اس تشنہ بلا گ کو ہمیشہ کے لیےکھلا رکھا جائے تاکہ قابل اجمیری کی شاعری کے شیدائی اس کی شاعری کے “ محاسن ، محرکات ، زاویہ حیات اور اسلوب “ پر کھل کر بات کرسکیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ایک اور بات کہتا چلوں کہ سید مصباح حسین جیلانی صاحب نے اپنے تبصرے میں قابل اجمیری مرحوم کی شاعری سےمتعلق اپنے تبصرے میں یہ انکشافات کیے :

    “انکی شاعری جہاں ذاتی محسوسات اور حسد گزیدہ روح کی ترجمان تھی وہیں وہ عظمت رفتہ کی تجدید کرتے بھی نظر آتے ہیں اور شمع امید کو روز فردا کے لئے روغن جاں سے فروزاں بھی رکھتے ہیں۔ انہوں اردو ادب کے لئے نئی راہیں بھی کھولیں اور بلندی ء کردار کی تمثیل بھی چھوڑی۔ “

    میں انتہائی ادب کے ساتھ سید مصباح حسین جیلانی صاحب سے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ قابل اجمیری کی شاعری میں جہاں “ اسکےذاتی محسوسات “ موجود ہیں وہاں اس کے اشعار کی عظمت یہی ہے کہ اسکی شاعری میں کوئی شعر ایسا نہیں ملتا جس سے یہ نتیجہ نکا لا جائے کہ قابل کی“ روح حسد گزیدہ تھی “ !!!

    یہ ضرور ہے کہ غم جاناں کے ساتھ ساتھ قابل نے غم دوراں کا بھی شکوہ کیا ۔

    مگر میرے خیال میں قابل اجمیری “ حسد “ جیسے جذبہ سے بالکل بالا تر تھا ۔ اس لیے کہ اس کو علم تھا کہ اسکا مقام اسکے ہم عصروں میں بہت ہی بلند رہا ہے ۔

    قابل اجمیری کی شاعری کے قدر داں تو جگر اور سیماب تھے اس لیے اسکو کسی ہم عصر شاعر سے حسد کرنےکی ضرورت ہی نہیں تھی ۔

    افسوس کہ قابل کے دوست نما دشمن صرف قابل اجمیری کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اس کے چند ہم عصر شعرا کے بار ے میں افسانہ نگاری کرتے رہے ہیں۔ اور قابل اجمیری اور اسکے ہم عصر شعرا کے تعلقات کو غالب اور ذوق اور آتش و ناسخ کی حاسدانہ چشمکوں کی طرح ڈرامائی انداز میں پیش کررہے ہیں ۔ ۔

    اس قسم کی چشمکوں کا اظہار نہ قابل اجمیری کے اشعار میں اب تک پڑھا اور نہ میں نے اس کےکسی ہم عصر کے اشعار میں پڑھا ۔

    نوٹ : اگر میں غلطی پر ہوں تو براہ مہربانی قابل اجمیری کے ایسے اشعار اس بلاگ میں لکھ دیجئے ( اوراسکے ساتھ ساتھ قابل اجمیری کے ہم عصر شعرا کے اشعا ر بھی لکھد دیجئے ) جن میں ہم عصرانہ رقابتوں اور چشمکوں کی “ ترجمانی “ کی گئی ہو۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بہر کیف : میں جناب سید مصباح حسین جیلانی صاحب سےدرخواست کرتا ہوں کہ اس بلاگ کو ہمیشہ کے لیے بند کرکے قابل اجمیری کی روح کو مقید نہ کریں ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    اگرقابل اجمیری مرحوم کےفرزند ظفر قابل اس بلاگ کو بند کرنے کی سفارش کررہے ہیں تو یہ الگ بات ہے۔ مگر میں اس سلسلہ میں ان سے بھی یہ ہی درخواست کرونگا جو میں سید مصباح حسین جیلانی صاحب سے کرچکا ہوں۔

    ۔۔۔۔۔
    فقط:
    قابل اجمیری کی شاعری کا دلدادہ
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  35. عذتمآب جناب قبلہ قاضی صاحب سلام مسنون۔
    میں نہیں چاہتا کہ اس بلاگ کو ہم ہمیشہ کے لئے کھلا رکھ کر نئی نئی بحثوں کا دروازہ کھول دیں جیسا کہ میرے خراج تحسین میں سے بھی موشگافی کی گنجائیش نکل آئی ہے۔ شاعر کے ذاتی محسوسات اسکی صرف اپنی زندگی کے گرد نہیں گھومتے بلکہ اور بھی غم ہیں زمانے میں محبت کے سوا کے مصداق وہ اوروں کے غم و اندوہ کو بھی محسوس کرتا ہے اور کبھی اہل ستم کے حسد کا شکار خود ہوتا ہے اور کبھی دوسروں کے زخم پر پٹی باندھتا ہے۔
    آپ فرماتے ہیں کہ قابل کو کسی حسد و حساد کا سامنا نہ تھا، تو چلیں آپ کی فرمائیش پر سر تسلیم خم کئے لیتے ہیں، ورنہ اگر حوالے رقم ہونے لگیں تو صفحات بھرنے لگیں گے اور بحث در بحث وہی ہوگا جو میں اس بلاگ میں نہیں چاہتا، اور نہ ہی ہونے دوں گا۔
    بصد معذرت اس موضوع پر مزید بحث نہیں ہوگی اور نہ ہی اس بلاگ کو ان ذیلی مباحث کے لئے کھلا رکھا جائے گا۔ آج شام تک باقی مہربانوں اور مکرمی ظفر قابل صاحب کے تبصرہ کے انتظار کے بعد اسے بند کر دیا جائے گا اور مزید تبصرہ کے لئے اگر مجھے کوئی ای میل مناسب تبصرے کے ساتھ ملی تو میں خود اس میں اضافہ کروں گا، انشاء اللہ۔ امید ہے آپ میری مجبوری کو سمجھ کر اس عمل کو گستاخی پر محمول نہیں فرمائیں گے۔
    تاہم اگرآپ مناسب سمجھیں تو قابل صاحب کی شاعری اور اسکے محاسن پر مباحث کے لئے نیا بلاگ کھول سکتے ہیں، کیونکہ تحقیق کا در تو کئی پہلؤ ں سے کھولا جا سکتا ہے، اور یوں قابل پر ایک بار پھر سے لوگوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کا موقع مل جائے گا۔
    مشکور

  36. سید مصباح حسین جیلانی صاحب بلاگ کو کھلا رکھیں یا نہ رکھیں یہ انکی مرضی پر منحصر ہے ۔
    ۔۔۔
    میں تو ایک بلاگ اس کے پہلے قابل اجمیری پر اسکی زندگی اور اسکی شاعری پر لکھ چکا ہوں ( جس کی بنیاد پر یہ موجودہ بلاگ ظہور پذیر ہوا ) اب مجھے قابل اجمیری پر کسی نئے بلاگ لکھنے کی ہمت نہیں۔
    اگر اس بلاگ میں ہی کوئی ذیلی موضوع آجائے تو اسے حذف کرنے کا اختیار بلاگ نگار سید مصباح حسین جیلانی صاحب کو تھا ۔ مگر انہوں نے اس بلاگ کو ہمیشہ کے لیے بند کرنے کا فیصلہ کرہی لیا تو مزید لکھنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

    فقط:
    قابل اجمیری مرحوم کو دعائے مغفرت اور ظفر قابل صاحب کو طویل اور صحت مند عمر کی دعاوں کے ساتھ
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  37. محترم مصباح جیلانی صاحب
    آپ کو اس یادگار بلاگ کو شروع سے لے کر اختیتام تک خوش اسلوبی سے چلانے پر مبارک باد پیش کرتا ہوں محترم صفسر ہمدانی صاحب بہن نگہت نسیم اور ادارہ عالمی اخبار کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے اس بلاگ کے زریعے پوری دنیا تک میرے والد کے کلام شخصیت اور فن سے آگاہ کرنے کی جامع کوشش کی اور اس بلاگ کو نمایاں رکھا۔مستقبل میں قابل اجمیری پر کسی بھی کام کرنے والے کو یقینا اس بلاگ سے بہت مدد ملے گی۔
    جناب منظور قاضی صاحب اور جناب ظفر جعفری صاحب کی قابل فہمی قابل ستائش ہے اور یہ سب بلاگ ان کی ہی تحریک پر بن سکے انشا اللہ آئندہ بھی کام ہوتا رہے گا کلیات قابل ترتیب کے آخری مراحل میں ہے اور مجھے یقینا خوشی ہو گی کہ میں عالمی اخبار میں مکمل کلیات قابل پیش کروں۔
    آخر میں کہنا چاہوں گا کہ اس بلاگ میں میری لکھی کسی تحریر سے کسی کی دل شکنی ہوئی ہو تو معافی چاہتا ہوں۔اس بلاگ کو پڑھ کر اگر کسی صاحب کو کسی وضاحت یا کسی معلومات کی ضرورت ہو تو میرے ای میل اور موبائل پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

    ظفر قابل
    canvaskhi@yahoo.com
    mob no.92-300-2175990

Comments are closed.