سگریٹ پر اس بجٹ میں فی فلٹر ایک روپیہ ٹیکس لگا ہے تو اس میں سرکار کی بڑی رمز پوشیدہ ہے۔ ظاہر ہے جہاں لوگوں کو کھانے کو روٹی کے دو نوالے دستیاب نہیں ہیں وہاں وہ اضافی بیس روپے فی پیکٹ کہاں سے لائیں گے، عام آدمی کے باپ کی کوئی شوگر ملیں تھوڑاچل رہی ہیں کہ انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس لیئے عام آدمی اس کا توڑ یوں نکالے گا وہ شروع کرے گا بغیر فلٹر کے سگریٹ جیسے کےٹو سادہ یا بگلا مارکہ ،جس میں فلٹر نہیں ہوتا۔ کیونکہ ٹیکس فلٹر پر ہے اس لیئے یہ ٹیکس بھی ان پر لاگو نہیں ہوتا۔
حکومت کا پسِ پردہ مقصد یہ ہے کہ غریب آدمی جو فلٹر والے سگریٹ پی پی کر خوامخواہ اپنی عمر میں اضافہ کرکے حکومت کے لیئے آبادی ، بےروزگاری، لوڈشیڈنگ اور صحت جیسے مسائل پیدا کر رہا ہے وہ اس سے باز آجائے ۔ بغیر فلٹر کے سگریٹ پینے سےکل کا مرتا آج مرجائے، پھر اُسے نہ آٹا مہنگا ہونے کی شکایت ہوگی نہ ہی چینی کے ناپید ہونے کی، ساتھ ساتھ آبادی کا مسلئہ بھی قابو میں رہے گا جس کی وجہ سے لوڈشیڈنگ میں بھی کمی آئے گی۔
جو لوگ فی الوقت فلٹر والے سگریٹ پینے کی استطاعت رکھتے ہیں، ان پر مسقبل میں کئی ایسے ٹیکس لگائے جائیں گے کہ وہ بھی بغیر فلٹر والے سگریٹ پینا شروع کر کے ، دھڑادھڑ مریں گے اور ملکی ترقی میں اپنا حصہ بٹائیں گے۔
پاکستان زندہ باد، حکومتِ پاکستان پائندہ باد

امجد شیخ صاحب ایک زمانےکے بعد اپنے اس انتہائی دلچسپ بلاگ کے ساتھ عالمی اخبار میں آئے.
لطف آگیا .
انکا یہ بلاگ پاکستانی حکومت کی حکمت عملی کو پیش کرتاہے جس کے ذریعہ پاکستان کی آبادی میں کمی کی جاسکتی ہے.
فلٹر پر ٹیکس لگا کر نکوٹین کے عادی غریبوں کو بغیر فلٹر کی سگریٹ پینے پر مجبور کرنا بھی اسی حکمت عملی کے تحت ہے.
میں امجد شیخ صاحب کی اس دعا پر آمین کہتا ہوں کہ:
پاکستان زندہ باد اور حکومت پاکستان پائیندہ باد
اللہ تعالی وطن عزیز کے ہر دلعزیز وزیر خزانہ کو ہزار سال کی عمر دے اور انکے اہل وعیال ہر اپنی عنایات کی بارش کرتا رہے کہ انکی اس دور اندیشی نے ہمارے امجد شیخ کو ایسی نیند سے جگا دیا ہے کہ اس موقع پر اس نیند کی مثال بھی نہیں دے سکتا۔
شکریہ،زرداری صاحب کہ آپ نے یوسف گیلانی کو اجازت دی کہ وہ حفیظ صاحب کو وزیر خزانہ بنا سکیں اور شکریہ یوسف گیلانی صاحب کہ آپ نے ایسا نادر و نایاب وزیر خزانہ تلاش کر لیا کہ جس نے امجد شیخ کو بھی لکھنے پر مجبور کر دیا۔ سبحان اللہ۔ دیکھا آپ نے کھوٹے سکوں کا کمال؟
امجد بھائی خوب لکھا ہے آپ نے۔اس حکومت کی دوراندیشیوں پر لکھنے کے لیئے عمر خضر درکار ہے۔
لیکن اللہ کے لیئے کبھی کبھی بلاگ میں آتے رہا کریں۔ مانا کہ آپ مصروف اور صرف ہم ہی فارغ ہیں لیکن آپ جیسے جید فرد کے آنے سے ہم جیسے بچوں کو حوصلہ ملتا رہتا ہے۔
آپ بلاگ میں تشریف لائے ہم سب کی طرف سے آپکا شکریہ،تھیکنس،دھنے باد،Dank u،ممنون،Merci،Danke،اری گاتو،Jag tackar
،Gracias
دنیا کے کئی ممالک میں تمباکونوشی کومضرصحت قراردےکراس ہرپابندیاں لگائی جاچکی ہیں یماری حکومت نے شرمندہ شرمندہ ساہوکر ٹیکس لگانے پر اکتفااس لئےکہ ملٹی نینشل کمپنیاں بھاری بھتے دے کراسے پابندیاں لگانے سے روکے ہوئے ہیں
عوام کا بھلا ہی کرنا ہے تو اس پر پابندی لگادیں ۔۔۔
لیکن جہاں عوام کو مارنا مقصودہووہاں یہ سب چلتاہے۔۔
ناصر زیدی صاحب۔آپکو بھی بلاگ میں جی آیاں نوں، لگتا ہے کہ ماموں کھپے سے کوئی معاملات طے پا گئے ہیں آپکے جو ایسی مصروفیت ہے
ارے بھائی یہ کیا ہو گیا کہ جنگل کا جنگل ہرا ہو گیا … بھئی آپ لوگ مجھے پہلے تو حیران ہونے دیں .. پھر خوش ہونے دیں .. جی بھر کر کہ آج امجد بھائی بلاگ کی طرف آئے ہیں .. جی چاہ رہا ہے کہ ایک شکریہ کاخط وزیر خزانہ کو روانہ کروں کہ ان کے قدم اتنے مبارک ہوئے کہ امجد بھائی جیسے مصروف ترین انسان کو بھی بلوانے میں کامیاب ہو گئے … بابا آپ تو بیکار ہی پاکستانی وزیر مشیر کے پیچھے رہتے ہیں .. دیکھئے ان کا کارنامہ … جی آیاں نوں بھائی جی … بس جی خؤش کر دیا آپ نے .. اتنا کہ ساری باتیں ہی دماغ سے فلٹر ہو گئ ہیں ..
ارے آپ سب کی محبتوں کا بے حد شکریہ، ہمدانی صاحب جانتے ہیں کہ میں ایک اصول کی وجہ سے مجبور تھا، بے اصولی نہیں کر سکتا تھا۔ خدا کا شکر کے ایک امتحان سے گزرا ہوں، گزشتہ پانچ ماہ میں کسی قسم کا کوئی ذاتی کام نہیں کیا، یہ پہلی تحریر ہے جو پانچ ماہ کے بعد کل رات لکھی ہے ۔
جناب امجد شیخ صاحب ۔سلامت رھیں ۔سگریٹ کا فلٹر اور دوراندیش حکومت ۔ کی نادانی ۔ پر واویلا مچانے کی کیا ضرورت ھے ۔ ھمارے پاگل غریب عوام روٹی کی جگہ کیک اوربغیر فلٹر والے سگریٹ کی جگہ۔۔۔۔۔ شیخ رشید کی طرح سگار کیوں نیہں شروع کردیتے ۔۔۔ سابقہ آرمی امر کے سرکاری تحائف کی قیمت 40ملین بتائ جاتی ھے ’شنید ھے کہ پاکستان کھپے نے ”مشی “کو بھی بہت قمیتی سگار تحفے میں پیش کیے تھے اور یہاں مس شیریں رحمان کی سگریٹ نوشی کا کوئ ذکر نیہں ھے خواص تو جان بوچھہ کرنہ کچھہ پڑھتے ھیں اور نہ سنتے ھیں نہ نوشتہ دیوار اورنہ ان کو آنے والے وقت کی چاّ پ سنائ دیتی ھے
عوام کی اکثریت شرح خواندگی کم نیہں بلکہ نہ ھونے کے باعث ویسے بھی سگریٹ پر درج تحریری انتباہ کو پڑھنے سے قاصر ھے سو اس بات سے بے خبر ھے کہ سگریٹ جیسی نسبتا سستی ترین عیاشی سے گلے ،گردن ، اور منہ کے سرطان کا بھی خطرہ ھوتاھے
غربت ۔افلاس جہالت ،ناداری بیماری سے خوش
یہ عجیب بے حس لوگ ھیں
ایک سگریٹ انکی زندگی سے 8منٹ کم کررھا ھے ۔۔
اور یہ ھرروز ایک ڈیرھ ڈبیہ پیتے ھیں اور زندگی سے انتقام لیتے ھیں ۔
اگر ایک سگریٹ کا پیکٹ پینے والے صرف ایک ھی سگریٹ کم کردیں تو 5کروڑ روپے کی بچت ھوسکتی ھے
کاش یہ زندہ لوگ ھوتے ،،تو بچلی پانی گیس گھی شوگر کثافت ، ظلم ناانصافی کے خلاف آواز آٹھاتے کوئ احتجاج کرتے ۔
خاموش ، ساکت ، مردہ عوامی حلقوں سے کوئ گرجتی ، برستی آواز نیہں بلند ھوتی
جیسے
سب شہر خموشاں کے مکیں
السلام علیکم
امجد شیخ صاحب کمال کردیا آپ نے تو ایک سگریٹ سے فلٹر کو ایسے نکالا ہے جیسے بال کی کھال نکالی جاتی ہے ۔بہت ذبردست مزہ آگیا پڑھ کر )
اسی بہانے پاکستان کی وزارت بہبود آبادی والوں کی محنت بھی رنگ لائے گی ) اور آبادی بھی کم اور اسکا سہرہ بھی انکے سر ۔۔بہت زبردست:)
امجد بھائی آپ کتنا اچھا لکھتے ہیں ۔۔ کالم کیوں نہیں لکھتے ۔۔ دیکھئے ناں اس انداز میں لکھنا بہت مشکل ہوتا ہے اور ہر کوئی لکھ بھی نہیں سکتا ۔۔ اسقدر بے ساختگی اور بات سے بات نکالنا عطائے رب دو جہاں ہے ۔۔ بس اب جلدی سے مجھے اسی موضؤع پر کالم لکھ کر بھیج دیجئے ۔۔۔ دیکھئے ایک پیراگراف تو لکھا ھی ہوا ہے باقی کے تین لکھ دیجئے ۔۔۔ سچ یہ تاریخ محفوظ ہو جائےگی کہ فلٹر پر پاکستان کی پہلی حکومت ہے جس نے ٹیکس لگایا ہے اور مسائل کے خاتمے کی جانب کتنی دوراندیش پیش رفت ہے ۔۔ جلدی لکھیں میں انتظار کر رہی ہوں ۔۔۔
مصباح بھائی آپ کا کالم بھی مجھے نہیں ملا ابھی تک جس کی میں نے فرمائش کی ہوئی ہے ۔۔ لیکن اسی انداز میں جیسا وہ تبصرہ تھا ۔۔۔
چلو بلاگ فیملی میں رہ کر اس بات کا بھی پتہ چل گیا کہ سگریٹ کے فلٹر ہونے یا نہ ہونے سے عمر عزیز کے بڑھنے یا کم ہونے کا رشتہ بھی ہے، ورنہ ہمیں تو آج تک یہی معلوم ہو سکا تھا کہ اللہ نے ہر جاندار کی موت و حیات کا ٹائم مقرر کیا ہوا ہے ۔
تو آؤ سب مل کر کوشش کریں کہ ہمیں ان سینکڑوں ہزاروں برس پہلے کے لوگوں کے استعمال شدہ سگریٹ فلٹر کہیں موہن جو دڑو ، ھڑپّہ یا دیگر قدیم جگہوں سے مل جائیں اور ہم ویسے ہی فلٹر بنا کر اپنی سگریٹوں میں لگائیں اور اپنی عمر بھی پانچ سات سو برس کر لیں تا کہ لندن ، دبئی ، سوئیٹزرلینڈ، رائے ونڈ ، کراچی و دیگر نا معلوم جگہوں پر چھپائی ہوئی حلال دولت چار پانچ سو سال استعمال کرنے کا کچھ اور موقع تو ملے ۔
ویسے آجکل کے جدید اور سمجھدار دور میں سمجھدار انسان کو ہر اچھی بری چیز کے نفح و نقصان کا علم ہے، فلٹر اور بغیر فلٹر والی سگریٹ انسان کو زندہ رکھنے والا رزق ( کھانا پینا ) نہیں کہ زندگی کی گاڑی رواں رکھنے کیلئے اسے ضرور استعمال کیا جائے ۔ سگریٹ کے فلٹر کی اچھائی و افادیت بیان کرنا سگریٹ ہی کی حوصلہ افزائی کے مترادف ہے ۔ لہٰذہ ہر جگہ سگریٹ پینے کی حوصلی شکنی کرنے کی ضرورت ہے کہ اس سے صحت ، دولت ، ماحول اور معاشرے کی بربادی میں اضافہ ہو رہا ہے ۔
اگر ہم کسی ایسے فلٹر کی تلاش اور اس کے فائدے پر بات کریں جس میں سے ایمانداری، ملک و قوم سے محبت، سچائی، انصاف ، حلال رزق ، میرٹ کے روزگار کو راہداری ملے اور بے ایمانی، اقربا پروری، جھوٹ، حرام رزق، ناانصافی، رشوت، سود ، پلی بارگیننگ ، حاکم کی عدالتی چھوٹ ، سودوں میں کک بیکس اور ان جیسے دیگر مہلک وائرس نا صرف اس فلٹر میں پھنس جائیں بلکہ کسی این آر او کے خطرناک و مدد گار جراثیم آنے سے پہلے ہلاک بھی ہو جائیں ۔ ایسے فلٹر ایجاد کر کے اپنے وطن کے عوام کی آدھی بیماریاں تو فوراً ختم کی جا سکتی ہیں اور بہترین، پرسکون اور خوشحال انسانی معاشرے کی منزل بھی قریب ہو سکتی ہے ۔
بابا۔۔۔
گھروالا کمپیوٹر جواب دے گیاہے۔۔میں سستی مارااسے ابھی تک اس کے ڈاکٹرکےپاس نہیں لیجا سکا۔۔
اس لئے طویل غیر حاضری بلکہ غیر حاضریاں میرے کھاتےمیں چڑھ چکی ہیں ۔۔۔۔
باباجی۔۔۔۔۔
میں ۔۔ماموں کھپے سے کیامعاملہ کروں گا وہ تو خود بے شمارمعاملات میں پھنس چکاہے۔۔۔۔سپریم کورٹ صدرمشرف اینڈ کمپنی کولے
بیٹھی اوریہی چیف ماموں کھپے کولے ڈوبےگا۔۔۔۔۔
ماموں کی حالت اس لئے بھی زیادہ پتلی ہے کہ مشرف جو کہتاتھا وہ کرتاتھا اور جتنا کرتاتھا
ڈنکےکی چوٹ پر کرتاتھا لیکن یہاں گھڑی میں تولہ گھڑی میں ماشہ کےمصداق دن کو موقف کچھ اور تو رات کا راگ الگ ہوتاہے
اتنی قلابازیاں تو ہمارے مداری کا ایک بندرنہیں لگاتاجتنی ماموں کے یاراورعاشقان بےقرارلگاتےہیں ۔۔۔
عوام سے کھلواڑکرلیں کہ وہ ہمیشہ سے اس چیز کے عادی ہیں لیکن “جج صاحب”کا مزاج زراانوکھاہے۔
۔ماموں کےیاروں کواس چیز کی سمجھ نہیں آرہی ۔۔
۔چیف نے ایک باوردی ڈنڈابردارکاغذی کارتوس مارخان کے آگے ہتھیارنہیں پھینکے تو یہ کیاچیزہیں ۔۔
ماموں کھپےکو جب یہ سمجھ آئے گی اس وقت سارے ناہنجاریاراور عاشقان بےقراران سے “آوازار”ہوچکےہوں گے
رہی بات ہماری ۔۔۔۔ہمیں وقت پر تنخواہ مل جائے ساری زندگی اس جستجو، تگ ودو اورآس میں گزررہی ہے اور شاید آئندہ بھی گزر
جائے۔۔۔۔جن کو مل جاتی ہے وہ سارامہینہ یہی سوچتے رہتےہیں کہ کہاں خرچ کریں کہاں بچائیں
کیا لیں اور کیا نہ لیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بس رہے نام اللہ کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
السلام علیکم
کمال ہے ماموں کھپے کے تو پیچھے ہی پڑ گئے ہیں وہ مسکین تو بکرے کی طرح دو دانت نکالے ہنستے مسکراتے کھلکھلاتے حکومتی خرچ پر دنیا کی سیر کئیے جا رہے ہیں ۔ اور اب ایسا بھی نہیں کے وہ اکیلے ہی اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہوں ۔بھئی سب ہی کو تو ساتھ لے کے چل رہے ہیں ۔کون ہے جو انکی مفاہمتی حکومت میں شامل نہیں ہے؟مولانا اللہ کا فضل بھی تو انکے ساتھی ہیں ۔اور بندر سے تیز پلٹیاں کیوں نا ماریں وہ؟ آخر ملکی تاریخ کی سب سے بڑی کرپشن ہو رہی ہے ۔اس دور میں تو گنگا وہی ایک پرانی ہے جس سے باری باری سب نے اسنان کیا۔جسکا نمبر نہیں آیا تو باہر بیٹھ کر الزام لگاتا رہا مگراب اس گنگا میں تمام کے تمام سیاستدان ایک ساتھ غوطہ لگا رہے ہیں اس لئیے گولاٹیاں مارنا تو بنتا ہے ناں۔۔۔سب کو ساتھ لے کر جو چلنا ہے؟
رہی بات ماموں چیف کی تو وہ زمانہ اور تھا کے تحریک چلی اور چل سو چل ہو گیا ۔اس وقت تو تمام سیاست دان تالاب کے باہر کھڑے مشرف کے ٹولے کو گالیا دے رہے تھے کے کمبخت جان چھوڑیں تو ہم آئیں۔۔۔۔مگر اب تو انکےسے بڑے سیاسی ساتھی آدھے پاکستان پر حکومت کے مزے لوٹ رہے ہیں ۔اور انکی ہی برادری وکلا برادری چھپ چھپا کر چیک لینے میں لگی ہے ۔۔
ماموں چیف کی بھی مجبوری ہے اس جمہوریت کو بچانا ۔۔وہ بھی جانتے ہیں کے اگر یہ حکومت گئی تو ملک میں سیاست دانوں کا کال پڑ جائے گا سب تو لوٹ رہے ہیں بچے گا کون؟ پھر رہیں عمران خان یا پھر واپس ڈنڈے والی سرکار ۔۔۔۔۔؟
اب فیصلہ آپ کریں کے ماموں کھپے بے چارے مسکین وہی پانچ سال گزاریں یا پھر ڈنڈے والی سرکار ۔۔۔۔بوٹوں کے شور میں پاکستانی آئین کی بچے جتنی آواز کہاں سنائی دے گی؟
سگریٹ فلٹر ایجاد ہونے سے پہلے ایک وقت تھا جب سیاق و سباق سے ہٹ کر لکھنے پر امتحان میں میرٹ فلٹر لگا کر نمبر کاٹ لئے جاتے تھے ، اور تھرڈ ڈویژن ملنا بھی بہت مشکل بات تھی، مگر آج کل تو موضوع سے ہٹ کر لکھنے پر کوئی پابندی نہیں ہے ۔ بغیر فلٹر کے کش اور سوٹے لگا کر آپکے ذہن مبارک میں جو بھی بات آئے لکھ لکھ کر کاپی بھرتے رہیں اور اپنی حاضری پر داد اور واہ واہ واہ واہ وصول کرنے کے ساتھ ساتھ فلٹر سسٹم کے باوجود اے ۔ ون گریڈ بھی وصول کریں ۔ اور یہی تو اصل فلٹرڈ جمہوریت ہے ۔
پاکستان کی سگریٹ کی صنعت اس وقت شدید بحران کا شکار ہے گو کہ ایک روپیہ فی سگریٹ کا اضافہ نہیں ہوا ہے بلکہ 2 روپے سے 5 روپے فی پیکٹ تک کا اضافہ ہوا ہے لیکن یہ صنعت پہلے ہی دم توڑ رہی ہے کیونکہ غیر ملکی سگریٹ مارکیٹ میں پاکستانی سگریٹ کے مقابلے میں بہت زیادہ سستے ہیں اور اب بے حد مقبول ہو رہے ہیں جسکی وجہ سے سگریٹ کی صنعت میں انتہائی تیزی سے ڈائون سازی کا عمل جاری ہے