2010 ,July 31
ایک اور حادثہ جو بنے گا حوادث کا سبب۔۔۔(پھولنگر کا المیہ)

سیدمصباح حسین ، بتاریخ  September 29, 2009

آج ابھی ابھی ایک خبر پڑھی تو طبیعت انتہائی بے چین سی ہوگئی۔ خبر ہے کل کی اور وہ یہ ہے کہ پھول نگر میں جسم فروشی کے الزام میں تین خواتین کو شدید زدوکوب کرتے کرتے بیسیوں افراد کے مجمعے میں سر بازار عریاں کردیا گیا۔ پولیس ان خواتین کو اور لباس پہنا کر تھانے لے گئی اور جسم فروشی کا مقدمہ درج ہو گیا۔ ۔۔۔۔میرے خدا یہ سب کیا ہے؟ یعنی جسم فروشی تو جرم ہو گیا اور جسم بھنبھوڑنے والے درندوں کی طرف کوئی توجہ نہیں؟ اس جمگھٹے کی سربراہی کہا گیا ہے کہ ایک مذھبی شخصیت فرما رہی تھی؟
یہ ایک اور مذاق ہے ۔ نجانے ان صاحب کا کیا مذھب ہے جس میں عورتوں کو یوں سر عام رسوا کرنا درست مانا گیا ہے؟ سنا ہے پھولن دیوی بھی ایسے ہی حالات کا شکار ہوئی تھی۔ یہ بھی پھول نگر ہے۔ یہاں کے مہاراجے اور ٹھاکر بھی راجپوتانہ کی روایات کو زندہ تو رکھیں گے ناں۔
میں حیران ہوں تو اس بات پر کہ کیا جسم فروشی کے الزام کے بعد اتنے بڑے اقدام کا اختیار کسی کو کیونکر مل جاتا ہے؟ کیا ایسا عمل کسی نبی یا مرسل یا ان کے وصی سے بھی ظاہر ہوا ہے؟
پاکستانی معاشرے کو مد نظر رکھیں تو ہوتا یہ ہے کہ جو عورت کسی کی ناجائز خواہشات پوری نہ کرے، اسی کو بدنام کر دیا جاتا ہے۔ مجھے شدید خوف ہے کہ اس مذکورہ مذھبی شخصیت کی بھی ایسی ہی خواہشات تھیں جو نا تمام رہ گئیں تو وہ ان عورتوں کو سر عام برہنہ کرنے پر تل گئے تا کہ اپنے من کے کتے کو جنسی ہوس کی غذا کھلا سکیں۔
جسم فروشی ایک مسلمہ جرم ہے، لیکن کیوں آج تک جسم خریدنی کو جرم نہیں مانا گیا؟ خریدار تو سفید پوش اور معزز رہتے ہیں اور جسم فروش گناہ گار۔ کیا کسی نے جسم فروشی کا سبب بھی پوچھا؟ کیا اسکا مدعا محض گناہ تھا یا اسی تن کو لوگوں میں ڈھانپنے کی سعی تھی جس کو لوٹ لیا گیا؟ پچھلی امتوں میں ایسی باتوں پر زمین پھٹ جایا کرتی تھی اور آسمان گرجایا کرتا تھا۔ لیکن یہ پھولنگر ہے۔ یہاں امان ہی امان ہے۔ کیا ہوا کہ کبھی کوئی زلزلہ آ گیا یا سونامی آگئی تو، یہ ہمارے کرتوتوں کا نتیجہ تھوڑی ہے؟
زنا جیسے فعل کی اسلام نے جو چار گواہیاں طلب کی ہیں، وہ اتنی مشکل ہیں کہ شاید سر بازار کوئی یہ فعل کرے تو تبھی یہ گواہیاں پوری ہو سکتی ہیں۔ اسلام اس سے کیا چاہتا تھا؟ یقیقنی طور پر اسلام ستّار العیوب کا دیا ہوا نظام حیات ہے، جو عیب چھپا کر توبہ کا موقع دینا چاہتا ہے۔ اسلام محض الزام اور بہتان کی سخت سزا بھی اسی لئے سناتا ہے کہ لوگ من مرضی سے بدنامی کی کوششیں نہ کریں۔ لیکن یہ کیا کہ یہاں تو محض ایک الزام پر اتنا بڑا اقدام؟
کون کہ سکتا ہے کہ کوئی اور ملا کل کو کسی اور عورت کو اپنی ہوس کا نشانہ بنانے میں ناکام ہو جائے تو وہ بھی یہی کچھ کرے گا۔ سوات میں بھی تو طالبان نے اسی سنت کا اجراء کیا تھا ناں۔ تھانے میں پولیس والوں نے ان عورتوں کو کیسے رکھا اور کیا سلوک کیا، اللہ ہی کو معلوم؟

ہم صدر زرداری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے درخواست کرتے ہیں کہ اس واقعہ کی مکلمل تحقیات کرائی جائیں اور ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ سابقہ حکومت کے بجلی میٹر چیک کرنے والے چیف جسٹس سے بھی یہی درخوست ہے کہ ایک اور از خود کا نوٹس لے لیں جو حقیقت میں اس لائق ہے کہ اس میں عدلیہ اپنا کردار ادا کرے اور پولیس سمیت تمام ذمہ داران کو سزا دی جائے۔

لیکن دیکھئے کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہونے کو؟
شاید میری ہمت اور حوصلہ بہت کمزور ہیں جو اتنی سی بات پر لرزہ بر اندام ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ دوست کیا کہتے ہیں اس بارے میں۔
خبر کا لنک یہ ہے۔


22 تبصرے برائے “ایک اور حادثہ جو بنے گا حوادث کا سبب۔۔۔(پھولنگر کا المیہ)”

  1. نگھت نسیم نے کہا ہے:
    September 29, 2009 بوقت 4:08 am

    میرے خدا ۔۔ اب اور کیا کیا دیکھنا سننا باقی ہے ۔۔ میری تو روح ھی جیسے نکل گئی ہے مصباح بھائی ۔۔ تبصرہ کیا کروں ۔۔ مجھ سے تو بات ہی نہیں ہو رہی ۔۔

  2. ڈاکٹرکوثرجمال،سڈنی،آسٹریلیا نے کہا ہے:
    September 29, 2009 بوقت 5:04 am

    ہمارے وطن پاکستان یعنی پاک شہریوں کی اس بستی میں رونما ہونے والے المیوں میں ایک یہ بھی ہے کہ بیٹےً سرِبازار اپنی ًماؤںً کو برہنہ کرتے ہیں۔
    مصباح بھائی ، لکھتے رہیے، آپ کی تحریر کا نچوڑ یہ جملہ ہے ؛
    ٰ جسم فروشی ایک مسلمہ جرم ہے، لیکن کیوں آج تک جسم خریدنی کو جرم نہیں مانا گیا؟ ٰٰ
    ہمیں اپنی فکر،تحریر، تقریر اور عمل سے اس بات کی گواہی دینی چاہیے کہ جسم فروشی کے حالات پیدا کرنے والا معاشرہ جسم فرو شوں سے زیادہ بڑا مجرم ہے۔

  3. نگھت نسیم نے کہا ہے:
    September 29, 2009 بوقت 5:24 am

    دوستو ڈاکٹر کوثر جمال نہ صرف سڈنی کی سب سے بڑی افسانہ نگار ہیں بلکہ اردو ادب میں ان کا نام بڑے ہی قد آور افسانہ نگاروں میں لیا جاتا ہے ۔۔ سڈنی میں اردو سوسایئٹی کی صدر بھی ہیں اور ان کے افسانوں کی کئی کتابیں پڑھنے والوں کے دلوں میں قدرو منزلت پا چکی ہیں ۔۔ یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ڈاکٹر صاحبہ عالمی بلاگ کے فارم پر تشریف لائی ہیں ۔۔ میں آپ کو اپنی ٹیم اور قاریئن کی طرف سے خوش آمدید کہتی ہوں ۔۔۔ مجھے امید ہے کہ ہم آپ کے تبصروں کے ساتھ ساتھ آپ کی تخلیقات بھی عالمی اخبار کی زینت بنا سکیں گے ۔۔ مجھے انتظار رہے گا۔۔

    میں آپ کی ہم خیال ہوں کہ ہمیں ہر پلیٹ فارم سے یہ گواہی دینی چاھیئے جسم فروشی کے حالات پیدا کرنے والا معاشرہ جسم فرو شوں سے زیادہ بڑا مجرم ہے۔۔۔

  4. عبدالمناف نے کہا ہے:
    September 29, 2009 بوقت 6:06 am

    واضح رہے کہ تعزیرات پاکستان کے تحت کسی بھی خاتون کو سرعام برہنہ کرنے کی سزا موت ہے۔
    (مصباح بھائی کے اوپر دیے گئے لنک سے اقتباس)

  5. ڈاکٹرکوثرجمال،سڈنی،آسٹریلیا نے کہا ہے:
    September 29, 2009 بوقت 10:11 am

    شکریہ نگہت، میں کیا، میری اوقات کیا، ہاں البتہ آپ کی توصیف نے میرے احساسِ عاجزی کو دوچند کیا ہے۔ انشاالّلہ جلد آپ کی محفل میں اپنی کسی تحریر کی ساتھ شامل ہوں گی۔ جہادِقلم کے سفر میں میں آپ کے ساتھ ہوں۔

  6. شاھین رضوی نے کہا ہے:
    September 29, 2009 بوقت 10:32 am

    مصبا ح بھائ۔۔۔پھول نگر کو کانٹوں والی خا ردار بستی میں تبدیل ھوتے دیکھنے کا جاں لیوا د کھہ۔۔۔شا ید میں بھی بے حس ھوگی۔ ظلم کی خبریں پڑھتے ھوۓ پہلے دل ساکت ھوجا تا تھا۔۔پورا وجود کا نپ جا تا تھا۔۔شاید مین بہت بے جسں ھوگی ھوں۔۔ھم ایام جا ھلیت کی طرف لوٹ آے ھیں۔۔۔زما نہ جا ھلیت میں عورتوں کو زندہ د فن کر دینے کا رواج عا م تھا۔۔ پھول نگر کی وہ خواتین بھی زندہ درگور ھوگیں۔۔اب وہ کسی کو منہ د کھا نے کے قا بل کہا ں رہ گیں ؟
    پا کستا نی ا با دی کا 52 فیصد حصہ خو اتین پر مشتمل ھے۔۔،، میرے فقروں میں بے ترتیبی نظر اے تو وہ اسی گہری د کھہ بھری کیفیت کا ردعمل ھے
    ھمارے ھاں عورت کو سر بازار رسوا کرنے کی رسم عا م ھو رھی ھے۔۔ کیہں۔۔ کا رو کا ری ، کیہں غیرت کے نام پر،عورت کا استصال ھورھا ھے۔،،
    کیہں غیرت کے نام پر بے غیرت مرد بے گناہ عورتوں کو قتل کر دیتے ھین۔۔۔ ۔۔۔ پھول نگر کی ان عورتوں کو جس وقت برھنہ کیا جا رھا ھوگا،، ضررو آ نھیں نے محمد بن قاسم کو پکارا ھوگا،،، نوحہ وقت لکھہ رھے ھیں ھم ،،، اور چاھیے ادیبوں سے۔۔ ۔۔۔۔ایسے معملات میں ھما ری خاموشی۔۔۔۔۔۔؟
    اللہ رحم کرے

  7. شاھین رضوی نے کہا ہے:
    September 29, 2009 بوقت 10:45 am

    اس بے رحم واقعہ میں ملوث افراد کو سخت ترین سزا دینی چاھیے۔۔۔ مگر ۔کسں سے انصاف کی توقع ھے۔۔۔ ھمارے پولیس افسران، جن کی سر پرستی میں ایسے کام ھو تے ھیں،، کرپٹ ساست دان۔ اسکا لر۔۔ چیف جسٹں،،،؟ ھمارے صدر ۔۔۔۔۔۔۔۔، کون ان بے کسں عورتوں کی پکار پر لیک کہے گا،،،،

  8. صفدر ھمٰدانی نے کہا ہے:
    September 29, 2009 بوقت 10:46 am

    مجھے خوشی ہے کہ ڈاکٹر کوثر جمال صاحبہ عالمی اخبار کے بلاگ میں اپنی منفرد سوچ اور تازہ فکر کے ساتھ تشریف لائی ہیں ۔میں ذاتی طور پر انہیں خوش آمدید کہتا ہوں اور امید نہیں بلکہ یقین رکھتا ہوں کہ وہ بلاگ کے علاوہ اخبار میں کالم اور فکر ونظر کے عنوانات میں بھی اپنی فکر کی روشی بکھیریں گی۔
    ڈاکٹر کوثر جمال اور انکے شوہر جاوید رانا
    کوثر جمال صاحبہ کا تعارف ڈاکٹر نگہت نسیم نے کروا ہی دیا ہے مجھے صرف یہاں یہ عرض کرنا ہے کہ میں اپنے دورہ آسٹریلیا میں انکی میزبانی کا لطف اٹھا چکا ہوں اور انکے گھر کی دعوت کو ابھی تک نہیں بھولا
    مجھے یقین ہے کہ اس قلمی جہاد میں کوثر جمال صاحبہ ہماری ہم سفر ٹھہریں گی۔

  9. سیدمصباح حسین نے کہا ہے:
    September 29, 2009 بوقت 10:57 am

    بابا ہمیں آپ کا تبصرہ بھی درکار ہے۔ براہ کرم کچھ سطریں اس انتہائی سنجیدہ کرب پر بھی کشید کر دیں۔

  10. سیدمصباح حسین نے کہا ہے:
    September 29, 2009 بوقت 11:09 am

    میں ڈاکٹر کوثر جمال صاحبہ کا تہہ دل سے مشکور ہوں کہ اس نا چیز کی درخواست پر انہوں نے اپنے وقت کی تقسیم میں ہمیں بھی شامل کر دیا ہے۔ ان کا تبصرہ مختصر مگر جامع ہے۔ انکی مدبرانہ شخصیت اور علمی کام کے حوالہ سے انشاء اللہ جلد ہی انکا ایک انٹرویو بھی اس اخبار میں پیش کروں گا۔
    میں اس اہم موضوع پر تمام تبصرہ نگاروں کا مشکور ہوں، خاص طور پر محترمہ شاہین رضوی صاحبہ اور نگہت آپی کا۔
    جن حضرات کو تا حال قافیہ بندی سے فرصت نہیں ملی ان سے ہمیں شکایت تو نہیں ہے، لیکن اتنا ضرور عرض کرنا ہے کہ قومی المیئے پر سب اچھا جاننا اس قوم کی بے حسی کی نشانی ہی تو ہے۔ اس درد کو شاید درد نہیں سمجھا گیا اسی لئے اس طرف توجہ بھی نہیں گئی۔ ورنہ جتنے احباب اس ضمن میں اپنا مرثیہ پیش کرتے، اتنا ہی ایوان ہائے حکومت میں ہمارا رد عمل شدید ہوتا۔ لیکن۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔زندگی اپنی ذات کے حصار سے نکلے تو بات بنے۔ اسی لا یعنی تفکرات کی بھیڑ پر ایک گریہ دو دن پہلے نگہت آپی نے لکھا تھا۔ ہمارے پاس بے پناہ خیالات اور تصورات تو ہیں لیکن ہر ایک کی مسجد اپنی ہی ہے۔

  11. صفدر ھمٰدانی نے کہا ہے:
    September 29, 2009 بوقت 11:24 am

    برادر عزیز مصباح۔۔۔۔کیا لکھوں کہ باب العلم کی امانت یہ ”قلم” خون تھوک تھوک کر جیسے تھک سا گیا ہے۔ لیکن میں اس قلم کو مضمحل نہیں ہو نے دوں گا اسوقت تک جب تک آپ جیسے باضمیر دوست اس فقیر کے ساتھ ہیں۔
    یہ اور ایسے چند واقعات تو وہ ہیں جو اب پریس میں رپورٹ ہو جاتے ہیں یقین کریں کہ یہ جو کچھ سامنے آتا ہے آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہے۔ اگر ایک دن کے ایسے واقعات صرف ایک شہر لاہور کے تھانوں سے رپورٹ شدہ آپ لوگوں کے سامنے پیش کرؤں تو چکرا کے گر جائیں۔ یہ بھی سچ ہے کہ لوگ عزت کے ہاتھوں نوے فیصد ایسے واقعات کی رپورٹ بھی تھانوں میں نہیں کرتے کیونکہ تھانہ کلچر تو خود ہی ایسے لاتعداد جرائم کی بنیاد اور آماجگاہ ہے۔
    عزیزم مصباح۔ میں اس خبر کو آپکے بلاگ سے پہلے دیکھ چکا تھا اور جس وقت سے یہ بلاگ لگا ہوا ہے اسے متعدد بار پڑھ چکا ہوں اور صرف یہی سوچ رہا ہوں کہ پروردگار کا ہم جیسے گریہ کناں لوگوں کو یہ سب دیکھنے سننے کے لیئے زندہ رکھناآخر اسکی کیا حکمت اور مصلحت ہے؟
    ہماری اکثریتی بے ضمیر اور بردہ فروش قسم کی صحافت نے بھی ایسے واقعات کی از خود کھوج کا کئی کام نہیں کیا۔کرائم رپورٹر کی پہلی اور آخری جگہ مقامی تھانہ ہے جہاں سے اسے ایسے واقعات کی اطلاع ملتی ہے۔ صحافی بھی اب پجیرو اور ٹھنڈے کمرے میں بیٹھ کر اس بات کا منتظر رہتا ہے کہ خبر اسکے پاس چل کر آئے۔
    میں سمجھتا ہوں کہ ایسی خبروں کو پڑھنا بھی خود کشی ہے جو ہم روز کرتے ہیں لیکن حاکموں کا ایک ایسا خفتہ ضمیر ٹولہ بھی ہے جن کے دل قرآن کی زبان میں مقفل ہیں اور انہیں نہ دکھائی دیتا ہے اور نہ سنائی دیتا ہے۔
    آپ اندازہ کریں کہ وہ حکومت ایسے واقعات کا کیا نوٹس لے گی جسکا ایک وزیر ایسا بھی ہو جس نے بلوچستان میں عورتوں کو زندہ درگور کیا ہو۔
    وہ کیا انصاف دیں گے جنکی اپنی شوگر ملوں میں ہزارہا ٹن چینی ذخیرہ ہے اور عوام آٹے اور چینی کے لیئے سڑکوں پر ذلیل وخوار ہو رہے ہیں۔
    لعنت ہے ایسے حاکموں پر جو عوام کے ووٹ سے منتخب ہو کر عوام کی ہی عزتیں لوٹتے ہیں اور لعنت ایسے عوام پر بھی جو ان چوروں ڈاکوؤں اور بردہ فروشوں کو بار بار منتخب کرتے ہیں۔
    ہم سب کو مل کر یہ قلمی تحریک واقعی چلانی چاہیئے اور اس ظلم کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیئے کہ جسکی عزت لوٹی جائے وہی قابل گردن زدنی اور یہ حیوانی،شیطانی اور نفرین فعل کرے وہ صرف چند ہزار روپے کی ضمانت پر رہا ہو جائے؟
    ایسے ذلیل النفس لوگوں کے لیئے شاید کسی سرسری سماعت کی عدالت کی بھی ضرورت نہیں بلکہ ہمہ وقت تیار ”تارا مسیح جلاد” درکار ہے۔
    کبھی اگر آپ یہ واقعات سنیں کہ کیسے حکمرانوں کی اولادیں اپنے مزارعوں اور ملازمین کی خواتین کی عزت و عصمت کے ساتھ کھیلتے ہیں تو روح بدن کا ساتھ چھوڑ جائے۔
    میرے عزیز مصباح نہ کہا کرؤ مجھے یہ سب کچھ لکھنے کو۔ میں ادھ موا ہو جاتا ہوں، میرا بدن گھنٹوں کانپتا رہتا ہے۔ میری آنکھیں سوجھ جاتی ہیں اور روح مہینوں زخمی رہتی ہے۔ میرے دین نے خود کشی کو حرام کہہ کر مجھ جیسے کے ہاتھ باندھ دیئے ہیں ورنہ کب کا خود کشی کر چکا ہوتا۔لیکن سوچتا ہوں کہ روز ایسے واقعات کو پڑھنا اور ان پر لکھنا خود کشی ہی تو ہے۔
    بس اب مزید نہیں لکھا جاتا ہے قلم کا چہرہ لہو لہان ہے۔

  12. سید انور ظہیر رہبر نے کہا ہے:
    September 29, 2009 بوقت 2:34 pm

    محترم جناب سیدمصباح حسین صاحب، پچھلے کئ مہینوں سے کچھ متواتر پریشانیوں نے گھیر رکھا ہے اس لیۓ خاموش قاری بنا بیٹھا ہوں، لیکن ایسا ہر گز نہیں ہے کہ
    دل کڑھتا ہی نہیں اب کسی بات پر
    دل کڑھتا بھی ہے، جلتا بھی ہے اور اب عالم یہ ہے کہ اب وہاں راکھ ہی راکھ ہے اور کریدتے ہو جو راکھ جستجو کیا ہے کہ مترادف ہوچکا ہے۔ آپ صرف ایک پھول نگر کے حال پر بے حال ہیں ہمیں تو پورے پھول نگر میں لگنے والے کانٹوں نے زخمی کر ڈالا ہے۔ ابھی تو اس دھرتی پر کچھ دن قبل ہی مختاراں مائ کا واقعہ پیش آیا تھا، کس کس زمانے کی بات دھرائ جائے، جب حاکم وقت یہ بھول جائے کہ اسے مرنا بھی ہوگا اور مر کر خدا کے سامنے جوابدہ بھی ہونا ہوگا تو پھر یہی سب کچھ ہوتا ہے۔ جب ہر شخص نعوذباللہ خدا بن جائے گا تو دھرتی خون کے آنسو تو بہائے گی۔ کون کون سی خبر پر خود کو جلائیں گے، ہمدانی صاحب کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے لکھوں گا کہ کب تک ایسی خبریں پڑھکر ہمیں اور کتنی بار خودکشی کرنا پڑے گا۔

  13. شاھین رضوی نے کہا ہے:
    September 29, 2009 بوقت 4:15 pm

    بھائ مصباح ۔ شراب کی طرح جسم فروشی بھی قانونی جرم ھے۔عورت کو تما شہ بنا کر لطف لینے والے اس بے حس معاشرے کا کیا کہنا۔۔۔عورت کو سزا دینے میں زندہ درگور کرنے میں لمحہ نیہں لگاتے۔ ۔۔۔۔جسم فروشی جیسے منافع بخش کاروبار کو فروغ دینے میں
    ھر تھانے کے ایس ایچ او صاحبان کا کردار،،،،کہی سیاست دان اس کی جڑیں مضبوط کر رھے ھیں۔۔۔۔ ۔۔۔ھمارے پیارے وطن میں صرف 15 لاکھہ کے قریب جسم فروش ھیں۔۔۔۔ ھرس وھوس کا یہ عالم ھے کہ۔ صد فیصد منافع یخش کاروبار کو فروغ دینے کے لیےبنگلہ دیش سے 5 لاکھہ برما،افغانستان اور روس سے عورتیں لائ گی ھیں ،،۔۔کبھی کوي مرد گرفتار نہں ھوا،،، ابھی ھمدانی صاحب کا تبصرہ پڑھہ کر آنکھیں خون الود ھوگیں،،، کیا ھماری آراز نقارخانے میں طوطی کی آواز بن گی ،، چہا ں ھم کو آواز بلند کرنی چا ھیے وھاں ھماری خاموشی جبر کو تقو یت دیتی ھے ھم بھی تو مجرم ھیں ھماری خا مو شی کو آنے والے وقت کا مورخ کیانام دیگا۔۔۔صحا فی ،ادیب۔ اسکالر ،،انسانی حقوق کی تنظیمں،،،، ھمارا ضمیر،،،،میرے بھائ۔۔۔ کس سے اس عبرت ناک واقعہ کی تحقیق کرایئں،،، ،،، اس مذھبی شخصیت کا بھی تما شہ بنانا چاھیے ،،اور وہ تماش بین جو وھاں موجود تھے،،،،،۔۔۔۔پھول نگر میں رھنے والے سارے فرشتہ سیرت انسانوں نے تین گناہ گار عورتوں کا جلوس نکالا۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔،،، ۔۔ الامان الاحفیظ،،

  14. منظور قا ضی نے کہا ہے:
    September 29, 2009 بوقت 8:31 pm

    سید مصباح حسین جیلانی صاحب کا یہ بلاگ اس قدر المناک قسم کا ہے کہ مجھے اس پر تبصرہ کرنے کی جرائت نہیں ہوتی۔
    اب تک جتنے تبصرے لکھے گئے ہیں وہ سب اس موضوع کی سنگینی کو اجا گر کرنے کے لیے کافی ہیں ۔
    مگر میں پڑھنے والوں کی توجہ 17 ستمبر کے جاوید چودھری کے پروگرام میں ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان صاحبہ کی غیر پارلیمانی زبان جو انہوں نے کشمالہ طارق صاحبہ کے متعلق استعمال کی ہے اس کو سن کر حیران ہوں کہ ایک مہذب ترین خاتون ( ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان صاحبہ ) اس قدر گھٹیا قسم کے جملے جن میں “ ہیرا منڈی “ اور “ بیڈ روم “ تک کا طعنہ ہو وہ ایک مہذب ترین خاتون ( کشمالہ طارق صاحبہ ) کے بارے میں استعمال کرسکتی ہے۔ ( اس واقعہ کا تذکرہ عالمی اخبار میں بھی جناب صفدر ھمدانی صاحب نے اپنے ایک مضمون میں کیا ہے )
    افسوس صد افسوس کہ سب ہی اس حمام میں ایک جیسی پوشاک پہنے بیٹھے ہیں۔
    چوں ہمیں مکتب و ہمیں ملا
    کارِ طفلاں تمام خواہد شد

  15. منظور قا ضی نے کہا ہے:
    September 29, 2009 بوقت 11:59 pm

    کیا“ مسیار “ کی اجازت دے کر سعودی عرب اور دوسرے عرب ممالک نے مذ ہبی حدود میں رہکر جسم فروشی کو جائز نہیں قرار دیا؟
    28 ستمبر کے مبشر لقمان کے ٹیلیویژن پروگرام میں اس ،وضوع پر گفتگو ہوئی جس میں “ مسیار“ کی وضاحت یوں کی گئی کہ “مسیار “ کے معاہدہ کے تحت ایک غیر معینہ مدت ( چند دنوں یا چند گھنٹوں کے لیے) مرد اور عورت کو ایک دوسرے کی صحبت میں وقت گذارنے کی اجازت ہے ۔ اس میں نہ مہر کی ضرورت ہے اور نہ نان نفقہ کی پابندی ہے۔ بس مرد اور عورت جو چاہے اپنے درمیان ایک معاہدہ کرکے عارضی طور پر ایک دوسرے کے ساتھ وقت گذار سکتے ہیں۔ ( اس عارضی ملاپ کے نتیجہ میں اگر عورت حاملہ ہوجائے تو ایسی اولاد کی دیکھ بھال کی ذمہ داری کس پر ہوگی اس پر مبشر لقمان کے ٹیلی وژن پروگرام میں کوئی وضاحت نہیں کی گئی )

    اس اصطلاح سےاور جسم فروشی کے اس معاہدہ سے میں اب تک واقف نہیں تھا ۔

    مجھے یقین نہیں آرہا ہے کہ سعودی عرب جیسے قدامت پسند وہابی ملک میں “ مسیا ر “ کو جائز قرار دیا گیاہے۔ اور سعودی عرب کی تقلید میں دوسرے عرب ممالک میں بھی اس رسم ( معاہدہ ) کو جائز قرار دیا گیا ہے۔
    اگر یہ موضوع اس بلاگ کے موضوع سے مطابقت نہیں رکھتا ہے تو میں عالمی اخبار کی انتظامیہ کی “ نظر ثانی “ کرنے والی ہستی سے کہونگا کہ وہ اس تبصرے کو حذف کردے۔

  16. منظور قا ضی نے کہا ہے:
    September 30, 2009 بوقت 12:21 am

    اوپر کے تبصرے میں جس ٹیلی وژن پروگرام کا تذکرہ کیا گیا وہ یہ تھا :
    Express TV کا 28 اور 29 ستمبر کا پروگرام point Blank جو مبشر لقمان کی نظامت کے تحت پیش ہوا تھا ۔

  17. سیدمصباح حسین نے کہا ہے:
    September 30, 2009 بوقت 5:31 am

    قبلہ منظور قاضی صاحب۔
    تسلیمات۔
    توجہ فرمانے کا شکریہ۔ مسیار یعنی زوج المسیار یا متعہ النساء کے حوالہ سے صرف اتنا کہوں گا کہ مختلف فقہاء کے نزدیک اسکی صورت حال مختلف ہے۔ تاہم ہم عالمی اخبار پر اس حوالے سے بلاگ نہیں لگا رہے کیونکہ یہ مسئلہ فقہی نزاع اور جسنی تقسیم کا سبب بن جائے گا۔
    موجودہ مسئلے میں بھی میرا مقصد جسم فروشی کے دھندے پر لکھنا ہر گز نہیں بلکہ میری نظر قابل تعزیر اس فروشگاہ کے خریدار ہیں۔ اس بلاگ کا مقصد صرف اس مظلومیت کی طرف توجہ دلانا تھی جو ان عورتوں کے ساتھ روا رکھی گئی۔ اسلام میں اسکے سد باب کے اپنے اصول ہیں، لیکن یہ جو روا رکھا جا رہا ہے، یہ طریقہ مغرب و مشرق میں کہیں بھی قابل قبول نہیں۔اور پھر محض الزام کی بنیاد پر۔
    ہمارے معاشرے میں یہ رویہ بہت عام ہے کہ جس کو چاہا الزام دے کر قتل کر ڈالا اور جس کو چاہا اسکی عصمت سے کھیل لیا۔ اس کو اب بند کیا جانا چاہئے۔ بہت کھیل ہو گیا غیرت اور اسلام کے ساتھ۔ ۔۔۔میں یہ بھی کہتا ہوں کہ یہ برائی صرف ہمارے یہاں ہی نہیں، بلکہ مغرب میں بھی بدرجہ اتم موجود ہے جہاں طریقہ واردات مختلف ہے۔ بلکہ مغرب کی کہانیاں اور اور بھی شرمناک ہیں جن کو بیان کرنا بھی آسان نہیں۔ صرف حوالہ کے لئے اتنا کہوں گا کہ درجنوں عورتوں کی عصمت دری اور قتل کے مجرم کو سزا صرف چند برس ملتی ہے اور باپ اور بیٹی جیسے رشتوں کا تقدس نہایت دیدہ دلیری سے پامال کیا جاتا ہے۔ اس سے زیادہ برائی کیا ہوگی۔
    لیکن چونکہ ہم امت مسلمہ سے تعلق رکھتے ہیں، اس لئے کم از کم ہمیں تو عہد جاہلیت کی اسروش کو چھوڑ دینا چاہئے۔ مسلمان ہونے کے ناطے ہماری ذمہ داری بھی بڑی ہے اور ہمارا درد بھی سوا ہے۔
    ———————————————————————-

    شاہین بہن آپکی بات درست ہے کہ کس سے تحقیات کرائیں۔ لیکن وہ کیا ہے کہ کم از کم بروز محشر ہم مالک کو یہ تو کہ سکتے ہیں کہ ہم نے اس ظلم کے خلاف اپنی بریت کا اظہار کیا تھا۔ حدیث رسول (ص) ہے کہ جہاد کا کم از کم درجہ ظالم کو دل سے برا جاننا ہے۔ ہماری اس کوشش سے جہاں ظلم کی نشاندہی ہو رہی ہے، وہاں ظالم سے بریت کا پرچار بھی تو ہے ناں۔

  18. سیدمصباح حسین نے کہا ہے:
    September 30, 2009 بوقت 10:45 am

    محترم جناب سید انور ظہیر رہبر صاحب۔
    سلام مسنون۔
    اپنی گوناں گوں مصروفیات اور نجی مسائل کے باوجود آپ کا اس طرف متوجہ ہونا مسئلے کی شدت کی نشاندہی بھی ہے اور آپکے زندہ ضمیر کی آواز بھی۔
    دعا ہے کہ خلاق دو عالم بصدقہ وجہ وجود کائنات آپ کو بمعہ پورے خانوادے کے ان تمام پریشانیوں سے نجات بھی دے اور آئیندہ تمام مسائل اور پریشانیوں سے محفوظ و مامون بھی رکھے (آمین بجاہ محمد و آلہ الطاہرین)۔ خداوند متعال آپکا حامی و ناصر ہو۔
    ———————————————————————-
    قبلہ ہمدانی صاحب۔
    تسلیمات۔ آپکا تبصرہ تو واقعی اور بھی الم ہائے زندگی سے پردہ اٹھاتا ہے۔ ۔۔۔۔۔کس کس غم کا مرثیہ کہیں اور کہاں جا کر انصاف مانگیں؟۔۔۔۔۔۔اللہ ہی خیر کرے۔ شکریہ

  19. منظور قا ضی نے کہا ہے:
    September 30, 2009 بوقت 10:51 am

    سید مصباح حسین جیلانی صاحب کی وضاحت کا شکریہ ۔ میں انکی رائے کا احترام کرتاہوں۔ ویسے اس ٹیلیویژن پروگرام کے دیکھنے والے یہ بھی جانتے ہیں کہ “ مسیار“ کو “ متع“ سے مختلف کوئی رسم قرار دیا گیا تھا،
    ۔۔۔۔۔
    عورتوں کی تذلیل کے تدارک کے لیے اس بلاگ میں جو کچھ اب تک لکھا گیا ہے میں اس کی دل سے تائید کرتا ہوں۔
    افسوس کہ یہ مسئلہ آج کل کا نہیں برسوں پرانا ہے۔ مغرب میں عورتوں کے حقوق مردوں کے حقوق کے برابر ہیں مگر مغرب میں بھی جو مظالم عورتوں پر ڈھائے جاتے ہیں ان کے قصّے وہی جانتے ہیں جو مغرب میں رہتے ہیں۔
    مغرب میں رہنے والے یہ بھی جانتے ہیں کہ مغرب میں رہنے والی مغربی عورتوں نے بھی اپنی آزادی سے کتنا جائز اور ( ناجائز ) فائدہ اٹھا یا ہے۔

    اللہ ہماری مشرقی روایات کی پابند مشرقی عورتوں کی عزت اور عصمت اور حرمت کو ہمیشہ ہمیشہ برقرار رکھے ۔ آمین

  20. امین ترمذی (ڈیلس) نے کہا ہے:
    September 30, 2009 بوقت 2:11 pm

    قاضی صاحب اسلام علیکم
    آپ کی یہ بات تو ٹیپ کا بند ہے کہ مغرب کی عورت نے آزادیء نسواں کا علم بلند کر کے کیا پایا یہ حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں جہالت کے سبب عورت زیادہ مظالم اور زیادتی کا شکار
    ہے لیکن مغرب میں طویل عرصے قیام کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ یہاں بھی عورت مرد کے مقابلے میں مساوی حقوق سے محروم ہے عورت یہاں بھی پٹتی ہے گھر سے بے گھر کی
    جاتی ہے مگر یہاں قانون کی بالادستی اس زیادتی کو روکتی اور عورت کو سہارا دیتی ہے میں گذشتہ پیتیس سال سے یورپ اور امیریکہ میں مقیم ہوں اور انکی سوسائٹی اور گھریلو
    حالات سے آشنائی رکھتا ہوں یہاں کسی پچاس سالہ عورت سے آزادیء نسواں کے بارے میں پوچھیں تو وہ مشرق کی تعریف کرتی ملے گی- یہاں عورت مرد کی خواہش پر جس قدر
    اور جس طرح ناچتی ہے وہ اخلاقیات و انسانیت سے ماروا ہے- اس سے زیادہ قلم لکھنے سے قاصر ہے -
    پچاس سالہ عورت کئی محبوبوں اور کئی شوہروں کو بھگتانے کے بعد خود کو بے حد تنہا اور بے سہارا محسوس کرتی ہے بچے بھی اسے چھوڑ جاتے ہیں اور وہ انتہئی بے سہارا
    معاشی چکی میں پستی ہے آج بھی امریکہ جیسے نظام میں ایک عورت کو ایک ہی طرح کی ملازمت پر مرد سے کم تنخواہ ملتی ہے یہ کیسا مساوی نظام ہے غرض اس موضوع پر بہت
    کچھ لکھا جا سکتا ہے اور جو لوگ طویل عرصے سے اس سوسائٹٰی کو اندر سے دیکھ رہے ہیں وہ اس کی کمزوریوں سے بخوبی واقف ہیں اگر یہاں قانون کی بالا دستی نہ ہو تو یہاں کا
    حال شاید مشرق سے مختلف نہ ہو- اللہ آدم کی بیٹی کا نگہبان ہو آمین ثم آمین- آپ سب کی محبتوں کا امین

  21. منظور قا ضی نے کہا ہے:
    September 30, 2009 بوقت 9:09 pm

    مشرقی اور مغربی عورتوں کے حقوق کے بارے میں امین ترمذی صاحب نےجو کچھ تحریر کیا اور ان سے پہلے سید مصباح حسین صاحب نے صحیح طور پر حقیقت کی عکاسی کی ہے۔
    اس موضوع پر خواتین ہی بہتر لکھ سکتی ہیں اس لیے کہ یہ انکی زندگی اور انکی عزت اور حرمت اور عصمت کا معاملہ ہے ۔ وہ مردوں کے بھروسے پر بیٹھی رہیں اور احتجاج نہ کریں تو انکو اپنے حقوق کے حصول اور تحفظ کے لیے کئی سال لگ جاینگے۔

  22. قحط الرجال نے کہا ہے:
    October 18, 2009 بوقت 8:32 am

    [...] پھولنگر کا المیہ تحریر : سید مصباح حسین جیلانی ۲۹ ستمبر [...]
    http://shagufta.urdutech.com/blog/?p=626
    http://anqasha.blogspot.com/2009/10/blog-post_03.html

جواب لکھیں




مضامین (آر ایس ایس) اور تبصرے (آر ایس ایس).
 عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل: رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں