ارشاد عرشی ملک کے ارشادات

ارشاد عرشی ملک نے کہا ہے:
January 26, 2010 بوقت 1:58 pm
علمائے سُو کے لئے چند اشعار

مُلا بس۔۔۔۔۔۔۔
عرشی ملک

بہت اکتا چکا ہے آج کا انسان مُلا بس

ابھی نکلا نہیں دل کا ترے ارمان مُلا بس

بہت کی خدمتِ اسلام مُلا ! اب تو بس کر دے

بُھلا سکتا نہیں اسلام یہ احسان مُلا بس

سبھی بھیگے ہوئے ہیں کفر کی بوچھاڑِ پیہم میں

بہت برسا چکا فتوں کا تو باران مُلا بس

تجھے رشک و حسد سے دیکھتا رہتا ہے بے چارہ

کہ تیری ریس کر سکتا نہیں شیطان مُلا بس

یہ طویل نظم دو حصوں پر مشتمل ہے ابھی قارئین کوصرف چکھائی ہے۔

اگر پسند آئی تو باقی بھی پیش کی جائے گی ۔انشا اللہ

84 thoughts on “ارشاد عرشی ملک کے ارشادات”

  1. میں یہ بلاگ صفدر ھمدانی صاحب کے مشورے کے مطابق صرف عرشی صاحبہ کے ارشادات کے لیے شروع کررہا ہوں۔
    اس میں وہ اپنی مرضی سے ”ملا بس” نظم اس بلاگ میں شایع کرسکتی ہیں
    اور اسکے بعد وہ اپنی نظم “ ماں کا خود سےمکالمہ “ بھی شایع کرسکتی ہیں۔
    اور اگر انکا دل چاہے تو وہ اس بلاگ کو ثواب جاریہ کے طور پر اپنے کلام کو شایع کرسکتی ہیں۔
    یہ بلاگ صرف ایک نظم کے لیے مختص نہیں کیا گیا ۔اسی وجہ سے اس بلاگ کا “ عنوان عرشی صاحبہ کے ارشادات “ رکھا گیا ہے۔
    خیال رہے کہ :
    یہ عرشی صاحبہ کا بلاگ ہے :
    اب میں عرشی صاحبہ : ارشاد کہکر اس بلاگ کو انکے سپرد کرتا ہوں ؛
    فقط:
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  2. قاضی صاحب آپ نے اچھا کیا ہے اور عرشی صاحبہ اب ضروراس میں مکمل نظم لگائیں گی۔ اگرچہ مجھے یقین ہے کہ ملا نے چودہ سو سال سے بس نہیں کی اور ہمیں بے بس کر دیا لیکن ایسی آوازیں بلند ہوتی رہنی چاہئیں۔ مجھے آغاز میں ہی احباب سے عرض کرناہے کہ از راہ کرم ملا اور ملائیت کو ذہن میں رکھیں اور ملا کو اہل علم اور عالم دین کے ساتھ مت نتھی کریں کیونکہ ملا انہی کے پردے میں اور سائے میں خود کو بچاتا ہے۔ ملا۔مولانا،خطیب،مبلغ،مفسر،محدث،مقرر،ذاکر،دانشور،فلسفی اور عالم دین کے درمیان فرق کو بھی ملحوظ خاطر رکھیں۔ یہ وہ ملا اور ملائیت ہے جس نے اسلام اور مسلمان کودشمن اسلام سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے،جس نے دین فروشی کی ہے،جس نے محمد و ال محمد کے نام کو بلیک میل کیا ہے،جس نے مسلمان کو دہشت گرد مشہور کروایا ہے، جو زمین پر رہ کر جنت کا سرٹیفکیٹ جاری کرتا ہے،جو دین میں اتحاد کا نہیں نفاق کا موجب ہے کہ اسکی دوکانداری اسی طرح چلتی ہے،جو اہل علم اور اہل فکر کا مخالف ہے، جس نے عام مسلمان کو حصول علم سے اس لیئے دور رکھا ہوا ہے کہ اگر عام مسلمان بھی علم حاصل کر گیا تو اسکا کیا بنے گا۔ وہ ملا جو یہ بے تکی دلیل دیتا ہے کہ علم دین کی ترسیل صرف اسکا اور اسکی جماعت کا حق ہے۔ ملا اور ملائیت ایک زہر ہے جو ہم اپنے ہاتھوں خود پی رہے ہیں۔ اب شاید یہ آخری موقع ہے اسلام کے ماننے والوں کے لیئے کہ وہ ایک ایک فرد کو جس تک رسائی ہو اسے بیدار کرے اور اس کینسر سے آگاہ کرے۔

  3. ’’مُلا بس‘‘ والی نظم کا علمائے دین سے کوئی تعلق نہیں یہ اس مُلا کے بارے میں ہے جس کے متعلق علامہ اقبال نے فرمایا تھا ’’ دینِ مُلا فی سبیل للہ فساد‘‘
    میں یہ نظم ان پیج میں منظور قاضی صاحب کو بھیج رہی ہوں تا کہ وہ اسے یونی کوڈ میں کنورٹ کر کے اس بلاگ میں لگا دیں

  4. مُلا ، مولوی، مولانا ان تمام الفاظ کی اصل “مولا” ہے جس کا مصدر “اُولٰی” اور “ولی” جیسے الفاظ ہیں –
    یہ سب الفاظ بہت مقدس ہیں، جیسا صفدر ہمدانی صاحب نے بھی ذرا مختلف الفاظ میں اس مفہوم کا بیان فرمایا ہے کہ ہمیں اس فرق کو ملحوظِٖ خاطر رکھنا چاہیے جو بد کردار جعلی ملا اور ایک نیک و متقی حقیقی ملا کے مابین ہے-

    جس طرح چند شیطانوں نے آج اسلام کو اس طرح بدنام کر دیا ہے کہ ساری دنیا میں اسلام اورمسلمان ایک گالی بن چکا ہے، لیکن کیا چند دہشت گردوں کے عمل پر ہم سب مسلمانوں کو اور اسلام کو قابلِ مذمت سمجھیں گے؟؟؟

    اسی طرح “بدکردار ملا” یا “شیطان مولوی” کے اعمال کی وجہ سے لفظ ملا اور مولوی کو ایسے بد کرداروں کے لیے مخصوص کرکے اسے بُرا کہنا میری نظر میں ناانصافی ہو گی –

    ہمیں چاہیے کہ ہم ان لوگوں کو بے نقاب کریں جو (ہمدانی صاحب کے تحریر کردہ الفاظ چسپاں کررہا ہوں) . . .

    جنہوں نے اسلام اور مسلمان کو دشمن اسلام سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے،جس نے دین فروشی کی ہے،جس نے محمد و ال محمد (علیہم السلام) کے نام کو بلیک میل کیا ہے،جس نے مسلمان کو دہشت گرد مشہور کروایا ہے، جو زمین پر رہ کر جنت کا سرٹیفکیٹ جاری کرتا ہے، جو دین میں اتحاد کا نہیں نفاق کا موجب ہے کہ اسکی دوکانداری اسی طرح چلتی ہے، جو اہل علم اور اہل فکر کا مخالف ہے، جس نے عام مسلمان کو حصول علم سے اس لیئے دور رکھا ہوا ہے کہ اگر عام مسلمان بھی علم حاصل کر گیا تو اسکا کیا بنے گا۔ وہ ملا جو یہ بے تکی دلیل دیتا ہے کہ علم دین کی ترسیل صرف اسکا اور اسکی جماعت کا حق ہے۔ یہ ملا اور یہ ملائیت ایک زہر ہے جو ہم اپنے ہاتھوں خود پی رہے ہیں۔ اب شاید یہ آخری موقع ہے اسلام کے ماننے والوں کے لیئے کہ وہ ایک ایک فرد کو جس تک رسائی ہو اسے بیدار کرے اور اس کینسر سے آگاہ کرے۔

    عرض کرنے کا مقصد یہی ہے کہ ہم لفظ ملا اور مولوی کی مذمت نہ کریں بلکہ ان کریہہ کرداروں کو بے نقاب کریں جنہوں نے ان الفاظ کی اوٹ میں ان عہدوں کی چادر اوڑھ کر شیطانیت کے کاروبار شروع کیے ہوئے ہیں، کیوں کہ دشمنوں کا اصل ہدف یہی تو ہے کہ ملا، مولوی، مولانا اور تمام دیگر اسلامی عہدوں کے ساتھ ساتھ اسلام اورمسلمانوں کو بدنام کردیا جائے، جس قوم کے راہنما ہی اس قدر خراب اور بُرے ہوں گے اس قوم کے بارے میں کچھ کہنے سننے کی ضرورت نہ رہ جائے گی.

    بصد معذرت . . . ہم ملا اور ملائیت کو غلط کہہ کر دراصل دشمنوں کے مقصد کو نادانستگی میں پورا کر رہے ہیں، ہمیں ان اصطلاحات کے معانی حالات کے مطابق نئے دریافت کرنے کی بجائے ان کے اصل معنوں اور ان کے تقدس کو مدِ نظر رکھنا چاہیے اور ان شیطانوں کے لیے اصطلاحات نئی ڈھونڈنی چاہیں مثلاً “جھوٹے ملا” یا “شیطان ملا” وغیرہ، میں نے اپنے چند مضامین میں “بھیڑ کی کھال میں بھیڑئیے” والے محاورے کے مدِنظر ان نام نہاد مُلاؤں کے لیے لفظ “بھیڑئیے” کا انتخاب کیے تھا-

  5. برادرم مناف. آپ کا استدلال علمی اور لسانی سطح پر درست ہے لیکن فی زمانہ ہم چونکہ اس دنیا میں رہ رہے ہیں اور جیسا بھی سامع و قاری ہمیں میسر ہے اسی کے لیئے بات کرنی ہے.اب آپ ہی بتائیں کہ کتنے فیصد لوگ ہیں جنہیں ملا یا مولوی کا ماخذ علم ہے. دوسری بات یہ ہے کہ اصطلاحات استعمال سے معروف ہوتی ہیں. آج تک چونکہ چھوٹے ملا یا شیطان ملا کی اصطلاح اس روانی اور تسلسل سے ان معانی میں استعمال نہیں ہوئی اس لیئے جب ان اصطلاحات کو لکھیں گے تو ایک نیا مسلہ اس لیئے بھی کھڑا ہوجائے گا کہ ان میں تضحیک اور منفی پہلو ہے. ایک طویل زمانے سے لفظ”ملا” استعمال ہوتا ہی ان معانی میں ہے یا ایسے بے کردار لوگوں کے لیئے ہے جنہوں نے محراب و منبر پر قبضہ کر رکھا ہے اور جو صاحبان فکر اور اعتدلال پسند لوگوں کو دینی مراکز میں داخل ہی نہیں ہونے دیتے. یہ لفظ ”ملا” آج اسی معنی میں استعمال ہوتا ہے جس میں اقبال یا غالب نے استعمال کیا ہے یا پروفیسر کرارحسین مرحوم نے اپنے خطبات میں استعمال کیا ہے.
    اب رہی بات ان کریہہ کرداروں کو بے نقاب کرنے کی تو عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ہم نام بنام ایسا نہیں کر سکیں جس کی ایک سو سے زیادہ وجوہات ہیں. اب اگر میں یہ کہوں کہ جن دو یا تین یا ایک ایسے بدکردار اور شیطان صفت ملا کو آپ جانتے ہیں تو ان کے نام لکھیئے تو شایدآپ بھی نہ کر پائیں اور میں بھی اپنے تمام تر فلسفے کے باوجود ایسا نہ کر سکوں.
    یقین کریں کہ آج ننانوے فیصد جو کوئی بھی ؛؛ملا” کا لفظ استعمال کرتا ہے تو انہی معانی میں استعمال کرتا ہے اسکا مطلب قطعی طور علام دین یا باکردار ومولانا یا مولوی نہیں ہے۔
    ایک اور بات کیا کبھی ہم نے کبھی کسی اعلان میں اشتہار میں یہ پڑھا یا سنا ہے کہ محفل سے بے کردار ملا خطاب کرے گا؟
    مسلہ اس دشمن کے مقصد کو پورا کرنا نہیں ہے جو اسلام میں داخل نہیں ہے بلکہ اس دشمن کو طشت از بام کرنا ہے جو بقول اسکے اسلام میں داخل بھی ہے اور اسلام کا دشمن بھی۔آج اگر ہم ایسے لوگوں کے لیئے نئی اصطلاحات بنانے کے کام میں لگ گئے تو نصف صدی اور گزر جائے گی۔ بہتر ہے کہ اسی لفظ ”ملا” کو ہی استعمال کریں کہ ملا کہتے ہی سب کے ذہن میں جو کردار اور لوگ آتے ہیں ان سے آگاہ تو سب ہیں لیکن بولتے ایک دو سر پھرے ہی ہیں۔ اسی لیئے ارشاد عرشی کی فریاد ہے کہ۔۔۔
    تجھے رشک و حسد سے دیکھتا رہتا ہے بے چارہ
    کہ تیری ریس کر سکتا نہیں شیطان مُلا بس

  6. محترم ہمدانی صاحب ! آپ نے بجا فرمایا، لفظ ملا پڑھ سن کر اکثریت کے ذہن میں بدکردارملا ہی آتا ہے، لیکن میرا مدعاء عرض اب بھی یہی ہے کہ

    1- ہم کچھ بدکرداروں کے لیے ان خطابات کو کیوں مخصوص کردیں ؟ اقبال اور غالب نے اگر ایسا کیا تو کیا یہی معیار بنا رہنے دیں ؟ کیا ہمارا کام “جھوٹے ملا” یا “نقلی مولوی” وغیرہ کہہ کر نہیں چلتا ؟ بلکہ اس طرح تو بات مزید واضح ہو جاتی ہے یہ اصطلاحات نئی ہیں یا نہیں لیکن مکمل تر ہیں، میرے خیال میں پڑھنے والے کے لیے اس میں دشواری کی بجائے آسانی ہے وغیرہ –

    2- ہمدانی صاحب قبلہ ! آپ ہی فرماتے ہیں کہ “غلط العام” کچھ نہیں ہے، یا تو بات درست ہے یا غلط ، یعنی اکثریت کی غلطی کو ہم درست نہیں کہہ سکتے، یعنی غلط العام غلط ہی ہے- اسی طرح آج غلط استعمال کی کثرت سے اگر ان اصطلاحات کے معانی بدل گئے ہیں تو معانی پھر بھی غلط ہی ہیں، میرے خیال میں ہمیں چاہیے کہ بُرے لوگوں کو ایک اچھا خطاب بخش دینے کی بجائے ان سے یہ خطابات چھین لینے چاہیے کہ وہ ان کے ہرگز اہل نہیں-
    ہمارا مقصد اس اصطلاح کی نہیں بلکہ اس کردار کی مذمت ہے جو ہماری قوم میں ناسور بن چکا ہے، اور یہ نکتہ ہماری گفتگو اور تحریروں میں واضح ہونا چاہیے-

    3- میں علی الاعلان نام نہاد اہلِ سنت کے (ان کا حقیقی اہلِ سنت سے دور کا بھی کوئی واسطہ نہیں) “ملا عمر، ملا عبیداللہ آخوند، ملا داداللہ” وغیرہ اور نام نہاد شیعہ کے (اس کا حقیقی اہلِ تشیع سے ہرگز کوئی واسطہ نہیں) “غضنفر عباس تونسوی” جیسے تفرقہ، فساد اور نفرت پھیلانے والوں کے نام ان بھیڑیوں کی فہرست میں شامل کرتا ہوں جنہوں نے بھیڑ کی کھال پہنی ہوئی ہے.

    4- اب چونکہ یہ لوگ اسلام کو بدنام کرتے ہیں، تو کیا ہم بھی اسلام کو بُرا کہنا شروع کردیں، اقبال اور غالب نے نہ سہی لیکن دنیا بھر کے لاکھوں دوسرے دانشور آج ایسا کر رہے ہیں اور اسلام کو ان بھیڑیوں کے کالے کرتوتوں کی بنا پر بُرا کہہ رہے ہیں-

    5- ہماری تاریخ میں “ملا صدرہ” جیسے نام بھی موجود ہیں جو بلا شبہ زہد تقوٰی اور علم کے آسمان کے درخشندہ ستارے تھے، دورِ حاضر میں لندن کے “ملا اصغر” جیسے صاحبِ کردار اور نیک لوگ بھی ہم نے دیکھے ہیں. کیا کچھ بدچلنوں کی وجہ سے ہم ان عظیم ہستیوں کے نام بھی گھن کی طرح پسنے دیں-

    کم از کم “عالمی اخبار” کے مستقل قارئین اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ محترم صفدر ہمدانی صاحب میرے استاد ہیں، امام علی علیہ السلام کا قول ہے کہ “جس نے مجھے ایک لفظ بھی سکھایا اس نے مجھے گویا خرید لیا ہے” (یہ الگ بات ہے کہ امام عالی مقام کا ایک ہی استاد یعنی اللہ کے رسول (ص) ہی تھے) اس لحاظ سے یہ بات عیاں ہے کہ میں کبھی ہمدانی صاحب سے کج بحثی، یا فضول تکرار کرنے کی سوچ بھی نہیں سکتا، یہاں چونکہ صرف ایک چھوٹے سے نکتہ پر ہمارے خیالات ذرا مختلف ہیں اس لیے میں نے ہمدانی صاحب کی وسیع القلبی، شفقت و معافی اور قارئین کرام کی معاملہ فہمی اور حقیقت کے ادراک کے اعتبار پر یہ سب کچھ اس طرح سرِ عام کہنے کی جراءت کی –

  7. محترمہ بہن ارشاد عرشی ملک صاحبہ ! اسلام علیکم ورحمۃ اللہ
    “عالمی اخبار” پر آپ کی آمد خوش آمدید ہے، ہم آپ کی اس نظم اور دیگر کلام کو پڑھنے کے مشتاق ہیں-

    محترمہ بہن سے درخواست ہے کہ درج بالا گفتگو کو اپنی ذات یا اپنے کلام پر تنقید ہرگز نہ سمجھیں، میں نے عمومی طور پر بات کہی ہے، اپنی یہ نظم صرور یہاں شائع کیجیے-

  8. برادرم مناف.سلامت باشد. میں آپکی بات کو خوب اچھی طرح سمجھ رہا ہوں اور خدا کے لیے کوئی بھی اس فکری یا لسانی اختلاف کو ہٹ کہتے ہیں ورنہ حقیقت یہ نہیں ہے. وہ خود جس علم کے مالک ہیں اور جن صلاحیتوں کے حامل ہیں انکا اظہار میں نے انہیں خود کرتے ہوئے نہیں دیکھا. پھر مناف خود جس پائے کے علما کے ساتھ نشست و برخاست کرتے ہیں میں ان میں سے اکثر کے مراتب سے بخوبی آگاہ ہو اور اسی لیئے اس امر سے بھی واقف ہوں کہ مناف کم ازکم ملا اور عالم دین کے درمیان فرق جانتا ہے. اس لیئے اگر ہم دونوں اپنے اپنے نکتہ نظر کی وضاحت کر رہے ہیں تو اختلاف برائے اتفاق والی صورت ہے. اسے نہ کج بحثی سمجھا جائے اور نہ یہ کوئی اپنا علمی اور مطالعاتی قد کاٹھ دکھانا.
    میں جانتا ہوں کہ مناف یہ چاہتے ہیں کہ ایک لفظ” ملا” کے ساتھ اچھے برے ملا کو نہ ہانکا جائے. یہ ہانکا محاورے کے طور پر میں نے کہا ہے. اچھا اب بات یہ ہے کہ ملا تو نصیر الدین بھی تھا اور ملا واحدی بھی. تو جب ہم اپنے والے ملا کا ذکر کرتے ہیں تو کیا ایسے ملا کی طرف کبھی خیال گیا ہے.نہیں. اسی طرح مولوی اور مولانا بہت بڑا لفظ ہے جس کے پیچھے برسوں کی ریاضت پوشیدہ ہے، مولانامحمد حسین آزاد، مولانا چراغ حسن حسرت یا ایسی ہی علمی اور ادبی شخصیات یا پھر دینی علوم کے حوالے سے مولانا حضرات. اسی طرح ایک لفظ علامہ بھی ہے.علامہ اظہر حسن زیدی،علامہ نقن صاحب،علامہ رشید ترابی علی ھداالقیاس. اب یہ لفظ علامہ محاورے میں منفی طور پر استعمال ہوتا ہے، کہ فلاں صاحب خود کو علامہ سمجھتے ہیں. اس جانب آپ نے بھی بڑی صراحت سے اپنے اوپر کے تبصرے میں ذکر کیا ہے.
    تو کیا جب ہم محاورے میں علامہ استعمال کرتے ہیں تو کسی کا بھی خیال ایسی مقتدر ہستیوں کی طرف جاتا ہے. بس یہی ایک طالب علمانہ دلیل ہے کہ جب ہم ملا کہتے ہیں تو کسی کا دھیان بھی باعمل عالم دین کی طرف نہیں جاتا بلکہ اسی کی طرف جاتا ہے جسے آپ بھی جعلی،نمبر دو یا شیطان صفت کہتے ہیں.
    اچھا فی زمانہ جیسے آپ نے مرحوم جنت مکانی ملا اصغر کا ذکر کیا تو کیا انکے علاوہ بھی کوئی نام ہے کہ جو عالم دین یعنی حقیقی عالم دین خود کواس دور میں ملا لکھتا ہو. اگر ہے تو یہ میری کم علمی ہے کہ مجھے معلوم نہیں. گویا خود اس شعبے سے تعلق رکھنے والوں کو بھی اور خاص طور پر جعملی اور نمبر دو کو بھی علم ہے کہ ”ملا” لوگ کسے کہتے ہیں. ذرا سا اس سے ہٹ کر کہ ایک بڑی تعداد مسلمانوں کی پیش امام اور امام میں فرق نہی کر پاتی تو یہ صورت حال برسوں سے جاری ہے اور اسے بدلنے میں کتنے ہی برس اور لگیں گے. میرا یہ کہنا ہے کہ اسی وجہ سے صرف نماز پڑھانے والا اور وہ بھی نماز جنازہ پڑھانے والا بھی خود کو ملا نہیں کہتا عالم دین کہتا ہے
    اسی لیئے میرا استدلال یہ ہے کہ ہم جب ملا کہتے ہیں فوری طور پر یہ واضع ہو جاتا ہے کہ ہم کسی باعلم مولانا یا عالم دین کی بات نہیں کر رہے بلکہ ملا کی بات کر رہے ہیں بالکل اسی طرح جسیے چاند یا سکیل والی مچھلی کہنے سے باقی سینکڑوں قسم کی نقصان دہ مچھلیاں خود بخود الگ ہو جاتی ہیں.گویا بس ایک لفظ غلط اور درست کے درمیان دیوار کھینچ دیتا ہے. میں لفظ مولوی کے لیئے تو اس بات پر راضی ہوں کہ اس غیر حقیقی،نمبر دو اور جعلی جیسے سابقے لاحقے سے یاد کر لیا جائے لیکن لفظ ملا پر ابھی بھی میری کم عقلی اور شاید محدود سوچ اجازت نہیں دیتی.
    تا ہم مجھے اس میں قطعی طور پر کوئی اعتراض نہیں کہ اگر کوئی ملا کے ساتھ بھی یہی سابقہ لاحقہ لگانا چاہے تو ضرور لکھے، ہو سکتا ہے کہ کچھ عرصے کے بعد میرا ذہن بھی مناف بھائی کے استدلال کوقبول کر لے کیونکہ میں ملا نہیں ہوں اور اسی لیئے ہٹ دھرم بھی نہیں. اور یوں ساکت پانی سے سرانڈ اٹھتی ہے،خنک خوشبو نہیں آتی

  9. ہمدانی صاحب ! بہت شکریہ، لیکن میں تو تب یہ جانوں گا کہ قارئین نے اس گفتگو کو کج بحثی نہیں سمجھا جب محترمہ بہن ارشاد عرشی ملک صاحبہ اپنی نظم شایع کردیں گی (جس کی ایڈیٹنگ وغیرہ کی ذمہ داری محترم منظور قاضی صاحب کو سونپی گئی ہے)-

  10. میں آج پورا دن ہسپتال کی زیارت کرکے واپس آیا تو اپنے کمپیوٹر میں عرشی صاحبہ کا ایک عنایت نامہ دیکھا جس کے ساتھ انکی
    ان پیج سافٹ ویر میں لکھی ہوئی تحریر منسلک تھی۔ مگر میرا کمپئیوٹر اس نظم کو کھولنے سے قاصر رہا ۔ بار بار کوشش کی کہ کسی نہ کسی طرح کھل جائے مگر بقول کسی شاعر :
    کھلے گا کس طرح مضموں ترے مکتوب کا یارب
    قسم کھائی ہے کمپیوٹر نے اس کو ہضم کرنے کی
    ۔۔
    میں نے عرشی صاحبہ کو لکھا ہے کہ وہ از راہ کرم اس نظم کو اسی طرح سے روانہ کریں جس طرح انہوں نے اپنی نظم “ماں کا خود سے مکالمہ “ بھجوائی تھی۔ جیسے ہی وہ نظم ملے گی میں اسے یونی کوڈ اردو فانٹ میں خوشی خوشی تبدیل کرکے اس بلاگ میں چسپاں کردونگا ۔
    اس نظم کے شایع ہونے تک ( اور ہونے کے بعد بھی ) علمائے کرام اپنے اپنے تبصروں سے اس بلاگ کی افادیت بڑھاتے رہیں ۔ تاکہ سب کے علم میں اضافہ ہوتا رہے ۔
    ہاں یہ نہ بھولیے کہ عرشی صاحبہ کا منتخبہ کلام ایک الگ میں موجود ہے جسے صفدرھمدانی صاحب نے حال ہی میں شروع کیا تھا۔
    بہر کیف :
    میں بے چینی سے اس نظم کا انتظار کررہاہوں ۔
    قارئین سے معافی کے ساتھ:
    فقط:
    خادم
    منظور قاضی
    جرمنی ہی سے

  11. عرشی صاحبہ نے ابھی ابھی اپنی نظم مُلا بَس روانہ کی ہے جسے میں یہاں پیش کررہا ہوں : ( ملا بس کو شروع میں علامات کے ساتھ لکھدیا ہوں بعد میں اسے بغیر علامات کے لکھا ہوں ۔)
    مُلا بَس
    حصہ اول از ارشاد علی ملک
    بہت اکتا چکا ہے آج کا انسان مُلا بَس
    ابھی نکلا نہیں، دل کا ترے ارمان مُلا بَس

    کبھی تُو اشرف المخلوق تھا کچھ یاد ہے تجھ کو
    پنہ اب مانگتے ہیں تجھ سے سب حیوان ملا بس

    تجھے رشک و حسد سے دیکھتا رہتا ہے بے چارہ
    کہ تیری رِ یس کرسکتا نہیں شیطان ملا بس

    بہت کی خدمتِ اسلام مُلا اب تو بس کردے
    بُھلا سکتا نہیں اسلام یہ احسان ملا بس

    فسادِ فی سبیل اللہ تری شہرت ہے برسوں سے
    اُٹھا مت چائے کی پیالی میں یہ طوفان ملا بس

    سبھی بھیگےہوئے ہیں کُفر کی بوچھاڑِ پیہم میں
    بہت برسا چکا فتنوں کا تُو باران ملا بس

    فلا ں ملحد فلاں مشرک فلا ں کافر فلاں اکفر
    اسی سُر ہر سدا ٹوٹی ہے تیری تان ملا بس

    اُڑا مت کف گلے کو دو گھڑی آرام لینے دے
    نہ غم میں دین کے ہو اس قدر ہلکان ملا بس

    ہمارے منہ نہ کھلوا بس ہمیں خاموش رہنے دے
    بہت دیکھی ہے تیری پاکیِ دامان ملا بس

    لکھا ہے بد تریں مخلوق کا قصہ کتابوں میں
    بھلا وہ کون ہیں ان کو ذرا پہچان ملا بس

    جہا ں میں کس لیے آیا تھا کیا لے جارہا ہے تو
    یہ گٹھڑی پاپ کی ہے کُل ترا سامان ملا بس

    نئی نسلوں کو تونے دین سے بے زار کرڈالا
    وہ اب سنتےنہیں ہیں من گھڑت فرمان ملا بس

    سناتا ہے تو قرآں خود عمل اس پر نہیں کرتا
    تبرّا بھیجتا ہے تجھ پہ خود قرآن ملا بس

    پنہ مانگیں گے مُلاوں سے وحشی بھڑیے اک دن
    حدیثوں میں لکھی تھی یہ تری پہچان ملا بس

    مفاسد کی سبھی آماجگاہیں مسجدیں ہوں گی
    محمد مصطفےٰ ( ص) کا تھا یہی فرمان ملا بس

    گناہوں سے ذرا رُک جا انہیں آرام کرنے دے
    فرشتے لکھتے لکھتے ہوگئے ہلکان ملا بس

    کراماً کاتبیں بھی تھک گئے تفصیل کیا لکھیں
    ابھی تک لکھ نہیں پائے وہ کُل عنوان ملا بس

    نہ جانے کتنی صدیوں تک جہاں رو رو کے گائے گا
    بہت لمبا ہے جُرموں کا ترے دیوان ملا بس

    بشر کے فائدے کے واسطے وہ کچھ تو کرتےہیں
    بہت بہتر ہیں تجھ سے موچی و ترکھان ملا بس

    غبارِ دل یونہی عرشی نے شعروں میں نکالا ہے
    سدھرنے کا نہیں گرچہ ترا امکان ملا بس
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نوٹ :
    کمپوزنگ کی غلطیوں کی معافی چاہتے ہوئے عرشی صاحبہ سے عرض کرونگا کہ وہ نظر ثانی کرکے میری غلطیوں کو سدھاردیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ( اس نظم کا حصہ دوم ، بعد کے تبصرے میں ملاحظہ فرمائیے )

  12. غبارِ دل یونہی عرشی نے شعروں میں نکالا ہے
    سدھرنے کا نہیں گرچہ ترا امکان ملا بس
    لاریب، بالکل درست فرمایا عرشی جی آپ نے. ویسے ان موصوف سے اپنا بھی پرانا یارانہ ہے،ان کی خدمت اقدس میں آپکی اجازت سے عرض ہے.
    مجھے حسرت ہے کوئی کام قانونی بھی تو کر لے
    بنا لائسینس کے ہو جائے گا چالان ملا بس

    حصولِ علمِ دینی فرض ہے ہر اک مسلماں پر
    نہ بن یوں مفت میں تو دین کا پردھان ملا بس

    معافی مانگ اللہ سے تو اپنی دیں فروشی کی
    خدا کے واسطے مت رو کے ہو ہلکان ملا بس

    مسالک کی لڑائی میں یدِ طولیٰ تجھے حاصل
    نہ چڑھا دشمنی اب اور تو پروان ملا بس

    مجھے عرشی سے صفدر آج بس یہ راز کہنا ہے
    کہ دونوں مل کے اب ہم کر چکے اعلان ملا بس

  13. مُلا بَس : حصہ دوم
    از : ارشاد عرشی ملک
    ۔۔۔۔۔۔
    اسمبلی کا تجھے اب بھاگیا ایوان مُلا بَس
    فقط مسجد ہے اب تیرے لیے زندان مُلا بَس

    خدا کی نعمتوں کا اس قدر کفران ملا بس
    کہ تیرا ہمدمِ دیرینہ ہے شیطان ملا بس

    حکومت کی چمک پاکر تری چندھیا گئیں آنکھیں
    ہر اک فرعون کا ساتھی ہے تو ہا مان ملا بس

    وطن کو لے نہ ڈوبے یہ ترا چسکہ سیاست کا
    تجھے کافی نہیں تھا دین کا میدان ملا بس

    خدا کے واسطے مشقِ ستم کو روک لے مُلا
    کہ زندہ لاش کی صورت ہے پاکستان ملا بس

    جو جیکٹ خود کُشی کی روز پہنا تا ہے اوروں کو
    کبھی خود بھی پہن چُھوٹے ہماری جان ملا بس

    یہ دینی بدمعاشی غنڈہ گردی اور کتنے دن
    کہ قدرت اب ترا کرنے کو ہے چالان ملا بس

    نکالا تو نے فرقہ واریت کے جِن کو بوتل سے
    جدا تو نے کیا انسان سے انسان ملا بس

    بہت کھیلی ہے تونے خوں کی ہولی اب تو بس کردے
    بنے مقتل مساجد کے بھی اب دالان ملا بس

    جو بہتا ہے لہو باچھوں سے اس کو پونچھ لے ظالم
    کہ آجاتاہے ویمپائر کا مجھ کو دھیان ملا بس

    ہمیشہ دین کو بیچا ہے تو نے نرخِ ارزاں پر
    کیا اسلام کا تو نے بہت نقصان ملا بس

    سوائے تیرے دنیا کا فر و زندیق ہے ساری
    یہی تجھ کو بتا تا ہے ترا وجدان ملا بس

    ترے اپنے سوا کوئی سما سکتا نہیں اس میں
    بہت ہے تنگ تیرا حلقہِ ایمان ملا بس

    مغلّظ قورمہ ، لعنت کی روٹی ، کفر کا حلوہ
    سجا دیکھا ہے ہم نے تیرا دستر خوان ملا بس

    سدا بریانیاں دہشت کی تو تقسیم کرتا ہے
    ترے گھر روز و شب پکتے ہیں یہ پکوان ملا بس

    بنانے کا مسلماں شوق تھا اسلا ف کو عرشی
    تجھے کافر بنانے کا مگر ارمان ملا بس

    مجھے بھی شوق ہے چھتہ بھڑوں کا چھیڑ دینے کا
    بچاو کا نہیں گرچہ کوئی سامان مُلا بَس
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نظم تمام شد
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کاتب کے الفاظ :
    جزاک اللہ ، سبحان اللہ ، ماشااللہ ، مرحبا ، عرشی صاحبہ کے حق گوئی و بے باکی اورقادر الکلامی کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے :
    بہت خوب عرشی صاحبہ:
    “ جو جیکٹ خود کُشی کی روز پہنا تا ہے اوروں کو
    کبھی خود بھی پہن چُھوٹے ہماری جان ملا بس“

    بروقت اور برجستہ ہدایت ہے :
    خوش رہیے :
    اللہ آپ کےکلام کو حیات دوام اور قبولیت عوام بخشے آمین
    فقط :
    کمپوزنگ کی کوتاہیوں کی معافی کے ساتھ
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  14. مناف بھائی اور بابا کی دلچسپ بحث اس قدر علمی تھی کہ جی تو یہی چاہ رہاتھا کہ چلتی رہے ۔۔ ارے آپ دونوں ہی کو نہیں پتہ چلا کہ مجھ جیسے کتنے ہی اپنے علم کوبڑھا کر چلے گئے ۔۔ یقین جانیئے مناف بھائی یہ قطعا کج بحثی نہیں تھی ۔۔ یہ توحسن اختلاف کا اعلی اور روشن نمونہ تھا ۔۔ اور جو صحتمند زہنوں کی علامت ہے ۔۔ سلامت رہیں جو علم کو یوں بانٹتے ہیں

  15. عرشی آپا جس ملا کے پیچھے پڑی ہئں اسے بابا نے بھگا دیا ہے ۔۔ انتہائی خوبصورت کاوشیں سامنے آیئی اور میں ان کو ہوسپٹل میں بھی بیٹھی پڑھ رہی ہوں ۔۔ آپ سب اسی بات سے اندازہ لگا لیں کہ ملا کی رسائی کہاں تک ہے ۔۔

  16. محترمہ بہن ارشاد عرشی ملک صاحبہ ! میرا خیال ہے کہ “عالمی اخبار کے ان صفحات پر آج تک کوئی اتنے دھڑلے سے نہیں آیا جیسی تشریف آوری آپ کی ہوئی ہے (یہ قطعاً کوئی طنز نہیں بلکہ میری نظر میں حقیقت ہے) اس کی سند کے طور پر میں محترم منظور قاضی صاحب کے الفاظ ہی دہراتا ہوں . . .

    جزاک اللہ ، سبحان اللہ ، ماشاءاللہ ، مرحبا ، عرشی صاحبہ کی حق گوئی و بے باکی اورقادر الکلامی کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے، بہت خوب عرشی صاحبہ،

    جو جیکٹ خود کُشی کی روز پہنا تا ہے اوروں کو
    کبھی خود بھی پہن چُھوٹے ہماری جان ملا بس

    بروقت اور برجستہ ہدایت ہے، خوش رہیے، اللہ آپ کےکلام کو حیات دوام اور قبولیت عوام بخشے آمین
    ــــــــــــــــــــــــــــــــ

    بہن نگہت صاحبہ ! اپنی دُعاؤں میں ہرگز نہ بھولیے

  17. محترمہ ارشاد عرشی ملک صاحبہ واہ بھئی واہ
    محترم منظور قاضی صاحب طبیعت راضی ہو گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  18. نادیہ بتول بخاری صاحبہ کی طبیعت عرشی صاحبہ کے اس بلاگ پر راضی ہوگئی ۔ اس بات کی گہرائی کو عرشی صاحبہ نے ضرور محسوس کرلیا ہوگا۔
    فقط:
    اللہ کی رضا پر راضی
    منظور قاضی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عرشی صاحبہ شائد اپنی شدید مصروفیا ت کی وجہ سے اس بلاگ میں اپنا تازہ کلام پیش نہیں کرسکیں۔
    اگر وہ اجازت دیں تو میں انکی غیر مطبوعہ نظم “ ماں کا خود سے مکالمہ “ ( جسے انہوں نے مجھ کو ای میل کے ذریعہ بھیجی ) اس بلاگ میں شایع کرسکتا ہوں۔
    اگر وہ نظم “ غیر مطبوعہ “ نہ ہوتی تو میں کبھی کا اسے اس بلاگ میں پیش کردیتا ۔

  19. میں آج سے دو ہفتوں کے بعد عالمی اخبار سے دور اسپین ( اندلوسیا ) تین ہفتوں کے لیے جاونگا جہاں کمپیوٹر کی اتنی سہولت نہیں ہے جیسی کہ مجھے اپنے گھر ( جرمنی ) میں ہے۔
    میں چاہتا ہوں کہ ارشاد عرشی ملک صاحبہ کی امانت یعنی انکی غیر مطبوعہ نظم “ ایک ماں کا خود سے مکالمہ “ جو انہوں نے ازراہ ِکرم مجھے 24 جنوری کو ای میل کے ذریعہ بھجوائی ،اسے اس بلاگ میں شایع کردوں مگر پوری نظم شایع کرنے کے لیے میں عرشی صاحبہ کی اجازت چاہتا ہوں۔
    فی الوقت میں اس طویل 23 بند پر مبنی نظم کے تمہیدی الفاظ اور اس کے ابتدائی دو بند پیش کررہا ہوں ( بقیہ نظم کے لیے عرشی صاحبہ ک اجازت چاہیے ) ؛
    نظم : عنوان : ایک ماں کا خود سے مکالمہ
    از ارشاد عرشی ملک ( اسلام آباد ، پاکستان )
    “یہ نظم اُن لوگوں کے نام ہے جو دوسروں کی بیٹیاں بیا ہ کر لانے کے بعد اُن کی قدر نہیں کرتے اور اُن ماوں کو دکھو ں کے سمندر میں دھکیل دیتے ہیں ۔ اس نظم کا محرک بہت سی ماوں اور بیٹیوں کی گھٹی ہوئی سسکیاں ہیں “ :
    بہت سی بیٹیاں سسرال میں جیتی ہیں مر مر کے
    اور اُن کی ماوں کا جیون بسر ہوتا ہے ڈر ڈر کے
    انہیں کا حال کہنا ہے، مجھے خونِ جگر کرکے
    لکھے ہیں شعر یہ عرشی قلم اشکوں سے تر کرکے
    ۔۔۔۔
    ہیں اُن کے نام جو نازک دلوں پر وار کرتے ہیں
    جو رشتوں کے تقدس کو سدا مسمار کرتے ہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میری بیٹی ترے چہرے پہ کچھ افسردگی سی ہے
    ہے پھیکی سی ہنسی تیری اور آنکھوں میں نمی سی ہے
    بظاہر مسکراہٹ ہے ، مگر کچھ ظاہری سی ہے
    زباں خاموش لیکن بات کوئی ان کہی سی ہے
    ۔۔۔۔۔
    نہ شوخی ہے ، نہ چنچل پن ، نہ چہرے پر اُجالا ہے
    نگاہوں میں اُداسی ہے ، لبوں پر چُپ کا تالا ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بقیہ نظم پڑھنے کے لیے آپ سب ، عرشی صاحبہ سے درخواست کرسکتےہیں کہ وہ مجھے اس بلاگ میں شایع کرنے کی اجازت دے دیں۔
    ۔۔۔۔۔۔
    خیر اندیش:
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  20. میں اگر عرشی صاحبہ کی خاموشی کو انکی رضامندی سمجھ لوں تو کیسا رہے گا ؟ ( ایجاب و قبول کے معاملہ میں خاموشی کو رضامندی ہی سمجھا جاتا ہے ) ؛
    اس نتیجہ پر پہنچ کر میں عرشی صاحبہ کی نظم “ایک ماں کا خود سے مکالمہ “ کے چند اور بند پیش کررہا ہوں:
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    خدا سے التجا کرتی ہوں یہ سب وہم ہو میرا
    مرے دل کو یونہی بیکار اندیشوں نے ہو گھیرا
    ترے سُسرال میں پیاری ہر اک ہو قد ر داں تیرا
    ترے دل میں ہمیشہ کی طرح خوشیوں کا ہو ڈیرا
    ۔۔۔۔
    مگر آنکھوں میں تیری جب نمی سی دیکھتی ہوں میں
    بچا کر تیری نظریں اپنی آنکھیں پونچھتی ہوں میں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اکیلی بیٹھ کر بیتے دنوں کو یاد کرتی ہوں
    میں سُونے دل میں یادوں کا نگر آباد کرتی ہوں
    اسی حیلے سے تسکینِ دل ناشاد کرتی ہوں
    اور اپنے واسطے اک مشغلہ ایجاد کرتی ہوں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    تصور میں مرے بکھری تری بچپن کی تصویریں
    جکڑ لیتی ہوں سوچوں کو گئے لمحوں کی زنجیریں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میر ی بانہوں میں اے ننھی پری جس روز تو آئی
    خدائے پاک کی رحمت کی بدلی گھر پہ تھی چھائی
    سعادت تیرے دم سے میں ماں ہونے کی جب پائی
    بڑھا رتبہ مرا جنت مرے قدموں تلے آئی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    تو اک ننھے فرشتے کی طرح معصوم صورت تھی
    کوئی پوچھے مرے دل سے تو کتنی خوبصورت تھی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تیری کلکاریوں نے سُونے گھر کو زندگی بخشی
    مری جاں کیا بتاوں تُونے مجھ کو کیا خوشی بخشی
    چکھایا ذائقہ ممتا کا مجھ کو تازگی بخشی
    مرے جذبو ں کو سہلایا مجھے آسودگی بخشی
    ۔۔۔۔۔
    لہومیں سنسناہٹ تھی ، رواں اشکوں کا دھارا تھا
    مجھے جب تُونے پہلی بار ماں کہ کر پکارا تھا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ تیری توتلی باتیں ترا فقروں کو دھرانا
    مری سینڈ ل پہن کر سارے گھر میں گھومتے جانا
    دوپٹوں کی مرے ساڑی بنا نا ، جھڑکیاں کھانا
    کبھی تو مان لینا اور کبھی ہربات منوانا
    ۔۔۔۔۔۔۔
    بتا سکتی نہیں کیا لطف ان من مانیوں میں تھا
    عجب معصومیت کا نُور اُن نادانیوں میں تھا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    باقی آیندہ
    امید کہ عرشی صاحبہ اپنی اس غیر مطبوعہ نظم کے مندرجہ بالا اشعار کی اشاعت پر مجھے معاف کردینگی ۔ ( میں اتنی خوبصورت نظم کو اپنے پاس رکھنا اس لیے مناسب نہیں سمجھتا کہ مجھے اپنی زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں)

  21. سعادت تیرے دم سے میں نے ماں ہونے کی جب پائی ِ۔ پڑھیے ؛ شکریہ

  22. محترمہ بہن عرشی صاحبہ !

    ہم آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ منظور قاضی صاحب کو نظم کی اشاعت کی اجازت فوراً دے دیجیے کہ وہ اپنے ہسپانیہ کے سفر سے پہلے اسے شائع کردیں اور ہم پڑھ لیں کہ زندگی کا کوئی اعتبار نہیں-

    یا تو یہ دو بند بھی پڑھنے کو نہ دئیے ہوتے، اور اگر اب چکھا ہی دئیے ہیں تو باقی نظم کو محفوظ رکھنے کو ہم اپنے ساتھ زیادتی کہیں گے-

  23. میں عبدالمناف غلزئی صاحب کی درخواست پر آمین کہتا ہوں ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میں تمام ابھرتے ہوئے شعرا اور شاعرات کو مشورہ دیتا ہوں کہ عرشی صاحبہ کی اس نظم سے دلوں میں اترنے والے اشعار لکھنے کا سلیقہ سیکھیں۔
    عرشی صاحبہ نے جس طرح سیدھے سادے انداز میں ایک ماں کے احساسات اور جذبا ت کو منظوم کیا اس فن کی خوبیوں کو اپنائیں ۔

    مشکل مشکل الفاظ اور دقیق ترکیبوں سے پڑھنے والے کے دماغ پر رعب جمانے کی کوشش کرنا اپنی نا اہلی کی پردہ پوشی کرنے کے برابر ہے ۔
    مگر سادہ سے انداز میں اپنے اشعار سے پڑھنے والوں کے دلوں اور دماغوں کو چھو جانا ہی شاعری کا کمال ہے جس کا مظاہرہ عرشی صاحبہ اپنے اشعار میں کرچکی ہیں ۔
    یہ عالمی اخبار کے پڑھنے والوں کی خوش قسمتی ہے کہ عرشی صاحبہ نے انکو اپنے کلام کی جھلک دکھادی ۔
    فقط:
    خیر اندیش
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  24. ایک خوشخبری :
    مجھے آج 2 فروری 2010 کو محترمہ عرشی صاحبہ کا یہ اجازت نامہ بذریعہ ای میل وصول ہوا جس کے لیے میں عرشی صاحبہ کا دل سےمشکور ہوں :

    “محترم منظور قاضی صاحب
    السلام علیکم
    آپ کی طرف سے اس عزت افزائی اور قدر دانی کا شکریہ۔
    اگر عالمی اخبار کی انتظامیہ کو اس نظم کی اشاعت پر کوئی اعتراض نہ ہو تو مجھے کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔
    آپ کو میری طرف سے اسے شائع کرنے کی اجازت ہے
    والسلام
    عرشی ملک“
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسی کے ساتھ ساتھ زرقا مفتی صاحبہ ( جو عالمی اخبار کے اردو شعر و ادب کے سیکشن کی نگرانی کرتی ہیں) کا ایک ای میل پیغام بھی وصول ہوا جس میں انہوں نے صرف “ شکریہ : قاضی صاحب “ لکھا ۔
    ۔۔۔۔۔
    اب جب کہ ایجاب و قبول کی رسم پوری ہوگئی ۔ میں عرشی صاحبہ کی اس دل ہلادینے والی نظم کے بقیہ اشعار اس بلاگ میں اپنے آنے والے تبصرے میں پیش کررہا ہوں:
    خیر اندیش :
    منظور قاضی

  25. خدا کرے کہ تمام سخنور ، عرشی صاحبہ کی اس نظم کو پڑھ لیں اور اس نظم کی خوبصورتی سے مستفید ، مستفیض اورمحظوظ ہوں :
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    محترمہ ارشاد عرشی ملک صاحبہ کی نظم “ ایک ماں کا خود سے مکالمہ“ کے بقیہ اشعار :

    وہ تیرا ڈولتے قدموں سے چلنا یاد آتا ہے
    مجھے گرنا ترا گر سنبھلنا یاد آتا ہے
    کبھی وہ گود میں چڑھنا پھسلنا یاد آتا ہے
    کبھی ابو کی بانہوں میں مچلنا یاد آتا ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    مری جاں کس قدر نازوں سے میں نے تجھ کو پالاتھا
    بہت نازک تھی تو، ہر گام پر تجھ کو سنبھالا تھا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ترا اسکول سے آکر مجھے ہربات بتلا نا
    جو ٹیچر نے بنایا ہاتھ پر اسٹار دکھلا نا
    ترا پھر شام تک اُس ہاتھ کو دھونے سے کترانا
    مرے اصرار پر وہ روٹھ کر کمرے میں چھپ جانا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اچانک آکے پھر میرے گلے میں جُھول جاتی تھی
    تری مدھر ہنسی سن کر میں ہر دُ کھ بھول جاتی تھی
    ۔۔۔۔۔۔
    بہت دل چسپ دنیا کے مکیں لگنے لگے مجھ کو
    کہ رُوکھے لوگ بھی خندہ جبیں لگنے لگے مجھ کو
    مناظر سیر گاہوں کے حسیں لگنے لگے مجھ کو
    کہ چڑیا گھر کے بندر دلنشیں لگنے لگے مجھ کو
    ۔۔۔۔۔۔
    بہت حیران کُن اور پُر مسرت تھی یہی دنیا
    ترے ہمراہ کتنی خوبصورت تھی یہی دنیا
    ۔۔۔۔۔۔
    ترا گڑیا کی وہ شادی رچانا یاد آتا ہے
    وہ رقعے بھیج کر مہماں بلا نا یاد آتا ہے
    بوقتِ رُخصتی رونا رلانا یاد آتا ہے
    و ہ گڈے والوں کو لڑکر بھگانا یاد آتا ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    لڑکپن کی انوکھی شوخیاں میں کس طرح بھُولوں
    وہ تیرا بھولپن وہ مستیاں ، میں کس طرح بھُولوں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    تو رونق تھی مرے گھر کی، مری آنکھوں کی بینائی
    تو نغمہ تھی مرے دل کا ، مرے کانوں کی شنوائی
    غرض بیتے کئی موسم جوانی کی بہار آئی
    ترے اندر چھپی ساری لیاقت سامنے آئی
    ۔۔۔۔۔۔
    وہ تمغے جیتنا اسناد پانا ، یاد ہے مجھ کو
    ترا ہر امتحاں میں فرسٹ آنا ، یاد ہے مجھ کو
    ۔۔۔۔۔
    ترے کالج کے دن مجھ کو برابر یاد آتے ہیں
    گئی راتوں تلک پڑھنے کے منظر یاد آتے ہیں
    ترے بازار کے دن رات چکر یاد آتے ہیں
    تری سب دوستوں کے نام اکثر یاد آتے ہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ تیرا فون پر سکھیوں سے پہروں گفتگو کرنا
    وہ تیرے قہقہے ، وہ شوخیاں ، وہ ہاو و ہُو کرنا
    ۔۔۔۔۔۔۔
    باقی آئیندہ کے تبصرےمیں ملاحظہ کیجیے ۔

  26. عرشی صاحبہ کی نظم “ ایک ماں کا خود سے مکالمہ “ کے بقیہ اشعار حاضر ہیں :

    پھر آخر ایک مشکل فیصلہ کرنا پڑا مجھ کو
    جُدائی کاتری پھر حوصلہ کرنا پڑا مجھ کو
    خود اپنے ہاتھ سے تجھ کو وداع کرنا پڑا مجھ کو
    کہوں کیا ماس سے ناخن جدا کرنا پڑا مجھ کو
    ۔۔۔۔۔۔۔
    جُدا ہونا ہی بیٹی کا مقدر ہے سو کیا کرتی
    یہ سُنت ہے پیمبر کی سو لازم تھا ادا کرتی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    کیا تھا جب تجھے رخصت بہت ہی سوگوار ی تھی
    جُدائی کی گھڑی تیری شکستہ ماں پہ بھاری تھی
    خوشی بھی تھی مگر ہمراہ اسکے بے قراری تھی
    نئے رشتے مبارک ہوں دُعا ہونٹوں پہ جاری تھی
    ۔۔۔۔۔۔
    پر اب تیری اُداسی میرے دل پر زخمِ کاری ہے
    مرے بس میں نہیں کچھ بھی عجب بے اختیاری ہے
    ۔۔۔۔۔۔
    سہا جاتا نہیں ہے مجھ سے اب تیرا غمِ پنہاں
    تجھےنو ماہ میں نے پیٹ میں رکھا ہے میری جاں
    تری ہر ہر ادا کی خوب میرے دل کو ہے پہچاں
    یونہی رسمی ہنسی سے مجھ کو بہلانا نہیں آساں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    ڈراتی ہے تری افسردگی میں سو نہیں سکتی
    ستم اس پر کہ تیرے سامنے میں رو نہیں سکتی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    تجھے تو غمزدہ لوگوں کو بہلانا بھی آتا تھا
    تجھے محفل کی رونق بن کے چھاجانابھی آتا تھا
    سنا کر شاعری جذ بوں کو مہکانا بھی آتا تھا
    دلائل دے کے اپنی بات منوانا بھی آتا تھا
    ۔۔۔۔۔۔
    تو بلبل کی طرح وہ چہچہانا بھول بیٹھی ہے
    وہ ہنسنا بولنا ، ملنا ملانا بھول بیٹھی ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    نہ تجھ سے کچھ بھی پوچھےگی نگاہِ آشنا میری
    تجھے تو علم ہے عادت ہے تسلیم و رضا میری
    حصارِ عافیت میں تجھ کو لے لے گی دُعا میری
    خدا ہی میرا مُونس ہے سنے گا التجاء میری
    ۔۔۔۔۔۔۔
    دعائے نیم شب کو ہی عطا ہوتی ہیں تاثیریں
    دلِ مظلوم کی آہیں تو ساتوں آسماں چیریں
    ۔۔۔۔۔
    ترے سسرال میں اے کاش تیری قدر دانی ہو
    ترا شوہر تجھے چاہے تُو اس کے دل کی رانی ہو
    نہ یاد آئے کبھی میکے کی ایسی شادمانی ہو
    خدا کا فضل ہو دائم ، خدا کی مہربانی ہو
    ۔۔۔۔۔
    جو تیرا حال ہے وہ اپنے مولا کو سنا بیٹی
    میں تجھ سے کچھ نہ پوچھوں گی مجھےکچھ نہ بتا بیٹی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    مجھے معلوم ہے غصّے کو تو غم میں سموتی ہے
    سلگتے غم سے پھر اشکوں کی اک مالا پروتی ہے
    بہانے سے غسَل کے تو غسَل خانے میں روتی ہے
    کبھی تاریکیوں میں رات کی تکیہ بھگوتی ہے
    ۔۔۔۔
    سہام اللیل کا نسخہ بہت اکسیر ہے پیاری
    بہت پیارا خدا کو نالہء شب گیر ہے پیاری
    ۔۔۔۔۔۔
    سمیٹوں کس طرح خود کو کہ ہر لمحہ بکھرتی ہوں
    قدم ہر روز گویا دھار پر خنجر کی دھرتی ہوں
    دُعائیں شب کو کرتی دن کو ٹھنڈی آہ بھرتی ہوں
    میں اک سُولی پہ لٹکی ہوں نہ جیتی ہوں نہ مرتی ہوں
    ۔۔۔۔۔
    نصیحت تجھ کو کرتی ہوں کہ رہنا در گذر کرکے
    چلی چل اپنی منزل کی طرف عزمِ سفر کرکے
    ۔۔۔۔۔
    بہت سے ماوں کے دل کا یہ حالِ زار لکھا ہے
    پرانا درد ہے پر میں نے پہلی بار لکھا ہے
    بہت تفصیل سے حالِ دلِ بیمار لکھا ہے
    اثر اس میں نہیں کوئی تو پھر بے کار لکھا ہے
    ۔۔۔۔
    نصیحت ہے کسی ماں کے شکستہ دل سے مت کھیلو
    اور اس کی بے بسی کو ظلم کے بیلن سے مت بیلو
    ۔۔۔۔۔۔۔
    بہت سی بیٹیاں سسرال میں جیتی ہیں مر مر کے
    اور ان کی ماوں کا جیون بسر ہوتا ہے ڈر ڈر کے
    انہیں کاحال کہنا ہے مجھے خونِ جگر کرکے
    لکھے ہیں شعر یہ عرشی قلم اشکوں سے تر کرکے
    ۔۔۔
    ہیں ان کے نام جو دل کا جہاں مسمار کرتے ہیں
    لبادہ پارسائی کا پہن کر وار کرتے ہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ختم شد
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کاتب کا نوٹ:
    خدا کا شکر ہے کہ عرشی صاحبہ کی اس غیر مطبوعہ نظم کو ( انکی اجازت کے ساتھ اور عالمی اخبار کی انتظامیہ کی مرضی کے ساتھ ) یہاں ٹایپ کرکے میرے دل کا بوجھ دور ہوگیا۔
    عرشی صاحبہ کا بہت بہت شکریہ کہ انہوں نے مجھ پر اعتبار کیا اور یہ مبارک کام میرے سپرد کیا۔
    اللہ انہیں اسی طرح کے اشعار کہنے کے لیے صحت و تندرستی کے ساتھ ہمیشہ زندہ رکھے ۔اور انکے کلام کو حیاتِ دوام بخشے ۔ آمین
    ۔۔۔۔۔۔
    امید کہ زرقا مفتی صاحبہ از راہ کرم اس بلاگ میں لکھا ہوا عرشی صاحبہ کا سارا کلام عالمی اخبار کے شاعری کے سیکشن میں شامل کرلینگی ۔ تاکہ شاعری کا سیکشن ایک تاریخی سیکشن بن جائے۔
    ۔۔۔۔۔
    خیر اندیش
    منظور قاضی
    میونخ کی ایک قریبی بستی سے

  27. پتہ نہیں اس بلاگ کو کوئی پڑھ بھی رہا ( رہی ) ہے یا نہیں ۔
    عرشی صاحبہ کو چاہیے تھا کہ وہ اپنا کلام عالمی اخبار کی انتظامیہ کو باالراست روانہ کردیتی تاکہ وہی اپنے نام سے ایک بلاگ شروع کرکے عرشی صاحبہ کے کلام کو اس میں شایع کردیتی ۔

    عرشی صاحبہ کو شائد معلوم نہیں کہ مجھ کم علم ، گوشہ نشین قلندر کے بلاگوں کو تو کوئی پڑھتا ہی نہیں ۔ اس وجہ سے جو کچھ بھی ان میں ہوتا ہے وہ صدا بصحرا کی حیثیت رکھتا ہے :

    بہر کیف : عرشی صاحبہ نے مجھے اپنا سمجھ کر ابھی ابھی اس بلاگ کو اپنے نئے کلام بعنوان “ ابو جانی “ آزاد نظم کو بھجوایا جسے میں دلی شکریہ کے ساتھ اس بلاگ میں کمپوز کررہا ہوں ( عرشی صاحبہ مجھے اپنا کلام ان پیج سافٹ ویر میں بھجواتی ہیں جسے میں بڑی احتیاط کے ساتھ یونی کوڈ اردو فانٹ میں تبدیل کرتا ہوں ۔اگر کوئی کوتاہی ہوجائے تو معافی خواستگار ہوں )
    عرشی صاحبہ نے اپنے اس ای میل کے خط کے ساتھ ساتھ اپنی نظم بھی بھجوائی :
    —– Original Message —–
    From: Arshi Malik
    Sent: Wednesday, February 03, 2010 9:05 AM
    Subject: FW: ابو جانی۔۔۔۔۔
    ——————————————————————————–
    ہم اپنی لغزشوں کی ہر کہانی بھول جاتے ہیں
    خدا کی چشم پوشی ،مہربانی بھول جاتے ہیں
    پکڑنا چاہتے ہیں ہر خطا ہم اپنے بچوں کی
    پر عرشی اپنا عہدِ نوجوانی بھول جاتے ہیں
    ۔۔۔۔۔۔
    سوآ ئیے ماضی میں لوٹیں
    اگرآپ باپ ‘‘ ہیں،تو
    اپنی بھولی ہوئی لغزشوں کو یاد کر کے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگیں
    اگر بیٹے ہیں تو
    ان لغزشوں سے بچنے کا عزم کریں
    ۔۔۔۔۔۔
    اور اس نظم کے بارے میں اپنی قیمتی رائے ضرور دیں
    عرشی ملک
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عنوان : ابو جانی
    ( زندگی دائرے کا سفر ہے ۔احساسِ زیاں سے لبریز ایک آزاد نظم )
    از : ارشاد عرشی ملک ۔ اسلام آباد
    arshimalik50@hotmail.com
    جب میں اپنی عمر کے چوتھے سال میں تھا
    میرے ابو جانی مجھ کو بے حد پیارے لگتے تھے
    میری سوچوں کے آکاش پہ روشن تارے لگتے تھے
    بے حد عظمت کے مالک اور بے حد اچھے لگتے تھے
    دنیا کو کچھ علم نہیں ، پر ابو سچے لگتے تھے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    چھ سالوں کا ہوکر میں نے جان لیا
    میرے ابو سارے علم کے مالک ہیں
    ہر پل ہنستا ، روشن چہرہ ، کتنے حِلم کے مالک ہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    جب میں اپنی عمر کے دسویں سال میں پہنچا
    مجھے لگا کہ ، یوں تو ابو، اچھے ہیں
    پر مجھ سے غصے رہتے ہیں
    ان کا علم و فہم بھی گرچہ اچھا ہے پر خاص نہیں ہے
    میرے ہر ساتھی کے ابو، اتنے علم کے مالک ہیں
    ۔۔۔۔۔۔
    بارہ سال کا ہوکر میں کچھ بے کل سا تھا
    ہر پل سوچا کرتا تھا
    ابو کو خوش کرنا کتنا مشکل ہے
    جب میں چھوٹا بچہ تھا تو ابو مجھ سے کتنا پیار کرتے تھے
    گود میں مجھ کو لے کر چاہت کا اظہار کیا کرتے تھے
    تب وہ کتنے اچھے تھے
    ۔۔۔۔۔۔
    سولہ سال کا ہوکر یک دم میں کافی مایوس ہوا تھا
    ابو یوں تو ٹھیک ہی ہیں پر وقت کا ساتھ نہیں دے پاتے
    اکثر پیچھے رہ جاتے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سترہ سال سے بیس برس کی مدت کافی مشکل تھی
    مجھ کو یوں لگتا تھا جیسے ، ہر پل مجھ پر نکتہ چینی
    ابو کی اب عادت بنتی جاتی ہے
    میری ٹوہ میں رہنا ان کی فطرت بنتی جاتی ہے
    میرے ملنے والوں سے بھی اکھڑے اکھڑے رہتے ہیں
    مجھ سے کچھ مایوس سے ہیں اوربگڑے بگڑے رہتے ہیں
    تب میں ان کی نظروں سے بچ بچ کے گذرا کرتا تھا
    اور یہ سوچا کرتا تھا
    ان کی صحبت میں کچھ دیر بھی رہنا کتنا مشکل ہے
    ان کی گہری گہری نظریں سہنا کتنا مشکل ہے
    جانے ماں کس طرح ان کا ساتھ نبھاتی آئی ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    چوبیس اور پچیس برس کی عمر میں مجھ کو یوں لگتا تھا
    ان کو میری ہر خواہش سے بیر سا ہے
    دنیا کے حالات کا بھی کچھ علم نہیں ہے
    طیش میں جلدی آجاتے ہیں
    شائد ان میں حِلم نہیں ہے
    جانے دنیا والوں کا وہ ساتھ نبھانا کب سیکھیں گے
    آنے والے نئے دِنوں سے ، ہاتھ ملا نا کب سیکھیں گے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تیس برس کا ہوکر میں حیران ہوا کہ
    اپنے ننھے بچوں کو کس طور سنبھالوں
    ایک نہیں وہ سنتے میری
    حالانکہ میں چھوٹے ہوتے اپنے ابو سے ڈرتا تھا
    جو کچھ وہ کہتے کرتا تھا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    چالیس اور پینتالیس سال کا ہوکر آخر میں نے جانا
    ابو نے ہم سب کو کافی ، طور ، اطورا سکھائے تھے
    خوب ڈسپلن میں رکھا تھا
    میں حیران ہوا کہ ابو اتنے بچوں کو کیسے
    ا ک نظم و ضبط میں رکھتے تھے
    ۔۔۔۔۔
    نصف صدی کی عمر بِتا کر میں نے جانا
    بے شک ابو نے ہم سب پر کافی وقت لگا یا تھا
    روز و شب قربانی دی تھی سارا مال لٹایا تھا
    چھ بچوں کو نظم و ضبط سکھانا اور پروان چڑھانا
    کام کوئی آسان نہیں تھا
    میرے دو بچے ہیں وہ بھی اُ کھڑے اکھڑے رہتے ہیں
    اور جنریشن گیپ کے ان کے لب پر دکھڑے رہتے ہیں
    ۔۔۔۔۔۔
    پچپن سال کی عمر میں مجھ پر اور بہت سے راز کھلے
    بے شک ابو اعلٰی ظرف تھے
    متحمل تھے، دانشور تھے
    دور تلک وہ دیکھ رہے تھے دیدہ ور تھے
    وہ ہر کام کو مجھ سے بڑھ کر احسن طور پہ کرسکتے تھے
    کرسکتے ہیں۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اب میں ساٹھ برس کا ہوکر
    چوٹ پہ ڈنکے کی کہتا ہوں
    میرے ابو جانی مجھ کو جان سے پیارے لگتے ہیں
    میری سوچوں کے آکاش پہ روشن تارے لگتے ہیں
    بے حد عظمت کے مالک اور بے حد اچھے لگتے ہیں
    دنیا کو کچھ علم نہیں ، پر ابو سچے لگتے ہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    چار برس کی عمر میں جو ایمان تھا میرا
    ساٹھ برس کی عمر میں عرشی وہ ایمان ہواہے تازہ
    ابو کی قدر وقیمت کا آج ہو ا مجھ کو اندازہ
    ۔۔۔۔
    تمام شد
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کاتب کے الفاظ:
    اس کو پڑھکر مجھے میرے ابو مرحوم یاد آگئے ۔ خدا مغفرت کرے : آمین
    پتہ نہیں میرے دو بیٹے میرے بارے میں کیا سوچتے ہونگے ۔۔
    میں جرمنی میں وہ ڈلس ، ٹیکسس میں : اب تک تو انہوں نے ایسی کوئی بات نہیں کی جس پر مجھے شرمندگی ہو : اللہ انہیں نیک راستے پر گامزن رکھے ۔اور انکو ا نکے تما م نیک مقاصد میں کامیاب کرتا رہے ۔آمین
    ۔۔۔۔
    عرشی صاحبہ کے کلام کو یونی کوڈ میں ٹائپ کرنا میرے لیے ایک اعزاز ہے ۔ اگر وہ اس کتابت میں کمپوزنگ کی کوئی غلطی دیکھیں تو براہ کرم درست کردیں۔
    فقط:
    منظور قاضی
    میونخ کی ایک قریبی بستی سے

  28. سبحان اللہ ۔۔واہ ۔۔ کیا خؤب لکھا عرشی آپا نے ۔۔ ان کی تخلیق “ابو جانی “ نے مجھ سے کل ایک نظم لکھوائی ہے ۔۔ منظور بھائی خاص طو رپر آپ کی خدمت میں پیش کرتی ہوں ۔۔۔
    ماں
    مجھے یا دہے وہ دن جب میں نے تجھے خود سے الگ دیکھا تھا
    خود کو تجھ سے بڑا سمجھا تھا
    اپنی عقل کل سے تیری محبت کو پرکھا تھا
    اپنی گڑیوں کو تجھ سے “تیری نہیں “ کہہ کر چھینا تھا
    خود کھانے کی ضد میں تیرے ہاتھوں کو جھٹکا تھا
    تیرا ہاتھ پکڑنے کی بجائے دیواروں کو سہارا سمجھا تھا
    میرے ہاتھ میں کئی کتابیں تھیں اور تجھے علم کی پڑی تھی
    کتنی آسانی سے “تجھے کچھ نہیں آتا ماں “ یہ کہہ دیا تھا
    اور
    تو نے بھی تو ہنس کر کہہ دیا تھا ۔۔ مجھے بھی بتاؤ نا کیا لکھا ہے ان میں
    وہ تیرا میرے ساتھ دن رات کا جاگنا
    مجھے ہر آفت سے محفوظ رہنے کی دعا دینا
    میری دوستوں کی لمبی فہرستیں ۔۔ اور تیرا مسکرا دینا
    وہ میری لغزشیں
    وہ میری نافرمانیاں
    وہ میری نادانیاں
    سب کچھ اپنے آنچل میں چھپا کر سب سے چھپا لینا
    میری آنکھوں میں تیری یادیں دعاؤں کی صورت نم ہیں
    میری اچھی ماں ۔۔ سنو ۔۔
    میری بیٹی اب بڑی ہو گئی ہے
    میری عقل اور سمجھ سے بھی بڑی ۔۔
    مجھے معاف کر دو ماں ۔۔۔ بس ایک شکوہ ہے میراتجھ سے
    میں تجھ جیسی ہوتی ۔۔ یہ دعا کیوں نہیں کی تھی ۔۔۔!
    (ڈاکٹر نگہت نسیم )

  29. میں اس بات کا اعتراف کرتا ہوں کہ میری آنکھیں نم ہوجاتی ہیں جب میں ماں اور باپ کے عنوانوں پر اتنی پر اثر نظمیں پڑھتا ہوں۔
    ۔۔۔۔۔۔
    عرشی صاحبہ کی نظم ماں اور پھر ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ کی نظم ماں دونوں ہی مجھے اپنی مرحوم ماں کی یاد دلا رہی ہیں جس نے مجھے تازہ کھلا کر خود باسی کھانے کھائے اور میری بہنوں اور بھائیوں پر اپنی جان قربان کرنے میں اپنی خوشی محسوس کی اور مرتے دم تک “ اللہ تم سب کو نیک توفیق دے اور اللہ کسی کو کسی کا محتاج نہ کرے “ جیسی دعائیں مانگتی رہی۔
    ۔۔۔
    عرشی صاحبہ کی نظم میں ماں نے اپنے آپ سے مکالمہ کی صورت میں اپنی بیٹی کے سکھ دکھ کی بات کی ، نگہت صاحبہ کی نظم بیٹی نے ماں کی تربیت اور محبت کی بات کی اور خود کو ایک ماں کے روپ میں پیش کرکے اپنے احساسات کو منظوم کیا۔
    ۔۔۔۔۔۔
    عرشی صاحبہ نے ایک بیٹے کے اپنے ابوجانی کے سایے میں اپنی زندگی کے مختلف مدارج کے ارتقا کو بڑے ہی موثر انداز میں پیش کیا ۔اور آخر میں اپنے آپ کو ابوجانی کے روپ میں پیش کیا ۔۔
    ۔۔۔۔
    نگہت نسیم صاحبہ کا شکریہ کہ انہوں نے اپنی نظم سے اس بلاگ کی رونق بڑھادی ۔
    یقینی طور پر عرشی صاحبہ بھی اس بلاگ کی پذیرائی پر خوش ہورہی ہونگی۔
    ۔۔۔۔۔۔
    میں تو جو پڑھے اسکا بھلا جو نہ پڑھے اسکا بھی بھلا کہکر اس بلاگ کو جاری رکھا ہوں ۔ اگر عرشی صاحبہ اور دوسرے سخنور اسی طرح اپنا کلام اس میں شامل کرتی رہینگے تو اس بلاگ کی خوش قسمتی ہی سمجھونگا۔

  30. اگرچیکہ یہ بلاگ عرشی صاحبہ کے ارشادات کےلیے ہے مگر انکی نظم ماں سے متعلق اس بلاگ میں شامل ہوئی اور اسکے بعد ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ کی نظم بھی اسی عنوان “ ماں “ کے ساتھ شایع ہوئی
    آج مجھے محترمہ شاہین رضوی صاحبہ کی یہ نظم عالمی اخبار کے شاعری کے سیکشن میں نظر آئی جسے میں اس بلاگ میں نہایت ادب اور احترام کے ساتھ پیش کررہا ہوں۔ اس نظم میں شاہین رضوی صاحبہ نے نہایت ہی پر اثر انداز میں اپنی ماں کو خراجِ عقیدت پیش کیا :

    ما ں از شاہین رضوی
    اپنی امی کی گودی میں سر رکھتے ھی
    ان کی خو شبو ،محبت ، دعا ؤ ں کی تا ثیر سے

    لطف و فرحت کے ابواب کھلتے گۓ
    لمحہ بھر کے لیے مجھکو ایسا لگا
    میں بھی برگد کی ٹھنڈی گھنی طلسمی
    مہربا ں چھاؤں میں آگئی
    خا مشی ،خا ر بند راستے اور تنہا ئیا ں
    پر سش غم کی چہر ے پر پر چھا ئیا ں
    جسم و جا ن میں لہو کی دوڑتی

    غم کی شہنا ئیا ں
    کئی دیدہ و نا دیدہ مجبوریا ں
    اکتسا ب ھنر ایک شکتہ بدن
    درد کی کھا ئیا ں
    ان گنت گونگے دکھہ
    دربدر رائیگا ں
    مخزن حزن کی بزم آرائیا ں
    میری بے خواب آنکھوں کی ساری جلن
    مفلسی،خستگی،عمر بھر کی تھکن
    ما ں کی پا کیز ہ خو شبو کے احسا س نے

    میری بے نور آنکھوں کو بینائی دی

    ان کے ھا تھوں کو ھونٹوں سے مس کرتے ھی
    خا ک نے زخم دل کی مسیحائی کی
    میری امی نے ماتھے پر بو سہ دیا
    بس اسی ایک لمحے میں روتے ھوۓ
    میں نے رب سے کہا
    اے خدا
    اے خدا
    اےخدا
    سا ری ما ؤ ں کو عمرخضر کر عطا

  31. ڈاکٹر نگہت نسیم اور شاھین مفتی کی ماں کے موضوع پر خوبصورت نظمیں پڑھ کر دل خوش ہو گیا۔
    اس نئے بلاگ کا سارا کریڈٹ منظور قاضی صاحب کو جاتا ہے۔جو مجھ ناچیز کی طویل نظموں کو یونی کوڈ میں تبدیل کرتے ہیں۔
    اللہ تعالیٰ ان کو خوش رکھے

  32. میرےپاس الفاظ کا اتنا ذخیرہ نہیں ہے کہ میں عرشی صاحبہ کی عنایتوں کا شکریہ ادا کرسکوں۔
    عرشی صاحبہ کے کلام پر میرے ابتدائی مبتدیانہ تبصروں سے ڈر کر میرے کرم فرما مجھے ڈرا رہے تھے کہ تم کو اتنی کہنہ مشق شاعرہ کے کلام کی کتابت کی کوتاہیوں کی نشاند ہی کرنے کی جرائت کیسے ہوگئی ؟ ۔ تم تو اب ہمیشہ کے لیے ان کی نظروں میں راندہ ء درگاہ بن جاوگے ۔
    مگر اللہ کا لاکھ لا کھ شکر ہے کہ عرشی صاحبہ نے فراخدلی سے کام لے کر میری با توں کا برا نہیں منا یا ، اور اب وہ مجھ پر اپنا کرم فرما کر اپنے مطبوعہ اور غیرمطبوعہ کلام کو ای میل کے ذریع مجھے ای میل کے ذریعہ عنایت کررہی ہیں تاکہ میں اسے ان پیج سے یونی کوڈ میں منتقل کرکے عالمی اخبار میں شایعے کرسکوں۔
    یہ میرے لیے بہت ہی بڑا اعزاز ہے ۔
    اگر مورخ اور نقاد عرشی صاحبہ کی اس عنایت کا مشاہدہ کررہےہیں تو یقینی طور پر عرشی صاحبہ کے کلام پر کچھ لکھتےوقت عالمی اخبار کے ساتھ ساتھ اس کم علم کے نام کو بھی اپنے ذہن میں محفوظ رکھینگے ۔

    ( اسی قسم کی تاریخی بات مجھے ، گذشتہ سال ڈاکٹر پنہاں صاحبہ کے کلام کو عالمی اخبار کے بلاگوں میں لکھتے وقت مجھے کہنا پڑی ۔ میں اس بلاگ کی کاپی ڈاکٹر پنہاں کو بھی بھجوارہا ہوں تاکہ وہ بھی دیکھ سکیں کہ پاکستان کےایک شاعرہ کس طرح اچھی اچھی نظمیں اور غزلیں تخلیق کرتی ہے ۔ ڈاکٹر پنہاں نے “ صنعتی شاعری “کے بارے میں کچھ بتانا شروع کیا تھا مگر وہ اس بلاگ کو پورا نہ کرسکیں ۔ شائد عرشی صاحبہ اس اصطلا ح کی توضیح کرکے “ صنعتی شاعری“ کی کچھ مثالیں اس بلاگ میں عطا کرسکیں ) ۔
    ،۔۔۔۔۔۔۔
    میں ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ اور محترمہ شاہین رضوی صاحبہ اور ان سب کے ساتھ ساتھ زرقا مفتی صاحبہ اور صفدر ھمدانی صاحب کا شکریہ اداکر تاہوں کہ وہ سب مجھے عالمی اخبار میں کچھ لکھنے کا موقعہ عطا کرتے ہیں۔
    ۔۔۔۔۔۔
    “ وگرنہ من کے ایک خاکم کہ ہستم “
    ۔۔۔۔۔
    میں خوشی کے ساتھ اس بات کا اظہار کرتا ہوں کہ عرشی صاحبہ نے ابھی ابھی اپنےایک تازہ غزل اورایک تازہ نظم بھی ان پیج میں روانہ کی ہے۔
    میں ان دونوں نعمتوں کو اپنےآنےوالے تبصروں میں یونی کوڈ میں پیش کرونگا ۔: انشااللہ
    دعا کیجیے کہ میرا کپمیوٹر میرے ساتھ وفاداری کرتا رہے۔
    فقط:
    ایک فرش نشیں
    منظور قاضی
    نوٹ: عطاالحق قاسمی کے جنگ اخبار کے کالم میں یہ جان کر بے حد دکھ ہوا کہ پاکستان اور اردو کے عظیم شاعر عبدالعزیز خالد اس جہانِ فانی سے کوچ کرگئے۔ برسوں پہلے میں کراچی کے انکم ٹیکس آفس میں انکی ماتحتی میں کام کرچکا ہوں اور انکے اور انکے ساتھی افسر مرزا جمیل الدین عالی کی قربتوں اور محفلوں سے مستفید اور مستفیض ہوتا رہا ہوں ۔ عبدالعزیز خالد اردو شاعری میں اقبال کی طرح فارسی اور عربی کے الفاظ کو بہت ہی خوبصورتی سے استعمال کرتے تھے ۔ کبھی کبھی آسان کلام بھی کہ دیا کرتے تھے ۔
    عطا الحق قاسمی نے عبدالعزیز خالد کا یہ آسان شعر بھی اپنے کالم میں تحریر کیا:
    قربتِ حسن سے ، کم حوصلہ اربابِ ہوس
    اپنے ہی سانس کی گرمی سے پگھل جاتے ہیں
    ۔۔۔۔
    کیا کوئ قاری مجھے یہ بتا سکتا ہے کہ کیا یہ نعت بھی عبدالعزیز خالد ہی نے لکھی ہے جس کے مقطع میں خالد کا تخلص آیا ہے ِ
    مجھے نعت کے اشعار یاد نہیں مگر اسکا ایک مصرعی ان الفاظ پر ختم ہوتا ہے : حضور کی بندہ پروری ہے
    ایک اور شعر اس نعت کا شائد یوں ہے کہ :
    کسی کو حالات کیوں سنائیں کسی کو احوال کیوں بتائیں ؟
    تم ہی سے مانگا ہے ، تم ہی دو گے ، تمھارے در سے ہی لو لگی ہے
    اس کا مطلع شائد ان الفاظ سے شروع ہوتا ہے کہ :
    کوئی سلیقہ ہے بندگی کا ۔۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جرمنی سے

  33. محترم منظور قاصی صاحب۔۔ اسلام علیکم۔۔۔قابل صد افتخار ارشاد عرشی مللک صاحبہ اور انتہائ پر اثر اور خوبصورت طریقے سے اپنی بات نظم کرنے والی میری عزیز دوست نگہت کی شاعری کےدرمیاں میری نظم ماں ،، بہت شکریہ ۔۔ ھم شاعر ادیب تو ایسی باتوں سے جی اٹھتے ھیں مجھے یہ کہنے دیں کہ ان دونوں کو شاعری نے خود اپنے اظہار کے لیے منتخب کیا ھے۔۔ سلامت رھیں

  34. ارشاد عرشی ملک صاحبہ کی بہت ہی خوبصورت اور مرصع بھی اور دل میں اتر جانے والی تازہ نظم :

    مہکار سے ہجرت
    ارشاد عرشی ملک ( اسلام آباد)
    arshimalik@hotmail.com

    بہت ممکن ہے کر پاتے نہ ہم دیدار سے ہجرت
    میسّر تھی فقط گفتار سو گفتار سے ہجرت

    مری جاں تجھ سے ہجرت کی تو کچھ ایسا لگا ہم کو
    کہ جیسے پھول کو کرنی پڑے مہکار سے ہجرت

    بہت دشوار تھا دریا سے یوں پیاسے پلٹ آنا
    قیامت کی طرح گزری ہے لُطفِ یار سے ہجرت

    جلے ہیں مدتوں ہم آزمائش کی کٹھالی میں
    کبھی کی درد سے ہجرت کبھی دلدار سے ہجرت

    قدم اپنے کوئی دشوار رستہ ڈھونڈ لیتے ہیں
    سدا کرتے رہے ہیں ہم رہِ ہموار سے ہجرت

    خوشی کی ہم نے دستک سُن کے دروازہ نہیں کھولا
    لبھا پائی نہ ہم کو لذتِ آزار سے ہجرت

    نصیبوں میں اگر تنہائی ہو میلے نہیں بھاتے
    چُنی چاو سے ہم نے رونقِ بازار سے ہجرت

    بلا کی پیاس تھی اور قرب جس کا آبِ شیریں تھا
    ہمیں کرنی پڑی ناچار اس دلدار سے ہجرت

    سفر صحراوں کا تھا اور سوا نیزے پہ سورج تھا
    نہ تھی کچھ کھیل تیرے سایہء دیوار سے ہجرت

    مقابل نفس کے ڈٹنا بھی اک جہدِ مسلسل تھا
    بہت مشکل تھی اس آمادہِ تکرار سے ہجرت

    ستم تھا یا کرم کچھ نہ دلِ ناداں کو راس آیا
    سدا کی ہم نے اپنےطالعِ بیدار سے ہجرت

    شکستہ دل میں بستا بھی کوئی تو کتنے دن بستا
    جبھی وہ کرگئے میرے دلِ مسمار سے ہجرت

    رہا ملنا بچھڑنا دائرہ در دائرہ جاری
    سو بہتر ہےکریں اب کاغذ و پرکار سے ہجرت

    توازن کھو نہ بیٹھے یہ کہیں جذبوں کے جھکڑ میں
    اسی اک ڈر سے کی اپنے دلِ لاچار سے ہجرت

    بھروسے پر خدا کے خود کو ڈھیلا چھوڑ دے عرشی
    شکستہ ناو کو درکا ر ہے پتوار سے ہجرت
    ۔۔۔۔

  35. معافی چاہتی ہوں شاھین رضوی کی جگہ غلطی سے شاھین مفتی لکھ دیا۔دوبارہ معافی چاہتی ہوں

  36. میری لیئے عرشی آپا کی نظم کی پسندیگی ایک سند ہے ۔۔ میری خوش بختی کہ آپا کی ایک نظر نے اسے سنوار دیا ۔۔ سلامت رہیں اور ہماری یونہی سرپرستی کرتی رہیں ۔۔

  37. ارشاد عرشی ملک صاحبہ کی آزاد نظم :
    عنوان : سیب کا پیڑ اور لڑکا
    از : ارشاد عرشی ملک ۔ اسلام آباد
    arshimalik50@hotmail.com
    ۔۔۔۔۔
    جنگل میں اک پیڑ لدا تھا سیبوں سے
    اک بھولا معصوم سا لڑکا اس سے کھیلا کرتا تھا
    پیڑ پہ چڑھنا اور اترنا اس کو اچھا لگتا تھا
    سیبوں کو ہرروز کُترنا اس کو اچھا لگتا تھا
    اس کو پیڑ سے ، پیڑ کو اس سے پیار بہت تھا
    چاہت کا اظہار بہت تھا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اک دن جب وہ لڑکا آیا ، چُپ چُپ ساتھا
    پیڑ نےپوچھاچُپ چُپ کیوں ہو ننھے ساتھی؟
    مجھ سے کھیلو دل بہلاو
    سیبوں کو جی بھر کر کھاوَ باقی اپنے گھر لے جاو
    ۔۔۔۔۔۔۔
    لڑکا بولا مجھ کو سیب نہیں کھانے ہیں
    مجھ کو تم کچھ پیسے دے دو، تاکہ میں بازار کو جاوں
    مزے مزے کی چیزیں کھاوں ، رونق دیکھوں دل بہلاوں
    پیڑ نے ٹھندی آہ بھری ، پھر ہنس کر بولا
    پیسے میرے پاس نہیں ہیں
    سیب مرے سارے لے جاو ، ان کو بیچو رقم کماو
    مزے مزے کی چیزیں کھاو
    شہر میں گھومو موج مناو
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    لڑکے نے سب سیب سمیٹے
    خوش خوش وہ جنگل سے لوٹا
    کافی موسم بیت گئے ،پھر اک دن اس کا دل گھبرایا
    لوٹ کے وہ جنگل کو آیا
    لیکن اب وہ لڑکا کب تھا ، مرد تھا ایک سجیلا بانکا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    پیڑ چہک کر بولا
    بیٹے ، آو آو مجھ سے کھیلو
    بے زاری سے مرد وہ بولا ، کھیلوں کے دن بیت چکے ہیں
    تم کو میں بچہ لگتا ہوں ، اب میں خود بچو ں والا ہوں
    سر پر میرے بوجھ بہت ہیں
    گھر کے دروازوں کی خاطر مجھ کو لکڑی کی حاجت ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پیڑ محبت سے یوں بولا
    فکر کی اس میں بات ہی کیا ہے
    میں صدقے، میں واری تم پر، گو میری اوقات ہی کیا ہے
    آو میری شاخیں کاٹو ، ان کو شوق سے تم لے جاو
    گھر کے دروازے بنواو
    مرد نے ساری شاخیں کاٹیں، خوش خوش اپنے گھر کو لوٹا
    ۔۔۔۔۔۔۔
    کافی موسم بیت گئے تو اک دن پھر جنگل میں آیا
    ٹنڈے منڈے پیڑ کے دل میں اک ہریالی سی لہر آئی
    ہونٹوں پر مسکان سجائی ، ہنس کر بولا
    آو آکر مجھ سے کھیلو
    تب وہ مرد بگڑ کر بولا ، مجھ کو اتنی فرصت کب ہے
    میرے بچوں کو دریا پر پکنک کرنے کو جانا ہے
    ان کو کشتی کی حاجت ہے
    پیڑ چہک کر بولا بیٹے
    شکر ہے میرا تنا ہے باقی ، اس کو کاٹو اور لے جاو
    اس سے اکی کشتی بنواو، مزے ا ڑاو
    مرد نے بجلی کے آرے سے بوڑھے پیڑ کے تن کو کاٹا
    اک گاڑی پر لاد کے اس کو یہ جا وہ جا
    ۔۔۔۔۔۔
    برسوں بیتے آخر اک دن تھکا تھکا ایک بوڑھا لوٹا
    الجھے الجھے بال تھے جس کے اور مسلسل کانپ رہا تھا
    اس کو دیکھ کے پیڑ کا اپنا دل بھر آیا
    اندر اندر، کانپ گیا ، کافی گھبرایا
    تھکے تھکے لہجے میں بولا
    میرے بیٹے، کاش کہ مجھ پر سیب ہی ہوتے
    تم کو اپنے سیب کھلاتا
    کاش کہ میری شاخیں ہوتیں
    تم کو میں ان پر چڑھاتا ، خوب ہنساتا ، موج مناتا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بوڑھا بولا
    اب میں پیڑوں پر چڑھنے کے قابل ہی کب ہوں
    نہ ہی منہ میں دانت ہیں میرے ، جن سے سیبوں کو کھا پاوں
    یہ سب سن کر پیڑ کا بوڑھا دل بھر آیا
    بولا میری جڑیں ہیں باقی
    ان کو کاٹو اور لے جاو
    انہیں جلاو، جسم کو کچھ گرمی پہنچاو
    ۔۔۔۔۔۔
    آنسو پی کر بوڑھا بولا
    مجھ کو کہیں نہیں جانا ہے
    جیون کی دوڑ سے اب میں اُوبھ چکا ہوں
    تھکا ہوا ہوں
    کٹے تنے پر سر کو رکھ کر ، کچھ لمحے آرام کروں گا
    پھیلی بانہوں جیسی یہ جڑ ہیں تمہاری میری حاجت کو کافی ہیں
    جب وہ بوڑھا کٹے تنے پر سر کو رکھ کر لیٹ گیا
    شکر کے آنسو پیڑ کی آنکھوں میں لہرائے
    بوڑھےکو آغوش میں لینے کی خاطر بازو پھلا ئے
    برسوں بعد اس لمس نے اس کے دل میں تازہ پھول کھلائے
    اس کو خود پر مان تھا عرشی ، آج بھی میں کچھ دے سکتا ہوں
    اپنے بیٹے کو آغوش میں لے سکتا ہوں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    سیبوں کا یہ پیڑ لگا ہے میرے تیرے سب کے گھر میں
    قربانی اور مہر و وفا کے سیبوں سے جو لدا ہوا ہے
    اس کو جانو اور پہچانو
    پیڑ ہے یہ ماں باپ کا سایہ
    ان کا سانس غنیمت جانو
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    تمام شد
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کاتب کے الفاظ :
    ماشااللہ عرشی صاحبہ : آپ نے کمال کردیا ؛
    جزاک اللہ ، سبحان اللہ ، ماشا اللہ ، مرحبا ، بہت اچھے ، بہت خوب؛ ہزاروں سال صحت اورتندرستی کے ساتھ سلامت رہیے اور ایسی ہی اچھی اچھی باتیں کرکے ہم سب کو اپنی اپنی زندگی پر نظر ڈالنے کا موقعہ عطا کرتی رہیے۔
    فقط:
    اچھے کلام کا شیدائی
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  38. بہت خوب مکرمی ارشاد عرشی ملک صاحبہ
    ویسے تو سب لا جواب ہے لیکن بیٹی اور سسرال والی نظم واقعی بہت ہی قیمتی خزانہ ہے. دل سے دعا نکلتی ہے آپ کے لئے
    اللہ آپ کی صلاحیتوں میں اضافہ فرمائے اور انہیں راہ حق میں صرف کرنے کی توفیق عطا فرمائے.
    ہمیشہ خوش اور خوشحال رہیں

    و السلام
    راجہ اکرام

  39. عالمی اخبا ر کی انتظامیہ نے یہ بہت ہی نیک کام کیا کہ اس بلاگ کو نظروں سے اوجھل ہونے سے پہلے ہی اسکو پھر اپنی اگلی صف میں پیش کردیا تاکہ اس مییں ارشاد عرشی ملک صاحبہ کا کلام جو عصر حاضر کے واقعات پر ایک تنقیدی تجزیے کی حیثیت رکھتا ہے ، پڑھا جائے۔ عرشی صاحبہ کا کلا م ہر لحاظ سے قابلِ مطالعہ بھی ہے اور قابلِ قدر بھی:
    میں انکی ایک غزل کو ایک بلاگ سے( جسے صفدر ھمدانی صاحب نے عرشی صاحبہ کی غزل کو تحت الفظ انداز میں سنا کر شروع کیا تھا ) اس بلا گ میں منتقل کررہا ہوں اور ساتھ ہی ساتھ محترمہ شاہین رضوی صاحبہ کا تبصرہ بھی اس بلاگ میں شامل کررہاہوں تاکہ وہ بھی آنکھوں سے اوجھل نہ ہوجائے ؛

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    غزل :
    پھر بھی اپنی گواہی قلم بند کر!
    از : ارشاد عرشی ملک۔اسلام آباد

    ہاتھ میں ہے ہمارے دعا کا عصا،اس نئے دور کے ساحروں کے کئے
    لے کے آ ئیں نئی رسیاں سوٹیاں ، ہے یہ پیغام جادو گروں کے لئے

    شوق سے اپنے ڈھنڈورچی بھیج دو،سارے افسوں گروں کو اکٹھا کرو
    کیوں ہراساں ہو تم ہار سے اس قدر،دن مقرر کرو فیصلوں کے لئے

    یہ زمانہ ہے شداد ونمرود کا ، دھونس کا ،دھاندلی اور بارود کا
    کوئی فرعون ہے کوئی ہامان ہے ،خوب موقعے ہیں غارت گروں کے لئے

    تیرہ باطن گریزاں رہے نور سے، وہ ہیں مانوس ظلمت کے دستور سے
    شب گزیدہ کو کیا روشنی کی طلب ،دن توآفت ہے چمگادڑوں کے لئے

    صرف جُبے عما مے ہیں مُلا کا دیں ،دل میں ذوقِ یقیں ہے نہ علم الیقیں
    مسئلے بیچتے ان کو صدیاں ہوئیں،حیف ہے ایسے سوداگروں کے لئے

    جو غرورِ عبادت جبیں میں لئے، بندگانِ خدا سے نہ گھل مل سکے
    ان کے سجدے یہیں خاک میں رہ گئے،خاک باقی ہے پیشانیوں کے لئے

    ہم موّحد ہیں رسمی مقلد نہیں ،خود گھڑے ضابطوں کے مقید نہیں
    ہم کو جکڑو نہ رسموں کے زندان میں، یہ تو تنکے ہیں ہم سر پھروں کے لئے

    بیچ کرہم نے خود کو خدا پا لیا ، منزلِ گم شدہ کا پتہ پا لیا
    جھکنے والوں نے ہے کیا سے کیا پا لیا،رفعتیں وقف ہیں عاجزوں کے لئے

    ہم کو دنیا نے جو کچھ دیا لے لیا، درد کا پیرہن ان سلا لے لیا
    اپنے حصے سے ہم نے سوا لے لیا ،کچھ نہ باقی بچا دوسروں کے لئے

    اپنے الفاظ کیا اپنے جذبات کیا، عرشی بے نوا تیری اوقات کیا
    پھر بھی اپنی گواہی قلم بند کر آنے والے نئے منصفوں کے لئے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کاتب ( کمپوزر ) کے الفاظ:
    ماشااللہ ، سبحان اللہ ، جزاک اللہ ، مرحبا عرشی صاحبہ آپ کی حق گوئی و بےباکی پڑھنے کے قابل ہے :
    آپ کی اس غزل کا ہرشعر دلوں کو چھولینے والا ہے اورحالاتِ حاضرہ کی عکاسی کرتا ہے :
    یہ شعر:
    یہ زمانہ ہے شداد ونمرود کا ، دھونس کا ،دھاندلی اور بارود کا
    کوئی فرعون ہے کوئی ہامان ہے ،خوب موقعے ہیں غارت گروں کے لئے

    اور یہ شعر :

    تیرہ باطن گریزاں رہے نور سے، وہ ہیں مانوس ظلمت کے دستور سے
    شب گزیدہ کو کیا روشنی کی طلب ،دن توآفت ہے چمگادڑوں کے لئے

    اور یہ شعر :

    صرف جُبے عما مے ہیں مُلا کا دیں ،دل میں ذوقِ یقیں ہے نہ علم الیقیں
    مسئلے بیچتے ان کو صدیاں ہوئیں،حیف ہے ایسے سوداگروں کے لئے

    اور یہ شعر :

    جو غرورِ عبادت جبیں میں لئے، بندگانِ خدا سے نہ گھل مل سکے
    ان کے سجدے یہیں خاک میں رہ گئے،خاک باقی ہے پیشانیوں کے لئے

    اور یہ شعر بھی :

    ہم موّحد ہیں رسمی مقلد نہیں ،خود گھڑے ضابطوں کے مقید نہیں
    ہم کو جکڑو نہ رسموں کے زندان میں، یہ تو تنکے ہیں ہم سر پھروں کے لئے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    عرشی صاحبہ : اللہ آپ کو ایسی صاف گوئی کےلیے صحت و تندرستی کے ساتھ ہمیشہ سلامت رکھے۔ آمین
    ۔۔۔۔۔
    فقط :
    اچھے کلام کا شیدائی
    منظور قاضی
    میونخ کے ایک قریبی گاوں سے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    شاھین رضوی نے کہا ہے:
    February 6, 2010 بوقت 2:18 pm
    جناب منظور قاضی صاحب۔۔ اسلام علیکم۔۔۔۔سب سے پہلے تو میری معذرت قبول کریں کہ میں قابل صد احترام محترمہ ارشاد عرشی صاحبہ کی بہت اچھی اور دیر تک سماعتوں میں زندہ رھنے والی شاعری کو پڑھ کر محظوظ ھوتی رھی ۔۔اور جب جب داد دینے کی غرض سےتبصرہ کیا۔۔۔اسی وقت کسی نٹ پرابلم کے باعث یہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ھوسکا۔۔۔میں خود بھی اتنی خوبصورت اشعار کہنے والی اس عظیم الشان شخصیت کی کیا تعریف کروں ۔۔ ماشا اللہ ھر ھر شعر سجا ھوا۔۔فکری اعتبار سے قابل غور۔اس میں خوش بیانی ھے، وسعت کے ساتھہ ایک چونکا دینے والی بصیرت بھی ھے۔۔ میرا تو دل چاھ رھا ھے کہ سب سے پہلے محترم صفدررضا صاحب کا شکریہ ادا کیا جاۓ کہ انھون نے اتنی خوبصورت شاعری کرنے والی ایک منفرد شاعرہ سے متعارف کرایا۔۔۔میں کیا میری بساط کیا۔۔جس طرح آپ سب نے ان کو سراھا ھے دل خوش ھوا۔۔ یہ ستائیش کس طرح شاعر کو زندہ کر دیتی ھے ارشاد عرشی صاحبہ آپ نے عالمع اخبار کی بزم سخن میں چار چاند لگا دیۓ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔۔اللہ پاک آپ کو سلامت رکھے۔۔محترم منظور قاضی صاحب۔۔اتنے اچھے بلاگ پر میری دلی مبارک باد قبول فرمائے۔۔بہت خوب انتخاب ھے۔۔بلاگ ابھی بند نہ کریں۔۔۔ ابھی تشنگی باقی ھے۔۔
    ھم کو مزیذ ارشادات عرشی عطا کریں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بہت ہی نیک دعائیں دینے والی شاہین رضوی صاحبہ کو سلام و دعا کے بعد کہنا ہے کہ وہ مطمئن رہیں ، ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ نے اس بلاگ کی اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے اب اسے پھر صف اول میں پیش کردیاہے ۔
    یہ میری خوش نصیبی ہے کہ عرشی صاحبہ نے مجھ پر اعتماد کرکے اپنے کلام کو ان پیج سے یونی کوڈ میں منتقل کرنے کا موقعہ عطا کیا ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    شاہین رضوی صاحبہ: آپ کی شاعری اور افسانوں پر مشتمل کوئ بلاگ اگر آپ شروع کرسکیں تو زہے عزو شرف ۔
    آپ کو تو شائد بلاگ لکھنے کی اجازت بھی ہے اور علم بھی۔ امید کہ آپ ہم سب پڑھنے والوں کو اپنے بلاگ سے سرفراز فرمائینگی ۔
    فقط:
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  40. محترمہ شاہین رضوی صاحبہ نے ای میل کے ذریعہ یہ عنایت نامہ مجھے بھجوایا جس کو میں سب پڑھنے والوں کی خدمت میں پیش کررہا ہوں اس لیے کہ اس میں شاہین رضوی صاحبہ نے عرشی صاحبہ کے کلام کی اور انکی تخلیقی عظمت کی تعریف کی ہے:
    نوٹ : اس عنایت نامے کی کاپی انہوں نے عالمی اخبار کی انتظامیہ کو اور عرشی صاحبہ کو بھی بھجوادی ہیں :
    ۔۔۔۔۔
    جناب منطور قاضی صاحب۔
    اسلام علیکم۔
    میں اس عنایت اور توجہ کے لیے آپ کی تہہ دل سے ممنون ھوں
    قابل صد احترام محترمہ ارشاد عرشی صاحبہ کی فکری وسعت کو۔نظموں قطعات۔اور غزل
    میں بڑی بے ساختگی اور` دل آویزی سے ڈھلتا دیکہھ کر
    انکی گہری بصیرت کا اندازہ ھوتاھے۔۔انکی شاعری
    میں دل کشی کے ساتھہ سوز`و گدازدل و ذھن کو اپنی گرفت میں لیتاھے
    ماشااللہ شاعرانہ ندرت ، سادگی اور فکری پختگی کی حامل کوي شاعرہ ھی اتنے دل کش اشعار
    کہنے پر قادر ھوسکتی ھے۔۔داد و ستائیش کے لیے لفظ کم پڑ گئے ھیں
    ارشاد عرشی صاحبہ بڑی خوش سلیقگی اور اور فنی چابک دستی
    سے اپنے اشعار میں اتنے خوبصورت رنگ بھرتی ھیں اور اپنے اس کلام کی بھرپور داد حاصل کرتی ھیں۔
    ماشا اللہ انکی شاعری تخلیقی حسن کا اعلی نمونہ کہی جاسکتی ھے۔

    انکی نظموں کے عنوان انکے کثیرالمطالعہ ھونے کی گواھی بھی دیتے ھیں
    ایک بار پھر بہت شکریہ
    ھم کو بار بار ارشاد عرشی صاحبہ کے کلام کو سننے کا اشتیاق رھیگا

    آپ سب کے لیے ھمیشہ بدست دعا
    آپ سب کی دعاوں کی طالب
    شاہین رضوی
    کویت
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    شاہین رضوی صاحبہ کے عنایت نامے کا شکریہ ۔

  41. میں بھی اپنی بہت پیاری دوست ارو عزيز بہن ڈاکٹر نگہت نسیم کی طرح آپ کو عرشی آپا ھی کہونگی۔۔۔ عرشی آپا کیوں محھے شرمندہ کررھی ھیں ۔مجھے تو اس بہانے علی پور کا ایلی یاد آگیا۔۔۔ ۔۔۔میں آپ کے بہت قریب آنا چاھتی ھوں ۔۔ تاکہ آپکی آواز میں بھی آپ کو سننے کا شرف حاصل کر سکوں۔۔۔اپ کی شاعری تو ھر دور کی بڑی شاعری میں شمار کی جاسکتی ھے۔۔داخلی موسم خارجی کیفیت پر ضرور اثر اندازھوتاھے۔اور عورت ھونے کے ناطے ایک شاعرہ ھونے کے ناطے زندگی کے سارے رنگ آپکی شاعری میں نظر آتے ھیں۔۔اور یہ خوش منظری نظر کے ساتھہ دل کو بھی نت نئے الوان سے متعارف کراتی ھے۔اور یہی وجہ ھے کہ آپ کی شاعری کا تاثر بہت دیر تک باقی رھتا ھے۔۔۔۔۔۔بہت ممکن ہے کر پاتے نہ ہم دیدار سے ہجرت
    میسّر تھی فقط گفتار سو گفتار سے ہجرت

    مری جاں تجھ سے ہجرت کی تو کچھ ایسا لگا ہم کو
    کہ جیسے پھول کو کرنی پڑے مہکار سے ہجرت

    بہت دشوار تھا دریا سے یوں پیاسے پلٹ آنا
    قیامت کی طرح گزری ہے لُطفِ یار سے ہجرت

    جلے ہیں مدتوں ہم آزمائش کی کٹھالی میں
    کبھی کی درد سے ہجرت کبھی دلدار سے ہجرت

    قدم اپنے کوئی دشوار رستہ ڈھونڈ لیتے ہیں
    سدا کرتے رہے ہیں ہم رہِ ہموار سے ہجرت

    خوشی کی ہم نے دستک سُن کے دروازہ نہیں کھولا
    لبھا پائی نہ ہم کو لذتِ آزار سے ہجرت

    نصیبوں میں اگر تنہائی ہو میلے نہیں بھاتے
    چُنی چاو سے ہم نے رونقِ بازار سے ہجرت

    بلا کی پیاس تھی اور قرب جس کا آبِ شیریں تھا
    ہمیں کرنی پڑی ناچار اس دلدار سے ہجرت

    سفر صحراوں کا تھا اور سوا نیزے پہ سورج تھا
    نہ تھی کچھ کھیل تیرے سایہء دیوار سے ہجرت

    مقابل نفس کے ڈٹنا بھی اک جہدِ مسلسل تھا
    بہت مشکل تھی اس آمادہِ تکرار سے ہجرت

    اللہ پاک اپ کو سلامت رکھے ،،،،،آپ سے روشن ھے آسمان سخن
    محترم منظور قاضی صاحب۔۔آپکی اس کاوش پر اپ کو بہت مبارک باد ۔۔۔۔۔جزاک اللہ۔۔۔۔آپ کی خو شگوار چھٹیوں کے لیے دعا گو۔۔۔

    ۔محترم منظور قاضی صاحب۔۔

  42. پیاری شاھین رضوی صاحبہ
    السلام علیکم
    اپنے بارے میں آپ کے محبت بھرے جذبات کا اظہار پڑھ کر بے ساختہ آپ کا شکریہ ادا کرنے کو جی چاہا۔
    میں ایک عاجز ناچیز ادنیٰ طالب علم ہوں۔آپ سب کی تعریف اور حوصلہ افزائی میرے لئے ایک ٹانک کی حثیت رکھتی ہے۔
    یہ جو ذرا سا قلم پکڑنا آتا ہے یہ سب اللہ پاک کا کرم اور نوازش ہے ورنہ من آنم کہ من دانم
    عالمی اخبار کا شکریہ کہ اس کے توسط سے آپ سب جیسے اچھے اچھے لوگ ملے
    والسلام
    عرشیؔ ملک

  43. مہکار سے ہجرت ‘‘ سب کو پسند آئی اللہ کا احسان ہے اورمنظور قاضی صاحب

    کی محنت کا بہت شکریہ۔اس کے دو شعر رہ گئے تھے

    قاضی صاحب کی بھول کی وجہ سے نہیں میری بھول کی وجہ سے

    ضروری تو نہیں ہر ایک کے پاوں میں چھالے ہوں

    دلوں پر آبلے پڑتے ہیں جب ہو پیار سے ہجرت

    تکلف سے بھرا لہجہ کسی کا یوں لگا ہم کو

    مسیحا جیسے کر جائے کسی بیمار سے ہجرت

  44. عرشی صاحبہ کی عنایات اسی طرح ہوتےرہیں تو میری بقیہ زندگی کا مقصد پورا ہوجاے گا:
    انہوں نے مجھ کم علم کو اس قابل سمجھا کہ میں انکے کلام کو عالمی اخبار میں منتقل کرنے کا ایک ذریعہ بنوں، یہ میرے لیے ایک بہت ہی بڑا اعزاز ہے جس کا شکریہ ادا کرنا میرے لیےمشکل ہے :
    ابھی ابھی عرشی صاحبہ نے مجھے یہ ای میل خط بھجوایا ہے :

    “ لیجئے قاضی صاحب ’’ہجرت ‘‘ پر کچھ اور اشعار ہو گئے ہیں اور آپ کا کام
    بڑھ گیا ہے۔سچ ہے کہ ’’اس کو چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا‘‘۔
    عرشیؔ ملک
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس خط کے ساتھ عرشی صاحبہ کی نظم “ ہجرت “ کے تازہ اشعار بھی انہوں نے بھیجے ہیں ۔
    ۔۔۔۔
    مجھے ابھی ابھی میونخ جانے کی ٹرین پکڑنا ہے اس لیے میں چند گھنٹوں کے بعد جب مونخ سے واپس آونگا تب میں انکی یہ تازہ نظم بھی انشا اللہ اس بلاگ میں منتقل کردونگا۔
    ۔۔۔۔
    صفدر ھمدانی صاحب نے عرشی صاحبہ کے عنوان سے جو بلاگ شروع میں شروع کیا تھا اس میں انہوں نے یہ بھی لکھا تھا کہ وہ عرشی صاحبہ کے بارے میں بھی کچھ تحریر کرینگے۔
    ہم سب کو انتظار ہے کہ ان کے بارے میں یا تو عرشی صاحبہ خود کچھ لکھیں یا انکے شاگرد اور ساتھی اس بلاگ میں کچھ لکھیں نہیں تو گوگل اور ویکی پیڈیا سے ہی کام لینا پڑے گا۔
    عرشی صاحبہ کی کتابیں شایع ہوئی ہیں تو انکے بارے میں بھی جاننے کا اشتیاق ہے؛
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    فقط:
    خیر اندیش:
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  45. قابل صد احترام عرشی آپا۔۔۔اللہ پاک اپ کو شفاۓ کامل اور عمرخضر عطا فرماۓ امین۔آ پکی اتنی خوبصورت شعری کاوششوں پرآ پکو داد و تحسین کے ٹانک عالمی اخبار کے اس پلیٹ فارم سے ملتے رھینگے۔۔۔کسی کم زوری اور کسی بیماری کی کیا مجال کے آپ کے قریب بھی آسکے،،،اللہ پاک انسانیت کے خیرخواھوں کو ھمیشہ اپنے حفظ و امان میں رکھے

    ضروری تو نہیں ہر ایک کے پاوں میں چھالے ہوں

    دلوں پر آبلے پڑتے ہیں جب ہو پیار سے ہجرت

    تکلف سے بھرا لہجہ کسی کا یوں لگا ہم کو

    مسیحا جیسے کر جائے کسی بیمار سے ہجرت

    واہ واہ سبحان اللہ۔۔۔ بہت خوب۔۔۔ماشا اللہ۔۔۔

    ،آپکا کلام تو سب کے دل و دماغ پر یکساں اثر کرتا ھے۔۔ اللہ پاک آپ سب کو سلامت رکھے۔ امین

  46. سیبوں کا یہ پیڑ لگا ہے میرے تیرے سب کے گھر میں
    قربانی اور مہر و وفا کے سیبوں سے جو لدا ہوا ہے
    اس کو جانو اور پہچانو
    پیڑ ہے یہ ماں باپ کا سایہ
    ان کا سانس غنیمت جانو

    میری آنکھیں اشکبار ہو رہی ہیں آپا ۔۔ اتنی خوبصورت ، سچی اور پیاری نظم آپ کےعلاوہ کوئی نہیں لکھ سکتا تھا ۔۔ کاش یہ نظم آج اسکولوں کے نصاب میں شامل ہوتی ۔۔اور پاکستان کا ہر بچہ اسے یاد کرتا اور پھر اپنے بچوں کو یا دکرواتا ۔۔ سلامت رہیں آپا ۔۔

  47. Feb 2010 11:37:40 +0500

    پیاری شاھین رضوی صاحبہ
    السلام علیکم
    اپنے بارے میں آپ کے محبت بھرے جذبات کا اظہار پڑھ کر بے ساختہ آپ کا شکریہ ادا کرنے کو جی چاہا۔
    میں ایک عاجز ناچیز ادنیٰ طالب علم ہوں۔آپ سب کی تعریف اور حوصلہ افزائی میرے لئے ایک ٹانک کی حثیت رکھتی ہے۔
    یہ جو ذرا سا قلم پکڑنا آتا ہے یہ سب اللہ پاک کا کرم اور نوازش ہے ورنہ من آنم کہ من دانم
    عالمی اخبار کا شکریہ کہ اس کے توسط سے آپ سب جیسے اچھے اچھے لوگ ملے

  48. : Sun, 7 Feb 2010 15:40:14 +0500

    بھئی شاھین
    السلام علیکم
    اتنے تکلفات والے القاب تو میرے ساتھ نہیں چلیں گے۔
    پہلی غلطی تھی سو معاف کی جاتی ہے۔
    آئندہ کے لئے صرف عرشی آپا کافی ہے۔
    اپنی اور شاعری بھیجو ،تمہیں پڑھنے کو جی چاہ رہا ہے۔
    اور ہاں ہم فقیروں کے دامن میں محبت کے سوا اور ہے ہی کیا

    لو ہم نے دامن جھاڑ دیا، جھولی الٹائے دیتے ہیں

    عرشی ملک

  49. یہت پیاری عرشی آپا

    سلامت رھیں۔۔۔۔

    میں کل آپ کو اپنی شاعری بھجیونگی۔۔ ابھی تو مجھے اپنی شاعری سے سیراب ھونے دیں۔۔۔

    اّپ اپنے بارے میں تفصیل سے بتايئں کیا کرتی ھ؛ں۔۔۔

    کبھی کبھی میں سوچتی ھوں کہ ھم کتنے خوش نصیب لوگ ھیں۔۔

    درد کتنا ھی جاں لیوا کیوں نہ ھو۔

    ھم کبھی اس کی گرفت میں نیہں آتے۔۔۔

    ھم کبھی ڈپریشن میں نیہں جاتے۔۔۔

    لفظوں سے رشتہ استوار کرنے والے کتنے خوش بخت ھوتے ھیں۔۔۔

    یہ ھم کو کبھی تنہا نیہں چھوڑتے ۔۔ ھے ناں۔۔

    آپ سے مل کر بہت خوشی ھوئ ھے۔۔۔

    میں کویت میں رھتی ھوں۔۔۔اور ایک انٹرنیشنل کمپنی میں کام کرتی ھوں

    اپنا فون نمبر بھی عطا کریں تاکہ آپ سے ملاقات کی خواھش پوری کی جاسکے

    اپکی محبتوں سے سرشار

    شاھین رضوی

  50. mercyonlymercy@hotmail.com
    Subject: کچھ رو لیا کچھ لکھ لیا
    Date: Sun, 7 Feb 2010 16:56:57 +0500

    پیاری شاھین
    تم ٹھیک کہتی ہو ۔لفظوں سے رشتہ استوار کرنے والے بڑے خوش قسمت ہوتے ہیں۔
    کیونکہ لفظ ہمیں تنہا کبھی نہیں چھوڑتے کبھی درد کی جان لیوا گرفت میں نہیں آنے دیتے۔
    مجھے اس کیفیت کا اچھی طرح تجربہ ہے۔
    ایسی بہت سی کیفیات نظموں میں ڈھلی ہیں۔
    لفظوں نے کبھی دھوکا نہیں دیا ہمیشہ غموں کی کتر بیونت کر کے ان سے
    شعروں کے خوبصورت لباس تیار کیے ہیں،جن کو پہن اوڑھ کر اتنا اچھا لگا کہ اپنے ہی غموں اور زخموں پر پیار آنے لگا
    ایک زمانے میں میں کہا کرتی تھی

    کوئی بھی چیز ہم کو کہاں کام کی ملی
    جب قسمتیں بٹیں تو ہمیں شاعری ملی

    لیکن اب کہتی ہوں کہ یہی ایک چیز ہمیں کام کی ملی
    تمہارا خط پڑھ کر ایک پرانی نظم کے چند بند یاد آ گئے

    کچھ رو لیا ،کچھ لکھ لیا
    اگر تم چاہو تو ہم اپنی اس خط و کتابت میں اپنے عالمی اخبار کے دوستوں کو بھی شامل کر لیں۔
    لیکن اس کے لئے مجھے تمہاری اجازت درکار ہے
    عرشی ملک

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *