ارشاد عرشی ملک کے ارشادات

ارشاد عرشی ملک نے کہا ہے:
January 26, 2010 بوقت 1:58 pm
علمائے سُو کے لئے چند اشعار

مُلا بس۔۔۔۔۔۔۔
عرشی ملک

بہت اکتا چکا ہے آج کا انسان مُلا بس

ابھی نکلا نہیں دل کا ترے ارمان مُلا بس

بہت کی خدمتِ اسلام مُلا ! اب تو بس کر دے

بُھلا سکتا نہیں اسلام یہ احسان مُلا بس

سبھی بھیگے ہوئے ہیں کفر کی بوچھاڑِ پیہم میں

بہت برسا چکا فتوں کا تو باران مُلا بس

تجھے رشک و حسد سے دیکھتا رہتا ہے بے چارہ

کہ تیری ریس کر سکتا نہیں شیطان مُلا بس

یہ طویل نظم دو حصوں پر مشتمل ہے ابھی قارئین کوصرف چکھائی ہے۔

اگر پسند آئی تو باقی بھی پیش کی جائے گی ۔انشا اللہ

84 thoughts on “ارشاد عرشی ملک کے ارشادات”

  1. ماں کا موضوع اتنا پر اثر ہوتا ہے کہ اس پر جس نے بھی لکھا بہت خوب لکھا ،
    شہاب نے دلوں کو جھنجوڑنے والا مضمون “ ما ں جی “ لکھا ،
    اقبال نے اپنی ماں کے وفات پر نہایت ہی اثر انگیز نظم لکھی ،
    جاوید اقبال نے نادیہ بتول بخاری صاحبہ کے سامنے اپنی ماں کی وفات کے آخری لمحات کا ذکر آنسو بہاتے ہوئے کیا۔اور یہاں تک کہ دیا کہ وہ جب بھی نماز پڑھتے ہیں تو خدا کو اپنی ماں کے روپ میں ذہن میں رکھکر نماز پڑھتے ہیں۔ ماشا اللہ ، خلوص ہو تو ایسا ہو اور عقیدت ہوتو ایسی ہو۔
    ۔۔۔۔۔۔۔
    اس بلاگ میں تین شاعرات نے اپنے اپنے انداز میں ماں کو خراجِ تحسین پیش کیا :
    عرشی صاحبہ کا انداز ِ بیان جداگا نہ اور محبت اور پیار کا خزانہ لیے ہوے تھا ،
    ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ کا انداز جدا مگر اتنی ہی محبت اور عقیدت سے بھر پور تھا ،
    اور محترمہ شاہین رضوی صاحبہ نے خلوصِ دل سے اپنی ماں کے لیے دعا مانگی تھی کہ اللہ اسے عمر خضر عطا کرے ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔
    میں کوشش کرونگا کہ عالمی اخبار کے شاعری کے سیکشن سے تمام ایسی نظمیں اس بلاگ میں منتقل کروں جن کو ماں کے عنوان سے تمام سخنوروں نے قلم بند کیا ہے ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اگلے تبصرےمیں میں عرشی صاحبہ کی تازہ نظم جس کا عنوان بھی “ ہجرت “ ہی ہے ، پیش کرونگا ۔ انشا اللہ
    ۔۔۔۔۔۔
    فقط:
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  2. جیسا کہ میں اپنے اوپر کے تبصرہ میں یہ لکھا ہوں کہ :
    آج عرشی صاحبہ نے مجھے یہ ای میل خط بھجوایا ہے :
    “ لیجئے قاضی صاحب ’’ہجرت ‘‘ پر کچھ اور اشعار ہو گئے ہیں اورآ پ کا کام
    بڑھ گیا ہے۔سچ ہے کہ ’’اس کو چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا‘‘۔
    عرشی ملک
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میرے خیال میں جس مصرعہ کو عرشی صاحبہ نے اپنے خط میں لکھا اسکا پہلا مصرعہ شاید یوں تھا ۔اگر یہ نہیں تھا تو مجھ کم علم کا خیال ہے کہ اس پر یہ گرہ لگائی جاسکتی ہے کہ :
    مکتبِ عشق کا دستور نرالا دیکھا
    “اس کو چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا “
    عرشی صاحبہ کرم فرما کر اس شعر کا پہلا مصرعہ بھی لکھدیں تاکہ فکر دور ہوجائے؛
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    اب میں عرشی صاحبہ کی تازہ نظم بعنوان ہجرت ان پیج سے یونی کوڈ میں منتقل کررہا ہوں:
    ہجرت
    ارشاد عرشی ملک ۔ اسلا م آباد
    arshimalik50@hotmail.com

    کوئی کرتا ہے رونق سے ، بھرے بازار سے ہجرت
    کسی کے ہے مقدر میں لکھی گھر بار سے ہجرت

    کرو جو نفس سے ہجرت تو ہم رستم تمہیں جانیں
    بہت آسان ہے کرنا در و دیوار سے ہجرت

    جو اپنے آپ سے ملنا ہے تو لازم ہے تنہائی
    ہمیں راس آگئی ہر حاشیہ بردار سے ہجرت

    ہمارے نام تختی ہیں کرائے کے مکانوں پر
    ہمیں کرنی ہے جسموں کے در و دیوار سے ہجرت

    خدا محفوظ رکھے محفلوں سے ایسے لوگوں کی
    جو کرجاتے ہیں آ کر طیش میں کردار سے ہجرت

    تمنا ہی نہیں جیسے کسی کے دل میں منزل کی
    کیے جاتے ہیں راہی قافلہ سالار سے ہجرت

    حجابِ معرفت اُٹھ جائے گا ایک آن میں مُلا
    اگر تو کرسکے اس جبّہ و دستار سے ہجرت

    کوئی سقراط نہ منصور ہے اس دور میں عرشی
    کسی دل پر نہیں بھاری فرازِ دار سے ہجرت
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تمام شد:
    ۔۔۔۔۔۔
    کاتب کے الفاظ:
    ماشا اللہ ، سبحان اللہ ، جزا ک اللہ ۔ مرحبا ، بہت خوب ، عرشی صاحبہ بہت اچھے ۔
    مزید کلام عنایت ہو۔
    شکریہ
    ۔۔۔۔۔۔۔
    فقط
    ایک فرش نشین
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  3. ماں باپ کے موضوع پر عرشی صاحبہ ، اور ماں کے موضوع پر ڈاکڑ نگہت نسیم صاحبہ اور محترمہ شاہین رضوی صاحبہ کی پر اثر نظموں کے بعد اب میں عالمی اخبار کے شاعری کے سیکشن سے اسحاق ساجد صاحب کی یہ نظم بھی اس بلاگ میں شامل کررہا ہوں۔
    نظم :
    ماں باپ
    از : اسحاق ساجد ( جرمنی)
    سکونِ قلب تھا تھی دِل کو راحت
    میرے ماں باپ تھے جب تک سلامت

    گھنا سایہ تھا سر پہ اُ ن کے دم سے
    میں واقف ہی نہ تھا رنج و الم سے

    میں ان کا خواب تھا ارمان تھا میں
    میں اُن کا دِل تھا اُن کی جان تھا میں

    سہے خو د غم مگر مجھ کو خوشی دی
    مجھے تعلیم دی او ر آگہی دی

    دُعائیں میرے حق میں مانگتے تھے
    بڑا افسر بنوں وہ چاہتے تھے

    مصیبت آئی بھی تو خود ہی جھیلی
    بڑے نازوں سے میری پرورش کی

    نہ سوچا وہ بچھڑ جائیں گے اک دن
    مجھے غم دے کے تڑپا ئیں گے اک دن

    ہوئے آخر جدا ماں باپ میرے
    مجھے اب ڈس رہے ہیں پاپ میرے

    یہ حسرت ہے کہ ان کے بوجھ کو خود بھی اُٹھانا ( نوٹ : نظم کے اس نامکمل جملے کو میں یہاں جوں کا توں پیش کررہا ہوں: منظور قاضی )

    سنہرے دن جوانی کے حسیں دن
    اندھیری رات میں ماں باپ کے بن

    مجھے یاد آتے ہیں ابّا او ر امّاں
    تڑپتی ہے میری سہمی ہوئی جاں

    میں ہوں ا ب رنج و غم کی اک کہانی
    مصیبت بن گئی ہے زند گانی

    کُھلی آنکھیں تو اب د یکھا ہے میں نے
    وہ کیا شے تھے یہ اب سمجھا ہے میں نے

    مجھے ماں باپ کا غم کم نہیں ہے
    کوئی ا ن جیسا اب ہمد م نہیں ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نوٹ : مجھے علم ہے کہ میں ان نظموں کو شامل کرکے اس بلاگ کے موضوع سے تھوڑا سا ہٹ گیا ہوں مگر مجھےیقین ہے کہ عرشی صاحبہ میری اس حقیر کو شش کو برداشت کرکے مجھے معاف کردینگی (اس لیے کہ وہ ماں باپ کے لیے بہت ہی محبت بھرا دل رکھتی ہیں )
    ۔۔۔۔۔۔
    فقط:
    خیر اندیش :
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  4. ایک تازہ ترین نظم اپنے عالمی اخبار کے دوستوں کی نذر کرتی ہوں۔

    آپ سب کے تبصروں کا انتظار رہے گ

    خدا سے صلح

    عرشیؔ ملک

    ایک دن بازار میں عالم تھا اک بیٹھا ہوا

    بادشاہ اس راہ سے گزرا تو ٹھٹکا اور رُکا

    شوق سے پوچھا کہ کیا ہے ماجرا ؟

    آہ ٹھنڈی بھر کے عالم نے کہا

    ہوں خدا سے اس کے بندوں کی صلح کروا رہا

    مانتے بندے نہیں ہرگز ، گو راضی ہے خدا

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کچھ دنوں کے بعد عرشی یہ ہوا

    پھر وہی عالم تھا قبرستان میں بیٹھا ہوا

    بادشاہ اس راہ سے گزرا تو ٹھٹکا اور رکا

    شوق سے پوچھا کہ کیا ہے ماجرا ؟

    آہ ٹھنڈی بھر کے عالم نے کہا

    ہوں خدا سے اس کے بندوں کی صلح کروا رہا

    آج یہ بندے ہیں راضی ،پر نہیں راضی خدا

  5. واہ واہ ۔۔۔ کیا کہنے ۔۔ کیا حق گوئی ہے کیا دنیا کی سچائی ہے ۔۔سلامت رہیں آپا ۔۔ واہ ۔۔ ماشاللہ ۔۔ آج کا دن سوارت ہو گیا ۔۔

  6. عرشی صاحبہ ۔ ماشااللہ آپ کی قادر الکلامی کا کوئی جواب نہیں ۔
    پچھلے سال میں ڈاکٹر پنہاں صاحبہ کے لیے یہ لکھا کر تا تھا مگر
    میں عرشی صاحبہ کے لیے بھی غالب کا یہ شعر تھوڑی تبدیلی کے ساتھ کہنا چاہتا ہوں کہ :

    ہیں اور بھی اردو کے سخنور بہت اچھے
    کہتےہیں کہ عرشی کا ہے اندازِ بیاں اور
    ۔
    افسوس کہ میں مغرب میں زندگی گذارنے کی وجہ سے اردو شعرا اور شاعرات کی زندگی کے حالات کو بہت ہی کم جانتا ہوں ۔
    عرشی صاحبہ اپنے بارے میں کچھ ارشاد فرمائیں تو ہم سب کی تشنگی دور ہو جائے گی۔

  7. میں ناچیز اپنے بارے میں کیا لکھوں،ایک شاعرہ کا اصلی اور سچا تعارف تو اس کی شاعری ہی ہو سکتی

    ہے اور وہ ہمارے سب دوستوں تک عالمی اخبار کے توسط سے پہنچ رہی ہے

    دستِ قاتل کو یدِ بیضا لکھوں

    ہر عصا والے کو میں موسیٰ لکھوں

    ہے تقاضا جبر کے ماحول کا

    سب برا دیکھوں پہ سب اچھا لکھوں

    آنکھ کے اندھوں کو رہبر مان لوں

    بے بصر کو دانا و بینا لکھوں

    سُر نہیں چیخیں سنائی دیں مجھے

    بج رہا ہے کونسا باجا لکھوں

  8. جناب یعسوب الحسن آپ نے محترمہ عرشی کی ایک نظم کے بارے میں ایک بہت چونکانے والا تبصرہ لکھا ہے جسے میں نے ابھی روک لیا ہے اشاعت سے اور آپکو ایک وضاحتی ای میل لکھی تھی آپ کے فراہم کردہ اس ای میل پر جو واپس آ گئی ہے اس پیغام کے ساتھ کہ اس نام کا کوئی ای میل نہیں ہے
    yasobhansi@hotmail.com
    یا تو آپ اپنا درست ای میل مجھے لکھیں ورنہ اس غلط ای میل کے ساتھ ملنے والے تبصرے بھی حذف ہو جائیں گے اورآئندہ سے آپ کا کوئی تبصرہ شائع نہیں ہو سکے گا۔

  9. عرشی صاحبہ کا دلی شکریہ کہ انہوں نے مجھے بھی اپنے اس برقی خط کی نقل بھجوائی جسے انہوں نے صفدر ھمدانی صاحب ، ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ اور محترمہ شاہین رضوی صاحبہ کو بھجوایا تھا: ( چونکہ عرشی صاحبہ کی تمام تحریریں تاریخی حیثیت رکھتی ہیں اور مستقبل کے مورخ اور نقاد انکی تحریروں کو پڑھنے کے لیے عالمی اخبار کا بھی کھوج لگایئنگے اس لیے انکی اس تحریر کو بھی میں اس بلاگ میں شامل کررہا ہوں ۔ امید کہ عرشی صاحبہ میری اس جسارت کو معاف فرمایننگی ۔
    —– Original Message —–
    From: Arshi Malik
    To: safdar.hamadani@gmail.com ; Dr.Nighat Nasim ; Manzoor Quazi ; Shaheen Rizvi
    Sent: Tuesday, February 09, 2010 10:35 AM
    میں ناچیز اپنے بارے میں کیا لکھوں،ایک شاعرہ کا اصلی اور سچا تعارف تو اس کی شاعری ہی ہو سکتی
    ہے اور وہ ہمارے سب دوستوں تک عالمی اخبار کے توسط سے پہنچ رہی ہے

    دستِ قاتل کو یدِ بیضا لکھوں
    ہر عصا والے کو میں موسیٰ لکھوں
    ہے تقاضا جبر کے ماحول کا
    سب برا دیکھوں پہ سب اچھا لکھوں
    آنکھ کے اندھوں کو رہبر مان لوں
    بے بصر کو دانا و بینا لکھوں
    سُر نہیں چیخیں سنائی دیں مجھے
    بج رہا ہے کونسا باجا لکھوں
    ————————————————————————-
    نوٹ :
    عرشی صاحبہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے میں عرشی صاحبہ کے کلام کے شیدائیوں کو یہ خوشخبر ی سنانا چاہتا ہوں کہ انہوں نے اپنی دو آزاد نظمیں ( ان پیج سافٹ ویر ) میں مجھے بھجوائی ہیں ، جنھیں میں اپنی اولین فرصت میں اس بلاگ میں پیش کردونگا۔
    پہلی نظم : بعنوان : باپ بیٹا اور چڑیا : ذرا طویل قسم کی ہے ۔
    دوسری نظم بعنوان : مستقبل پر کس کا بس ہے مستقبل کو کس نے دیکھا ، اتنی طویل نہیں ۔( اس نظم کے بارے میں عرشی صاحبہ میں یہ کہتی ہیں ) “ محترم منظور قاضی صاحب
    انگریزی کی ایک نظم سے یہ مرکزی خیال لے کر یہ نظم لکھی تھی۔
    اگر آپ پسند کریں تو اس کو یونی کوڈ میں تبدیل کر کے بلاگ میں لگا سکتے ہیں
    عرشی ملک“
    ۔۔۔۔۔۔
    اگر آسٹریلیا میں رہنے والی ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ ، کویت میں رہنے والی شاہین رضوی صاحبہ اور فن لینڈ میں رہنے والی ماریہ عارف راز صاحبہ اور سیدہ طیبہ سید صاحبہ اس بلاگ کو پڑھ رہی ہیں تو امید کرتا ہوں کہ وہ سب عرشی صاحبہ کی ان آزاد نظموں کو پڑھکر بہت محظوظ اور مستفیض ہونگی۔
    ۔۔۔۔۔۔
    فقط:
    خیر اندیش
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  10. جناب منظور قاضی صاحب، اسلام علیکم۔۔۔ آپ کا بہت شکریہ عرشی آپا کی شاعری پر منبی اس خوبصورت بلاگ کو پڑھ کر آ پ سب کے لیے دل سے دعا نکلی۔۔۔۔۔۔ماشا اللہ عرشی آپا کی لفظوں پر گہری دسترس ھے۔۔۔اپنی بات کو روانی سے کہنے کا ھنر آتا ھے۔۔۔۔۔میں تو اب کچھہ اپنی بہت پیاری دوست ڈاکٹر نگہت نسیم کےمحبت میں بھی کم سےکم دوبار تو عالمی اخبار کو خراج تحسین پیش کرتی ھوں اگر اپنی سیٹ پر ھوں اور تھوڑی سی فرصت بھی ملے تو لکھنے کی بھی کوشش کرتی ھوں۔۔ علم نور ھے ،،،آنکھوں کو تراوٹ کے ساتھہ دل کوتازگی بھی ملتی ھے۔۔خوش رھیں۔۔۔آور ھم سب کو اچھی شاعری سے شاد کرتے رھیں۔۔اللہ پاک آپ سب کو سلامت رکھے۔۔خوش رھیں

  11. اور ہاں میں اپنے عالمی اخبار کے دوستوں کو یہ بتانا بھی ضروری
    سمجھتی ہوں کہ گذشتہ کچھ ماہ کے دوران میں نے بہت سی نظمیں
    انگریزی پیغاموں اور دیگر زبانوں کی کہانیوں سے مرکزی
    خیال اخذ کر کے لکھی گئی ہیں۔چونکہ وہ پیغام سارا وقت انٹر نیٹ پر گھومتے رہتے ہیں
    اس لئے ظاہر ہے کہ کسی کی نظروں سے چھپے ہوئے نہیں ہوتے
    اس لئے میں نے یہ وضاحت نہیں کی۔ اگر کسی کو برا لگا ہو تو معافی چاہتی ہوں عرشی ملک

  12. عرشی صاحبہ نے مہربانی فرما کر مجھ کو یہ آزاد نظم بھجوائی ۔ اور اسکے ساتھ ساتھ یہ بھی لکھدیا کہ :
    “ محترم منظور قاضی صاحب
    “ انگریزی کی ایک نظم سے یہ مرکزی خیال لے کر یہ نظم لکھی تھی۔
    اگرآ پ پسند کریں تو اس کو یونی کوڈ میں تبدیل کر کے بلاگ میں لگا سکتے ہیں
    عرشی ملک “
    ۔۔۔۔۔۔۔
    میں عرشی صاحبہ کی اس نظم کو دل وجان سے پسند کرتے ہوئے یہا ں سب کے پڑھنے کے لیے تحریر کررہا ہوں ۔
    اس نظم نے مجھے ڈورس ڈے کی گائی ہوئی ایک مشہور نظم کی یاد دلادی ۔ ڈورس ڈے کی نظم کو بھی میں عرشی صاحبہ کی نظم کے بعد پیش کررہا ہوں ۔ بہت ممکن ہے کہ عرشی صاحبہ نے کسی اور نظم کے مرکزی خیال کو ذہن میں رکھکر اپنی نظم لکھی ہوگی مگر میری یاد داشت میں ڈورس ڈے کی نظم موجود ہے :
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عرشی صاحبہ کی نظم ملاحظہ کیجئیے :

    عنوان : مستقبل پر کس کا بس ہے مستقبل کو کس نے دیکھا
    از : ارشاد عرشی ملک : اسلام آبادِ پاکستان
    arshimalik@hotmail.com
    ………
    جب میں ننھی منی سی تھی ماں سے پوچھا کرتی تھی
    کیا میں سند ر پھول بنوں گی
    دنیا میرے ہاتھ میں ہوگی
    دھیرے دھیرے ماں کہتی تھی
    جو ہونا ہے جان سو ہوگا
    مستقبل پر کس کا بس ہے مستقبل کو کس نے دیکھا
    ۔۔۔۔۔
    بچپن بیتا موسم بدلے آنکھوں میں سپنے لہرا ئے
    میں نے بھی اس عمر میں عرشی پھول چنے کچھ محل بنائے
    اپنے شہزادے سے پوچھا، آگے اب کیا باتیں ہوں گی ؟
    قوس و قزح جیسے دن ہوں گے یا پاگل برساتیں ہوں گی ؟
    تب وہ شہزادہ یہ بولا
    جو ہونا ہے جان سو ہوگا
    مستقبل پر کس کا بس ہے مستقبل کو کس نے دیکھا
    ۔۔۔۔۔۔۔
    پھر وہ سند ر دن بھی آئے ممتا کے بادل لہرائے
    ننھی منی سی دو پریاں میرے گھر آنگن میں اتریں
    میری گود میں بیٹھ کے دونوں بھولے پن سے پوچھ رہی تھیں
    کیا وہ سندر پھول بنیں گی ، دنیا ان کے ہاتھ میں ہوگی
    دھیرے دھیرے میں کہتی تھی
    جو ہونا ہے جان سو ہوگا
    مستقبل پر کس کا بس ہے مستقبل کو کس نے دیکھا
    ۔۔۔۔۔
    مہکا مہکا موسم بیتا ، وقت کا چلتا دھارا جیتا
    آج میں کتنی تنہا ہوں ، گم سم اور اکیلی ہوں
    اپنے لیے پہیلی ہوں
    خود ہی سوچا کرتی ہوں ، خود سے پوچھا کرتی ہوں
    میں کس کی مجبوری ہوں ، شائد غیر ضروری ہوں
    ایک سے دن ہیں ایک سی راتیں
    بوجھل سوچیں بوجھل باتیں
    ایک ہی رو میں بہتی ہوں
    آنے والے وقت کی مدھم چاپیں سنتی رہتی ہوں
    تھک کر خود سے کہتی ہوں
    جو ہونا ہے جان سو ہوگا
    مستقبل پر کس کا بس ہے مستقبل کو کس نے دیکھا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    Doris Day – Que Sera Sera Lyrics

    When I was just a little girl
    I asked my mother, what will I be
    Will I be pretty, will I be rich
    Here’s what she said to me.

    Que Sera, Sera,
    Whatever will be, will be
    The future’s not ours, to see
    Que Sera, Sera
    What will be, will be.

    When I was young, I fell in love
    I asked my sweetheart what lies ahead
    Will we have rainbows, day after day
    Here’s what my sweetheart said.

    Que Sera, Sera,
    Whatever will be, will be
    The future’s not ours, to see
    Que Sera, Sera
    What will be, will be.

    Now I have children of my own
    They ask their mother, what will I be
    Will I be handsome, will I be rich
    I tell them tenderly.

    Que Sera, Sera,
    Whatever will be, will be
    The future’s not ours, to see
    Que Sera, Sera
    What will be, will be.
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ڈورس ڈے کی نظم میں بھی ایک قسم کی معصومیت ہے مگر عرشی صاحبہ کی نظم میرے لیے مقدم ہے اس لیے کہ اس میں مشرق کی نسوانیت اپنے پورے آب و تاب کے ساتھ موجود ہے۔
    فقط:
    منظور قاضی
    از جرمنی

  13. یہ بات عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ یہ عرشی صاحبہ کا بلاگ ہے ۔ اس کا عنوان ارشاد عرشی ملک کے ارشادات ہے : میں تو صرف تھوڑی بہت خانہ پری کررہا ہوں اور عرشی صاحبہ کی احکام کی پابندی کررہا ہوں ۔
    جیسے ہی مجھے عرشی صاحبہ کا کلام یاپیغام ان پیج میں آتا ہے میں اسے جوں کا توں یونی کوڈ میں پیش کردیا کرتا ہوں ۔ اگر کمپوزنگ میں کوئی غلطی ہوجائے تو عرشی صاحبہ اور سب سے معافی چاہتا ہوں۔
    عرشی صاحبہ کا بہت بہت شکریہ کہ انہوں نے مندرجہ ذیل بات سب پر واضح کردی کہ :
    “ اور ہاں میں اپنے عالمی اخبار کے دوستوں کو یہ بتانا بھی ضروری
    سمجھتی ہوں کہ گذشتہ کچھ ماہ کے دوران میں نے بہت سی نظمیں
    انگریزی پیغاموں اور دیگر زبانوں کی کہانیوں سے مرکزی
    خیال اخذ کر کے لکھی گئی ہیں۔چونکہ وہ پیغام سارا وقت انٹر نیٹ پر گھومتے رہتے ہیں
    اس لئے ظاہر ہے کہ کسی کی نظروں سے چھپے ہوئے نہیں ہوتے۔اس لئے میں نے یہ وضاحت نہیں کی۔ اگر کسی کو برا لگا ہو تو معافی چاہتی ہوں عرشی ملک“

    ۔۔۔۔۔۔
    فقط:
    منظور قاضی
    از جرمنی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    نوٹ :
    فرصت ملنے پر میں عرشی صاحبہ کی ایک اور آزاد نظم “ باپ بیٹا اور چڑیا “ بھی اس بلاگ میں پیش کردونگا ۔
    فی الوقت میری بیوی مجھے بازار جاکر کچھ سودا لانے کےلیے کہ رہی ہے ۔
    اللہ حافظ

  14. میں عرشی صاحبہ کا مشکور ہوں کہ آج انہوں نے مجھے یہ ای میل بھجوایا ہے:
    “منظور قاضی صاحب
    میری نظم ’’باپ بیٹا اور چڑیا ‘‘ بھی ایک بہت پرانے انگریزی پیغام سے ماخوذ ہے۔یہ پیغام پرانا ہونے کے باوجود ہر زمانے کے لئے نیا ہی ہے
    عرشی ملک“
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عرشی صاحبہ کی یہ بہت ہی اثر انگیز آزاد نظم حاضر ہے :
    عنوان : باپ بیٹا اور چڑیا
    از : ارشاد عرشی ملک
    arshimalik50@hotmail.com

    ایک دن ایک باپ اور بیٹا
    باغ میں اپنے گھر کے بیٹھےتھے
    باپ بوڑھا سا ناتواں سا تھا
    اور بیٹا حسیں جواں سا تھا
    ہاتھ میں تھی کتاب بیٹےکی
    باپ بوڑھا فضا میں تکتا تھا
    کم تھی بینائی اس کی آنکھوں کی
    یونہی بیٹھا خلا میں تکتا تھا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    دفعتاً آس پاس پھولوں کے
    ایک چڑیا کہیں سے آ بیٹھی
    باپ بے اختیار بول اٹھا
    دیکھو دیکھو ذرا وہ شئے کیا ہے ؟
    میرے بیٹے وہ سامنے کیا ہے ؟
    بے نیازی سے نوجواں بولا
    ایک چڑیا ہے وہ مرے ابّا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    چند لمحوں کے بعد وہ چڑیا
    اُڑ کے اک جھاڑ کی طرف آئی
    باغ کی باڑ کی طرف آئی
    منہ سے پھر باپ کے یہی نکلا
    دیکھو دیکھو ذرا وہ شے کیا ہے ؟
    میرے بیٹے وہ سامنے کیا ہے ؟
    چڑ کے بولا وہ نوجواں لڑکا
    باپ میرے وہ ایک چڑیا ہے
    کہ چکا ہوں وہ ایک چڑیا ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    چند لمحے اسی طرح بیتے
    اڑ کے چڑیا وہ گھاس پر آئی
    اور لینے لگی وہ انگڑائی
    باپ نے اس کو غور سے دیکھا
    اپنے چشمے کی اور سے دیکھا
    چُھو کے بیٹے کی بانہہ کو بولا
    دیکھو دیکھو ذرا وہ شئے کیا ہے ؟
    میرے بیٹے وہ سامنے کیا ہے ؟
    اب کے بیٹا بھڑک گیا یکدم
    چیخ کر اس طرح ہوا گویا
    کیوں مرا صبر آزماتے ہیں
    بے وجہ کیوں مجھے چڑا تے ہیں
    کہہ چکا ہوں وہ ایک چڑیا ہے
    ایک چڑیا ہے ایک چڑیا ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہائے افسوس پھر وہی چڑیا
    اُڑ کے قدموں میں باپ کے آئی
    اس نے کھانے کی کوئی شئے پائی
    باپ بے اختیار بول اٹھا
    دیکھو دیکھو ذرا یہ شئے کیا ہے؟
    میرےپاوں کے پاس یہ کیا ہے ؟
    یہ سوال اب نہ سہہ سکا بیٹا
    اپنی حد میں نہ رہ سکا بیٹا
    اب کے آپے سے ہوگیا باہر
    ایک لمحے میں بن گیا قاہر
    طیش میں یک بیک بہت آیا
    پھاڑ کر پھر گلے کو چِلّا یا
    کیسے بتلاوں میں وہ چڑیا ہے
    کیسے سمجھاوں میں وہ چڑیا ہے
    “چ“ سے چڑیا ہے ، “چ“ سے چڑیا ہے
    وہ ہے چڑیا وہ ایک چڑیا ہے
    آخری بار کہ رہا ہوں میں
    اک مصیبت کو سہہ رہا ہوں میں
    کس جہنم میں رہ رہا ہوں میں
    جانے کیا چیز یہ بڑھا پا ہے
    یہ بڑھا پا نرا سیا پا ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سُن کے یہ دھاڑ ، باپ کانپ گیا
    اُکھڑے قدموں سے گھر کی سمت چلا
    چند لمحوں کے بعد لوٹ آیا
    ہاتھ می اک کتاب سی لایا
    دے کے بیٹے کے ہاتھ میں اس کو
    اس سے کہنے لگا پڑھو اس کو
    اتنا اونچا پڑھو کہ میں سُن لوں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس گھڑی نوجوان نے دیکھی
    ایک تحریر اپنے والد کی
    جو تھی پچیس سال پہلے کی
    باپ کی ڈائری تھی وہ عرشی
    زیرِ عنواں لکھا تھا “چڑیا “ کے
    آج لختِ جگر میرا چھوٹا
    خیر سے تین سال کا ہے ہوا
    جب سے سیکھا ہے بولنا اس نے
    رس کو کانوں میں گھولنا اس نے
    ہر گھڑی بولتا ہی جاتا ہے
    بے پنہ پیار اس پہ آتا ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    آج سہ پہر کو میرا بیٹا
    ساتھ میرے تھا باغ میں بیٹھا
    دفعتاً آگئی وہا ں چڑیا
    مجھ سے کہنے لگا ذرا وہ شئے کیا ہے ؟
    میرے بابا وہ سامنے کیا ہے ؟
    چوم کر اس کا چاند سا ماتھا
    میں بتا تا رہا وہ چڑیا ہے
    گو تھا اس کا سوال سادہ سا
    اس نے پر تیس بار پوچھا تھا
    اور ہر بار چوم کر اس کو
    اپنی بانہوں میں بھینچ کر اس کو
    میں بتا تا رہا وہ چڑیا ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    پھر میں کرتا تھا ہنس کے چُوں ، چُوں ، چُوں
    نقل کرتا تھا وہ بھی جوں کی توں
    ہر دفعہ جب اسے بتا تا تھا
    اک نیا لطف مجھ کو آتا تھا
    اس نے پوچھا تھا صرف تیس دفعہ
    گر وہ سو بار پوچھتا مجھ سے
    میں نہ تھکتا کبھی بتانے سے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جب یہ اوراق پڑھ چکا بیٹا
    شرم سے سر جھکا لیا اس نے
    لفظ ہونٹوں سے اک نہیں نکلا
    صرف آنکھوں میں آگئے آنسو
    باپ سے یہ بھی نہ گیا دیکھا
    اس کے ماتھے پہ دے دیا بوسہ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تمام شد؛
    ۔۔۔۔۔۔۔
    کاتب کے الفاظ :
    ماشا اللہ عرشی صاحبہ ، سبحان اللہ ، آپ نے اس نظم میں باپ اوربیٹے کے دائرے کو بڑی خوبصورتی سے مکمل کردیا۔
    اس نظم کےمرکزی خیال کا اطلاق بیٹی اور ماں کے دائرے پر بھی ہوسکتا ہے ۔
    جزا ک اللہ ؛
    فقط
    منظور قاضی
    میونخ کے ایک قریبی گاوں سے

  15. اس بلاگ کا مرکز ی موضوع عرشی صاحبہ اور انکا کلام ہی ہے مگر جب کوئی مخلص اور قابلِ صد احترام ہستی مجھ سے مخاطب ہوکر یہ عزت عطا کرتی ہے کہ :
    “ جناب منظور قاضی صاحب، اسلام علیکم۔۔۔ آپ کا بہت شکریہ عرشی آپا کی شاعری پر منبی اس خوبصورت بلاگ کو پڑھ کر آ پ سب کے لیے دل سے دعا نکلی۔۔۔۔۔“
    تو میری آنکھیں نم ہوجاتی ہیں یہ محسوس کرکے کہ دنیا میں اب بھی ایسی رحمدل اور وسیع القلب ہستیا ں موجود ہیں جو مجھ جیسے انسانوں کی بے لوث خدمات کو سراہتی ہیں ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    اتفا ق کی بات ہے کہ جب تک میں یہ بلا گ خوش اسلوبی سے چلاتا رہونگا کوئی مبصر اس بلاگ میں اپنا تبصرہ لکھنا ضروری نہیں سمجھے گا مگر یہ بھی یقین ہے کہ میری ایک نا دانستہ غلطی سیکنڑوں مبصروں کو اپنے تنقیصی تبصرے اس بلا گ میں لکھنے پر مجبور کردینگی ۔ اور خرمن کے خوشہ چیں ، دنیا کے ہر ایک گوشے سے نکل آئینگے اور ایسے تبصرےلکھینگے کہ جن کا تعلق بلاگ کے موضوع سے بالکل نہیں ہوگا ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میں محترمہ شاہین رضوی صاحبہ کا ممنون و مشکور ہوں کہ وہ میری ہمت افزائی کرتی ہیں اوراپنی دعاوں کے خزانے سے مجھے بھی کچھ دعائیں عطا کرتی ہیں ۔
    میری شاہین رضوی صاحبہ سے یہ گذارش ہے کہ ا گر وہ چاہیں اور انکےپاس وقت ہو اور ان کو یہ تکلیف ناگوار نہ ہو تو میرے غیاب میں وہ عرشی صاحبہ کی ان پیج نظموں اور غزلوں کو ( انکی مرضی حاصل کرکے ) یونی کوڈ میں منتقل کرکے اس بلاگ میں شامل کردیا کریں۔
    میں 17 فرروری سے دس 10 مارچ تک اپنی بیوی کے ساتھ اسپین جارہا ہوں ۔ وہا ں پر مجھے کمپیوٹر کی اتنی سہولت نہیں ہوگی جو اپنے گھر ( جرمنی ) میں ہوتی ہے ۔
    میں چاہتا ہو ں کہ بقول سلیم کوثر “ یہ چراغ ہے تو جلا رہے “ اور جب تک عرشی صاحبہ ہمیں اپنے کلام سے سرفراز کرتی ہیں اس وقت تک ہم استفادہ کرتے رہیں۔
    اگر شاہین رضوی صاحبہ اس اہم کام کے لیے وقت نہیں دے سکتیں تو پھر میں عالمی اخبار کی انتظامیہ اور عرشی صاحبہ سے عرض کرونگا کہ وہ ابھی سے کوئی متبادل انتظام کی فکر کریں تاکہ یہ علم کی شمع عرشی صاحبہ کی مرضی ک مطابق روشن رہے ۔
    ۔۔۔۔۔۔

    فقط :
    خیر اندیش
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  16. جب یہ اوراق پڑھ چکا بیٹا
    شرم سے سر جھکا لیا اس نے
    لفظ ہونٹوں سے اک نہیں نکلا
    صرف آنکھوں میں آگئے آنسو
    باپ سے یہ بھی نہ گیا دیکھا
    اس کے ماتھے پہ دے دیا بوسہ

    بہت خوب عرشی صاحبہ. منظر نگاری اور اسمیں مکالماتی عنصر.یہ ایک منفرد خوبی ہے آپکے کلام کی.
    اللہ پاک زبان میں،بیان میں اور نروان میں اضافہ کرے.آمین

  17. منظور قاضی صاحب
    یہ آپ نے بالکل درست فرمایا کہ جب تک میں یہ بلاگ خوش اسلوبی سے چلاتا رہوں گا،کوئی مبصر اس بلاگ
    میں اپنا تبصرہ لکھنا ضروری نہیں سمجھے گا۔مگر یہ بھی یقین ہے کہ میری ایک نادانستہ غلطی،سینکڑوں مبصروں
    کواپنے تنقیصی تبصرےاس بلاگ میں شامل کرنے پر مجبور کر دے گی اور خرمن کے خوشہ چین دنیا کے ہر گوشے سے نکل آئیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جی بالکل ایسا ہی ہوتا ہے کیونکہ جتنا مزہ کسی کی ٹانگ کھینچنے میں آتا ہے اتنا مزہ اس کی کوششوں کی تعریف کر کے نہیں آتا۔
    انسانی فطرت چونکائے جانے کو پسند کرتی ہے۔ہم نے ایم۔ اے جرنزم کرتے ہوئے یہی پڑھا تھاکہ ’’کُتا انسان کو کاٹے تو کوئی خبر نہیں بنتی لیکن انسان کتے کو کاٹے تو خبر بنتی ہے‘‘۔
    یونہی خیال آ گیا کہ اب حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ انسان ،انسان کو کاٹے تو بھی ماٹھی سی خبر ہی بنتی ہے۔
    آپ چونکہ خوش اسلوبی سے اپنا کام کر رہے ہیں اس لئے سب ریلیکس بیٹھے ہیں۔

    اگر سب کو چونکانا ہے تو کوئی غکطی کر دیجئےاور پھر رونقِ بازار دیکھئے،لیکن اس میں بڑا رسک ہے۔لیکن ’’نو رسک ،نو گین‘‘۔

    مجھے ایک لطیفہ یاد آگیا۔۔۔۔۔ایک مقرر اسلام آباد میں ایک جلسے میں تقریر کرنے کے لئے کھڑا ہوا۔اس نے تقریر شروع کرنے سے پہلے جب حاضرین پر نظر ڈالی

    تو اسے کچھ تھکے تھکے لا تعلق سے چہرے دکھائی دیئے،اس نے اپنی تقریر اس طرح شروع کی

    حاضرین میں بڑا خوش قسمت ہوں کہ مجھے آپ کے شہر فیصل آباد آنے اور آپ سےمخاطب ہونے کا موقع ملا ہے۔

    ابھی اس کا فقرہ مکمل بھی نہیں ہوا تھاکہ یک لخت سارا مجمع چِلّا اٹھا۔

    جناب یہ فیصل آباد نہیں ،اسلام آباد ہے۔وہ ہنس کر بولا مجھے پتہ ہے میں چاہتا تھا کہ آپ سب جاگ جائیں۔

    عرشیؔ ملک

  18. ہمدانی صاحب بہت شکریہ آپ نے چونکا دینے والے پیغام پر نظر کی ۔ خوشی ہوئ کہ اس کی وضاحت محترمہ عرشی ملک صاحبہ
    سے کروا دی گئ کہ وہ دیگر زبانوں سے مرکزی خیال مستعار لے کر اردو میں طبع آزمائ کرتی رہی ہیں۔میرا اعتراض مرکزی خیال پر نہیں پوری نظم پر تھا جو اب ان کی وضاحت پر بے معنی ہو گیا ہے۔معزرت خواہ ہوں بے معنی کی دخل اندازی پر۔ اپنا دوسرا میل اڈریس بھی بھیج رہا ہوں تاہم میرے تبصرہ کی اشاعت یا عدم اشاعت اب بھی آپ ہی کے قبضہء قدرت میں ہے۔اس میں شک نہیں کہ آپ کا مذکورہ اخبار کئ معنوں میں قابلِ تحسین ہے-
    مخلص
    یعسوب الحسن

  19. عالمی اخبار کے پڑھنے والے بخوبی واقف ہیں کہ میں زیادہ تر اردو شاعری پر ہی بلاگ لکھتا رہا ہوں اور اچھے اچھے کلام سے متاثر ہوکر اپنی طرف سے کوشش کرتا رہوں کہ ان عظیم شعرا اور شاعرات کا کلا م اپن بلاگوں میں پیش کرتا رہوں۔
    مجھے مذہب، مسلک ، سیاست اور معا شیات وغیرہ وغیرہ جیسےموضوعات پہ نہ عبور ہے اور نہ ان سے اپنی عمر کے اس آخری حصہ میں کوئی دلچسپی ہے ۔
    دنیا کا کام تو چلتا ہی رہے گا مگر اردو کو پوری دنیا میں ہمیشہ زندہ رکھنے کے لیے اردو کے شعرا اور ادیبوں کے ارشادات کو زندہ رکھنا اور گاہے گاہے ان کے کلام کو خراجِ عقیدت پیش کرنا پڑےگا ۔
    عالمی اخبار کے خزانے میں معیاری شعرا اور شاعرات کا کلام موجود ہے ۔ اس میں عرشی صاحبہ اور ڈاکٹر پنہاں کے کلام کے علاوہ عالمی اخبار کے شعبہ علم و ادب کی نگراں محترمہ زرقا مفتی صاحبہ کا کلا م بھی موجود ہے۔ اس کلام کی ہر غزل اور ہر نظم بھی پڑھنے کے قابل ہے :
    میں فی الوقت زرقا مفتی صاحبہ کی یہ غزل پیش کررہا ہوں جو مجھےبہت بہت پسند ہے ۔ امید کہ عرشی صاحبہ اور اسب بلا گ کے پڑھے والے اس غزل کی عظمت کو محسوس کرینگے : ( میں کئی ماہ قبل زرقا مفتی صاحبہ کی شاعری پر عالمی اخبار میں ایک بلاگ بھی لکھ چکا ہوں ):
    زرقا مفتی ۔۔۔۔۔۔ لاہور
    ترے سخن نے کہاں سے یہ دلکشی پائی
    سکوت میں بھی ترے ہم نے نغمگی پائی

    کلام ہم سے بھی کرتے گلاب لہجے میں
    سماعتوں میں نہاں آرزو یہی پائی

    ترے مزاج کے موسم بدلتے ہیں پل پل
    تری وفا میں ادائے ستم گری پائی

    نظر زمانے کی اک پل میں کھا گئی اس کو
    کبھی کبھار ذرا سی بھی گر خوشی پائی

    بھٹک رہے تھے خرد تیری پیروی میں ہم
    جنوں کی راہ چلے ہیں، تو آگہی پائی

    خراج لے رہی ہے زندگی بھی سانسوں سے
    حریمِ ذات میں یہ کیسی بے بسی پائی

    حریف جذبے ہویدا ہیں اپنے چہرے پر
    ہنسی لبوں پہ سجی، آنکھ نے نمی پائی

    نکل کے خلد سے آ تو گئے زمیں پر ہم
    اماں ملی کہیں ہم کو، نہ آشتی پائی

    چمن میں سوگ ہے کس کا؟ کہ اس دفعہ ہم نے
    بہار میں بھی خزاں کی سی ابتری پائی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس غزل کا ہر شعر بار بار پڑھنے کے قابل ہے ۔
    میں جب بھی زرقا مفتی صاحبہ کا یہ شعر بار بار پڑھتا ہوں اور اس شعر کے اسرار کا لطف اٹھاتا رہتا ہوں :
    بھٹک رہے تھے خرد تیری پیروی میں ہم
    جنوں کی راہ چلے ہیں، تو آگہی پائی
    اقبال تو خرد کی گتھیاں سلجھا نے کے بعد صاحب جنو ں بننے کی دعائیں مانگتے تھے مگر زرقا مفتی صاحبہ کے اس شعر میں خرد کی راہ میں بھٹکنا اور پھر جنوں کے راہ پہ چل کر آگہی پانا : انتہائی فکر طلب شعر ہے ۔ زرقامفتی صاحبہ کی شاعرانہ عظمت کو سلام:
    ہم سب کتنے خوش نصیب ہیں کہ عالمی اخبار کو زرقا مفتی صاحبہ کی رفاقت نصیب ہوئی ۔( زرقا مفتی صاحبہ اپنی تعریف سننا پسند نہیں کرتیں مگر میں انکی نہیں انکی شاعری کی تعریف کررہا ہوں ۔اس لیے میں امید کرتا ہوں کہ وہ مجھے ضرور معاف کردینگی )
    ۔۔۔۔
    میں عرشی صاحبہ کے کلا م کے ساتھ ساتھ عالمی اخبار کے شاعری کے سیکشن سے دوسرے شعرا کے کلام کے نمونے بھی پیش کرونگا ۔ امید کہ اس بہانے بہت سارے چھپے ہوئے موتی ، صدف سے باہر آجائیں اور دیکھنے والوں کی آنکھو ں کو چکا چوند کردیں :
    ۔۔۔۔۔۔۔
    میں محترمہ شاہین رضوی صاحبہ کا مشکور ہوں کہ انہوں نے اس بلاگ کو میری عارضی غیر حاضری میں جاری رکھنےکا ارادہ ظاہر کیا ۔ یہ اس بلاگ کی خوش قسمتی ہے کہ اسے ایسی محترم ہستی کی سرپرستی حاصل ہورہی ہے ۔
    اگر وہ بھی اسی طرح اپنی مرضی سے شاعری کے سیکشن کے موتیوں کو چن چن کر اس بلاگ میں شایع کرتی رہیں تو اس بلاگ کی افادیت ہزار گنا زیادہ بڑھ جائے گی ۔
    فقط:
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  20. واقعی کمال کا شعر ہے زرقا مفتی جی کا

    بھٹک رہے تھے خرد تیری پیروی میں ہم

    جنوں کی راہ چلے ہیں تو آگہی پائی

    اس قسم کے اشعار کی تہہ میں کرب کا جو سمندر رواں دواں ہوتا ہے اسے

    اہلِ دل ہی محسوس کر سکتے ہیں۔ایسے موتی تب تک ہاتھ نہیں آتے جب تک

    درد کے گہرے سمندروں میں مدتوں غوطے نہ لگائے جائیں۔

    منظور قاضی صاحب کا کمال یہ ہے کہ وہ شعر کی تہہ تک اتر جاتے ہیں ۔وہ سُچے موتی کی قدر وقیمت جانتے ہیں

    اوردُرِ نایاب کی جی بھر کر داد دینے کا حوصلہ بھی رکھتے ہیں۔

    میں اپنے تین اشعار ان کے زوقِ شعری کی نذر کرتی ہوں

    حالِ دل مرے لب پر آج برملا آیا

    چوٹ جب لگی گہری، مجھ کو بولنا آیا

    ہم جو کھل کے رو لیتے کچھ سکون مل جاتا

    اتنے ضبطِ غم سے بھی اپنے ہاتھ کیا آیا

    عقل جس جگہ ٹھٹکی،دو قدم نہ چل پائی

    عشق ایسی راہوں میں سر کے بل چلا آیا

  21. ترے مزاج کے موسم بدلتے ہیں پل پل
    تری وفا میں ادائے ستم گری پائی

    بہت خوب زرقا جی

    اور کیا کہنا عرشی جی

    عقل جس جگہ ٹھٹکی،دو قدم نہ چل پائی

    عشق ایسی راہوں میں سر کے بل چلا آیا

  22. عرشی صاحبہ کے اشعار پر بھی بے اختیار ماشااللہ ، سبحان اللہ ، جزا ک اللہ ، مرحبا کہنا پڑتا ہے ۔
    یہ ہماری خوش نصیبی ہے کہ عرشی صاحبہ ہماری سخن فہمی سے مطمئن ہیں اور اپنے اشعار عطا کرررہی ہیں ۔
    صفدر ھمدانی صاحب نے انکے جس شعر کو پسند کیا اس کا کیا کہنا۔
    عرشی صاحبہ : اللہ آپ کے اشعار کو حیات۔ دوام بخشے آمین
    ہمار ا حال بھی عرشی صاحبہ کے اس شعر جیسا ہے کہ :
    حالِ دل مرے لب پپر آج برملا آ یا
    چوٹ جب لگی گہری، مجھ کو بولناآیا
    ۔۔۔۔۔
    فقط :
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  23. ماں کے موضوع پر عرشی صاحبہ کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ اور شاہین رضوی صاحبہ اور اسحاق ساجد صاحب کی نظمیں آپ سب پڑھ چکے:
    اب ڈاکٹر پنہاں کی اس آزاد نظم میں ایک بیٹی کی دفنائی ہوئی آواز بھی سن لیجیے :

    دفنائی ہوئی آواز
    از ڈاکٹر پنہاں

    یہ پچھلے جنموں کی بات ھے
    میری ماں اکثر بھت اداس ھو جایا کرتی تھی
    مجھے دودھ پلاتے پلاتے
    مجھ سے کھیلتے کھیلتے
    مجھے پیار کرتے کرتے
    میں صرف محسوس کرتی تھی
    کچھ پوچھنے کچھ سمجھنے کا لایقٔ نھیں تھی
    پھر میں ذرا بڑی ھویٔ
    ماں کی اداسی بھی میرے ساتھ ساتھ بڑی ھوتی گیٔ
    اکثر جب وہ مجھے نھلا دھلا کر پھولدار کپڑے پھناتی
    میری آنکھوں میں سرمہ لگاتی
    میرے بالوں میں خوشبودار تیل ڈال کر کنگھی کرتی
    توساتھ ھی ساتھ
    مجھے بار بار سینے سے لگاتی اور پیار کرتی جاتی
    اور اپنے آنسو بھی پوچھتی جاتی
    اب میں بولنے لگی تھی اور پوچھتی تھی
    وہ کیوں رو رھی ھے
    مگر وہ کچھ نھیں بتاتی
    بس اپنے آنسو پوچھتی اور مجھے خوب پیار کرتی
    اور پھر جب میرا بابا
    میری انگلی پکڑ کے صحرا میں لے جاتا
    اورمجھے کھجور کے ساۓ میں بٹھا کے
    مٹی کھودنے لگتا
    میں سوچتی
    کہ اب میں کچھ کچھ سوچنے بھی لگی تھی
    میں سوچتی
    بابا یھاں پھولوں والے پودے اگاۓ گا
    پھلوں کے درخت لگاۓ گا
    میں سوچتی
    بابا کتنا اچھا ھے مجھے بابا پر پیار آنے لگتا
    میں اس سے باتیں کرتی رھتی
    اور جانے کیاکیا پوچھتی رھتی
    وہ میرے ھر سوال کا جواب ھوں ھاں میں دیتا جاتا
    اور اپنے کام میں لگا رھتا
    میں سوچتی
    بابا شاید پورا باغ لگاۓ گا
    میرے لۓ
    اورمیں بھت خوش ھوجاتی
    پھولوں کے ساتھ تتلیوں کا خیال آتا
    بابا تتلیوں کو اڑنا کون سکھاتا ھے
    میں پوچھتی
    وہ جواب دیٔے بغیر اپنی مشقت میں لگا رھتا
    اور اس کے ماتھے سے بھتے پسینے کو دیکھ کر
    مجھے اس سے ھمدردی محسوس ھوتی
    میں کھتی
    بابابھت تھک گۓ ھو
    تھوڑی دیر ساۓ میں آرام کر لو پھر کام کرنا
    میں اپنے نۓ پھولدار کرتے سے
    اس کے گردآلود چھرے کا پسینہ پوچھتی
    اور کھتی
    بابا تم کتنے اچھے ھو
    میں تم سے بھت پیار کرتی ھوں بابا
    یہ سنتے ھی وہ اپنا منھ دوسری طرف پھیرلیتا
    میں گھوم کر اس کی طرف چلی جاتی
    اور اسکے گلے میں بانھیں ڈال کر پوچھتی
    بابا کیا تم مجھ سے ناراض ھو
    وہ تڑپ کے مجھے سینے سے لگاتا
    میری پیشانی پر بوسہ دیتا
    اوربس پھر
    اک جھٹکے سے اٹھتا
    اپنے کانوں مین رویٔ ٹھونستا آنکھوں پر پٹی باندھتا
    اور مجھے
    میری تمام حیرانیوں سوالوں اور چیخوں سمیت
    اس گڑھے میں ڈال کر جلدی جلدی مٹی برابر کردیتا
    تب میری روح میرے بدن سے باھر آکے
    مجھے سب کچھ سمجھا دیتی
    اور میں اچھے بچوں کی طرح
    ماں‌کی آغوش میں سونے کی ضد کۓ بغیر
    اپنے بابا کی دی ھویٔ قبر میں چپ چاپ سوجاتی
    یہ پچھلے جنموں کا قصہ ھے
    مگر اس جنم کی سفاکیاں تو حد سے تجاوز کرگیٔں
    اس بارتو
    میرے ماں باپ نے مل کرعجیب سازش کی
    مجھے اس دنیا میں زندہ چھوڑ دیا
    لمحہ لمحہ مرتے رھنے کے لۓ
    رسم و رواج کے نام پر
    دین دھرم کے نام پر
    سماج اور تھذیب و تمدن کے نام پر
    زندگی کے ھاتھوں
    تل تل قتل ھوتے رھنے کے لۓ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نوٹ : اس نظم کو ڈاکٹر پنہاں صاحبہ نے جس طرح کمپوز کیا تھا اسی طرح میں یہا ں کاپی اور پیسٹ کے ذریعہ منتقل کرچکا ہوں ۔
    ڈاکٹر پنہاں صاحبہ پچھلے سال عالمی ااخبار میں اپنا کلام پیش کرچکی ہیں ۔ وہ تمام کلام عالمی اخبار کے شاعری کے سیکشن میں موجود ہے ۔ میں کوشش کرونگا کہ انکی ایک دو غزلیں بھی اس بلاگ میں پیش کروں۔
    میرا خیال ہے کہ عرشی صاحبہ ، ڈاکٹر پنہاں کو ضرور جانتی ہونگی ۔
    ۔۔۔۔
    میرا یہ بھی خیال ہے کہ شاہین رضوی صاحبہ بھی ڈاکٹر پنہاں صاحبہ کی شاعری کو ضرور پسند کرتی ہونگی ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عالمی اخبار خوش قسمت ہے کہ اس کے خزانے میں ایسے ایسے ہیرے جواہر موجود ہیں
    ۔۔۔۔۔
    فقط:
    اچھی شاعری کا شیدائی
    منظور قاضی
    جرمنی سے

    (

  24. اب میں ڈاکٹر پنہاں صاحبہ کی ایک غزل عالمی اخبار کے شاعری کے سیکشن سے یہاں منتقل کررہاہوں ۔
    امید کہ سب کو یہ غزل پسند آئے گی :
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    عشق میں روح کے آزار لئے پھرتے ھیں

    از : ڈاکٹر پنہاں
    عشق میں روح کے آزار لئے پھرتے ھیں
    اب مسیحا دلِ بیمار لئے پھرتے ھیں
    ۔
    کوئی کرتا بھی تو کیا ان سے محبت کرتا
    خود کو خود سے بھی جو بیزار لئے پھرتے ھیں
    ۔
    زندگی موت کا اک کھیل ھوئی جاتی ھے
    تیر کھائے ھوئے تلوار لئے پھرتے ھیں
    ۔
    آلئہ کار ھوئے جب سے کسی کے ھاتھوں
    اپنی بربادی کے ہتھیار لئے پھرتے ھیں
    ۔
    نفرتوں کا جو لئے بیٹھے ھیں سودا سر میں
    آگ اور خون کا بازار لئے پھرتے ھیں
    ۔
    کون کہتا ھے کہ رحمان کے ھیں بندے یہ
    یہ تو شیطان سا کردار لئے پھرتے ھیں
    ۔
    کاش جینے کا سلیقہ بھی انہیں آجاتا
    خود کو مرنے پہ جو تیار لئے پھرتے ھیں
    ۔
    کچھ ھرے خواب مرے دیدہ خوں رنگ میں پھر
    نارِ نمرود میں گلزار لئے پھرتے ھیں
    ۔
    منتظر بزم غزل کی ھے مگر ھم پنہاں
    شہرِ آشوب کے اشعار لئے پھرتے ھیں

    ——————————————————————————–
    تمام شد
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    :

  25. اب میں عرشی صاحبہ کی اس غزل کو عالمی اخبار کی شاعری کے سیکشن سے یہاں منتقل کررہا ہوں:
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تجھ سے نہ کہوں تو کس سے کہوں

    عرشی ملک۔ اسلام آباد
    یہ درد جو دل کو چیر گیا تجھ سے نہ کہوں تو کس سے کہوں
    میں عبد ترا تو میرا خدا تجھ سے نہ کہوں تو کس سے کہوں

    اک تو ہی محرمِ راز مرا ہمدرد مرا دم ساز مرا
    بندوں سے مجھے آتی ہے حیاتجھ سے نہ کہوں تو کس سے کہوں

    کچھ دن جو قرب میں گذرے ہیں وہ دن ہی مرا سرمایہ ہیں
    ہر دن میں تھا اک لطف نیاتجھ سے نہ کہوں تو کس سے کہوں

    میں تجھ سے باتیں کرتی ہوں ہنستی ہوں کبھی رو دیتی ہوں
    کیا تو نے میرا حال کیاتجھ سے نہ کہوں تو کس سے کہوں

    اب دنیا داری کی باتیں سنتے ہی نہیں ہیں کان مرے
    آہٹ پہ تری یہ دل اٹکاتجھ سے نہ کہوں تو کس سے کہوں

    میں چلتے پھرتے سوتے جاگتے تجھ سے باتیں کرتی ہوں
    تو کہتا ہے جا سر نہ کھاتجھ سے نہ کہوں تو کس سے کہوں

    جس روز نہ تجھ سے مل پاؤں دل اُکھڑا اُکھڑا رہتا ہے
    وہ دن ہے گویا یومِ سزاتجھ سے نہ کہوں تو کس سے کہوں

    ہر آن مرے ہمراہ بھی تُو پر پیارے بے پرواہ بھی تو
    کھونے کا تجھے دھڑکا ہے لگاتجھ سے نہ کہوں تو کس سے کہوں

    دنیا میں تو نے بھیج دیا ہم آ بھی گئے اور رہ بھی لئے
    اس میلے میں پر دل نہ لگاتجھ سے نہ کہوں تو کس سے کہوں

    اشعار کا فن لفظوں کا ہُنرخود تو نے مجھ کو بخشا ہے
    اب کہتا ہے مت شعر سناتجھ سے نہ کہوں تو کس سے کہوں

    کم ظرف ہے پیہم فضلوں سے کچھ شوخی میں آجاتی ہے
    عرشی کو زیادہ منہ نہ لگاتجھ سے نہ کہوں تو کس سے کہوں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    مرحبا : عرشی صاحبہ : آپ کے اس شعر کے کیا کہنے ہیں۔

    “اشعار کا فن لفظوں کا ہُنرخود تو نے مجھ کو بخشا ہے
    اب کہتا ہے مت شعر سناتجھ سے نہ کہوں تو کس سے کہوں“
    ۔۔۔۔۔

  26. جس روز نہ تجھ سے مل پاؤں دل اُکھڑا اُکھڑا رہتا ہے
    وہ دن ہے گویا یومِ سزاتجھ سے نہ کہوں تو کس سے کہوں

    ہر آن مرے ہمراہ بھی تُو پر پیارے بے پرواہ بھی تو
    کھونے کا تجھے دھڑکا ہے لگاتجھ سے نہ کہوں تو کس سے کہوں

    بہت اچھا اگر تجھ سے نہ کہوں تو کس سے کہوں؟

  27. میں شاہین رضوی صاحبہ کی “ نئے سال کی دعائیہ نظم “ پر آمین کہتا ہوں : ( اس نظم کو میں عالمی اخبار کے شاعری کے سیکشن سے یہاں منتقل کررہاہوں) :
    ۔۔۔۔۔۔۔۔

    نئے سال کی دُعائیہ نظم از شاہین رضوی
    ۔۔۔۔۔۔

    میرے خدا میری ارض پاک پر اب تک

    وہ فصل گل نہیں اتری کہ جس کی خواھش میں

    جگر کے خون سے لکھی گی تھیں تحریریں

    میرے خدا میرے کتنے عظیم شاعر نے

    گئی رتوں میں کبھی جس کے خواب دیکھے تھے

    ابھی تللک نہیں مل پائیں انکی تعبیریں

    میرے خدا میری ارض پاک پر اب تک

    جوان بھائی و بیٹے شہید ھوتے ھیں

    وطن کی گلیوں محلوں میں اور مساجد میں

    یہ کیسے پھول سے بچے شہید ھوتے ھیں

    میرے خدا میری ارض پاک پرھر صبح

    سہاگ کتنی ھی بہنوں کے اب آجڑتے ھیں

    کبھی کبھی کے حواد ث کی کوئی بات نہیں

    یہاں کے لوگ تو ھرروز وشب آجڑتے ھیں

    میرے خدا میرےھرایک ھم وطن کے لیے

    حیات جرم نہیں، زندگی وبال بھی ھے

    یہاں کے لوگ رھیں مضطرب و رنجیدہ

    عدو کی سوچ نہیں ھے یہ اسکی چال بھی ھے

    میرے خدا میری ماؤں کے ناتواں کاندھے

    جوان بیٹوں کے لاشے آٹھائے پھرتے ھیں

    امن پسند وں کا جینا محال ھے لیکن

    جو فتنہ گر ھیں وہ دندنائے پھرتے ھیں

    میرے خدا میری ارض پاک پر اس سال

    وہ فصل گل آتر آے کہ جس کی خواھش میں

    جگر کے خون سے لکھی گئی تھیں تحریریں

    وہ خواب جو کہ میرے رفتگاں نے دیکھے تھے

    خدا کرے کہ ملیں ھم کو انکی تعبیریں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  28. دفنائی ہوئی آواز۔۔۔۔۔۔۔۔بڑے کمال کی نظم ہے۔اس نظم نے مجھے مجبور کیا کہ اسے بار بار

    پڑھوں۔اور پھر میں نے شاعری کے سیکشن میں جا کر ڈاکٹر پنہاں کی تمام نظمیں پڑھ ڈالی۔

    تازگی ،جدت اور ندرت کا ایک جہان آباد ہے

    سبحان اللہ

  29. عرشی صاحبہ نے آج ہم سب کو اپنی دو نعتیہ نطموں کا تحفہ ان پیج میں بھجوایا ہے ۔جسےمیں یونی کوڈ میں انکے نام سے ایک الگ بلاگ شروع کرکے ، اس کا افتتاح انکی ان نعتیہ نظموں سے کرونگا۔
    وہ نیا بلاگ عرشی صاحبہ کے ارشادات اور انکے ہم عصر سخنوروں کے کلام پر مبنی ہوگا ۔

    چونکہ میں عنقریب تین ہفتوں کے لیے عالمی اخبار کی دنیا سے دور جارہا ہوں اس لیے اس میں اتنی با ضابطگی سے شامل نہ ہوسکونگا جتنی اب موجود ہے۔

    اس لئے میں شاہین رضوی صاحبہ سے درخواست کرونگا کہ وہی اس نئے بلاگ کی نظامت کریں اور عرشی صاحبہ کے کلام کے علاوہ انکے ہم عصروں کا کلام بھی اس نئے بلاگ میں شامل کرتی رہیں۔
    یہ بلاگ زیادہ طویل ہوتا جارہا ہے ۔ اور شائد پڑھنے والوں کے لیے اسکا پڑھنا مشکل ہو گیا ہے اسلیے اس کو کھلا رکھتے ہوئے ۔ میں اب اپنےنئے بلاگ پر توجہ مرکوز کرونگا۔
    فقط:
    منظور قاضی
    میونخ کے ایک قریبی گاوں سے

  30. “ قوس و قزح جیسے دن ہوں گے یا پاگل برساتیں ہوں گی ؟“
    مندرجہ بالا مصرعہ عرشی صاحبہ کی نظم “ مستقبل پر کس کا بس ہے مستقبل کو کس نے دیکھا“ کا ہے ؛
    لغت کے لحاظ سے یہ “ قوسِ قزح “ یعنی آسمان پر نمو دار ہونے والی ست رنگی کمان ہے جو عام طور پر ہلکی بارش میں نظر آتی ہے ۔

  31. جناب منظور قاضی صاحب اور محترمہ ارشاد عرشی صاحبہ ،اور سب احباب و رفقاء محترمین ۛ سلامتی ہو آپ سب پر
    آپ سب کی محنت سے مجھے محترمہ ارشاد عرشی صاحبہ کا دل میں اترنے والا کلام نصیب ہوا ،
    یقین جانیے کہ میرے پاس الفاظ نہیں ، کہ عالمی اخبار کا شکریہ ادا کروں جن کی وساطت سے مجھے بہترین شعراء کا کلام پڑھنا نصیب ہوا ، بےشمار ناموں میں اگر چند کے نام لکھوں تو مناسب نہیں ، ہر شاعر اپنی جگہ ایک اعلی مقام رکھتا ہے ،سب کا ہی کلام پختہ اور اعلی معیار کا ہے ،
    آپ سے ایک درخواست ہے کہ مجھے اجازت دی جائے کہ میں آپ کی محفل سے چند پھول چن کر، ًاردو منظر فورمً ، کے ماتھے پر سجاوں اور مزید قارئین تک یہ شاندار کلام بصد شکریہ پہنچے ،
    مجھے محترمہ عرشی صاحبہ کی یہ نظم اردو منظر پر لگاتے ہوئے بے حد خوشی ہوئی ، جس کا عنوان ہے ۔ ًدیر سےً
    http://www.urdulook.info/portal/showthread.php?tid=2536&pid=7966#pid7966
    امید ہے مجھے بہترین کلام کو اردو منظر پر لکھنے کی اجازت مرحمت فرما دی جائے گی ،
    اللہ تعالی کی امان آپ سب کے لیے ،اللہ حافظ
    محمد یونس عزیز ، اردو منظر فورم ۔ http://www.urdulook.info

  32. میں بہت عرصہ سے پاکستان میں شاعری کو اختتام پر پہنچا سمجھ رہا تھا مگر یھاں اشعار دیکھ کر اور آپ کی محنت دیکھ کر پاکستان میں نہ صرف شاعری بلکہ پاکستان سے ہی دوبارہ پر امید ہو گیا ہوں الله آپ کو خوش رکھے

  33. محترم انور کمال پاشا صاحب: سلام و دعا کے بعد میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے اس دو سال قبل کا میرا بلاگ جسے مین نے پاکستان کی ایک عظیم شاعرہ محترمہ ارشاد عرشی ملک صاحبہ کے ارشادات کے عنوان سے ترتیب دیا تھا ، ڈھونڈ نکالا اور اپنے تعریفی تبصرے سے اسکی پذیرائی کی۔
    میں عالمی اخبار کی انتظامیہ کا شکر گذار ہوں کہ اس نے میرے تمام بلاگ ، انٹرنیٹ کے خزانے میں ہمیشہ کے لیے محفوظ کردی ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ میرے اس دنیا سے چلے جانےکے بعد اردو کے شیدائی میری محنت کا پھل کھاتے رہینگے ِجزاک اللہ
    انور کمال پاشا صاحب: اگر آپ اپنے متعلق بھی کچھ اس بلا گ میں لکھدیتے تو ہم سب آپ کی جستجو کو دل کھول کر داد دیتے ِ
    فقط:
    اس بلا گ کا ناظم
    منظور قاضی
    از میونخ جرمنی

  34. Typically the Purdue Boilermakers It is possible Basketball group goes far back story. The team has been doing lifetime over over a hundred decades. They primary started engage in for 1896, just where on many occasions they’d literally play towards YMCA clubs quite often.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *