صدرِ پاکستان اور عدالت!

supreme court

آئینِ پاکستان کی روُ سے پاکستان کا صدر وفاق کا سربراہ ہوتا ہے۔ پارلیمانی نظام میں یہ غیر انتظامی عہدہ ہوتا ہے کیونکہ صدر وزیر اعظم کی نصحیت پر عمل کرنے کا پابند ہوتا ہے۔اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بد قسمتی سے فوجی سالار اپنے آپ ہی اس عہدے پر فائز کرتے رہے ہیں اور وزیرِ اعظم کے انتظامی اختیارات بھی اپنے پاس ہی رکھتے تھے اس کی سب سے اھم مثال جنرل ضیأالحق (سابق صدر پاکستان) تھے

پارلیمانی نظام میں صدر سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ سیاسی وابستگی سے بالا ہو کر وفاق کی نمائندگی کرے اور نامزد ہونے کے بعد سیاسی وابستگیوں سے مستعفی ہو جائے مثال کے طور ہر فاروق احمد خان لغاری جب صدر منتخب ہوئے تو پیپلز پارٹی کی بنیادی رکنیت سے بھی مستعفی ہوگئے مگر آصف علی زرداری 2008 میں صدر بننے کے بعد بھی پارٹی کے شریک چئیرمین کے عہدے پر بھی قائم ہیں کیا یہ کھلا تضاد نہیں ہے؟؟
اس اسلامی ملک سے بہتر تو غیر اسلامی ملک ہے یعنی جنوبی افریقہ ، اس ملک کی عدالتِ عالیہ نے صدر کے خلاف مقدمہ بحال کرنے کی اجازت دے دی اور قانون کی بالا دستی ثابت کردی اور اس کے برعکس ھمارے ملک کے وزیراعظم عدالت عالیہ کی توہین کرنے کے بعد اس کی سزا کو قبول کرنے کو تیار ہیں مگر صدر کے خلاف بولنے یا لکھنے کو تیار نہیں ؟؟
کیوں آخر کیوں؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

11 thoughts on “صدرِ پاکستان اور عدالت!”

  1. چو ر ڈاکو ڈاکہ ڈالنے سے پہلے ہی سوچ لیتے ہیں کہ اگر چوری کرنے کے بعد پکڑا گیا تو کیا ہوگا زیادہ سے زیادہ سات سال جیل ہوجائے گی۔ چو رلوگ جانتے ہیں کہ سات سال تو کیا ستر سال میں بھی ایک کروڑ روپیہ جمع نہیں کرسکتے اور نہ ہی کما سکتے ہیں ۔
    یہ ہی چور کریکٹر گیلانی صاحب کا ہے۔
    اربوں ڈالر کو بچانے کی خاطر 6 ماہ کی سزا کوئی معنی ہی نہیں رکھتی۔ اور وہ بھی وی آئی پی اے کلاس سزا۔
    آویز۔ برمنگھم

  2. بھائی جعفر جب افراد،جماعتوں یا اقوام پر ابلیسیت غالب آ جائے تو یہی حالات ہوتے ہیں. میں تو سمجھتا ہوں کہ جب اس گدی نشین اور جعلی پیر یوسف گیلانی نے یہ کہا کہ میں چپڑاسی نہیں پی ایم ہوں تو پاکستان میں کسی چپڑاسی یا مزدور انجمن کو ملک کے چپڑاسیوں کی تضحیک پر گیلانی کے خلاف مقدمہ درج کروانا چاہیئے تھا. خود کو چپڑاسی سے ملانا ملک کے حلال کھانے والے چپڑاسیوں کی بے عزتی ہے. ان کو تو اپنے آپ کو کسی نجس جانور سے ملانا چاہیئے تھا. آپ نے دیکھا کہ جنوبی افریقہ نے جو کیا. ہماری عدالت کو بھی ایسی ہی جوانمردی دکھانی ہو گی. میں ایک بات آپکی خدمت میں عرض کرؤں کہ صدر کو اگر اسی طرح استثنیٰ ہے جیسے کہا جارہا ہے تو یہ بات صدر کے وکلا عدالت میں آ کر کہیں. وزیر اعظم تو صدر کا وکیل نہیں ہے.دوسری بات یہ کہ عدالت میں مقدمہ توہین عدالت کا چل رہاہے صدر کے استثنیٰ کا نہیں. تازہ ترین خبر تو یہ ہے کہ اس عہد کا یوسف بھی اب برادران یوسف کے ہاتھوں مارا جا رہا ہے. اس بار چاہ یوسف کہیں اور ہی بنے گا. میرا دل تو ہمیشہ سے یہ چاہتا تھا کہ اس ملک کا صدر اگر کوئی حلال زادہ ہوتا تو وہ خود عدالت سے کہتا کہ میں اپنے استثنیٰ سے سبکدوش ہوتا ہوں اور عدالت تحقیق کرے اور اگر میرا جرم ہے تو میں سزا بھگتنے کو تیار ہوں. لیکن میری خواہش شاید کسی افسانے کا پیراگراف لگتا ہے. اس ملک میں ایسی کوئی روایت موجود ہی نہیں ہے
    یہ چوروں اور ڈاکوؤں کی بھی تضحیک ہیں.آپ ظلم دیکھئے بیوی کی تصویر کے سہارے صدارت کا وقت پورا کرنے والے صدر کی بداعمالیوں اور بدعنوانیوں کو بچانے کے لیئے ملک اور ملک کے کروڑوں عوام کی قسمت کو داؤ پر لگا دیا گیا ہے
    جہاں اعتزاز احسن جیسا وکیل سینٹ کی ایک نشست پر فروخت ہو جائے وہاں کس پر بھروسہ کیا جائے.

  3. اسلام علیکم ساتھیو
    محترم بھائی ہماری تو سب سے بڑی خاصیت ہی یہ ہے کہ ہم بڑوں پر ہاتھ نہیں ڈال سکتے ، اگر ایسا ماضی میں کیا ہوتا تو آج ہم اور آپ یہ دکھ نہ جھیل رہے ہوتے ۔
    آج بھی دیکھیں کس ڈھٹائی سے ہم انکاری ہیں اور کسی میںبولنے کا دم نہیں ۔
    محترم آویز بھائی ایک کروڑ پر تو آج کل لوگ قہقہہ لگا دیتے ہیں اب تو اربوں کھربوں کی بات کیجئے ۔
    میری سمجھ میں تو یہ نہیں آتا کہ اب بھی نہ جاگے تو کب جاگینگے ۔
    آپ نے صحیح کہا ان کی تو قید بھی عیش ہی ہوتی ہے ۔ وی آئی پی ، عہدے کا احترام تو ہونا چاہئے نہ میرے بھائی ۔
    اللہ ہم پر رحم کرے ۔
    عالم آرا

  4. آویز بھائی یہی تو رونا ہے کہ جاہل وزیراعظم جاہل عوام سے سوال کررہا تھا اور جاہل لوگ تالیاں بجا کر اس کی باتوں کا جواب دے رہے تھے ، اور گیلا نی کو معلوم ہے کہ سزا کاٹنے کے بعد پھر سے روزی پکی ہوجانی ہے اور ویسے بھی اگر ان جیسوں کو سزا میں بیگار کیمپ میں رکھا جائے تو سب کو چھٹی کا دودھ یاد آجائے
    سزا ، سزا ہوتی ہے اس میں کلاس نہیں ہونی چایئے

  5. محترم ھمدانی صاحب ھمیں بھی اجازت دیں کہ ھم آپ کو بابا جی کہہ لیں آپ کی محبت ، خلوص ، اپنائیت اتنی زیادہ ہے کہ ھمیں آپ کا نام لینا اچھا نہیں لگتا۔
    آپ نے بالکل درست فرمایا ہے کہ اگر صدر کو کسی طرح استثنیٰ ہے جیسے کہا جارہا ہے تو یہ بات صدر کے وکلا عدالت میں آ کر کہیں. وزیر اعظم تو صدر کا وکیل نہیں ہے
    دوسری بات یہ کہ جو وزیراعظم صاحب فرما رہے ہیں ایسا کچھ ہے ہی نہیں آئین پاکستان کی دفعہ 6 میں ایسا کچھ ہے ہی نہیں
    ————————-
    6.High treason.
    1.Any person who abrogates or subverts or suspends or holds in abeyance, or attempts or conspires to abrogate or subvert or suspend or hold in abeyance, the Constitution by use of force or show of force or by any other unconstitutional means shall be guilty of high treason.]
    2. Any person aiding or abetting [4B][or collaborating] the acts mentioned in clause (1) shall likewise be guilty of high treason.
    2A. An act of high treason mentioned in clause (1) or clause (2) shall not be validated by any court including the Supreme Court and a High Court.]
    3. [Majlis-e-Shoora (Parliament)] shall by law provide for the punishment of persons found guilty of high treason.

    جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  6. یہ مانتے ہیں کہ اگر پاکستان کے لنگڑے لولے آئیں میں صدارت کی کرسی کو محفوظ کیا گیا ہے تو صرف یہ کہ صدر کسی عدالت میں نہیں جا سکتا (اگرچہ اس کی کوئی مثال نہیں ہے کوئی بھی ہو قانون سے بالا تر نہیں ہوسکتا) پھر بھی سارے وزرأ ، وزیر اور مشیر سب کے سب صدر سے بے پناہ محبت کا اظہار کررہے ہیں اور عوام کی پیٹھہ میں چھرا گھونپ رہے ہیں ایک راشی اور بے ضمیر شخص کو تحفظ دینے کے لیے کیا کچھ نہیں ہو رہا مگر عوام کے مسائل کے حل کے لیں کوئی آواز نہیں اٹھاتا
    ————————–
    آپ نے درست فرمایا
    جہاں اعتزاز احسن جیسا وکیل سینٹ کی ایک نشست پر فروخت ہو جائے وہاں کس پر بھروسہ کیا جائے.
    اس کی ایک چھوٹی سی مثال مین دوں ، نیشنل بنک آف پاکستان کے موجودہ صدر کی ڈگری جالی ثابت ہو گئی ہے اور چیف جسٹس پاکستان نے ان کو بلاکر کہا ہے کہ استعفیٰ دو اور گھر جاؤ ، مگر مجال ہے جو شنوائی ہو ، موصوف صدر صاحب (قمر حسین ) نے سپریم کورٹ بار کے سابق صدر اور مہنگے تریں وکیل منیر اے ملک کو اپنا وکیل بنایا ہے اور مقدمہ کی پیروی کرنے کے لیے بنک کا پیسہ بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے
    بات تو یہ کہ جب سب باتیں سامنے آگئیں تو کیا ایسے کسی شخص کا مقدمہ لڑنے کے لیئے کسی قابل وکیل کو حامی بھرنی جاہیے

  7. السلام علیکم
    یہ بات تو بہت حد تک درست ہے کہ وطن عزیز کو ایک نئے اور مکمل اسلامی دستور کی ضرورت ہے ، مگر آئین نو کی تشکیل سے پہلے جب تک یہ موجودہ نظام کام کر رہا ہے ، ہمیں اس کے تحت ہی اپنے تمام امور نمٹانے چاہیے ، ہم میں سے ہر شخص مسائل کی نشاندہی تو کرنا چاہتا ہے مگر کسی کے پاس بھی ان مسائل کا حل موجود نہیں ہے ، ہر شخص دوسرے کی طرف انگلی اُٹھائے مسلسل الزامات لگانے میں مصروف ہے ، کوئی بھی اپنے اوپر لگنے والے الزامات کا سامنا کرنے یا ان کی وضاحت پیش کرنے کو تیار نہیں حتی کے عدالت عالیہ تک کی توقیر خطرے میں نظر آنے لگی ہے ، لوٹ مار اور ظلم و ذیادتی کی بہتات نے ان سب کو عام معمول کا حصہ بنا دیا ہے ، اور کوئی اس پر احتجاج نہیں کرتا اور جو کرتا بھی ہے تو وہ محض جلاؤں گھراؤں اور شور شرابہ ہی کرتا ہے ، کوئی بھی ٹھہر کر ، رک کر اور معاملہ فہمی سے مسائل کا حل یا ان پر احتجاج نہیں کرتا ۔
    آصف احمد بھٹی

  8. بھائ جعفر حسین سلامت بعافیت رھیں ،

    صدر پاکستان نہ اللہ سے ڈرتے ھیں نہ کسی احتساب سے نہ اللہ کے عذاب سے نہ عدالت سے نہ عوا م کی عدالت سے نہ اللہ کی عدالت سے
    بھٹو نے روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ لگایا
    صدر پاکستان نے نہ روٹی نہ کپڑا نہ مکان والا نعرہ لگایا
    پاکستان کھپے ۔ مرغی کیسے پکے ،نہ بجلی نہ گیس نہ پانی نہ امن وامان نہ جان کی امان نہ مال کی امان
    ھم دشت حیرت کے مکیں ،
    تماشاۓ اھل کرم دیکھتے ھیں
    مبصران نگاروں کی آراء بہت توجہ سے پڑھ رھی ھوں

  9. شاہین باجی سلام
    بہت شکریہ بلاگ ہر نظر ڈالنے کے لیے آپ نے تو پوری نظم ہی کہہ ڈالی واہ واہ بھی واہ ، سبحان اللہ
    نہ روٹی نہ کپڑا
    نہ مکان نہ امان
    پاکستان کھپے ۔ مرغی کیسے پکے ،
    نہ بجلی نہ گیس
    نہ پانی نہ امن وامان
    نہ جان کی امان
    نہ مال کی امان
    ——————-
    اسی میں کچھ اضافہ

    صرف وحشت کا سامان
    دہشت کا امکان
    اپنی خالی دوکان
    بس سرائے محل
    ہوئی سونے کی کان
    ایسا کیسا بنایا ھم نے مچان
    صدر بے ایمان
    وزرأ شیطان
    نہ رحم نہ رحمان
    آرہی ہے صدا
    اب فقط الامان الامان الامان الامان الامان الامان الامان الامان
    الامان الامان الامان الامان الامان الامان الامان الامان الامان الامان

    ھم دشت حیرت کے مکیں ،
    تماشاۓ اھل کرم دیکھتے ھیں

  10. اسلام علیکم ساتھیو
    بہت عزیز بہن بھائیو ہم تو خود ہی یہ گڑھے کھودتے ہیں ۔
    ہم جب تک بچہ جعھورا بنے رہینگے یہ ہمیں اپنے اشاروں پر نچاتے رہینگے ۔
    زرا حال تو دیکھیں کہ میڈیا کس طرح جان پر کھیل کر اتنے بڑے بڑے کرپشنز کی نشاندہی کر رہا ہے لیکن کیا کوئی ایک بھی اٹھا ان کے خلاف ۔
    صدر ہوں یا وزیر ہر کوئی رج کے کھا بھی رہا ہے اور کھلا بھی رہا ہے تاکہ کوئی منہہ کھل نہ سکے ۔
    وزیر ریلوے کی ہم داد دیتے ہیں کہ ہم نے اتنے پکے لوگ بہت کم دیکھے ہیں جن پر سے پانی اس تیزی سے پھسلتا ہے کہ بقول میرے بھائی جعفر حسین ستر بار الامان ۔
    جس طرح ہمارے ملک کی قیا دت آنکھیں میچے ہوئے ہے اسی طرح ہم بھی تو ہر برائی کو نگل رہے ہیں آواز نہ اٹھا کر ۔
    یہ سارے کیسز ختم ہو جائینگے بغیر ہلدی پھٹکری لگے ۔ اور ہم دیکھتے رہینگے ۔
    پیاری بہن شاھین اور میرے بھائیو ہم کم از کم اس بلاگ پر اپنی آواز تو اٹھا رہے ہیں ، شاید ہم خوش قسمت ہیں کہ برائی کے خلاف بولنے کا حوصلہ رکھتے ہیں ، اور استغفار کا بھی
    جب تک ہم میں کچھ لوگ آواز اٹھاتے رہینگے ہمیں اپنے جینے کا احساس رہیگا ۔
    اللہ میرے ملک کی ان آوا زوں کو گونج عطا کرے ۔ایسی گونج جو ہمارے ملک کے جوانوں کو جگا دے کہ اٹھو وقت ہے کام کا ۔وقت ہے لوٹنے والوں سے واپس لینے کا ۔اوروقت ہے اپنے آپ کو منوانے کا ۔
    وقت ہے اپنی اہمیت بتانے کا کہ جہاں جوان خون گرم ہو وہاں ایک وقت ہے برداشت کا اور ظلم سہنے کا ۔
    اللہ میرے جوانوں کو حوصلہ دے آمین
    قوم تو سوئی ہوئی ہے جو کہ اٹھتی ہی نہیں
    تم جگاتی تو رہی ہو عالم آرا اب تلک ( شمس جیلانی بھائی )
    عالم آرا
    عالم آرا

  11. السلام علیکم
    میری نظر میں وطن عزیز کے تمام مسائل کا حل کے لیے ہمیں فورا ایک ایسے اور نئے عمرانی معاہدہ کی اشد ضرورت ہے جس کی بنیاد آقا صلاۃ السلام کی تشکیل دی ہوئی پہلی اسلامی ریاست اور جس کا اساس تمام خلفائے راشدین رضوان اللہ اجمعین کے وضع کردہ قوانین کے مطابق ہو ۔ ایسے عمرانی معاہدہ اگر اپنے اسل روح کے مطابق نافذ کر دیا گیا تو اس کے بعد وطن عزیز میں لسانی اور مسلکی جھگڑوں کا کوئی وجود نہیں رہے گا ، اور دیگر مسائل بھی باحسن طریقے سے حل ہو جائینگے ۔
    یہاں میری مراد خلافت کا احیاء نہیں ہے ( اور اگر ایسا ہو جائے تو کیا ہی بات ہے ) جس دستور کا اساس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے وزیروں کے وضع کردہ قوانین کے مطابق ہو گا وہ خود ہی بنی نوع انسان کے ہر ہر مسئلے کا حل پیش کر دے گا ۔
    آصف احمد بھٹی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *