2 thoughts on “یکم نومبر عالمی اخبار کی ساتویں سالگرہ”
غزل
تیغ و تفنگ ہی کا نہ ظلمو ستم کا ڈر
ڈر ہے بس ہے گیسوء پر پیچ و خم کا ڈر
اتنا نہیں ہے شیخ جی دیر وحرم کا ڈر
جتنا مجھے ہے آپ کی چشمِ کرم کا ڈر
وعدے پر اعتبار کے اب تو یہ حال ہے
ہے رات دن لگا ہوا اُن کی قسم کا ڈر
آدابِ بزمِ یار نے تو حوصلہ دیا
بڑھتا وہاں بھی مگر چشلِ نم کا ڈر
جتنی گُذر رہی ہے یہ عمرِ رواں ظفر
اتنا ہی بڑھ رہا ہے مرا بیش و کم کا ڈر
غزل
تیغ و تفنگ ہی کا نہ ظلمو ستم کا ڈر
ڈر ہے بس ہے گیسوء پر پیچ و خم کا ڈر
اتنا نہیں ہے شیخ جی دیر وحرم کا ڈر
جتنا مجھے ہے آپ کی چشمِ کرم کا ڈر
وعدے پر اعتبار کے اب تو یہ حال ہے
ہے رات دن لگا ہوا اُن کی قسم کا ڈر
آدابِ بزمِ یار نے تو حوصلہ دیا
بڑھتا رہا وہاں بھی مگر چشلِ نم کا ڈر
جتنی گُذر رہی ہے یہ عمرِ رواں ظفر
اتنا ہی بڑھ رہا ہے مرا بیش و کم کا ڈر
غزل
تیغ و تفنگ ہی کا نہ ظلمو ستم کا ڈر
ڈر ہے بس ہے گیسوء پر پیچ و خم کا ڈر
اتنا نہیں ہے شیخ جی دیر وحرم کا ڈر
جتنا مجھے ہے آپ کی چشمِ کرم کا ڈر
وعدے پر اعتبار کے اب تو یہ حال ہے
ہے رات دن لگا ہوا اُن کی قسم کا ڈر
آدابِ بزمِ یار نے تو حوصلہ دیا
بڑھتا وہاں بھی مگر چشلِ نم کا ڈر
جتنی گُذر رہی ہے یہ عمرِ رواں ظفر
اتنا ہی بڑھ رہا ہے مرا بیش و کم کا ڈر
غزل
تیغ و تفنگ ہی کا نہ ظلمو ستم کا ڈر
ڈر ہے بس ہے گیسوء پر پیچ و خم کا ڈر
اتنا نہیں ہے شیخ جی دیر وحرم کا ڈر
جتنا مجھے ہے آپ کی چشمِ کرم کا ڈر
وعدے پر اعتبار کے اب تو یہ حال ہے
ہے رات دن لگا ہوا اُن کی قسم کا ڈر
آدابِ بزمِ یار نے تو حوصلہ دیا
بڑھتا رہا وہاں بھی مگر چشلِ نم کا ڈر
جتنی گُذر رہی ہے یہ عمرِ رواں ظفر
اتنا ہی بڑھ رہا ہے مرا بیش و کم کا ڈر