دسمبر 1991ع دنیا کے معروف علمٍ طبیعات کے سائنسدان اسٹیفن ولیم ہاکنگ سے اس کی بیوی “جین ہاکنگ” نے طلاق مانگی اور اس نے یہ کہ کر کہ” تمہیں ایک حسین زندگی مبارک ہو” اسے طلاق دے دی.
ہاکنگ جس نے “بریف ہسٹری اوف ٹائیم” لکھ کر آئین اسٹائین کے نظریہ اضافت اور نسبت کے قانون کو ایک نئی جہت دے کر اس وقت کے بادشاہ سائنسدان “سر رچرڈ ڈاکن” کو بھی محوٍ حیرت کردیا تھا. اسٹیفن ولیم ہاکنگ جو پچھلے تیس برسوں سے موٹر نیورون جیسی خطرناک بیماری میں مبتلا تھا کہ جس کی وجہ سے وہ صرف اپنی دو انگلیوں پر ہی قدرت رکھ رہا تھا، وہ گذشتہ بائیس برس سے رفیق بیوی کی جدائی پر دل شکستہ تو ہؤا ہی، لیکن کیا کہنے اس کے جوش اور ولولہ کا جو طلاق کے ٹھیک تین بعد بھی اپنے انٹرویو میں اس نے کہا کہ : “اس حالت میں بھی مجھے ابھی تیس برس اور جینا ہے، اور کائنات کے کچھ راز جاننے ہیں، میں آپ سب کو بتادونگا کہ کائنات کتنی وسیع ہے اور اس میں زندگی کہاں کہاں پائی جا سکتی ہے.”
ولیم ہاکنگ کائنات کو جاننے میں بلیک ہول تلاش کر رہا تھا اور میں اس قدرتی اتفاق پر شاید رچرڈ ڈاکن سے زیادہ انگشت بزبان رہ گیا کہ ٹھیک اسی مہینے، اسی برس، یعنی بیس دسمبر 1991ع میں ٹھٹہ ضلع کے تحصیل جاتی میں ایک فری میڈیکل کیمپ پر جاتے ہوئے ایک ایمبولینس کا ایکسیڈینٹ ہوگیا جس میں تیرہ لوگ شدید زخمی ہوئے، ایک چل بسا، اور باقی بارہ زخمیوں میں ایک ایسا بھی انسان تھا جو آغا خان ہسپتال میں چھ مہینے کے طویل علاج کے بعد ڈاکٹروں کی اس بات سے گھر واپس آگیا کہ ” اب آپ نہ چل سکتے ہیں، اور نہ بیٹھ سکتے ہیں، بس تمام جسم میں صرف منہ اور دائیں ہاتھ کی چند انگلیوں کو چلا سکتے ہیں، کیوں کہ آپ کی ریڑھ کی ہڈی بالکل ناکارہ ہوچکی ہے”.
وہ خود ڈاکٹر تھا، جس کا نام اسلم خواجہ ہے. اور لکھنے پڑھنے والی دنیا کے لوگ اسے ڈاکٹر اسلم آزاد کے نام سے جانتے ہیں.
ڈاکٹر اسلم آزاد، جو کہ ابھی ابھی ڈاکٹری کی سند لے کر باہر نکلا تھا، اور شاگردی کے زمانے سے شاگرد سیاست میں بھی سرگرم تھا، اور ساتھ میں روزنامہ جنگ میں حیدرآباد کا نمائندہ خصوصی کے طور پر بھی اپنے فرائض انجام دے رہا تھا.
بہت بے باک رپورٹنگ کی وجہ سے صحافت کی دنیا میں چند ہی دنوں میں اس نے وہ نام پیدا کردیا کہ اچھے اچھے صحافی اس سے ملنا اور بات کرنا اپنے لیے ایک اعزاز سمجھنے لگے! صحافت کے ساتھ وہ اپنا وقت اور صلاحیتیں فلاحی کاموں میں گذارنے لگا، کہ دسمبر کا وہ منحوس دن آ پہنچا جب وہ ایک مفت طبی کیمپ کے لیے جا رہا تھا، اور حادثہ پیش آگیا.
آغا خان ہسپتال کراچی سے ڈسچارج ہونے کو بعد وہ آج تک ایک بستر پر لیٹا ہؤا ہے، کتابیں، ٹی وی، دوست اور اپنے اہلٍ خانہ کے ساتھ اس نے اس طرزٍ زندگی کو خندہ پیشانی کے ساتھ نہ صرف قبول کیا بلکہ اپنے پیرسن باپ، بھائی اور بہنوں کے لیے ایک زندگی کی نوید بن کر جینے لگا.
“بس اپنے ناک پر بیٹھی مکھی نہیں ہٹا سکتا باقی تو سب خیر ہے!” یہ تھا جواب ڈاکٹر اسلم آزاد کا جب میں نے اس سے پوچھا کہ کیا محسوس کر رہے ہیں گذشتہ انیس برسوں سے؟
“زندگی بہت حسین ہے، اور ضروری نہیں کہ اس زندگی میں اپنے اپنے آئیڈیل بنا کر آدمی چلے، کبھی کبھی زندگی کی اسرار و رموز بھی انسان سمجھے!”، وہ کہنے لگا: “شاید زندگی مجھ سے اب یہی تقاضا کر رہی ہے کہ میں سب کو بتادوں کہ زندگی یہ بھی ہے، اور اس میں بھی انسان خوش رہ سکتا ہے”.
ڈاکٹر اسلم آزاد، خواجہ کالونی سجاول میں سکونت پذیر ہے، اور اپنے کمرے میں آئے ہوئے دوست و احباب کو خوش امیدی اور زندگی کی حسناکیوں پر اپنے گوہرٍ ناویدہ سناتا رہتا ہے. ایک بہت مزے کی بات میں نے محسوس کی کہ ڈاکٹر آزاد کے محلے میں اگر کسی کو بخار یا کوئی مرض ہوبھی جاتا ہے تو وہ ڈاکٹر آزاد کا تصور کرتے ہی اپنے بستر سے اٹھ بیٹھتا ہے، کہ میں بخار میں بھی کراہ رہا ہوں اور ذرا اسلم صاحب کو تو دیکھو! اور یوں ڈاکٹر اسلم آزاد پورے محلے میں زندگی کی نوید بن کر سب کو حوصلہ دیتا ہے.
میرے سوال کہ کیا آپ کو امید ہے کہ آپ پھر چل پھر سکتے ہیں کے جواب میں کہا کہ: “دیکھیں فیاض! میرا خیال ہے کہ اوباما نے کلوننگ پر سے پابندی ہٹادی ہے، بش ایک رجعت پسند تھا، اب مجھے لگ رہا ہے کہ دو تین برسوں میں کلوننگ کی وجہ سے میں چل پھر سکتا ہوں، بہر حال میں پر امید ہوں.”
اتنی پر امیدی !!!!؟ مائکروچپ سنسرڈ چیئر پر بیٹھا برطانوی سائنسدان اسٹیفن ولیم ہاکنگ اپنے سامنے وسیع تر ٹیکنولوجی دیکھ کر اور اپنی پذیرائی دیکھ کر اگر اتنا زندگی سے پر امید ہے تو کوئی اچھنبے کی بات نہیں، لیکن سجاول جیسے بےحس (معاف کیجیئے گا میرے سجاولی دوستو) شہر میں ایک کمرے میں بیٹھا ڈاکٹر اسلم آزاد اتنا پر امید، اتنا خوش مزاج! کہ ہر ماہ وہ اپنے دوستوں کو دعوت دے کر بلاتا ہے اور ان سے خوش مزاجی کے ساتھ سیاست سے لیکر فلسفے تک کچہریاں کرتا رہتا ہے تو تعجب ضرور ہوتا ہے!
ہمارے ہاں تو تو اکثر دیکھا یہ گیا ہے کہ رٹائرمنٹ کے بعد ہر آدمی تسبیح اور مصلہ پکڑ کر اپنی عاقبت کا سامان کٹھے کرنا شروع کر دیتا ہے، اور اگر خدا نخواستہ کوئی ایسا مرض لاحق ہوجائے تو اپنے عزیز و اقارب بلا کر اپنے گناہوں کی معافیاں مانگنے بیٹھ جاتا ہے، لیکن اسے تو دیکھیں اے اہلٍ دانش دوستو!
ایک بات ضرور سمجھ میں آتی ہے. کہ، ڈاکٹر اسلم آزاد کا تعلق ایک ایسے مکتبہ فکر سے ہے جو دنیا کو جنت بنانے میں کوشاں ہیں، شاید یہ بھی سبب ہے کہ وہ زندگی کو رعنائیوں سمیت دیکھ رہا ہے. اور دوسرا، وہ ایک ایسی سیاسی اسکول کی پیداوار ہے جو غمٍ دہر کو خوشیوں کا گہوارا بنانا چاہتے ہیں. اور اس کے مدٍ مقابل ہماری سوچ اکثر ایسی ہے کہ:
اول: ہم لوگ دنیا کو ایک مسافر خانہ سمجھ کر، اپنی تمام تر غلاظتیں یہاں پھینکتے جاتے ہیں، یہ خیال تو کرتے ہی نہیں کہ اگلے مسافر ہماری اپنی اولاد ہی ہوگی! اور اس دائمی زندگی کا سامان کٹھے کرتے کرتے اس فانی دنیا کو تو بنادیا ہم نے ایک کچرا گھر!
دوم: زندگی سے متعلق ہمارا رویہ ایسا ہی ہے جیسے کانچ کی کھڑکی پر چپٹی مردہ مکھی پر نظر گاڑے ہم دور کے حسین مناظر تو دیکھ ہی نہیں پاتے، اور کہتے ہیں کہ دنیا گند کا ڈھیر! کبھی ہم نے مکھی سے نظر ہٹا کر دور کے مناظر کو تو دیکھنے کی کوشش ہی نہیں کی!
میں واقعی سوچ رہا ہوں کہ کاش ڈاکٹر اسلم آزاد جیسے لوگ محلے محلے میں ہوں، جو دوسروں کو تاجکستانی شاعر ناظم حکمت کی طرح ترغیب دیں کہ: “حالات کیسے بھی ہوں، زندگی دکھوں کا بوجھ بن جائے، لیکن پھر بھی اپنے دل کو روشن اور درخشاں رکھو، اگر تم چاہتے ہو کہ ہمارا مستقبل بہترین ہو تو!”
حضرات مجھے اسٹیفن ولیم ہاکنگ اور ڈاکٹر اسلم آزاد ایک ہی قطار میں کھڑے ہمارے لیے سنگٍ میل کی طرح نظر آتے ہیں.

آئیں، اور اس تیس اگست کو ڈاکٹر اسلم آزاد کو “ہیپی برتھ ڈے ٹو یو” کہیں، اور اسے لمبی عمر کی دعائیں دیں! کہ یہ ہیں ہمارے ملک کے اثاثے، کیونکہ یہ ہیں ہمارے روشن مستقبل کے امین کہ جن کی آستینوں میں ہماری خوبصورت صبح کے خورشید ہوتے ہیں.

فاضل بلاگ نگار نے جس اسٹیفن ہاکنگ کا ذکر اس بلاگ میں کیا ہے اسکو امریکہ کا میڈل آف فریڈم ( تمغہ آزادی ) ابھی ابھی دیا گیا۔
ہم سب صدقِ دل سے ڈاکٹر اسلم آزاد صاحب کو زندگی کی مصیبتوں سے لڑتے ہوئے جینے پر مبارکباد اور سالگرہ مبارک کہتے ہیں۔
ڈاکٹر اسلم آزاد صاحب ہم سب کے لیے ایک عظیم رول ماڈل ہیں ۔ اللہ انہیں اسی طرح ہمت اور استقامت عطا کرتا رہے ۔ آمین
اسٹیفن ہاکنگ کی طرح پاکستان کی حکومت بھی ڈاکڑ اسلم آزاد صاحب کو پاکستان کے اعلی ترین اعزاز سے نواز سکتی ہے۔
اسٹیفن ہاکنگ کے حالیہ انعام پانے کی تقریب اس ویڈیو لنک میں موجود ہے :
http://news.sky.com/skynews/Home/World-News/Stephen-Hawking-Receives-Barack-Obamas-US-Medal-Of-Freedom-Alongside-Mary-Robinson-Desmond-Tutu/Article/200908215359804?lpos=World_News_Second_World_News_Feature_Teaser_Region_0&lid=ARTICLE_15359804_Stephen_Hawking_Receives_Barack_Obamas_US_Medal_Of_Freedom_Alongside_Mary_Robinson%2C_Desmond_Tutu
فقط:
منظور قاضی از جرمنی
فیاض بھائی ! سلامٌ علیکم و رحمۃ اللہ،
آپ کی یہ بات بھی ہمیشہ کی طرح حساس، اندازِ بیان خوبصورت اور موضوع فکر انگیز ہے، آپ دل و جان سے ہم وطنوں کے آگے زندگی کی حقائق اور زندگی گزارنے کے اسلوب پیش کرتے رہتے ہیں، میں کوئی ادیب یا نثر نگار تو ہوں نہیں کہ آپ کی تحاریر کے ادبی پہلو پر تبصرہ کرسکوں لیکن آپ کی اعلیٰ سوچ اور طرزِ فکر کا پرستار ضرور ہوں، ماشاء اللہ۔
لیکن سرکار فیاض امر صاحب اس امید اور اعتبار پر کہ آپ مثبت تبصرہ کے ساتھ ساتھ تنقیدی نقطہء نظر پر بھی توجہ فرماتے ہیں کچھ جسارت کرنا چاہوں گا ؛
1- آپ نے فرمایا کہ ؛
ہمارے ہاں تو تو اکثر دیکھا یہ گیا ہے کہ رٹائرمنٹ کے بعد ہر آدمی تسبیح اور مصلہ پکڑ کر اپنی عاقبت کا سامان کٹھے کرنا شروع کر دیتا ہے، اور اگر خدا نخواستہ کوئی ایسا مرض لاحق ہوجائے تو اپنے عزیز و اقارب بلا کر اپنے گناہوں کی معافیاں مانگنے بیٹھ جاتا ہے، لیکن اسے تو دیکھیں اے اہلٍ دانش دوستو!
میری عرض یہ ہے کہ بے شک آپ کی بات صحیح ہے کہ اسلم آزاد جیسے زندہ دل انسان سے ہمیں سبق سیکھنا چاہیے لیکن یہ بات آپ کی کہی پہلی بات کی ضد ہرگز نہیں ، انسان تسبیح اور مصلہ پکڑ کر اپنی عاقبت کا سامان بھی اکٹھا کرسکتا ہے، اپنے گناہوں کی معافیاں بھی مانگ سکتا ہے یا منگوا سکتا ہے اور اسلم آزاد جیسی سوچ ہمت اور زندگی گزارنے کا حوصلہ بھی رکھ سکتا ہے، بلکہ میری نظر میں دین انسان کو ترغیب ہی اس شے کی دیتا ہے کہ بڑی سے بڑی مصیبت میں بھی صبر اور ہمت سے کام لو اور مسلسل جدوجہد کو نہ چھوڑو ، حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت ایوب علیہ السلام تک اور پھر میدانِ کربلا میں امام حسین علیہ السلام کے عظیم ترین صبر و استقلال کی مثالوں تک، ساری تاریخ ِ اسلام سے ہمیں یہی سبق ملتا ہے۔
2- آپ نے فرمایا کہ ؛
اول: ہم لوگ دنیا کو ایک مسافر خانہ سمجھ کر، اپنی تمام تر غلاظتیں یہاں پھینکتے جاتے ہیں، یہ خیال تو کرتے ہی نہیں کہ اگلے مسافر ہماری اپنی اولاد ہی ہوگی! اور اس دائمی زندگی کا سامان کٹھے کرتے کرتے اس فانی دنیا کو تو بنادیا ہم نے ایک کچرا گھر!
دوم: زندگی سے متعلق ہمارا رویہ ایسا ہی ہے جیسے کانچ کی کھڑکی پر چپٹی مردہ مکھی پر نظر گاڑے ہم دور کے حسین مناظر تو دیکھ ہی نہیں پاتے، اور کہتے ہیں کہ دنیا گند کا ڈھیر! کبھی ہم نے مکھی سے نظر ہٹا کر دور کے مناظر کو تو دیکھنے کی کوشش ہی نہیں کی!
میری عرض ہے کہ یہ دنیا ہے ہی ایک مسافر خانہ کی مثال، یہ ہماری منزل نہیں یہاں سے ہم نے یہاں سے اپنی حقیقی منزل تک کے سفر کے لیے توشہ اور زادِ راہ حاصل کرکے ہر حال میں آگے بڑھ جانا ہے، لیکن اسے کچرا گھر کون بنا رہا ہے؟ یہاں اپنی غلاظتیں کون پھینک رہا ہے ؟ وہ جو کوئی بھی ہوں اسلام ہمیں ایسا کوئی سبق نہیں دیتا یعنی آپ کی کہی بات کے پہلے حصے کا تعلق اسلامی تعلیمات سے تو ہے، لیکن دوسرا حصہ لوگوں کی انفرادی غلط سوچ کا نتیجہ ہے۔ پھر یہ بات کہ ہم کھڑکی پر مکھی کو دیکھنے میں اس قدر محو ہیں کہ دور کے حسین مناظر کو نظر انداز کر دیتے ہیں، تو عرض ہے کہ بے شک کچھ لوگ ایسا کرتے یہوں گے مگر یہاں بھی اسلام کی تعلیمات سراسر مختلف ہیں، اسلام ہمیں زمان و مکان سے ماوراء دیکھنے کی تعلیم دیتا ہے ہمیں نہ صرف اپنے گھر بلکہ دیوار کے پار ہمسایہ کی خبر رکھنے کی تاکید کرتا ہے، اس ہمسائیگی کا دائرہ آج کے جدید مواصلاتی دور میں یہ صرف دیوار کے پار تک بلکہ برِ اعظموں کے پار تک وسیع ہو چکا ہے عملاً اس کی مثالیں بے شک گنتی کی چند ایک ہی ہوں مگر دین پر حقیقی عمل پیرا انسانوں کا تناسب ہمیشہ ہی ایسا رہا ہے، پھر اسلامی تعلیمات میں ہمیں آج اور اس وقت سے ہٹ کر ایک طرف تخلیقِ کائنات تو دوسری طرف روےِ محشر اور قیامت اور اس کے بعد کی تفصیلات بتائی جاتی ہیں، اس سے ثابت ہوا کہ جن معاشرتی یا انفرادی کمزوریوں کی آپ نے نشاندہی فرمائی ہے ان کا علاج یقینا ً دین اسلام ہی میں مضمر ہے
میری طرف سے ڈاکٹر اسلم آزاد کو سالگرہ کی بہت بہت مبارک
اللہ تعالیٰ ان کو صحتِ کاملہ و عاجلہ عطا فرمائے آمین
میں جب بھی زندگی کی رعنایئوں اور بے اعتنایئوں کے بارے میں سوچتی ھوں تومجھے بے اختیار فارسی کے چند اشعار کاترجمہ یاد آجاتا ھے ” دنیا ایک طور ھے جو ھزاروں موسی دیکھ چکا ھے ، دنیا ایک دیر ھے جو ھزاروں عیسیٰ دیکھ چکا ھے ، دنیا ایک قصر ھے جس میں ھزاروں قیصر رہ چکے ھیں ۔ دنیا ایک طاق ھے جو ھزاروں کسرٰی دیکھ چکا ھے ۔۔۔
یہ دنیا رنج و راحت کا غلط اندازہ کرتی ھے
خدا ھی خوب واقف ھے کہ کس پر کیا گزرتی ھے
پر جب بھی میں کسی کے صبر اور استقلال کی خبر سنتی ھوں تو ایک پل میں جیسے جی پڑتی ھوں ۔۔ واقعی ایسے لوگ بہت کم ھیں جو اپنے عزم اور حوصلے کو ھمیشہ رہ جانے والی روشنی کو زندگی کے طاق میں سجا دیتے ھیں ۔۔
مجھے یاد آیا ایک مببر پارلیمنٹ ایک دفعہ سڑک پر جھاڑو دے کر آگ سینکنے کے لیئے کوئلے اکھٹے کر رھا تھا۔ ایک شخص نے کہا جناب یہ کام آپ کی شان کے شایان نہیں ۔ اس نے اس شخص کو جواب میں کہا کہ جسے کوئلے اکٹھے کرنے میں شرم آتی ھے اسے آگ سینکنے سے بھی شرم آنی چاھیئے ۔”
ڈاکٹر اسلم آزاد جیسے لوگ زندگی بھر کوئلے ھی اکٹھے کرتے ھیں تاکہ ان کی دہکائی ھوئی لگن اور عزم کی آگ میں سب اپنے ٹھنڈے نڈھال ھمتوں کو سینک سکیں ۔۔۔
کامیاب اور ناکام اشخاص کے درمیان بس ایک ھی بات کا فرق ھوتا ھے اور وہ فرق کسی بھی پروجیکٹ پر ان کی کام کی مقدار سے نہیں لگایا جا سکتا ،بلکہ اس میں استعمال ھوئی ان کی فہم و فراست اور آھنی عزم سے لگایا جاتا ھے ۔جو انہیں ھر حال میں فاتح بنا دیتا ھے اور کامیابی کی یہ سیڑھیاں بغیر اٹل ارادوں کے حاصل نہیں ھو سکتی ۔
فویل سسٹن نے کہا تھا کہ “جس قدر میری عمر زیادہ ھوتی جاتی ھے۔ اسی قدر مجھے اس بات کا یقین ھوتا جاتا ھے کہ وہ بات جوکمزور کو طاقت ور سے اور ادنی کو اعلی سے ممیز کرتی ھے وہ صرف اس کا اٹل ارادہ ھے ۔۔
علمٍ طبیعات کے سائنسدان اسٹیفن ولیم ہاکنگ اور ڈاکٹر اسلم آزاد کا اپنی جسمانی معذوری کے باوجود تعمیری کاموں کوجاری رکھنے کا یہی “اٹل ارادہ” سب کو ایک خوبصورت سا پیغام دیتا ھے کہ ھر حال میں ( پھر بھی ) زندگی حسین ھے ” ۔۔
ڈاکٹر اسلم آزاد کو سالگرہ کی بہت بہت مبارک ھو ۔اللہ تعالیٰ ان کو صحتِ کاملہ عطا فرمائے ۔۔ آمین
ڈیئر فیاض!
اگر آپ یقین کریں تو میرے پاس الفاظ ہی نہیں کہ آ پ کو داد دے سکوں ، ان دردیلے انسانوں اور باہمت لوگوں کو بار بار تلاش کر کے آ پ عالمی اخبار کے بلاگ پہ لے آ رہے ہو ، یہ کمال ہے ۔
انسان ایسی حالت میں بھی جو ہمت نہ ہارے سمجھو کہ یہ بندے جیت گئے، اس عالم میں بھی اس انسان نے نہ علم کا علم چھوڑا اور نہ علمی کچہریاں، سچ میں کمال ہے، میرا اس بندے کو سلام ہے!
آ پ کو بھی سلام ہے جو معاشرے کے افراد کو یاد کر کے بہت اچھا کام کر رہے ہیں ، اسٹیفن ہاکنگ سے ڈاکٹر اسلم آزاد کی مماثلت بھی شاندار ہے۔
میری طرف سے ڈاکٹر اسلم آزاد کو Happy Birthday ضرور کہیے گا!
حسام میمن
17 آگست 2009
ذرہ میں نہاں صحرا قطرہ میں سمندر ہے
اک سانس میں بندہ کی تخلیق کا ساگر ہے
تسبیح کے دانوں میں تسکین ہے پوشیدا
تدبیر میں پوشیدا بندہ کا مقدّر ہے
یہ قطعہ میں نے اپنے مشاہدہ کی بنیا پر کہی تھی۔ نیوٹن نے سیب گرتے ہوئے دیکھا اور Gravity کی کائنات تخلیق کردی۔ آرکیمیڈیز نے حوض میں پانی کی قوتِ اچھا محسوس کی اور کثافت کی کاائنات تخلیق کردی جسکی جہاز رانی بھی مرہونِ منّت ہے۔ ڈاکٹر ہاکنگ اور ڈاکٹر اسلم بھی ایک سانس میں کیا سے کیا کرسکتے ہیں۔ دوسری طرف میں بڑے بڑے منکرِ خدا یعنی اییتھیسٹ سے جب بھی ملا ہوں اُن سے ایک سوال ضرور پوچھا ہے کہ جب اُنکا ہوائ جہاز Turbulence میں ہو تو وہ کیا کرتے ہیں۔ اُنکا جواب ہمیشہ یہی ملا کہ وہ اسوقت اپنی سلامتی کیلئے دعا مانگتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ حوصلہ، تدبیر اور تسبیح یہ سب لازم وملزوم ہیں اور ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہیں۔ ڈاکٹر ہاکنگ اور ڈاکٹر اسلم پر خدا کا یقینِ محکم ہے جس نے انکے مثبت رویہ کو جلا بخشی ہے۔
Dr aslam certainly deserve highest award of Pakistan. He is the person who is still fighting and enjoying life in every shape. I wish him happy birthday and pray to God for his recovery and long life. Thanks
بہت بہت شکریہ آپ سب کا جنہوں نے ڈاکٹر صاحب کے لیے اپنی نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
اور ساتھ میں محترم اعجاز علی صاحب کا حد سے زیادہ ممنون ہوں جنہوں نے میری ٹائیپنگ کی غلطی کو سدھارنے کا نوٹیس دیا۔
مجھ سے غلطی میں ایکسیڈینٹ کا برس 1991 کے بجائے 2001 ہو گیا تھا، جو کہ اب میں نے درست کرلیا ہے۔
شکریہ سائیں اعجاز علی صاحب۔
دعاگو
فیاض امر
کبھی کبھی زندگی ایسے ایسے کھیل کھیلتی ہے کہ انسان مایوس ہوجاتا ہے لیکن ایسی حالت میں زندگی کا سامنا کرنا اور امید پر قائم ر ہنا کمال حسن فن ہے- میں جب بھی ماما کے پاس جاتا ہوں کبھی بھی خالی ہاتھ واپس نہیں آتا میرے ساتھ کچھ کرنے کا جذبہ ہوتا۔ ا ور ماما کی کچھ ہدایات کے یہ کرو لیکن سے کیسے بتاؤں کے آپ کا ساتھ ہوتا تو سب کچھ ہوتا، لیکن کبھی کبھی دل میں یہ بھی حسرت اور دکھ کے کاش ماما اس حالت میں نا ہوتے اور وہ ھمارے ساتھ اور ہم اس سے کیا کچھ سیکھتے۔ ماما کا ساتھ ھی ھمارے لیے بڑا حوصلہ ہوتا پتا نہیں وہ کونسا منحوس وقت تھا۔ بس اس امید سے بھی کے اللہ کوئی تو راستہ نکالے گا اور ھر وقت یے ھی دعا کے ماما جلد صحتیاب ہونگے۔ پھر وہ ہی قہقہے فضا میں گونجیں گے.
Happy Birthday to dear Mama My best wishes prays always with You.
Regards: Munwer Ali Khowaja
Dear Fayaz Sahib
Thank you very much for writing an excellent article on Dr. Aslam Azad.
I have a very special relationship with Dr. Aslam Azad. I am his cousin and have an honour to teach him, subjects like Physics, Chemistry and Maths in Class X when he was a student in Government High School Jati in 1980. Since this time till today he calls me with the title of Sain (means Sir). In the year 1985, I completed B.E. from Mehran University and started to live with Dr. Aslam in a rented apartment. At that time he was a student of second year MBBS. In 1987, I left for England to do Masters and PhD and returned back to Pakistan in October 1991. Again Dr. Aslam was the first person from the immediate family to visit me and discuss about my PhD degree and about my life in England. He also shared with me that Sain you have completed PhD and I have completed MBBS and going to join house job in next few days. Just 2 days before his accident in December 1991, Dr. Aslam again visited me and informed me that he has completed first month of his house job and received the salary for the first month of his house job, so he is going to visit Sujawal and handover this money to his father and mother so that they feel happy and proud about me. Two days later I heard about his accident and could not believe that such a kind hearted person and a highly promising young man of our family and the nation can meet with such a disaterous outcome.
I know Dr. Aslam as a cousin, as a student, as a flat-mate, as a writer, as a journalist, as a volunteer, as a social worker, as a reformist, as a progressive student leader, as a politician and moreover as an excellent human being. I am very impressed from his sense of humour since my days as a teacher in Government High School Jati and even now, I enjoy talking to him from Canada.
Despite of his limitations and physical conditions, Dr. Aslam is as bold, courageous and determined as ever. Since his student life till today, he talks about life as a continuous struggle and meant for helping to others.
You have rightly said that Dr. Aslam is a symbol of hard work, courage and determination. I am really proud to be a cousin and a teacher of Dr. Aslam, who, to me is a Symbol of Life.
On the upcoming Birthday (31st August) I extend my heartiest felicitations and many many happy returns of the day to Dr. Aslam, all his family members and all his friends.
God Bless You Dr. Aslam.
From:
Dr. Mansoor Ali Khowaja
Brampton, Canada.
ڈاکٹر منصور علی بھائی ھم سب آپ کے بہت شکر گزار ھیں کہ اپنی بے انتہا مصروفیت کے باوجود آپ نے ھم سب سے اپنی یاداشتیں شیئر کیں ۔ ھم سب ڈاکٹر اسلم آزاد اور ان جیسے تمام حوصلہ مند لوگوں کے ممنون ھیں کہ ان کے دم سے ھماری ھمتوں کو نئی توانایئاں ملتی ھیں ۔
اور ھم سب فیاض بھائی کے بھی شکرگزار ھیں جنہوں نے ھم سب سے ڈاکٹر اسلم آزاد اور پھر آپ سے ملنے کاموقع فراہم کیا ۔۔ آپ کے مزید تعاون کا ھمیں انتظار رھے گا ۔۔
عالمی اخبار کی انتظامیہ اور اور عالمی اخبار کے قاریئن کی جانب سے ایک بار پھر آپ کے بہت سارے وقت کا بہت بہت شکریہ ۔
سلامت رھیں
ڈاکٹر اسلم آزاد میرا بھی دوست ہے. میں جب بھی ٹھٹہ جاتا ہوں تو اسلم سے ملنے کے سوا واپس نہیں ہوتا. اس سے مل کر ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ حوصلہ کیا ہوتا ہے. ڈاکٹر اسلم ایک بہادر انسان ہے جو انسانیت اور محبت کرنے والا مسیحا ہے. مجھے یہ فخر ہے کہ میں ان کے دوستوں میں شامل ہوں.
منظور اجن
آڈیٹر
سندھی ادبی سنگت سندھ
تمام مبصر خواتین و حضرات سے التماس کرتا ہوں کہ اس تیس اگست کو ڈاکٹر اسلم آزاد کو فون کال یا ایس ایم ایس کے ذریعے اپنی نیک خواہشات کا اظہار ضرور کیجیئے گا۔
میرا خیال ہے کہ کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا اگر ایسا آپ کرینگے، ہاں پر ایک پر عزم انسان کو اپنی زندگی کی یکسانیت میں کچھ خوبصورتی کا اضافہ ضرور ہوگا۔
یہ میری التماس ہے۔
فون نمبر نوٹ کر لیجیے:
2372038-332-92+
ملتمس
فیاض امر
Dear Fayaz,
Let me first thank to you and your team for this excellent effort to facilitate our beloved friend Dr. Azad in your Newspaper. I am sorry bit late to respond. Many friends have shared their views on his life but Azad is still more than those as many people still not aware about his way of handling / dealing the things with high class leadership qualities. I have got so many opportunities to be with him during student life and involved together in so many political and social activities and I always found him one of the very best role model of leadership qualities apart from those shared by our friends and I think that was the key which actually kept him at the highest level as compared to other ordinary people of his era. His leadership relationship inspires many people to become more than they might have been without the relationship. Look at him despite having miserable and handicapped physical life he didn’t make his thoughts and vision handicapped and even after 20 years of that tragic and unfortunate incident he is still stood like a Everest and a true character of Latif’s poetry of KHAHORRI. He is a role model of brave thoughts and symbol of continuous struggle. We all wish him well.
Dr. Aijaz Rahi
بہت بہت مہربانی ڈاکٹر اعجاز راہی صاحب!
خدا آپ کو سدا سلامت رکھے۔ آمین۔
بھائی میرے میں نے کچھ نہیں کیا، بس اپنے حصے کا کام کیا۔ میں نے وہ ہی کیا جو سچ ہے اور جو صحیح ہے۔ اس طرح پر عزم لوگوں کو ہمارے درمیاں ہونا چاہیے، تاکہ ہم تھکے ہوئے لوگ انہیں دیکھ کر زندگی کے متعلق اپنی گھسی پٹی آراء قائم کرکے ترک نہ کردیں۔
میں نے فیس بوک پر بھی ڈاکٹر اسلم آزاد صاحب کا صفحہ بنالیا ہے، جہاں میری کوشش ہے کہ ڈاکٹر آزاد کا بکھرا ہؤا جو بھی مواد ملتا جا رہا ہے اسے ایک جگہ اکٹھا کیا جائے۔ یہ میرا فرض ہے۔ آپ لوگوں کی مہربانی ہوگی اگر آپ نیچے درج کی ہوئی لنک پر جو بھی شیئر کریں کر سکتے ہیں۔
http://www.facebook.com/pages/Dr-Aslam-Azad/123545326570
میں سمجھتا ہوں کہ وطنٍ عزیز میں ایسے کافی زندہ دل لوگ ہونگے جن کے لیے ہم پڑھے لکھے لوگوں پر واجب ہے کہ انہیں لائونچنگ پیڈ فراہم کریں۔
یہ گذارش میری تمام بلاگ نگاروں اور مبصرین کے لیے بھی ہے۔ امید ہے کہ گراں نہیں گذرے گی۔
دعاگو
فیاض امر
It is very difficult to say few words about a person who is become the symbol of Patience, symbol of happiness and a real model a ethic for youth. He deserves our prayers not our desires. May Almighty create an idea for his choicest person to invent the cure of back bone. We are hopeful for such miracle in our lives.
Family members of Dr. Aslam Azad deserves our slute. Our prayers are for each and every one of them that may Almighty accept their “No stone unturned” services in their lives.
Happy Birth day to Dr.Aslam Azad
Dr. Aslam is the best friend in mylife, He loves me , he give me respect as other best friends, he is my relative. I know him from college life , when he was studing at LMC, he was the brilliant youngster, Social, religion was in his heart and with his life still and help his life for passing difficult days. He has good ideas, thoughts , suggestion every time in every field. People are understand that he is on bed but I am saying that they are wrong, because through his bed rest , he is working, serving through his excellent thoughts and ideas.He thinks best for his friends, relatives , Ismaili brothers and sisters all time, not only for those people but who are not members of our community. I my self and my family pray for my lovely friend that Allah give him Health , Power in his body for service of those people who are not healthy, not well to do.
I am very glade to see your efferts to appreciate my beloved uncle Dr. Aslam
Azad. He is truly a role modle for us. I remember in my childhood, whenever
I wished to have anything, Chacha Aslam was in front to fulfil that.
We being his family members would have been much depressed after his accident
but it was his courage & motivation which helped us to face all changes & difficulties.
In our family & in village if anyone have any problem concerning health or anyother
matter he is the first person who advised always been seeked.
He is the Inspiration & motivational force, which lead me to be a doctor. He helped me
throught my studies. I always look forward to him for advices & suggestion.
I always believe that everyone has to play his role in this world & it dependson
us how we do so.And I feel chacha Aslam is playing his role courageously & honourably.
He never projected himself as a handicapped.His physcial disability was never
able to break his sprit. I am very proud of him. He is a obedient son, best brother,
very good doctor, wonderful writer, good poet, devoted friend & very excellent
human being. He is symbol of dignity & pride.
I wish him very happy birthday.
I pray to Almighty Allah that my dream of watching chacha Aslam standing on his
own feet come true. (Ameen)
Dear Faraz
First of all I should applause the efforts put by you and your team regarding the blog and facebook on behalf of Dr Aslam`s family members . We all so called `normal individuals` while dealing with usual matters of life ”Complain” , complain about our life , our luck , our fate but whenever i see Chacha Aslam i realize the way to live a life , a life which not only is meaningful to your family members but also to every person you meet . I guarantee you that whenever you meet Chacha Aslam , he will meet you with a big smile on his face which will not only force to treat him as a healthy individual but will also force you to forget your all sorrows.
Aslam`s entire life is a story of continuous struggle and every moment of his life motivates you.
And I take the opportunity of this forum to applause an individual who is with Dr Aslam during every moment of his life is his Sister MeherBano she had devoted her life for her brother.
I hope to see one day Chacha Aslam standing in his feet (ameen)
UMAIR NATHANI
(nephew of Dr Aslam)
My father always appreciates the struggle of Nelson Mandela, who went to jail when my father was born and released from jail when my father completed his PhD. Same way I appreciate the unwavering courage of my beloved uncle Dr. Aslam who met with this tragic accident when I was only 9 months old and now I am a university student and feel highly proud that Uncle is still as courageous and strong as a mountain. My father also shared with me that just 2 days before his accident uncle Dr. Aslam visited our home in Hyderabad and specially came to me and tried to make me laugh. At that moment I had a big laughter which he enjoyed very much. Presently I live in Canada and when I visited uncle Dr. Aslam in 2005, I was deeply surprised when uncle told me about that laughter and asked me to do the same laughter again. This shows how uncle Dr. Aslam loves children and how sharp his memory power is.
Since, I now live in Canada and can not attend his upcoming birthday, I wish uncle Dr. Aslam a very happy and memorable birthday. I also pray that may Almighty Allah bless him with good health and provide him an opportunity to live a normal life again, Inshallah (Ameen).
Mustansir Khowaja
Brampton Canada
دوستو یاعلی مدد
پیارے ساتھیو، ڈاکٹر اسلم ساں سندس برتھ ڈے جے موقعے تے دلی وادھایوں. ڈاکٹر اسلم گوٹھ ویندے ہیلو ہیلو تھیندو رہندو آھے پر ایترو ٹائیم نہ ڈئی سگھیو آھیاں جیترو ڈین گھرجے.
پارڈہ سمیت دوستن کھے اھو عزم ورجائن گھرجے تہ ڈاکٹر اسلم کھے آئندہ ٹائیم ڈنو ویندو
ڈاکٹر شیر علی
(اب اس کا اردو ترجمہ)
دوستو یاعلی مدد
پیارے ساتھیو، ڈاکٹر اسلم کی برتھ ڈے پر اس کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد دیتا ہوں. میں ڈاکٹر اسلم سے اپنے گاؤں جاتے ہیلو ہیلو تو ہوتی رہتی ہے، لیکن سچ تو یہ ہے اس کو اتنا وقت نہیں دے پاتا جتنا مجھے دینا چاہیے. ہم سب دوستوں کو آج یہ وعدہ کرنا ہوگا (جو کہ اس کے قرب و جوار میں رہتے ہیں) کہ آئندہ اسے اپنا وقت دینگے ضرور.
ڈاکٹر شیر علی
(ایڈٹ: امر)
فیاض بھائی آپ سے شائد اسلم آزاد صاحب کا فون نمبر غلط لکھا گیا ھے ۔ میں تیس تاریخ سے لے کر آج کے دن تک کوشش کر رھی ھوں کہ ان سے بات ھو سکے اور انہیںان کی سالگرہ کی مبارکباد عالمی اخبار کی طرف سے دے سکوں لیکن کوئی کامیابی نہیں ھو سکی ھے ۔ ھو سکے تو صحیح نمبر لکھ دیجیئے ۔ شکریہ
ڈاکٹر نگہت نسیم بہن السلام علیکم۔
خدا آپکو سدا سلامت و تابندہ رکھے۔ آمین
میری بہن، نمبر بالکل یہی ہے۔ بہت بہت مہربانی، آپکی کہ آپ نے یاد فرمایا۔
ویسے عالمی اخبار کے توسط سے اس دن اپنی اور عالمی اخبار کی جانب سے ڈاکٹر صاحب کو نیک تمناؤں کے ساتھ دلی مبارکبادیں دی تھی۔ پھر بھی اگر آپ چاہیں تو نمبر یہی ہے، آپ بات کر سکتی ہیں۔
لاکھ لاکھ دعائوں کے ساتھ
دعاگو
فیاض امر
شکریہ فیاض بھائی ۔۔ بس ڈاکٹر صاحب تک عالمی اخبار کی طرف سے نیک تمنایئں پہنچانی تھیں وہ آپ نے بر وقت پہنچا دیں ۔۔ اس بات کے لیئیے بہت بہت شکریہ ۔
Dear Fayaz
Your efforts are highly appreciable regarding the facebook of Dr. Aslam Khuwaja. Nodoubt he deserves but the way you have expressed him is wonderful specially his comparison with Stephon Hawking. Though I was comparing him with the inspiring character of a famous Russian novel titled Charagh Jalta Raha in Urdu and Dongara Manjh Diyo in Sindhi.He is source of inspiration to all of us. In such circumstances one can be an easy pray of negative thoughts, frustration and depression but it is inspiring that he has not only kept himself updated with the current political scenario and is a rugular reader of books and maintaining an efficient networking with the friends and social workers and increasing it day by day But he is working as a bridge between the people of different ideologies and political groups. He on his birthdays, provide platform to all such people to sit togather and think for the cause of Sindh unitely.
I wish him health and wish his family members specially his devoted sister more and more courage.
In the last I am expecting that using IT like tape recorder, he will writedown his autobiography
Continue reading