السلام علیکم
تمام اہلِ وطن کو میری جانب سے یومِ آزادی مبارک
اللہ سے دُعا ہے کہ وہ ہم سب کی کمزوریاں دور کرے اور ہمیں یکسو ہونے کی توفیق دے
میں اپنے اردگرد دیکھتی ہوں تو اکثر ہم وطن معاشرے کی خرابیوں کا شکوہ کرتے دکھائی دیتے ہیں لیکن ان خرابیوں کے خلاف آواز نہیں اُٹھاتے متحد نہیں ہوتے۔ شہر کے مختلف بازاروں میں اشیائے ضروریہ کی مختلف قیمتیں وصول کی جاتی ہیں۔ لیکن ہم بازار جاتے ہیں تو منہ مانگے دام دے کر چیز خرید لیتے ہیں احتجاج نہیں کرتے ناجائز منافع خوری کی راہ بند نہیں کرتے۔ بلکہ دیکھا جائے تو ہم خود ناجائز منافع خوروں کی معاونت کرتے ہیں۔
کسی سرکاری دفتر کا رُخ کیجیے جائز کام کے لیے یا تو آپ کو مہینوں چکر لگوائے جائیں گے یا رشوت کی امید کی جائے گی یا سفارش کی ضرورت پیش آئے گی۔ عام آدمی اپنی سہولت کے مطا بق اور اپنی جیب کے مطابق رشوت دے کر اپنا کام کروا لیتا ہے اور پھر شور بھی مچاتا ہے کہ کرپشن بہت ہے۔ کرپشن کا راستہ روکنے ے لیے کوئی اپنا وقت ضائع نہیں کرتا ۔ تو کیا وہ عام آدمی بھی شریکِ جرم نہیں۔
ہم اکثر اپنے ارد گرد بارسوخ افراد کو زیادتی کرتے دیکھتے ہیں۔ لیکن مظلوم کے ساتھ کھڑے نہیں ہوتے۔ ہم ایمان کے سب سے نچلے درجے پر فائز رہنا پسند کرتے ہیں۔ برائی کی راہ روکنا تو دور برائی کو برائی بھی نہیں کہتے ۔ کیا ہم ایسے کمزور ایمان رکھنے والے یہ توقع کر سکتے ہیں کہ کل کو جب ہمارے ساتھ زیادتی ہوگی تو ہمارے ساتھ کوئی کھڑا ہو گا۔ کیا ہم تنہا نہیں ہونگے۔ ہم میں سے کوئی ایک اگر برائی کے خلاف کھڑا ہو جاتا ہے تو ہم اُسے پیچھے ہٹنے کا مشورہ دیتے ہیں یہ بتاتے ہیں کہ مقابل طاقتور ہے ، اپنی جان اور عزت بچاؤ۔ ہمارے معاشرے میں جس کی لاٹھی اُس کی بھینس کا قانون کسی اور نے نہیں ہم ایسے کمزور افراد نے ہی نافذ کیا ہے۔
عدلیہ کی بحالی کی تحریک سے ایک اُمید جاگی تھی کہ شاید ہم نے اپنی مجرمانہ خاموشی توڑ دی ہے۔ اب ہم مشرف کو کٹہرے میں لانا چاہتے ہیں۔ این آرو کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ ظلم اور زیادتی کی راہ روکنا چاہتے ہیں۔ لیکن کیا ہم خود بھی بدلنا چاہتے ہیں؟؟؟
والسلام
زرقا

زرقا بہن اسلام علیکم
آپکی حوصلہ افزائی کا شکریہ پہلی بات تو یہ ہے کہ میں بلاگ شروع کرنے کا مجاز نہیں ہوں اور پھر میرے تیرے کا کیا سوال ہے آپ شروع کیجئے ہم تو پیچھے اس امام کے۔ تو پھر بس طے ہوگیا ladies first آپ یوں بھی اس کام میں ماہر ہیں ایک وہ ہیں جنہیں تصویر بنا آتی ہے۔ ایک ہم ہیں کہ لیا اپنی بھی صورت کو بگاڑ۔
ہاں یہ بات اچھی ہے کہ کسی شخص کی طرف اشارہ کر کے اس کی خامی کی نشان دہی نہ کی جائے مقصد سیکھنا ہے نہ ہی کسی کی تضحیک۔اور سیکھنے میں کسی عمر کی قید تو ہے نہیں ۔ یہ تو گہوارے سے گور تک کا کام ہے ۔تو بس باتیں کم اور کام شروع۔ کی بورڈ پر انگلی رکھیں اور بسم اللہ۔ نیا بلاگ شروع کیجئے ۔ ہم اپنی اس چھوٹی سی محفل میں آپ کو مصلح مان کر آپ کا اتباع کریں گے۔ بس باتیں ختم اور کام شروع۔ آپ سب کی محبتوں کا امین
قاضی صاحب اسلام علیکم
ابھی چند سطور لکھیں تو اتنی دیر میں آپ کا نیا تبصرہ آگیا جو میرے لکھنے سے پہلے نہیں تھا لیجئے بسم اللہ ہو گئی پہلے تو قاضی شہر (محفل) سےمعافی چاہوں گا بھئی قاضی کا کیا ہے حکمٍ گردن زدنی بھی ہو سکتا ہے قاضی صاحب لیجئے گھر سے ہی شروع کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ میں جانتا ہوں کہ آپ کا تعلق حیدرآباد سے ہے اور آپ تھوڑا مختلف بولتے ہیں مگر اوپر کی تحریر میں جو آپ نے لکھا ہے وہ آپ بول تو سکتے ہیں لکھ نہیں سکتے۔ بات لکھنے سے پہلے ایک بار پھر اپنی گردن ٹٹول کر دیکھ لوں موجود ہے کہ نہیں مجھے گردن اچھی لگتی ہے ٹائی باندھنے کے کام آتی ہے تو حضرت یہ( میں امین صاحب سے سیکھا ہوں) نہیں چلے گا میں نے سیکھا ہے بس یہ کہہ کے میں تو بھاگا۔پھر آؤں گا اگر سر گردن پر ہوا تو۔ قاضی صاحب بخش دو گر خطا کرے کوئی ۔۔۔آپکا اور صرف آپکا امین
امین ترمذی صاحب دور سے میری زبان کی تصحیح کرکے بھھاگیئے نہیں۔ مجھے اس کا احسا س ہے کہ میں اپنی اورنگ آبادی اردو کو بھی صحیح طور پر نہیں لکھ سکتا ۔ اسی لیے تو میں آپ کے ارشادات کے لیے ایک الگ بلاگ کے شروع کرنے کی تجویز پیش کرچکا ہوں ۔ اس بلاگ کو آپ کھولنے کے مجاز نہیں ہیں تو کیا فرق پڑتا ہے ، محترمہ زرقا مفتی صاحبہ نے اپنا منشا ظاہر کردیا ہے کہ وہ صرف “اردو روزمرہ ” کے عنوان سے ایک بلاگ شروع کرسکتی ہیں۔
تو پھر بسم اللہ مگر میں آپ کو آپ ہی کی یہ بات یا د دلانا چاہتا ہوں جو آپ نے اپنے حالیہ تبصرے میں لکھی ہے :
” ہاں یہ بات اچھی ہے کہ کسی شخص کی طرف اشارہ کر کے اس کی خامی کی نشان دہی نہ کی جائے مقصد سیکھنا ہے نہ ہی کسی کی تضحیک۔اور سیکھنے میں کسی عمر کی قید تو ہے نہیں ۔ یہ تو گہوارے سے گور تک کا کام ہے ”
مگر آ پ نے تو میری ہی طرف اشارہ کرکے میری ہی اردو کی خامی کی نشا ند ہی کرکے میری تضحیک اس بلاگ میں کردی ہے !!!!
میں تو آپ کو اس قسم کی سیاست سے بالاتر سمجھتا رہا ہوں اور آپ ہیں کہ اپنی گردن کو بچاتے ہوئے دوسرے پر اتنی سادگی اور پرکاری سے کیچڑ اچھال کر بھاگ رہے ہیں ۔
شاید سعدی نے ہی کہا ہے کہ : چوں ہمیں مکتب و ہمیں ملا ۔ کارِ طفلا ں تمام خواہد شد”
اب آپ دوسروں کی زبان کی اصلاح اسی طرح تضحیک کرتےہوئے کرینگے تو پھر تو آپ سب کی محبتوں کے امین ہونےکا غلط دعویٰ نہیں کرسکتے ۔
مجھے اعتراف ہے کہ میری اورنگ آبا د دکن کی اردو سراج اور ولی اورنگ آبادی کی اردو کی طرح ہے جس میں دہلی اور لکھنو اور لاہور اور کراچی جیسی بات نہیں مگر مجھے خوشی ہے کہ میرا ظاہر اور باطن ایک ہے ۔ مجھ سے اردو لکھنے اور بولنے میں ضرور غلطیاں ہوتی ہیں جن پر میں شرمندہ ضرور ہوں لیکن جتنے بلا گ میں نے اس عالمی اخبار میں لکھے ہیں وہ میرے مافی الضمیر کے اظہار کا نتیجہ ہیں۔
مجھےاس بات کو محسوس کرکے خوشی ہوتی ہے کہ میرے بلاگوں اور تبصروں کو پڑھنے والے میرے الفاظ کو تولا نہیں کرتے بلکہ میری الفاظ کے روح اورانکے معانی کو سمجھتے ہیں ۔اور ” غواص کو مطلب ہے صدف سے کہ گہر سے ” کے اصو ل پر نظر عمل کرتے ہیں ۔
میں یہ تبصرہ اقبال کے اس فتوٰی کے (نہ کہ منظور قاضی کے فتوے کے ) مطابق لکھرہا ہوں
” تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے
ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگ ِ مفاجات ”
امید کہ آپ اس معاملہ میں احتیاط سےکام لیتے رہینگے۔
” شاید کہ اتر جائے آپ کے دل میں مری بات ”
فقط :
خیر اندیش ؛
منظور قاضی از جرمنی
قاضی صاحب اسلام علیکم کے فوراً بعد معافی کا خواستگا ر ہوں آپ سے میری کم از کم دس مرتبہ ٹیلیفوں پر با ت ہوئی ہے ملاقات ہوئی ہے اور میں نہیں تو آپ مجھے بیس سال سے جانتے ہیں گو آپ سے عمر میں کوئی پندرہ برس چھوٹا ہوں گا لیکن ان پرانے تعلقات کے بل بوتے پر میں نے محض مذاقاًً ایسا کیا مگر آپ کافی حساس طبیعت نکلے میں نے تو اس کے ساتھ ساتھ گردن زدنی والی تمام باتیں اب میں کیا کہوں صرف یہ یہ کہوں گا کہ اگر آپ نے اسے تضحیک کے انداز میں دیکھا ہے تو میں تمام احباب عالمی اخبار کے سامنے دست بستہ معافی کا خواستگار ہوں مگر یہ ضرور کہوں گا کہ یہ میرا زعم تھا کہ آپ ۔خیر مزید صفائی نہ معلوم کس نظر سے دیکھی جائے ایک بار پھر معافی چاہتے ہوئے آئندہ انتہائی احتیاط کا وعدہ کرتا ہوں امید ہےمیرے یہ ٹوٹے پھوٹے الفاظ آپ کی بارگاہ میں قبولیت کا درجہ پاکر مجھے طمانیت بخشیںگے اور کیا لکھوں اسے ہی بہت سمجھئے آئندہ بے حد بے بحد محتاط رہنے کا وعدہ۔ میں خود بھی عمر کے اس حصے میں ہوں کہ آپ سے اگر یاری نہیں تو بے تکلفی تو ہو سکتی ہے مگر مجھے اپنے اس خیالٍ خام پر ندامت ہے آپ اگر مجھے دیکھ سکتے ہوتے تو مرغا بن کے دکھا دیتا۔
امین ترمذی صاحب :
یہ رمضان کا مقدس مہینہ ہے اس کے فوری بعد عید بھی آنے والی ہے جس پر لوگ ایک دوسرے سے گلے مل کر کسی کا یہ شعر کہتے ہیں:
” عید کا دن ہے گلے آج تو ملیے صاحب
رسمِ دنیا بھی ہے ، موقعہ بھی ہے ، دستور بھی ہے ”
میں عید کا انتظار کیے بغیر آج ہی یہ شعر دہرا کر آپ سے گلےملنا چاہتاہوں۔ گر قبول افتد ، زہے عز و شرف
۔۔۔
میں آپ سے معافی چاہتا ہوں کہ میں نے اپنے ردِ عمل سے آپ کا دل دکھایا۔
میں آپ کی مقناطیسی شخصیت کا اس وقت سے دلدادہ ہوں ( چاہے آپ مانیں نہ مانیں ) جب سے میں نے پچیس سال پہلے صرف ہیوسٹن ( ٹیکسس ) میں عبدالحلیم صاحب اور ظفر تقوی صاحب کی محفل میں پہلی بار دیکھا تھا اور آپ کی اردو زبان سے دلی محبت کو محسوس کیا تھا۔
۔۔
میں اسکے بعد تین سال قبل ڈلس میں مل کر آپ سے میری بے لوث عقیدت کا اظہار کر چکا ہوں۔
میرے دل میں ابھی تک آ پ کی بے انتہا عزت اور توقیر ہے ۔ مجھے اس بات کا احسا س ہے کہ ہم سب اپنی زندگی کے اس دور میں بہت ساری دل شکن باتوں سے بالا تر ہیں اور اب ہم سب کو اپنی آخرت ا و ر عاقبت کی فکر ہے ۔ بقول غالب : رو میںہے رخشِ عمر، کہاں دیکھئے تھمے ۔ نئے باگ ہاتھ میں ہے ، نہ پاہے رکاب میں ۔
آپ کے حالیہ فراخ دلانہ تبصرے نے میرے دل میں آپ کی عزت اور بھی بڑ ھا دی ہے۔
شاید آپ جانتے ہیں میں تیس چالیس سال سے اردو کی بجائے انگریز ی کو ہی اپنی روزی روزگا ر کے لیے استعمال کرتا رہا ہوں۔۔ پہلی بات یہ ہے کہ میری حیدر آبادی ( اورنگ آبادی ) اردو ویسے بھی کمزور تھی مگر ایک طویل عرصہ تک اردو کی دنیا سے دوری نے اس کو اور بھی کمزور کردیا ۔
خدا بھلا کرے صفدر ھمدانی صاحب کا اور ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ کا کہ انہوں نے مجھے میری گوشہ نشینی اور قلندرانہ زندگی سے نکال کر ااردو میں کچھ لکھنے کا موقع عطا کیا۔ ( اگر وہ یہ نیک کام نہ کرتے تو میں اس قدر ٹوٹی پھوٹی اردو بھی لکھنےکے قابل نہیں تھا )
میں آپ سے یہ گذارش کرونگا کہ آپ میری اردو زبان کی کوتاہیوں کی ضرور اصلا ح کرتے رہیں ۔ (اگر میرا نام لیے بغیر یہ نیک کام کریں تو جزا ک اللہ مگر نام لے کر بھی یہ نیک کام کریں تو سبحان اللہ : میں جان گیا ہوں کہ آپ کی نیت نیک ہے ) ۔
شکریہ ۔ صد ہزار شکریہ
خیر اندیش :
منظور قاضی از جرمنی
قاضی صاحب اسلام علیکم
پہلے تو آپ کی عنایت کا شکریہ کہ آپ نے میرا معافی نامہ قبول کیا اس کے بعد یہ کہنا چاہوں گا کہ یہ اورنگ آبادی اردو ۔یہ کراچوی ۔اردو یہ سندھی اردو ۔یہ لاہوری اردو اور یہ پشاوری اردو کی کہانی چلتی رہی تو ہم کبھی اپنی اردو کی اصلاح نہیں کر پائیں گے اور اکثر لوگ غلط زبان بولنے پر یہ جواب دیتے ہیں کہ بھئی آپ سمجھ تو گئے میں جو کچھ کہہ رہا تھا ۔یہ بات اپنی بات منوانے والی ہے غلطی کو درست کرنے والی نہیں ہے بات تو اگر آپ اشارے سے کرتے تو بھی ہم سمجھ لیتے مگر آپ کسی زبان میں بات کررہے ہیں خواہ وہ کوئی بھی زبان ہو اس کے درست الفاظ کا اس کی قواعد کا خیال لازمی ہے یہ کہنا کی آپ بات سمجھ تو گئے نا بس۔یہ قطعاً
غلط ہے مثلاً غواص کو مطلب ہے صدف کہ گہر سے۔ ان میں خیالات میں تو ہم اصلاح اردو کا بلاگ کبھی شروع نہیں کر سکتے۔
اس کے بعد عرض کرونگا کہ آپ ایک بار میری تحریر کو جسے آپ نے تضحیک سمجھا پھر پڑھئے اس میں اپ کو تضحیک سے کہیں زیادہ تفریح کا سامان ملے گا اور تضحیک کرنے والا اس طرح نہیں لکھتا کہ تحریر کا آغاز و اختتام معافی پر ہو شروع سے آخیر تک کے دو جملے پڑھئے “پہلے تو قاضی شہر سے معافی چاہون گا”
اختتام ” قاضی صاحب بخش دو گر خطا کرے کوئی” اسکے بعد اگلے تمام جملوں میں آپ کو تفرح طبع کے خوبصورت جملے میں گے
قاضی کا کیا ہے حکم گردن زدنی بھی ہو سکتا ہے ( مزاح (
قاضی صاحب لیجئے گھر سے یہ شروع کرتے ہیں ( اپنائیت (
بات کرنے سے پہلے گردن ٹٹول کر دیکھ لوں موجود ہے کہ نہیں ( مزاح (
مجھے گردن اچھی لگتی ہے ٹائی باندھنے کے کام آتی ہے (مزاح (
یہ کہہ کر میں تو بھاگا پھر آؤنگا اگر سر گردن پر رہا تو ( مزاح (
آپ نے مجھے محبتوں کے امین لکھنے کر دعوی کو غلط بتایا اس لئے میں نے اپنے معافی نامے میں وہ بھی نہیں لکھا۔ اب ایسا نہ ہو کہ پھر ایک معافی نامہ لکھنا پڑے اور میرے معافی نامے کو بھی دیکھ لیجئے گا کہ میں نے کتنی فراخ دلی سے معافی چاہی ہے اور اپنی نا کردہ خطا پر مرغا بننےکو بھی تیار ہو گیا۔ آپ کو رمضان کی دلی مبارکباد کے ساتھ دعا ہے کہ اللہ آپ کر بہت سے صحتمند و خوش آئند رمضان دیکھنا نصیب کرے آمین ثم آمین۔مجھے دعاؤں میں یاد رکھئے
اے مسلمانو مبارک ہو نوید ِ فتح یا ب
لو وہ نازل ہورہی ہے چرخ سے ام الکتاب
( جوش )
رمضان مبارک:
میرا ارادہ ہے کہ جوش کے اس شعر ( عنوان ) سے ایک بلاگ شروع کروں ، جس میں شعرائے کرام کی کہی ہوئی نعتیں شامل ہونگی ۔ انشا اللہ
فقط:
منظور قاضی از جرمنی
میں نعت پر بلاگ شروع کرتے وقت یہ اعلان کرنا چاہتا ہوں کہ نعتوں کے مشکل الفاظ اور اصطلاحات اور تلمیحات اور استعارات کی تشریح امین ترمذی صاحب یا تلمیذ فاطمہ صاحبہ یا زرقا مفتی صاحبہ کرینگے۔
اس قسم کی تشریحا ت کے فوائد میں سے ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اردو زبان کے سیکھنے سکھانے میں آسانی ہوگی۔
اس سلسلہ میں مندرجہ بالا دانشوروں کے مثبت یا منفی جوابات کو انتظار ہے۔
فقط :
علم کا طالب
منظور قاضی از جرمنی
جوابات کو کی بجائے جوابات کے : پڑھیے ۔ شکریہ
افسو س کہ میری کمپوزنگ کچھ یوں ہے جس کو میںشعر کی زبانی عرض کرتا ہوں:
رحمت لکھا تو رے پہ بھی نقطہ لگا دیا
رحمت کو ایک نقطہ سے زحمت بنا دیا
بہر حال :
منظور قا ضی از جرمنی
جشن آزادی پر میرے خیالات اور جذبات آپ نے میرے کالم میں ملاحظہ فرما لیے ہوں گے لیکن جانے کیوں ہر جشن آزادی پر مجھے شہزاد قمر کا یہ شہر یاد آتا ہے کہ
سفر میں ہیں تو لگتا ہے سفر میں کچھ نہیں رکھا
کبھی یہ کہہ کے نکلے تھے کہ گھر میں کچھ نہیں رکھا