بچپن کی ایک نظم

جب میں بہت چھوٹا تھا تو مجھے یاد ہے ابو کو فیض کی شاعری پسند ہونے کی وجہ سے گھر میں فیض صاحب کی بہت سی کتب ہوا کرتی تھیں۔ ان کے پیچھے تصویر کو ماں بتاتی ہیں کہ میں بابا کہا کرتا تھا۔ مجھے پڑھنا نہیں آتا تھا مگر میں مصرعوں کی سطروں پر انگلیاں پھیرا کرتا تھا۔
ماں اکثر مجھے مصرعے پڑھایا کرتی تھیں۔ مجھے شعر تو سمجھ نہیں آتے تھے مگر Continue reading بچپن کی ایک نظم

نگہت آپا حسب وعدہ غزل نذر کر رہا ہوں

زیاں سے چل پڑا تھا میں، نکل گیا تھا سود تک
مجھے بقا نہیں ملی نہیں ملی نمود تک

ہوائے شب گزیدگاں، کبھی یہاں کبھی کہاں
بھٹک رہی ہے شہر میں نجانے کن حدود تک Continue reading نگہت آپا حسب وعدہ غزل نذر کر رہا ہوں

نظم۔۔۔۔ ہندو لہو مسلم لہو۔۔۔۔۔، آپا نگہت آپ کے حکم کی تعمیل میں

چلو کہ ہم تم لہو بدل لیں،،
لہو کے سارے نصاب بدلیں،، حساب بدلیں،، کتاب بدلیں
چلو کہ ہم تم لہو بدل لیں
ہم آب زم زم یا گنگا چل سے بھی صدیاں پہلے
خیال کن کی Continue reading نظم۔۔۔۔ ہندو لہو مسلم لہو۔۔۔۔۔، آپا نگہت آپ کے حکم کی تعمیل میں