چلو کہ ہم تم لہو بدل لیں،،
لہو کے سارے نصاب بدلیں،، حساب بدلیں،، کتاب بدلیں
چلو کہ ہم تم لہو بدل لیں
ہم آب زم زم یا گنگا چل سے بھی صدیاں پہلے
خیال کن کی رہین منت،، زمیں پہ بھیجے گئے تھے اور پھر
نجانے یہ کیا ہوا کہ ہم نے،، بدن کے ٹانکے ادھیڑ ڈالے
وجود حصوں میں بانٹ ڈالا
بساط خانوں میں توڑ ڈالی
وہ تیرا خانہ ،، یہ میرا خانہ
وہ اک بدن جو خیال کن کی رہینِ منت جنا گیا تھا
وہ اک بدن جو کہ پہلے ہم تھا
وہ اب کے میں اور تم بچا ہے
اے جان جاناں تمہی بتاؤ
ہمیں یہ تسلیم کس لئے ہے،، وجود حصوں میں کیوں بٹا ہے،، یہ ساری تقسیم کس لئے ہے
یہ سارے موسم کی سرخیوں میں
لہو کی بوندوں کی باس کیوں ہے
فضا یہ ساری اداس کیوں ہوں ہے
یہ راستہ بدحواس کیوں ہے
یہ ایشور اور خدا کی خود ساختہ سی جنگ ستم گری میں
لہو ہمارا جو بہہ رہا ہے
تو خوں چکیدہ یہ سارا موسم ،،سنو کہ کیا ہم سے کہہ رہا ہے
چلو کہ سرگوشیوں کی دھن میں
ہم اپنے گیتوں کا تو بدل لیں
چلو کہ ہم تم لہو بدل لیں
چلو کہ ہم تم لہو بدل لیں

عاطف توقیر۔ اہل ادب اور ادب کی توقیر بھی اسی میں ہے کہ سیاست کے نام پر ہونے والی انسانوں کی تذ لیل کو طشت از بام کیا جائے۔ بہت عرصہ پہلے ہم نے ریڈیو سے ایک دستاویزی پروگرام کیا تھا” ہندو پانی۔۔مسلم پانی” اسکا مرکزی خیال بھی یہی تھا۔ لہو تو زندگی کا سب سے مضبوط استعارہ ہے اور اسی لہو کا قتل کر کےہم نہ جانے کسی نئی زندگی کی بات کر رہے ہوتے ہیں۔یہ سیاست کی دنیا قصابوں کی دنیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنکا وطیرہ ہے”حیسن سے بھی محبت۔۔یزید کو بھی سلام
عاطف بہت شکریہ اتنی خوبصورت نظم عطا کرنے کا ۔۔ خون کو جس استعارے میں آپ نے لکھا ھے وہی حسب حال ھے
لہو کے سارے نصاب بدلیں،، حساب بدلیں،، کتاب بدلیں ۔۔ واقعی وقت آگیا ھے کہ ھم سب مل کر کچھ تو بدلیں ۔