گلاب جیسا ہونا ۔۔۔ مقصد حیات ہے ۔۔!

ایک دفعہ معروف مصور پکاسو سے کوئی شخص بہت دورسے ملنے آیا ۔ پکاسو اس وقت کوئی تصویر پینٹ‌کرنے میں مصروف تھے ۔ ان صاحب نے مناسب نا سمجھا کہ ان کے تخیل میں مخل ہوں۔ اور پکاسو دو گھنٹے تک بے خبر پینٹنگ کرتے رہے ۔ جب اپنے کام سے فارغ ہوئے تو ان صاحب کی طرف متوجہ ہوئے ۔
ان صاحب نے بے اختیار پکاسو سے پوچھا “‌ آپ کی پینٹنگ کرتے رہنے کا مقصد کیا ہے ۔۔؟‌ “‌ ۔
پکاسو ہنس پڑے اور کہا “‌ میں سمجھ رہا تھا کہ تمہیں اب تک پتہ چل گیا ہو گا کہ تمہارا یوں پینٹنگ دیکھتے رہنے کا مقصد کیا ہے ۔۔؟‌ “‌
اس کے بعد پکاسو نے ایک بہت ہی خوبصورت بات کہی ۔۔
“کیا کسی نے آج تک گلاب سے پوچھا کہ تم ہواؤں ، بارشوں اور تپش میں کیوں جھومتے رہتے ہو “‌
گلاب اس لیئے جھومتا ہے کہ وہ ہرحال میں خوش ہے اور ہر پل اپنی خوشی میں مگن ہے ۔ ۔۔ میں بھی پینٹنگ کر کے خوش ہوتا ہوں اور اپنی خوشی میں مگن رہتا ہوں ۔
کیا کسی صحت مند انسان نے ڈاکٹر سے پوچھا کہ میں صحت مند کیوں ہوں ۔۔؟
صرف بیمار پوچھتے ہیں کہ میں بیمار کیوں ہوں ؟

خوش رہنا۔۔ خوشی کو محسوس کرنا ۔۔ مگن رہنا ۔۔۔۔۔۔ فطرتی ہے ۔

گلاب جیسا ہونا ۔۔۔ مقصد حیات ہے ۔۔!

ڈاکٹر نگہت نسیم

ماہ صیام کی مبارک ساعتیں نیکیوں کا موسم بہار ہیں

ماہ صیام کی مبارک ساعتیں نیکیوں کا موسم بہار ہیں

معزز قاریئن دنیا کے کئی ملکوں میں روزوں ترتیب الگ الگ ہو گی ۔ میری عاجزانہ سی کوشش ہے کہ رمضان المبارک کے دنوں میں ہر روز ایک نئی دعا کا خزانہ آپ سب سے بانٹوں ۔ اس دعا کے ساتھ اللہ پاک ھم سب کی ادنی ترین نیکی کو اپنی رحمتوں کے صدقے قبول فرمائے اور ہماری کہی ہو ئی کوئی بات اور لکھی ہوئی کوئی تحریر باعث نجات اور خیر وبرکت ہو جائے ۔۔آمین

ماہ رمضان المبارک کا آغاز در حقیقت مسلمانوں کے لئے موسم بہاراں کی آمد ہے۔ جس پر ہم سب ایک دوسرے کو جتنی بھی مبارکباد پیش کریں کم ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم انسان ہر وقت کسی نا کسی پریشانی میں الجھے ہی رہتے ہیں جو ہمیں ذکر الہی سے غافل اور راہ اللہ سے دور کر دیتے ہیں۔ کبھی ہماری خواہشیں اور جذبات ہمیں پستی و تنزلی کی جانب لے جاتے ہیں۔

ماہ رمضان کی آمد پر ہم جیسے انسانوں کو ایک موقع ملتا ہے کہ اپنی روح اور باطن کوجو فطری اور قدرتی طور پر پاکبازی کی جانب مائل رہتی ہے ، اسے مزید بلندیوں کی سمت لے جایئں ، قرب الہی حاصل کریں اور اخلاق حسنہ سے خود کو سنوار لیں ۔ اس لیئے رمضان المبارک کو خود سازی اور نفس کی تعمیر نو کا مہینہ بھی کہتے ہیں۔ بھلا اللہ پاک سے مانوس اور اس کے قریب ہونے کے لئے اس سے خوبصورت مہینہ اور کونسا ہو سکتا ہے ۔ اس لیئے ماہ رمضان نیکیوں کا موسم بہار ہے۔

اہل اسلام کو ماہ صیام کا چاند ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مبارک

اے ارض و سما نوید ہو
نیا چاند
سارے جہانوں‌ میں‌ روشن ہو گیا
آمد ماہ صیام
سب کو مبارک ۔۔ خیر سلامت
نیکیوں برکتوں کا موسم بہارآگیا
اے عالمین کے رب
میری روح کو یوں اجال دے
جیسے یہ چاند
گردشوں‌ میں روشن ہو گیا

الہی آمین

ڈاکٹر نگہت نسیم

دعائے امام زین العابدین (سجاد ) علیہ السلام، استقبال رمضان المبارک

دعا مانگنا سعادت کی بات ہے ۔ لیکن ایسی عا مانگنا جسے اللہ کے محبوب بندوں نے خود مانگا ہو تو اس کی تاثیر پشتینی ہو جاتی ہے ۔ ایسی ہی دعائیں ، وظائف کا رتبہ بھی پا جاتی ہیں ۔ ایسی ہی ایک دعا جوسید الساجدین امام زین العابدین (سجاد ) علیہ السلام استقبال رمضان میں پڑھا کرتے تھے ۔ ان کی عاشقانہ عبادات دیکھ کر جب اُن کے رفقاء کہتے ” آپ اپنے جد بزرگوار مولا علی علیہ السلام سے کہیں زیادہ عبادت گذار ہیں تو آپ فرماتے
“‌میں نے ان کے ایک دن کے اعمال پر نظر کی تو مجھ پر واضح ہوگیا کہ میں سال بھر میں بھی ان کے ایک روز کے اعمال کی برابری نہیں کرسکتا۔”
( امام سجاد علیہ السلام جمال نیایشگران ص ،62 از: اعلام الوريٰ ص255)

سبحان اللہ ۔۔ سوچئے ہمارے پیارے نبی آخر سرکار تمام عالم ، شافی کل مکان رسول خدا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عبادات کا کیا عالم ہوگا جن کے لئے خود خداوند متعال نے قرآن کریم میں فرمایا کہ ا”‌ عبادات میں اپنے آپ کو اس قدر تھکا نہیں دیں ۔”‌(ایضاً ص،63 از: دلائل الامامۃ ص ۔84 )

میں اپنے پاک رب کا کیسے شکر ادا کروں کہ اس نے مجھے پہلی رمضان کی پہلی سحر یہ اعزاز عطا فرمایا کہ امام سید الساجدین کے لب مبارک سے ادا کی ہوئی دعا کو منظوم کروں تا کہ ہم سب رمضان المبارک کی ایک ایک ساعت کا اجر پا سکیں‌ ۔

دعائے امام زین العابدین (سجاد ) علیہ السلام، استقبال رمضان المبارک ۔۔۔ ڈاکٹر نگہت نسیم

اعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
اے میرے معبود !
اے میرے مالک !
اے میرے پاک رب
رحمت فرما محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور ان کی آل پاک پر
ہمیں ہدایت عطا کر
کہ
ماہ رمضان کے فضل و شرف اور عظمت کو پہچانیں
اس کی عزت اور حرمت کو ہر ماہ سے بلند جانیں
جن چیزوں سے تو نے منع کیا ہے اسے منع جانیں

اے میرے پاک رب
ہمارے اعضاء کو نافرمانیوں سے روک دے یارب
ہمیں غَلَط گوئی اور غلط کاموں سے ٹوک دے یارب
ہمیں ان کاموں میں الجھا دے جو تری رضا ہو یارب
ہماری سماعتوں کو نصیب اجر کا ازن دے کر یارب
ہماری بے محابہ نگاہ کو پردہ و حیاداری دے یارب
ہمارے دست رسا کو امر ممنوع سے ہٹا دے یارب
ہمارے شکم پرستی کو پاکیزہ بھوک عطا کر یارب
ہماری فِکْرِ اِسْتِدْلالی کو باریاب رسائی دے یارب

اے میرے پاک رب
رحمت فرما محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور ان کی آل پاک پر
ہمیں با نصیب کر اور آگہی کے دروازے کھول دے یارب
ہمیں نماز ہائے پنجگانہ کی پابندی اور سعادت نصیب کر یارب
ہمیں واجبات انسانی دل سے ادا کرنے کی توفیق عطا کر یارب
ہمیں پابندی حدود میں رہ کر آداب عشق سیکھا دے کر یارب

اے میرے پاک رب
ہمیں ان کے مرتبے پر فائز فرما ۔۔۔
جو نمازوں میں سب سے آگے تھے
واجبات کی نشاندہی کرنے والے تھے
رکوع و سجود میں سب سے ا فضل تھے
برکتوں کو جاری و سارے کرنے والے تھے
کامل ، پاکیزگی اور خشوع میں نمایاں تھے
یعنی وہ تیرے محبوب خاص اور عبد خاص تھے

اے میرے پاک رب
ہمیں اس ماہ رمضان مبارک میں توفیق دے
کہ
ہم اوروں سے نیکی اور احسان کریں
عزیزوں سے صلہ رحمی اور بخشش کریں
ہمسایوں کی خبر گیری اور درگزر کریں
اپنے اموال کو مظلوموں سے پاک صاف کریں
زکوات دے کر انہیں پاکیزہ اور طیب بنا لیں

اے میرے پاک رب
رحمت فرما محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور ان کی ال پاک پر
جس طرح
چاند گھٹتا بڑھتا ہے ایسے ہی ہمارے گناہ محو کر
جیسے
سورج دن ختم ہونے پر ڈوب جاتا ہے
ویسے ہی
ہمارے گناہوں کا وبال ہم سے دور کر
اور
توں اپنی رحمت سے
ہم سب کو ماہ رمضان المبارک میں
ساری خطاوں سے سے پاک کر
اور ہمیں گناہوں سے بری کر

اے میرے پاک رب
رحمت فرما محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور ان کی ال پاک پر
اس ماہ رمضان المبارک میں
اگر ہم حق سے مُنہ موڑیں توہمیں سیدھے سچے راستے پر لگا دینا
کجروی اختیار کریں تو ہماری اصلاح و دُرستگی فرما دینا
شیطان ہمارے گرد احاطہ کرے تو اسکے پنجے سے چُھڑا دینا

اے میرے پاک رب
اس ماہ مبارک میں
ہمارا دامن ہماری عبادتوں سے بھر دے
ان لمحات کو ہماری اطاعتوں سے سجا دے
ہر شب کو ہماری شب بیدار اور دن کو روزہ داربنا دے
تیرے حضور اشکباری کریں اور تو ہماری تطہیر کر دے
اور ہماری عجز و الحاح تیرے روبرو ہمیں زلت سے بچا دے

اے میرے پاک رب ۔۔
اے دعاؤں کو قبول کرنے والے مہربان رب
یہ سب تیرے ازن کے بغیر ناممکن ہے
ہماری مدد فرما ۔۔۔۔۔۔ ہماری مدد فرما
آمین ثمہ آمین
الہی آمین

چاند اور چڑیا

چاند اور چڑیا ۔۔۔۔

میرے محبوب
تم کتنے دلکش اور سب سے جداسے ہو
جانے کیسے مشکل سے مشکل دن کو
تم صرف دن سمجھ کر گزار جاتے ہو
خوش رہتے ہو ۔۔۔۔ کیسے بھلا ۔۔؟‌
میرے محبوب
تمہاری حسین مسکرا ہٹ‌ کتنی تہہ دارہے
اور۔۔۔ تمہاری آواز جیسے نوید زندگی ہے
تم نے کل ہی تو کہا تھا ۔۔۔۔۔۔
“سنو۔۔!‌
جب چاند اپنے پورے جوبن پر چمکتا ہے
تو ۔۔ شہر کے تمام کتے بھونکنے لگتے ہیں
یہ دنیا ہے پگلی ۔۔۔
اور ۔۔ تم ایک چڑیا۔۔ ایسی خوبصورت “‌
میرے محبوب
تمہاری ایک بات میں ایک ہزار رمزیں ہیں‌
پر ۔۔۔ میں سوچ رہی ہوں
کبھی چاند اور چڑیا بھی بیچ سفر سے لوٹے ہیں
کتوں‌ کے ڈر سے ۔۔۔ بھلا سفر کب رکتے ہیں

ڈاکٹر نگہت نسیم

افسانہ ؛ بیل فلاور

افسانہ ؛ بیل فلاور
تحریر ؛ ڈاکٹر نگہت نسیم

یکم جنوری 1986
آج میں بہت اداس ہوں ، گزرتے وقت کا کوئی لمحہ بھی ایسا مجھے یاد نہیں آ رہا جس میں کچھ الگ ہوا ہو ۔۔ کبھی کبھی سوچتی ہوں سال کا پہلا لمحہ ہو یا آخری کچھ بھی تو نہیں بدلتا سوائے کلینڈر کے ۔ ۔۔ یہ روزانہ کی ترتیب والی زندگی سے وحشت ہونے لگی ہے ۔ کبھی تو کچھ ایسا ہوا کرے جو نا ہوا ہو کبھی !

——————————-
5 جنوری 1986
آج کئی دنوں بعد ڈائری لکھنے بیٹھی ہوں ۔ پر سوچ رہی ہوں کیا لکھوں ۔۔؟‌ کیسے لکھوں ۔۔؟‌ دل پر کیا قیامت گزرگئی ۔ بی بی جی کو بیٹھے بٹھائے جانے کیا ہوا ، باتیں کرتے کرتے ایکدم سے گر گئی اور خاموش ہو گئی ۔۔ اف میرے خدا ہسپتال میں ان کا داخلہ اور ان کی بے بسی ۔۔ اتنی تکلیف دہ اور مایوس سے دن اور رات ۔ بی بی جی یوسف اور مجھ پر جان چھڑکتی ہیں ، اگر انہیں کچھ ہو گیا تو ۔۔؟ اف مجھ سے اس سے آگے کچھ نہیں سوچا جا رہا ۔۔!

ہمارے گھر کا سنگھار ہماری بی بی جی تھیں ، ساری محبتیں انہیں کی برکتوں سے تھیں ۔ امی جی کہتی ہیں کہ جب وہ بیاہ کر آئی تھیں تو انہوں نے دہلیز کے کناروں پر شگون کا تیل ڈالتے ہوئے ان کا ماتھا چوم کر کہا تھا “ تم میری بہو نہیں ، بیٹی ہو “ ۔ اس دن کے بعد سے کوئی دن ایسا نہ تھا جب انہوں نے ماں بن کر اپنی بیٹی کوچاہا نا ہو ۔ ان کی محبت جو دیکھتا حیران رہ جاتا ۔ امی جی آج کتنی بےقراری سے بی بی جی کے ہاتھ اپنی آنکھوں کو لگا رہی تھیں تو کبھی انہیں چوم رہی تھیں ۔۔ ابا جی سے دیکھا نا گیا تو انہیں زبردستی یوسف کے ساتھ گھر بھیج دیا ۔ یوسف مجھ سے دو برس ہی تو چھوٹا تھا کیسی زمیداری سے ابا جی کے ساتھ ہسپتال کے لمبے لمبے برآمدوں میں بھاگتے بھاگتے آج اچانک بڑا ہو گیا تھا۔
بی بی جی کہا کرتی ہیں “ محبت ایثار ہے ، چاہے کسی سے ہو “ ۔۔۔۔۔۔
میرے آنسو دعا بن کر ایک تواتر سے بہہ رہے ہیں ۔۔۔ “ اللہ میری بی بی جی کو اچھا کر دے “ ۔۔
—————————————————-
12 جنوری 1986
بی بی جی کو ہسپتال داخل ہوئے آج پورا ایک ہفتہ ہو چکا ہے پر ان کی بیماری میں رتی بھر سدھار کی صورت دیکھائی نہیں دے رہی ۔ جانے کیوں میری چھٹی حس وہ بات کہہ رہی ہے جو میں سوچنا نہیں چاہتی ۔ ڈاکٹروں کو نہیں چاہیئے کہ ہر بات کھول کھول کر بتا دیا کریں ۔۔ سچ ، امیدوں کے سفر کو تھکا جو دیتا ہے ۔ پر سچ نہ کھلے تو انسان حقیقت کو ماننے میں خود تھک بھی سکتا ہے ۔۔ کچھ بھی ہو ، کیسے بھی ہو کچھ رشتے سب کے پاس ایسے ضرور ہوتے ہیں جن کی جدائی کو دل مانتا ہی نہیں ہے ۔۔ گھر کے بزرگ چپ ہو جائیں تو زندگی کتنی ویران سی لگتی ہے ۔۔ لگتا ہے جیسے گھر سے برکتیں اٹھ گئی ہوں ۔
ہائے ۔۔ کیا ہمارے گھر سے بھی برکتیں اٹھنے والی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟

——————————————
20 جنوری 1986
15 جنوری کا دن کتنا تاریک طلوع ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
گھر سے برکتیں اٹھ گئیں ۔۔
محبتیں ہجرت کر گئیں ۔۔۔
ہمارے گھر کا سب سے بڑا اور اہم ستون گر گیا ۔۔۔۔۔
ہائے ۔۔۔۔۔۔۔۔ میری بی بی جی سپرد خاک ہو گئیں
کوئی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کوئی تو بولے ۔۔۔۔ پناہوں میں بے گھری کیسی لگتی ہے ؟

———————————————-
27 فروری 1986
بی بی جی کا چہلم بھی ہو گیا ۔۔۔ کاروبار زندگی پھر سے ویسے ہی ہوگئے جیسے پہلے ان کے زمانے میں ہوا کرتے تھے ۔۔ ہاں ابا جی کی مسکراہٹ بی بی جی کے جانے کے بعد مسکرا نہ سکی ۔۔ بی بی جی تو ان کی ماں تھیں پر وہ ہم سب کی سب سے اچھی اور بڑی ماں تھیں ۔ امی جی لحاف دھوپ میں ڈالتے ہوئے کئی بارچپکے چپکے اپنے کاسنی دوپٹے سے آنسو پونچھ چکی تھیں ۔۔ یہ کام کئی برسوں سے وہ بی بی جی کے ساتھ مل کر کیا کرتی تھیں ۔۔

مجھے یاد آیا ابا جی کے خالہ زاد بھائی انکل حمید جو سدا سے اسلام آباد میں آباد تھے ، سردیوں پر جان دیا کرتے تھے ۔ پچھلی گرمیوں کی چھٹیوں میں ہم سب ان سے ملنے گئے تھے ۔ بیزار سی صورت بنائے بار بار کہہ رہے تھے “ جانے خدا کو گرمیوں سے اتنا عشق کیوں ہے “ ۔۔ اور آنٹی سلمی انہیں اللہ میاں کی خفگی سے ڈرانے کے لیئے ہر بار کہتیں “ توبہ کریں جی “ اور انکل حمید جھلاتے ہوئے ان کے پاس سے اٹھ جاتے ، دن میں کئی کئی بار نہاتے اور رات کو ہم سب کو آئیس کریم ضرور کھلاتے ۔ یوسف جسے امی جی لاکھ سمجھا کر ساتھ لائی تھیں ان کی ہاں میں ہاں ضرور ملاتا “ انکل جی گرمی کے موسم کو “جہنم کی پریکٹس “ کہتے ہیں ۔۔ امی جی کے بعد جب میں بھی اسے گھورتی تووہ دبی آواز میں کہتا “ کیا ہے آپا “ اورادب میں کچھ دیر چپ رہتا ۔۔۔۔ پھر وہی انکل حمید کی باتوں پر اس کی من مانیاں ہو تیں ۔
شاید موسموں کی اسی بے ادبی سے بچنے کے لیئے امی جی کو بھی بی بی جی کی طرح سارے موسم ہی اچھے لگتے تھے ۔ اس قدر شوق اور لگن سے اس کی پذیرائی کرتیں کہ موسم کبھی کبھی ٹھہر ہی جایا کرتے تھے ۔۔۔۔

مجھے بھی بی بی جی ، امی جی کی طرح بے ادب اور گستاخ ہونا اچھا نہیں لگتا ۔۔۔۔۔۔ انسان اور موسم مہمان ہی تو ہوتے ہیں ۔
———————————————————————
30 مارچ 1986
آج کل ہر طرف پھول ہی پھول بکھرے ہوئے ہیں ۔ مجھے پیلے گلاب ہمیشہ سے بہت اچھے لگتے ہیں ۔آج رضوان نے کتنی آسانی سے کہہ دیا تھا کہ” پیلے گلاب نفرت کی نشانی ہوتے ہیں “‌ ۔۔۔ توبہ میری آواز احتجاجا کیا اونچی ہوئی کہ امی جی نے مجھے ڈانٹ دیا ۔۔“ اچھا نہیں لگتا بیٹی “ ۔ ارے کیا اچھا نہیں لگتا ۔۔ اب اگر وہ ابا جی کے جگری دوست انکل خالد کا اکلوتا ہے ۔۔۔ ہوسٹل میں رہتا ہے۔۔ مجھ سے بڑا ہے تو ہوا کرے ۔۔ پر امی جی کو تو ہر اس کے آنے جانے سے لے کر کھانے پینے تک کی فکر رہتی تھی ۔۔ اور یوں وہ کچھ زیادہ ہی گھر پر نظرآتا تھا اور پھر یوسف کے ساتھ مل کر صرف شرارتیں ہوتیں ، جسے امی جی رونق سے تعبیر کرتی تھیں ۔۔ ارے یاد آیا دو دن بعد رانی کی سالگرہ ہے اور مجھے اس کے لیئے تحفہ بھی لینا ہے ۔۔
رانی، زندگی کے حبس بھرے دنوں میں روزن بن جانے والی دوست تھی ۔۔ رانی ایک خوشگوار جھونکے کی طرح تھی ۔۔ جس سے مل کر ہر پل یاد گار ہوجاتا تھا ۔۔۔۔۔۔
مجھے اس سے یہ بھی پوچھنا ہے کیا رنگوں اور پھولوں کو نفرت کرنا آتی ہے ۔۔۔۔۔۔ مجھے شاید رضوان کی بات اچھی نہیں لگی کہ پیلے گلاب نفرت کی نشانی ہوتی ہے ۔

———————————————–
٤ اپریل ١٩٨٦
میرے خدا ۔۔۔۔ آج حد ہو گئی ۔۔ رانی کی سالگرہ سے واپسی پر رضوان ہی مجھے لینے آیا ہوا تھا ۔۔۔ اف وہ کتنا بولتا ہے ۔۔ کہہ رہا تھا “ تم آج اچھی لگ رہی ہوں لیکن موڈ سے ڈریکولا “ ۔۔۔ میرے چپ رہنے پر اسے مزید موقع مل گیا تھا ۔۔ کہہ رہا تھا ۔۔ “ زندگی اتنی حسین ہے اسے خوشی خوشی گزارنا سیکھو لڑکی ۔۔ مشکل بننے سے زندگی بدصورت ہو جاتی ہے “ ۔۔ گھر آچکا تھا ۔۔ میں گاڑی سے اتر ہی رہی تھی کہ اس نے دروازہ تھام لیا ۔۔ بڑی رازداری سے کہہ رہا تھا “ سنو لڑکی مجھے تمہارے ساتھ اپنی باقی کی ساری زندگی گزارنی ہے “ ۔۔ میں نے حیرانگی سے اسے دیکھا ، اف اس کی آنکھوں کی بولیاں مجھے برف کر رہی تھیں ۔۔ بڑی مشکل سے اپنے کمرے تک پہنچی ۔۔۔۔۔۔۔ “ جواب ادھار ہے جی “ ۔۔ اور اب
میں سوچ رہی ہوں کیا جواب ہو اس بات کا ۔۔۔۔ ؟
میں مشکل لڑکی نہیں ہوں رضوان ۔۔۔ بات یہ ہے کہ تم مجھے سمجھنا ہی نہیں چاہتے ۔۔ شاید تم بھی عام انسانوں کی طرح عورت کے ماتھے کے پیچھے چھوٹا سا سر دیکھنا چاہتے ہو ۔ ایک ایسا روبوٹ چاہتے ہو جس کا معاشی ، جسمانی ، جذباتی کنٹرول تمہارے ہاتھ میں ہو ۔
لیکن سنو ۔۔ رضوان ۔۔ میں کوئی بیل بوٹا نہیں ہوں جسے جب چاہا جڑ سے اکھاڑا اور جہاں چاہا لگا دیا ۔۔ پھر اپنے گرد لپیٹ لیا ۔۔۔۔۔ میں لڑکی ہوں ۔۔جس کے ماتھے کے پیچھے دماغ ہے جو اپنی ایک سوچ رکھتی ہے ، اس کے چہرے پر دو آنکھیں ہیں جو سارے موسموں کی رازدار ہیں ۔۔۔ اس کے پاس دل ہے جو پھولوں کے دکھ سے بھی واقف ہے ۔۔ اس کے پاس زبان بھی ہے جو خوشیاں بانٹنا جانتی ہے ۔ پھر اس لڑکی کے پاس تعلیم بھی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کے پچھلے پہر دکھ سے سوچ رہی ہوں کیا پڑھی لکھی لڑکیاں “ مشکل “ ہوتی ہیں ۔۔۔۔ ؟
کیا ان کا حق نہیں ہوتا کہ ان سے پوچھا جائے کہ تمہیں کس کے ساتھ عمر گزارنی ہے ۔۔؟
————————————-
٣٠ اپریل ١٩٨٦
اپریل کے باقی سارے صفحے خالی پڑے تھے ۔۔۔۔۔ میری زندگی کے خالی صفحوں کی طرح ۔۔ میں ابھی تک حیران ہوں کہ امی جی اور ابا جی نے مجھ سے پوچھے بغیر رضوان کے ساتھ میرا ساتھ طے کر دیا ۔۔۔۔ میں کچھ بھی تو نا کہہ سکی ۔۔۔۔ گم صم بیٹھی ہوں ۔۔ خود سے باتیں کر رہی ہوں ۔۔ کیا میں رضوان کو پسند کرنے لگی ہوں ۔۔ شاید تعلقات ہی انسیت بن جاتے ہیں پھر محبت میں ڈھل جاتے ہیں ۔۔
کہیں ایسا تو نہیں میرا اپنے رشتوں پر مان ٹوٹ رہا ہے ۔۔۔۔۔
کم از کم امی جی کو مجھ سے بات تو کرنی چاہیئے تھا ۔۔۔۔۔۔ میرا دم گھٹنے لگا ہے شاید ۔۔۔
———————————————
٦ مئی ١٩٨٦
خدا خدا کر کے پانچ مئی آئی تھی ۔۔ بائیولوجی میں ماسٹر کرنے کا خواب پورا ہونے والا تھا ۔۔ امتحانات بھی ختم ہو چکے تھے ۔۔۔ یونیورسٹی میں جاب بھی مل گئی تھی ۔ خدایا میں کتنی خوش تھی کہ جیسا میں چاہتی تھی ویسا ہی ہو رہا تھا ۔۔ پر آج جب گھر واپس آئی تو رضوان ڈرائینگ روم میں ہی بیٹھا ہوا تھا ۔ میں کھانا لے کر وہیں آ گئی تھی ۔۔ اس نے بغیر کسی تمہید کے کتنے سکون سے کہہ دیا تھا مجھے جاب کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔ اور یہ بھی کہ شادی کے بعد کونسی نوکری کرنی ہے ۔۔۔ پھر یہ بھی کہ مزید پڑھنے کی کیا ضرورت ہے ۔۔ لیکن میں پی ایچ ڈی کرنا چاہتی ہوں اور ۔۔ اس سے پہلے کہ میں اپنی بات مکمل کرتی وہ اپنا فیصلہ سنا کر یوسف کے کمرے میں جا چکا تھا ۔۔ میں سوچ رہی ہوں
نوکری کیا کسی معاشی کمی کے بغیر نہیں کی جا سکتی ۔۔

ہائے کہیں ایسا تو نہیں کہ تم بھی عام مردوں کی طرح پڑھی لکھی ، سمجھدار لڑکیوں سے خائف ہو گئے اور اپنی بادشاہت اور حکمرانی جاتی ہوئی لگ رہی ہے ۔۔۔
کاش ایسا نہ ہوا ہوتا ۔۔۔ میری آنکھیں ڈبڈبا گئیں ہیں رضوان ۔۔۔۔ میں سوچتی تھی تم ایسے نہیں ہو سکتے ۔۔
تم مجھے کبھی بھی اپنے معاشی پروں میں چھپا کر سارے موسموں سے آزاد نہیں کرو گے ۔۔مجھے جذباتی آسودگی سے کبھی محروم نہیں کرو گے ۔۔ پر ایسا کچھ نہیں ہوا ، تم نے بھی نہیں سمجھا عورت بہت مظبوط ہونے کے باوجود بہت کمزور بھی ہوتی ہے ۔ آج بھی اسے وہی گھونسلے اچھے لگتے ہیں جسے اس کے مرد نے تنکا تنکا جمع کر کے بنائے ہوتے ہیں۔
کہیں ایسا تو نہیں رضوان تم نے مجھے چیلنج کی طرح قبول کیا ہے اور ایک دن اپنی جیت کا جھنڈا لہرا کر اپنے تابع کر لینا چاہتے ہو ۔۔ پر سنو شرطوں پر صرف ہار جیت ہوتی ہے رشتے نہیں بنتے ۔۔
لڑکیاں بیلوں جیسی نازک ہوتی ہیں ۔۔ انہیں ان کی زمین سے جدا کرو گے تو وہ مر جائیں گی ۔۔ جانے کیوں آج یہ سب لکھتے ہوئے مجھے کیوں ڈر لگ رہا ہے کہ میں تم سے بدگمان ہو رہی ہوں ۔۔۔۔ تمہارا روشن چہرہ گم ہو رہا ہے ۔۔۔۔۔۔ کاش ایسا نہ ہوا ہوتا ۔۔!
———————————————————-
١٣ مئی ١٩٨٦
آج رضوان کو مجھ سے خفا ہوئے ایک ہفتہ ہو چکا ہے ۔۔ سوچتی ہوں اگر یہ تمہاری عزت کا مسلہ نا ہوتا تو یہ اتنا سادہ تھا کہ باہمی بات چیت سے سلجھ سکتا تھا لیکن تم نے تو رفاقت کی شرط ہی یہی رکھ دی تھی ۔۔۔
جانے مجھے کیوں لگ رہا ہے جیسے میری ڈگریاں جدائیاں خرید لائی ہے ۔

————————————————–
یکم جون ١٩٨٦
یکم جون مجھے ہمیشہ اپنی دوست فوزیہ کی جدائی کی یاد دلا جاتا ہے ۔۔ وہ چار برس پہلے جو امریکہ جو گئی تو سب ہی کچھ بھول گئی ۔۔ سوچ رہی ہوں کہیں اسے بھی کسی رضوان سے واسطہ نہ پڑ گیا ہو جس کی ہمیں اس وقت سمجھ ہی نا آئی ہو۔ میرے دل کا جو کونا اس دن ٹوٹا تھا وہ آج تک جڑ نہیں پایا تھا ۔ مجھے کیوں لگ رہا ہے اگر تم نے اپنی ضد نا چھوڑی تو میرے دل کا ایک اور کونا ایسے ٹوٹے گا جو کبھی نہیں جڑ پائے گا۔

————————————————
٤ جولائی ١٩٨٦
آجکل گھر اور باہر کی مصروفتیں بڑھتی ہی جا رہی ہیں ۔۔ یوسف کہہ رہا تھا کہ میں اپنی صحت کا خیال نہیں رکھ پا رہی ہوں سو مجھے نوکری چھوڑ دینی چاہیئے ۔ میں نے جب حیرانگی سے اسے دیکھا تو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہہ رہا تھا “ جو وقت جاب کو دیتی ہیں وہ گھر کو دیجئے آپا “ ۔۔ارے ۔۔ میں میرا ملک میرا گھر ہی تو ہے ، میں اسے سنوارنا چاہتی ہوں ، خود کفیل بنانے میں اپنا حصہ ڈالنا چاہتی ہوں ۔۔ یوسف اس میں برائی کیا ہے ۔۔؟
برائی ۔۔ ؟ آپ نہیں سمجھیں گی آپا ۔۔۔۔۔ یوسف جا چکا تھا اور میں کتنی ہی دیر تک ہلتے ہوئے پردے کو دیکھتی رہی جہاں آوازوں کے چہرے اگ رہے تھے ۔۔ میری طرف بڑھ رہے تھے ۔۔ یوسف کیا تم بھی ۔۔؟ میں شاید بے یقینی کے عالم میں تھی ۔۔۔۔ یا شاید ساکت ہو گئی تھی ۔۔۔۔۔
کیا اس شہر میں صرف رضوان اور یوسف بستے ہیں ۔۔ جو عورت کے شعور سے خوفزدہ ہو کر اپنی آنکھیں کھولنے کی بجائے اسی کی آنکھیں بند کر دینا چاتے ہیں ۔

———————————————
دو اگست ١٩٨٦
آج بڑے دنوں بعد انکل حمید کی بیٹی جویریہ کا خط آیا تھا ۔۔ بہت دنوں بعد دل کا موسم کچھ خوشگوار سا تھا ۔۔ انکل حمید کے گھر میں لگی ہوئی بیل فلاور کی بیل کو بہت یاد کیا ۔۔ کتنی حسین بیل تھی ، بہار میں جب گھنٹی کے شکل کے ہلکے گہرے نارنجی پھول کھلتے تو کتنئ حسین لگتی ، ایسے جیسے نئی نویلی دلہن کا ہار سنگھار ہو ۔۔ ہوا کی ہلکی سی سرگوشی پر ایسے بل کھاتی پھر کتنے ہی پھول زمین پر گرجاتے تھے ۔۔ انکل حمید کو پھولوں کا گرنا بلکل اچھا نہیں لگتا تھا ۔ ان کے خیال میں یہ بکھیڑے بڑھانے والی بیل ہے اسے گھر میں ہونا ہی نہیں چاہیئے ۔ پھر آئے دن کبھی اس کا سوکھ جانا ۔۔ کبھی ہرا بھرا ہو جانا انہیں آنکھ مچولی لگتا تھا اور وہ اس کھیل سے بھی تنگ رہتے تھے ۔۔۔ جویریہ نے لکھا تھا “ابو جی نے بیل فلاور کی ساری بیلوں کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا ہے اور اب ہم سب اس بے رونقی کو ختم کرنے کی تدبیریں کر رہے ہیں ۔

ہائے ۔۔ مجھے کیوں ایسا لگ رہا ہے جیسے بیل فلاور کی بیل “ میں “ ہوں اور انکل حمید کی طرح سب میرے ہلکے گہرے نارجی پھولوں کی بہار کو بکھیڑا سمجھ کر جڑ سے اکھاڑ پھینکنا چاہتے ہیں ۔۔
————————————-
٢٠ اگست ١٩٨٦

اس بار اگست کے آخر میں رمضان آ گیا تھا ۔۔ ہر طرف گرمی اور بس گرمی ۔۔ مجھے بی بی جی بہت یاد آرہی ہیں ۔ کتنے اہتمام سے وہ سحر سے شام تک کا وقت بتاتی تھیں ۔یوں لگ رہا ہے جیسے ان کے جانے کے بعد سورج نے ہنسنا اور چاند نے مسکرانا چھوڑ دیا ہو ۔ سارا میل سنگ جیسے ختم سا ہوتا جا رہا تھا ۔۔ واقعی ہمارے گھر سے برکتیں اٹھ رہی تھیں ۔ وہ کہا کرتی تھیں “ میری بیٹی پڑھ لکھ کر بہادر بنے گی“ ۔ میری آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں ۔۔ ہائے میری بی بی جی ۔۔ وہ جان ہی نا پائیں کہ پڑھی لکھی بیٹی اور بہادری میں کوئی قدر مشترک نہیں رہی ۔
بی بی جی سنیے ۔۔ ابا جی نے بھی انکل حمید کی طرح روز کی بک بک سے تنگ آ کر مجھے بیل فلاور کی بیل کی طرح جڑ سے اکھاڑ پھینکا ہے ۔ کاش آپ میرے ساتھ ہوتیں تو ہم کچھ بیلوں کو بچا لیتے ۔۔ مجھے لگ رہا ہے کہ اب وقت قریب آ گیا ہے جب مجھے ڈگریوں کا کفن پہنے اپنی قبر میں خود ہی دفن ہونا ہوگا پر یہ نہیں جانتی کہ روز روز مرنا ہوگا یا صرف ایکبار مروں گی ۔۔
میں کس سے پوچھوں بی بی جی ۔۔ کیا شعور اور آگہی کچی عمروں سے اس کی بے نیازی اور فطری معصومیت چھین لیتی ہے ۔۔۔ کیا تعلیم عیار اور چالاک بنا سکتی ہے ۔۔ یہ کیوں نہیں سوچ سکتے کہ یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ ہم نے جلد منزل پالی ہو یا ہم جلد مکمل ہو گئے ہوں ۔۔شاید اس تکمیل کی جدوجہد نے ہماری اوسط عمر کو بھی گھٹا دی ہے جبھی تو رضوان مجھے بوڑھی روح کہہ کر مخاطب کرتا تھا ۔۔

اف مجھے رضوان نے اپنی زہریلی باتوں کا زہر دے کر نیلا کر دیا ہے ۔۔۔۔
———————————————————
٥ ستمبر ١٩٨٦
ابا جی کی سالگرہ میں رضوان کو شدید بارش میں بھی آنا ہی پڑا ۔۔ ہائے کتنے دنوں بعد اسے دیکھا تھا ۔۔ وہ شاکی نظروں سے مجھے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔ مجھے یوں لگا جیسے کہہ رہا ہو “ میں مرد ہوں ۔ عورت کی برتری برداشت نہیں کر پاؤں گا ۔۔ میری مٹی میں بدگمانی اور شک شامل ہوا ہے ۔۔ مان جاؤ ۔۔ پلیز ۔۔ ورنہ میرے اندر کا آدمی مجھ سے بغاوت کر جائے گا ۔ ۔۔ نہیں رضوان اگر تمہارے اندر کے مرد نے ہجرت نا کی تو میرا وطن خوشحال نا ہو سکے گا ۔ میری زمین بنجر رہ جائے گی ۔۔ کوئی بیل فلاور کی بیل کو اپنے گھر نہیں بسنے دے گا ۔۔ کسی کو تو ہارنا ہی ہے ۔۔
تم نے سنا نہیں تھا مسز کاشف آج کتنے بےدردی سے کہہ رہی تھیں “ جب سے یہ عورت گھر سے نکلی ہے، نا برکت رہی گھر میں اور نا رونق ۔۔ دیکھ لیجئے ہمیں بھی مغرب کی طرح اپنے سکھ اور بچوں کی قربانی دینی ہو گی ۔۔ پر کسی نے ان سے نہیں پوچھا کہ گھر تو مل کر بنائے جاتے ہیں ۔ ان کے دکھ سکھ سانجھے ہوتے پھر صرف قصوروار عورت ہی کیوں ؟

امی جی بتا رہی تھیں تمہارے گھر والے امریکہ سے ہمیشہ کے لیئے واپس آرہے ہیں اور وہ اس رشتے کا باقائدہ اعلان چاہتے ہیں ۔ مگر پتہ نہیں کیوں رضوان فیصلے کا اعلان بار زیست لگ رہا ہے ۔۔ انکار یا اقرار ۔۔
——————————————
٢٥ ستمبر ١٩٨٦
رضوان نے گھر والوں کے آنے سے پہلے ہی ابا جی کی مدد سے گلشن اقبال میں نیا گھر لے لیا تھا اور اسے بڑی محنت سجا سنوار بھی لیا تھا جس کی یوسف نے بہت تعریف کی تھی ۔ آج یونیورسٹی سے واپسی پر رضوان کو گھر پا کر کچھ خوشگوار سی حیرت ہوئی ۔۔ اور مجھ سے ہی مخاطب تھا ۔۔ “ پھر تم نے کیا سوچا ہے “ ۔۔ میں پہلے تو چونکی پھر جانے کہاں سے اتنی ہمت آ گئی اور کہہ دیا “ وہی جوپہلے سوچا تھا “ ۔۔“ سنو تم اس کو اپنی ضد بنا رہی ہو“ ۔۔ رضوان کی ترش آواز پر میرے حلق تک کرواہٹ اتر آئی تھی ۔۔ تمہیں یاد ہے رضوان تم نے کہا تھا “ پڑھی لکھی لڑکیاں گھریلو نہیں ہوتیں ، نوکری انہیں بدتمیز اور گستاخ بنا دیتی ہے ، اور بلا وجہ کی خود اعتمادی انہیں مغرور کر جاتی ہے ، اس لیئے وہ کبھی اچھی بیوی اور دوست نہیں بن سکتیں “ ۔۔۔۔۔۔ میرے لہجے میں کاٹ جانے کہاں سے آگئی تھی جس نے تمہاری آواز کو نگل لیا تھا ۔۔
لیکن وہ باتیں تمہارے لیئے نہیں تھیں ۔۔ تم نے آہستگی سے کہا اور خاموشی اٹھ کر چلے گئے تھے ۔۔
رضوان مسلہ یہ ہے کہ تمہیں مجھ پر اعتبار ہی نہیں ہے ۔۔ جہاں اعتبار نا رہے وہاں سے دوستی ، محبت کی دیواریں نہیں اٹھائی جا سکتیں ۔
بیل فلاور کی جڑیں کاٹ دو گے تو پھول کیسے برسیں گے ۔۔ سوچو تو ۔۔ نوکری اور تعلیم میری انا کا مسلہ نہیں ہے رضوان ۔۔ میرا مسلہ تمہارا دوغلا پن ہے ۔ ایک طرف تم کہتے ہو “ حیا “ چادر اور چاردیواری کی محتاج نہیں ہے بلکہ حیادار زہن و دل کی محتاج ہے ۔ اور جب اپنی باری آئی تو نوکری “ بے حیائی “ سکھاتی ہے اور “ زیادہ تعلیم “ گستاخ بنا دیتی ہے ۔ سنو ۔۔۔۔۔۔ میں تمہاری مشرقی بیوی کے معیار پر پورا نہیں اترتی ۔۔ تو ۔۔ مزید بات کیا ہو ۔۔
کاش تم ایسا نہ کہتے۔۔ ۔ایسا نا سوچتے ۔۔
خدا کے لئے مجھے سولہ سو سال پرانی عورت نا بناؤ ۔۔ مجھے زمین میں زندہ مت گاڑو ۔۔ مجھ سے میرے ہونے کا یقین مت چھینو ورنہ مجھے عورت کے اعتبار ، اس کی حیا ۔۔ اور اس کے وقار کے لیئے تمہیں چھوڑ کر ایک ایسے شخص کا انتظار کرنا پڑے گا جو میری سوچ کے پروں کے ساتھ اپنی پرواز کریں ۔۔ مجھ سے نظریاتی مفاہمت کرے ۔۔ مجھے وہ عزت دے جس کی میں حقدار ہوں ۔۔

————————————————
٢٠ نومبر ١٩٨٦
اور آج میں نے سب کی مخالفت کے باوجود کینیڈا میں “ بیل فلاور ریسرچ “ کے لیئے اپلائی کر دیا ۔۔ امی جی نے حتمی رائے دیدی ہے کہ وہ مجھے کبھی اکیلا نہیں جانے دیں گے ۔۔ اور میں فارم بھرتے ہوئے ہنس پڑی ہوں ۔۔ ہم پڑھی لڑکیاں واقعی ایک عذاب ہی تو ہیں ۔۔ کبھی اسے ہم پلہ ساتھی نہیں ملتا تو کبھی ہم مزاج ۔۔ اف انسانی چیل کوؤں میں گھری ایک تنہا عورت خود کو بچانے کے لیئے خود کو سو ٹکڑوں میں بانٹ رہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
آہ ۔۔ میری محبت نے آج دم توڑ دیا ۔۔۔۔
میرے انکار کی آہ بکا میلوں میل پھیل چکی تھی ۔۔۔ مگر نہیں جانتی رضوان میرا دل کیوں بیٹھے جا رہا ہے ۔ جس حؤصلے سے میں تمہیں چھوڑ آئی ہوں اتنی ہی شدت سے رونا بھی چاہتی ہوں ۔۔ محبتوں نے کب دلیلیں مانی ہیں ۔۔ اس کے رواج تو صدیوں سے ایک سے ہی ہیں نا ۔۔ میرے دل ایک اور کونا ایسا ٹوٹ گیا ہے جو اب کبھی نہیں جڑ پائے گا ۔۔

————————————————————-
٣ دسمبر ١٩٨٦
آج انکل حمید کا خط ملا ۔۔ پڑھ کر حیران ہی تو رہ گئی ۔۔ انہوں نے لکھا تھا “ تم بہت یاد آتی ہو ۔۔ تمہارے ساتھ ہنگامے جو چلے آتے ہیں ۔ اب تو گارڈینا کی باڑ بھی قد میں تم سے زیادہ ہو گئی ہے ۔ موتیا گلاب بھی تمہیں بہت یاد کرتے ہیں ۔۔۔۔ پر انکل جی وہ بیل فلاور کی بیل آپ نے کیوں جڑ سے اکھاڑ پھینکی تھی ۔۔ پر اب سوچ رہی ہوں کہ اچھا ہی کیا تھا بھلا روز روز کی دیکھ بھال سے بھی جو جو مایوس کرے اس کو صحن سے تو کیا دل سے ہی نکال دینا چاہیئے ۔۔
آپ نے بھی اچھا ہی کیا تھا اور رضوان نے بھی اچھا ہی کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔
کاش ۔۔ ہم درختوں ، پودوں ، پھولوں ، بیلوں کی حفاظت کر پاتے ۔۔۔۔۔ ہماری دنیا کتنی مہکی اور خوش رنگ ہوتی ۔۔۔۔۔۔
کاش ۔۔۔۔ عورت بھی اس دنیا کا خوش رنگ حصہ ہوتی ۔۔۔
———————————————————
پندرہ دسمبر ١٩٨٦
آج مجھے کینیڈا کے لیئے روانہ ہونا ہے ۔۔ امی جی کئی دنوں سے بس روئے جا رہی ہیں ۔ اور کئی بار کہہ چکی ہیں اولاد آزمائیش ہی تو ہے “ ۔۔سچ کہا امی جی ۔۔ پر میرے لیئے بھی تو یہ فیصلہ آسان نا تھا ۔۔ میں بھی تو دو دھاری تلوار پر چلی ہوں ۔۔ خدا کی قسم ہمت ہارتی جا ری ہوں پر مجھے پھر بھی جانا ہے ۔۔ مجھے ان لوگوں سے ملنا ہے جو بیل فلاور کو اپنے گھروں کی رونق بناتے ہیں ۔۔ یوسف نے کتنی محبت سے کہا تھا “ آپا سارے اچھے لوگ جدا کیوں ہو جاتے ہیں “ ۔۔ میں اسے بتا نا سکی ناقدری کا دوسرا نام جدائی ہی تو ہے ۔۔ میں اپنے بھائی یوسف کوگلے سے لگائے خود کو تسلی دے رہی تھی کہ میں وہاں جا کر اپنے لوگوں کومجبور کرونگی کہ واپس اپنے ملک چلیں ۔۔اپنے گھر بار کو بچا لیں ۔۔ مجھ جیسی لڑکیاں جو تعلیم کی عمر قید کاٹ رہی ہیں ان کی سزا کی تخفیف کے لئے کشادہ زہنوں کو لوٹنا ہو گا ۔۔۔

انکل حمید کو بیل فلاور کی بیلیں لگانی ہوں گی ۔۔۔ مجھے یقین ہے میرے دل کے جو کونے جھڑ گئے تھے وہ پھر سے جڑ جائیں گے ۔۔

——————————————————-
٢٧ دسمبر ١٩٨٦ بروز ہفتہ
ارے آپ کے پاس آپا کی ڈائری ۔۔۔۔۔ یوسف نے حیرانگی سے رضوان کو دیکھا جس کے سامنے ہلکے براؤن کی ڈائری کا آخری ورق کھلا ہوا تھا
یوسف مجھے کیوں نہیں بتایا اس کے جانے کا ۔۔ رضوان کی آواز جیسے کہیں ڈوب رہی تھی
آپا نے منع کر دیا تھا ۔۔ وہ لاپرواہی سے بولا
اچھا کیا تھا اس نے ۔۔ رضوان کی بات یوسف کی سمجھ میں شاید نہیں آئی تھی جبھی اس نے کوئی جواب نہیں دیا
چلیں اب ۔۔ مجھے آپا کی ڈائری انہیں پوسٹ بھی کرنی ہے جب سے کینڈا گئی ہیں ہر بار تاکید کرتی ہیں ۔ ایک طویل خاموشی کے بعد یوسف نے سے کہا ۔۔۔ رضوان اب بھی خاموش ہی تھا اور خاموشی سے گاڑی میں آ کر بیٹھ گیا ۔۔ کچھ دیر کے بعد وہ دھیرے سےمسکرا دیا ۔۔۔ اور یوسف کو آواز دیتے ہوئے کہا ۔۔ “ جلدی کرو یار ۔۔ تم کو پوسٹ آفس ڈراپ کرنے کے بعد مجھے بیل فلاور کی بیلیں بھی خریدنی ہیں ۔۔۔ یوسف جلدی سے گاڑی میں آ کر بیٹھ گیا ۔۔ اور ایک دفعہ پھر پوچھا ۔“ آپ کو آخری یہ ڈائری ملی کہاں سے “ ۔۔۔ رضوان نے دکھ سے کہا
“ ملی تو لیکن ملی بڑی دیر سے “ ۔۔۔۔۔۔۔۔

———————————————————

غار ثور کے بارے میں

غار حرا
غار حرا مکہ مکرمہ کے قریب واقع پہاڑ جبل نور میں واقع ایک غارہے جو ٹیلس کیو ہے یعنی یہ غار پہاڑ کی چوٹی پر نہیں بلکہ اس تک پہنچنے کے لیے ساٹھ ستر میٹر نیچے مغرب کی سمت جانا پڑتا ہے۔ نشیب میں اتر کر راستہ پھر بلندی کی طرف جاتا ہے جہاں غار حرا واقع ہے۔ غار پہاڑ کے اندر نہیں بلکہ اس کے پہلو میں تقریباً خیمے کی شکل میں اور ذرا باہر کو ہٹ کر ہے۔ کم و بیش نصف میٹر موٹے اور پونے دو میٹر تک چوڑے اور تین چار میٹر لمبے چٹانی تختے پہاڑ کے ساتھ اس طرح ٹکے ہوئے ہیں کہ متساوی الساقین مثلث جیسے منہ والا غار بن گیا ہے جس کا ہر ضلع اڑھائی میٹر لمبا اور قاعدہ تقریباً ایک میٹر ہے۔ غار کی لمبائی سوا دو میٹر ہے اور اس کی اونچائی آگے کو بتدریج کم ہوتی گئی ہے۔ غار کا رخ ایسا ہے کہ سارے دن میں سورج اندر نہیں جھانک سکتا۔

حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جب چالیس سال کے ہوئے تو آپ چند روز کی خوراک ساتھ لے کر جبل نور پر آتے اور اس غار میں غور و فکر اور عبادت فرماتے تھے۔ 610ء میں فرشتہ جبرائیل علیہ السلام پہلی وحی لے کر تشریف لائے۔ اس وقت سورہ العلق کی پہلی آیات نازل ہوئیں ۔ اس وقت حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی عمر تقریباًً چالیس سال تھی۔

خدا سے کلام

خدا سے کلام ۔۔۔۔

اے خدا
میں نے سنا ہے ۔۔
کرہ ارض پر ایک ایسا ملک بھی ہے
جس کی زمین
معصوم لہو سے گل رنگ رہتی ہے
جہاں ہر طرف خاک ہی اڑتی ہے
سنا ہے ۔۔۔
موت جب بھی وہاں کوئی واردات نئی کرتی ہے
بوکھلائی ہوئی رات اکثر دن چڑھے ہی آجاتی ہے
سنا ہے ۔۔
کچھ پرندے
خشک پیڑوں کی شاخوں سے لپٹےمرے پڑے ہیں
کچھ اب بھی پھولوں کے ملبے تلے کراہ رہے ہیں
اے خدا ۔۔!
میدان جنگ کی وسعت جتنی بڑھتی جا رہی ہے
تیری تخلیق کی قیمت اتنی گھٹتی جا رہی ہے
میں نے تو یہ بھی سنا ہے
پر ۔۔۔ کیا ۔۔ یہ سچ ہے
اب ۔۔۔
کوئی حیات تازہ
شام و کشمیر کے دکھوں کو نہیں سمجھے گی
عمر کے اس اختصار پر استغاثہ نہیں کرے گی

ڈاکٹر نگہت نسیم

بلاگ ممبرز متحرک ہو جائیں ۔۔ اب کام کا وقت آ گیا

عالمی اخبار کے بلاگ دوستوں کو نوید ہو کافی آرام ہو چکا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب کام کا وقت آ گیا ۔۔۔۔
خوشی کی بات یہ ہے کہ دو ماہ سے زیادہ عرصے کے بعد عالمی اخبار کی نئی ویب سائٹ‌ منظر مشہود پر آ گئی ہے ۔ویب سائٹ‌کی تیاری اور اسے آن لائن ہونے تک کی تمام روداد میں جلد ہی تفصیلی لکھونگی ۔ لیکن اس وقت آپ تمام دوستوں سے درخواست کرنی ہے کہ پہلے کی طرح ایک بار پھر عالمی اخبار کے بلاگ کو فعال بنایا جائے ، اور ہم سب اپنی فکری اور علمی گفتگو سے ایک دوسرے کے علم میں اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ سوچ بچار کی نئی راہیں‌کھولیں‌۔

اب ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ ہم اپنے مزید دوسرے احباب کو بھی بلاگ پر مدعو کریں اور اپنی سوچ اور فکر کی روشنی تقسیم کریں ۔عالمی اخبار کے ادارتی ادارے نے نوشی عقیل کو بلاد کی ماڈریٹر کے طور پر زمیداری دی ہے ۔ مجھے یقین ہے کہ وہ اپنی نئی زمیداری کو خوش اسلوبی سے سر انجام دے گی ۔۔۔ انشاللہ ۔۔

دعاگو
ڈاکٹر نگہت نسیم

آیئے ایک خط پڑھئے ۔۔ دعا کیجئے ۔۔

باجی السلام علیکم

باجی آپ سے دعا کی درخواست ہے کہ ان دنوں میں ایک زبردست پریشانی میں مبتلا ہوں میرا سترہ سالہ بیٹا محمد اسامہ رضا جو کہ نارتھ ناظم آباد میں واقع اسلامک سینٹر میں علوم اسلامیہ کے چوتھے سال کا طالب علم ہے وہ 25 دسمبر 2014 کو سینٹر سے پیپر دے کر گھر نہیں آیا ہے آج اس بات کو آٹھ دن ہورہے ہیں ہم سب شدید پریشان ہیں اس کا موبائل آف جارہا ہے اور کہیں سے کوئی سراغ نہیں مل رہا ہے میری وائف ادھ مری کیفیت سے دوچار ہے جبکہ خود میری حالت کیا ہے میں آپ کو بیان نہیں کرسکتا ۔ Continue reading آیئے ایک خط پڑھئے ۔۔ دعا کیجئے ۔۔

لٹ گئی سادات لو شام غریباں آ گئی

محرم اسلامی تقویم کا پہلا مہینہ ہے۔ اسے محرم الحرام بھی کہتے ہیں۔ اسلام سے پہلے بھی اس مہینے کو انتہائی قابل احترام سمجھا جاتا تھا۔ اسلام نے یہ احترام جاری رکھا۔ اس مہینے میں جنگ و جدل ممنوع ہے۔ اسی حرمت کی وجہ سے اسے محرم کہتے ہیں۔ اس مہینے نئے اسلامی سال کا آغاز ہوتا ہے۔

یقینا محرم الحرام کا مہینہ عظمت والا مہینہ ہے ، اسی ماہ سے ھجری سال کی ابتداء ہوتی ہے اوریہ ان حرمت والے مہینوں میں سے ایک ہے جن کے بارے میں اللہ رب العزت کا فرمان ہے : یقینا اللہ تعالی کے ہاں مہینوں کی تعداد بارہ ہے اور( یہ تعداد ) اسی دن سے ہے جب سے آسمان وزمین کواس نے پیدا فرمایا تھا ، ان میں سے چارحرمت وادب والے مہینے ہیں ، یہی درست اورصحیح دین ہے ، تم ان مہینوں میں اپنی جانوں پرظلم وستم نہ کرو ، اورتم تمام مشرکوں سے جہاد کرو جیسے کہ وہ تم سب سے لڑتے ہیں ، اورجان رکھو کہ اللہ تعالی متقیوں کے ساتھ ہے – Continue reading لٹ گئی سادات لو شام غریباں آ گئی

محترم جناب صفدر ہمدانی کا چشم کشا کالم

ہائے اس جدت پسند عہد نے انسان کو کیسا بے حس اور دوسرے سے لاتعلق کر دیا ہے۔ وسعت میں کائناتوں کے برابر یہ انسان صرف اپنی ہی ذات میں سمٹ کر رہ گیا ہے

کاش یہ انسان کُش اور احساس کُش فیس بُک ایجاد ہی نہ ہوتی تو کم از کم ایسی غم کی اطلاع دینے کی روایت برقرار رہتی ۔
پورا کالم پڑھنے کے لیئے یہاں کلک کیجئے
اسلام آباد سےعزیز بھائی اظہر الحق نسیم تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں Continue reading محترم جناب صفدر ہمدانی کا چشم کشا کالم

الَحَمدُ لِلّٰہ آج حجِ اکبر ہے ۔۔ پوری مسلم اُمہ کو مبارک ۔۔ تحریر :‌شاہد اشتیاق بیگ

الَحَمدُ لِلّٰہ
آج حجِ اکبر ہے ـ اللہ کریم پوری مسلم اُمہ کو مبارک کرے اور سنتِ ابراہیمی کے صدقے میں امت مسلمہ کی پریشانیوں کو دور فرماۓ ـ آمین ـ

آئیں سب مل کر دعا کریں کہ اللہ غفورالرحیم ہماری غلطیوں کوتاہیوں لاپرواہیوں چھوٹے بڑے تمام گناہوں کو معاف فرماۓ ـ ہمیں راہِ راست پر چلنے کی توفیق دے تا کہ ہم ذلت و رسوائی کے ان گڑھوں سے نکل سکیں جن میں ہم اپنے اعمال کی وجہ سے گر چکے ہیں ـ Continue reading الَحَمدُ لِلّٰہ آج حجِ اکبر ہے ۔۔ پوری مسلم اُمہ کو مبارک ۔۔ تحریر :‌شاہد اشتیاق بیگ

پیاری دوست شاہین حیدر رضوی اور محترم بھائی اشرف علی صاحب کو خوشیوں کا نیا سفر مبارک

خوشیوں کے قحط الرجال میں خوشی سے دیوانہ کر دینے والی خوشی نے اللہ پاک پر یقین اور بھی بڑھا دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ خوشی سے لفظوں کے ہاتھ پیر پھول گئے ہیں ۔ کچھ سمجھ نہیں آریا کہ خوشی کو مجسم کیسے لکھوں پیاری دوست ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بس ہر سانس دعا کی طرح لے رہی ہوں ۔ خوش رہو ، آباد رہو ۔۔ اپنی جنت میں پرندوں کی طرح چہکتی اور گلوں کی طرح مہکتی رہو ۔ الہی آمین
۔ شادی مبارک ۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ پاک آپ دونوں کی خوشیوں کی حفاظت فرمائے ۔۔ الہی آمین
بہت بہت پیار
بہت بہت دعائیں

ڈاکٹر نگہت نسیم

عید کا دن شکر اور شکرانے کا دن ہے۔۔ سادگی سے گزاریئے

http://www.punjabigraphics.com/images/105/eid-55.jpg
عزیز دوستو !

عید کا دن شکر اور شکرانے کا دن ہے ۔ دن کا آغاز اللہ پاک کی حمد و ثنا اور شکر کے ساتھ کریں ۔ عید کی نماز عید گاہ میں ادا کیجئے ۔ لوگوں سے محبت اور اخوت کا اظہار کیجئے ۔ اگر آپ کے کسی عزیز کا انتقال ہو گیا ہے تو آپ تلاوت اور نوافل کے زریعے انہیں بھی عافیت اور خوشی میں شامل کیجئے ۔ اگر کوئی دوست مشکل میں ہے اسے بھی اپنے ساتھ رکھئے ۔ پیارے دوستو۔۔ قناعت سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں ۔ انبیاء ، آئمہ اور صوفیا اکرام نے “ قناعت “ کو تقوی کہا ہے ۔ عید کے دن کسی کمی کا غم نہ کریں اور نہ ہی اپنے دل میں اللہ پاک سے شکوہ کریں ۔ بلکہ یہ وہ وقت ہے جب حضور پر نور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات مبارکہ کو یاد رکھنے کا ہے جو رحمت العالمین تھے پر ہر تکلیف اٹھائی ۔۔ سبحان اللہ ۔۔ ایسی قناعت ، ایسا صبر ۔۔ دوستو عید کے دن دنیا کے تمام مسلمانوں کے لئے سکھ ۔ امن اور سلامتی کی دعائیں کرنا مت بھولئے گا ۔

اے پاک پروردگار عید الفطر کے دن کو ہمارے لئے تمام مسلمانوں کے لئے سکھ سلامتی اور خوشیوں کا پیامبر بنا دیجئے ۔۔
الہی آمین

رمضان تطہیر روح و قلب ہے ۔۔ مبارک ۔۔۔ مبارک

http://jomhuri.mytehran.ir/portals/1107/Images/aaaaabbbcc847855.jpgمبارک ہو ان سب نفوس کو کہ جنکی حیات میں ایک اور ماہ رمضان المبارک آرہا ہے ۔رمضان صرف بھوکے پیاسے رہنے کا نام نہیں بلکہ تطہیر روح و قلب ہے اور اسکی ایک ایک ساعت کو روح میں اتارنے کا مطلب قلب المنقلبون ہے.

آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جنت کو شروع سال سے آخر سال تک رمضان المبارک کی خاطر آراستہ کیا جاتاہے اور خوشبوؤں کی دھونی دی جاتی ہے پس جب رمضان المبارک کی پہلی رات ہوتی ہے تو عرش کے نیچے سے ایک ہوا چلتی ہے جس کا نام مشیرہ ہے جس کے جھونکوں کی وجہ سے جنت کے درختوں کے پتے اور کواڑوں کے حلقے بجنے لگتے ہیں جس سے ایسی دل آواز سریلی آواز نکلتی ہے کہ سننے والوں نے اس سے اچھی آواز کبھی نہیں سنی۔ Continue reading رمضان تطہیر روح و قلب ہے ۔۔ مبارک ۔۔۔ مبارک

نفس رسول امیرالمومنین علی علیہ السلام کا جشن ظہور اہل اسلام کو بہت مبارک ہو

null
امیر المو مین، امام المتقین ۔ علی مر تضیٰ ، شیرِ خدا خاتم النبین حضور اکرم کے چچا زاد تھے۔جو حضرت علی کے اجداد تھے وہ حضور کے اجداد تھے۔ انکے والد وہ تھے جنہیں حضور اکرم کے ماں اور باپ دو نوں کی طرف سے سگا ہو نے کا شرف حا صل تھا۔ ماں وہ تھیں جو حضور کی پیدائش کے وقت ان کی والدہ محترمہ کی ڈھارس بنی ہو ئی تھیں ۔

مورخین کے مطابق حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی پیدائش 13رجب المرجب سنِ عا م الفیل لغایت 10ء یعنی حضور کی نبوت سے 13سال پہلے اور ہجرت سے 23سال پہلے ہوئی۔اس طرح ہجرت کے وقت آپ کی عمر 23سال تھی۔جب آپ کی ولادت ہوئی تو حضور حضرت ابو طالب کے ہمراہ سفرِ تجارت پر گئے ہوئے تھے۔ان کی والدہ محترمہ نے انکا نام اسد اور حیدر اور صفدر بھی رکھا جو کہ بعد میں ہر طرح سے اسمِ بہ مسمہٰ ثابت ہوئے۔ Continue reading نفس رسول امیرالمومنین علی علیہ السلام کا جشن ظہور اہل اسلام کو بہت مبارک ہو

نعمت نایاب ۔۔۔ میری ماں ۔۔ از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم

love u mom
اے میری مہر عالمتاب
اے میری نبض شناس
میری دنیائے فردوس میں
جھرنوں جیسی بہتی ہوئی
نرم نرم
شیریں شیریں
میری مہرو مہربان ماں
خدا کی پسندیدہ ہستی ہو تم
فرشتوں کا مقدس ترانہ ہو تم
میں ۔۔۔ Continue reading نعمت نایاب ۔۔۔ میری ماں ۔۔ از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم

پھول ۔۔۔۔ از: ڈاکٹر نگہت نسیم

flower final

پھول ۔۔۔۔

میں فطرت کا وہ کلمہ ہوں
جونیلے خیموں سے
سبز مخملیں بساط پر اترتاہے
خوش نصیب ہوں بہت
کہ
میں اعلان نسیم سحر ہوں
میں سانسوں کو مہکاتا ہوں
میں شبنم کی شراب پیتا ہوں
کوئل کے مدھر گیت سنتا ہوں
گھاس کی تالیوں پر ناچتا ہوں
لوگو مجھے دیکھو .. میں پھول ہوں
مشاہدہ نور کے لئے
بلندی کی طرف دیکھتا ہوں
اداسیوں میں بھی مہکتا ہوں
اور
کبھی مڑ کر
اپنے سائے کو نہیں دیکھتا ہوں

( مرکزی خیال ماخوز)
ڈاکٹر نگہت نسیم

جھوٹ کا تسلل – – – عین سچ (جھوٹ کا تسلسل — عین سچ)

السلام علیکم
اہل مغرب اور خصوصا انگریزوں کی ایک وصف ہے کہ وہ جس فن کے پیچھے پڑتے ہیں تو پھر اُسے کمال تک پہنچاتے ہیں ، ایسا ہی کمال اُنہوں نے جھوٹ در جھوٹ اور کسی کی کردار کشی کے فن میں بھی حاصل کر لیا ہے ، بلکہ اب تو اُن کے دیکھا دیکھی اس فن سے اہل مشرق کے بھی کچھ لوگ استفادہ کر رہے ہیں ، ملائشیا کا ایک مسافر طیارہ دوران پرواز لاپتہ ہو گیا ، ابتدائی دو تین روز اُسے تلاش کرنے میں گزرے پھر اچانک برطانوی اور امریکی میڈیا کو علم ہوا کہ جہاز کو طالبان نے اغوا کر لیا ہے اور اب وہ پاکستان کے علاقے وزیرستان میں موجود ہے Continue reading جھوٹ کا تسلل – – – عین سچ (جھوٹ کا تسلسل — عین سچ)

محترم المقام جناب صفدر ہمدانی کے لئے دعائے صحت

معزز احباب !
السلام و علیکم
amman yajeeb
نومارچ کو صفدر ھمدانی ہسپتال سے گھر منتقل ہو گءے دو سے چھ ہفتے کے مکمل آرام کی تاکید کے ساتھ
چار مارچ کو لندن میں ہم سب کے پیارے اور میر کارواں جناب صفدر ھمدانی کا بائی پاس لندن وقت کے مطابق ایک بجے شروع ہوا اور لگ بھگ 6 گھنٹے سے زیادہ جاری رہا. اس سے قبل بیس فروری بروز جمعرات لندن کے وقت کے مطابق صبح اٹھ بجے عالمی اخبار کے میر کارواں محترم المقام جناب صفدر ہمدانی کے دل کی اینجیوگرافی کے ساتھ سٹینٹ کا آپریشن تھا ۔۔ جیسے ہی وہ اپنی صحافتی اور خانگی زمیداریوں کو سنبھالنے کے قابل ہو جائیں گے انشاللہ دوبارہ ہم سب سے مخاطب ہونگے ۔

آپ سب دوستوں سے درخواست ہے انکے آپریشن کی کامیابی اور صحت کاملہ و عاجلہ کے لیئے دعا فرمائیں ۔۔ جزاک اللہ Continue reading محترم المقام جناب صفدر ہمدانی کے لئے دعائے صحت

امن کو ایک موقع اور دیں ۔

السلام علیکم
وزیر اعظم صاحب کی طرف سے تحریک طالبان پاکستان سے مذاکرات کے لیے کمیٹی پر ہر طرف سے اطمعنان کا اظہار ہو رہا ہے ، خود تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد کہہ چکے ہیں کہ اُنہیں مذاکراٹی کمیٹی پر کسی قسم کے تحفظات نہیں ہیں ، اور Continue reading امن کو ایک موقع اور دیں ۔