قابل اجمیری مرحوم اردو ادب کا ایک معروف نام ہیں، جنکے بیسیوں اشعار و غزلیں زبان زد عام ہیں۔ انکے فرزند جناب ظفر قابل نے انکی ایک ای بک ( برقی کتاب) جناب منظور قاضی صاحب کو بھجوائی ہے۔ انکی خواہش پر اس کتاب کے کے دو صفحات قارئین کی نظر ہیں۔ موقع ملا تو انشاء اللہ اس کتاب سے مزید کلام بھی پیش خدمت کیا جائے گا۔



میں جناب سید مصباح حسین جیلانی صاحب کا ممنون ہو ں کہ انہوں نے قابل اجمیری کی کتاب : “عشق انسان کی ضرورت ہے ” کو عالمی ا|خنبار کی زینت بنا یا.
میرے کمپیوٹر کے نقا|ءص اور میری کم علمی کے باعث میں یہ کام نہ کرسکا .
قارین کو یاد ہوگا کہ کئ ماہ قبل میں قابل اجمیری مرحوم پرعالمی ا|خبار مٰیں ایک بلاگ لکھ چکا ہوں جس میں قابل اجمیری کی سوانح کے علاوہ اسکے اشعار بھی موجود تھے .
میرے اس بلاگ کو انکے بیٹے ظفر قابل نے ذپن میں رکھکر مجھے دو دن پہلے یاد بھی کیا اور اپنے والد کے کلام کے مجموعہ کی کتاب ” عشق انسان کی |ضرورت ہے ” جو اس نے بڑی محنت اور مشقت سے انٹرنیٹ پر شایع کیا اور وہ کتاب مجھے ای میل کے ذریعہ بھجوا نے کی خوش خبری سنائی .ا .
اب جناب مصباح حسین جیلانی صاحب اس کتاب کے اقتباسات شایع کررہے ہیں جس کو دیکھکر قابل اجمیری کی روح جناب مصباح |حسین جیلانی صاحب کا شکریہ ادا کررہی ہوگی.
قابل اجمیری اردو کا ایک عظیم شاعر تھا جو جوانی میں دق سے سسک سسک کرمرگیا مگر اپنی اردو شاعری میں اپنے دکھ کا کبھی اظہار نہیں کیا
اس کی شاعری کی عظمت اور ندرت کو اسکے ہم عصر شعرا نے دل و جان سے سراہا .
قابل اجمیری کی اس کتاب کے اوراق کو سید مصبا|ح |حسین جیلانی صاحب اپنے اس بلاگ میں شایع کرتے ر ہیں تو قابل اجمیری کی شاعری کے شیدائیوں پر بہت بڑا احاسن ہوگا .
اگر ظفر قابل صاحب اس بلاگ کو پڑھرہے ہیں تو ان سے گذارش ہے کہ وہ |ضرور اپنے والد مرحوم کی شاعری اور انکی زندگی ( اور خود اپنی زندگی ) کے بارے میں اس بلاگ مین کچھ نہ کچھ ( یونی کوڈ میں ) لکھتے رہینگے. |
فقط:
خیر اند یش
منظور قاضی
جرمنی سے
قابل اجمیری میرے پسندیدہ شاعر ہیں اور بیشتر کلام کلیات ِ قابل کی شکل میں موجود ہے۔ ایک عام خیال یہ ہے کہ قابل غزل کے شاعر ہیں لیکن یہ تاثر غلط ہے۔ قابل نے جتنی عمدہ غزلیں کہی ہیں اتنی ہی عمدہ نظمیں بھی کہی ہیں۔ میں نے قاضی صاحب کے قابل پر بلاگ میں قابل کی قائدِ اعظم اور اقبال پر نظمیں پیش کی تھیں اور یہاں اُنکا مزید کلام پیش کرونگا۔ قابل کا انتقال 1962 میں 31 سال کی عمر میں ہوا۔ قابل کو زندگی اگر مہلت دیتی اور وہ آج زندہ ہوتا تو میں سمجھتا ہوں اسوقت وہ اردو کا سب سے بڑا شاعر ہوتا ۔ قابل کا خاصا کلام مجھے زبانی یاد ہے۔ انکے چند اشعار پیش کرنے کی جسارت کررہا ہوں۔
دل جل رہا ہے چھاؤں میں دیوارِ یار کی
تصویر کھینچ لو ستمِ روز گار کی
۔۔۔۔۔
اس حسنِ اتفاق کی تصویر کھنچ لو
ہوتے ہیں ایک ساحل و طوفاں کبھی کبھے
ہم بیکسوں کی بزم میں آئیگا اور کون
آبیٹھتی ہے گردشِ دوراں کبھی کبھی
۔۔۔۔۔
پھر کوئ کمبخت کشتی نظرِ طوفاں ہوگئ
ورنہ ساحل پر اُداسی اسقدر ہوتی نہیں
۔۔۔۔۔۔
کیا ہوا ہمکو اگر دو چار موجیں چھو گئیں
ہم نے بدلا ہے نہ جانے کتنے طوفانوں کا رخ
—————
سابقہ بلاگ کے لیئے یہاں کلک کریں۔
مزیدکلام کے لئے یہاں کلک کیجیئے۔
http://www.aalmiakhbar.com/blog/wp-content/uploads/2010/06/qabilajmeri23.gif
اور
http://www.aalmiakhbar.com/blog/wp-content/uploads/2010/06/qabilajmeri24.gif
ماشا اللہ ، سبحان اللہ ، جزاک اللہ : سید مصباح حسین جیلانی صاحب نے تو اس بلاگ میں قابل اجمیری کی شاعری کے خزانے پیش کرکے کمال کردیا ۔
اللہ سید مصباح حسین جیلانی صاحب کو اس نیک کام کی نیک جزا دے ۔ آمین
اگر ظفر قابل صاحب اس بلاگ پر یونی کوڈ میں کوئی تبصرہ لکھنا چاہتے ہیں تو ضرور عطا کریں۔
دوسرے تمام ، اردو کے اور خاص طور پر قابل اجمیری کی شاعری کے دلدادہ بھی اس بلاگ میں اپنے تبصرے شامل کرسکتے ہیں۔
فقط
منظور قاضی
جرمنی سے
میرے محترم ظفر جعفری صاحب نے قابل اجمیر ی کے ساتھ جس قدر محبت اور شفقت کا اظہار کیا وہ قابلِ دید اور قابلِ تقلید ہے۔
ماشا اللہ ؛
فقط
منظور قاضی
از جرمنی
سب سے پہلے مین عالمئ اخبار کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہون جنہون نے پوری دنیا تک میرے والد کا کلام اور سوانح پہنچانے کی سعی کی چونکہ ینی کوڈ مین پہلی بار استعمال کر رہا ہون تو لکہنے مین کافی دشواری ہو رہی ہے آپ کو جابجا غلطیان نظر آین گی امید ہے کہ نظر انداز فرمائن گے
سب سے پہلے تجویز ہے کہ بلاگ کا عنوان اردو کے علاوہ رومن مین بہی دیا جاے تاکہ سرچ انجن تک آ سکے مین اتنی دیر تک جو نہین دیکہ پایا اسکی وجہ یہی تہی گزشتہ بلاگون کی وجہ سے جناب معسود قاقی جناب امین ترمزی جناب ظفر جعفری جناب صفدر ہمدانی کی قابل فہمی سے آگہی ہوی مین آپ سب حضرات کا بےحد مشکور ہون
شمس الحسن فاروقی نے قابل کی شاعری پر کہا ہے کہ اچہی اور سچی شاغری ہمیشہ زندہ رہتی ہے اور آج یہ سب دیکہ کر یقین آتا ہے کہ پچاس سال بعد بہی اتنے لوگ محبت کرنے والے ہین آپ کو یہ جان کر خوشی ہو گی کہ آج کی نوجوان نسل بہی قابل کے کلام سے متاثر ہے مین ان نوجوانون کے تبصرے بہی پیش کرون گا اور قابل فہمی کی جو کوششین ہوتی رہین ہین وہ بھی پیش کرتا رہون گا
آپ کو یہ جان کر بہی خوشی ہو گی کہ ابہی کچہ کلام باقیات قابل کی شکل مین باقی ہے جو مین نے تلاش کر کے جمع کیا ھے اور جیسے ہی خدا نے مجہے موقع دیا اشاعت پزیر ہو گا۔مین مزید بہی لکہتا رہون گا۔
ظفر قابل
۔zafar qabil
canvaskhi@yahoo.com
923002175990
ظفرقابل بھائی آپ کی آمد پر اتنی خوشی ہو رہی ہے کہ بیان سے باہر ہے .. بھائی شکریہ کیسا .. یہ تو اللہ تعالی کا فضل ہے اور اس کا فیصلہ بھی کی جسے چاہے عزت دے اور جب چاہے اسے شہرت کی بلندیوں پر لے چلے اور پھر اور زیادہ مہربان ہو جائے تو انہی میں سے کچھ ناموں کو زندہ رکھ دے … قابل اجمیری صاحب کا شمار بھی انہی برگزیدہ اور محبوب ہستیوں میں ہوتا ہے جسے مالک نے زندہ رہ جانے والوں میں شمار کیا ہے .. اس میں ہمارا کیا کمال اور ہماری کیا مجال .. ہاں شکریہ بےشک ہمیں منظور بھائی اور مصباح بھائی کا ادا کرنا ہے جن کی کاوشیں سے اس بلاگ کی رونق ہیں ۔۔۔۔ آیئے ہم سب مل کر انہیں بہت بہت شکریہ کہتے ہیں ۔۔
بھائی ظفرقابل آپ کی آمد کی بے انتہا خوشی ہے .. ایک بار پھر جی آیاں نوں …
یہ تو اک اعزاز ہے کہ عالمی اخبار کی توسط سے ہم بھی آج اس عظیم انسان کو یاد کر رہے ہیں۔ آج جب میں صفحات اپ لوڈ کر رہا تھا تو میرا جی اور سر حقیقت میں قبلہ ہمدانی صاحب کے لئے شکر کے ساتھ جھک گئے تھے، کہ انہوں نے ہمیں ایسا بہترین پلیٹ فارم (دادگاہ) مہیا کر رکھی ہے، جہاں ہم بیسیوں صفحات لگاتے رہتے ہیں اور رہیں گے۔ اتنی بہترین ویب سائیٹ مہیا کرنے پر میں واقعتا بابا جانی کا مشکور ہوں تو ساتھ ساتھ تکنیکی مہارتوں کے سپوت جناب امجد شیخ اور زرقاء بہن کا بھی مشکور ہوں جنہوں نےبلاگنگ اور اخبار جیسے مشکل کام کوہم سب کے لئے آسان بنا دیا ہے۔
میں نے جناب قابل اجمیری کی مکمل کتاب ونزپ پروگرام کی مدد سے اس لنک پر رکھ دی ہے۔ احباب اس پوری کتاب کو ڈاؤن لوڈ کر کے ان زپ کر سکتے ہیں۔ یہ جِف پکچر فارمیٹ کی شکل میں ہے اورکسی پی تصویری پرگرام میں بآسانی کھل جائے گی۔
جن کے پاس ون زپ نہ ہو، وہ اس لنک سے حاصل کر سکتے ہیں۔
http://download.cnet.com/WinZip/3000-2250_4-10003164.html
میں نے خود یہ پروگرام یہیں سے لیا ہے، تاہم یہ ملحوظ نظر رہے کہ ادارہ یا فدوی کسی بھی بیرونی سائیٹ کے مواد اور سیکیورٹی امور کا ذمہ دار نہیں ہوگا۔
قابل اجمیری صاحب کی کتاب یہاں سے ڈاؤن لوڈ کریں۔
http://www.aalmiakhbar.com/blog/wp-content/uploads/2010/06/book.zip
مصباح بھائی آپ بلکل درست کہہ رہے ہیں کہ ہمیں اپنے اصل محسنوں کا شکریہ بھی ادا کرنا چاھیئے جنہوں نے ہمیں یہ پلیٹ فارم مہیا کیا .. میں تہہ دل سے بابا جی ، امجد بھائی اور زرقا کی ممنون ہوں کہ ان سب کی کوششوں سے آج ہم اس قابل ہوئے ہیں کہ ایسی جید ہستیوں کی بارے میں جان سکے .. ان سے مل سکے .. اللہ تعالی ہم سب کی توفیقات میں برکت عطا کرے اور ہمیں شکر گزاروں میں رکھے ..آمین
آپی آپ اس شکرئیے میں شامل ہیں۔۔۔۔ورنہ مجھ ایسے کہاں اتنی ہمت رکھتے تھے کہ کوئی کام کر پاتے۔ اتنی ساری انجمن آپ ہی نے تو اکٹھی کی اور زندہ رکھی ہوئی ہے۔۔۔اخبار کو سولہ سولہ گھنٹے کام کر کے زندہ رکھنا اور میرے سے سست آدمی کو ساتھ لیکر چلنا تو آپ کا ہی فن ہے۔ بابا جانی کے کمالات میں آپ جیسی محنتی ایڈیٹر کا چناؤ بھی شامل ہے۔۔۔۔شکریہ تو آپ کا بھی ہے۔
عالمی اخبار اس اعزاز کے لئے یقیناً قابل مبارکباد ہے کہ اس کے کچھ بلاگ نگاروں اور اتظامیہ کی ادبی دوستی کے سبب ایک بہت اچھے شاعر کے کلام اور حالات زندگی سے انتہائی معتبر ذریعے سے معلومات اہل ادب تک پہنچ سکیں گی . جس کے لئے انتظامیہ کے علاوہ قاضی صاحب اور میرےکرم فرما مصباح صاحب یقیناً مبارکباد کے قابل ہیں ظفر صاحب کا ایک برقنامہ میرے پاس دو دن قبل آیا تھا اور آج انہوں نے ٹیلیفون کرکے یہ اطلاع بھی دی کہ انہوں نے عالمی اخبار کے بلاگ کو دیکھا اور اس میں لکھا بھی ہے ظفر صاحب قابل اجیمیری مرحوم کے اکلوتے صاحبزادے ہیں ان کی سن اکسٹھ کی پیدائش ہے اور یہ ایک پریس چلاتے ہیں حیدرآباد سندھ میں مقیم ہیں جہاں ان کے والد کی زندگی کا بیشتر حصہ گزرا انکی والدہ ماجدہ کا انتقال 2005 میں ہوا اور انہوں نے اپنی زندگی کے بیالیس سال صرف قابل اجمیری کی بیوہ کہلانے کے اعزازاور اپنے بیٹے کی نگہداشت میں گذار دئیے گو کہ ان کی ازدواجی زندگی کی عمر صرف تین سال تھی اور اور وہ اس وقت کم عمر ہی تھیں .باقی بہت سی باتیں ظفر صاحب کی زبانی سنئے گا ایک اہم بات تمام سامعین کو یہ بتانا چاہتا ہو کہ انشااللہ بیس جون کو ظفر صاحب کا لائیو پروگرام اپنے ریڈیو سے پیش کروں گا گو کہ میں اس سے قبل بھی قابل اجمیری صاحب پر پروگرام کر چکا ہوں لیکن یہ پروگرام یقیناً سننے کے قابل ہوگا جس کی تفصیل آئندہ جلد بتاؤں . اس سلسلے میں مصباح صاحب کا شکریہ ادا کرنے کے لئے کل ایک برقنامہ انہیں روانہ کیا تھا جس میں کتاب کے صفحہ 38 پر کتابت کی غلطی کی نشاندہی بھی کی تھی امید ہے وہ درست کرلی جائے گی. باقی آئندہ. امید ہے ظفر صاحب مزید تفصیل لکھیں گے . عالمی اخبار کی یہ ادبی خدمت نہ صرف ظفر صاحب بلکہ تمام ادب دوستوں کے لئے باعث مسرت ہے جس کے لئے منتظمیں کی کاوش قابل احترام ہے . منتظمین تمام اہل ادب کا شکریہ قبول کریں. باقی ائندہ. آپ سب کی محبتوں کا امین
قابل ظفر صاحب
آپکا تبصرہ پڑھ کر مجھے یہ محسوس ہورہا ہے کہ آپ اپنے والد کی عظمت و شہرت سے نا واقف ہیں۔ قابل اجمیری ہماری نس نس میں رچے ہوئے ہیں۔ ایسے شاعر شاذو نادر پیدا ہوتے ہیں۔ قابل اجمیری، فیض، جگر اور قمر جلالوی میرے پسندیدہ شاعر ہیں کیونکہ مجھے کلاسیکی اور روایتی شاعری پسند ہے۔ اگر کوئ مجھے یہ بتانے پر مجبور کردے کہ میرا سب سے زیادہ پسندیدہ شاعر کون ہے تو میں قابل اجمیری کہونگا اور میرے احباب یہ بات جانتے ہیں۔ قابل کے چند اشعار
ہم اُنکے تغافل کو ادا جان رہے ہین
اس بات کا کچھ لوگ برا مان رہے ہین
دیکھا تھا کبھی دیدہء جاناں بھی تجھکو
اے گردشِ دوراں تجھے پہچان رہے ہین
اے حضرتِ ناصح ہمیں الزام نہ دیجے
اس عمر میں کچھ آپ بھی نادان رہے ہیں
قابل کا کلام اُنہیں زندہ رکھنے کیلئے کافی ہے۔ وہ اہلِ سخن کا سہارا ہیں۔ اُنہیں کسی سہارے یا پروموشن کی ضرورت نہیں ۔ نہ قابل جیسا شاعر اُن سے پہلے پیدا ہوا نہ بعد میں۔ اگر زندگی انہیں مہلت دیتی تو وہ استاد الاساتذہ کہلاتے۔
میں ظفر جعفری صاحب کے تبصرے کی تائید کرتا ہوں ۔
دنیا میں اردو جہاں جہاں پھیلے گی وہا ں قابل اجمیری کا کلام بھی ضرور پہنچےگا ۔
۔۔۔۔۔۔۔
امید کہ ظفر قابل صاحب اپنے والد کے غیر مطبوعہ کلام کو اس بلاگ میں ضرور شایع کرینگے۔ اگر پورا نہیں تو تھوڑا سا ہی کافی ہے۔
۔۔۔۔۔
افسوس کہ امین ترمذی صاحب کا ریڈیو پروگرام ہم یورپ والے اس لیے سن نہیں پاتے کہ وہ اتوار کی رات کے (جرمنی کے وقت کے مطابق ) دو بجےسے شروع ہوا کرتا ہے۔
اگر امین ترمذی صاحب ظفر قابل صاحب کے 20 جون کےانٹرویو کی لنک بنا کر اس بلاگ میں چسپاں کردیں تو ہم سب اسے سن سکینگے۔
۔۔۔۔
عالمی اخبار کے اربابِ اختیار قابلِ مبارکبا د ہیں کہ انہوں نے قابل اجمیری کے اس بلاگ کو بڑی ہی خوبصورتی سے پیش کیا ۔
میں تو بقول سعدی :
اک خاکم کہ ہستم
فقط :
منظور قاضی
از جرمنی
جون جون بلاگ آگے بڑہ رہا ہے اپنی کم مائیگی کا احساس ہو رہا ہے جہان اتنے اہل دانش اپنے تبصرے کر رہے ہین
میری کچہ مجبوری یہ بہی ہے کہ تمام مواد مین نے کراچی میں رکہا ہے جہاں میں پیر سے جمعہ تک رہتا ہوں مگر اس ہفتے کراچی نہیں جا سکا ہوں اور حیدرآباد میں ہوں لیکن میں اگلے ہفتے ضرور عیر مطبوعہ کلام آپ کی خدمت میں پیش کروں گا
البتہ کچہ ایسی باتوں کی تردید ضرور کروں گا جو نعض سوانح نگاروں نے غلط لکہ دیں ہیں۔بعض سوانع نگاروں نے ہمارا خاندان پیرزادگان اجمیر سے جوڑا ہے تو بعض نے دیسوالی خاندان سے مگر یہ سب غلط ہے ہمارا خاندان شیخ تہا اسکا ثبوت میرے پاس موجود 1912 سے 1947 تک کے اسٹام پیپرز ہیں جن میں قوم شیخ لکہی ہے
ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسی ہر غلط بات کی تردید کی جاے جو مستقبل کے مورخ کو کنفیوز کرے ایسا ایک تحقیقی مضمون میں نے کلیات قابل کے لیے لکہا ہے
محترم ظفر جعفری سے مود بانہ گزارش ہے کہ یہ اشعار
ہم اُنکے تغافل کو ادا جان رہے ہین
اس بات کا کچھ لوگ برا مان رہے ہین
دیکھا تھا کبھی دیدہء جاناں بھی تجھکو
اے گردشِ دوراں تجھے پہچان رہے ہین
اے حضرتِ ناصح ہمیں الزام نہ دیجے
اس عمر میں کچھ آپ بھی نادان رہے ہیں
میری نظر سے پہلی بار گزر رہے ہیں ان اشعار کا ماخد کیا ہے کیونکہ میرے لیے یہ بہت اہم ہے
طفر قابل
غیر مدون کلام قابل
دو قطعات
موازنہ
بیسوا کی دوکان پر اے دوست
صرف جسم حقیر بکتا ہے
اور بازار میں سیاست کے
پیشوا کا ضمیر بکتا ہے
روزنامہ نواے پاکستان حیدرآباد
24 مارچ 1949
سندہ میں
یوں تو بزمیں کئی ہیں ادارے بھی
ہاں مگر صحت نگاہ نہیں
سب کو شہرت عزیز ہے قابل
کوی اردو کا خیر خواہ نہیں
فیس بک پر ایک صفحہ
http://www.facebook.com/#!/pages/qabil-ajmeri/307871519741?ref=ts
AAP APNE RAQEEB HOTE HAIN-NUSRAT FATEH ALI KHAN
تم نہ مانو مگر حقیقت ہے
پنکچ اداس
http://www.bomb-mp3.com/download.php?mp3_id=2049360&title=www.songs.pk+-+Tum+Na+Mano+Magar
ظفرقابل صاحب نے مندرجہ بالا پروگراموں کو اپنے تبصروں میں شایع کرکے اس بلاگ کی افادیت میں کافی اضافہ کردیا ۔
۔۔۔۔۔۔
انکا یہ کہنا کہ ظفر جعفری صاحب کے لکھے ہوئے قابل کے اشعار ان کے لیے نئے ہیں کچھ عجیب سا معلوم ہوتا ہے۔ ہم سب کو یقین ہے کہ ظفر جعفری صاحب نے پوری تحقیق کے ساتھ اپنی بات کہی ہوگی اور وہ ضرور بتادینگے کہ ان اشعار کو انہوں نے قابل سے خود کسی مشاعرہ میں سبا ہے یا پھر کسی رسالے میں پڑھا ہے ۔۔
۔۔۔۔۔۔
ظفر قابل صاحب نے اپنےتبصروں میں اپنےوالد کا غیر مدون کلام عطا کرکے اس بلاگ کی رونق اور اہمیت اور بڑھادی ۔
امید کہ وہ کراچی پہنچ کر قابل اجمیری کا مزید غیر مطبوعہ کلام اس بلاگ میں عطا کردینگے۔
۔۔۔۔۔
ایک بات ان سے یہ کہنی ہےکہ اب تک اس بلاگ میں کسی سوانح نگار نے قابل اجمیری کے متعلق وہ باتیں نہیں کہیں جن کا انہوں نےاپنے تبصروں میں تذکرہ بھی کیا اور انکی تصحیح اور تردید بھی کی ۔
ظفر قابل صاحب سے گذارش ہے کہ اگر کوئی سوانح نگار “ ِاس بلا گ“ میں انکے والد کے متعلق کچھ غلط بات کہے تو اسکی تصحیح ضرور کریں ورنہ کسی سوانح نگار کی کسی اور جگہ کہی ہوئی غلط بات کی تردید اس بلاگ میں کرنے سے یہ موجودہ بلاگ خواہ مخواہ کی ذیلی باتوں کے طرف چلا جائے گا ۔
( ویسے یہ بلاگ انکے والد کے کلام اور اسکی زندگی پر تبصروں کے لیے ہے، وہ اس سلسلے میں ایک بیٹے کی حیثیت سےجو لکھینگے وہ مستند سمجھا جائےگا )
بہر حال اس بلاگ کے ناظم سید مصباح حسین جیلانی صاحب ہیں اور وہی اس بلاگ کے اصولوں کا تعین کرسکتے ہیں ۔
میں ایک مبصر کی حیثیت سے اس سےزیادہ کچھ نہیں کہ سکتا ۔
مگر میں ظفر قابل صاحب کو اس بلاگ میں اپنے تبصروں اور پروگراموں سے چار چاند لگانےپر انکو مبارکباد دیتا ہوں ۔
فقط:
منظور قاضی
از جرمنی
فقط:
ظفر قابل صاحب
یہ غزل جسکے تین اشعار یہ ہیں
ہم اُنکے تغافل کو ادا جان رہے ہین
اس بات کا کچھ لوگ برا مان رہے ہین
دیکھا تھا کبھی دیدہء جاناں بھی تجھکو
اے گردشِ دوراں تجھے پہچان رہے ہین
اے حضرتِ ناصح ہمیں الزام نہ دیجے
اس عمر میں کچھ آپ بھی نادان رہے ہیں
میرے ایک دوست اردو کالج میں ترنّم سے پڑھتے تھے۔یہ غزل قابل اجمیری کے نام سے مشہور تھی۔ اس غزل میں سات آٹھ اشعارتھے اور مقطع میں قابل کا نام تھا۔ مقطع مجھے یاد نہیں ہے۔
حیرتوں کے سلسلے سوزِ نہاں تک آگئے
ہم نظر تک چاہتے تھے تم تو جاں تک آگئے
نامرادی اپنی قسمت ، گمرہی اپنا نصیب
کارواں کی خیر ہو ، ہم کارواں تک آگئے
انکی پلکوں پر ستارے اپنے ہونٹوں پر ہنسی
قصہء غم کہتے کہتے ہم کہاں تک آگئے
اپنی اپنی جستجو ہے اپنا اپنا شوق ہے
تم ہنسی تک بھی نہ پہنچے ہم فغاں تک آگئے
زلف میں خوشبو نہ تھی یا رنگ عارض میں نہ تھا
آپ کس کی آرزو میں گلستاں تک آگئے
رفتہ رفتہ رنگ لایا جذبِ خاموشیءِ عشق
وہ تغافل کرتے کرتے امتحاں تک آگئے
خود تمہیں چاکِ گریباں کا شعور آجائے گا
تم وہاں تک آتو جاوء ، ہم جہاں تک آگئے
آج قابل میکدے میں انقلاب آنے کو ہے
اہلِ دل اندیشہء سود و زیاں تک آگئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم نہ مانو، مگر حقیقت ہے
عشق انسان کی ضرورت ہے
جی رہا ہوں اس اعتماد کے ساتھ
زندگی کو مری ضرورت ہے
حسن ہی حسن، جلوے ہی جلوے
صرف احساس کی ضرورت ہے
اس کے وعدے پہ ناز تھے کیا کیا
اب دروبام سے ندامت ہے
اس کی محفل میں بیٹھ کر دیکھو
زندگی کتنی خوبصورت ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خیالِ سود نہ اندیشہ زیاں ہے ابھی
چلے چلو کہ مذاقِ سفر جواں ہے ابھی
رکا رکا سا تبسم، جھکی جھکی سی نظر
تمہیں سلیقہ بے گانگی کہاں ہے ابھی
سکونِ دل کی تمنا سے فائدہ قابل
نفس نفس غمِ جاناں کی داستاں ہے ابھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تضادِ جذبات میں یہ نازک مقام آیا تو کیا کرو گے
میں رو رہا ہوں تم ہنس رہے ہو میں مسکرایا تو کیا کرو گے
مجھے تو اس درجہ وقتِ رخصت سکوں کی تلقین کر رہے ہو
مگر کچھ اپنے لئے بھی سوچا میں یاد آیا تو کیا کرو گے
کچھ اپنے دل پہ بھی زخم کھاؤ مرے لہو کی بہار کب تک
مجھے سہارا بنانے والو، میں لڑکھڑایا تو کیا کرو گے
ابھی تو تنقید ہو رہی ہے مرے مذاقِ جنوں پہ لیکن
تمہاری زلفوں کی برہمی کا سوال آیا تو کیا کرو گے
ابھی تو دامن چھڑا رہے ہو، بگڑ کے قابل سے جا رہے ہو
مگر کبھی دل کی دھڑکنوں میں شریک پایا تو کیا کرو گے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فیس بُک سے حاصل کردہ مواد
قابل اجمیری نے اگرچہ بہت کم عمر پائی لیکن اس کم عمری ہی میں انھوں نے جدید غزل پر اپنی قابلیت کی دھاک جما دی تھی۔
قابل 27 اگست 1931ءکو اجمیر شریف میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام عبد الرحیم تھا۔ وہ شاعروں اور تخلیقی فن کاروں کے پسندیدہ مرض یعنی تپ دق میں مبتلا ہوئے اور 30 اکتوبر 1962ء کو عین جوانی میں اس جہان فانی سے رخصت ہو گئے۔ اس طرح انہیں دنیا میں رہنے کا صرف 31 برس کا عرصہ ملا اوراس میں بھی شاعری کے لیے بمشکل دس بارہ برس، لیکن انہیں جو وقت ملا اس میں انہوں نے جدید غزل کو بہت کچھ دیا۔ ان کی زندگی کا 31 برس کا عرصہ نہایت ہی ہنگامہ خیز اور پر شور تھا۔ ’’کلیات قابل اجمیری‘‘ میں شہزاد احمد نے لکھا ہے:
’قابل اجمیری کی ذاتی زندگی ایک طویل المیہ تھی لوگ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ جب ڈاکٹر نے انہیں سیب کھانے کے لیے مشورہ دیا تھا تو ان کے پاس سیب خریدنے کے لیے پیسے نہیں تھے۔ مگر اس کے باوجود اس ظالم دنیا میں ایک خاتون ایسی ضرور موجود تھیں جس نے کوئٹہ کے سینی ٹوریم میں قابل کی شریک حیات بننے کا فیصلہ اس وقت کیا تھا جب اسے معلوم تھا کہ ان کے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔ پھر اس خاتون نے قابل اجمیری کے لیے ترک مذہب کر کے اسلام بھی قبول کیا تھا۔‘
اس خاتون کے سبب ہی قابل اجمیری کے دو شعری مجموعے ’’رگ جاں‘‘ اور’’ دیدہ بیدار‘‘ شائع ہو سکے۔ ورنہ شاید قابل کا نام کہیں اوراق میں گم ہو چکا ہو تا۔ کیونکہ وہ اپنے مجموعہ کلام شائع کرانے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے تھے۔ بعد میں سلیم جعفری نے سنہ 1992میں کلیات قابل ‘‘شائع کی۔ ایک صحافی توصیف چغتائی نے بیگم قابل اجمیری کا انٹرویو لیا تھا۔ جس میں انہوں نے لکھا تھا:
’’میں نے جگہ جگہ انہیں تلاش کیا اور آخر کار میں نے انہیں ملٹری ہسپتال میں پا ہی لیا۔ اس لمحہ میرا جی چاہا کہ میں ان سے کہوں مادام آپ بہت عظیم ہیں آپ نے سب کچھ جانتے ہوئے بھی اپنے ہاتھ لہو میں بھر لیے ایک شاعر اور وہ بھی اردو ادب کا پھر ٹی بی کا مریض اور اس کے لیے اتنی عظیم قربانی! سب کچھ جانتے ہوئے بھی آپ نے اسے کیوں اپنا لیا۔ لیکن میں ان سے کچھ نہ کہہ سکا دراصل وہ قابل کے ذکر میں ایسی کھوئی ہوئی تھیں کہ میں سنتا رہا اور وہ کہتی رہیں۔‘
قابل صاحب سے ان کی ملاقات ریلوے کے سینی ٹوریم میں سنہ 1960 میں ہوئی تھی جب انہوں نے محسوس کیا کہ شاعر یاس و آس کا شکار ہے اور اس کے حالات نازک ترین ہیں تب انہوں نے شاعر کو موت کے منہ سے بچانے کا پورا عزم کیا اور دن رات اس کی صحت یابی کی کوشش کرتی رہیں یہاں تک کہ شاعر نے کروٹ لی اور محسوس کیا کہ اس کا کھویا ہوا اعتماد پھر واپس آگیا ہے اور یہ کہ زندگی بہت حسین ہے اور اسے جینا چاہیئے۔
جی رہا ہوں اس اعتماد کے ساتھ
زندگی کو مری ضرورت ہے
اور اس کے آگے نرگس بیگم قابل اجمیری کہتی ہیں:
’میں نے محسوس کیا کہ قابل بے حد دکھی انسان ہیں۔ ایسے دکھی جن کے پاس غم اور فکر دوراں کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ اسی لیے میں نے سوچا کہ شاید میرا سہارا ان کی معذور زندگی میں نیا خواب بکھیر دے چنانچہ میں نے ان سے شادی کر لی …. ہم لوگ کوئٹہ سے حیدرآباد چلے آئے قابل صاحب کو میں نے گھر ہی پر رکھا اور علاج برابر جاری رہا۔‘
ایک ایسا شاعر جس کی پوری زندگی المیہ رہی ہو اس سے درد و کرب کے علاوہ اور کسی چیز کی کیا توقع کی جا سکتی ہے لیکن ان سب کے باوجود قابل زمانہ میں رونما ہونے والے تغیرات سے بے خبر نہیں تھے۔ جن کی باز گشت ان کے اشعار میں سنائی دیتی ہے۔ قابل نے درد و کرب کی کہانیاں تو بیان کی ہی ہیں مگراس کے ساتھ ساتھ دنیا کے تغیرات کو بھی اپنی گرفت میں لیا ہے۔ اسی لیے قابل کی شاعری آج بھی زندہ ہے اور شاید وقت گزرنے کے ساتھ اس کی معنویت میں اضافہ ہوتا جائے گا:
تم نے مسرتوں کے خزانے لٹا دیے
لیکن علاجِ تنگیِ داماں نہ کر سکے
اک والہانہ شان سے بڑھتے چلے گئے
ہم امتیاز ساحل و طوفاں نہ کر سکے
راستا ہے کہ کٹتا جاتا ہے
فاصلہ ہے کہ کم نہیں ہوتا
وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا
ہم بدلتے ہیں رخ ہواؤں کا
آئے دنیا ہمارے ساتھ چلے
خیالِ سود نہ اندیشہ زیاں ہے ابھی
چلے چلو کہ مذاقِ سفر جواں ہے ابھی
رکا رکا سا تبسم، جھکی جھکی سی نظر
تمہیں سلیقہ بے گانگی کہاں ہے ابھی
سکونِ دل کی تمنا سے فائدہ قابل
نفس نفس غمِ جاناں کی داستاں ہے ابھی
تضادِ جذبات میں یہ نازک مقام آیا تو کیا کرو گے
میں رو رہا ہوں تو ہنس رہے ہو میں مسکرایا تو کیا کرو گے
مجھے تو اس درجہ وقتِ رخصت سکوں کی تلقین کر رہے ہو
مگر کچھ اپنے لیے بھی سوچا، میں یاد آیا تو کیا کرو گے
کچھ اپنے دل پر بھی زخم کھاؤ مرے لہو کی بہار کب تک
مجھے سہارا بنانے والو، میں لڑکھڑایا تو کیا کرو گے
ابھی تو تنقید ہو رہی ہے مرے مذاقِ جنوں پہ لیکن
تمہاری زلفوں کی برہمی کا سوال آیا تو کیا کرو گے
ابھی تو دامن چھڑا رہے ہو، بگڑ کے قابل سے جا رہے ہو
مگر کبھی دل کی دھڑکنوں میں شریک پایا تو کیا کرو گے
حیرتوں کے سلسلے سوزِ نہاں تک آ گئے
ہم نظر تک چاہتے تھے تم تو جاں تک آ گئے
نامرادی اپنی قسمت، گمرہی اپنا نصیب
کارواں کی خیر ہو، ہم کارواں تک آ گئے
انکی پلکوں پر ستارے اپنے ہونٹوں پر ہنسی
قصہٴ غم کہتے کہتے ہم کہاں تک آ گئے
اپنی اپنی جستجو ہے اپنا اپنا شوق ہے
تم ہنسی تک بھی نہ پہنچے ہم فغاں تک آ گئے
زلف میں خوشبو نہ تھی یا رنگ عارض میں نہ تھا
آپ کس کی آرزو میں گلستاں تک آ گئے
خود تمھیں چاکِ گریباں کا شعور آ جائے گا
تم وہاں تک آ تو جاؤ، ہم جہاں تک آ گئے
آج قابل میکدے میں انقلاب آنے کو ہے
اہلِ دل اندیشہٴ سود و زیاں تک آ گئے
قابل کو دوسروں کو تو کیا اپنے کو بھی پرکھنے کی فرصت نہیں ملی۔ اس کے باوجود انہیں اپنی انفرادیت کا احساس تھا۔ جس کا اظہار انہوں نے اپنے مختلف اشعار میں کیا ہے۔
کچھ غم زیست کا شکار ہوئے
کچھ مسیحا نے مار ڈالے ہیں
رہ گزار حیا ت میں ہم نے
خود نئے راستے نکالے ہیں
ہم بدلتے ہیں رخ ہواؤں کا
آئے دنیا ہمارے ساتھ چلے
ابھی مشکل سے سمجھے گا زمانہ
نیا نغمہ نئی آواز ہوں میں
مجھی پہ ختم ہیں سارے ترانے
شکست ساز کی آواز ہوں میں
درد و کرب کے اس پیکر کا 30 اکتوبر 1962ء کو پاکستان کے حیدر آباد میں خاتمہ ہو گیا۔
کوئے قاتل میں ہمی بڑھ کے صدا دیتے ہیں
زندگی، آج ترا قرض چکا دیتے ہیں
محترم و قابل صد احترام آغا جان۔
آپ کی آمد سے واقعی اب یہ بلاگ معتبر ہو گیا ہے، کیونکہ آپ نے جو مستند معلومات فراہم کی ہیں، اس سے مرحوم قابل اجمیری صاحب کی شخصیت سمجھنے میں آسانی رہے گی، اور ان سے وابستہ گذشتہ بلاگ کی طرح یہ بھی ان کے چاہنے والوں کے لئے ایک تاریخی حوالہ بن سکے گا۔ مجھے خوشی ہے کہ برادر محترم جناب ظفر قابل اس میں اپنے خیالات و نگارشات پیش کر رہے ہیں، جس سے اس بلاگ کی مزید افادیت بڑھ جاتی ہے۔
——————–
قبلہ منظور قاضی صاحب میں چاہوں گا کہ طفر بھائی اپنے والد محترم اور خاندان کی سوانح کے متعلق جو بھی کہنا چاہیں، وہ کہیں۔ چاہے غلطی کہیں اور سہی، لیکن ان کا آج کا لکھاآئیندہ کسی بھی جگہ بطور حوالہ پیش کیا جا سکے گا۔
——————————-
احباب کو اگر کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے اور پڑھنے میں دشواری ہو تو فدوی کو مطلع کریں، تا کہ پھر پہلے کی طرح ایک ایک صفحے کا لنک پیش کیا جا سکے۔
—————————
برادر محترم جناب امین ترمذی صاحب۔
آپکا برقنامہ تو مجھے موصول نہیں ہو سکا، تاہم اس بلاگ کے ذریعے اگر آپ نشاندہی کر دیں تو کوشش کروں گا کہ تصحیح ہو سکے۔ اصل میں یہ کتاب ظفر بھائی ہی کی تدوین ہے، جسے بلا اجازت چھیڑنا بھی میں مناسب نہیں سمجھتا۔ بایں ہمہ اگر کوئی املاء وغیرہ کی غلطی ہے تو ہم ان سے درخواست کر سکتے ہیں کہ وہ اسکی تدرستگی کر کے ہمیں بھجوا دیں۔
———————————-
ظفر صاحب سے گزارش ہے کہ اگر ان کے پاس قابل اجمیری صاحب کا غیر مطبوعہ کلام ان پیج یا یونی کوڈ کی شکل میں محفوظ ہے تو ہمیں ارسال کر دیں، جسے ہم اسی بلاگ میں لگانے کی کوشش کریں گے، انشاء اللہ۔
———————-
میرا برقی پتہ یہ ہے؛
hussainmisbah@gmail.com
محترم و مکرم مصباح حسین صاحب اسلام علیکم
حیرت ہے کہ میرا برقنامہ آپ تک نہیں پہنچا دراصل یہ بات میں بلاگ میں لکھنا نہیں چاہ رہا تھا لیکن اب عرض کرتا ہوں کہ کتاب کے صفحہ 38 کی غزل کے مطلع میں ایک لفظ افسانہ لکھا ہے جو دراصل فسانہ ہے کتابت کی غلطی ہے میری ظفر قابل صاحب سے اس سلسلے میں بات بھی ہوئی انہوں نے بھی اعتراف کیا کہ اس کے علاوہ دو غلطیاں اور بھی ہیں جو ہنوز میری نظر سے نہیں گزریں آپ کا یہ کہنا یقیناً درست ہے کہ آپ کو اس کا اختیار حاصل نہیں ہے لیکن ظفر قابل صاحب نے اس کی تصدیق کی ہے جو وہ خود بھی بتائیں گے، ہاں مجھے اپنے خط غائب ہونے کا صدمہ بہرحال ہے چلئے مقصد پورا ہوا . آپ سب کی محبتوں کا امین
قاضی صاحب سے عرض کرنا ہے کہ کوئی تین ماہ قبل میں نے ایک شعر لکھا تھا جسے کئی لوگوں نے پسند کیا اس وقت مجھے شاعر کا نام یاد نہیں تھا جس کی اب کتاب پڑھ کر تصدیق ہوتی ہے لیکن شعر چونکہ اچھا تھا اس لئے بغیر نام بتائے بھی لوگوں کو پسند آیا تھا اور وہ شعر تھا……. آپ کا سنگِ در نہیں چمکا. ہم جبینیں سیاہ کربیٹھے
بقول ہمدانی صاحب ٰٰٰٰٰ ٰٰٰٰٰاس طرح انہیں دنیا میں رہنے کا صرف 31 برس کا عرصہ ملا اوراس میں بھی شاعری کے لیے بمشکل دس بارہ برس، لیکن انہیں جو وقت ملا اس میں انہوں نے جدید غزل کو بہت کچھ دیا۔ ٰٰٰٰٰٰ ٰٰٰٰٰٰ
صرف دس بارہ سال میں اتنا عمدہ کلام۔ اسے معجزہء بیان نہ کہا جائے تو اور کیا کہا جائے۔
امین ترمذی صاحب نے قابل اجمیری کے شعر کی یاد دہانی اپنے اوپر کی تبصرہ میں اس طرح فرمائی :
“قاضی صاحب سے عرض کرنا ہے کہ کوئی تین ماہ قبل میں نے ایک شعر لکھا تھا جسے کئی لوگوں نے پسند کیا اس وقت مجھے شاعر کا نام یاد نہیں تھا جس کی اب کتاب پڑھ کر تصدیق ہوتی ہے لیکن شعر چونکہ اچھا تھا اس لئے بغیر نام بتائے بھی لوگوں کو پسند آیا تھا اور وہ شعر تھا……. آپ کا سنگِ در نہیں چمکا. ہم جبینیں سیاہ کربیٹھے“
۔۔۔۔۔۔۔
یہ شعر قابل اجمیری مرحوم کی اس غزل میں موجود ہے:
اعتبارِ نگاہ کر بیٹھے
کتنے جلوے تباہ کر بیٹھے
آپ کا سنگِ در نہیں چمکا
ہم جبینیں سیاہ کر بیٹھے
موت پر مسکرانےآئےتھے
زندگانی تباہ کر بیٹھے
شمعِ امید کے اُجالے میں
کتنی راتیں سیاہ کر بیٹھے
صرف عذرِ گناہ ہو نہ سکا
ورنہ سارے گناہ کر بیٹھے
کس توقع پہ اہلِ دل قابل
زندگی سے نباہ کر بیٹھے
۔۔۔۔
ایک مشورہ : اگر کوئی مبصر کسی شاعر کا شعر اپنے تبصروں میں لکھے تو اس کے خالق کا نام بھی لکھدے اور اگر شاعر ( خالق ) کا نام یاد نہیں تو “ کسی شاعر کا ایک شعر “ ہے لکھدے تا کہ پڑھنےوالے اس غلط فہمی میں مبتلا نہ ہوں کہ اس شعر کا خالق خود مبصر ہے ۔ ۔
فقط:
منظور قاضی
جرمنی سے
میں ظفر قابل صاحب کو جو مشورے دیا ہوں انہیں وہ نظر انداز کردیں اس لیے کہ اس بلاگ کے ناظم جناب سید مصباح حسین جیلانی صاحب نے انہیں اجازت دے دی ہے کہ وہ کسی اور کتاب یا رسالے میں قابل مرحوم سے متعلق لکھی ہوئی کسی غلط بات کی تردید اور تصحیح سید مصباح حسین جیلانی صاحب کے اس موجودہ بلاگ میں کرسکتے ہیں۔
فقط:
منظور قاضی
جرمنی سے
کتاب عشق انسان کی ضرورت ہے دراصل مجموعہ انتخاب ہے جو میں نے 2005 میں شاہع کیا تھا اسی کتاب میں میں نے غزل گاہیکی کے ممتاز گلوکاروں کے مقبول شاعر جناب ممتاز راشد کا ایک پرانا مضمون بھی شائع کیا تھا اس مضمون کی افادیت یہ ہے کہ اس میں قابل کے فن شخصیت اور زندگی کا کافی حد تک احاطہ ہوا ہے مضمون کافی طویل ہے میرے پاس انپیچ کی فائل میں محفوظ تھا اسے میں نے محترمم مصباح حسین جیلانی صاحب کو ای میل کر دیا ہے
محترم ظفر جعفری صاحب سے گزارش ہے کہ اپنا ای میل ایڈریس اور فون نمبر دے دیں
۔’’عشق انسان کی ضرورت ہے‘‘ کی اشاعت کے موقع پر۔مجلہ۔ کا اداریہ
۔’’عشق انسان کی ضرورت ہے‘‘ کی اشاعت کے موقع پر اس مجلے کا اجرائ کیا جا رہا ہے۔مگر اس مجلے کو ایک یادگاری مجلے کے طور پر دیکھا جائے کیونکہ اس میں صرف بڑے بڑے نام ہی شامل نہیں ہیں بلکہ قابل اجمیری مرحوم سے متعلق مواد اور ان سے عقیدت رکھنے والوں کے تاثرات بھی شامل ہیں لہذا یہ عام ڈگر سے ہٹ کر ہے۔
گو کہ قابل اجمیری مرحوم پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور وہ بھی ان کی وفات کے بعد کہ جس میں نہ کسی پبلک ریلیشننگ کا کمال تھا اورنہ ہی کسی لابی کا۔اسے میں کرشمہ قدرت سمجھتا ہوں ﴿بلکہ میرے قریبی دوست بھی﴾کہ قابل اجمیری مرحوم سے محبت کرنے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اس میں اکثریت ان کی ہے جو نہ کبھی ان سے ملے نہ دیکھا اور ان کی عقیدت اور محبت ظاہر ہے صرف اور صرف ان کے کلام کی بدولت ہے۔آج جی تو چاہ رہا ہے کہ صرف وہ لوگ جو مجھ سے مل پائے ان کے نام لکھوں مگر میری یادداشت میرا ساتھ نہیں دے پائے گی اور یہ فہرست طویل تر ہونے کے باوجود مکمل نہیں ہو پائے گی۔مگر ناسپاسی ہو گی کہ چند بے حد قابل احترام شخصیتوں کے نام نہ لوں ۔محترم محسن بھوپالی،محترم عبداللطیف ابد اور سعید احمد سعیدی تو وہ لوگ ہیں جن کو میں نے اپنی آنکھ کھولتے ہی دیکھا اور ان کی بھرپور شفقتتوں سے آج بھی مستفید ہو رہا ہوںخدا ان کا سایہ ہمیشہ برقرار رکھے۔محترم معین اختر صاحب کے بارے میںمیں کیا لکھ سکتا ہوں لیکن ان کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ قابل اجمیری مرحوم کا تقریبا تمام کلام ازبر ہے جس روانی سے یہ مکمل غزلیں سناتے ہیں میرے مشاہدے میں دوسرا فرد نہیں۔ محترم الیاس شاکر صاحب اپنی بے پناہ مصروفیت کے باوجود نامِ قابل سن کر فورا وقت نکال لیتے ہیںموجودہ نئی نسل تک کلام قابل اور سوانح قابل پہنچانے میں قومی اخبار کا بہت بڑا کردار ہے جسکا اس موقع پر اعتراف کیا جانا میں ضروری سمجھتا ہوں۔۲۲ سال قبل دیدہ بیدار کے دوسرے ایڈیشن کی اشاعت کے موقع پر محترم محمد شمیم صاحب سے کراچی میں ملاقات ہوئی تھی اُس پہلی ملاقات میں انہوں نے جس شفقت کا اظہار کیا تھا آج بھی ہر ملاقات میں وہی پہلی ملاقات والی شفقت برقرار ہے۔ ۔محترم حسن ظہیر جعفری اورمحترم احمد رئیس مزاج داہ ہی نہیں تاریخ داںِ قابل بھی ہیں۔محترم نصرت مرزااورمحترم امین الدین جن سے ملاقات کو طویل عرصہ نہیں گزرا مگر محسوس ہوتا ہے بہت پرانی ذہنی ہم آہنگی ہے۔
آج مجھے ماسٹر الطاف حسین مرحوم ﴿پاکستان کا پہلا پرچم تیار کرنے والے﴾ اور سلیم جعفری مرحوم بھی بہت یاد آ رہے ہیں کہ جس چراغ کو انہوں نے روشن کیا تھا یعنی کلام قابل کو محفوظ کرنا اور لوگوں تک پہنچانا وہ یقینا بہت خوش ہوتے کہ کلام قابل لوگوں تک پہنچ رہا ہے۔
اس کتاب ،سووئنیر اور اس پروگرام کے لئے شکرگزار ہوں اپنے ذاتی دوستوں میں جناب عابد غزالی کا جو کراچی میں میرا مضبوط سائبان ہیںاکتیس سالہ بے تکلف اور برادرانہ دوستی کا جائز ناجائز فائدہ جس بے دردی سے میں اٹھاتا ہوں ان کی پیشانی پر کبھی بل نہیں آتا لیکن یہ ان کے مزاج کا حصہ ہے ۔اس پروگرام کی تمام خوبیا ں اور خوبصورتی انہیں کی ذاتی دلچسپی اور نگرانی کی مرہوم منت ہے اور خامیاں میری کوتاہیوں اور فطری سستی کی وجہ سے ہیں۔جناب سلیم جہانگیر جن کے مفید مشوروں اور بھاگ دوڈ کے نتیجے میں میری نا تجربے کاری کو سہاراملا ۔جناب شیخ سعید،جناب اکبر مغل اورجناب ندیم سبطین بھی اس روشنی کے سفر میں میرے مستقل شریک سفر ۔۔اور آخر میں اپنے ان تمام کرم فرمائوں کا نہایت شکرگزار ہوں ۔ ظفر قابل
مکرمی ظفر قابل صاحب کی طرف سے ممتاز ارشد صاحب کا ارسال کردہ نہایت دلچسپ اور تفصیلی مضمون یونی کوڈ میں پیش خدمت ہے۔
۔مطالعے کے لئے اس لنک پر کلک کریں۔
http://www.aalmiakhbar.com/blog/?p=2724&preview=true
لنک کی فنی خرابی کے سبب یہ مضمون نیچے اسی بلاگ میں لگا دیا گیا ہے (مصباح جیلانی ١١جون، سال٢٠١٠)
محترم رئیس امروہی مرحوم کا لکھا قطعہ تاریخ وفات مطبوعہ جنگ کراچی
کوئی پوچھے تو اہل دل کے دل سے
یہ درد رحلت پر درد قابل
ریئس اک مرد قابل تھا جواں مرگ
اجل کا سال داغ مرد قابل
3 اکتوبر 1962
مدیر اردو ڈایئجسٹ الطاف حسن قریشی لکھتے ہیں
احساس کی شدت اور ماحول کی بے شمار نا ا نصافیوں نے انہیں خون تھوکنے پر مجبور کر دیا۔یہ جوان ہمت شاعر جو ہواوں کا رخ بدلنے لا عزم رکھتا تھا اور جس کی شمع احساس تاریکیوں کے خلاف مسلسل جہاد کرتی رہی تپ دق کے منحوس ہاتھوں نے اس کی شمع حیات کو ہمیشہ کے لیئے گل کر دیا اگر آج یہ شاعر زندہ ہوتا تو اس کی گونج ساکت فضا میں دور دور تک سنائی دیتی
ظفر قابل صاحب
آپ کے حکم کی تعمیل کررہا ہوں۔ امریکہ میں1968 سے مقیم ہوں۔ پاکستان سے ہجرت 1964 میں کی۔
ای میل: zafarjaffery@gmail.com
فون: 1-405314-5870
آپ سے رابطہ میری عزت افزائ ہے۔
گزشتہ 36 گھنٹوں سے بارش اور بجلی کی بدیش سے کاروبار زندگی معطل رہا جسکی وجہ سے بلاگ کو آگے نہ بڑھا سکا اب کوشش کر رہا ہوں کی کچھ اور چیزیں پیش کروں
http://www.youtube.com/watch?v=b_nS9X4bw60
تضادِ جذبات میں یہ نازک مقام آیا تو کیا کرو گے
آصف اعل کی آواز میں نہایت عمدہ گاہیکی یہاں نہایت افسوس سے یہ بھی بتاتا چلوں کہ آصف علی 9 مئی 2010 کو ہم سے ہمیشہ کے لئے بچھڑ گئے ہیں
http://tunesnbeats.com/download.php?n=02%20zabt-e-gham%20ka%20sila.mp3&m=The%20great%20ghazals&id=4159&mId=
The great ghazals – 02 zabt-e-gham ka sila.mp3
ضبط غم کا صلہ نہ دے جانا
ہری ہرن کی آواز میں
http://www.chakpak.com/video/sabri—-jab-kabhi-aankh/1402647
مقبول صابری اپنے انداز میں غزل سرا ہیں
جب کبھی آنکھ ملاتے ہیں دیوانے سے
http://www.youtube.com/watch?v=HNfOOrAMLLk
تم نہ مانو مگر جقیقت ہے
استاد فیروز اختر کی آواز
http://www.google.com.pk/url?sa=t&source=web&cd=1&ved=0CAYQFjAA&url=http%3A%2F%2Fwww.youtube.com%2Fwatch%3Fv%3Dax_6pHBurI4&ei=fewMTIjNFJLJ_gbe5I3UDw&usg=AFQjCNEaUnVWORTnLXvqvI8iBfPuKTf9ow
http://www.youtube.com/user/rumman2ghani#p/a/f/1/yUX1jcEamSY
غیر مدون کلام
جفا پر اے نگاہ ناز شرمایا نہیں کرتے
جو عالی ظرف ہیں احسان جتلایا نہیں کرتے
الہی خیر ان آنکھوں میں آنسو دیکھتا ہوں میں
محبت کو یہی طوفان راس آیا نہیں کرتے
غیر مدون کلام
اہل ساحل اس کی گہرائی کا اندازہ کریں
جو سفینہ نذر طوفاں ہو کے طوفاں ہو گیا
حسرت دل،سوز پروانہ،فغاں عندلیب
ایک جلوہ کتنے افسانوں کا عنواں ہو گیا
غیر مدون کلام
خیر مقدم کے لئے درد جگر اٹھ نہ سکا
بعد مدت کے اچانک تری یاد آئی ہے
اور کچھ روز سہی کاوش درماں قابل
حسن کافر کو ابھی زعم مسیحائی ہے
غیر مدون کلام
معلوم تم نے وجہ ملاقات بھی نہ کی
غیروں کی طرح پرسش حالات بھی نہ کی
آئی ہے موت اذن حضوری لئے ہوئے
ہم نے تو آرزوئے ملاقات بھی نہ کی
اہل ساحل اس کی گہرائی کا اندازہ کریں
جو سفینہ نذر طوفاں ہو کے طوفاں ہو گیا
واہ واہ واہ۔ یہ شعر کربلا کی ترجمانی کررہا ہے۔