قابل اجمیری پر تعارفی تبصرہ جناب صفدر ھمدانی صاحب نے عالمی اخبار کے ایک بلاگ بعنوان:
“شکوے گلے اٹھاے کہا ں تک چلے کوئی ” میں قلم بند کیا ہے ۔ وہ بلاگ محمد خاور صاحب کی قابل کی غزل کی زمین میں ایک غزل پر ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ نے شروع کیا ہے۔ ( میرےا س بلاگ کو پڑھنےسے پہلے ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ کا بلاگ پڑھنا ضروری ہے )
میں اس بلاگ کو قابل اجمیری اور اسکی شاعری پر مطالعہ کے لیے شروع کیا ہوں۔ امید کہ قابل کے جاننے والے اور اسکی شاعری کے شیدائی اس بلاگ میں اپنے خیالات اور تاثرات کا اظہار کرینگے۔
قابل کی ابتدای زندگی کے متعلق اور اسکے اشعار کی مثالیں مندرجہ بالا بلاگ میں موجود ہیں اس لیے میں انکو یہا ں نہیں دہراونگا۔
قابل اجمیری کی پاکستان کی زندگی جنوری 1948 سے شروع ہوتی ہے وہ اپنے چھوٹے بھای کے ساتھ اجمیر ( ھندوستان ) سے آکر حیدر آباد ، سندھ میں مقیم ہوا۔ اس وقت اس کی عمر سترہ سال کی تھی ۔ وہ دق کے مرض میں مبتلا ہوگیا مگر اس کی شاعری نے کبھی اس جان لیوا مرض سے شکست نہیں کھائی ۔
وہ شروع شروع میں جاوید اور آفتاب نامی رسالوں میں قطعات لکھا کرتا تھا ۔ اس کے بعد وہ مشاعروں کی جان بن گیا ۔ ہر ایک اسکی برجستہ شاعری اور زود قلمی مگر بے حد گہری شاعری سے متا ثر ہوجاتا تھا ۔
ا س کے معاصر اختر انصاری اکبرآبادی، محسن بھوپالی اور حمایت علی شاعر تھے مگر وہ اپنی شاعرانہ جدت اور ندرت اور اپنے خیالات کی گہرای کے باعث اردو کی دنیا میں کافی مشہوراور مقبول ہوگیا۔ ڈاکٹر فرمان متحپوری اور وحید الرحمان خان اس کی شاعری پر مقالے لکھ چکے ہیں ۔
قابل اجمیری اکتیس سال کی عمر میں 3 اکتوبر 1962 کو دنیا ے فانی سے کوچ کرگیا مگر اسکی شاعری نے عمر دوام اور قبولیت عام حاصل کی۔
میرے پاس ” کلیات قابل ” کتاب نہیں مگر جو کچھ میں نے دوسری ویب سایٹوں کی تحقیق سے معلوم کیا ہوں ان میںسے قابل کے چند اشعار حاضر ہیں؛
اجل بھی اس کی بلندی کو چھو نہیں سکتی
وہ زندگی جسے احساس زندگی ہوجائے
یہی ہے دل کی ہلاکت یہی ہے عشق کی موت
نگاہ دوست پہ اظہار بے کسی ہوجا ئے
زمانہ دوست ہے کس کس کو یاد رکھو گے
خدا کرے کہ تمھیں مجھ سے دشمنی ہوجاے
۔۔۔۔
گذاری نزع کے عالم میں تونے عمر اے قابل
ترے شعروں میں لیکن زندگانی رقص کرتی ہے
۔۔۔
کسی کی زلف پریشاں کسی کا دامن چاک
جنوں کو لوگ تماشہ بنائے پھرتے ہیں
تمھیں خبر بھی ہے یارو کہ دشت غربت میں
ہم آپ اپنا جنازہ اٹھا ئے پھرتے ہیں
۔۔۔
راستہ ہے کہ کٹتا جاتا ہے ۔ فاصلہ ہے کہ کم نہیں ہوتا
۔۔۔۔
مجھ کو تلقین صبر فرما کر ۔۔ کیوں تری آنکھ بھیگ جاتی ہے
۔۔
وقت کرتا ہے پرورش برسوں ۔ حادثہ ایک دم نہیں ہوتا
۔۔۔۔
تری آرزو کا ہی فیض ہے تری یاد ہی کا کمال ہے
کبھی مجھ کو تیرا خیال تھا مگر آج اپنا خیال ہے
میرا آ ج حال زبوں ہے کیوں مرا آج درد فزوں ہے کیوں
مرے مہربا ں مرے چارہ گر تیری آبرو کا سوال ہے
۔۔
کہا جاتا ہے کہ یہ غزل قابل کی آخری غزل ہے:
کوئے قاتل میں ہمیں بڑھ کے صدا دیتے ہیں
زندگی آج ترا قرض چکا دیتے ہیں
تیرے اخلاص کے افسوں ترے وعدوں کے طلسم
ٹوٹ جاتے ہیں تو کچھ اور مزا دیتے ہیں
ہاں یہی خاک بسر سوختہ ساماں اے دوست
تیرے قدموں میں ستاروں کو جھکا دیتے ہیں
سینہ چاکان محبت کو خبر ہے کہ نہیں
شہر خوبا ں کے درو بام صدا دیتے ہیں
ہم نے اس کے لب و رخسار کو چھو کر دیکھا
حوصلے آگ کو گلزار بنا دیتے ہیں
۔۔۔
قابل کی موت اسکی زندگی بن گئی ۔
حق مغفرت کرے بڑا عظیم شاعر تھا۔
فقط:
علم کا طالب :
منظور قاضی از جرمنی

واہ۔ کیا بات ہے جناب۔ اس کے لئے آپ نے جو محنت کی ہے وہ قابلِ تعریف ہے۔
قاضی صاحب
دیکھئے مسعود قاضی پر بلاگ کی وجہ سے قمرجلالوی جوش اور ظفر جعفری پر بلاگز سامنے آئے۔ خاور صاحب کی وجہ سے قابل اجمیری پر بلاگ سامنے آیا۔ اِن بلاگز کا سہرا آپ کے سر ہے۔
اردو پر ستم یہ ہوا ہے کہ ہندوستان نے اس کے خلاف جہاد کیا ہے جبکہ پاکستان میں اگر آپ خواص کو چھوڑ دیں تو عوامی سطح پر لوگ سمجھتے ہیں کہ اردو میں تین بڑے شاعر پیدا ہوئے ہیں یعنی میر غالب اور اقبال ۔ جبکہ حقیقت اسکے برعکس ہے۔ اردو شاعری اسا تذہ سے بھری ہوئ ہے غزلیاتِ میر و غالب، قصائدِ سودا و ذوق، مراثی خانوادء انیس اور دبیر نظمِ اقبال و جوش و نظیر اکبر آبادی اور جدید غزلیاتِ فانی، اصغر،جگر اور حسرت کے علاوہ مصحفی و انشاء،تاباں، شیفتہ، آتش و ناسخ، حالی، شبلی، ساحر، فیض، قابل، مجاز، فراق،سراج الدین ظفر، اکبر الہ آبادی احمد فراز اور سیکڑوں ایسے شاعر موجود ہیں جنکا کلام آنکھوں سے لگانے کے قابل ہے۔
قابل اجمیری ایک عظیم شاعر ہیں۔ یہ بلاگ انشاء اللہ دوسرے اساتذہ کے بلاگز کو بھی جنم دیگا۔
اقبال از قابل اجمیری
وہ دیدہ ور کہ جس نے تجلی نکھاردی
ذروں کو آفتابِ درخشاں بنا گیا
وہ چارہ ساز جس نے کئے تجرباتِ نو
ہر درد کو ضمانتِ درماں بنا گیا
وہ باغباں جو اپنی نسیمِ حیات تھا
شامِ چمن کو صبح بہاراں بنا گیا
وہ دلربا کہ جس نے بدل دی سرشتِ دل
تکلیف کو نشاط کا ساماں بنا گیا
وہ فلسفی جو اپنی خودی کی تلاش میں
اربابِ دل کو محرمِ یزداں بنا گیا
وہ مردِ حق پرست مٹاکر جو تفرقے
اسلامیوں کو صرف مسلماں بناگیا
اب کارواں کی بانگِ درا پر نظر نہیں
سب کچھ ہے اسکی قوم مسلماں مگر نہیں
ماشا اللہ ظفر جعفری صاحب نے اقبال پر قابل کی مندرجہ بالا نظم اپنے تبصرےمیں لکھدی۔ اس نظم کا ہر ایک شعر بار بار پڑھنے کے قابل ہے۔ خاص طور پر یہ شعر کہ :
اب کارواں کی بانگ درا پر نظر نہیں ۔ سب کچھ ہے اسکی قوم مسلماں مگر نہیں ۔ ( اس میں اقبال کے مشاہدہ کوپیش کیا گیا ہے کہ: ” تم سب ہی کچھ ہو بتاو کہ مسلمان بھی ہو؟ ”
قابل اجمیری کے جتنے اشعار بھی میں نے پڑھے ہیں وہ سب کے سب دل میں اترجانے والے اشعار ہیں۔ جگہ کی تنگی کی وجہ سے میں ان سب کو یہاں نہیں لکھ سکونگا مگر قابل کے کلام کے شیدای اردو کی کسی بھی ویب سایٹ ( مثال کی طورپر http://www.hallagulla.com ) پر اسکا کلام پڑھ سکتے ہیں۔
میرا خیال ہے کہ اسی طرح سے اگر قابل کی شاعری اور اسکی زندگی پر تبصرے ہوتے رہیں تو اس بلاگ کا مقصد پورا ہوجاےگا۔
ظفر جعفری صاحب کا شکریہ کہ انہوں نے میرے چند بلاگوں کا تذ کرہ کیا۔ انہوں نے شاید میرے اور بھی بلاگ جو میں نے طارق ہاشمی صاحب اور انکے استاد تعیم الحامد صاحب پر اور راجیو چکرورتی ( اور اردو کے ہندو شعرا ) پر اور پھر ڈا کٹر پنہاں صاحبہ پر لکھے تھے ، وہ بھی پڑھ لیا ہوگا۔ اس کے علاوہ انہوں نے میرا وہ بلاگ بھی پڑھا ہوگا جو میں نے عالمی اخبار کے ابھرتے ہوے شعرا پر لکھا تھا ۔ زندگی نےمہلت دی اور عالمی اخبار کے پڑھنے والوں نے ہمت افزائی کی تو میں دوسرے شعرا پر بھی ( اپنی محدود معلومات کے سہارے ) لکھتا رہونگا ۔ انشااللہ
فی الوقت میری ساری توجہ اردو کی ترویج اور ترقی پر مرکوز ہے ۔ اسی لیے میں دنیا کی ان تمام ویب سایٹوں کی تحقیق کررہا ہوں جو بے لوث طریقے سے اردو کی خدمت کررہی ہیں۔ اس موضوع پر بھی میں کئی ایک بلاگ لکھ چکا ہوں اس لیے کہ میرے خیال میں اردو کو دنیا میں زندہ رکھنے کے لئے یہ تما م ویب سایٹیں اور بلاگرز بے حد قابل قدر کام کررہے ہیں۔ ( اس سلسلے میں میرا بلاگ ظفر جعفری صاحب کی اور شعیب صفدر صاحب کی مادر علمی وفاقی اردو یونیورسٹی کراچی ، اسلام آباد ، پر بھی اس ویب سایٹ میں موجود ہے )
بہرحال :
یہ بلا گ اب صرف اور صرف قابل اجمیری کی شاعری اور اسکے زندگی کے لیے ہے اس لیے کسی اور ذیلی موضوع پر تبصرے کر نے سے قابل کی حق تلفی ہوگی ۔
بہت اچھا مشورہ ہے لیکن اگر قابل اجمیری کے حوالے سے کوئی اور ایسا استاد صفت نام سامنے آ جائے اور اس پر بھی بات ہو سکے تو میرے خیال میں کوئی مزائقہ نہیں۔ اسی طرح تو چراغ سے چراغ جلتا ہے۔ ویسے جس طرح آپ کی مرضی ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔ بات کو وسعت دینے کی بجائے محدود کرنا؟
صفدر ھمدانی صاحب : آپ کا مشورہ سر آنکھوں پر مگر میں ابھی ابھی زرقا مفتی صاحبہ کے نہایت ہی سنجیدہ قسم کے بلاگ (جس کا موضوع ہے عورتوں کا عالمی دن ) کا حشر دیکھ چکا ہوں کہ وہ غیر متعلق تبصروں سے کس طرح اپنے موضوع سے تنزل کی طرف گامزن ہو کر اس بلاگ کی مصنفہ زرقا مفتی صاحبہ کی “صدایے احتجاج ” کا باعث بنا۔
آپ کا کہنا بالکل درست ہے کہ بات میں بات نکل آتے اور بلاگ میں کسی اور شاعر یا استاد کا تذکرہ ہو تو اس میں کوی مضایقہ نہیں۔
مگر میرا موقف یہ ہے کہ جب کوی ذیلی موضوع اصلی موضوع کا گلا گھونٹ دے تو وہ بلاگ خرافات میں بدل جاتا ہے ۔
میں بھی چراغ سے چراغ جلانے کے منصوبے پر عمل کرتا ہوں۔
اسی لیے میری تجویز ہے کہ برائے مہربانی ان تمام مبصروں کو خود اپنے اپنے بلاگ لکھنے کے قابل بنا دیں جو کسی کے بلاگ کے موضوع کو بدلنے میں مہارت رکھتے ہیں۔ اگر ان سب کو خود اپنے اپنے بلاگ لکھنے کی آزادی ہوگی تو انشا اللہ وہ اپنے پسندیدہ موضوعات پر خود کوی بلاگ لکھ سکینگے ۔ ( اگر وہ اس پالیسی سے منحرف ہوجایں تو آپ کی تاکید اور تادیب بھی بالکل درست رہے گی )۔
اگر آپ یا انتظامیہ میں سے کوی بھی اس سلسلےمیں مجھےمیرے ای میل پر یا ٹیلی فون پر اپنے خیالات اور پالیسی سے باخبر رکھے تو مہربانی ہوگی
ویسے آپ سب کی مرضی ۔
انتہای احترام کے ساتھ ؛
وگرنہ من کہ اک خاکم کہ ہستم
عالمی اخبار کا شیدائی۔
منظور قاضی از جرمنی
(میری ای میل کا پتہ اور میرا ٹیلیفون نمبر آپ سب کی پاس موجود ہے )
صفدر ھمٰدانی صاحب
شکریہ کہ آپنے میری بات کی تشریح کردی۔ یقناً چراغ سے چراغ جلتا ہے اور وہ کلام سنے کو ملتا ہے جو دل میں اُتر جائے۔
قائدہ اعظم
جلالِ عشق عطا کرکے نوجوانوں کو
حریفِ گردشِ دوراں بنادیا تونے
یقین محکم و تنظیم و اتحاد کے ساتھ
حقیر قطروں کو طوفاں بنادیا تونے
خزاں بدوش ہوا کو خنک مزاجی سے
نسیمِ صبحِ بہاراں بنادیا تونے
بدل کے رکھدئے فکرو نظر کے پیمانے
جنوں کو ہوش بداماں بنادیا تونے
تری نگاہ نے رازِ حیات فاش کیا
ہر ایک درد کو درماں بنا دیا تونے
جہاں کلی کو اجازت نہ تھی چٹخنے کی
اسی زمیں کو گلستاں بنادیا تونے
نگاہِ شوق دھندلکوں میں چھپ نہیں سکتی
یقیں کو شمع فروزاں بنادیا تونے
چھڑا کےقیدِغلامی سے ناتوانوں کو
دلیلِ عظمتِ انساں بنادیا تونے
ہم اب بھی تیری قیادت پہ ناز کرتے ہیں
ترے اصول ہمیں سرفراز کرتے ہیں
قابل اجمیری
ہائے قابل اگر تجھے بڑھاپا نصیب ہوتا تو تو اس وقت شاعرِ اعظم ہوتا۔
ماشااللہ ، سبحان اللہ ۔ ظفر جعفری صاحب نے ا س بلا گ کے موضوع کی لاج رکھلی اور قابل اجمیری کی نظمیں جو اس نے اقبال اور قاید اعظم پر لکھا وہ اپنے تبصروں میں شامل کردیں ۔
ایسے ہی تبصروں سے اس بلاگ کی افادیت اور ہمیت میں اضافہ ہوجاتا ہے ۔
ظفر جعفری صاحب کو قابل اجمیری پر لکھنے اور اس کے مزید اشعار (نظم اور غزل ) لکھنے کے لیے یہ بلاگ حاضر ہے ۔
طبیعت خوش ہو گئی۔
قابل کے یہ چند اشعار:
پیغام نہ پہنچے کوئی ارباب جنوں تک ۔ خوشبو کو گرفتار کرو موسم گل ہے
۔۔۔
حیرتوں کے سلسلے سوزِ نہاں تک آگئے ۔ ہم نظر تک چاہتے تھے تم تو جاں تک آگئے
۔۔۔۔
خندا ں نہیں ، مہک نہیں ، رعنائیاں نہیں ۔ قابل یہ پھول ہیں کہ جنازے بہار کے
۔۔۔۔۔
رنگِ محفل چاہتا ہے اک مکمل انقلاب ۔ چند شمعوں کے بھڑکنے سے سحر ہوتی نہیں
۔۔۔۔
زمانے کو شکایت کیا زمانہ کس کی سنتا ہے ۔ مگر تم نے تو آوازِ جنوں پہچان لی ہوتی
۔۔۔
قابل کی شکستہ حالی کا احساس بھی ہوتو کیونکر ہو ۔ فریاد یہاں منظور نہیں ، انصاف وہا ں دستور نہیں
۔۔۔
ضبط غم کا صلہ نہ دے جانا ۔ زندگی کی دعا نہ دے جانا
بے کسی سے بڑی امیدیں ہیں۔ تم کوی آسرا نہ دے جانا
کوئی احسان کرکے قابل پر ۔ دوستی کی سزا نہ دے جان
۔۔۔۔
افسوس کہ وہ طویل عمر پا نہ سکا ۔ مگر اسنے جو کچھ بھی لکھا وہ بہت ہی خوب لکھا ۔
۔۔۔
امید کہ ظفر جعفری صاحب قابل کا کلام اس بلاگ میں پیش کرتے رہینگے ۔
ظفر جعفری بھائی شکریہ تو آپکا کہ آپ نے اس فقیر کی بات کی توثیق کی۔ میں بڑے ادب سے برادرم منظور قاضی سے عرض کرؤں گا کہ یقین کریں کہ اصل مقصد بلاگ لکھنا نہیں ہوتا بلکہ اصل بات کسی کے بلاگ پر تبصرہ ہوتا ہے جس سے نئے نئے گوشے نکلتے ہیں اور نت نئے موضوعات سامنے اتے ہیں۔
دوسرے یہ کہ بلاگ کی نوعیت ہر گز ہر گز فقط ادب یا شاعری نہیں ہے بلکہ اسکے موضوعات بے حد متنوع ہیں۔ جیسے میرا ایک بہت پرانا بلاگ ہے۔۔۔۔۔۔
” آج کچھ لکھنے کوجی نہیں چاہتا۔ آج صرف سننے کو دل کرتا ہے۔۔۔۔۔۔۔میں اپنے سیڈی پلیئر پر سن رہا ہوں بہادر شاہ ظفر کی یہ امر غزل۔۔۔۔۔نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں۔۔۔۔۔ہائے بہادر شاہ ظفر”
اب دیکھا آپ نے یہ مکمل بلاگ ہے۔
دراصل موضوعات کا تنوع ہی بلاگ کو بلاگ بناتا ہے وگرنہ اگر سب ہی ایک موضوع پر لکھ رہے ہوں تو یہ بلاگ نہیں ”مضمون” یا ”مقالہ” بن جاتا ہے اور بلاگ ہر گز نہیں رہتا۔
بلاگنگ کو انفارمیشن کی ترسیل کا تیز ترین ذریعہ کہا جاسکتا ہے اور اسی اہمیت کے پیش نظر اس کے استعمال کا دائرہ کار بھی وسیع تر ہوتا جارہا ہے۔ اظہار رائے کی مطلق آزادی ہی دراصل بلاگ کو دوسرے ذرائع سے ممتاز بناتی ہے یہی وجہ ہے کہ عام معلومات کے حصول کے دوسرے ذرائع خود انفارمیشن کی تیز ترین ترسیل کے لیے بلاگز کا سہارا لینے لگے ہیں۔ عام قاری، ناظر اور سامع کے لیے فوری طور پر کسی بھی مباحثہ یا انفارمیشن کی زنجیر میں اپنی آواز شامل کرنا بلاگنگ کا ایک اہم اور خصوصی پہلو ہے اسی وجہ سے آپ اس کو آج کی دنیا کا آزاد ترین میڈیا کہہ سکتے ہیں۔ بلاگنگ کی اہمیت اور اس کے اثرات کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ انسانی آزادی کی دشمن حکومتیں بلاگنگ اور بلاگرز پر خصوصی توجہ دینے لگی ہیں۔
چند باتوں پر توجہ دے کہ کسی بھی بلاگ کو بہتر سے بہتر بنایا جاسکتا ہے
1۔ بلاگ تسلسل سے لکھا جائے۔
2۔ جس موضوع پر لکھنا مقصود ہو اس سے متعلقہ معلومات کی تصدیق کر لی جائے اور جہاں ضرورت ہو بلاگ میں روابط فراہم کیے جائیں۔
3۔ اختلاف رائے کا احترام کیا جائے۔
4۔ بہت بڑی اکثریت کی رائے سے اختلاف کرنا ہو تو الفاظ کے چناؤ میںخصوصی احتیاط برتی جائے تاکہ بلاگ پر فتنہ کی چھاپ نہ لگے۔
5۔ جہاں تک ممکن ہو اپنے الفاظ استعمال کیے جائیں دوسرے ماخذین سے مواد مسلسل بلاگ میں شائع کرنے سے آپ اپنے بلاگ کی شناخت سے محروم ہوجائیں گے اور قارئین کے لیے آپ کے بلاگ کی اہمیت ختم ہوجائے گی کیونکہ ایک ہی کمیونٹی سے وابستہ لوگوں کے انفارمیشن کے حصول کے ماخذ کم و بیش یکساں ہوتے ہیں۔
میں صفدر ھمدانی صاحب کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے ” عالمی اخبار کے تمام اصولوں ” کو اپنے تبصرے میں تحریر کردیا تاکہ سب بلاگرز اور تبصرہ نگار عالمی اخبار کے اصولوں کی پابندی کرتے رہیں۔
میں تو بلاگ کی تعریفیں جو گوگل اور ویکی پیڈیا میں ہیں ان کے مطابق یہ سمجھ رہا تھا کہ بلاگر کسی موضوع پر بلاگ لکھتا ہے تو تمام تبصرہ نگار اس موضوع سے متعلق ہی تبصرے کیا کرتے ہیں ارر اگر کوی اور ذیلی موضوع درمیان میں آجاے تو اس پر بھی تبصرے کرتے ہیں مگر اصل موضوع کو نظر انداز نہیں کرتے
( افسو س کہ بلاگ کی تباہی کی مثال زرقامفتی صاحبہ کے حالیہ بلاگ جسے عورتوں کے عالمی دن کے سنجیدہ موضوع پر بڑی سنجیدگی سے لکھا گیا تھا اس پر چند غیر متعلقہ تبصروں میں ملتی ہے۔ ان تبصروںپر مصنفہ کی صدائے احتجاج پڑھنے کے قابل ہے )
میں اس لیے انتہای ادب سے صفدر ھمدانی صاحب سے عرض کرتا ہوں کہ:
1۔ آپ اپنا پرانا بلاگ ” آج کچھ لکھنے کو جی نہیں چاہتا ” عالمی اخبار میںشایع کردیں تاکہ وہ ہم جیسے ویب لاگ ( بلاگ ) نگاروں کے لیے ایک مثال کی شکل میں موجود رہے۔ ( افسوس کہ میں نے انک یہ بلاگ اب تک نہیں پڑھا )
2۔ آپ اپنا اوپر کا لکھا ہوا تبصرہ ایک نئے بلاگ کی صورت میں عالمی اخبار میں شایع کردیں تکہ تمام بلاگ نگار اور تبصرہ نگار افراد ” آپ کے بنائے ہوے اصولوں ” کی پابندی کرتے رہیں ۔
3۔ ظفر جعفری صاحب اور انہی کے معیار کے دانشوروں اور سخنوروں کو بھی عالمی اخبار میں بلاگ لکھنے کی اجازت دے دیں تاکہ وہ خود آپ کے بناے ہوے اصولوں کے مطابق بلاگ لکھتے رہیں۔ ( جب تک یہ دانشور اور سخنور اپنا بلاگ خود نہ لکھ سکینگے وہ دوسرے بلاگ نگاروں کی نظامت کے پابند رہینگے )
4۔ آپ کے بنائے ہو اصولوں کی تشہیر کے بعد تمام بلاگرز کو اور تبصرہ نگاروں سے یہ عہد لیں کہ وہ صرف اور صرف ان اصولوں کی پابندی کرتے رہینگے تاکہ کوی فتنہ پرور فتنہ کھڑا نہ کرے اور عالمی اخبار کا اعلی معیار برقرار رہے۔
5۔ ہوسکے تو ان تمام افراد اور ان تمام ویب سایٹوں کی فہرست بنایں جن سے عالمی اخبار کی توہین اور دل شکنی ہوتی ہے ، اور ا س فہرست کو عالمی اخبار میں شایع کردیں تاکہ کوی بلاگ نگار اور تبصرہ نگار اس فہرست کو ذہن میں رکھکر ان کی تعریف یا تنقیص پر بلاگ یا تبصرہ نہ لکھے۔
6۔ عالمی اخبار کے اصولوں کی تشہیر کے بعد عالمی اخبار کی انتظامیہ غیر جانبداری کے ساتھ اپنے ہی اصولوں پر اور خاص طور پر اصول نمبر 3، 4 اور پانچ پر نہ صرف عمل کرتی رہے بلکہ تما م بلاگرز اور تبصرہ نگاروں کو ان اصولوں کا پابند بنادے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے اپنی کم علمی کا علم ہے اسی لیے میں ان تمام ویب سایٹوں سے اپنے بلاگو ں کے لیے مواد حاصل کرتے ہوے اپنے ہی ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں اپنے بلاگ لکھتا ہوں اس امید پر کہ میرے بلاگ کے موضوع پر دنیا بھر میں عالمی اخبار کے پڑھنے والے دانشور اور سخنور اپنے علم کی روشنی میں تبصرے کرینگے۔ مجھے علم ہے کہ میرے چند بلاگ کسی کی توجہ کا مرکز نہیں بنتے مگر اس میںمیرا قصور ہے یا کہ موضوع سے بیزاری اور تعصب کا قصور ہے اس کا علم مجھے نہیں۔
میری یہ مثبت باتیں عالمی اخبار سے میری محبت اور عقیدت کا ثبوت ہیں۔
میں عالمی اخبار کی انتظامیہ کی ان تمام خدمات سے متاثر ہوتارہتا ہوں جو وہ اردو، پاکستان اور اسلام کے لیے انتاہی بے لوثی سے بغیر کسی معاوضہ کے کررہی ہے۔
:۔۔
” وگرنہ من کہ اک خاکم کہ ہستم ”
منظور قاضی از جرمنی
manzoorquazi@gmail.com
ٹیلیفوں : xx49 8638 84203
قاریین سے معافی کہ یہ بلاگ قابل اجمیری سے شروع ہوکر کسی اور موضوع کی طرف چلا گیا ۔ اب پھر اس بلاگ کے موضوع پر کچھ لکھا جاے تو تسلسل برقرار رہے گا۔
آج میرے ایک کرم فرما نے ( جو جناب صفدر ھمدانی صاحب کےبھی واقف کا روں میں سے ہیں ) مجھے ٹیلیفون پر قابل اجمیری کی یہ بہت ہی اچھی غزل سنائی۔ غز ل طویل ہے مگر اسکے چند اشعار یہاں تحریر کردیتا ہوں۔ ( اگر میرے لکھنے میں کوی غلطی ہوجائے تو ازراہ کرم تصحیح کرلیں)۔
جب کبھی آنکھ ملاتے ہیں وہ دیوانے سے ۔ روئے تاباں پہ ابھر آتے ہیں ویرانے سے
لوگ لے آتے ہیں کعبہ سے ہزاروں تحفے ۔ ہم سے اک بت بھی نہ لایا گیا بت خانے سے
سونچتا ہوں تو جاں سے بھی زیادہ ہیں عزیز۔ دیکھتا ہوں تو نظر آتے ہیں بیگانے سے
ظلمت ِ دیر و حرم سے کوئی مایوس نہ ہو ۔ ایک نئی صبح ابھرنے کو ہے میخانے سے
تیری ایک سادہ نظر کا ہے کرشمہ ساقی ۔ ان گنت رنگ چھلکنے لگے پیمانے سے
پھول تو پھول ہیں اس دور ِ ہوس میں قابل ۔ لوگ کانٹوں کو بھی چن لیتے ہیں ویرانے سے
۔۔۔
اس غزل کے دو اور اشعار جو طاہر ملک صاحب نے کہے ہیں وہ کچھ اس طرح کے ہیں ( اگر کمپوزنگ میں غلطی ہوجاے تو امید کہ طاہر ملک صاحب یا کوی اور دانشور اس کو درست کردینگے )۔
لذتِ گردشِ ایام وہی جانتے ہیں ۔ جو کسی بات پہ اٹھ آتےہیں میخانے سے
تم بھی ایسے میں الٹ دو رُخِ تابا ں سے نقاب ۔ زندگی جھانک رہی ہے مرے پیمانے سے
۔۔۔۔
قابل یہاں نہیں ہے مگر اسکی شاعری یہاں پر ہمیشہ زندہ رہے گی۔
فقط : منظور قاضی از جرمنی
اوپر کے تبصرے کی ابتدا میں فرینکفرٹ جرمنی کے طاہر ملک صاحب کا نام لکھنا بھول گیا جنھوں نےمجھے قابل کی غزل ٹیلفون پر سنائی۔ انکا کہنا ہے کہ انکے پاس اردو کی سینکڑوں کتا بیں موجود ہیں اور وہ عالمی اخبار کے بلاگوں کو اور خاص طور پر میرے بلاگوں کو کافی دلچسپی سے پڑھتے ہیں اور کبھی کبھی رومن اردو میں عالمی اخبار کے بلاگوں اور کالموں پر تبصرے بھی کرتے ہیں۔ میں انکو اردو فانٹ میں تبصرے کرنے کے لیے کہ رہا ہوں۔ شاید وہ کسی دن یہ بھی مرحلہ بھی طئے کرلیں۔
طاہر محمود ملک صاحب نے ابھی ابھی قابل کے ایک شعر کو صحیح طور پر یوں پڑھکر سنا یا ہے:
لذتِ گردشِ ایام وہی جانتے ہیں
جو کسی بات پہ اٹھ آئے ہیں میخانے سے
قابل کی ایک طویل غزل کے پانچ اشعار:
وہ ہر مقام سے پہلے وہ ہر مقام کے بعد ۔ سحر تھی شام سے پہلے سحر ہے شام کے بعد
مجھ ہی پہ اتنی توجہ ، مجھ ہی سے اتنا گریز۔ مرے سلام سے پہلے مرے سلام کے بعد
چراغ بزم ستم ہیں ہمارا حال نہ پوچھ۔ ۔ جلے تھے شام سے پہلے بجھے ہیں شام کے بعد
ویی زباں وہی باتیں مگر ہے کتنا فرق ۔ تمھارے نام سے پہلے تمھارے نام کے بعد
یہ طرز فکر یہ طرز سخن کہا ں قابل ۔ ترے کلام سے پہلے ترے کلام کے بعد
۔۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ یہ بلاگ نظروں سے دور ہوجائے میں یہ لکھنا ضروری سمجھتا ہوں کہ جس نے بھی قابل اجمیری کا کلام سنا وہ اس کی خداداد صلاحیت کا قائل ہوگیا ۔ تنقید نگاروں نے تو اس پر کتابیں لکھیں ، موسیقاروں اور گلو کاروں نے اس کی غزلیات اور نظموں کو گایا اورنتیجے کے طور پر ان سب نے کافی مالی فایدہ بھی اٹھا یا ہوگا مگر کیا کسی نے قابل اجمیری کی بیوہ ( جو پتہ نہیں کہ زندہ بھی ہے یا نہیں ) اور قابل اجمیری کے بیٹے ( جو اگر زندہ ہے تو شاید 46 سال کا ہوگا ) کو بھی پوچھا کہ وہ دونوں کس حال میں ہیں ؟ ۔ اورکیا ” کلیات قابل ” کی فروخت سے کوی ادارہ یا کتاب گھر جو بھی آمدنی کما رہا ہے اس کا کچھ حصہ قابل اجمیری کے پس ماندگان کو بھی دے رہا ہے یا نہیں۔
اگر قابل اجمیری کا بیٹا یا قابل اجمیری کا کوی شنا سائی اس بلاگ کو پڑھرہا ہے تو وہ مہربانی کرکے اس سلسلے میں کچھ لکھے اور یہ بھی لکھے کہ کیا قابل اجمیری کے بیٹے کو بھی شعر و شاعری سے شغف ہے۔
اگر کوی ادارہ قابل اجمیری کے پس ماندگان کی بھلای کے لیے کچھ کام کررہا ہے تو وہ اپنا پتہ اور ٹیلیفون نمبر بھی اس بلاگ میں لکھ سکتا ہے تاکہ قابل اجمیری کی روح کو ثواب پہنچاتے ہوے اس کےپس ماندگان کےلیے کوی ثواب کا کام کیا جا سکے۔
بہرحال:
قابل کا ہی شعر ہے :
مجھ ہی پہ اتنی توجہ مجھ ہی سے اتنا گریز
مرے سلام سے پہلے ، مرے سلام کے بعد
فقط:
علم کا طالب : منظور قاضی از جرمنی
ہمدانی صاحب اسلام علیکم جیسا کہ آپ کو علم ہے کہ میں آپ کی محفل میں نو وارد ہوں اور مجھے نہیں معلوم کہ اس موجودہ بلاگ کے علاوہ کسی اور موضوع پرگفتو کرنے کے لےء کیا کیا جاےء اس لےء اسی بلاگ کو استعمال کرنا پڑرہاہے دو مختصر باتیں پہلی تویہ کہ قابل اجمیری پر ادبی پروگرام کرنے کے لےء عرصے سے مواد کی تلاش میں تھا جوعا لمی اخبار نے سیرحاصل مہیا کیا جسکے لےء آپ کا ممنون ہوں کچھ اور مواد کے لےء ممکن ہے کوئ اور صاحب رہنمائ فرمائیں دوسری گذارش یہ ہے کہ میں اپنے ریڈیوپروگرام کے لےء آپ کا لائیو انٹرویو کرنا چاہتا ہوں جو بہ آسانی ٹیلیفون پر ہوسکتا ہے یہ پروگرام ہر اتوار کو شام سات بجے سے نو بجے تک ہوتا ہے جو پوری دنیا مین funasia.net پر سنٹرل امیرکا وقت مطابق سنا جاسکتا ہے اس ہفتے آپ کےاخبار کے بارے میں گفتگو کروگا انشا الہ آپ براےء مہربانی مجھ سے ای میل پر رابطہ کریں میرا ای یل کا پتہ یاد کرلیجےء لکھنا ضروری نیہیں ہے meriurdu@yahoo.com مجھے دعاؤں یاد رکھےء آپکی اور آپ سپ کی محبتوں کا امین ڈیلس ٹکساس usa
میں جناب مصباح حسین جیلانی صاحب کا مشکور ہوں کہ انہوں نے میرےاس بلاگ کو جو میں نے قابل اجمیری پر لکھا تھا ، پھر سے عالمی اخبار پر نمایا ں کردیا ۔
جزاک اللہ :
یقینی طور پر قابل اجمیری کی روح بھی جنت میں اس توجہ اور عنایت پر مسکرا رہی ہوگی۔
امید کہ قابل اجمیری صاحب کے فرزند ظفر قابل صاحب بھی اس بلاگ کو پڑھ چکے ہونگے۔
فقط:
منظور قاضی
جرمنی سے
4جون 2010
qabil ajmeri was a big poet , men ne inhen kbhi nai parha but moin akhtar sb. ne aik dafa in k chand ashar parhaythay tb se unhen perhna shuru kia hai un ka sb se fav shir hai mera, mjhay pe itne tawajuh mujhe se itna guraiz meray salam se pehlay meray salam k baad
محترمہ نازیہ صاحبہ : میں آپ کا شکر گذار ہوں کہ آپ نے اس دوسال پرانے بلاگ کو اپنی توجہ کا مرکز بنایا اور اپنےتبصرے سے نوازا : آپ نے کہا ہے کہ آپ قابل اجمیری کی شاعری سے ناواقف تھیں مگرمعین اختر کی زبانی اس کے اشعار سن کر آپ کو اس عظیم شاعر کی شاعری پڑھنے کی تمنا تھی : امید کہ میرے اس بلاگ کی مشمولات نے اپ کی جستجو کی تشفی کی ہوگی ۔ اب پھر یہ بلاگ عالمی اخبار کی لایبریری میں محفو ظ ہوجاے گا اور شائد آپ کی طرح قابل اجمیری کی شاعری کا شیدائی اس بلاگ کی کھوج لگا کر اس کو پڑھلے ؛ اس وقت تک کے لیے قابل اجمیری کا یہ شعر ہم پڑھتے رہینگے کہ :
مجھ ہی پہ اتنی توجہ مجھ ہی سے اتنا گریز
مرے سلام سے پہلے ، مرے سلام کے بعد
فقط:
عالمی اخبارکا ایک بلاگ نگار
منظور قاضی
میونخ جرمنی سے