السلام علیکم پاکستان 🙂
آپ سب کو23 مارچ پاکستان کی خوشیاں بہت بہت مبارک ہو
اللہ تعالی ہمارے ملک کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے
ھماری شان – ہماری جان- ھمارا پاکستان
پاکستان ھمیشہ زندہ باد
ماوں کی دعا پوری ہوی اور ہمیں گھر مل گیا
کتنی پیاری دنیا میں ہمیں گھر مل گیا
اللہ کا احسان ہے، ہمارا پاکستان ہے
ہم آن، ہم شان، ہم اس کی جان ہیں
ہم پاکستان ہیں
ہر ایک لمحہ اس کی خاطر کام کرنا ہے
دنیا میں اب روشن اس کا نام کرنا ہے
ہم آن، ہم شان، ہم اس کی جان ہیں
ہم پاکستان ہیں
خواب ہے اقبال کا اور قاید کا چمن
جیون سارا لگاے رکھنا اس کی ہر لگن
ہم آن، ہم شان، ہم اس کی جان ہیں
ہم پاکستان ہیں
وقت پڑے تو اس کی خاطر ہر دُکھ سہ لیں گے
جان لبوں پر آجاے تو پھر بھی کہ دیں گے
ہم آن، ہم شان، ہم اس کی جان ہیں
ہم پاکستان ہیں

پاکستان زندہ باد
توجہ فرمائیں اس شاعری کا سیاق و سباق یہ ھے کہ
یہ ایک قومی نغمہ ھے جس کو ایک پاکستان کے گلوکار عالمگیر نے گایا ھے، اور شاعری کس کی ھے معلوم نہیں ؛
🙂
اندرا گاندھی کے پوتے کا یہ حالیہ بیان ہے کہ مسلمانوں کو سمندر میں پھینک دینا چاہئے اور جو باقی بچیں اُن کے ہاتھ کاٹ دینے چاہئیں-
پاکستان زندہ باد۔ جتنا بھی خدا شکر ادا کیا جائے کم ہے۔
پاکستان زندہ باد،پائیندہ باد۔ پروردگار اس وطن عزیز کو ناعاقبت اندیش حکمرانوں سے محفوظ رکھے اور غربت زدہ عوام پر رحم کرے
آمین۔
ہے بلبلوں کی وہاں روز و شب غزلخوانی
وہی چھوٹ گیا ہے مرا چمن مجھ سے
نظر نہ آئ مجھے پھر کہیں وہ ہریالی
نہ جانے چھوٹ گیا کیوں مرا وطن مجھ سے
ظفر جعفری بھائی بہت خوب۔ماشااللہ
نظر نہ آئ مجھے پھر کہیں وہ ہریالی- بےشک پوری دنیا میں پاکستان جیسا قدرتی حسن کہیں بھی نہیں ھے
ظفر جعفری صاحب واہ واہ بہت خوب
ظفر جعفری صاحب کے اس شعر کا جواب نہیں :
” ہے بلبلوں کی وہاں روز وشب غزل خوانی
’ وہی چھوٹ گیاہے مرا چمن مجھ سے ”
اگر مجھ جیسا تک بند اسی خیال کو پاکستان کی بارے میں پیش کرتا تو یوں کرتا :
تھی بلبلوں کی جہاں ہر گھڑی غزل خوانی
خزاں نے لوٹ لیا ہے وہی چمن مجھ سے
۔۔۔
براہ کرم کوی مبصر میرے اس تبصرے پر کوی تبصرہ کرکے اس بلاگ کے اصل موضوع ( یعنی یوم قرار داد پاکستان ) کو نہ بدل دیے ۔ شکریہ
ظفر جعفری صاحب کی شاعری اور پاکستان کا شیدائی:
فقط:
منظور قاضی از جرمنی
قاضی صاحب بہت بہت شکریہ-کبھی کبھی آمد ہوتی ہے تو کچھ کہ لیتا ہوں۔
سلام ارض!!
قاضی صاحب اگر اجازت ھو؟
پاکستان جتنا پاکستان میں رھنے والوں کا ھے شاید اتنا ھی ھم لوگوں کا بھی ھے؟
چاہے ھمارے پاس پاکستانی پاسپورٹ نہں مگر پھر بھی ھم اپنے آپکو پاکستانی ہی مانتے ھیں
مجھ جیسی جاہل مطلق لڑکی نے پاکستان کے بارے میں زیادہ تو نہں پڑھا بس اتنا ھی پڑھ سکی جتنا مجھے آسانی سے مل گیا پا پھر میرے ماں باپ نے مجھے بتایا یا پھر میں جب جب پاکستان گئی اپنے رشہ داروں سے سنا بس اس سے زیادہ کچھ نہں
معزرت کیساتھ میں آپ سے ایک سوال کرنا چھاتی ھوںاگر اپکو نا گوار نہ گزرے؟
پاکستان کا اصل مقصد کیا تھا؟جس کیلیئے پاکستان کی تقلیق ھوئی؟
کیا پاکستان کا مقصد دو قومی نظریہ تھا ؟جیسا کے پاکستانی اسکولوں کی کتب میں لکھا ھے؟
اگر چہ دو قومی نظریہ تھا تو پھر تو انڈیا میں جو مسلمان رہ رہے ھیں سکھ رہ رہے ھیں اور دوسری قومیں آباد ھیں پھر وہ کس طرح رہ رہی ھیں؟
جہاں تک آزادی کی بات ھے کے ھمارے پاکستانی مسلمان پاکستان میں انڈیا سے زیادہ آزاد رہ رہے ھیں تو میری ناقص معلومات کے مطابق ھمارےپاکستانی مسلمانوں سے زیادہ آزادی سے ھندوستان میں مسلمان رہ رھے ھیں وہاں پر شیعہ سننی بھی اپنے سب ایام مناتے ھیں وہاں پر ھمارے پاکستان کی طرح ان کو ھر ھر موقع پر گورنمنت کی طرف سے چھٹی بھی ملتی ھے جلوس بھی ھوتے ھیں عاشورہ بھی بھرپور ھوتا ھے مختصر یکے ہر کام بھرپور طریقہ سے ھوتا ھے
اصل نظریہ کیا تھا پاکستان بنانے کا؟
یے تو بات ھو گئی نظریہ کی اب ایک اور سوال
ھم پاکستان سے باہر رھتے ھیں جب بھی ھم پاکستان جاتے ھیں ائیر پورٹ پر ھی دیکھیں ھمارا پاسپورٹ دیکھ کر ایسا رویہ ھوتا ھے کے جیسے ھم عام پاکستانی انسانوں سے الگ کوئی مقلوق آ گئے ھیں پھر ھم جہاں جاتے ھیں وہاں پر ھمارے ساتھ ایسا رویہ رکھا جاتا ھے کے جیسے ھم چاند سے اترا کار آ رھے ھیں صرف کس لیئے ؟اس لئیے کے ھم یورپ سے وہاں جاتے ھیں ورنہ مہمان تو ھمارے سامنے ھی سامنے اور بھی بہت آتے ھیں وہاں مگر ھم کوئی چاند کی مقلوق تصور کرتے ھیں خود کو
ھم یہاں رھ کر اپنی پیچان پاکستانی کرواتے ھیں مگر پاکستان میں رہنے والے خود کو پاکستانی کہتے شرماتے ھیں اور ھر خاص و عام یہی کہتا دکھتا ھے کہ کسی طرح ھم پاکستان سے باھر جائیں اور ھمکو اگر وہاں کا پاسپورٹ مل جائے تو پھر ھم بھی کوئی چاند کی سی مقلوق بن جائیں
میں ھمارے ملک کی سیاست موجودہ حالات وہاں کی معیشت وہاں کے کاروبار ذندگی ان سب پر تو خود اسی لیئے بات ھی نہیں کر ریی کے جتنا ان سب سے آپ واقف ھیں شاید میں اس سے کچھ کم واقف ھوں مگر پھر بھی وقییت ھے
اگر آپ مجھے یے جواب دیتے ھیں بدلے میں کے پاکستان کا ہر انسان ایک سا نہیں تو یے بات میں بھی جانتی ھوں کیویکہ میں نے بھی شادی پاکستانی انسان سے کی ھے جو کے 100فیصد پاکستانی ھے اور اسکو بھی پاکستان سے بہت پیار ھے اور وہ انسان بھی بلکل اسی طرح باتیں کرتا ھے جیسا کے اس بلاگ میں لکھی ھیں میں اس انسان کو منا منا کر تھک گئی ھوں کے یہاں شفٹ ہو جاو مگر وہ انسان بھی چند پاکستانیوں کی طرح یہی کہتا ھے کے میری نظر میں جس انسان نے پاکستان میں کچھ نہیں کیا وہ دنیا میں کچھ نہیں کر سکتا مجھے فخر بھی ھوتا ھے خد پر اورکے مجھے ایک ایسا انسان ملا مگر حیرت اس بات پر ھوتی ھے کے پاکستان میں مشکل سے 5 فیصد لوگ ایسے ھیں جو کے مخلص ھیں باقی 95 فیصد لوگ پاکستان کو با ئث شرمندگی کیوں محصوص کرتے ھیں؟
اگر آپ اب یے دلیل دیں کے وہاں کے حالات نے لوگوں کو یے سوچنے پر مجبور کر دیا تو معزرت کیساتھ اس کا جواب شاید یے بھی ھو سکتا ھے کے کیا پاکستان دنیا کا وحد ملک ھے جس کے یے حالات ھیں؟سری لنکا کو دیکھ لیں بنگلادیش کو دیکھ لیں انڈیا کو دیکھ لیں غربت اور حالات تو تقریبا حر جگہ کے ہی ایک سے ھیں مگر ھماری عوام میں حب الوطنی کیوں نہیں ھے؟
ھماری عوام نواز شریف کے کہنے پر سڑکوں پر آ جاتی ھے الطاف حسین جیسے فخریہ غیرملکی پاسپورٹ رکھنے والے کے کہنے پر سڑکوں پر آ جاتی ھے پیر صاحب پگارہ جیسے انسان کی صرف شکل دیکھنا اپنا فخر سمجھتی ھے ایسے کافی لوگ ھیں جن کو ھماری عوام اپنا ائیڈ ئیل بنا کر آنکھ بندھ کر کے ان کے اشاروں پر ناچتی ھے مگر کبھی ھماری عوام نے محمد علی جناح -لیاقت علی خان مادر ملت فاطمہ جناح کو نہ تو اپنا ائیڈ ئیل بنایا نہ ھی کبھی ان کے بتائے ھوئے اصولوں کو فولو کیا نہ ھی ان کو کبھی اہمیت دی
بس اگر فائدہ اٹھایا تو فقط اس چیز کا کے گورنمنٹ نے چھٹی دے دی تو فارغ دن مل گیا اور اگر وہ چھٹی اتوار کے دن پڑ گئی تو ایسا منہ بن جاتا ھے کے ایک چھٹی ماری گئی
حیرت ھوتی ھے یے سب دیکھ کر پھر ھم خود کو ایسے پاکستانیوں سے اچھا اور سچا پاکستانی سمجھتے ھیں کے ھم غیرملک میں پیدہ ہو کر بھی اپنے باپ دادا کے پاکستان سے محبت تو کرتے ھیں مگر جو پیدہ ھی پاکستان میں ھوئے ھیں وہ کیا کرتے ھیں
ھم تو پھر بھی چا ھے جناح صاحب کی برسی کا پتہ چلے -فاطمہ جناح کی برسی کا پتہ چلے یا لیاقت علیخان کی برسی کا پتہ چلے دل میں ایک فاتحہ تو پڑھ کر انکی روح کو بخش دیتے ھیں مگر ھمارے پاکستانی عوام آپ کے خیال میں قاضی صاحب کتنا فیصد عوام ھوگی پاکستان کی جو ان سب عظیم ہستیوں کی برسی پر انکی عظیم قربانی کے بدلے میں انکو ایک سورہ فاتحہ بھی پڑھ کر بخشتی ھوگی؟
معزرت کیساتھ قاضی صاحب جتنا پاکستان آپ کا ھے شاید اتنا ھی میرا بھی ھے اسی لیئے دل دکھتا ھے سوچ کر کے ھم پاکستان پاکستان تو کرتے ھیں مگر پاکستان اور پاکستان بنانے والے راہنماوں کیلیئے کیا کرتے ھیں اور کیا سوچتے ھیں شرمندگی ھوتی ھے ۔۔اگر کبھی ھم اپنے ضمیر کی آواز پر چلتے نہ تو پاکستان اس وقت کبھی فقط عنوان نہ رہتا بلکہ پاکستان ایک ملک ایک بھرپور ریاست ھوتا مگر ھمارے ضمیر سو نہیں رہے بلکہ مر چکے ھیں اسی لیئے پاکستان اب تک فقظ عنوان بن کر رہ گیا ھے
میں دعا کرتی ھوں کے پروردگار ھمارے پاکستان کو جو کہ اس وقت فقط عنوان ھی بن کر رہ گیا ھے اسکو عنوان کی ھی شکل میں ہمیشہ سلامت رکھے اور اب نئے پیدہ ھونے والے بچوں میں کوئی تو ایک بچہ ایسا پیدہ کر دے جو جوان ھو کر اس بے ضمیر عوام کے اندر ضمیرپیدہ کر سکے اور ھمارہ ملک ھمارے لیئے بائث شرمندگی نہیں با ئث فخر بن جائے آمین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماریہ علی کاظمی صاحبہ کی اس دھواں دھار تحریر کو پڑھکر رونگٹے کھڑے ہوگئے اور ایسا محسوس ہوا کہ وہ پاکستان کا پاسپورٹ نہ رکھتےہوئے بھی پاکستانیوں سے بڑھکر پاکستان سے محبت رکھتی ہیں۔
یہ پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ اس سے سچی محبت کرنے والے دنیا بھر کے دوسرے ممالک کی فصیلوں پر بیٹھکر اس کی اندرو نی بد انتظامیوں، ہنگاموں اور بد کاریوں اور بد عنوانیوں وغیرہ وغیرہ کا تماشہ دیکھیتے ہیں اور ہوسکے تو دامے درمے و سخنے اس ملک ( پاکستان ) میں رہنے والے پس ماندگان کی مدد بھی کرتے ہیں اور انکی ہمت افزائی کرکے کہتے ہیں کہ ” پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ ”
میری جوانی پاکستان کی بنیاد رکھنے میں اور پاکستان کی بنیاد میں دفن ہوچکی ہے اس لیے میں پاکستان کے لیے ہمیشہ ہمیشہ دعائے خیر کرتا رہونگا ۔
میں ماریہ علی کاظمی صاحبہ کے اتنے طویل تبصرےکا جواب نہیں دے سکونگا اس لیے کہ میں سیاست اور مذہب کے موضوعات پر بحث و تکرار سے پرہیز کرتا ہوں اس لیے کہ مجھے اس قسم کی بحث و تکرار کا انجام معلوم ہے ۔
اگر ماریہ علی کاظمی صاحبہ یہ جاننا چاہتی ہیں کہ ” پاکستان کا اصل مقصد کیا تھا ” تو وہ کسی ساست داں سے پوچھیں ۔ (میں قاضی حسین احمد صاحب کے رشتہ داروں میں سے نہیں ہوں ۔ میں تو اس لیے قاضی ہوں کہ میرے آبا واجداد قاضی تھے ورنہ مجھے قضائت وغیرہ کا کچھ پتہ نہیں۔ ہاں کو شش یہ کرتا ہوں کہ میری وجہ سے دو دلوں میں اتحاد قایم رہے اختلاف نہیں )
اب رہا ماریہ علی کاظمی صاحبہ کا یہ کہنا کہ ” انکی ” ناقص معلومات کے مطابق ہمارے پاکستانی مسلمانوں سے زیادہ آزادی سے ہندوستان کے مسلمان رہرہے ہیں ” اگر ایسا ہوتا تو ہم جیسے لاکھوں مسلمان جو وہاں پر پیدا ہوے اور پلے بڑھے ، اپنی جان اور مال اور اپنی اپنی اور اپنی ماں بہنوں کی عزت اور عصمت کی حفا طت کے لیے پاکستان کی طرف رخ نہ کرتے ۔
اگر ماریہ علی کاظمی صاحبہ ہندوستان کے مسلمانوں سے پوچھ لیتیں کہ کیا انہیں سانس لینے کی بھی آزادی ہے تو وہ ایسی بات نہ کرتیں۔ ہندوستان کی کٹر ہندو جماعتیں جس طرح آہستہ آہستہ مسلمانو ں کو تباہ کررہی ہیں اور انکو صحیح آزادی سے محروم کرتی جا رہی ہیں انکا اندازہ شاید ماریہ علی کاظمی صاحبہ کو نہیں۔
ماریہ علی کاظمی صاحبہ کو شاید ہندو سبھا اور راشٹریہ سیوک سنگھ اور ہندو توا کی اصطلا حات اور گجرات کی مسلمانوں کا حشر اور بابر مسجد کی شہادت کا حال معلوم نہیں ۔ انکو مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کا حال معلوم نہیں ۔
کیا انکو معلوم ہے کہ اندرا گاندھی کے پوتے ورون گاندھی نے مسلمانوں کو ہندوستان سے ختم کرنے کی تلقین کی ہے؟
میری ماریہ علی کاظمی صاحبہ سے یہی درخواست ہے کہ براھ کرم ہندوستان جاکر دو تین ماہ رہکر دیکھیں ( ایک دو دن میں تاج محل وغیرہ کی زیارت کرکے آجانے سے ہندستان کے مسلمانوں کا صحیح حال معلوم نہیں ہوتا ) تو شاید کبھی بھی ایسی باتیں نہیں کرینگی۔
بہر حال :
یہ سیاست کا معاملہ ہے اور سیاست اور مذہب اور کسی مسلک کے معاملے پر بحث کرنے کی نہ مجھ میں ہمت ہے نہ مجھ میں اتنی قابلیت ہے کہ کسی کو قایل کرسکوں ۔
میرا محبوب ترین موضوع صرف اور صرف میری پیاری اردو زبان ہے جس کو پاکستان کے مسلمان اپنی مشترکہ قومی زبان کہتے ہیں اور جس کی دھوم سارے دنیا میں ہے۔ مگر ہندوستان میں تو شاید فارسی رسم الخط میں اردو لکھنے والے بہت ہی کم ہونگے ۔نئ پود کو تو صرف دیوناگری اور رومن اردو میں ہی اردو پڑھائی جاتی ہے ۔ افسوس صد افسوس
بقول جگر : انکا جو کام ہے وہ اہل سیاست جانیں ۔ میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے
مجھے اردو زبان اور اردو ادب اور اردو شاعری پر لکھے ہوئے بلا گ پسند ہیں ۔ باقی خیریت ۔
فقط : اردو کا شیدائی
منظور قاضی از جرمنی
سلام عرض ھے قاضی صاحب آپکی خدمت میں
مجھے بہت افسوس ھو رہا ھے کے میں نے جو کچھ پوچھا اسکو اپ نے کس ایمانداری سے درگزر کر دیا معزرت کیساتھ آپ میرے بزرگ ھیں اپکے اس بلاگ پر ایک چھوٹا سا سوال کروں؟
آپ خد کو اردو کی خدمت کرنے والا انسان کہتے ھیں اور دوسرئ طرف آپ یے بھی کہتے ھیں کے پاکستان کی بنیادوں میں آپکا خون اور آپکی جوانی دفن ھے؟
آپکا مقصد حیات کیا ھے؟اردو کی خدمت کرنا یا پھر جس پاکستان کو آپ نے اپنی جوانی دی اسکی حفاظت کرنا؟حفاظت سے مرار میری یے بلکل نہیں کے آپ کوئی بندوق بردار محافظ بن جائیں حفاظت کا جملہ میں جس مقصد سے کہے رھیی ھوں آپ بخوبی واقف ھیں۔۔
قاضی صاحب معزرت کیساتھ آپ بابری مسجد کی بات کرتے ھیں پاکستان میں تو ہر ہر روز کو مسجد و امام بارگاہ شہید ھوتے ھیں!آپ ور ن گاندھی کی بات کرتے ھیں ایوب خان نے اور جنرل آصف نوز کے اپنی ھی عوام کیلیئے استعمال کیئے ھوئے بیانات آپ بھول گئے؟-آپ گجرات کی بات کرتے ھیں آپ حیدرآباد کا وقعہ بھول گئے؟آپ کراجی میں اورنگی ٹاون کا واقعہ کیسے بھول سکتے ھیں جہاں عورتوں کی چھاتیاں کاٹی گئیں؟معصوم بچیوں کی عزتیں پامال کی گئیں؟
اور ایک بات کے آپ کہتے ھیں کے پاکستان بنانے کیلئیے اپنی ماں بہنوں کی عزت و عصمت بچانے کیلئے پاکستان آئے تو قاضی صاحب پاکستان میں کیا ماں بہنوں کی عزتیں محفوظ ھیں ؟مختارں مائی جیسی کتنی کہانیاں پاکستان میں روز جنم لیتی ھیں اور دفن ھو جاتی ھیں آپ عورتوں پر کتے چھوڑنا کیسے بھول گئے؟ شاید آپ مجھ سے ذیادہ بہتر جانتے ھیں بھارت میں تو ایک مسلمان لڑکی کیساتھ اگر کبھی ذیادتی ھوتی ھے تو پوری مسلمان قوم ھندوں کا جینا حرام کر دیتی ھے مگر پاکستان میں کتنا احتجاج ھوتا ھےاس سب پر قاضی صاحب ؟
آپ مجھے شایو غلط سمجھ رھے ھیں میں ھندوستان میں رہ کر آئی ھوں میں نے وہاں محرم کیا ھے مسلسل 2 سال شایو میں نے آج کے ھندوستان کو آپ سے زیادہ پاس سے دیکھاھےمعزرت کیساتھ-وہاں کے مسلمان کتنا عزاب و سکون میں ھیں میں اپنی آنکھوں سے بارھا دیکھ کار آئیھوں
آپ کہتے ھیں کے ھندوستان میں مسلمانوں کو سانس لینے کی آزادی ؟تو قاضی صاحب میری سمجھ سے قاصر ھے کے آپ کون سے ھندوستان کی بات کر رھے ھیں میں فقط تاج محل تک 2 دن کی تفریح کیلئیے نہیں گئی میں نے بہت پاس سے ھندوستان دیکھا ھے جہاں جمعہ کی نماز کیلئے وہاں کی حکومت کیا کیاانتظام کرتی ھے میں نے وہاں محافل میلاد دیکھی ھیں جہاں پر ھندو خود محافل کے انتظامات سمبھالتے ھیں۔۔ھندوستان میں ان سب میں کوئی چیکنگ سسٹم نہیں وہاں پاکستان کی طرح ان محافل میں جاتے ڈر بھی نہیں لگتا کے گھر ھم ذندہ واپس آئیں گے کے ھماری خبر آئے گی۔۔میں نے وہاں کی ہندو عوام میں وہ احترام دیکھا جو شاید پاکستان میں مسلمان ھوتے ھوے بھی غیر ٍفرقہ والے نیہں کرتے۔۔
میں نے وہاں مجالس و جلوس دیکھے ھیں کے جس جس راستہ سے جلوس و علم و تازیہ گزرتا ھے وہاں پر نا تو کوئی بجلی کا تار ھوتا ھے نہ ھی کوئی ایسی چیز کے جس کی وجہ سے علم و تازیہ کو سلامی دینا پڑے حیرت کی بات ھے قاضی صاحب آپ کونسے ھندوستان کی بات کر رہے ھیں ؟اگر آپ وہاں پر ھندو مسلم سیاست پر مزاھب پر الزام تراشی کے استعمال کی بات کر رہے ھیں تو قاضی صاحب ھمارے پاکستان میں مزھب کو ھٹا کر دوسری کتنی چیزیں ھیں جو استعمال ھوتی ھیں شاید آپ کی نظر مجھ سے ذیادہ ھے پاکستان اور وہاں کی سیاست پر اسی لیئے آپ کہتے ھیں کے آپ کو سیاست کا اتنا نہیں پتہ
کیونکہ اگر اپکو سچ میں سیاست کا نہ پتہ ھوتا تو آپ بھی پاکستان میں آصف علی زرداری نواز شریف فضل الرحمن عمران خان یا پھر قاضی حسیں جیسے بڑے سیاست دان بنے بیتھے ھوتے مگر میں یہ جانتی ھوں کے آپکو سیاست کا ان سب سے زیادہ پتہ ھے اسی لیئے آپ جیسا پاکستان کو اپنی جوانی نام کرنے والا انسان آج پاکستان سے باھر بیٹھا ھے:)خیر قاضی صاحب آج کا ھندوستان ایسا نہیں جسیا آپ عکس کھینچ رھے ھیں ۔۔آپ نے تو میری باتوں کو ھندوستان پاکستان کا تقابل بنا کے پیش کر دیا کے جیسے میں ھندوستان کی تعریف کر رہی ھوں اور کوئی غداری کی مرتکب ھو رہی ھوں آپ نے تو مجھے پورا کا پورا بھاشن دے ڈالا۔۔ میں نے اپنے بلاگ میں کہیں بھارت کی کوئی تعریف نہیں کی جو آپ نے مجھے بھارت کی برایئاں گنوانا شروع کر دیں مگر میں نے اب بھی جو کچھ بھارت کیلئے کہا وہ فقط اسلئیے کے آپ نے مجبور کیا کے میں اپنے دشمن ملک کی اچھائیاں گنواں۔۔ویسے بھی آپ جیسے بزرگوں سے ھی سیکھا ھے کے اپنے دشمن کی اچھی بات کو بھی محفل میں ضرور لاو تا کہ تمکو پتہ چلے کے تمھارہ دشمن تم سے کتنا آگے ھے اور تم کتنا پیچھے۔۔
آپ جس آزادی کے وقت کی بات کرتے ھیں آپ کھتے ھیں کے آپ کا پاکستان کی بنیادوں میں خون ھے تو جب بنیاد رکھنے والے ھی دیار غیر جا بیٹھیں تو ھم جیسے نئے آنے والوں کو آگاہی کون دے گاا؟جب بنیاد رکھنے والے ھی پاکستان پر آگاہی دینے سے کترائیں اور یہ جواب دیں کے یہ سیاست دانوں کا کام ھیے میرا نہیں ہو معزرت کیساتھ پھر پاکستان جس موجودہ صورتحال سے دوچار ھے اسکی وجوھات صاف صاف سمجھ آ جاتی ھیں۔۔ معزرت کیساتھ قاضی صاحب گلے میں ہار لٹکانے سےکوئی پاکستان کی بنیاد رکھنے اور جوانی بنیادوں میں دفن کرنے والا نیہں بن جاتا ھم آج کی جوان نسل ھیں ھم کو سمجھانا آپ جیسے بنیاد رکھنے والوں کا فرض ھے کیا ھم محمد علی جناح کے مزار پر جا کر سوالات کریں؟یا فاطمہ جناح کی قبر سے جا کر پاکستان کے بننے کا مقصد پوچھیں؟یا پھر لیاقت علیخان کے مقبرے پر جائیں اور پوچھیں کے قاضی صاحب جیسے بنیاد رکھنے اور اس میں جوانی دفن کرنے کا دعوہ کرنے والے ھمکو کہتے ھیں کے میں قاضی حسیں احمد کا رشتہ دار نہیں جو آپ کے سوالات کا جواب دوں آپ کسی سیاست دان سے یہ سب پوچھو؟قاضی صاحب میں نے تو آپ سے کوئی سیاسی سوال کیا ھی نہیں میں نے تو بس پاکستان کا پس منظر آپ سے پوچھا ھے جس کو آپ نے یہ کہے دیا کے میں سیاسی مزھبی معضوعات پر بہس کرنا پسند نہیں کرتا ۔۔ ھم جیی جوان نسل کو آپ کی رہنمائی کی ضرورت ھے قاضی صاحب آپ اگر اس طرح دامن چھڑا لیں گے تو آج کی نسل کس کے پاس جائے؟کیا قاضی کے پاس جائیں یا عمران خان کے پاس جائیں؟جس کے پاس بھی ھم جائیں گے انجام آپ کو پتہ ھے کیا ھونا ھے وہ سب بلکل وہی کام کریں گے جو اسلام میں تفرقہ ڈلنے والے ملا کرتے ھیں کے ھمارہ فرقہ اچھا ھے ھمارے ساتھ آجاو
معزرت کیساتھ قاضی صاحب آپ میرے والد کی عمر سے بھی زیادہ عمر کے بزرگ ھیں میں نے بہت امید سے آپ سے کچھ سوالات کیئے تھے مگر آپ نے اپنا دامن بچانے کیلیئے میرے سوالات کو دھواں دار تقریر کہے کر میرے سوالات کا گلا گھونٹ دیا ؟
بہر حال آپ مجھے جتنا جتنا درگزر کریں گے میں آپ سے اتنا ھیسوال پوچھیتی جاوں گی ذیادہ سے ذیادہ کیا ھوگا؟آپ مجھے ڈانٹیںگے؟با تیںسنائں گے ؟کوئی بات نہیں میرے والد بھی مجھے ڈانتے ھیں اگر آپ سے ڈانٹ کھا لوں گی تو میری عزت کم نیہں ھو جائے گی!
میرے سوالات اپنی جگہ قائم ھیں قاضی صاحب برائے کرم آپ میرے سوالات کا جواب ضرور دیجیئے گا میں منتظر ھوں
آپکی بیٹی
ماریہ علی
سلام مسنون۔
میں عموما پاکستان زندہ باد اور اور ہندوستان مردہ باد جیسے جذباتی اور سطحی مباحث کی طرف توجہ نہیں دیتا۔ لیکن آج کسی طور محترمہ ماریہ علی صاحبہ کے تبصرہ جات کی طرف توجہ مبذول ہوئی تو پتہ چلا کہ اس بلاگ میں تو بہت کام کے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جن کے جواب یقینا میرے لئے آسان نہیں ہیں۔ نظریہ پاکستان کے سلسلے میں صرف اتنا عرض کروں گا کہ یہ وہ نظریہ تھا جس کے لئے علامہ محمد اقبال علیہ الرحمہ کی طویل بحث کانگرسی علماء کے ساتھ جاری رہی اور انکی آخری دلیل جو برھان قاطع بھی تھی، کے بعد مولانا حسین احمد مدنی نے مزید بحث کو اپنے لئے مزید شکست کا باعث جان کر ترک کر دیا۔ علامہ کا استدلال یہاں پیش کرتا چلوں جو انکی طرف سے اتمام حجت بھی تھا کہ اگر قومیت کی بنیاد علاقیت پر ہوتی تو رسول مقبول(ص) کو مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت نہ کرنا پڑتی۔ اگر قومیت کی بنیاد خون کے رشتے ہوتے ہوتے تو ابو لہب اور ابو جہل جیسے قرشی، رسولِ دو عالم کی قو میت سے قطعا الگ نہ ہوتے۔ قومیت کی بنیاد نظریات پر ہے جس کے سبب سلمان فارسی کو سلمان محمدی بنا دیا جاتا ہے اور السلمان منا اھل اللبیت کا درجہ ملتا ہے۔ بلال حبشی امت مسلمہ کا اتنا ہی محترم فرد ہے جتنے کہ امیر حمزہ اور عباس بن عبد المطلب تھے۔ کہاں حبشہ کا غلام اور کہاں بنی ہاشم کا افتخار، مگر نظریات کی وحدت انکو ایک امت قرار دیتی ہے۔۔۔۔۔یہ ہے حضرت اقبال کا استدلال۔ لیکن بات جب شروع یہاں سے ہوئی تو ہم پھر ریاست مدینہ کے قیام اور اسکے عمرانی خاکے Demographic Features پر بھی نظر کریں تو بہتر ہے۔ میثاق مدینہ وہ پہلا دستور تھا جس کی رو سے پہلی اسلامی ریاست وجود میں آئی، اور اس میثاق کی رو سے آنحضور (ص) ریاست مدینہ کے سربراہ قرار پائے۔ اسی میثاق کی رو سے مسلمان اور یثرب کے یہودی، اس ریاست کے برابر شہری قرار پائے جہاں وہ بیرونی دشمن کا مل کر مقابلہ کرنے کے پابند تھے۔ گویا حضور نے اسلامی ریاست کو محض مسلمان آبادی پر منحصر آبادی کا تصور ہر گز نہیں دیا تھا۔ اگر اسلامی ریاست ہر طور پر غیر مسلمانوں سے خالی ہی رہنا ہوتی تو اسلام کی تبلیغات کا سلسلہ کسی طور جاری نہ رہ سکتا۔ جس انداز میں ماضی میں اسلامی ریاست کا تلوار کے زور پر پھیلایا گیا، یہ نہ تو الام کی منشاء تھی اور نہ ایسا کوئی نظریہ نبیء کریم نے دیا تھا۔ لیکن بایں ہمہ یہودی اور مسلمان ایک ریاست کے شہری تو تھے، لیکن انکی قمیت اسی طور سے الگ رہی جیسے جناب ابراھیم خلیل اللہ (ع) کی ملت باقی قریش سے الگ رہ کر بنی عبد مناف اور بنی ہاشم کے توسط سے امت مسلمہ تک رہ گئی۔ خون کے رشتوں کے باوجود، نسل ابراہیم ، ملت ابراہیم کہلانے کی حق دار تب تک نہیں جب تک کہ دین بھی ابراھیمی نہ ہو جائے۔
دو قومی نظریہ کا منشاء کسی طور پر یہ تو تھا ہی نہیں کہ پاکستان میں غیر مسلم اقوم آباد ہو ہی نہیں سکیں گی۔ در اصل یہ تو اس قانون کی اساس تھا کہ انگریز ہندوستان میں مسلمان اور ہندو کو صرف ایک علاقے میں رہنے کے سبب ایک قوم نہیں مان سکتے۔ خاص طور پر مقننہ میں نمائندگی اور مذھبی و خانگی امور اور عائل قوانین کے سلسلے میں مسلمانوں کو الگ نمائندگی ضرورت بہر حال موجود تھی اور اس حقیقت کو نہ صرف آج کے عہد کا ہندوستان بھی تسلیم کرتا ہے، بلکہ کل دنیا اسک کی قائل ہے، ماسوائے فرانس کے، جہاں اسلامی یا دیگر مذھبی اقدار کو سیکولرزم کے نام پر مجروح کیا جا رہا ہے۔ ہندوستان میں مسلمانوں کی آزادی اور عید میلاد النبی جیسے تہواروں کی تعطیل اس بات کے غماز ہیں کہ ہندو اور مسلمان ایک قوم نہیں ہیں۔
اب رہا مسئلہ پاکستان کا تو سچ یہی ہے کہ پاکستان ٢٣ مارچ ١٩٤٠ سے لیکر آج تک اقبال کے خوب کی تعبیر ہے ہی نہیں۔ میں یہاں کسی ایسی بحث میں مبتلا نہیں ہونا چاہتا جس سے مزید انتشار پیدا ہو، لیکن مختصرا اتنا کہوں گا کہ حضرت اقبال نے ہندو مسلم اتحاد کی سفارت اور معاہدہ لکھنؤ کے سبب آل انڈیا مسلم لیگ سے خود کو الگ کر لیا تھا۔ اسی وقت کی مسلم لیگ نے جب یہ نوشتہ دیور پڑھ لیا کہ جنگ عظیم دوئم کے سبب کمزور ہوجانے کے باعث، سلطنت انگلشیہ( برطانیہ) ہندوستان کو چھوڑنے پر مجبور ہے اور اور بڑھتی ہوئے سویت کمیونسٹ نقشے کے خلاف ایک تدبیر کے طور پر ہندوستان کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا منصوبہ بنا چکی ہے تو ہمارے اکابرین نے اسی وقت صدر روز ویلٹ سے رابطہ کر لیا تھا کہ ہم آپ کے حواری رہیں گے۔ اسی اثناء میں کانگریس سویت حکومت سے روابط قائم کر چکی تھی۔ قیام پاکستان میں ہماری قربانیاں تو تب شروع ہوئیں جب ہندوستان کی تقسیم ہو چکی تو دونوں جانب بلوے شروع ہو گئے۔ ورنہ سچ یہی ہے کہ مسلمان قربانیاں ١٨٥٧ سے لیکر ١٩٤٧ تک کانگریس سے کہیں زیادہ نہ تھیں۔ جنگ عظیم دوئم کے اختتام پر کینیڈا کے مقام بریٹن وؤڈ میں چار بڑوں کی ایک کانفرنس میں تمام دنیا میں کالونیلزم کے اختتام پر نیو کالینولزم کا نقشہ تیار کیا گیا تھا، جہاں پر پاکستان کو امریکی نگہداری براہ راست نصیب ہو گئی تھی۔ بعد میں سیٹو اور سینٹو نامی معاہدے اور کیوبن میزائل کراسسز کی تفصیلات اس بات کی غماز ہیں کہ کس طرح پاکستان کو بریٹن وؤڈ معاہدے کے تحت محض ایک وقتی ضرورت کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ اب جبکہ سرد جنگ اپنے انجام کو پہنچ چکی اور ہندوستان کا سویت حکومت کے ساتھ تعاون کا تصور ہی نہ رہا، تو کس طرح اس ریاست کے وجود کو تسلیم کیا جا سکتا ہے، جس کا نظریہ ضرورت ہی فنا ہو چکا ہو۔
اب رہا مسئلہ پاکستان کے اندر طبقاتی تقسیم اور ظلم و ستم کا تو اسکا جواب یہی ہے کہ خود قائد اعظم محمد علی جناح نے کہا تھا کہ میرے جیب کے سکے کھوٹے ہیں۔ وصال رسول سے لیکر، وفات قائد تک مسلمان کا کردار محسن کشی کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔ شیعہ سنی جنگ آج کی جنگ نہیں، بلکہ انگریز دور میں بھی ہندوستان میں بلوے، قتال، تیتو میر اور حاجی شریعت اللہ کی تحریکیں، اور تبرا ایجیٹیشن تاریخ کے ریکارڈ پر موجود ہیں۔ اور خود مغلیہ دور میں اورنگزیب عالمگیر نے دکن میں جس طرح سے شیعوں کا قتل عام کیا، اسکے سبب میر جعفر و میر صادق کا پیدا ہونا قدرتی رد عمل تھا۔ اس پہلے سومنات کے مندر سے سونا اٹھانے والے چور کی کہانی کسی کو معلوم نہ ہو تو الگ بات، لیکن جہاں ہندوستا میں سومنات کا بت پاش پاش ہو رہا تھا، وہاں ساتھ ہی وسط ایشیا میں اپنے خونی رشتہ داروں پر اس لئے فوج کشی ہو رہی تھی کہ وہ شیعہ تھے۔ قوت اور جاہ و حشم کے پجاری نے سب سے پہلے سلطان کا لقب لکھ کر خود عباسی خلافت کو کمزور کیا، اور ساتھ ہندوستان بھی فتح کر لیا۔ پھر خود مغل سلطنت ہند کے بانی بابر کو گیارہ سال کی عمر میں فرغانہ سے کیوں بھاگنا پڑا؟ بابر ایک میدان میں پرتھوی راج چوہان کو شکست دیتا ہے تو دوسرے میدان میں ابراہیم لودھی کو بھی شکست دے کر ہندوستان میں مشہور اسلامی سلطنت کی بنیاد رکھات ہے۔ یہ کیسا اسلام تھا جہاں ایک مسلمان بادشاہ دوسرے مسلمان کو شکست دے کر اپنی حکومت کی داغ بیل ڈالتا ہے؟ ایسا کیوں ہوتا رہاِ؟ اسکا صاف جواب یہی ہے کہ کربلا میں آل رسول کے ساتھ ظلم کو جائز قرار دینے کے بعد، مسلمان نسل در نسل اپنے محور سے ہٹتے گئے اور اسلام محض جاہ و حشم کے سوا کچھ نہ رہا۔ مسلمان آج تک کربلا اور حرہ کے واقعے پر خاموش ہے۔ ان حالات کی پیداوار ملک سے توقعات اللہ تعالیٰ ہی پوری کرے تو کرے۔ بہر حال ہماری دعا یہی ہے کہ اللہ پاک اس ملک کو اپنی خاص مدد سے قائم رکھے اور اسکی حفاظت فرمائے اور اے کاش کہ یہ اقبال کے خواب کی سچی تعبیر بن کر ابھر سکے، جہاں ملا اور انسان ایک ہی گھاٹ پر پانی پی سکیں۔
رہی بات نسوانی حقوق کی تو اسکی صورت حال مغرب میں پاکستان سے بھی بد تر ہے۔ اس پر کسی وقت مفصل قلم اٹھاؤں گا، انشاء اللہ۔
اگر کسی کی دل شکنی ہوئ ہو تو بندہ عفا کا طلبگار ہے۔
پاکستان زندہ باد۔
ماریہ علی صاحبہ جی آپ کو عالمی بلاگ کی محفل میں خوش آمدید ، ماشااللہ زبردست لکھا امید ھے کہ آپ سے مزید مستفید ھوں گے
LUCKNOW, India (Reuters) – Police in northern India on Saturday arrested a great-grandson of the country’s first prime minister, Jawaharlal Nehru, over allegations he made inflammatory comments against Muslims.
Police fired in the air and baton-charged a crowd of at least 10,000 of Varun Gandhi’s supporters shouting pro-Hindu slogans as he was arrested in his constituency in Uttar Pradesh, a crucial state in the April-May general election.
The arrest of Gandhi, a member of India’s powerful Nehru-Gandhi dynasty and election candidate for the Hindu-nationalist opposition Bharatiya Janata Party (BJP), could be an embarrassment for the BJP weeks before the polls start.
A speech in early March by Gandhi has been widely played in the local media in which he allegedly threatens to cut off the hands of those who harm Hindus, and crudely compares a rival Muslim candidate to Osama Bin Laden.
مندرجہ بالا خبر آج یعنی 28 مارچ 2009 کی ہے جس میں ورون گاندھی کی زہریلی تقریر کی وجہ سے اسکو پولس نے گرفتار کیا ۔ اس تقریر میں اس نے کہ مسلمانو ں کے ہاتھ کاٹنے کی دھمکی دی تھی اور اپنے مخالف مسلمان امیدوار کو اسامہ بن لادن کے برابر کہا تھا۔
امید کہ ماریہ علی کاظمی صاحبہ اس تحریر کو غور سے پڑھینگی ۔
میں ماریہ علی کاظمی صاحبہ سے بحث و تکرار کرنا نہیں چاہتا، چاہے وہ مجھے کتنا ہی اشتعال دلائیں ۔ وہ اپنے خیالات کی مالکہ ہیں ۔ مگر انسے یہی درخواست ہے کہ وہ بلا کسی ثبوت کے یہ غلط بات ہرگز ہرگز نہ کہیں کہ میں خدا ںخواستہ انپر ” غداری کا الزام لگا رہا ہوں” ۔ ( افسو س صد افسوس )
اگر وہ ہندوستان میں رہکر ہندوستان کے مسلمانوں کو آزاد سمجھ بیٹھی ہیں تو براھ کرم ورون گاندھی اور بھارتیہ جنتا پارٹی اور ٹھاکرے اور ایڈوانی جیسے ہندو لیڈروں کے بیانات بھی غور سے پڑھیں۔
اگر پاکستان میں بھی غندہ گردی اور دہشت گردی اور چوری اور ڈاکا اور حرام زدگی ہوتی ہے اور معصوم انسانوں کی عزت اور جان اور مال لوٹی جاتی ہے اور مختاراں مائی جیسی مقدس ہستیوں کی عصمت دری ہوتی ہے اور فرقہ وارانہ فسادات ہوتے ہیں اور میرے معصوم نوجوان بھتیجے کو بھی شہید کیا جا تا ہے تو اس میں پاکستان کا قصور نہیں اس کے رہنماوں کا اور اسکے نا اہل حکام کا قصور ہے ، پاکستان کا نہیں ۔ اس لیے کہ بہر حال پاکستان کے
تما م شہری ایک آزاد ملک میں رہتے ہیں ۔
میرا عقیدہ یہی ہے کہ پاکستان میں رہنماوں کی نا اہلی اور بد دیانتی اور بے عقلی کا خمیازہ پاکستانی قوم بھگت رہی ہے ۔ میرا یہ بھی عقیدہ ہے کہ آزادی ، غلامی سے بہتر ہے ۔ پاکستان بہر حال آزاد ملک ہے صرف اسکی بد بختی یہ ہے کہ اسکو قاید اعظم کے بعد بے لوث رہنما نہیں ملے اور ملے بھی تو انکو آزادی کے ساتھ قیادت کا موقعہ نہیں ملا۔ اس کے علاوہ اسے جمہوریت کے آزادانہ تجربے کا بھی موقعہ نہیں ملا اور آمروں نے اور مفاد پرست لیڈروں اور ملاوں نے اسے تباہی کے گڑھے میں ڈال دیا۔
سید مصباح حسین صاحب نے اپنے تبصرےمیں تمام حقایق پر اچھی طرح روشنی ڈالد ی ہے ۔ اس لیے مزید تشریح کی ضرورت نہیں ۔ اگر ماریہ علی کاظمی صاحبہ کو ان سے کچھ پوچھنا ہے تو پوچھ لیں ۔
ماریہ علی کاظمی صاحبہ شاید یہ جانتی ہیں کہ انکی اور انکے شوہر کی طرح لاکھوں پاکستان کے وفادار ، پاکستان کے باہر بقول پنہاں صاحبہ کے اس شعر کے کہ : ” اپنے اپنے جنت کے کچھ خواب لیے ۔ اپنی اپنی دوزخ میں سب جیتے ہیں ”
یہ بلاگ ثناء شاہ نقوی صاحبہ نے کھولا ہے وہی اس کی ناظمہ ہیں ۔ وہ یا عالمی اخبار کی انتظامیہ اس بلاگ کی صحت سے مطمئن ہیں تو انکی مرضی۔
اگر اردو زبان اور ادب اور شاعری پر کچھ باتیں ہوں تو اس کے لیے میرے بلاگ حاضر ہیں ۔ چشم ما روشن دل ما شاد۔
۔
فقط :
پاکستان کا بہی خواہ اار اردو کا شیدائی
منظور قاضی از جرمنی
قاضی صاحب
آپنے جو شعر لکھا ہے کہ
ٰٰٰٰ ٰٰٰٰتھی بلبلوں کی جہاں ہر گھڑی غزل خوانی
خزاں نے لوٹ لیا ہے وہی چمن مجھ سےٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰ ٰٰٰٰ
میرا خیال ہے لوٹ لیا کے بجائے چھین لیا مناسب ہوگا۔ اس جگہ لوٹ لیا کی ترکیب صحیح نہیں لگ رھی۔ میری رائے سے کسی کا بھی متفق ہونا ضروری نہیں ۔
Mrs Maria Ali صاحبہ
آپ کی بات بالکل صحیح ہے اور تمامتر مشکلات کے باوجود بھارت حیرتناک حد تک ترقی کررہا ہے ۔ وہاں عید میلادالنبی، عیدین اور عاشورہ کی عام تعطیل بھی ہوتی ہے۔ میرا آپ سے ایک سوال ہے کہ کیا وجہ ہے کہ وہاں مسلمان لڑکیاں بڑی تیزی سے ہندیوں سے شادی کررہی ہیں۔ ہندو مسلم شادیاں یورپ اور امریکہ میں بھی دیکھنے میں کم نظر آتی ہیں۔
ظفر جعفری صاحب نے درست فرمایا ۔ شروع میں انہوں نے جو شعر لکھا تھا وہ یہ تھا :
ہے بلبلوں کی وہاں روز و شب غزلخوانی ۔ وہی چھوٹ گیا ہے مرا چمن مجھ سے
اس شعر میں بلبلوں سے ” شب” میں بھی غزلخوانی کر وائی گئی ہے اور دوسرے مصرعہ کا وزن پہلے مصرعہ کے وزن سے مختلف ہے ( امید کہ ظفر جعفری صاحب طارق ہاشمی صاحب سے اس سلسلے میں بات کرکے دیکھینگے )
۔۔
اسی خیال کو میں نے یوں لکھا تھا کہ:
تھی بلبلوں کی جہاں ہر گھڑی غزل خوانی ۔ خزاں نے لوٹ لیا ہے وہی چمن مجھ سے
اب اگر ظفر جعفری صاحب اس شعر کو یوں لکھدیں کہ:
تھی بلبلوں کی جہاں ہر گھڑی غزل خوانی ۔۔ خزاں نے چھین لیا ہے وہی چمن مجھ سے
تو مجھے کوئی اعتراض نہیں اس لیے کہ اس شعر کے اصل خیال کے خالق آپ ( ظفر جعفری صاحب ) ہی ہیں۔ چاہیں تو آپ اپنی طرز میں لکھیں یا میرے مشورے کے مطابق لکھیں: مبارک ہو۔
خیر اندیش :
منظور قاضی از جرمنی
میں نے تو ظفر جعفر ی صاحب کے تبصرےکا جواب دے دیا ۔
اب دیکھیے کہ ماریہ علی کاظمی صاحبہ ظفر جعفری صا حب کو انکے سوال کا کیا جواب دیتی ہیں
جعفری صاحب آپ کا سوال سچ میں بہت وزن والا ھے
ویسے آپ کیا سمجھتے ھیں کے ایک شادیوں کا مسلہ ھی کافی ھے ان سب باتوں کے بدلے؟
جعفری صاحب آپ مجھ سے زیادہ جانتے ھیں کے تربیت بڑی چیز ھوتی ھے ھم جیسی لڑکیا یورپ جیسے ھر طرح سے آزاد مقام پر رہ کر بھی اپنے والدین اپنے خاندان اپنے مزہب کی عزت رکھ کے ھر غلط کام سے دور ھیں تو ایسا کیوں ھے؟کیا ھمکو آزادی نہیں یہاں کچھ کرنے کی؟
پھر بھی ھماری تربیت ایسی ھوئی کے ھم کس غلط فعل میں نہیں پڑے
جہاں تک بھارت کی بات ھے تو اس میں میرا نہیں خیال کے بھارتی حکومت شامل ھے مسلمان لڑکیوں کی شادی ھندو لڑکوں سے کروانے میں:اگر ایسا ھے تو
آپ ثابت کر دیں:)؟
اور بھی کافی دلیلیں ھیں جو مجھے علم ھے کے آپ کے اپنے زہں میں ابھی ساتھ کے ساتھ آبھی رہی ہونگی:)
یے سب کچھ ان گھرانوں پر ھے جن کے گھر کی لڑکیاں ایسا کرتں ھیں تو بہتر یے نہیں ھوگا کے ایسی باات کر کے اصل بات کا وزن نا مارا جائے؟
ماریہ علی
Mrs Maria Ali صاحبہ
ایک ایسی شادی مرے عزیزوں میں بھی ہوئ ہے۔ اسلئے میں نے اس مسئلہ پر بہت سوچا ہے۔ جواب یہی ملا کہ مسلمان لڑکے زیادہ تعلیم حاصل نہیں کرتے اور ہماری لڑکیاں مجبوراٰٰٰٰ ٰٰٰٰ ایسا کرتی ہیں۔ پاکستان میں اس قسم کے مسائل نہیں ہیں اور یہی بات خدا کا شکر ادا کرنے کی ہے۔پاکستان بنانے والوں کے ذہن میں یہی خدشات تھے۔
منظور قا ضی صاحب
آپکی تصحیح کا شکریہ۔ مجھے ندامت ہے کہ میں اسکو مانے سے قاصر ہوں۔ میں اس قطعہ پر قمر نقوی صاحب سے اصلاح لے چکا ہوں اور یہ طارق ہاشمی صاحب اور دوسرے اساتذہ کو بھی سنا کر داد حاصل کرچکا ہوں۔ مزید اصلاح کی اس میں گنجائش نہ ہونے کے برابر ہے۔ دراصل میں نے ایک غزل کہی تھی جس میں یہ دو اشعار قطع بند ہیں۔ دو اور اسکے قطعہ بند اشعار تھے
نظیر و غالب و میر و ابوالحسن خسرو
یہ ارضِ آگرہ کہتی ہے، ہے سخن مجھ سے
میں فخرِ تاج محل ہوں، زمینِ فتح و ظفر
کہ حسن و عشق و محبت کا ہے چلن مجھ سے
جس کی آپنے نشاندہی کی ہے وہاں شب و روز کے اصطلاحی معنی لئے گئے ہیں لغوی نہیں اور یہ چیز جزو شاعری ہے۔ مثلاَ انیس کے ایک مطلع کا مصرعہ ثانی ہے کے
ہم آسمان سے لائے ہیں ان زمینوں کو
میر انیس آسمان پر تو نہیں گئے تھے۔ آپ نے طارق ہاشمی صاحب کے بھی ایک شعر کی تصحیح کی تھی جس سے ہاشمی صاحب نے اتفاق نہیں کیا۔ بہرکیف میرے اگر کسی بھی شعر کی آپ اصلاح کریں گے تو میں اُس پر سنجیدگی سے غور کرونگا۔ قمر نقوی صاحب کی اصلاح میرے لئے حرفِ آخر ہوتی ہے۔ اس کے باوجود میں اُن سے آپ کی مندرجہ بلا تصحیح پر مشورہ ضرور کرونگا۔
سلام قاضی صاحب آپ نے ایک دفعہ پھر سے میری باتوں کو بلکل ھی دوسرا رخ دے کر میری سب باتوں کو بلکل ھی دفن کر دیا بہر حال وہ میرا نظریہ تھا یہ آپ جیسے پاکستان کے دعوے داروں کا نظریہ ھے
ھم جیسی نسل جو کے پیدہ ھی پاکستان سے باہر ھوئی ھے ھمکو آپ جیسے پاکستان کے دعوے دار اگر کچھ اور مل گئے تو شاید میں تو خود کو پاکستانی کہتی بھی ھوں آنے والی نسلیں آپ جیسوں کا رویہ دیکھ کر پاکستانی رشتہ تک سے انحراف کر دیں گی کیونکہ جس ملک کے بانیان خود کوآپکی طرح گوشہ نشینی میں بھی یہی کہتے دکھیں گے کے ھم نے پاکستان کو اپنی جوانی دی ھے ھم نے پاکستان کی بنیادوں میں اپنا لہو شامل کیا ھے تو آنے والی نسل یہی سوچے گی کے جس ملک کے بانیان ھی گوشہ نشینی میں بیٹھنا اپنا فخر سمجھتے ھیں تو ھم اپنا دور کا تعلق بھی کیوں ظاھر کریں پاکستان سے
میں کوئی آپکی طرح محب وطن نہیں نا ھی میں کوئی ایسی پاکستانی لڑکی ھوں جس کا جنم کرم پاکستان میں ھوا ھو بس اگر میں کچھ ھوں تو بس اتنا کے میں پاکستان کے اصل سچ کی تلاش میں ھوں
مگر افسوس کے ساتھ یہاں ٹائیپ کرنا پڑ رہا ھے کے مجھے ایک ایسا انسان اس ویب سائیٹ پر ملا جو خود کو کہتا تو پاکستان کا مخلص ھے اور بقول اس شخص کے اسکی جوانی بھی اور خون بھی پاکستان کی رگوں میں بسا ھوا ھے مگر جب میں نے اس شخص سے کچھ حاصل کرنا چاہا تو وہ شخص کنارہ کشی اختیار کر گیا ۔۔ شاید آج نہیں کل نہیں کچھ عرصہ بعد نہیں ایک لمبے عرصہ بعد قاضی صاحب آپ کو میری یہ سب باتیں بہت تنگ کریں اور اس وقت پتہ نہیں میں کہاں ھوں آپ کہاں ھوں مگر مجھے اپنے خدا پر پورا بھروسہ ھے کے کبھی نا کبھی آپکو میری یے سب باتیں بہت یاد آئیں گی اور اس وقت آپ چا ہیں گے کے میری باتوں کا آپ مجھے جواب دیں مگر آنے والا وقت کس نے دیکھا ھے نا جانے اس وقت کیا ھو؟
اور اگر پھر بھی نہیں تو قاضی صاحب ایک بات کا تو میں دعوہ کرتی ھوں کے قیامت ھم سب نے دیکھنی ھے وہاں نا تو آپ مجھ سے عمر میں بڑے ھونگے نا ھی محمد علی جناح صاحب ھم سے چھپے ھونگے سب ایک دوسرے کے سامنے ظاھر ھونگے تو پھر اس وقت ان سب باتوں کا فیصلہ ھو سکتا ھے جناح صاحب کی موجودگی میں ھی ھو؟ مگر اس وقت بھی میرے سوالات آپ سے یہی ھونگے فقط اس لئیے کے آپ نے مجھے یے بتایا کے آپ نے پاکستان بننے کےوقت اسکی بنیادوں کے وقت اپنی جوانی قربان کرنے والوں میں سے ایک ھیں
آپکی ایک بات کا جواب اور دیتی چلوں آپ نے کہا نا کے قاید اعظم کے بعد بے لوث رہنما نہیں ملے اور ملے بھی تو انکو آزادی کے ساتھ قیادت کا موقعہ نہیں ملا۔ تو قاضی صاحب آپ تو اس وقت بلکل ایسی بات کر رھے ھیں کے ایک مسجد میں کچھ غنڈے آتے ھیں اور مولوی کو جائے نماز سے ھٹا کر خود نماز پڑھانے لاگ جاتے ھیں 🙂 قاضی صاحب کیا ایسا کبھی ھوا ھے ؟آپ جیسے لوگ برا مت منائیے گا خود سے پیچھے ھٹ گئیے اور ھمکو وراثت میں ایسی سیاسی و امرانہ قیادت دیے دی جس کی وجہ سے آج کا پاکستان ایسا ھے ۔۔ اصل بات تو یے ھے کے آپلوگ کچھ کرنا ھی نہیں چاھتے تھے اسی لیئے کوئی دیار غیر جا بیٹھا کوئی کہیں تو کوئی کہیں قصہ مختصر آپ جیسے سب لوگ گوشہ نشینی اختیار کر گئے اور پاکستان چوروں اور ڈاکووں کے حوالے کر دیا
آپ جیسے لوگوں نے فقط اپنی ڈیوٹی یے سمجھی کے آنے والی نسلوں کو بس یے بتانا کے ھم ھیں بانیان پاکستان اور اب ھم الگ ھو کر بیٹھ گئیےھیں ۔۔۔
آپ جیسے لوگوں نے اپنی ذمہ داری خود تو نبہائی نہیں چوروں ڈاکووں کے ھاتھ میں پاکستان دے کر یے کہنے بیٹھ گئیے کے ھم کیا کرتے؟
آپ جیسے لوگوں نے برا مت مانئیے گا بلکل ایسا ھی کردار ادا کیا ھوگا پاکستان بنانے میں جیسا کے افتخار چوھدری کو بہال کروانے میں ھماری عوام نے بند آنکھوں سے نواز شہباز و سپریم کورٹ بار کے صدر علی احمد کرد (عرفگنجنی) کا ساتھ دیا ۔۔پس اسکے بعد کھیر کوئی اور کھا گیا اور ھم ھیرو بن گئیے
عالم با عمل اور عا لم بے عمل کا فرق قاضی صاحب مجھے اسی معاشرے نے سکھایا ھے معزرت کیساتھ
بہر حال وقت کسی کا نہیں ھوتا یے تو میں بھی جانتی ھوں
وقت آنے پر مجھے میرے سب سوالوں کے جواب بھی مل جائیں گے اور آپکو ان باتوں کے درگزر کرنے کا احساس بھی ھو جائے گا انشااللہ
اگر میری کسی بات سے آپکی دل شکنی ھوئی ھو تو معزرت
آپکی نا قلق بیٹی
ماریہ علی
سلام ثنا شاہ کیسی ھیں آپ؟:)
بہت بہت شکریہ آپنے مجھے خوش آمدید کیا 🙁 میں یہاں بلکل نئی ھوں مجھے آپ جیسوں کی مدد و سرپرستی کی بہت ضرورت ھے پلیز میرا ساتھ دیجیئے گا یہاں پر:)
آپکی بہں ماریہ
محترم سیدمصباح حسین صاحب آپ یقین مانیں آپ کے لکھے نے مجھے اتنا کچھ دے دیا جو شاید میں مزید 10 برس تک بھی نا حاصل کر سکتی بہت بہت مہربانی بھائی آپکی ۔۔آپ کا سمجھانے اور تاریخ بیان کرنے کا طریقہ اتنا شاندار ھے کے آپ نے صرف اور صرف با مقصد باتیں کیں کہیں کوئی فضول گفتگو نہیں کی بہت بہترین بھائی زبردست
آپکا بہت بہت شکریہ
مولا (ص)آپکو صدا خوش رکھیں آمین
ماشااللہ کافی گرما گرمی کا ماحول ھے یہاں پر:(
ڈاکٹر پنہاں کا شعر پھر سے دہرانا پڑتا ہے :
اپنی اپنی جنتوں کے کچھ خواب لیے
اپنے اپنے دوزخ میں سب جیتے ہیں
۔۔۔
اس کے بعد میں کسی ” آہوے رم خوردہ ” کی ” وحشت کھونے ” کے لیے کچھ نہیں کہ سکتا اس لیے کہ مجھے اس بات کا احساس ہے کہ میں ان بلاگو ں میں ایک ” مہمان ” کی حیثیت سے اپنے ” میز بان ” کی محفل میں کوئی ایسی بات نہ کہوں یا لکھوں جو ” حذف ” یعنی سنسر کا شکار ہوجائے اور پھر مجھ ہی کو میری حق گوئی و بے باکی کی سزا دی جائے ۔
میرا تو یہ حال ہے کہ :
اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں بے گانے بھی نا خوش
میں زہر ہلا ہل کو کبھی کہ نہ سکا قند
مگر مجھے اللہ نے کچھ لکھنے یا کہنے کے قابل بنا یا ہے تو اس کو میں کسی کی دل شکنی یا ہمت شکنی کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہتا چاہے مجھ کو کتنا ہی اشتعال دلا یا جائے ۔ خاص طورپر اس لیے کہ میں عالمی اخبار کا ایک ‘ مہمان ” ہوں اور یہ نہیں چاہتا کہ کسی اور” مہمان ” سے بحث وتکرار کرتا رہوں۔
بار بار اپنے ای میل کا پتہ لکھتا رہاہوں کہ اگر کسی کو میری ذاتی زندگی کے بارےمیں کہنا سننا ہوتو وہ اس پر لکھیں: manzoorquazi@gmail.com
بہتر تو یہ تھا کہ پاکستان اور ہندوستان کے مسلمانوں کی قسمتوں کے تقابل کے موضوع پر ایک الگ بلاگ لکھا جاتا جہاں پر سیر حاصل تبصرے بھی ہوتے اور ایک دوسرے کوبلا ثبوت ” غدار ” بھی قرار دیا جاتا اور ہر وہ فرد جس نے پاکستان میں اپنی جوانی قربان کرکے پاکستان سے باہر آکر یورپ ، اسٹریلیا ، امریکہ ، کینیڈا وغیرہ وغیرہ جاکر پاکستان کی خدمت کی اورحسب استطاعت اپنی بقیہ زندگی کو اور اپنے سرمایے کو اپنے پاکستان میں رہنے والے عزیزو اقربا پر قربان کردیا، اسکی قربانیوں کی صرف یہ کہکر ” تذلیل اور تضحیک ” کی جاتی کہ وہ ” محب پاکستان ” نہیں ہے اور اس نے پاکستان کو چھوڑ کر پاکستان کو “غنڈوں” کے ہاتھو ں میں ڈالدیا ۔
حسرت موہانی کاشعر یاد آتا ہے:
خرد کا نام جنوں رکھدیا ، جنوں کا خرد
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے
۔۔۔۔
میرا ایک شعر جو مصحفی کی غزل کی زمین میں ہے ،پیش خدمت ہے : :
غلط باتیں اگر سونچوں تو مجھ کو ٹوک دیتی ہے
الہی شکریہ تیرا کہ دی ایسی زباں مجھ کو
خدا کرے کہ ایسٰی زبان سب غلط باتیں کرنے والوں کو عطا ہوجاے۔ آمین ۔۔۔۔۔
فقط:
ایک محب پاکستان جس کی جوانی پاکستان کی بنیادوں میں دفن ہے :
منظور قاضی از جرمنی
بہت شکریہ قاضی صاحب آپ جو مجھے سمجھانا چاہ رھے تھے میں سمجھ گیا او جو میں آپکو سمجھانا چاہ رھی تھی آپ بخوبی سمجھ گئے
سلامت رھیں آمین
ماریہ علی
ساتھ کے ساتھ میں آپ سے معزرت بھی کرتا ھوں ماریہ کی طرف سے اس کی کہی ھوئی ھر بات میں نے پڑھی اور اپکی بھی سب باتیں پڑھیں بس میں اتنا ھی کہ سکتا ھوں کے قاضی صاحب آپکو خود اندازہ ھوگیا ھوگا کے ایک یورپ میں رہنے والی لڑکی اگر پاکستان سے محبت کرتی ھے تو اسکے اثرات ایسے ھی ھوتے ھیں:)خیر میں پھر سے معزرت کرتا ھوں بلکہ میں کیا ماریہ بھی میرے ساتھ بیٹھی ھے وہ بھی معزرت کرتی ھے آپ کے ساتھ جو جو باتیں ھوئیں
اگر ھو سکے تو اسکو معاف کردیجیئے گا
علی و ماریہ علی
میں علی کاظمی بھای اور ماریہ علی کاظمی بھابھی کا دل سے مشکور ہوں کہ انہوں نے مجھے اتنے پرخلوص انداز میں مخاطب کیا ۔ میں تو شروع ہی سے ماریہ علی کاظمی صاحبہ کی تحریروں سے انکی پاکستان سے دلی محبت کا اندازہ لگا چکا ہوں ۔ خدا کرے کہ ان کی طرح ایسی جوشیلی ہستیاں جن کا دل پاکستان کی تباہی پر روتا ہے وہ دنیا میں اور خاص طور پر پاکستان میں پیدا ہوجائیں۔
میرا دل تو انکی طرف سے بالکل صاف ہے اور میں انکی ہر وہ بات جو انہوں نے غلط فہمی میں تمام پاکستان سے باہر رہنے والے پاکستانیوں اور پاکستان کے شیدائیوں کےجذبہ محبت پاکستان پر شک کی طرح لکھی تھی اسے دل سے معاف کرتاہوں ۔
میں ان سے اور علی کاظمی بھائی سےمیری اپنی کوتاہیوں کی معافی چاہتا ہوں ۔ گر قبول افتد زہے عز و شرف ۔
فقط:
ایک محب پاکستان جس کی بقیہ زندگی پاکستان کی بقا کی دعا مانگتے ہوے گذر رہی ہے :
منظور قاضی از جرمنی
صاحبان فکر ودانش۔ماشااللہ۔پاکستان کے قلب لاہور میں بیٹھ کر اس بلاگ کا ایک ایک لفظ پڑھا ہے اور کسی کم وکاست کے بغیر کہہ سکتا ہوں کہ ایسی مثبت بحث اگر پاکستان کی قومی اسمبلی میں ہو تو ملک کی صورت حال بدل جائے۔ماریہ علی اور انکے ہم سفر جس طمطراق کے ساتھ آئے ہیں اور جس سرعت سے انہوں نے اردو ٹائپ سیکھی ہے وہ نوے فیصد سے زائد ادیبوں شاعروں کے لیئے ایک روشن مثال ہیں کہ جنہیں کمپیوٹر کے استعمال اور اردو ٹائپنگ سے اللہ واسطے کا بیر ہے۔خوش رہیں ماریہ علی اور دل کھول کر لکھیئے اس بلاگ پر۔ بلاگ ہے ہی فکر ودانش کی تقسیم کا نام اور اسے شخصی اہانت،ذاتی پرخاش اور بے مقصد تنقیص کے لیئے استعمال کرنا بلاگ اور بلاگرز کی تضحیک ہے۔ میں زاتی طور پر یہ سمجھتا ہوں کہ ہمیں نوجوانوں کے سوالات کا جواب ضرور دینا چاہیئے کہ یہ بھی بہت بڑا صدقہ جاریہ ہے۔ آپ میں سے ہر فرد نے اپنی اپنی استطاعت کے مطابق اس بحث میں حصہ لیا ہے اور میں اس بلاگ کے میزبان شعیب صفدر اور ثنا شاہ کی طرف سے آپ سب کا ممنون ہوں۔
قاضی صاحب وہاں ٹاپنگ کی غلطی تھی۔ صحیح مصرع یوں ہے۔
وہی جو چھوٹ گیا ہے مرا چمن مجھ سے
ایک نعتیہ شعر آبکی نذر کررہا ہوں
میں کب سے سینچ رہا ہوں سخنوری کا چمن
ہے کائنات خدا سے مگر سخن مجھ سے
ظفر جعفری صاحب : واہ واہ واہ واہ بہت اچھے بہت خوب سبحان اللہ کیا الہامی مصرعہ آپ نے کہا ہے کہ :
” ہے کائینات خدا سے ، مگر سخن مجھ سے ”
میں کب سے سینچ رہا ہوں سخنوری کا چمن ۔۔ ہے کائینات خدا سے ، مگر سخن مجھ سے
مگر آپ نے کہا ہے کہ یہ ” نعتیہ شعر ” ہے ! براہ کرم اس کی وضاحت کیجیے کہ کیا آپ ” ہے کائینات خدا سے ، مگر سخن مجھ سے ” کا اشارہ آنحضرت صلعم کی ذات کی طرف کررہے ہیں یا اس با غبان کی طرف جس نے سخنوری کے چمن کو سینچا ہے !!! ( امید کہ آپ میری بات کی گہرائی کو سمجھ گئے ہونگے)
اوپر کے تبصروں میں آپ کے لکھے ہوے اشعار کو جمع کروں تو آپ کی غزل یوں بنتی ہے: ( میری کمپوزنگ میں کوی غلطی ہوجاے تو تصحیح فرمادیں ) :
ہیں بلبلوں کی وہاں روز و شب غزل خوانی
وہی جو چھوٹ گیا ہے مرا چمن مجھ سے
نظر نہ آئی مجھے پھر کہیں وہ ہریالی
نہ جانے چھوٹ گیا کیوں مرا وطن مجھ سے
نظیر و غالب و میر و ابولحسن خسرو
یہ ارض آگرہ کہتی ہے ، ہے سخن مجھ سے
میں فخر تاج محل ہوں ، زمین فتح و ظفر
کہ حسن و عشق و محبت کا ہے چلن مجھ سے
میں کب سے سینچ رہا ہوں سخنوری کا چمن
ہے کائنات خدا سے ، مگر سخن مجھ سے
۔۔۔
آپ نے فرمایا ہے کہ آپ نےاپنے اپنے استادوں ( طارق ہاشمی صاحب اور قمر نقوی نقش بندی صاحب) کو یہ غزل دکھائی ہے اور انہوں نے اس کو جوں کا توں قبول کرلیا ہے تو یہ آپ کے لیے اعزاز کی بات ہے ۔
اگر مجھ جیسے مبتدی کو اجازت دیں تومیں آپ کی اس غز ل پر آپ کو کچھ مشورے دے سکونگا ۔ مگر یہ بلاگ ثناء شاہ نقوی صاحبہ نے صرف اور صرف پاکستان کی قرار داد کا جشن منانے کے لیے کھولا ہے اس لیے بہتر ہوگا کہ میں آپ مجھ سے اس بلاگ میں یہ کہیں کہ میں آپ کو اپنے مشور ے اپنی ذاتی ای میل سے دوں۔۔( یا اگر آپ مجھ سے آپ کی اس غزل پر ایک نیا بلاگ میرے اپنے مشوروں کے ساتھ لکھنے کے لیے کہیں تو اس کے لیے بھی میں تیا ر ہوں ۔ )
ویسے اگر آپ دوسرے قاریین کو کھلی اجازت دیں کہ وہ آپ کو اس غزل کے بارے میں اس ہی بلاگ میں کچھ مشورے دیں تو آپ کی اور ثناء شاہ نقوی صاحبہ کی مرضی ۔
فقط :
آپ کی شاعری کا قائل
خیراندیش : منظور قاضی از جرمنی
سلام !!
سب سے پہلے تو محترم ھمدانی صاحب کو انکی بیٹی کی شادی کی بہت بہت مبارک باد ھے ھم دونوں کی طرف سے ۔۔اور ساتھ ساتھ ھماری یے دعا بھی ھے کے پروردگار آپکی بیٹی کو جناب بی بی فاطمہ (ص) کے صدقے میں دنیا کی ھر ھر نعمت نصیب کرے اور نیک و صالح اولاد عطا کرے آمین
اور محترم صفدر ھمدانی صاحب میں دل سے آپکا اور مس نگھت کا ممنون ھوں کے آپ لوگوں نے ماریہ کو اسکی صلاحیتیں ظاھر کرنے کا موقع عنایت فرماہا ورنہ شاید اسکا یے چہرا میرے سامنے بھی نہیں آتا اتنا جلدی:) اس بات کے لئیے آپ دونوں کا بہت بہت شکریہ
علی کاظمی و ماریہ علی
منظور قاضی جی آپ کا اجازت کی کیا ضرورت ھے ، جیسے کہ ھمدانی صاحب نے اوپر کے تبصرے میں کہا کہ دل کھول کر لکھیئے اس بلاگ پر۔ سو بلاگ ھے جو بھی لکھا جائے کسی نا کسی کے لیے فایدہ مند ھو ھی گا اور پھر بےشک یہ بلاگ پاکستان ڈے پر لگایا گیا تھا تو تبصرے بھی پاکستان کے محب ھی کر رہیں ھیں نا اور فایدہ بھی سب کا ،سو دل کھول کے لکھیں 🙂
سیدہ ثناء شاہ نقوی صاحب کی فراخد لی کا شکریہ ۔ مگر میرے تجربات نے بتا یا ہے کہ میں کسی کے اشعار پر بلاگوں میں تبصرے کرنے سے باز رہوں اس لیے کہ ” خیال خاطر احباب چاہیے ہردم ۔ انیس ٹھیس نہ لگ جائے آبگینوں میں ”
اسی لیے میں نے ظفر جعفری صاحب سے اپنے مشورے اپنے ذاتی ای میل میں بھیجنے کی اجازت چاہی ہے ۔ اگر وہ آپ کی طرح کہیں کہ میں اسی بلاگ میں انکو مشورے دوں تو مجھے ان سے اس بات کی اجازت لینی ضروری ہے ۔
ویسے میں کیا اور میری بساط کیا اور میرے مشورے کیا۔
اللہ سب کو خوش رکھے اور پاکستان پائیندہ باد اور بقول ہمارے موجودہ صدر آصف زرداری صاحب ” پاکستان کھپے “( خد ا کرے کہ انہوں نے سندھی میں ” کھپے ” کا لفظ استعمال کیا ورنہ اردو میں ” کھپے ” کہتے ہیں تو انکی مرضی وہ اپنی طبیعت کے بادشاہ ہیں جو چاہیں سو کہیں۔
فقط:
عالمی اخبار کا ایک مہمان بلاگ نگار اور مبصر :
منظور قاضی از جرمنی
کمپوزنگ کی غلطی سے سیدہ ثنا ء شاہ نقوی صاحبہ کو صاحب لکھدیا جس کی معذرت چاہتا ہوں ۔
ویسے سرحد کا وزیر اعلی ” ہوتی ” ہی ہے ۔
قاضی صاحب
شاعر دو مصروں سے کوزے دریا بند کردیتا ہے اور اہلِ نظر اُس میں سے کئ دریا یا سمندر نکال لیتے ہیں۔ شاعر کیلئے یہی بہتر ہوتا ہے کہ وہ اپنے شعر کی تشریح نہ کرے اور اس کام کو قاری اور نقاد کیلئے چھوڑ دے۔ یہ انیس اشعار مشتمل غزل ہے اور یہ بلاگ پوری غزل پیش کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ اُس مصرع پر یہ ضرور کہونگا کہ کفر بکنا میرے بس کی بات نہیں۔
قاضی صاحب
آپکو مجھ سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ آبکو میری کسی بھی تصنیف پر تبضرے، تنقید یا بلاگ لکھنے کی مکمل آزادی ہے اور یہ میری خوش نصیبی ہوگی کہ آپ ایسا کریں ورنہ ارتقاء رک جائے گی۔ جب شاعر مائکرو فون پر کچھ پڑھتا ہے یا کچھ شائع کرتا ہے تو پھر ہر مبصر اور نقاد کو اُس پر تبصرے یا تنقید کرنے کا حق ہوتا ہے۔ نیاز فتحپوری کا ہمعصر شعراء سے یارانہ تھا اور وہ کھل کر ان پر تنقید کرتے تھے۔
قاضی صاحب
میرا مطلب یہ تھا کہ جو اشعار میں پیش کئے اُن میں استاد کی اصلاح شامل ہے۔
کاطمی علی بھائی اس وقت ھوسپٹل میں ھوں ۔۔ارے جاب ھے میری ۔۔ اس وقت تھوڑا سا وقت اپنے مریضوں کی اجازت سے لے کر کافی پی رھی ھوں کہ صبح کی بھاگم دوڑ میں ناشتہ گھر ھی رہ گیا تھا ۔ اور یہ بھی کچھ نیانہیں ھوا ھے ۔۔ میری خواہش ھوتی ھے کہ جتنے کام نپٹا سکوں وہ اٹھتے ھی نپٹا دوں ۔ سو کافی کے ساتھ بلاگ سیکشن کو انجوائے کر رھی ھوں ۔۔ یعنی اپنے ھی لگائے ھوئے پودوں کو خوشی سے پھلتا بھولتا جھومتادیکھ رھی ھوں ۔۔ بقول میری ماں کے مجھے وساں سا پڑا رھتا ھے ۔۔ لیکن یہ تو احساس زمہ داری ھے جسے وہ بھی جانتی ھیں اور میں ھمیشہ انہیں ھی نقل کرتی ھوں اس کا بھی انہیں ادراک ھے ۔ سو ان کی دعاؤں تلے جی رھی ھوں ۔۔ لیجئے بات کہاں سے کہاں چلی گئی ۔۔ آپ کی ممنون ھوں کہ آپ نے مجھ طالبہ کو اتنی محبت سے نوازا ۔۔ ماریہ قست کی دھنی تو اسی وقت ھو گئی تھی جب آپ کے ساتھ نصیب جڑے تھے ۔۔ میر ایقین ھے کہ بعض نسبتیں آسمانوں کی خبر لاتی ھیں ۔۔
مصباح صاحب اور ماریہ صاحبہ
عربوں میں سب سے بڑی گالی یہ ہے کہ تیری بیٹی کی شادی کسی غیر عرب سے ہوجائے۔ کیا حضرت بلال جیسے صحابی کی شادی نہ ہونے کی یہی وجہ تھی۔ وہ زندگی بھر کنوارے رہے۔ دوسری مثال حضرت فضّا کی ہے۔ وہ بھی ایک حبشن تھیں اور اُنکی بھی شادی نہیں ہوئ۔
سلام ارض ھے آپ سب کی خدمت میں
بہت شکریہ آپا آپکی وجہ سے مجھے آپلوگوں کے ساتھ ساتھ اب تو گھر میں بھی پزیرائی ملنا شروع ھو گئی ھیے:)
مجھے اتنا سب کی توقع نہیں تھی شروع شروع میں تو کافی ڈر سا لگا رہتا تھا کے کہیں کوئی کچھ ایسا نا کہے دے کے میں ڈر کے بھاگ جاوءں مگر آپ سب نے مجھے اتنا حوصلہ اتنی ھمت دی کے میرے جو دل میں آیا میں لکھتی چلی گئی
بہر حال میں پھر کہوں گی کے اگر میرے ان خیالات کو تقویت ملی تو صرف اور صرف آپا آپکی وجہ سے کیونکہ آپ نے مجھے بلکل کھلا ماحول دیا کے میں لکھ سکوں جو جو میرے ذہن کے کونے کونے میں ھے
میری بلکل ایسی ھی حالت تھی کے کسی بچے کو رونے سے روکا جائے اور وہ اپنے اندر اپنا سب درد دبا کر بیٹھا ھو کے کب اسے موقع ملے اور وہ ذور ذور سے رونا شروع کر دے تو آپا آپ نے مجھے بلکل اس بچے کی مانند وہ موقع مہیاء کیا
اور میں نے یہاں جو جو میرے اندر تھا سب لکھنا شروع کر دیا
مجھے نہیں پتہ کے میں کہاں کہاں غلطی پر تھی اور کہاں کہاں درست اسکا اندازہ مجھے آج تک نہیں ھو سکا اور اسکے لئیے میں آپ سب سے گزارش کرتی ھوں کے میری باتوں میں کہیں کوئی غلطی آپکو دکھے تو نشاندہی ضرور فرمائیے گا
قاضی صاحب میں آپ سے بہت معزرت چاھتی ھوں کے میں نے جانے انجانے میں اور جزبات میں آپ سے جانے کیا کیا کہے دیا مجھے تھوڑا سا سمبھل کے لکھنا چاہیے تھا اسکے لئیے میں علی سے بھی بہت کچھ دلیلیں سن چکی ھوں اسی لئے میں آپ سے دل سے معزرت خواہ ھوں
قاضی صاحب ابھی میں آپکی شعری اور اصلاح پڑھ رہی تھی تو سوچا میں بھی کچھ لکھنے کی کوشش کروں اور آپ سے اسکی اصلاح کروا سکوں
امید ھے آپ مجھے مایوس نہیں کریں گے؟
چڑیوں کی چچہاٹ نے بیدار کر دیا
پتتوں کی سرسراھٹ نے بیدار کر دیا
لازم نہں سکوت میسر ھو ہر جگہ
مجھکو میری ھی سانسوں نے بیزار کر دیا
آپکی اصلاح کی منتظر
ماریہ علی
ماریہ ھمارے منظور بھائی ھم سب کے منظور نظر بڑے بھائی ھیں اور جناب عالمی آخبار کے منظور شدہ “سفیر” بھی ھیں ۔ منظور بھائی سے میں نے بہت کچھ سیکھا ھے ۔انہیں سب سے زیادہ کشادہ دل پایا اور سادگی سے اپنی غلطیوں کا اعتراف بھی میں انہی سے سیکھا ھے ۔ مجھے اپنے بھائی سے بات کرنے کا کئی بار موقعہ ملا اور ھر بار انہیں پہلے سے بڑھ کر شفیق اور نفیس انسان پایا ۔ جو اگر کسی کی بات پر تنقید کرتے ھیں تو بڑی سادگی ، سچائی اور محبت سے اور پھر اسی ازلی سیکھنے والی طبعیت کی بےچینی ان پر جب بھی رستہ واضح کرتی ھے تو اعتراف بھی اسی سادگی ، سچائی اور محبت سے کرتے ھیں ۔۔ اور ماریہ خفا ھونا تو منظور بھائی جانتے ھی نہیں ھیں ۔۔ میں جعفری بھائی ، شمص بھائی اور منظور بھائی کے بغیر خود کو اب ادھورا سا جاننے لگی ھوں ۔ ایسے جیسے گھر بغیر بڑوں کے ویران لگتا ھے ۔۔ عالمی اخبار میرے ان بھایئوں کے بغیر ادھورا اور ویران ھے ۔
بے شک آپ نے بلکئل درست فرمایا 🙂 مجھے بھی امید ھے کے قاضی صاحب مجھے اپنی بیٹی سمجھتےھوئے میری تمام خطائیں معاف کر دیں گے:)
کچھ سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ کس کس کا شکریہ ادا کروں اور کس کس سے معافی چاہوں اور کس کس سے کہوں کہ میرا دل بالکل صاف ہے ، خاص طور پر میں مایہ علی کاظمی صاحبہ سے کہوں کہ میرا دل تم سے صاف ہے اور اگر وہ مجھ سے یہ سننا چاہتی ہیں کہ میں نے انکی “تمام خطائیں معاف کردیا ” تو یہ بھی کہ دیتا ہوں کہ ” میں نے انہیں دل سے معاف کردیا ”
مگر انہوں نے تو کوئی خطا کی ہی نہیں تھی ۔ انہوں نے تو مجھ غمزدہ انسان کو اپنا سمجھ کر اپنے دل کا حال صاف ساف کہ دیا اور خاص طور پر پاکستان کے اندرونی حالات کی بدتری کا اظہار اپنے تبصروں میں اتنے پر درد اور پر جوش انداز میں کردیا کہ مجھ سے کوئی تشفی بخش جواب نہ بن سکا جس کا افسوس ہے ( شاید کوی اور رہنما انکے سوالات کا جواب دےکر انکی تسلی کردے ) ۔ افسوس کہ میں نے انکو تسلی بخش جوابات نہیں دیے اور یہ کہ کر خاموش ہوگیا کہ : بقول پنہاں:
اپنی اپنی جنت کے کچھ خواب لیے
اپنے اپنے دوزخ میں سب جیتے ہیں
۔۔۔۔۔
میں ماریہ علی کاظمی صاحبہ اور علی کاظمی صاحب اور ظفر جعفری صاحب اور سیدہ ثناء شاہ نقوی صاحبہ اور ڈاکٹر نگہت نسیم بہن کا دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے مجھے اپنے پر خلوس الفاظ سے نوازا ۔ ایسے ہی موقعوں پر میں دل سے سعدی کا یہ شعر دہرا دیتا ہوں کہ :
جمال ہم نشیں در من اثر کرد
وگرنہ من کہ ایک خاکم کہ ہستم
( میرے ہم نیشینوں کا حسن اور انکا جمال مجھ پر اثر کر گیا ہے ۔ ورنہ میں تو ایک خاک ہی ہوں ۔ ) یہ بات سعدی نے اپنی فارسی غزل میں یہ منظر کشی کرتے ہوے کہی تھی ۔ کہ کسی نے خوشبو دار پھولوں کی مٹی سے یہ پوچھا کہ تجھ میں اتنی اچھی خوشبو کہاں سے آگئ ؟ تو اس مٹی نے یہ کہا کہ :
میرے ہم نشین ( پھولوں ) کی خوشبو مجھ میں رس بس گئی ہے ورنہ میں تو ہمیشہ کی طرح ایک خاک ہی ہوں ۔
سب کا شکریہ ، شکریہ شکریہ
۔۔۔۔۔۔
علی کاظمی صاحب اپنی قسمت پر جتنا ناز کر یں وہ کم ہے کہ انہیں اللہ نے اتنی عظیم الشان بیوی عطا کی ہے جس کے اندرونی جوہر آہستہ آہستہ نمایاں ہوکر سب کی آنکھوں کو چکا چوند کررہے ہیں۔ وہ اتنی اچھی اردو بھی لکھتی ہیں اور شاعری بھی کرتی ہیں ۔ انہوں نے مجھ کو امتحان میں ڈالدیا یہ کہکر کہ ان کے قطعہ کی اصلاح کروں ۔ یہ اصلاح کرنا ظفر جعفری صاحب اور صفدر ھمدانی صاحب جیسے قادر الکلام شاعروں کا کام ہے ۔ مجھے تو تک بندی بھی ڈھنگ سے نہیں آتی ۔
انہوں نے یہ قطعہ لکھا کہ :
چڑیوں کی چہچہاہٹ نے بیدار کردیا
پتوں کی سرسراہٹ نے بیدا ر کردیا
لازم نہیں سکوت میسر ہو ہر جگہ
مجھ کو مری ہی سانسوں نے بیزار کردیا
( میر ا خیال ہے کہ وہ بیدار کردیا لکھنا چاہتی تھیں مگر جلدی میں بیزار کردیا لکھ گئیں )
میرے خیال میں پہلے تین مصرعہ ایک وزن میں ہیں اور انکی ردیف : ” بیدار کردیا ” ہے اور قافیہ چہچہاہٹ ، سرسراہٹ ہے تو پھر اسی کے مد نظر اس قطعہ کا دوسرا شعر یوں بھی لکھا جاسکتا ہے :
لازم نہیں سکوت میسر ہو ہر گھڑی
سانسوں کی سنسناہٹ نے بیدار کردیا
ا ب یہ تصحیح شدہ قطعہ عروض میں ہے یا نہیں اس کے متعلق کوئی علم عروض کے ماہر ہی کچھ کہ سکتے ہیں۔
ویسے میرے خیال میں ماریہ علی کاظمی میں وزن میں شعر کہنے کی خدا داد صلاحیت ہے ۔ اللہ کرے زور سخن اور زیادہ ۔
۔۔۔۔۔۔۔
نگہت بہن کی تعریف کا شکریہ ۔ وہ عالمی اخبار کے آغاز سے ہی میری ہمت افزائی کرتی رہتی ہیں ۔
اللہ نے مجھے پانچ بہنیں دیں جو مجھ سے چھوٹی ہیں ( اور میرے صرف دو ہی بیٹے ہیں ( جو امریکہ میں ہیں ، بڑا بیٹا مومن پی ایچ ڈی ہے اور ٹیکسس کی ٹار لٹن ٰ یونیورسٹی کا پروفیسر ہے اور چھوٹا بیٹا رحیم ایک اسکول کا معلم ہے ، میری ، کوی بیٹی نہیں ) مگر نگہت نسیم بہن کی پرخلوص باتوں سے ایسا محسو س ہوتا ہے کہ وہ بھی میری سگی بہن کی طرح ہیں : خدا انکا سہاگ سلامت رکھے اور انکے بچوں کو اپنی ماں باپ کی دعاییں لینے کی توفیق اور سعادت عطا فرماے ۔ آمین )
ویسے میں انکی اتھاریٹی کو مانتا ہوں اور وہ جب میری کسی تحریر کو ایڈیٹ ( سنسر ) کردیتی ہیں تو میں خاموش بیٹھ کر اپنے آپ سے یہ کہتا ہوں کہ میں تو ان کا ایک مہمان ہوں مجھ پر انکے اصولوں اور قوا عد کا ا حترام کرنا لازمی ہے ۔
۔۔۔۔۔
اب رہا ظفر جعفری صاحب کی غزل کا معاملہ تو اس سلسلہ میں سب سے پہلے میں انکا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے مجھے عالمی اخبار کے اس بلاگ میں ہی انکی غزل پر کچھ مشورے دینے کی اجازت دی ( ویسے من آنم کہ من دانم ) مگر یہ بلاگ بہت طویل ہوتا جارہا ہے اور غزلوں پر کچھ کہنا اس بلاگ کے موضوع سے مطابقت نہیں رکھتا ۔ یہ بلاگ صرف اور صرف پاکستان کی قرارداد کا جشن منا نے کے لیے ہے ۔ اس میں غزلوں پر تبصرے کرنے سے اصل موضوع کی حق تلفی ہوگی ۔
تو کیوں نہ اس موضوع پر ایک الگ بلاگ لکھیں۔
اگر ظفر جعفری صاحب سے نگہت نسیم بہن کی اجازت اور مدد سے خود اپنے بلاگ لکھنے کے قابل ہوجایں تو وہ خود اپنی اس غزل پر بلاگ لکھ سکتے ہیں ۔
ویسے میں آج ہی انکی اس غزل کے سلسلہ میں ایک الگ بلاگ کھو ل رہا ہوں ۔ مجھے امید ہے کہ وہ بلاگ صرف اور صرف علم حاصل کرنے کے موقعے عطا کرے گا اور کسی بحث و تکرار سے دور رہے گا ۔ ظفر جعفری صاحب سے یہی گذارش ہے کہ وہ اپنی اس غزل کے پورے انیس 19 اشعار میرے اس نئے بلاگ میں لکھ دیں تاکہ تمام پڑھنے والے محظوظ ہوں اور ان اشعار پر اپنے اپنے خیا لات کا اظہار کرسکیں۔
۔۔۔
یہ تبصرہ شاید زیادہ طویل ہوگیا اس لیے میں اس کو شکریہ کے ساتھ ختم کرتا ہوں ۔
چاہے کچھ ہی لکھوں میں صفدر ھمدانی صاحب کی عنا یات اور مہر بانیوں کو بھول نہیں سکتا کہ انہوں نے مجھے اپنے اخبار میں بلاگ لکھنے کی اجازت دی اور مجھے میری پیاری زبان اردو کی خدمت کرنے کا موقعہ عطا کیا۔ اللہ انہیں ہمیشہ صحت سے رکھے اور انکو اپنی اولاد کا سکھ دکھاتا رہے ۔ آمین
فقط :
علم کا طالب :
منظور قاضی از جرمنی ( میونخ کی ایک قریبی بستی سے )
ظفر جعفری صاحب کی اور تمام قاریین کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ میں ایک نیا بلاگ ظفر جعفری صاحب کی اس بلاگ کی غزل کے موضوع پر شروع کردیا ہوں ۔ اگر اس میں ظفر جعفری صاحب اپنے انیس 19 شعری غزل کے بقیہ اشعار بھی لکھدیں تو غزل مکمل ہوجاےگی۔ اس بلاگ کو تعمیری طور پر چلا نے کی ذمہ داری سب پر ہے ۔ ظفر جعفری صاحب نے تو ایک لحاظ سے صلاے عام ہے یاران نکتہ داں کےلیے کہ ہی دیا ہے ۔ بس اتنی استدعا ہے کہ ہم سب آرزو لکھنوی کے اس شعر پر عمل کرتے رہیں :
حد سے نہ گذر سیلاب نہ بن ، چکر میں نہ پھنس گرداب نہ بن
بن ہلکی موج مگر ایسی جس موج پہ دریا ناز کرے
۔۔۔۔۔۔۔
میں ماریہ علی کاظمی صاحبہ کی مشق کے لیے مندرجہ ذیل چند قافیے لکھر ہا ہوں جو ان کے قطعہ کے قافیوں کی طرح ہیں :
خر خراہٹ ، ہنہناہٹ ، جگمگا ہٹ ، گدگداہٹ اور چودھراہٹ ، مسکراہٹ ، تلملا ہٹ اور ہچکچا ہٹ
اب وہ ان قافیوں کو اپنے قطعہ کی ردیف ’ بیدار کردیا ” کے ساتھ استعمال کرکے ایک غزل یا نظم لکھ سکتی ہیں:
مثال کے طور پر :
اپنا سنہرا خواب مکمل نہ کرسکا
بیوی کی خر خراہٹ نے بیدار کردیا
( اگر بیوی یہ شعر لکھ رہی ہے تو وہ یوں ہوگا : اپنا سنہرا خواب مکمل نہ کرسکی ۔ شوہر کی خر خراہٹ نے بیدا ر کردیا )
یا یہ کہ :
اک پل بھی نیند مجھکو میسر نہ آسکی
گھوڑوں کی ہنہناہٹ نے بیدار کردیا
۔۔۔
بہر حال :
سنجیدہ اور مزاحیہ اردو شاعری کا دلدادہ :
منظور قاضی از جرمنی
ماریہ عللی کاظمی صاحبہ کے قطعہ کا قافیہ کافی وسیع ہے
اس میں غنغناہٹ اور بھنبھنا ہٹ بھی شامل ہے
مثا؛ل کے طور پر :
مکھی کی بھنبھنا ہٹ
کتوں کی غنغناہٹ
یہ سب ہر سونے والے کو بیدار کرسکتی ہیں۔
اس کے علاوہ ہر سوے ہوے شوہر کو اسکی بیوی اپنی ” گد گداہٹ ” سے بھی بیدار کرسکتی ہے۔۔
یہ قافیے صرف اور صرف مشق کے لیے ہیں ۔
السلام و علیکم آپ سب کی خدمت میں 🙂
ماشااللہ قاضی صاحب آپ نے تمام کے تمام قافیے اس خوبصورتی سے نظر کیئے ھیں کے مجھے لگتا ھے جیسے میرے دل کی آواز آپ تک پہنچ گئی اور آپ نے لکھ دیا:)
مجھے یہاں یے سب دیکھ کر بہت خوشی ہوتی ھے کے ماریہ کی راہنمائی کے لیئے آپ جیسے لوگ جب یہاں موجود ھیں تو پھر اسکی ھر ھر قدم پر اصلاح ھوتی رہے گی اور آپ لوگوں کی سر پرستی میں وہ بہت کچھ سیکھ جائے گی کیونکہ ھم جیسے لوگ جو روزی روزگار اور جستجو معاش میں دن رات ایک کرنے میں لگے ھیں ھمکو تو خود ہر قدم پر اصلاح کی ضرورت ھے تو ھم کسی کی اصلاح کیا کرینگے ۔۔آپ جیسے لوگ قاضی صاحب جب تک ایسے مقامات پر موجود اہینگے اور اپنے آنے والوں کی اصلاح فراغددلی سے کرتے رہیں گے تو ضرورر ھماری نسل میں معیاری اردو اور حسن سحن آنے والی نسلوں تک پہنچتا رہے گا
میں آپکا اور آپکی رہنمائی کا دل سے احترام کرتے ھوئے آپکا بے حد مشکور ھوں کے آپ ہر ہر قدم پر رہنمائی فرماتے ھیں۔۔۔۔۔۔
علی کاظمی۔۔