ہماری شان – ہماری جان- ھمارا پاکستان

السلام علیکم پاکستان 🙂
آپ سب کو23 مارچ پاکستان کی خوشیاں بہت بہت مبارک ہو
اللہ تعالی ہمارے ملک کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے
ھماری شان – ہماری جان- ھمارا پاکستان
پاکستان ھمیشہ زندہ باد

ماوں کی دعا پوری ہوی اور ہمیں گھر مل گیا
کتنی پیاری دنیا میں ہمیں گھر مل گیا
اللہ کا احسان ہے، ہمارا پاکستان ہے
ہم آن، ہم شان، ہم اس کی جان ہیں
ہم پاکستان ہیں

ہر ایک لمحہ اس کی خاطر کام کرنا ہے
دنیا میں اب روشن اس کا نام کرنا ہے
ہم آن، ہم شان، ہم اس کی جان ہیں
ہم پاکستان ہیں

خواب ہے اقبال کا اور قاید کا چمن
جیون سارا لگاے رکھنا اس کی ہر لگن
ہم آن، ہم شان، ہم اس کی جان ہیں
ہم پاکستان ہیں

وقت پڑے تو اس کی خاطر ہر دُکھ سہ لیں گے
جان لبوں پر آجاے تو پھر بھی کہ دیں گے
ہم آن، ہم شان، ہم اس کی جان ہیں
ہم پاکستان ہیں

55 thoughts on “ہماری شان – ہماری جان- ھمارا پاکستان”

  1. علی کاظمی بھائی ۔ میں آپ کی قد ر افزائی اور ذرہ نوازی کا شکریہ کرتا ہوں ۔
    بھائی صاحب میں خود علم و فن کی دنیا میں تقریباً نا بینا سا ہوں اور آنکھوں‌والوں کو یا کمزور بینائی والوں کو کیا راستہ دکھا سکتا ہوں؟
    بس کبھی کبھی اپنے تجربات اور مشاہدات اور اپنی محدود معلومات کے سہارے دل کی بات کہ جا تا ہوں اس خیال سے کہ شاید میری بات کسی کے دل میں اتر جائے ۔
    عالمی اخبار صفدر ھمدانی صاحب اور انکے ساتھیوں کی محنتوں کا نتیجہ ہے ۔ ان کی عنایت ہم سب کے لیے ایک نعمت ہے ۔ و ہی عالمی اخبار کے رہنما ہیں ان سے ہی آپ اور ہم سب بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں اور عالمی اخبار کو اپنی تحریروں سے کامیاب بنا سکتے ہیں ۔

    آپ دونوں میا ں بیوی بے حد پر خلوص دل والے لوگوں میں سے ہیں اور یہ آپ سب کا کمال ہے کہ جو دل میں ہے وہ کھل کر بول دیتے ہیں۔ اسی خوبی کی وجہ آپ سب نے عالمی اخبار کی انتظامیہ کے ساتھ ساتھ ہم سب کے دلوں میں بہت ہی جلدی ایک قریبی جگہ حاصل کرلی ہے۔
    ہم سب آپ دونوں سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں ۔ آپ دونوں اپنے اپنے انداز میں ہم سب کی رہنمائی فرماتے رہیئے۔ جزاک اللہ

    شکریہ کے ساتھ :
    منظور قاضی

  2. سلام عرض ھے قاضی صاحب !!
    آپ سچ میں ھم دونوں کو شرمندہ کر رہے ھیں ایسی باتیں کر کے ۔ھم دونوں شاید ایک نکتے کے برابر بھی نہیں ۔آپ ماشااللہ صاحب علم ھیں جیسا کے آپ کی عمر ( AGE) مجھے پتا چلی ھے آپ میرے اور علی کے والد کی عمر کے ھیں ماشااللہ ھماری دعا یہی ھے کے پروردگار آپکا سایہ ھمارے سروں پر سلامت راکھے آمین۔۔ اور آپ ھماری ہر ہر خطا معاف کر کے اسی طرح ھم سب کو ھر ھر قدم پر رہنمائی دیتے رہیں اور ھم آپکی رہنمائی میں بہت کچھ سیکھتے رہیں آمین۔
    قاضی صاحب ھم دونوں کو آپ کی اور آپ جیسے بزرگوں کی بہت دعاوں کی ضرورت ھے ۔ کیونکہ ھمکو دنیا میں سب کچھ مل سکتا ھے اپنے ذور بازو پر مگر کچھ اگر دل سے ھم چاھہتے ھیں تو وہ آپ جیسے بزرگوں کی دعائیں ھیں بس آپ ھماری تمام غلطیاں معاف کر کے ھم دونوں کو اپنی دعاوں سے نوازتے رہیں ھمارے لیے آپ کی اور تمام بزرگوں کی طرف سے بہت بڑا تحفہ ھوگا
    آپکی بیٹی ماریہ

  3. میں ماریہ علی کاظمی صاحبہ اور علی کاظمی صاحب کی سعادت مندی کا بہت بہت مشکور ہوں۔ جیسا کہ میں سب سےکہ چکا ہوں کہ میں عمر کی زیادتی سے زیادہ عقل اور علم کی زیادتی کو اہمیت دیتا ہوں ۔
    آپ سب علم کے جن شعبوں پر عبور رکھتے ہیں ان میں میں بالکل کمزور ( بقول عام محاورے کے “پیدل ” ) ہوں ۔ نہ مجھے سیاست کے رموز معلوم ہیں نہ مذہب اور مسلک کے راز معلوم ہیں ۔ میں تو اللہ سے دعا کرتا رہتا ہوں کہ اللہ میرا خاتمہ بخیر کر اور ہوسکے تو اپنے پیارے رسول محمد صلعلم کے صدقے میں میری عاقبت بھی بخیر کر ۔

    اس لیے مہربانی کرکے مجھے اتنا اونچا درجہ نہ دیجییے کہ مجھے خواہ مخواہ کے اپنےمتعلق خوش فہمی ہونے لگے۔

    میں آپ سب کی اطالاع کے لیے عرض کرونگا کہ عالمی اخبار میں کافی دانشور اور سخنور موجود ہیں ان کے علم سے بھی آپ سب فیض حاصل کر تے رہیں جس طرح میں کررہا ہوں۔
    میں تو ایک دہقانی ہوں جو بقول شاعر دہقانی کے :
    ادیبوں ، شاعروں ، دانشوروں کی ایسی محفل میں
    نہہیں معلوم یہ کیوں آ ج دہقانی چلا آیا

    میں تو اس شاعر کے اس شعر کی طرح عالمی اخبار کی محفل میں آیا کرتا ہوں :
    بڑھی حد سے زیادہ دل کی ویرانی چلا آیا
    میں ویرانوں کی جب دیکھا پشیمانی چلا آیا

    اور امید کرتا ہوں کہ میرا چاک چا ک دامن بھی علم کے پھولوںسے بھر دیا جایےگا تو میں یہ شعر دہراتا ہوں کہ :
    سنا تھا آج وہ دامن مرا پھولوں سے بھر دینگے
    دکھانے کے لییے میں چاک دامانی چلا آیا
    بہر حال :
    خوش رہو ، خوشحال رہو اور علم حاصل کرتے رہو۔
    ۔۔

    چلتے چلتے ایک پنجابی شعر کا الٹا سیدھا اردو ترجمہ کرتا چلوں :
    ملک عدم سے ننگی حالت آیا اس دنیا میں مگر
    ایک کفن کی خاطر بندہ کتنی کوشش کرتا ہے
    مییرے لاہور کے دورے میں میرے ایک پنجابی کرم فرما نے فرما یاتھا:
    ملک عدم نوں ننگے پنڈے آیا اس جہان میں
    ایک کفن کی خاطر بندہ کتنے پینڈے کردا اے
    ۔۔
    فقط:
    ایک جہاں نورد ، نام و نمود سے بے نیاز قلندر
    منظور قاضی از جرمنی

  4. salam, im interseted to hear about history Jaffery family, some Jaffery live in America, they are basicaly from iran. is it about u too. are Jaffery a big family?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *