اگلا قدم ۔۔۔۔ شمس جیلانی
ایوانِ ظلم گونج اٹھا اللہ کے نام سے
ظلمت کی فوج ڈر گئی تب اژدھام سے
سب کو ملی نجات ہے جابر نظام سے
ثابت کرو کہ اہل ہو اب اچھے کام سے
اگلا قدم ۔۔۔۔ شمس جیلانی
ایوانِ ظلم گونج اٹھا اللہ کے نام سے
ظلمت کی فوج ڈر گئی تب اژدھام سے
سب کو ملی نجات ہے جابر نظام سے
ثابت کرو کہ اہل ہو اب اچھے کام سے
بےشک شمس بھائی ایوان و قانون کا اصل امتحان تو اب شروع ھوا ھے ۔۔
شمس جیلانی صاحب : آپ نے ماشا اللہ کتنی اچھی باتوں سے اپنے بلاگ کا 22 مارچ کو آغاز کیا مگر سوائے محترمہ ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ کسی نے بھی اب تک اس بلاگ کے موضوع ” اگلا قدم ” پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ۔ شاید سب کی توجہات کے مرکز ایسے بلاگ تھے جو سراب کی طرح سب کو اپنی طرف بلاتے تو رہے مگر کسی کی پیاس بجھا نہ سکے۔
میرا ایک شعر تو آپ نے شاید میرے کسی بلاگ میں پڑھا ہوگا :
ہر ایک جذب ہے اپنی ہی ذات میں قاضی
بشر کو ڈھونڈتے کیوں ہو بتوں کی بستی میں؟
اب آپ کے اس بلاگ کو غور سے پڑھا ہوں تو آپ کی پاکستان کی قوم کو تنبیہ کرنے کا انداز بھی سمجھ میں آرہا ہے ۔
ذرداری صاحب کا دربار ، وکیلوں اور سیاسی لیڈروں کے ماننے والوں کے لانگ مار چ اور دھرنے کی وجہ سے ” گونج اٹھا ” اور زرداری صاحب کی پولیس اس احتجاج سے ڈر گئی ۔ اور ظلمت کو شکت ہوگئی اور عدالت اور انصاف کی جیت ہوگئی ۔ اب پاکستان کے عوام کو اپنے اچھے اچھے کاموںسے یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ اس خوشی اور اس اعزاز کی مستحق ہے بھی یا نہیں۔
واہ شمس جیلانی صاحب: میر ی غفلت کی وجہ سے میں آپ کے بلاگو ں پر ا س لیے بھی حصہ نہیں لیا ا کہ مجھے خود اپنے بلاگوں کی نظامت سے فرصت نہیں ملتی تھی اور میں خواہ مخواہ دوسروں کے بلاگوں میں اپنی خوش فہمی کے باعث حصہ لے رہا تھا ۔ ۔
بہر حال :
دیر سے آپ کے بلاگ میں آنے کی معافی چاہتا ہوں
شکریہ
آپ کی تحریر کا اور آپ کے قطعات کا دلدادہ
منظور قاضی میونخ کے ایک قریبی گاوں سے