چراغ طور جلاو بڑا اندھیرا ہے

یہ بلاگ میں نے جس نام پے شروع کیا ”چراغ طور جلاؤ! بڑا اندھیرا ہے“ “ساغر صدیقی“ کی شاعری ھے جس کو مھدی حسن صاحب نے گایا ھے وہ لکھتی ھوں

چراغ طور جلاؤ ! بڑا اندھیرا ہے
ذرا نقاب اٹھاؤ ! بڑا اندھیرا ہے

ابھی تو صبح کے ماتھے کا رنگ کالا ہے
ابھی فریب نہ کھاؤ ! بڑا اندھیرا ہے

وہ جن کے ہوتے ہیں خورشید آستینوں میں
انہیں کہیں سے بلاؤ ! بڑا اندھیرا ہے

مجھے تمھاری نگاہوں پہ اعتماد نہیں
مرے قریب نہ آؤ ! بڑا اندھیرا ہے

فراز ِعرش سے ٹوٹا ہوا کوئی تارہ
کہیں سے ڈھونڈ کے لاؤ ! بڑا اندھیرا ہے

بصیرتوں پہ اجالوں کا خوف طاری ہے
مجھےیقین دلاؤ ! بڑا اندھیرا ہے

بنام زہرہ جبینانِ خطّہء فردوس
کسی کرن کو جگاؤ ! بڑا اندھیرا ہے

اسلام علیکم !
امید ہے کہ سب خیریت سے ھوں گے، ماشااللہ سے کافی معلوماتی بلاگ جا ریے ہیں۔ چلیں آج ایک نئے سلسلے کو شروع کرتے ہیں جس میں سب شریک ھوں گےانشااللہ ، وہ یہ ھے کہ۔۔۔۔۔
کبھی کبھی ھم کوئی ایسا شعر یا اچھی بات پڑھتے ہیں جو پڑھتے ہی دل میں اتر جاتی ھے اور دل کہتا ھے کہ اس کو سب کے ساتھ بانٹیں، میں تو ایسا چاھتئ ھوں 🙂 یقیناً آپ سب بھی چاہتے ھوں گے نا کہ سب کے ساتھ اپنی پسند share کی جائے۔ تو پھر اپنے من پسند اشعار،باتیں لکھ دیں جن کو پڑھ کے آپ محضوض ھوتے ہوں۔ کیا پتہ کسی کی بات کسی کے لیے راہ ھدایت بن جائے ! سو چراغ طور جلاو بڑا اندھیرا ہے
آپ سب کی اچھی اچھی تحریروں کی منتظر 🙂
شکریہ

88 thoughts on “چراغ طور جلاو بڑا اندھیرا ہے”

  1. میرا ایک پسندیدہ شعر 🙂

    ھر شے قریب آ کے کشش اپنی کھو گئی
    وہ بھی علاجِ شوقِ گریزاں نہ کر سکے
    کس درجہ دل شکن تھے محبت کے حادثے
    ھم زندگی میں پھر کوئی ارمان‌ نہ کر سکے

    (ساحر لدھیانوی )

  2. تم گلاب کے پھول بن جاو، کہ یہ پھول ان ھاتھوں میں بھی خوشبو چھوڑ جاتا ھے جو ان کو مسل کے پھینک دیتے ہیں
    (امام علی علیہ سلام)
    •._ روشنی میں ھر کوئی راہ بتانے کی خواہش رکھتا ھے، مگر مزہ تو تب ھے جب کوئی اندھیروں او مایوسیوں کے دور میں مشعل برداری کرے !! (خلیل جبران )

    •._ خلیل جبران نے کہا،
    “اگر تم تنہا ہو اور وقت کے دل شکن لمحات تمھارے دل کے محسوسات کو پامال کر رہے ہیں تو کیا ہوا، تم اس دنیا میں اکیلے آئے تھے اکیلے ہی جاؤ گے جب قدرت نے تمھیں اکیلا ہی تخلیق کیا ہے تو پھر تنہائی سے کیوں گھبراتے ہو۔

    •._ زندگی کے آدھے غم انسان دوسروں سے امیدیں وابستہ کر کے خریدتا ہے۔

  3. ماشاء اللہ
    اس ذہنی تناؤ کے دور میں جہاں پاکستان کے حالات ہر دل رونے پر اختیار کھو رہا ہے یہ بلاگ ایک نرم ہوا کا جھونکا ثابت ہوا ہے، تو لیجئے جناب احمد فراز کے دو اشعار
    کوئی بلقیس اس پے اُتری ہے
    دل سلیماں کا تخت لگتا ہے

    شدت تشنگی میں بھی غیرت مے کشی رہی
    اُس نے جو پھیر لی نظر میں نے بھی جام رکھ دیا

  4. اسلام و علیکم
    ثنا ء آپ نے حقیقت میں بہت بہترین بلاگ کھولا ھے ۔۔ موجودہ صورتحال میں ایسے بلاگز کی بہت ضرورت ھے
    صدا سلامت رہیں آمین:)
    ایسے ہی موقع پر میں ایک مولا علی (ع) کا قول یہاں لکھتی ہوں جو کے مجھے بہت پسند ہے !!!!

    صرف اپنی ضرورتوں کیلئیے اللہ کو پکارنے والے دونوں حالتوں میں اللہ کو چھوڑ دیتے ھیں ۔۔ ضرورت پوری ہو جائے تب اور ضرورت پوری نہ ہو تب بھی
    (امام علی )

    محتاج دعا
    ماریہ علی

  5. (-) جو زخم تمہیں دوسروں نے دیۓ ہیں انہیں بھول جاؤ ۔ جو زخم تم نے دوسروں کو دیۓ ہیں انہیں یاد رکھو ۔

    (ـ) کسی کا دل نہ دکائو۔ہو سکتا ہے کہ اس کے آنسو تمہارے لئے سزا بن جائیں۔

    (ـ) کسی کا دل نا دکھاو کہ دکھی دلوں کی فریاد آسمان کا جگر چیر دیتی ھے ۔

  6. کسی کو پا لینے کا نام محبت نہیں بلکہ کسی کے دل میں جگہ بنا لینے کو محبت کہتے ہیں۔ 🙂

    کسی دوسرے کے خاطر اپنی خوشی قربان کردینا یہ بھی انسانیت کی معراج ہے۔ 🙂

    اگر تم کسی کو خوشی نہیں دے سکتے تو غم بھی نہ دو 🙂

    ۔چلتے وقت خیال رکھو کہ تمھارے پاؤں سے اٹھنے والی دھول کسی کی انکھوں میں جاکر اُس کی منزل کے نشان نہ چھین لے۔

  7. ھم نے محبت کی بہت داستانیں سنی مگر ہر ہر داستان میں اس کا اختتام ( The End ) یہی دیکھا کے محبت کرنے والے کبھی مل نا سکے اور انکی محبت امر ھو گئی ۔۔
    ایک دن ایسے ھی بیٹھے بیٹھے ھم نے اپنے شوہر سے پوچھا کے لیلا مجنوں ۔ ھیر رانجھا۔ سسی پننوں وغیرہ وغیرہ نے اپنی محبت کے لیئے اپنا آپ قربان کر دیا ۔کتنا پیار کرتے تھے نا وہ لوگ ایک دوسرے سے ۔۔
    اس پر پلٹ کر ہمارے شوہر نے جواب دیا کے انکی خوش خصمتی سمجھو کے ان کی محبت پر پردہ رہ گیا ۔۔ورنہ اگر انکی شادی ہو جاتی تو یہ سب عاشق اپنے عشق میں اتنا ہڈ حرام ھو گئیے تھے کے شادی کے بعد جب انکو اپنے بی وی بچے پالنے کیلئیے محنت مزدوری کرنی پڑتی تو پھر لگ پتا جاتا کے اصل ذندگی کسے کہتے ھیں
    پھر یہی ہوتا کے وہ لیلا جو اپنے مجنوں کے لیئے یہ گانا گاتی تھی کے کوئی پتھر سے نا مارے میرے دیوانے کو شادی کے بعد جب مجنوں اسکی گھر میں بیٹھے بیٹھے بس شکل ھی دیکھتا رہتا تو لیلا کہتی اٹھو میاں جی میری شکل دیکھنے سے پیٹ نہیں بھرتا کچھ محنت مزدوری بھی کر لو ورنہ جس حسن پر میں نے تمہارے لیئے پتھر کھائے ھیں وہ بھوک سے ایسا ھو جائے گا کے تم بھوت بھوت کرتے بھاگو گے ۔۔۔
    اور اسی طرح باقی عاشقوں کی عاشقی جو آج امر ھو گئی وہ سر عام اس طرح اپنے پڑوس والوں کو چلا چلا کے کہہ رہی ھوتی کے کبھی ایسے انسان سے شادی مت کرنا جو صرف پیار کرنا جانتا ھو ۔ کیونکہ جو لوگ صرف پیارکرنا جانتے ھیں وہ اس عشق میں اتنا ہڈ حرام ھو جاتے ھیں کے اپنے والدین سے موبائیل کارڈ تک کے پیسے مانگ کر عشق کرتے ھیں اور اپنے پاس سگریٹ کے پیسے چاہے نا ھوں سگریٹ دوستوں سے ادھار لے کر پی لیتے ھیں مگر موبائیل میں بیلنس اسی لیئے رکھتے ھیں کے کب انکی لیلا انکو مس کال دے اور وہ اسکو کال کریں ۔لہزا میری نصیت ہے آج کل کی لڑکیوں کو کے اگر عشق کرو تو یہ دیکھ کر کرو کے وہ انسان صرف عشق ہی کرنا جانتا ہے یا کچھ روزی روٹی کی بھی فکر کرتا ھے ؟اور اگر نہیں مانتیں اور پھر بھی عشق کا بھوت سوار ہو اور کوئی ایسا عاشق مل جائے جو اتنا فارغ ھو کے بس عشق ہی کرنا جانتا ہو تو اس سے پیار کرو ۔ اور جب دیکھو کے عشق عروج پر پہنچ گیا ھے پوری دنیا میں تمھارے عشق کے ڈھول بج رہے ھوں تو خاموشی سے اس عاشق کو اپنے ہاتھوں سے گلا دبا کر یا پھر کسی ایسے طریقہ سے کچھ کھانے میں ڈال کر دے دو کے وہ جان سے مر جائے ۔۔ اسکے مرنے سے کم سے کم ھمدردیاں تو مل ہی جائیں گی بس کوشش یہ رہے کے وہ زندہ نا رہے ورنہ اگر زندہ رہا تو کوئی بھی انسانی حقوق کی انجمن اپنی پبلسٹی کے لیئے شادی تو کروا دے گی مگر بعد میں جو حال ھوگا وہ بیان سے باہر ھے 🙂 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اب میری اس بات سے کون کون متفق ہے مجھے نہیں پتہ ۔ بس ثنا ء نے یہ بلاگ بنایا کے یہاں پر کچھ اچھی باتیں لکھی جائیں جس سے لوگ محضوض ھوں تو میں نے یہ لکھ دی 🙂 اب اس پر آپ لوگوں کا رد عمل کیا ہوتا ھے مجھے نہیں پتہ 🙁

    ماریہ علی

  8. ماریہ علی جی آپ ڈرائیں تو نا 🙁 کنواروں کو شادی سے اب ،
    وہ مزاق تھا پر بےشک آپ کی بات بجا ھے ، اور سچ بھی یہی ھے، کہ لیلا مجنوں ۔ ھیر رانجھا۔ سسی پنوں وغیرہ وغیرہ نے اپنی محبت کے لیئے اپنا آپ قربان کر دیا پر ان میں سے کسی کی بھی شادی نہیں ھوئی تھی !! 🙂 اگر ھو جاتیں تو پھر وہ داستانیں نہ رہ پاتیں،
    باقی آج کے دور کی بات وہی بتا سکتے ہیں جو شادی کے پہلے اور بعد کے اس مرحلے سے گزر چکے ہیں 🙂 سو ایسے کافی سوال ہیں، جن کے جواب پا کے بہت سو کو رہنمائی مل سکتی ھے سو آپ سب بڑوں اور تجربہ کار احباب کی راہنمائی کی منتظر ،،، سوال یہ ھیں کہ
    شادی کرنے کے بہت سے فوائد ہیں لیکن نقصانات کیا کیا ہیں ؟؟
    شادی کب اور کس سے کرنی چاہئے ؟؟
    ابھی کے لیے اتنا کافی ھے باقی آئندہ ۔۔۔۔ ۔۔۔۔ 🙂

  9. ثنا‌ء میری دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا اب سنو؛)

  10. جی جی بسم اللہ کریں ماریہ جی، میں تیار ھوں سننے کو !! 🙂

  11. یے بہت ھی لمبا لیکچر ھے اب برداشت کرنا پڑے گا 🙂
    سب سے پہلا سوال شادی کے نقصان کیا ہیں ؟
    شادی کرنے کا نقصان کوئی بھی نہیں اگر لڑکی سمجھدار ہو تو؟
    ہمیشہ وہی لڑکیاں شادی کے نقصانات بیان کرتی ہیں جو کے اپنی انا کے خول میں گھری رہتی ہیں ورنہ شادی قدرت کا ایک ایسا تحفہ ہے لڑکی کے لئیے کے اسکا جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہوگا
    میں اس پر کوئی بڑی بڑی باتیں نہیں کروں گی کے شادی سے ایسا ہوتا ھے ویسا ھوتا ھے کیونکہ ہر لڑکی اگر سمجھدار ھے تمہاری طرح تو وہ خود جانتی ہے کے شادی کی کیا اہمیت ہے ۔بس اتنا کہوں گی کے خدا کی ایک نعمت ہے شادی اس میں نقصانات گنے والے لوگ بد نصیب ہوتے ھیں اور وہ کفران نعمت کرتے ھیں جس سے اللہ ناراض ہوتا ھے 🙂

    صدف مرزا کی ایک نظم ھے رخصتی اسی عالمی اخبار پر تم نے تو ضرور پڑہی ھوگی نا ؟ اسکا ایک شعر ھے جو مجھے بہت پسند ھے وہ یہاں لکھ رہی ہوں
    کہ جس گھر کی میں مالک تھی
    وہ گھر اب میرا میکہ ہے
    اس ایک شعر میں میرے خیال سے سب کچھ لکھا ھے اور تم جیسی سمجھدار لڑکی کے لئے تو میرے خیال میں پوری نظم ہی کافی ہے 🙂
    مجھے اس رشتہ میں آئے ابھی کچھ عرصہ ہوا ھے اس لئے کہہ رہی ھوں اور تم انشااللہ جلد اس رشتہ سے منسلک ہو جاو گی انشااللہ 🙂 پھر تم بھی میری طرح دوسری لڑکیوں کو سمجھا رہی ہوگی کے شادی کو نعمت سمجھو اس میں برائیاں نا نکالو:)
    اب دوسرا سوال اسکا جواب کچھ دیر میں دیتی ہوں ایک دو کام ھیں وہ کر لوں 🙂

  12. ماشااللہ ماریہ جی جیو جیو ، ابھی میں بھی مسجد جا رہی ھوں یہاں آج امام حسن عسکری علیہ سلام کا ولادت کا جشن ھے انشااللہ آ کی آپ کا باقی lecture پڑھوں گی
    اور تبصرہ بھی اس پے ،،
    جب تک کے لیے
    ماسلام

  13. شادی کب اور کس سے کرنی چاہیئے ؟
    اسکا جواب میں تمکو اس طرح دیتی ہوں کے میری شادی کچھ ارینج کچھ پسند دونو شامل ھیں ۔ میری شادی کو ابھی 4 ماہ بھی نہیں ہوئے ھیں مگر شروع کا عرصہ ہی اصل سیکھنے کا ہوتا ھے تو میں نے ان 4 ماہ میں بہت کچھ سیکھا ہے
    میں نے اپنا آئیڈیل اپنے شوہر کو ہی بنایا ۔ یا پھر ایسا سمجھ لو کے وہ انسان تھا ہی ایسا کے خود بخود میرا آئیڈیل بن گیا
    شادی کی اصل عمر میرے خیال میں ہمارے والدین بہت اچھی طرح سمجھتے ھیں کے لڑکی کی شادی کی اصل عمر کیا ہونی چائیے مگر میرے خیال میں شادی کی اصل عمر جب ہوتی ہے جب لڑکی کو اچھے برے کی تمیز اور اتنا سمجھ بوجھ آ جائے کے لوگوں کو کس طرح ہینڈل کرنا چایئے۔۔ نا ہی لڑکی میں بچپنا ہو اور نا ہی لڑکی اس عمر میں آ جائے کے اسکے اندر خود اعتمادی حد سے بڑھ جائے

    اب اسی سوال میں ایک سوال اور تھا تمہارا کے کس سے کرنی چاہیے
    تو اسکا جواب یہی ہے کے اگر آپ اپنی پسند کرو تو اس انسان میں کچھ باتیں ضرور دیکھو
    سب سے پہلے یہ دیکھو کے جس انسان کو تم نے پسند کیا وہ کس طرح کا ہے اسکے ساتھ تم اپنی ذندگی کی ہر بات شیئر کر سکتی بھی ہو یا نہیں ؟
    دوسری بات ۔وہ انسان جس کو تم نے پسند کیا وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ کیسا ہے ؟اگر وہ اپنے گھر والوں سے ذیادہ تمکو اہمیت دیتا ہے تو ایسے انسان کو کبھی اپنی ذندگی کا حصہ نا بناو کیونکہ جو انسان اپنے گھر والوں کا نہیں ہو سکا وہ تمہارا کیا ہوگا؟
    تیسری بات ۔۔ کیا وہ حضرت کچھ کرتے بھی ھیں یا پھر ۔۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ؟؛)
    اور بھی بہت سی باتیں ہیں مگر وہ میرے خیال میں یہاں لکھنے والی نہیں کیونکہ اوپن بلاگ ہے اور اس پر مشورے وہ بھی اس طرح کے دینا کچھ جمتا نہیں ھے ؛)

  14. واہ واہ کیا مشورے دیے ہیں اور وہ بھی مفت 🙂 ، ماریہ جی جب کے بقول آپ کے آپ کی شادی کو صرف 4 ماہ ھوئے ہیں، ماشااللہ ، ، پر امید کرتے ہیں کہ اسے پڑھ کے بہت سے لوگوں کو فائدہ ھو گا ۔۔ اور ان کے لیے یہ سب سودمند ثابت ھو گا۔
    میری گزارش ھے باقی سب بلاگ کے احباب سے کے وہ بھی اپنے اپنے تجربوں کی روشنی میں اس موضوع پے لکھیں تاکہ سب مستفید ھو سکیں، میرے خیال میں بہت سے ساتھی اس فیلڈ میں کافی تجربہ رکھتے ہیں سو گزارش ھے سب سے کہ اپنے نیک خیالات کا اظہار کریں شکریہ

  15. ثنا ء ویسے ہمکو بھی انتظار رہے گا کے تم شادی کے بعد یہاں کب مشورہ دینے آتی ہو وہ بھی مفت؛)

  16. ماشاء اللہ
    یہ تو شادی گایڈ‌ہی شروع ہو گئی اس موضوع پر تو ایک الگ سے ڈیبیٹ ہونی چاہیئے، اور وہ بھی پرانے شادی شدہ جوڑوں کی، عمر کی اس میں کوئی قید نہیں کیونکہ بقول سعدی ٌبزرگی بہ عقل نہ بہ سالٌ اچھا مشورہ تو کوئی بھی کبھی بھی دے سکتا ہے، لیکن یہ بلاگ شروع ہوا تھا اپنی پسند کے اشعار سے اگر شادی کی مشاورت پر لکھنا ہے تو اس پر بہت سے لوگ پی ایچ ڈی کی ڈگری رکھتے ہیں، مشورہ کیا جا سکتا ہے، اور ویسے بھی آج کل شادیوں کا موسم ہے، لیکن میں پھر بھی بلاگ کو اس کے اصل موضوع کی طرف لانے کی کوشش کرتا ہوں، فراز کا ایک اور شعر….
    ذکر اُس غیرت مریم کا جب آتا ہے فراز
    گھنٹیاں بجتی ہیں لفظوں کے کلیساؤں میں.

  17. واہ بہت خوب عمران جی ۔۔۔۔۔۔۔غیرتِ مریم بہت خوب جیو سدا

  18. عمران چوہدری صاحب

    ویسے تو میں اور ثریا نانی نانا بن چکے ہیں۔ لیکن ثریا کو ہر Bar والے داخل نہیں ہونے دیتے۔ کہتے ہیں تمہاری عمر 21 سال سے کم لگتی ہے۔ کوئ علاج بتائیں۔

  19. نیزے سے سیاہی سے نہ سرخاب کے پر سے

    لکھتا ہوں میں ہر شعر فقط خونِ جگر سے

  20. بروں کے ساتھ نیکی کرنا ایسا ہے جیسے نیکوں کے ساتھ برائ کی۔

    اپنے بچوں پر اپنے وقت کی اقدار لاگو مت کروں کیونکہ وقت بدل چکا ہوتا ہے۔

  21. اس شخص سے فقط اتنا سا تعلق ہے فراز
    وہ پریشان ہو تو ہمیں نیند نہیں آتی

  22. بہت مشکل ہوجاتا ہے جب کسی ایک شعر کو پسندیدہ شعر کہنا پڑ جائے، وہ یوں کہ ہر موضوع پر معیار پسندیدگی بھی بدلتا رہتا ہے، جیسا کہ حمد، نعت نظم، اور غزل سبھی میں مضامیں جدا ہیں تو معیار پسندیدگی بھی جدا ہی ہونگے۔۔۔۔۔ویسے یہ منظور صاحب کہاں ہیں، کہ ایسی بزم میں انکی ضرورت توشدت سے محسوس ہوتی ہے۔
    آپ سب کی خدمت میں جناب احمد فراز کی ایک غزل، جس میں تغزل اور بغا دونوں ہی کوٹ کوٹ کر بھرے ہیں۔
    کل رات ہمسخن کوئی بُت تھا، خدا کہ میں
    میں سوچ ہی رہا تھا کہ دل نے کہا کہ میں

    تھا کون جو گر ہ پہ گرہ ڈالتا رہا؟
    اب یہ بتا کہ عقدہ کشا تُو ہوا کہ میں!

    جب سارا شہر برف کے پیراہنوں میں تھا
    ان موسموں میں لوگ تھے شعلہ قبا، کہ میں

    جب دوست اپنے اپنے چراغوں کے غم میں تھے
    تب آندھیوں کی زد پہ کوئی اور تھا کہ میں؟

    جب فصل ِ گل میں فکر ِ رفو اہل ِ دل کو تھی
    اس رُت میں بھی دریدہ جگر تُو رہا کہ میں

    کل جب رُکے گا بازوئے قاتل تو دیکھنا
    اے اہل ِ شہر تم تھے شہید ِ وفا کہ میں

    کل جب تھمے گی خون کی بارش تو سوچنا
    تم تھے عُدو کی صف میں سر ِ کربلا کہ میں

  23. واہ ثںا سلامت رہو بہت اچھا بلاگ شروع کیا ہے۔
    میرے بہت سے پسندیدہ اشعار میں سے ایک شعر۔۔۔۔
    یہ روشنی تو مجھے اور کر گئ تنہا!!!!!!!!
    دیےء جلاےء تو ساےء بھی بام و در سے گےء

  24. تھتے تھمتے تھمیں گے آنسو
    رونا ہے یہ ہنسی نہیں ہے
    میر

    جو چاہوں وہ کر سکتی ہوں
    آپنے مجھکو سمجھا کیا ہے
    فوزیہ مشتاق

    غریبِ شہر تو فاقے سے مرگیا عارف
    امیرِ شہر نے ہیرے سے خود کشی کرلی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    صنفِ نازک اگر نہ ہوتی ظفر
    خاک میں کائنات ملجاتی

    اللہ رکھے قائم و دائم تری آنکھیں
    اِن آنکھوں میں میرے لئے میخانے بہت ہیں

    ہم تو ذرہ ہیں ظفر اور وہ متاعِ خورشید
    آتشِ شوق مگر اُن سے سوا رکھتے ہیں

    آب و ہوا نصیب نہ ہو خاک کو اگر
    نکلیں گے اُس میں کیسے شجر، یہ نہ پوچھئے

    جب عظم ستاروں نے کیا ہونے کا روشن
    گم ہوگیا خورشید ستاروں کی نظر سے
    ظفر جعفری

  25. جب عظم ستاروں نے کیا ہونے کا روشن
    گم ہوگیا خورشید ستاروں کی نظر سے

    میر خیال سے یوں ہوگا
    جب عزم ستاروں نے کیا ہونے کا روشن
    گم ہوگیا خورشید ستاروں کی نظر سے
    مع السلام

  26. جناب ظفر صاحب،
    لگتا ہے کہ ثریا صاحبہ بھی یہ بلاگ پڑہتی ہیں، اسی لیئے ایسا لکھا ہے، اور پھر بھی میرے چچا جو کہ نانا بھی ہیں اور انکی بیگم نانی، انکی بھی یہی حالت ہے، اور اس سٹیج پر یہی کہنا چاہیئے کیونکہ اس سے آگے جتنی زندگی بچی ہوتی ہے، اچھی گذر جاتی ہے. اور چچا غآلب کا ایک شعر……..
    چھوڑی اسد نہ ہم نے گدائی میں دلبری
    سائل ہوئے تو عاشق اہل کرم ہوئے

  27. ظفر جعفری بھای صاحب بڑ ی ہی اچھی طبیعت کے اور بڑے ہی ہنس مکھ اور خوش مزاج شاعر معلوم ہوتے ہیں کہ وہ کبھی کبھی اپنی اہلیہ محترمہ یعنی ہماری ثریا بھابھی کو بھی بار Bar میں لے جانے کی کوشش کرتےہیں۔ خدا کا شکر ہے کہ بھابھی ثریا کی صورت شکل اتنی بھولی بھالی ہے کہ وہ اکیس 21سال سے کم عمر کی لگتی ہیں۔اور کم از کم انہیں بار bar والے اندر آنے سے روک دیتے ہیں۔

    اس بات پر تو ظفر جعفری صاحب کو جشن منا نا چاہیے ۔
    اس کےلیے انہیں عمران چوہدری ثاقب صاحب سے علاج پوچھنے کی ضرورت نہیں۔
    ۔۔
    بہر حال : جناب سید مصباح حسین صاحب نے یاد فرمایا تو چلا آیا ورنہ میری توجہ تو ماریہ علی صاحبہ کے نامکمل بلاگ پر مرکوز تھی جس کو تما م سخنوروں کی ( اور خود ماریہ علی صاحبہ کی ) توجہ کی ضرورت ہے تاکہ اس بلاگ کا مقصد بخیرو خوبی پورا ہوجائے ۔

    میری پسند کے بہت سارے اشعار ہیں جو میرے لیے مشعل راہ کا کام کرتے ہیں ۔ انہیں بھی میں انشا اللہ آیندہ کبھی اس بلاگ میں لکھ دونگا

    ۔ فی الوقت سیدہ ثنا ء شاہ صاحبہ نے ساغر صدیقی کی جس غزل سے اس بلاگ کا آغاز کیا ہے اسی غزل کا بقیہ شعر بھی لکھدیتا ہوں تاکہ ساغر صدیقی کی غزل مکمل ہوجاے:
    جسے زبان خرد میں شراب کہتے ہیں
    وہ روشنی سی پلاو ! بڑا اندھیرا ہے
    ۔۔۔
    فقط:
    علم کا طالب
    منظور قاضی از جرمنی

  28. MARIA MISS main aap ki baat se buhat mutasar hua hum log waqaee apne liyee dua manghte hai kabi kisi ke liyee dua nahi karte is tarah hum doono haltoon main Allaha)(tabarak-wa-tala ko boolay huain hain. hamain cheia ke hum doosroon ko khushian milne our takleefain door hune ki Allah se dua mangin hamari museebatain khud ba khud khtam ho jain ge .Allah aap ki umer sehat ke saath lambi kere Amin.

  29. خالد صاحب، عالمی اخبار کے بلاگ پر خوش آمدید۔ آپ یہاں اپنے تبصرے اردو میں بھی لکھ سکتے ہیں، اس بلاگ پر آپکا کی بورڈ فونیٹک انداز میں کام کرے گا، اور یوں یہ رومن اردو سے بھی آسان کام ہے۔ آپکی گرانقدر آراء کا آئندہ انتظار رہے گا۔
    والسلام
    سید مصباح حسین
    ( ترجمان عالمی اخبار)

  30. اسلام علیکم !!
    ملتان سے خالد صاحب آپ کو عالمی اخبار کے بلاگ کی محفل میں دلی خوش آمدید ۔ welcome اور جی آیاں نوں !
    سلامت رہیں

    میزبان عالمی اخبار بلاگ

  31. مجھے لگتا ہے ثنا کی تعلیم ختم ہو چکی ہے اور ماریہ نے جاب چھوڑ دی ہے۔ یہ اتنے لمبے بلاگ لکھتی رہتی ہو آپ دونوں کوئی اور کام نہیں؟ کوئی کھانا پکانا سیکھو اور کھانا کھلانا سیکھو۔ اور پھر میری اور عمران بھائی کی دعوت کرو۔ ہم لوگوں میں‌ بیٹھ کے آپ کی تعریف کریں‌ گے- شاباش چلو ابھی جاؤ اور کوئی سپیشل ڈش تیار کرو۔ میں اور عمران بھائی آ رہے ہیں۔ ماریہ بیٹی میں فقط 3 گھنٹے میں‌ پہنچ جاؤں گا، یہ کافی ٹائم ہے۔

  32. ساہیں رحمت جی اس کو کہتے ہیں WE GIRLS ARE MORE ORGANISED سب کام بھی اور ساتھ میں یہ سب بھی !! بس خدا کی دین ھے ، کبھی غرور نہیں کیا 🙂 🙂

  33. جی جی ویلا بندہ اگر تنظیمی کام بھی نا کرے تو اور کیا کرے- اور ابھی غرور کرنا باقی رہ گیا ہے؟ اچھا ثنا پلیز مجھے میل لکھو جلدی سے ایک بات پوچھنی ہے ۔ اتنی well organised ہو ساتھ ساتھ میل بھی لکھ دو- اب دیکھتا ہوں کتنی Efficianey ہے تم میں-

  34. ایک شعر کو سمجھنے کے لیئے میں اپنے بچپن میں چچا کے پاس گیا یہ ہمارے گاؤں کی بات ہے، شعر کچھ یوں ےتھا کہ
    کچھ تمہارے گیسوؤں کی برہمی نے کر دیئے
    کچھ اندھیرے میرے گھر میں روشنی سے ہو گئے
    اب میں نہیں سمجھ سکا کہ روشنی سے اندھیراکیسے ہو جاتا ہے، اسسے پہلے کہ چچا بولتے، انکا منشی جو قریب حقہ دیارکر رہا تھا فوری بول اٹھا کہ چوہدری جی یہ شاعر مجھے کچھ چمگادڑ ٹائپ کا لگتا ہے کہ جس کو اندھیرے میں نظر نہیں آتا، اب منشی کی چھٹی تو ساغر صدیقی کی تہین کرنے کے جرم میں ہو ہی گئی لیکن وعر ابھی تک سمجھ نہیں آیا. کوئی ہے جو بتادے کہ رتاونی سے کیسے اندھیرے ہو جاتے ہیں.

  35. SYED MISBAH HUSSAIN SB KUCH INFORMATION DAIN KE DUBARA BLOG MAIN MILNA HO TO KIA KARNA HO GA OUR URDU MAIN LIKHNE MAIN THORA MASLA HOTA. WAISE AAP SEB LOGOON SE MIL KER BUHAT KHUSHI HUI, AAJ MULTAN MAIN MOSAM BI BUHAT ACHA HAI OUR LOG BI ACHE MIL GAIN HAIN

  36. محترم خالد صاحب۔
    بلاگ میں دوبارہ ملاقات کے لئے اسی طرح کچھ نہیں کرنا پڑتا جس طرح پہلی بار کچھ نہیں کرنا پڑتا۔ بس اپنا مثبت تبصرہ شامل کر دیجئیے اور دیگر احباب کی آراء سے بھی محظوظ ہوتے رہیں۔ یہ ضروری نہیں کہ کسی موضوع پر سبھی احباب کی رائے ایک سی ہو، اس میں تنوع اور اختلاف رائے ایک قدرتی عمل ہے، اور ہر کوئی اپنی آزاد سوچ کا اظہار کرتا ہے۔۔۔ یہاں مباحث میں جیت ہار کا کوئی تصور نہیں ہے، تاہم مدبرانہ رائے اور علمی دلائل کسی بھی جگہ پر شنوائی سے خالی نہیں رہ سکتے۔ احترامِ مخاطب، اور شستگی اس بلاگ کی اولیں ضروریات ہیں۔
    کوش کیجیئے کہ اردو میں لکھ سکیں کیونکہ انگریزی نما اردو جسے رومن اردو کہا جاتا ہے، پڑھنے میں شدید دشواری کا سبب بنتی ہے۔

    خوش رہئیے اور اپنی آراء سے نوازتے رہیں۔
    نا چیز

  37. خالد صاحب اگر اپنے کسی دوست سے ان پیج سافٹ ویر کا تیا ر کیا ہوا اردو فانٹ کا کی بورڈ حاصل کرلیں ( یہ صرف ایک صفحہ پر مشتمل ہے ) تو انکو اس کی بورڈ میں انگریزی کے موجودہ کی بورڈ کے ساتھ ساتھ اردو فانٹ کے حروف بھی نظر آینگے ۔ اس صفحہ ( کی بورڈ ) کو سامنے رکھکر وہ اپنی تحریر کے اردو حروف معلوم کرسکتے ہیں اور اردو فانٹ میں تبصرےلکھ سکتےہیں۔ اس لیے کہ جو ان پیج کا اردو کی بورڈ ہے وہی یونی کوڈ کے اردو کی بورڈ کا بھی ہے۔ ( میں نے اردو فانٹ میں لکھنا اسی ان پیج کے کی بورڈ سے سیکھا ہے )
    اس مشورہ پر عمل کرکے وہ اردو فانٹ میں عالمی بلاگ کے بلاگو ں میں اور دنیا کے دوسرے اردو بلاگو ں میں بھی اردو فانٹ میں تبصرے لکھ سکتے ہیں۔
    ویسے انکی مرضی ۔
    میری دلی دعایں انکے ساتھ ہیں

  38. ویسے میں‌ بے ادب انسان ہوں اس لئے شعر و شاعری کی گئفتگو میں‌ حصہ نہیں لیتا- اس غزل کا ایک شعر غلط لکھا گیا ہے- ممکن ہے میں‌ ہی غلط ہوں۔ ثنا نے لکھا ہے
    مجھے تمہاری نگاہوں پہ اعتماد نہیں‌
    میرے قریب نہ آؤ بڑا اندھیرا ہے
    میں‌ یہ غزل اکثر سنتا رہتا ہوں مہدی حسن صاحب نے کچھ اس طرح کہا ہے
    مجھے خود اپنی نگاہوں پہ اعتماد نہیں
    میرے قریب نہ آؤ بڑا اندھیرا ہے-
    قاضی صاحب کا علم وسیع ہے امید ہے کہ میری تصحیح فرما دیں‌ گے-
    اب مہدی صاحب کا ذکر شروع ہوا تو دو لفظ ان کی شان میں بھی کہ دوں – یہ تو طئے ہے کہ مہدی کی جگہ کوئی نہیں‌ لے سکا اور نہ ہی ایسا ہوگا۔ یہ غزل سنیں – روشن جمال یار سے ہے انجمن تمام
    اب تو یہ دعا ہے کہ کوئی مہدی صاحب کی نقل ہی کرنے والا پیدا ہو جائے۔ خدا کرے کہ ایسا ہو-
    کیا خیال ہے آپ سب کا؟

  39. میری research سےیہ بات آئی ھے کہ ”ساغر صدیقی“ نے لکھی ویسے ھے کہ “مجھے تمہاری نگاہوں پہ اعتماد نہیں‌
    میرے قریب نہ آؤ بڑا اندھیرا ہے
    پر مھدی حسن نے پڑھنے میں یہ الفاظ کچھ تبدیل کیے ہیں، 🙂
    مجھے خود اپنی نگاہوں پہ اعتماد نہی

    میرے قریب نہ آؤ بڑا اندھیرا ہے-

    جی سچل سائیں جی آپ درست ہیں، میری لکھنے میں غلطی ھوئی ھے ، تصحیح کا شکریہ

  40. سائیں رحمت صاحب کبھی بھی ” بے ادب انسان ” نہیں ہوسکتے اس لیے کہ انکی تحریر میںادب کے ساتھ ساتھ اس قدر حق گوئی اور بے باکی اور بذ لہ سنجی ہے کہ اس تحریر کو بار بار پڑھکر انکی قادر الکلامی پر داد دینے کو طبیعت چاہتی ہے۔

    ساغر صدیقی کی پہلی تصنیف ” غم بہار ” میں یہ شعر اسی طرح موجود ہے جیسے کہ ثناہ شاہ صاحبہ نے اس بلاگ کے شروع میں لکھا ہے :
    مجھے تمھاری نگاہوں پہ اعتماد نہیں
    مرے قریب نہ آو ، بڑا اندھیرا ہے

    اس کتاب کی پہلی اشاعت 1964 میں ہوی ( مجھے معلوم نہیں کہ ساغر صدیقی کی وفات کب ہوئی مگر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ کتاب اسکی زندگی ہی میں شایع ہوی ) سا غر صدیقی نے 1965 کی پاک ہند جنگ کے دوران جو ملی ترانے اور نغمے لکھے ہیں ۔ اس لیے یہ کہنا پڑتا ہے کہ یہ کتاب ساغر صدیقی کی زندگی میں ہی شایع ہوی تھی اور شاعر نے اس شعر کو ایسا ہی کہنا چاہا ۔ ( ممکن ہے کوی اور دانشور اس بات کی تحقیق کرکے یہ بتادے کہ اس کتاب کی اشاعت ساغر صدیقی کی زندگی ہی میں ہوی تھی یا نہیں )

    اگر ساغر صدیقی موجود ہوتا تو شاید یہ کہتا کہ:
    میں تاریکی کے گڑھے میں اس قدر گم ہوگیا ہوں کہ شاید تمھاری نگاہیں مجھے دیکھ نہ سکیں ۔( میری تاریکی اور اندھیرے کی حقیقت کا تو پتہ ہے مگر مجھے تمھاری بصارت ( نگاہوں ) پر اعتماد نہیں کہ تم مجھ کو اس بھیانک اندھیرے میں دیکھ سکو ) اس لیے میرے قریب آکر مجھے تلاش کرنے کی کوشش مت کرو۔

    ساغر صدیقی کو قریب سے دیکھنے والے شاید اس شعر کی گہرای اور صاف گوئی کو سمجھ گئے ہونگے کہ بقول حفیظ جالندھری :ساغر ” کو اس کے ساتھیوں نے کچھ ایسی لگائی کہ بیچارا جل کر بجھ گیا۔ مگر اس عالم میں بھی جو کچھ ساغر سے میں نے سنا ہے وہ بہت سے موجود غزل لکھنےوالوںسے برتر ہے ” ( یہ بات حفیظ جالندھری مرحوم نے ساغر صدیقی کی تصنیف ” شب آگہی ” کے تعارف میں لکھی تھی ۔

    میرے خیال میں مہدی حسن صاحب ( اللہ انکو صحت دے ) اپنی نیک نیتی سے اس شعر میں تصحیح کی کہ

    ” مجھے خود اپنی نگاہوں پہ اعتماد نہیں ”
    میرے قریب نہ آو بڑا اندھیرا ہے

    جسے میرے خیال میں ساغر صدیقی نے قبول نہیں کیا ہوگا ( وجہ میرے خیال میں وہی ہے جو میں اوپر لکھا ہوں )

    میرے خیال میں شاعر اپنے محبوب کے لیے یہ نہیں‌ کہ سکتا کہ اتنا گہرا اندھیرا ہے کہ تو قریب بھی آجاے تو بھی میں تجھے دیکھ نہیں سکونگا اس لیے کہ مجھے خود اپنی نگاہوں پہ اعتماد نہیں ہے ۔ ( شاعر کو معلوم ہے کہ عشق کی شدت اگر موجود ہو تو اس کو اپنی نگاہوںپر اتنا اعتماد ہے کہ وہ انتہای گہرے اند ھیرے میں بھی اپنے محبوب کے وجود کو دیکھ سکتا ہے )

    یہ میرا اپنا تجزیہ اور اپنا خیال تھا شاید کوی اور دانشور اس پر مزید کچھ اور روشنی ڈالے۔

    ساغر صدیقی کا یہ شعر تو مجھے سمجھ میں آگیا مگر ناصر کاظمی مرحوم کے اس شعر پر مجھے ہوسکے تو کچھ کہنا ہے :
    جس دھوپ سے دل میں ٹھنڈک تھی وہ دھوپ تو اسکے ساتھ گئی
    ان جلتی بلتی گلیوں میں میں خاک اڑا وں کس کے لیے
    مجھے پتہ نہیں کہ شعر کس طرح کس کتاب میں موجود ہے ۔ اگر ہے تو یہ کس طرح سے تحریر کیا گیا ہے: کیا ” دھوپ ” سے ٹھنڈک ہوتی ہے یا چھاوں سے ٹھنڈک ہوتی ہے ؟
    بہر حال :
    علم کا طالب
    منظور قاضی از جرمنی

  41. سید مصبا ح اور قاضئ منظور صاحب آپ کا بہت شکریھ رھنمائ کرنے کا

  42. شکریہ قاضی صاحب حوصلہ افزائی کا اور اس کے ساتھ ساتھ جو آپ نے تشریح فرمائی ہے اس کے لئے میں‌ بہت ہی شکر گذار ہوں۔ آپ اور ثنا اور دیگر کی خدمت میں یہ بھی عرض کرتا چلوں کے گلوکار ایسے ردوبدل کرتے رہتے ہیں۔ یہ بات مہدی حسن صاحب نے خود ایک محفل میں بتائی۔
    قاضی صاحب میں‌ آپکی ادبی خدمت کے لئے بہت ممنوں ہوں۔ بہت ہی بدقسمتی کی بات ہے کہ میں نے اپنے کانوں سے لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ انگریزی ہماری مادری زبان ہے۔

  43. سائیں رحمت صاحب کا شکریہ کہ میری تشریح کو پسند کیا ۔ پھر بھی کوی اور دانشور ساغر صدیقی اور ناصر کاظمی کے مندرجہ بالا اشعار کی وضاحت کریں تو ہم سب کے علم میں اضافہ ہوگ۔
    رہی بات مادری زبان کی تو کوئی بھی فرد اپنی پیاری پیاری ماں کی پیاری پیاری زبان بھول نہیں سکتا۔ چاہے وہ کسی جگہ سے تعلق رکھتا ہو۔ مگر بات یہ ہے کہ جب مختلف خطوں کے افراد جب ایک دوسرے سے بات کرتے ہیں تو انکے لیے ایک مشترکہ زبان کا استعمال ضروری ہوجاتا ہے۔

    ہندوستان اور پاکستان کے رہنے والوں پر انگریزوں کے قبضے کی وجہ سے انگریزی کا بول بالا ہوگیا اور وہی ایک حد تک مشترکہ زبان بن گئی ۔

    اب ہم سب کو چاہیے کہ انگریزی کو اپنی حد تک برقرار رکھتے ہوے اپنی ایک مشترکہ قومی زبان یعنی اردو زبان کو ابھاریں اور اسکو مرنے نہ دیں۔
    (‌‌ اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ اپنی پیاری ماں کی پیاری زبان کو بھول جاییں ۔ اس لیے کہ اس کی چاشنی کسی اور زبان میں مل ہی نہیں سکتی ۔)‌

    اردو کو زندہ رکھنے کے لیے ، اردو کے فارسی رسم الخط کو بھی زندہ رکھنا ہوگا تاکہ رومن اردو یا دیوناگری میں لکھی ہویی اردو ، فارسی رسم الخط پر حاوی نہ ہوجائے۔

    فارسی رسم الخط ہی سے اردو زندہ رہ سکتی ہے۔ معمولی مثال ہے لفظ سمن اور ثمن اور لفظ عزم اور عظم اور نظر اور نذر ۔ ان الفاظ کو رومن اردو میں لکھکر یہ کہنا کہ پڑھنے والا میرا مطلب خود سمجھ جاےگا ۔ تو وہ پڑھنے والے کی عقل کا امتحان لینے کے برابر ہے۔ اس کو یہ پتہ ہی نہ ہے کہ رومن اردو میں لکھا ہوا لفظ سمن وہی ہے جو شاعر کے ذہن میں ہے ، اور وہ لفظ ثمن نہیں ہے۔

    بات طویل ہوتی جارہی ہے اس لیے میں کہتا ہوں کہ اگرسائیں رحمت صاحب کسی ہندوستانی یا پاکستانی سے یہ کہتے ہوے سنیں کہ ” انگریزی اس کی مادری زبان ہے ” تو شاید اس فرد کی ماں انگریز ی زبان والی ہوگی ۔ اس لیے کہ پنجابی یا سندھی یا بلوچی ، پشتو ، یا کشمیری یا دہلی اور حیدرآباد انڈیا کے اردو گھرانےکا فرد یہ نہیں‌کہ سکتا کہ انگریزی اسکی مادری زبان ہے ۔
    ۔۔۔
    آخر میں خالد ملتانی صاحب سے عرض ہے کہ دل کھول کر ان بلاگوں کی محفل میں حصہ لیتےرہیں اور کچھ ہم سب کو سکھاین اور کچھ ہم سب سے سیکھیں ۔
    فقط :
    علم کا طالب
    منظور قاضی ( جرمنی سے )

  44. رہا مہدی حسن صاحب کا معاملہ تو انہوں نے فراز کی رنجش ہی سہی والی غزل میں بھی کسی اور شاعر کے دو اشعار لگا کر دنیا کے سامنے پیش کردیا ۔
    اس پر فراز نے ان سے درخواست کی تھی کہ بھائی آیندہ سے میرے ساتھ ایسی زیادتی نہ کریں۔ ( شاید آپ سب حضرات کو اس بات کا علم ہے اگر نہیں تو مہدی حسن صاحب کی گائی ہوی اس غزل کو پھر سے سنیے )

  45. جناب قاضی صاحب! جو کچھ میں‌ نے عرض کیا تھا یہ ایک چشم دید واقعہ تھا۔ مزے کی بات ہے کہ محترمہ کا تعلق سیالکوٹ سے تھا اور ان کے والدین نسلن پنجابی تھے۔ ان کے شوہر نامدار کا تعلق بہاولپور سے تھا اور آپ نے فخریہ لہجہ میں فرمایا کہ جی اردو تو میں تھوڑی بہت جانتا ہوں مگر سرائکی بلکل نہیں جانتا جبکہ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ آپ نسلن سرائکی ہیں- میں نے جرت کر کے پوچھ ہی لیا جناب تو آپ دونوں کی مادری زبان انگریزی کیسے ہو گئی تو جواب ملا کہ یو نو ہم گھر میں انگلش بولٹا ہوں۔
    میں نے عرض کیا کہ جی ہمارے گھر میں‌ سندھی اور سرائکی بولی جاتی تھی اردو اور انگلش میں نے سویڈن میں آ کے سیکھی۔ اس سے زیادہ جلا کٹا جواب میرے پاس نہیں تھا۔
    جہاں تک زبانوں کا تعلق ہے تو جتنی بھی زبانیں کوئی سیکھ لے وہ میرٹ میں‌ ہی شمار ہوگا۔ یہ بھی ایک تحقیق شدہ بات ہے کہ اگر کسی کا اپنی مادری زبان پہ زیادہ عبور ہوگا تو ایسا شخص دوسری زبانیں آسانی کے ساتھ سیکھ سکتا ہے۔
    سندھی، اردو، بلوچی، پشتو، پنجابی یہ سب ہماری ہی زبانیں ہیں ان کو زندہ بھی ہم ہے نی رکھنا ہے۔ کاش کہ میں پشتو اور بلوچی بھی جانتا۔

  46. جب سے نگہت آپا آئی ھوئی ھیں ھے ھم سب کو ایک ھی کام پرلگا یا ھوا ھے کہ سب اردو میں لکھنا شروع کریں سو کوشش میں ھوں کہ اپ سب کی طرح جلدی سے سیکھ جاؤں ۔ آپا کے انے سے بہت رونق ھو رھی ھے بھلا ایسے میں کوئی کیسے لکھ سکتا ھے ، پھر بھی ان کے سامنے ھی بیٹھ کر پوچھ پوچھ کر لکھ رھی ھوں ۔

  47. ارے نزہت باجی مجھےبھی نگہت آپا نے اسی کام پر لگا دیا ھے ۔دراصل آپا کے ساتھ رھنا ھی سیکھنا ھے ۔

  48. اسلام علیکم !! نزہت نسیم جی اور نادیہ نسیم جی

    آپ کو عالمی اخبار کے بلاگ کی محفل میں دلی خوش آمدید ۔ welcome اور جی آیاں نوں !
    سلامت رہیں اور اب لکھتی رہیں۔ ھم آپ کی تحریروں کے منتظر ہیں 🙂

    (میزبان عالمی اخبار بلاگ )

  49. سائیں رحمت علی سائیں ؛ اب چونکہ ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ کی بہنیں اس بلاگ میں زور و شور سے حصہ لے رہی ہیں تو کیوں نہ ہم انہیں اپنی مرضی سے جو چاہے لکھنے کا موقعہ دیں۔

    میرے خیال میں قابل مبارکباد ہیں وہ تمام اردو داں حضرات و خواتین جو ماریہ علی کاظمی صاحبہ کی طرح یونی کوڈ اردو فانٹ میں اپنے کالم بھی اور اپنے تبصرے بھی لکھنے لگی ہیں ۔ انہوں نے جس قدر کم مدت میں یہ مہارت حاصل کی وہ قابل دید اور قابل تقلید ہے۔
    ۔۔
    اب رہا پاکستان کے ان خاندانوں کا معاملہ جو انگریزی کو اپنی مادری زبان کہتے ہیں تو ہم انہیں کیا کہ سکتے ہیں۔ وہ اپنی مرضی کے مالک ہیں جو چاہے کہیں۔ احساس کمتری کا اظہا ر کرنا بہت سارے افراد کی پیدائشی کمزوری ہے۔
    ۔۔۔۔۔
    آپ نے جناب شمس جیلانی صاحب کا وہ کالم تو پڑھا ہوگا جس میں انہوں نے صفدر ھمدانی صاحب اور انکی اہلیہ ماہ پارہ صفدر کو انکی بیٹی زہرہ کی شادی کی مبارکباد دیتے ہوے کہا کہ اللہ تمام مغرب میں رہنے والے ماں باپ کو اپنی اولاد کی مشرقی انداز میں تربیت دینے کی توفیق اور استطاعت اسی طرح دے جیسی صفدر ھمدانی صاحب اور ماہ پارہ صفدر صاحبہ کو دی ۔ آمین
    ۔۔۔۔۔
    رحمت علی سائیں قابل مبارکباد ہیں کہ انہوں نے سویڈن میں آکر اردو اور انگلش کو نہ صرف سیکھا بلکہ اردو بلاگ اور تبصرے لکھنے میں مہارت بھی حاصل کرلی۔
    ۔۔۔
    فقط
    اردو کا شیدائی
    منظور قاضی (میونخ کی ایک قریبی بستی سے )

  50. سب نئے شرکاء کو بلاگ کی محفل میں خوش آمدید، یہاں سیکھنے اور سکھانے کو بہت مواد اور مواقع ملیں گے، پم سب آپکے تبصروں سے سیکھتے ہیں،
    فیض احمد فیض کی شاعری کے گلستاں سے چند پھول آپ سب کے لیئے
    تیری امید تیرا انتظار جب سے ہے
    نہ شب کو دن سے شکائت نہ دن کو شب سے ہے
    کوئی بھی درد ہو کرتے ہیں تیرے نام رقم
    گلہ ہے جو بھی کسی سے تیرے سبب سے ہے
    اگر شرر ہے تو بھڑکے جو پھول ہے تو کھلے
    طرح طرح کی طلب تیرے کنج لب سے ہے
    کہاں گئے شب فرقت کے جاگنے والے
    ستارہ سحری ہمکلام کب سے ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *