یہ بلاگ میں نے جس نام پے شروع کیا ”چراغ طور جلاؤ! بڑا اندھیرا ہے“ “ساغر صدیقی“ کی شاعری ھے جس کو مھدی حسن صاحب نے گایا ھے وہ لکھتی ھوں
چراغ طور جلاؤ ! بڑا اندھیرا ہے
ذرا نقاب اٹھاؤ ! بڑا اندھیرا ہے
ابھی تو صبح کے ماتھے کا رنگ کالا ہے
ابھی فریب نہ کھاؤ ! بڑا اندھیرا ہے
وہ جن کے ہوتے ہیں خورشید آستینوں میں
انہیں کہیں سے بلاؤ ! بڑا اندھیرا ہے
مجھے تمھاری نگاہوں پہ اعتماد نہیں
مرے قریب نہ آؤ ! بڑا اندھیرا ہے
فراز ِعرش سے ٹوٹا ہوا کوئی تارہ
کہیں سے ڈھونڈ کے لاؤ ! بڑا اندھیرا ہے
بصیرتوں پہ اجالوں کا خوف طاری ہے
مجھےیقین دلاؤ ! بڑا اندھیرا ہے
بنام زہرہ جبینانِ خطّہء فردوس
کسی کرن کو جگاؤ ! بڑا اندھیرا ہے
اسلام علیکم !
امید ہے کہ سب خیریت سے ھوں گے، ماشااللہ سے کافی معلوماتی بلاگ جا ریے ہیں۔ چلیں آج ایک نئے سلسلے کو شروع کرتے ہیں جس میں سب شریک ھوں گےانشااللہ ، وہ یہ ھے کہ۔۔۔۔۔
کبھی کبھی ھم کوئی ایسا شعر یا اچھی بات پڑھتے ہیں جو پڑھتے ہی دل میں اتر جاتی ھے اور دل کہتا ھے کہ اس کو سب کے ساتھ بانٹیں، میں تو ایسا چاھتئ ھوں 🙂 یقیناً آپ سب بھی چاہتے ھوں گے نا کہ سب کے ساتھ اپنی پسند share کی جائے۔ تو پھر اپنے من پسند اشعار،باتیں لکھ دیں جن کو پڑھ کے آپ محضوض ھوتے ہوں۔ کیا پتہ کسی کی بات کسی کے لیے راہ ھدایت بن جائے ! سو چراغ طور جلاو بڑا اندھیرا ہے
آپ سب کی اچھی اچھی تحریروں کی منتظر 🙂
شکریہ

بے حُب اہلبیت عبادت حرام ہے
زاہد تری نماز کو میرا سلام ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خلوصِ دل سے ہو سجدہ تو اُس سجدہ کا کیا کہنا
وہیں کعبہ سرک آیا جہاں ہم نے جبیں رکھدی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سرِ رکھدیا ہم نے درِ جاناناں سمجھ کر
کافر ہے جو سجدہ کرے بتخانہ سمجھ کر
میرا ایک قطعہ : عنوان : تبصرہ
کبھی جنون کی وحشت کبھی غمِ دورا ں
کبھی سکوں نہ ملا مجھ کو میری ہستی میں
ہر ایک جذ ب ہے اپنی ہی ذات میں قاضی
بشر کو ڈھونڈ تے کیوں ہو بُتوں کی بستی میں
۔۔۔۔
فقط:
ایک مبصر
منظور قاضی از جرمنی
ہر ایک جذ ب ہے اپنی ہی ذات میں قاضی
بشر کو ڈھونڈ تے کیوں ہو بُتوں کی بستی میں
منظور قاضی جی بہت خوب ! سبحان اللہ
اس بلاگ کے تبصروں میں بہت سارے عمدہ اشعارپڑھنے میں آئے۔ علم میں اضافہ کے ساتھ ساتھ ہم سب کی سخن فہمی بھی بڑھ رہی ہے۔
سید مصبا ح حسین صاحب نے فراز کی جس غزل کا انتخاب کیا وہ غزل بار بار پڑھنے کے قابل ہے :
کل رات ہم سخن کوئی بت تھا ، خدا کہ میں
میں سوچ ہی رہاتھا کہ دل نے کہا کہ میں
اللہ فراز کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے اس نے کافی الہامی اشعار لکھے۔
۔۔۔۔۔
مجھے سائرہ بتول صاحبہ کی پسند کے شعر پر کچھ کہنا ہے ( انہوں نےیہ نہیں لکھا کہ اس شعر کا خالق کون تھا ):
یہ روشنی تو مجھے اور کر گئی تنہا
دیے جلائے تو سائے بھی بام و در سے گئے
یہ شعر پڑھنے میں اور سننے میں تو بہت ہی اچھا معلوم ہوتا ہے مگر میں جب حمایت علی شاعر کی یہ ثلاثی یاد کرتا ہوں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ روشنی سے ساے کا تعلق دونوں اشعار میں مختلف پہلووں سے پیش کیا گیا ہے۔
وہ ثلاثی یوں ہے:
شب کو سورج کہاں نکلتا ہے
اس جہاں میں تو اپنا سایہ بھی
روشنی ہو تو ساتھ چلتا ہے
حمایت علی شاعر کی ثلاثی کے مطابق سایہ ، روشنی ہوتو ساتھ چلتا ہے ( جو ایک نا قابل تردید حقیقت ہے )
مگر اوپر لکھے ہوے کسی کے شعر کے مطابق: دیے جالانے سے جو روشنی ہوئی وہ مجھے اور تنہا کرگئی اس لیے کہ اس روشنی کی وجہ سے بام ودر کے سائے ( جو میری تنہائی کے ساتھی تھے ) چلے گئے ۔
بہر حال پڑھنے میں اوپر کا شعر بہت ہی اچھا معلوم ہوتا ہے چاہے وہ حمایت علی شاعر کی منطق کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔
علم کا طالب :
منظور قاضی از جرمنی
میری خوش نصیبی کی باجی نگہت میرے پاس ٹھری ھوئی ھیں اور میرے حال کا اندازہ نزہت باجی اور نادیہ لگا سکی ھیں کہ مجھے ھر وقت کتنا پڑھنا اور لکھنا ھوتا ھو گا ،لیکن اردو لکھنے کامزہ ھی کچھ اور ھے،حلانکہ ان دو لائنوں کو لکھنے کے لیئے مجھے دو گھنٹے لگے ھیں ۔
اسلام علیکم !! اسمارا عاصم جی
آپ کو عالمی اخبار کے بلاگ کی محفل میں دلی خوش آمدید ۔ welcome اور جی آیاں نوں !
بےشک اردو لکھنا مشکل ھے شروع میں،پر لکھنے لگیں تو پھر ھاتھ رکتا نہیں ھے، شروع میں میرا بھی ایسا ھی حال تھا پر ھمدانی صاحب کی ایک فون کال پے سکھانے کے بعد جو لکھنا شروع کیا تو اب بلاگ لکھے بغیر رہا نہیں جاتا 🙂 سلامت رہیں اور اب لکھتی رہیں۔ ھم اب آپ کی تحریروں کے منتظر ہیں،
(میزبان عالمی اخبار بلاگ)
السلام و علیکم آپ سب کو !!!!
ماشااللہ کافی پر رونق بلاگ چل رہا ھے ثنا ء کا ذبردست
بہت معزرت 2 دن کی غیر حاضری رہی میری اب میں آپ سب کے ساتھ ہوں انشااللہ 🙂
آپ سب سے ایک گزارش کرنی ھے 🙁
میرا ایک کلام ادھورہ ہے آپ سب کی مدد درکار ھے قاضی صاحب نے اس کلام کے لئیے ایک بلاگ بھی بنایا ہوا ھے اگر آپ سب کی نظر کرم ہو اس پر تہ بہت مہربانی ہوگی 🙂
21 دسمبر2008 کو ” حسینی بلاگ ” میں جناب صفد ر ھمدانی صاحب نے اپنے تبصرے میں جو باتیں لکھی ہیں انکو بار بار پڑھتا ہوں اور پھر ماریہ علی صاحبہ کے بار بار حکم کو بھی پیش نظر رکھتا ہوں کہ علامہ غالب نے تک مرثیہ کی صنف پر صرف تین بند لکھکر قلم رکھدیا اور اعتراف کیا کہ مرثیہ لکھنا انکے بس کی بات نہیں ۔ صفد ھمدانی صاحب نے مزید کہا کہ : اس سے کوئی غالب کا رتبہ کم نہیںہوتا بلکہ مرثیہ کی صنف کی حقانیت ثابت ہوتی ہے۔
غالب نے سلام لکھا جس کو صفدر ھمدانی صاحب نے مندرجہ بالا تبصرے میں پیش کردیا ۔ اور یہ بھی فرمایا کہ ” مرثیہ نگاری ہر ایک کے بس کی بات نہیں ، اس کے لیے کربلا والوں کی اعانت اور اجازت ضروری ہیں ”
مجھے ماریہ علی صاحبہ کی اعانت اور اجازت تو مل گئی ( جس کے لیے میں اپنی قسمت پر جتنا ناز کروں وہ کم ہے ) اور میں نے ایک مصرعہ انکی عقیدت کے گلدستہ میں شامل کردیا اب انہوں نے مزید دو اشعار لکھکر مجھے اور سب دانشوروں اور سخنوروں کو ان اشعار کی تصحیح کرنے کی دعوت دی ۔
انہوں نے اپنے اوپر کے ( اس بلاگ کے ) تبصرے میں اسی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ انکے لیے جو بلاگ ” ،اریہ علی کاظمی صاحبہ کا ایک نہایت ہی عمدہ شعر ” کے عنوان سے کھلا ہے اس میں حصہ لے کر ان کی مدد کریں۔
انکےشروع کے دو اشعار تو آپ سب پڑھ ہی چکے ہیں:
حصار کرلیا میرا عزا کی خوشبو نے
علم کے سائے سے لا ئی جو میں اٹھا کے گلاب
علم کے سامنے جھکتا ہے سر مرا ایسے
کی جیسے ٹوٹ کر گرتا ہے آسماں سے شہاب
۔۔۔
اس کے بعد ماریہ علی صاحبہ نے یہ دو اشعار اسی بحر میں پیش کیے ہیں؛
قسم خدا کی میں نعمت ہر ایک رد کردوں
ملے اگر مرے ہاتھوں میں شہ نشیں کے گلاب
زمانہ انکی بلندی کو چھو نہیں پایا
طواف کرکے جو آ تے ہیں کربلا سے گلاب
۔۔
میر اخیال ہے کہ ان اشعار میں خیال کی گہرائی بھی ہے اور تمام مصرعے وزن میں ہیں مگر ان میں الفاظ کی تھو ڑی سی ردوبدل کی ضرورت ہے ۔
اس تمہید کے بعد میں آپ سب پڑھنے والوں سے عرض کرتا ہوں کہ ماریہ علی کاظمی کے عمدہ شعر پر لکھے ہوے بلاگ میں تشریف لائیں اور اس مقدس موضوع پر طبع آزمائی کریں۔ اور ہو سکے تو ا س بحر میں اور اس زمین میں اپنے اشعار بھی شامل کریں۔
اگر یہ کام صفدر ھمدانی صاحب کے واپس تشریف لانے سے پہلے ہی مکمل ہوجاے تو اچھا رہے گا ورنہ وہ ضرور اپنی رہنمائی میں اس نظم کی تکمیل کردینگے۔
ویسے ثناء شاہ صاحبہ کے اس بلاگ کو بھی اپنے تبصروں سے سرفراز کرتے رہیں ۔
ویسے سب کی مرضی ۔
فقط :
علم کا طالب
منظور قاضی از جرمنی
اس بلاگ کے پڑھنے والوں کی اطلاع کے لیے یہ کہنا ضروری ہے کہ وہ ماریہ علی کاظمی صاحبہ والا بلاگ مکمل ہوگیا اس لیے کہ ماریہ علی کاظمی صاحبہ کی وہ نظم اللہ کی مہر بانی سے مکمل ہوگئی ۔(دیکھنا چاہیں تو ضرور اس بلاگ میں اس نظم کو دیکھ لیں )
۔۔۔۔۔
اب اس موجودہ بلاگ ہی کو آگےبڑھانا ضروری ہے ۔
اب ساغر صدیقی کا یہ شعر ( جو اس بلاگ کے شروع میں ثناء شاہ صاحبہ نے لکھا ہے ) سب کی توجہ کا منتظرہے:
بصیرتوں پہ اجالوں کا خوف طاری ہے
مجھے یقین دلاو : بڑا اندھیرا ہے
احباب کے چند اشعار
میں تیری حمد لکھنا چاہتا ہوں
جو نامکن ہے کرنا چاہتا ہوں
تری توصیف اک گہرا سمندر
سمندر میں اُترنا چاہتا ہوں
قمر نقوی
جو بیت گئی دل پر کب اُسکی شکایت کی
اِک موم کی گڑیا نے سورج سے محبت کی
سکینہ بنہاں
میں ایک عمر سے اک دائرہ کا قیدی ہوں
قدم جہاں بھی رکھوں دائرہ نکلتا ہے
خالد خواجہ
ڈھلے ڈھلا ئے ہوئے شعر اُدھر سے آتے ہیں
ہم اس میں ایک ذرا سا خیال ڈالتے ہیں
عارف امام
ضیاء یہ آخری حسرت بھی پوری ہوگئ اپنی
کہ میری جانِ جاں نے کہدیا ہے جانِ جاں مجھکو
ضیاء الحسن ضیاء
عجیب ڈھنگ سے اس بار تیر مارے گئے
کہ آدمی تو ہیں زندہ ضمیر مارے گئے
یونس اعجاز
ہم خمشی سے اُنکی ہر اک بات سہ گئے
وہ خامشی بھی سہ نہ سکے خامشی کے ساتھ
مسعود قاضی
آئے دو گھڑی ہم پیار کی باتیں کرلیں
جائے شکوے شکایات میں کیا رکھا ہے
طارق ہاشمی
میں ایک عمر سے ان دائرہ کا قیدی ہوں
قدم جہاں بھی رکھوں دائرہ نکلتا ہے
خالد خواجہ
جو بیت گئی دل پر کب اُسکی شکایت کی
اِک موم کی گڑیا نے سورج سے محبت کی
بہت خوب !!
ظفر جعفری صاحب نے اپنے پسندیدہ اشعار لکھکر میرے تاثرات کی بھی ترجمانی کردی :
جزاک اللہ
انسان جتنا علم حاصل کرتا ہے اتنا ہی اپنے آپ کو لا علم پاتا ہے۔ ایک محقّ کے پاس سوال زیادہ ہوتے ہیں اور جواب کم۔
ذرہ میں نہاں صحرا قطرہ میں سمندر ہے
اک سانس میں بندہ کی تخلیق کا ساگر ہے
تسبیح کے دانوں میں تسکین ہے پوشیدہ
تدبیر میں پوشیدہ بندہ کا مقد ّر ہےّ
واہ واہ ظفر جعفری صاحب کیا کہنے ہیں: آپ نے ذرہ میں صحرا اور قطرے میں سمندر کو بند کردیا : ماشا اللہ
چونکہ آپ انتہائی وسیع القلب ہیں اس لیے میں آپ کی خدمت میں آپ کےقطعے کو یوں پیش کرتا ہوں اگر پسند نہ آیے تو حذف کردیجیئے۔
ذرہ میں نہاں صحرا ، قطرہ میں سمندر ہے
ہر سانس ہی انساں کی تخلیق کی محور ہے ( محور مذ کر ہے مگر چونکہ سانس مونث ہے ا سلیے لفظ ” کی ” استعما ل کیا ، اگر دوسرے اہل زبان اس کی درست نہ سمجھیں تو براہ کرم تصحیح کردیں )
تسبیح کے دانوں میں تسکین ہے پوشیدہ
تدبیر سے پیوستہ بندہ کا مقدر ہے
( پیوستہ کے لفظ کو پوشیدہ لفظ کی دونوں مصرعوں میں تکرار سے بچانے کے لیے لکھا ہوں )
۔۔۔۔
نہایت ہی عمدہ خیال اور مانا ہوا فلسفہ ہے آپ کا :
مرحبا۔ سبحان اللہ
۔۔۔
خیر اندیش :
منظور قاضی از جرمنی
منظور قاضی صاحب
ہمیشہ کی طرح آپکا مشورہ بہت مفید ہے ۔ آپکا یہ مصرع
ہر سانس ہی انساں کی تخلیق کی محور ہے
صحیح مصرع یہ ہوگا
ہر سانس ہی انساں کی تخلیق کا محور ہے
ا
وارث صاحب
آپ جو کام کر رہے ہیں وہ شاعروں پر احسان ہے اور متشاعروں پر ظلم ہے۔
بس ایک جرمِ صداقت پہ کرلئے ہیں جمع
ہزاروں قاضی و منصف ترے لہو کیلئے
زبانِ میر میں ہے التجا یہی پیارے
کبھو کبھو تو روادار ہو کسو کیلئے
خدا کی بستی جسے لوگ کہ رہے ہیں ظفر
وہاں لہو ہی لہو ہے فقط وضو کیلئے
زمیں جو خُلدِ بریں تھی کبھی اُسے ہم نے
لہو اُگلتے ہوئے بار بار دیکھا ہے
وفا کا لیکے علم اُٹھ رہے ہیں ایسے لوگ
جنہیں بدلتے ہوئے بار بار دیکھا ہے
کفن وہ بیچ رھے ہیں جنہیں خدا کی قسم
کفن چُراتے ہوئے بار بار دیکھا ہے
ظفر جعفری صاحب ک شکریہ کہ انہوں نے میرے مشورہ کو اپنے لیے مفید کہا ۔
میرا یہ خیال تھا کہ سانس ( مونث ) زندگی ” کی ” محور ہے مگر ظفر جعفری صاحب کا خیال بھی ٹھیک ہی ہے کہ محور مذکر ہے اس لیے سانس کو زندگی ” کا” محور کہنا صحیح ہے ۔ میں اپنے شبہ کا اظہار اوپر کر چکا ہوں۔
ظفر جعفری صاحب کا شعر ہے اس کو وہ اپنے انداز میں لکھنے کا اختیار رکھتےہیں۔
شکریہ
زندگی کا محور، بندگی کا محور، عورت کا محور، تخلیق کا محور۔ یہ صحیح زبان ہوگی۔
قاضی صاحب اور عمران صاب
دو اشعار
میں مانگ بھر دوں ثریا کی چاند تاروں سے
ملے جو طاقتِ پرواز کردگار مجھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پانچ کے سائے میں دونوں کا ہوا یہ تشکیل
سات تاروں کے سے جُھر مٹ کا ثریا سہرا
میری زنگی کا بیشتر حصہ ثریا کی مدح سرائ میں گذرا ہے اور میں زندگی میں ہر بلا سے محفوظ رہا ہوں۔
ماشااللہ جی ظفر جعفری صاحب آپ کی ثریا کتنی خوش قسمت ہیں 🙂 جن کو اتنی مدح سرائی ملتی ھے آپ سے اور جس کا آپ کا اتنا مان ھے واہ واہ ماشااللہ بہت اچھا لگا 🙂
التماس دعا دارم
ظفر جعفری صاحب کی اہلیہ محترمہ یقینی طور پر اپنے شوہر نامدار سے اپنی مدح سرائی سن کر خوش ہوتی ہونگی۔
ظفر جعفری صاحب نے ” ہر بلا سے محفوظ رہنے کے لیے ” یہ بہت ہی اچھی ترکیب ایجاد کی ہے۔
بہت ہی اچھا ہوگا اگر ظفر جعفری صاحب اپنی اہلیہ محترمہ کو بھی عالمی اخبار میں تبصرے لکھنے کے لیے کہیں۔
منظور قا ضی
انکے بیشتر تبصرے اس ناچیز پر ہوتے ہیں۔
قاضی صاحب
زندگی کا محور، بندگی کا محور، عورت کا محور، تخلیق کا محور۔ دنیا کا محور، کائنات کا محور، یہ صحیح زبان ہوگی-
اہلِ زبان کو اس میں کوئ زحمت نہیں ہونی چاہئے۔
ظفر جعفری صاحب ؛ میرے بیشتر تبصرے آپ کے کلام اور تبصروں پر اس لیے ہوتے ہیں کہ آپ مجھے میرا نام لے کر دعوت دیتے ہیں کہ میں آپ کے کلام پر تبصرہ کروں اور آپ کے سوالات کے جوابات دوں۔ ورنہ میں تو اپنی رہگذر پر بیٹھا رہنا پسند کرتا ہوں۔
آپ نے مجھے مخاطب کرتےہوئے محور کے لیے کا کے لفظ کے استعمال کی مثالیں دیں : شکریہ۔ ۔
آپ ہی کا شعر تھا جسے میں نے اپنے الفاظ میں لکھنے کی کوشش کی تھی :
آپ کا شعر:
ذرہ میں نہاں صحرا ، قطرہ میں سمندر ہے
اک سانس میں بندہ کی تخلیق کا ساگر ہے
چونکہ سانس ہوا ہے اس لیے اس کو ساگر ( سمندر ) کہنا کچھ عجیب سا معلوم ہوتا ہے۔ ( ہاں ققطرہ کا رشتہ سمندر سے ضرور ہے ، سانس کا رشتہ ساگر سے نہیں۔
میری تجویز:
ذرہ میں نہاں صحرا قطرہ میں سمند ر ہے
ہر سانس ہی انساں کی تخلیق کا محور ہے
یا یوں بھی کہا جاسکتا ہے:
ذرہ میں نہاں صحرا ، قطرہ میں سمندر ہے
ہر خون کے قطرے میں تخلیق کا ساگر ہے
۔۔
اب فرمایئے کہ آپ کا کیا خیال ہے۔
خیر اندیش :
منظور قاضی از جرمنی
ظفر جعفری صاحب کو ایک اور مشورہ :
انکا یہ شعر :
بچوں کے پیٹ بھرنے کو کرتےہیں جرم لوگ
لیکن حسین آپ نے کنبہ لٹا دیا
اس شعر سے یہ غلط تصور پیدا ہوتا ہے کہ بچوں کےپیٹ بھرنے کو اپ نے اپنے کنبہ کو قربان کردیا :
۔۔۔۔ ا
اس لیے یہ شعر :
یوں لکھا جائے تو کیسا رہے گا ؟
دنیا کو ظلمتون سے بچانے کے واسطے
حضرت حسین( ع) آپ نے کنبہ لٹا دیا
۔۔۔
ویسے ظفر جعفری صاحب کی مرضی جو چاہے لکھیں ۔
منظور قا ضی
ٰٰٰٰ ٰٰٰٰ انکے بیشتر تبصرے اس ناچیز پر ہوتے ہیں ٰٰٰٰ ٰٰٰٰ۔
میرا آپکی طرف نہیں اپنی بیگم کی طرف اشارہ تھا۔ یہ آپکے مشورے کا جواب تھا
ٰٰٰٰ ٰٰٰٰظفر جعفری صاحب نے ” ہر بلا سے محفوظ رہنے کے لیے ” یہ بہت ہی اچھی ترکیب ایجاد کی ہے۔
بہت ہی اچھا ہوگا اگر ظفر جعفری صاحب اپنی اہلیہ محترمہ کو بھی عالمی اخبار میں تبصرے لکھنے کے لیے کہیں۔ ٰٰٰٰ ٰٰٰٰ
آپکے تبصرے اصلاحی ہوتے ہیں اور مجھے پسنذ ہیں۔
ظفر جعفری صاحب کا شکریہ کہ آپ یہ کہکر میری ہمت افزائی کرتے ہیں کہ ” آپ کے تبصرے اصلاحی ہوتے ہیں اور مجھے پسند ہیں”
اس پر اقبا ل کا شعر یاد آتاہے کہ:
کچھ جو سمجھا مرے شکوے کو تو رضواں سمجھا
مجھے جنت سے نکا لا ہوا انساں سمجھا ۔
اور یہ بھی کہ :
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے
قد سی الاصل ہے، رفعت پہ نظر رکھتی ہے
خاک سے اٹھتی ہے گردوں پہ گزر رکھتی ہے۔
۔۔۔۔
آپ کے تبصرے پڑھتا ہوں تو ڈلس ، ٹیکسس کے مشاعرے آنکھو ں کے سامنے آ جاتے ہیں جن میں آ پ خاص طور پر اوکلوہاما سے آکر اپنا کلام سنایا کرتے تھے ۔
آپ کی اہلیہ محترمہ بھی اپنے تبصرے آپ تک محدود رکھنے کی بجاے ، ان بلاگوں پر بھی ہوتے رہیں تو سونے پر سہاگہ ہوجاےگا۔
اب آ ئیے کہ اس بلاگ کے اصل موضوع کی طرف واپس چلیں۔ اور اپنے اپنے منتخب اشعار لکھیں ورنہ ذاتیات کی بھول بھلیا ں میں یہ بلاگ اپنے موضوع سے ہٹتا جا ے گا ؛
کیا کوئی دانشور شاعری کی صنف ثلاثی پر کچھ تبصرہ یا تنقید کرسکتا ہے ( کرسکتی ہے) ؟
کیا کوئی دانشور اسی طرح شاعری کی صنف ” دوہے ” پر کچھ تبصرہ یا تنقید کرسکتا ہے ( کرسکتی ہے ) ؟
پنجابی ماہیے اور اردو میں ہایکو کا بھی کافی ذخیرہ موجود ہے ۔ کیا کوئی دانشور اس موضوع پر کچھ لکھ سکتا ہے ( لکھ سکتی ہے) ؟
۔ ۔۔۔
علم کا طالب:
منظور قاضی از جرمنی
حمایت علی شاعر کی ایک ثلا ثی ہے اسکو قطعہ کی شکل میں بدلنے کے لیے میں نے یہ کوشش کی ہے :
ثلاثی ( صرف تین مصرعوں پر مبنی ایک مختصر سی نظم ) :
عنوان: شرط
شب کو سورج کہاں نکلتا ہے
اس جہاںمیں تو اپنا سایہ بھی
روشنی ہوتو ساتھ چلتا ہے
۔۔۔
قطعہ : عنوان : شرط
درد سے دل کہاں بہلتا ہے
شب کو سورج کہاں نکلتا ہے
اس جہاں میں تو اپنا سایہ بھی
روشنی ہوتو ساتھ چلتا ہے
۔۔۔۔۔
اسی طرح حمایت علی شاعر کی ایک اور ثلاثی :
عنوان : کشش ثقل
آزاد کب ہو ا کوئی قید مقام سے
جالندھری ہے کوئی تو کوئی ہے لکھنوی
ترک وطن کے بعد بھی نسبت ہے نام سے
اس کو قظعہ میں یوں تبدیل کیا جاسکتا ہے :
عنوان:
ہر ایک کو ہے کام فقظ اپنے کام سے
آزاد کب ہوا کوئی قید مقام سے
جالندھری ہے کوئی تو کوئی ہے لکھنوی
ترک وطن کے بعد بھی نسبت ہے نام سے
۔۔۔۔۔
شاید اس تبصرے کو پڑھنے والوں میں سے کوئ ، اس سےبہتر طریقے سے مندرجہ بالا ثلاثیوں کو قطعات میں تبدیل کرسکے۔
اب میں اس ہی شاعر کی دو ثلاثیا ں لکھتا ہوں اور سخنوروں کو دعوت کلام دیتے ہوے عرض کرتا ہوں کہ وہ انکو قطعات میں تبدیل کریں۔
عنوان : تضاد
اہل اسلام میں نہیں طبقات
اور فرما رہے ہیں مولانا
اہل ثروت پہ فرض ہے خیرات
۔۔۔۔۔۔
عنوان :
زندگی میں تو نہیں ۔ ہاں مگر ایک وقت نماز
اپنے ایماں کی سر عام نمائش کرنے
” ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز ”
۔۔۔
میرا یہ خیال ہے کہ یہ تبصرہ اس بلاگ کے موضوع سے مطابقت رکھتا ہے اس لیے میں اس پر ایک نئے بلاگ کی ضرورت محسوس نہیں کرتا ۔
اگر یہ سلسلہ چل نکلا تو اس شاعر کی اور بھی ثلاثیا ں سب کی طبع آزمائی کے لیے پیش کرونگا ۔ ( اس بلا گ میں نہیں تو اپنے کسی بلاگ میں )
۔۔
بہرحال: تمام سخنوروں کو دعوت کللام کے ساتھ
علم کا طالب :
منظور قاضی از جرمنی
اوپر کے تبصرےمیں آخری ثلاثی کا عنواں ہے : مساوات
قاضی صاحب آپ نے نہایت خوبصورت انداز سے ثلاثی کو رباعی میں تبدیل کیا ہے۔ کیا ہی خوب ہو کہ اگر آپ اس پر الگ بلاگ لگادیں تو شاید اور سخنور بھی اس پر کچھ لکھ دیں۔ یوں اس کام کی انفرادیت بھی قائم رہے گی۔ ہم تو پڑھ کر مزہ لینے والوں میں سے ہیں۔
نا چیز
میں سید مصباح حسین صاحب کے ارشاد کے مطابق اپنا ایک نیا بلاگ بعنوان : کیا ثلا ثیا ں ، قطعات میں تبدیل کی جاسکتی ہیں ؟ شروع کردیا ہوں ۔ اس لیے مہربانی کرکے اس موضوع پر یہا ں پر تبصرے کرنے کی بجائے اس نئے بلاگ میں تبصرے فرمائیے۔
۔۔
علم کا طالب :
منظور قاضی از جرمنی
میرا ذریعہ معاش تیل کی تلاش ہے
غزل
میں زر زیرِ سمندر دیکھتا ہوں
زمیں کا میں مقدر دیکھتا ہوں
وطن کو جب میں مُڑ کر دیکھتا ہوں
گِرا شیشہ پہ پتھر دیکھتا ہوں
رواں قاضی کے فتوہ پر ہزاروں
میں خود کش حملہ آور دیکھتا ہوں
میں کس منہ سے کروں غیروں سے شکوہ
میں اپنوں ہی میں ہٹلر دیکھتا ہوں
لبوں پر جنکے ہیں اُلفت کے دعوے
بغل میں اُنکے خنجر دیکھتا ہوں
مری بینائ کا کیا پوچھتے ہو
میں قطرہ میں سمندر دیکھتا ہوں
فلک کیا آئیگا میرے مقابل
کہاں میں اتنا جُھک کر دیکھتا ہوں
ظفر جب یاد آتی ہے مری ماں
دعاؤں کے میں دفتر دیکھتا ہوں
ہر ایک کو ہے کام فقظ اپنے کام سے
کی بابت کہنا چاہوں گا کہ اس کو اس طرح کہہ لیا جاےَ
ہر ایک کو ہے کام فقط اپنے نام سے
جسارت معاف فر مایےَ گا