ہمارا حکومتِ پاکستاں کو مشورہ یہ ہے کہ وہ نہ تو اسمبلی میں قرارداد پاس کرے ،اورنہ امریکہ سے ڈران حملے روکنے کا مطالبہ کررے۔ کیونکہ یہ رَ ٹ لگاتے ہیں تو وہ اپنی رِٹ دکھا دیتے ہیں، اور مارے زیادہ تر معصوم پاکستانی جاتے ہیں ۔بعض لوگ کہہ رہے ہیں یہ ملی بھگت ہے۔ یعنی “ماماخان والا معاملہ ہے کہ تسی بھٹی ڈھاؤ، تے تسی بھٹی بنا ؤ اے جہانگیر دا انصاف ہے گا ”
اس پر ہم ایک قطعہ پیش کر کے بات ختتم کرتے ہیں ۔
وہ موضوع اور ہیں تمہید باندھنا ہے ضرور
یہاں پہ بات جو ہوگی وہ بس کھری ہوگی
دکھاتے آنکھ ہیں ایسے جو اپنا کھاتے ہیں
تلوں میں تیل کہاں ہے، کہ روشنی ہوگی

بھائی بھٹی بناو یا پھر جہانگیر کے قانون کا تو مجھے علم نہیں کیونکہ میری معلومات اتنا ذیادہ نہیں کے یہ محاورہ سمجھ سکوں
مگر حکومت پاکستان کو جو مشورہ آپ دینا چاہتے ھیں میرے خیال میں بھینس کے آگے بین بجانے والا محاورہ آپ نے سنا ھوگا
تو آپ یا میں یا پھر ھمارے جیسے بیشتر پاکستانی اب اس بات کو سمجھ چکے ھیں کے پاکستان میں چاہے جس کی بھی حکومت
آئے پارٹی کوئی بھی ھو اگر وہ اقتدار میں ھے تو اسکو کوئی مشورہ دینا مطلب بھینس کے آگے بین بجانے والی بات ہے
کیونکہ ھمارے پاکستان میں جو بھی منتخب ہوتا ھے اسکے ذہن میں سب سے پہلے جو خیالات آتے ھیں ان میں سب سے پہلا ھے
وہ یہ کے میں پاکستان سے باہر کون سا ایسا ملک ہے جہاں اپنا اکاونٹس کھلواوں کے جہاں میں ملکی خزانے میں سے چوری کر کے
دولت جمع کروا سکوں
جب انکے اکاونٹس کھل جاتے ھیں تووہ سوجتے ہیں کے کسی طر ح مجھے کوئی ایسی وزارت مل جائے جس میں سب سے ذیادہ پیدا ہو؟(((پیدا کا مطلب پاکستانی خزانہ انکے باپ دادا کی جاگیر بن جائے)))
پھر انکو ایک اور فکر لاحق ھوتی ہے کے کس طرح گورے سرکار کی نظروں کا چاند بنوں کے میں ان سے
لے کے اپنے اکاونٹس بھر سکوں۔۔چائے ان سے ٹپ ( Tip) کے بدلے میں پاکستان کی سلامتی ہی کیوں نا فروخت ہو جائے ۔
چائے انکی ٹپ ( Tip) حاصل کرنے کے چکر میں اپنی پہچان ہی کیوں نا قربان ہو جائے مگر بس کسی طرح بیرون ملک انکے اکاونٹس بھر جائیں
اب ایسی حالت میں بھائی آپ چلے ہیں حکمرانوں کو مشورہ دینے ؟
خیر آپ اپنی سی کوشش کر لیں مگر میں تو یہی کہونگی کے آپ فقط بھینس کے آگے بین بجا رہے ھیں ۔۔ یہ بھینس نہیں ناچے گی 🙂
معزرت بھائی آپ کے عنوان کے بر عکس میں نے اپنا تبصرہ لکھا
ماریہ علی
بہن ماریہ شکریہ آپ نے صحیح نشان دہی کی ہے۔
رہا محاورہ وہ اس طرح ہے کہ اک جگ ماما تھے پنجاب میں، جہاں کو ئی جھگڑا ہوتا وہ خود ہی ہی پہونچ جاتے اور چار پائی یا کھٹ بچھ جاتا اور وہ پھر مقدمہ سنا کرتے، ایسا ہی ایک مو قع تھا کہ دو پڑوسنیں آپس میں لڑ رہی تھیں ۔ ایک وہاں تندور لگانا چاہتی تھی جبکہ دوسری کا دعویٰ تھا کہ یہ میری جگہ ہے۔ لہذا ایک بنا تی اور دوسری اس کو گراتی، اس پر ما ما خان کی عدالت سے یہ فیصلہ صادر ہوا کہ تسی بھٹی بنا ؤ تے تسی بھٹی ڈھا ؤ، یہ جہانگیر دا انصاف ہے گا۔
ذبردست ؛) ایسے محاورے میں نے کم سنے ھیں اس لئیے معزرت پہلے سمجھ نہیں آئی تھی :) مگر اب سمجھ اگیا
شمس جیلانی صاحب : آپ نے فلم “پکار ” تو دیکھی ہوگی جس میں جہانگیر نے انصاف اس طرح کیا کہ میری بیوی نے تیر ے شوہر کو ماردیا ہے تو اب تو بھی اب میری بیوی کے شوہر کو (یعنی مجھے ) ماردے ۔( یہ ہی جہانگیر کا انصاف ہے )
اس میں چندر موہن نے جہانگیر کا اور سہراب مودی نے وزیر اعظم کا کردار ادا کیے تھے اور پری چہرہ نسیم نے جہانگیر کی بیوی (نور جہاں ) کا کردار ادا کیا تھا۔ ( اسی پری چہرہ نسیم کی بیٹی سائرہ بانو تھی جو دلیپ کمار کی بیوی ہے )
اس فلم کی کہانی شاید کمال امروہوی نے لکھی تھی اورا س کے ڈائلاگ ( مکالمے ) بھی انتہائی شاندار تھے ۔
اب تو وہ فلم ایک خواب بن غائب ہوگئی ہے۔ اسکے مقابلے کی فلم اور اس قسم کے مکالمے کسی اور فلم میں دیکھنے اور سننے میں نہیںملے۔
ویسے ہنجاب کے ماما خان نے جو انصاف کیا وہ بھی خوب تھا کہ ” تسی بھٹی بنا و تے تسی بھٹی ڈھاو ۔ یہی جہانگیر دا انصاف ہے گا۔ ”
ماشا اللہ : شمس جیلانی بھائی آپ کی تحریریں کمال کی ہوتی ہیں ۔ جب بھی آپ کی تحریر پڑھتاہوں تو خود بخود اس افسردہ کن ماحول میں ہنسی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔
آپ تو ہر فن مولا ہیں ۔ ڈاکٹر بھی ، عالم بھی ، شاعر بھی ، ادیب بھی اور مقرر بھی ، اور بلاگ نگار بھی اور عالمی اخبار کے کینیڈا کے بیورو کے چیف بھی اور نہ جانے کیا کیا کچھ ہیں۔
آپ کے اس بلاگ میں آپ نے پاکستان اور امریکہ کی “ملی بھگت ” کا خوب اچھا نقشہ کھینچا ہے کہ امریکہ ڈروں حملے کرتا رہے اور پاکستان احتجاج پر احتجاج کرتا رہے : یہ ہی جہانگیر کا انصاف ہے۔
آپ کا یہ شعر بھی خوب ہے:
دکھاتے آنکھیں ہیں ایسے جو اپنا کھاتے ہیں
تلوں میں تیل کہاں ہےم کہ روشنی ہوگی
۔
اب آٹھ دن کے بعد میں نے اس بلاگ کو ( جس پر صرف ماریہ علی صاحبہ نے توجہ دی ) پڑھا تو اسکے ہر ہر جملے میں آپ کی کہی ہوئی گتھیاں سلجھتی رہیں ۔ پاکستان اپنا کھاتا تو نہیں ہے مگر امریکہ کو آنکھیں دکھاتا ہے
اور پاکستان کی تلوں میں تیل ہی نہییں کہ اسکا چراغ روشنی دے گا ( امریکہ کو آنکھیں دکھاکر مرعوب بھی کرسکے گا ) :
واہ واہ شمس جیلانی صاحب کیا کہنے ہیں آپ کے۔
اگر میں آپ کے اشعار کا مطلب یا آپ کے اس بلاگ کو غلط سمجھا ہوں تو مطلع کردیجیے ۔
میی یہ اس لیے لکھر ہا ہوں کہ میں نے ایک بلاگ جس میں آپ نے ایک ” وکیل صاحب کا تذکرہ کیا تھا جنھوں نے لانگ مارچ میں حصہ لیا تھا ” کچھ با تیں لکھی تھیں جو شاید آپ کے خیال کی ترجمانی نہیں کررہی تھیں ( وہ میری غلط فہمی تھی )
آپ کی حس مزاح پر میرا اعتقاد ہے اس لیے کچھ باتیں آپ سے بلا تکلف کہتا رہتا ہوں ۔
مجھے آپ نے جس طرح اپنے ٹیلیفون پرپنجاب میں ” مور بنانے ” کا قصہ سنایا تھا ۔ بس اس قسم کے قصوں کو یاد کرکے جرمنی کے جنگل میں منگل کا سماں سا پیدا ہوجاتا ہے ۔
زندہ باد شمس جیلانی صاحب:
ہاں اگر آپ کو فرصت ملے تو میرے نئے بلاگ میں حمایت علی شاعر کی ثلا ثیوں کو قطعات میں تبدیل کردیجیے اس لیے کہ ان تمام ثلا ثیوں کو قطعات میں تبدیل کرنے کی گنجایش ہے ۔
اگر ہوسکے تو ٹورینٹو والوںسے اوور روبینہ فیصل صاحبہ سے کہیے کہ وہ حمایت علی شاعر سے کہیں کہ میرے بلا گ ا سکی ثلاثیوں پر ہیں اوو اگر وہ اس میں شرکت کرےتو سبحان اللہ ۔
آپ کا عقیدت مند:
منظور قاضی میونخ کی ایک قریبی بستی سے ۔
شمس جیلانی صاحب سے عرض ہے کہ انکے ای میل کا پتہ میرا ای میل کا خط وصول نہیں کرر ہاہے ۔ انکے انڑنیٹ کی سروس نے یہ کہکر میرا ای میل خط واپس کردیا کہ آپ کا کوٹہ پورا ہوگیا ہے اس میں مزید کسی خط کی وصولی کی گنجایش نہیں۔
بہر حال:
خیر اندیش : منظور قاضی از جرمنی